21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 21:76–77

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح (کا قصہ بھی یاد کرو) جب (اس سے) پیشتر انہوں نے ہم کو پکارا تو ہم نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کو اور ان کے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور جو لوگ ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے ان پر نصرت بخشی، وہ بیشک برے لوگ تھے، سو ہم نے ان سب کو غرق کردیا

76۔ 77:۔ سب انبیاء میں نوح (علیہ السلام) پہلے صاحب شریعت نبی ہیں ‘ چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی شفاعت کی بہت بڑی حدیث میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے ‘ سورة قمر اور سورة نوح میں آوے گا کہ ساڑھے نو سو برس نصیحت کر کے جب نوح (علیہ السلام) قوم کے لوگوں کی سرکشی سے تنگ آگئے تو انہوں نے قوم کے لوگوں پر عذاب نازل ہونے کی بددعا کی اس کو فرمایا اے رسول اللہ کے ابراہیم اور لوط (علیہ السلام) کے زمانہ سے پہلے جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے حق میں بددعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعا سن لی اور نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے ساتھیوں کے طوفان کے عذاب سے بچا کر باقی قوم کو طوفان کے عذاب سے ہلاک کردیا جس کا قصہ تفصیل سے سورة ہود میں گزر چکا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعوری ؓ کی اور انس بن مالک کی روایتیں جو اوپر گزرچکی ہیں ‘ وہی روایتیں ان آیتوں کی بھی تفسیر ہیں حاصل جس کا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔
Ayahs 21:78–82

وَ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ اِذْ یَحْكُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیْهِ غَنَمُ الْقَوْمِ١ۚ وَ كُنَّا لِحُكْمِهِمْ شٰهِدِیْنَۗۙ Open ayah 21:78 in the Quran reader

اور داود اور سلیمان (کاحال بھی سن لو کہ) جب وہ ایک کھیتی کا مقدمہ فیصل کرنے لگے جس میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو چرگئیں (اور اسے روندگئی) تھیں اور ہم ان کے فیصلہ کے وقت موجود تھے

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا١٘ وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیْرَ١ؕ وَ كُنَّا فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:79 in the Quran reader

تو ہم نے فیصلہ (کرنے کا طریق) سلیمان کو سمجھا دیا اور ہم نے دونوں کو حکم (یعنی حکمت ونبوت) اور علم بخشا تھا اور ہم نے پہاڑوں کو داود کا مسخر کردیا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور جانوروں کو بھی (مسخر کردیا تھا) اور ہم ہی ایسا کرنے والے تھے

وَ عَلَّمْنٰهُ صَنْعَةَ لَبُوْسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُمْ مِّنْۢ بَاْسِكُمْ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ شٰكِرُوْنَ Open ayah 21:80 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک (طرح کا) لباس بنانا بھی سکھا دیا تاکہ تم لڑائی کے ضرر سے بچائے، پس تم کو شکر گذار ہونا چاہئے

وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ عَاصِفَةً تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ كُنَّا بِكُلِّ شَیْءٍ عٰلِمِیْنَ Open ayah 21:81 in the Quran reader

اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں

وَ مِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَ یَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ كُنَّا لَهُمْ حٰفِظِیْنَۙ Open ayah 21:82 in the Quran reader

اور دیووں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطہ مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے

78۔ 82:۔ نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے ایک قصہ کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ جب بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانی پھیل گئی تو اس کی سزا میں ملک شام کے کئی شہر قوم عمالقہ کے بادشاہ مقرر جالوت نے بنی اسرائیل سے چھین لیے اس کے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر شمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقرر کیا اور جالوت وطالوت کی لڑائی میں داود (علیہ السلام) نے جالوت کو قتل کیا اور شمویل کی وفات کے بعد نبوت ‘ بادشاہت یہ سب کچھ داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا ‘ دواد ‘ (علیہ السلام) کی بادشاہت کے زمانہ میں ایک شخص کی کھیتی دوسرے شخص کی بکریاں رات کو چرئیں ‘ جب یہ جھگڑا داؤد (علیہ السلام) کے روبرو پیش ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود کے قول کے موافق سلیمان (علیہ السلام) نے اس جھگڑے کا یہ فیصلہ کیا کہ وہ بکریاں کھیتی والے شخص کو ہمیشہ کے لیے بکری والے شخص سے دلاویں۔ اسی قوم کے موافق سلیمان (علیہ السلام) نے اس فیصلہ کا حال سن کر اپنی جگہ یہ کہا کہ اگر وہ کھیتی کی زمین بکری والے شخص کے حوالہ کی جاتی کہ وہ اس زمین میں زراعت کر کے کھیتی کو اس حالت پر پہنچا دیوے جس حالت پر وہ کھیتی بکریوں کے چرنے کے وقت پر تھی اور کھیتی کی زراعت کے اس حالت پر پہنچنے تک بکریاں کھیتی والے شخص کے قبضے میں رکھی جاتیں تو یہ فیصلہ اچھا تھا ‘ داؤد (علیہ السلام) کے کان تک جب سلیمان (علیہ السلام) کے اس فیصلہ کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے فیصلہ کو موقوف رکھ کر یہی سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ قائم رکھا ان ہی دونوں فیصلوں کا ذکر ان آیتوں میں فرما کر فرمایا کہ اگرچہ ان دونوں فیصلوں کا حال اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے داؤد ‘ (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) دونوں کو نبوت اور علم کی نعمت اپنے علم غیب کے موافق عطا کی ہے جس کا ظہور داؤد (علیہ السلام) کے حق میں تو ہوگیا اور سلیمان (علیہ السلام) کے حق میں ہونے والا ہے لیکن اس وقت بھی اس جھگڑے کا صحیح فیصلہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کو سمجھایا 1 ؎ اس فیصلہ کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کی عمر گیارہ برس کی تھی۔ سورة النحل میں آوے گا کہ نبوت اور بادشاہت سلیمان (علیہ السلام) کو وراثت کے طور پر داؤد (علیہ السلام) کے بعد ملی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اس فیصلہ کے زمانہ تک سلیمان (علیہ السلام) نبی نہیں تھے ہاں اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق آئندہ نبی ہونے والے تھے ‘ اسی واسطے فرمایا وُکُلّاَ َاٰتَیْنَا حُکْمًاوَّ علمًا جس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ داؤد (علیہ السلام) کے حق میں تو اس کا ظہور ہوگیا اور سلیمان (علیہ السلام) کے حق میں ہونے والا ہے۔ اکثر سلف کا قول ہے کہ کوئی چوپایا رات کو کسی کھیت میں گھس جائے تو اس کو نفش کہتے ہیں اور دن کو گھس جائے تو اس کو ھمل کہتے ہیں اسی واسطے اکثر سلف نے نَفََشَتْ فِیْہِ غَنَمُ الْقَوْمِ کی تفسیر یہی کی ہے کہ وہ بکریاں رات کو کھیت میں گھس کئی تھیں ‘ مسند امام احمد ‘ ابوداود ‘ اور ابن ماجہ ‘ نسائی وغیرہ میں براء بن العازب ؓ سے روایت ہے 2 ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ رات کو چوپایوں کا باندھ کر رکھنا چوپایوں کے مالکوں کے ذمہ ہے ‘ اس واسطے رات کو جو چوپا یہ کسی کا کچھ نقصان کرے گا تو اس کا بدلہ مالک سے دلایا جائے گا اگرچہ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے لیکن بعضے علماء کہتے ہیں کہ حرام بن محیصہ راوی کو براء بن العازب ؓ سے کسی حدیث کے سننے کا موقع نہیں ملا اس لیے اس حدیث کی سند پوری نہیں ہے 3 ؎‘ نسائی کی سند میں بجائے حرام بن محیصہ کے سعید بن المسیب کا نام ہے جس سے یہ سند پوری ہوجاتی ہے ‘ لیکن رات دن کے فرق میں علماء کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے ‘ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ کی تعریف جو فرمائی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کی عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت 4 ؎ میں اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ جو حاکم صحیح فیصلہ کرنے کی کوشش کرے اور بشریت کے تقاضا سے اس فیصلہ میں کوئی غلطی رہ جائے تو ایسے حاکم کو کوشش کے بدلہ میں اکہرا ثواب ملے گا اور جو حاکم صحیح فیصلہ کی کوشش بھی کرے گا اور اس کے فیصلہ میں غلطی بھی نہ رہے گی تو ایسے حاکم کو دوہرا ثواب ملے گا ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلہ میں دونوں باتیں تھیں اس لیے اس فیصلہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنا سمجھایا ہوا فیصلہ فرمایا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ داؤد (علیہ السلام) کے ذکر الٰہی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کریں وَکُنَّا فَاعِلِیْنَ اس کا مطلب یہ ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جاچکی تھی کہ پہاڑ اور پرندے داؤد (علیہ السلام) کے تابعدار رہیں گے۔ حسن بصری اور قتادہ کا قول ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کو لوہے کو آگ میں تپانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی بلکہ تاگے کی طرح لوہے کو ہاتھ سے بٹ کر کڑیوں کی زرہ بناتے تھے جو لڑائی کے وقت دشمن کے وار سے بچنے کے لیے کام آتی تھی ‘ پھر فرمایا لوگوں کو اس کا شکریہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ادا کرنا چاہئے کہ اس نے داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ سے زرہ کے بنانے کی حکمت دنیا میں پھیلا دی ‘ داؤد (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد ان کے بیٹے سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو ان کے تابع کردیا تھا کہ وہ ان کے تخت کو مہینہ بھر کے راستہ کے شہر کو دوپہر تک پہنچا دیتی تھی اور پھر شام کو برکت کی زمین فرمایا ملک شام میں وہ اپنے تخت پر بیٹھ کر آجاتے تھے وَکُنَّا بِکُلِّ شَیْئً عَالِمِیْنَ اس کا مطلب وہی ہے جو وَکُنَّا فَاعِلِیْنَ کی تفسیر میں بیان کیا گیا ‘ سلیمان (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق یہ بات لوح محفوظ میں لکھی جاچکی تھی کہ ہوا اور جنات سلیمان (علیہ السلام) کے فرمانبردار رہیں گے اسی واسطے فرمایا ہوا کی طرح جنات کو بھی ان کا فرمانبردار کردیا تھا کہ وہ غوطہ لگا کر سمندر میں سے جواہرات نکالتے تھے اور طرح طرح کے اور کام بھی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے جنات کو اس طرح تھام رکھا تھا کہ وہ بنی آدم کو ستا نہیں سکتے تھے ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ایک سرکش جن رات کو میری نماز میں خلل ڈالنا چاہتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس پر غالب کردیا یہاں تک کہ میں نے اس کو پکڑ لیا ‘ مگر مجھ کو سلیمان (علیہ السلام) کی دعا یاد آگئی اس لیے میں نے اس کو چھوڑ دیا ‘ سلیمان (علیہ السلام) کی یہ دعا سورة ص میں آوے گی ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے خاص معجزہ کے طور پر جن ان کے تابع تھے ‘ اس خیال سے اللہ کے رسول ﷺ نے اس جن کو چھوڑ دیا۔ سورة سبا کی تفسیر میں جنات کا ذکر ذرا تفصیل سے آوے گا ‘ جو ہوا سلیمان (علیہ السلام) کا تخت لے جاتی تھی ‘ وہ ظاہر میں تو دھیمی تھی ‘ آندھی نہیں تھی اور تاثیر میں ایسی تیز تھی کہ وہ دوپہر میں مہینہ بھر کا راستہ طے کرتی تھی اسی واسطے اس کو یہاں تو تیز فرمایا اور سورة سبا میں نرم فرمایا۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 186 ج 2 و تفسیر الدرالمنثور ص 334 ج 4 ) (2 ؎ مشکوٰۃ مع تنقیح الرواۃ ص 188 ج 2 باب الغصب والعاریۃ ) (3 ؎ تنقیح الرواۃ صفحہ مذکورہ ) (4 ؎ مشکوٰۃ ص 324 باب العمل فی القضاء والخوف منہ۔ )
Ayahs 21:83–84

وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:83 in the Quran reader

اور ایوب (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے ایذا ہو رہی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے ولا ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَكَشَفْنَا مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ ذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ Open ayah 21:84 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے عطا فرمائے اور اپنی مہربانی سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے یہ نصیحت ہے

83۔ 84:۔ سلیمان (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد اس سورة میں اور سورة ص میں ایوب (علیہ السلام) کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہے اس واسطے بعضے علماء کا قول ہے کہ ایوب (علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سلیمان (علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے ہیں لیکن تاریخ ابن عساکر میں ہے 1 ؎ کہ ایوب (علیہ السلام) ‘ لوط (علیہ السلام) کے نواسے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے انبیاء ہیں ‘ اس تفسیر میں ایک جگہ یہ ذکر کردیا گیا ہے کہ ابوالقاسم علی ابن عساکر متوفی 571 ھ شام کے ثقہ اور مشہور علماء میں سے ہیں اور ان کی تاریخ دمشق اور باقی کی تصنیفات معتبر ہیں ‘ ترمذی اور ابن ماجہ میں سعد بن ابی وقاص کی صحیح روایت 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش انبیاء کی ہوا کرتی ہے۔ اس عادت الٰہی کے موافق ایوب (علیہ السلام) کی یہ آزمائش ہوئی کہ ان کے بیٹے سب مرگئے مال سارا برباد ہوگیا ‘ خود ایسے بیمار ہوئے کہ تمام بدن میں کیڑے پڑگئے ‘ بستی کے لوگوں نے بستی کے باہر ایک کونے میں ان کو ڈال دیا ‘ سوائے ان کی بی بی کے اور کسی نے ساتھ نہ دیا۔ بعضی روایتوں کے موافق تیرہ برس اور بعضی کے موافق اٹھارہ برس یہی حال رہا۔ صحیح سند سے مسند بزار مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان میں انس بن مالک سے روایت ہے 3 ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے کسی دوست نے ایک دن یہ بات کہی کہ ایوب (علیہ السلام) سے کوئی ایسا بڑا گناہ ہوگیا ہے جو اٹھارہ برس کی تکلیف اٹھا کر بھی معاف نہیں ہوا ‘ اس سخت کلمہ کی برداشت ایوب (علیہ السلام) نہ کرسکے اور اس کلمہ کے سننے کے بعد انہوں نے اپنی تندرستی کے لیے دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما کر ان کو تندرست کردیا جس کا تفصیلی قصہ سورة صٓ میں آوے گا ‘ تفسیر ضحاک 4 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ تندرست ہوجانے کے بعد ایوب (علیہ السلام) کے 23 لڑکے پیدا ہوئے۔ صحیح بخاری اور صحیح ابن حبان میں 5 ؎ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایوب (علیہ السلام) کے اچھے ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر سونے کی ٹڈیوں کا مینہ برسایا جس سے ایوب (علیہ السلام) بہت مالدار ہوگئے وَذِکْرٰی لِلْعَابِدِیْنَ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کے حق میں یہ قصہ اس بات کی نصیحت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو اس طرح آزماتا ہے اور پھر اس کا انجام یوں اچھا ہوتا ہے۔ (1 ؎ تہذیب تاریخ ابن عساکر ص 191 ج 3 ) (2 ؎ الترغیب و الترہیب ص 280 ج 4 ) (3 ؎ فتح الباری ص 247 ج 3۔ کتاب الانبیائ۔ ) (4 ؎ فتح الباری ص 217 ج 3 ) 5 ؎ فتح الباری ص 247 ج 3
Ayahs 21:85–86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِدْرِیْسَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَۚۖ Open ayah 21:85 in the Quran reader

اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو (بھی یاد کرو) یہ سب صبر کرنے والے تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 21:86 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کیا، بلاشبہ وہ نیکوکار تھے۔

85۔ 86:۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ایک بہت بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) مکہ ؓ کے میدان میں جب ہاجرہ (علیہا السلام) اور دودھ پیتے بچے اسمعیل (علیہ السلام) کو چھوڑ گئے تو ان کو ایک مشک پانی کی بھری ہوئی دے گئے تھے ‘ جب اس مشک کا پانی ختم ہوچکا اور ہاجرہ (علیہا السلام) پیاس سے بہت پریشان ہوئی تو اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) نے زمزم کے مقام پر اپنا پر مارا جس سے یہ زمزم کا چشمہ نکلا اور اس پانی کے سبب سے جرہم بن قحطان کے قبیلہ کے لوگ اس مکہ کے میدان میں آباد ہوئے اور جوان ہوجانے کے بعد اس قبیلہ کی ایک عورت سے اسمعیل (علیہ السلام) کا نکاح ہوا ‘ اس قبیلہ جرہم کے اسمعیل نبی تھے اور جرہم قبیلہ کے زمانہ تک مکہ میں ملت ابراہمی ( علیہ السلام) کو پوری پابندی جاری تھی ‘ قوم جرہم کے زمانہ کے بعد جب قوم خزاعہ کے حوالہ میں بیت اللہ آیا تو قوم خزاعہ کے سردار ایک شخص عمر وبن لحی نے پہلے پہل ملت ابراہمی کو مٹایا اور جدہ سے بت لاکر مکہ میں رکھے اور بت پرستی پھیلائی ‘ چناچہ صحیح بخاری کی ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اور مسند امام احمد وغیرہ کی اور رواتیوں سے یہ قصہ سورة المائدہ میں گزر چکا ہے۔ قریش جو یہ کہتے تھے کہ بت پرستی ہمارے بڑوں کا طریقہ ہے قریش کی اس بات کو جھٹلانے کے لیے اسمعیل (علیہ السلام) کے قصہ سے قریش کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو بنی اسمعیل کہتے ہیں مگر ان کو یہ خبر نہیں کہ عمرو بن لحی کے پہلے ان کے بڑوں کے بڑے اسمعیل گزرے ہیں ان کا یہ طریقہ ہرگز نہیں تھا ان لوگوں کی یہ بڑی نادانی ہے کہ اپنے اصل بڑوں کے طریقہ کو چھوڑ کر عمروبن لحی کے طریقہ پر جمے ہوئے ہیں ‘ صحیح بخاری میں امام بخاری (رح) نے بغیر سند کے عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ قول جو بیان کیا ہے کہ الیاس اور ادریس ایک ہی پیغمبر کا نام ہے اس میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی سند تو ضعیف ہے 2 ؎ اور عبداللہ بن مسعود کے قول کی سند تفسیر بن ابی حاتم 3 ؎ میں اگرچہ معتبر ہے ‘ لیکن یہ قول ابوذر ؓ کی حدیث کے مخالف ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ ادریس (علیہ السلام) نے پہلے پہل قلم سے لکھنا دنیا میں جاری کیا کیونکہ الیاس ( علیہ السلام) انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں اور قلم سے لکھنا بنی اسرائیل سے پہلے دنیا میں جاری تھا ‘ چناچہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو جو خط لکھا ہے اس کا ذکر اکثر مفسروں نے اپنی تفسیروں میں کیا ہے ‘ اس واسطے یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ادریس (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) سے پہلے ہیں ‘ ادریس (علیہ السلام) کا قصہ سورة مریم میں گزر چکا ہے۔ ابوذر ؓ کی اوپر کی حدیث کو ابن حبان نے صحیح کہا ہے 4 ؎‘ صحیح بخاری ومسلم کی مالک بن صعصعہ کی روایت 5 ؎ کے اور صحیح مسلم کی انس بن مالک کی روایت 6 ؎ کے موافق صحیح قول یہی ہے کہ معراج کے وقت اللہ کے رسول ﷺ اور ادریس (علیہ السلام) کی ملاقات چوتھے آسمان پر ہوئی ہے ‘ ذوالکفل کے نبی ہونے اور نہ ہونے میں صحابہ ؓ کے زمانہ سے اختلاف چلا آتا ہے چناچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اسی بات کے قائل ہیں کہ ذوالکفل نبی نہیں تھے 7 ؎ اور ابو موسیٰ اشعری ؓ منبر 8 ؎ پر وعظ کی طرح بیان کیا کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں ذوالکفل ایک نیک شخص تھے ‘ نبی نہیں تھے ‘ مسند امام احمد میں عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک روایت ہے 9 ؎ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ بنی اسرائیل میں الکفل نام کا ایک شخص بڑا گنہگار تھا ‘ اس نے ایک عورت کو ساٹھ اشرفیاں بدکاری کے وعدہ پر دیں اور جب اس نے اس عورت سے بدکاری کا ارادہ کیا تو وہ عورت رونے لگی ‘ الکفل نے اس عورت سے رونے کا سبب پوچھا تو اس عورت نے کہا۔ میں نے ایسا برا کام کبھی عمر بھر نہیں کیا ‘ تنگ دستی نے مجھے اس کام کے وعدہ پر مجبور کردیا ہے۔ الکفل نے عورت کی یہ بات سن کر اس کو رخصت کیا اور ساٹھ اشرفیاں بھی اس کے پاس چھوڑ دیں اور عہد کرلیا کہ آئندہ وہ عمر بھر کوئی گناہ نہ کرے گا ‘ اس عہد کی ہی رات کو الکفل کا انتقال ہوگیا اور صبح کو اس کے دروازے پر یہ لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے الکفل کی مغفرت فرما دی ‘ حافظ ابن کثیر (رح) نے مسندامام احمد کے حوالہ سے اس حدیث کو اپنی تفسیر میں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ صحاح ستہ کے کسی مصنف نے اپنی کتاب میں اس حدیث کو نہیں لیا ‘ ترمذی کے ابواب 10 ؎ زہد میں یہ حدیث موجود ہے اور قصہ بھی پورا وہی ہے جو مسند امام احمد میں ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن بھی کہا ہے لیکن مسند امام احمد اور ترمذی کے لفظوں میں تھوڑا سافرق ہے اس لیے شاید حافظ ابن کثیر کا مطلب یہ ہے کہ مسند احمد کے لفظوں سے یہ حدیث صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نہیں ہے ‘ مسند امام احمد اور ترمذی میں تو یہ قصہ الکفل کے نام سے ہے لیکن یہ روایت صحیح ابن حبان ‘ طبرانی اور شعب الایمان بیہقی میں بھی ہے اور ان کتابوں کی بعضی روایتوں میں کچھ قصہ الکفل کے نام سے بیان کیا گیا ہے ‘ اس سورة کا نام سورة الانبیاء ہے اور اللہ تعالیٰ نے ذوالکفل کا نام انبیاء کے ناموں کے ساتھ لیا ہے ‘ اس واسطے حافظ ابن کثیر (رح) نے صحابہ ؓ کے اس اختلاف کو یوں رفع کیا ہے 11 ؎ کہ قرآن شریف میں جن ذوالکفل کا ذکر ہے وہ تو نبی ہیں اور عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت میں جس کا ذکر ہے وہ بنی اسرائیل میں کا کوئی دوسرا شخص ہے ‘ آخر کو فرمایا ‘ جن انبیاء کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ سب آزمائش کے وقت صبر کرنے والے ‘ اللہ کی مرضی کے پابند نیک بندے تھے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت کے قابل ٹھہرایا۔ (1 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص 235۔ 239 ج 3۔ ) (2 ؎ فتح الباری ص 224 ج 3 ) (3 ؎ فتح الباری ص 334 ج 3 وفتح البیان ص 25 ج 3 ) (4 ؎ فتح الباری ص 226 ج 3 ) (5 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 8 ج 3 ) (6 ؎) مشکوٰۃ ص 527۔ (7 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 191 ج 3 ) (8 ؎ ایضا ) (9 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 391 ج 3 اور لکھا ہے اسنا وہ غریب ) (10 ؎ راقم کو جابع ترمذی کے ابواب الزہد میں یہ روایت نہیں مل سکی واللہ علم ‘ البتہ منذری نے بحوالہ جامع ترمذی وحاکم ذکر کی ہے دیکھئے عنوان ” الترغیب فی الخوف “ ) (11 ؎ اترغیب والترہیب باب مذکور میں تفسیر ابن کثیر ص 151 ج 3 )
Ayahs 21:87–88

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور ذو النون کو (یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے، آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے (اور) بیشک میں قصوروار ہوں

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان کو غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں

87۔ 88:۔ یہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ یہاں ‘ سورة والصافات اور سورة نٓ میں اس طرح کئی جگہ آیا ہے ‘ تفسیر سدی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ مسند بزار اور تفسیر ابن مردویہ میں عبداللہ بن مسعود کی صحیح روایت 1 ؎ سے یہ قصہ جو بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ موصل شہر کی سر زمین میں ایک نینوا بستی ہے ‘ وہاں کے لوگوں کی ہدایت کے واسطے یونس (علیہ السلام) نبی مقرر ہوئے تھے جب وہاں کے لوگوں نے یونس (علیہ السلام) کی نصیحت کو نہ مانا تو یونس (علیہ السلام) تین دن میں عذاب کے آجانے کا پیغام قوم کے لوگوں کو سنا کر قوم کی حالت پر غصہ میں بھرے ہوئے اس بستی سے باہر چلے گئے ‘ نینوا کے لوگوں نے جب کچھ آثار عذاب کے دیکھے تو جنگل میں جا کر بہت روئے اور خالص دل سے توبہ کی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حال پر رحم فرمایا اور اس عذاب کو ٹال دیا چناچہ اس کا ذکر سورة یونس میں گزر چکا ہے بستی کے باہر جب یونس (علیہ السلام) کو یہ خبر پہنچی کہ وقت مقررہ پر عذاب نہیں آیا تو بغیر حکم الٰہی کے اس بستی سے دور جانا چاہا اور سفر کے ارادہ سے دریا پر جا کر کشتی میں بیٹھے ‘ اللہ کے حکم سے جب وہ کشتی نہ چلی تو انہوں نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا ‘ جہاں ایک مچھلی ان کو نگل گئی اور پھر مچھلی کے پیٹ کے اندھیرے ‘ رات کے اندھیرے ‘ ان اندھیروں میں یہ دعا مانگی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کی اور اس رنج وغم سے ان کو نجات دے کر پھر اسی قوم کی ہدایت کے لیے انہیں بھیجا ‘ اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرما کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنے نیک بندوں کو ہر ایک بلا سے نجات دیتا ہے زیادہ تفصیل اس قصہ کی سورة والصافات میں آوے گی فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِ رَ عَلَیْہِ اس کا مطلب یہ ہے کہ یونس (علیہ السلام) نے بغیر حکم الٰہی کے بستی کو چھوڑ کر خود اختیاری سے چلے جانے کو لائق گرفت گناہ خیال نہیں کیا۔ اللہ کے رسول خاتم الانبیاء ﷺ نے اس خیال سے کہ یونس (علیہ السلام) کا قصہ سن کر لوگ یونس (علیہ السلام) کو حقیر نہ جانیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت اور صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس ؓ کی روایتوں 2 ؎ میں فرمایا کوئی شخص مجھ کو یہ نہ کہے کہ میں یونس (علیہ السلام) سے بہتر ہوں ‘ نون عربی زبان میں مچھلی کو کہتے ہیں ‘ یونس (علیہ السلام) کو مچھلی نگل گئی تھی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کو مچھلی والا پیغمبر فرمایا۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 333۔ 334 ج 4 ) (2 ؎ ایضا ص 334 ج 4 )
Ayahs 21:89–90

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑو اور تو سب سے بہتر وارث ہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

تو ہم نے ان کی پکار سن لی اور ان کو یحییٰ بخشا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے

89۔ 90:۔ زکریا (علیہ السلام) کا قصہ سورة آل عمران اور سورة مریم میں گزر چکا ہے 1 ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ مریم (علیہا السلام) کی ماں اور زکریا (علیہ السلام) کی بی بی دونوں بانجھ تھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے مریم (علیہا السلام) کی ماں کو صاحب اولاد کیا تو زکریا (علیہ السلام) کے دل میں بھی یہ امید پیدا ہوئی کہ ان کے بڑھاپے اور ان کی بی بی کے بانجھ اپنے کی حالت میں ان کو بھی اللہ تعالیٰ صاحب اولاد کر دیوے ‘ اسی امید پر انہوں نے یہ دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ دعا قبول فرمائی ‘ ان کی بی بی کا بانجھ پن کھو دیا اور ان کے گھر میں یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے ‘ آگے فرمایا زکریا (علیہ السلام) ‘ ان کی بی بی ‘ ان کے بیٹے یحییٰ یہ سب نیک کاموں میں چست اور اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب کے خوف سے اس کی عبادت کرنے والے تھے اور اللہ کی عظمت کے آگے اپنے آپ کو اس کا حقیر اور ادنیٰ بندہ سمجھتے تھے 2 ؎‘ صحیح مسلم میں ابوہریرہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ زکریا (علیہ السلام) بڑھئی کا کام کر کے اپنے ہاتھ کی مزدوری کی آمدنی پر اپنی گزر کرتے تھے۔ (1 ؎ ص 235 جلد اول تفسیر ہذا۔ ) (2 ؎ مشکوٰۃ ص 509 باب بدء الخلق وذکر الانبیآء۔ )
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفت کو محفوظ رکھا تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کو ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنادیا

91۔ مریم (علیہا السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سورة آل عمران اور سورة مریم میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حمل سے پہلے مریم (علیہا السلام) کو جو دو حیض آئے تھے ان میں آخری حیض سے فارغ ہو کر جب وہ سب سے الگ نہانے کو گئیں اور پردہ ڈال کر نہانے کا ارادہ کیا تو ایک خوبصورت مرد کی شکل میں جبرئیل (علیہ السلام) ان کو نظر آئے۔ مریم (علیہا السلام) نے مرد کی شکل دیکھ کر یہ کہا کہ اے شخص اگر تو پرہیز گار آدمی ہے تو میں تیرے بد ارادہ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے مریم (علیہا السلام) کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ اے مریم میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم کو ایک بڑی شان کے لڑکے کے پیدا ہونے کی خوشخبری دینے آیا ہوں ‘ مریم (علیہا السلام) نے اس خوشخبری کا حال سن کر بڑی حیرت سے کہا میرے لڑکا کیونکر پیدا ہوگا مجھ کو تو آج تک کسی مرد نے ہاتھ تک بھی نہیں لگایا ‘ جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا یہ تو سچ ہے کہ آج تک کسی مرد نے تم کو ہاتھ تک نہیں لگایا لیکن اللہ کا حکم یہی ہے کہ بغیر باپ کا ایک لڑکا تمہارے یہاں پیدا ہو کر اللہ کی قدرت کی ایک نشانی دنیا میں لوگوں کو نظر آوے ‘ یہ کہہ کر اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح مریم (علیہا السلام) کے جسم میں پھونک دی ‘ جس سے مریم (علیہا السلام) کو حمل رہ گیا اور وقت مقررہ پر عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ سورة مریم میں اس قصہ کی تفصیل زیادہ ہے اس لیے سورة مریم کی آیتیں گویا اس آیت کی تفسیر ہیں جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے مریم (علیہا السلام) کو اس زمانہ کی عورتوں میں کامل فرمایا ہے ‘ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مریم (علیہا السلام) کے زمانہ میں کوئی عورت مریم (علیہا السلام) کے مرتبہ کی نہیں تھی۔
Ayahs 21:92–94

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور یہ لوگ اپنے معاملے میں باہم متفرق ہوگئے (مگر) سب ہماری طرف رجوع کرنے والے ہیں

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

جو نیک کام کرے گا اور مومن بھی ہوگا تو اس کی کوشش رائیگاں نہ جائے گی اور ہم اس کے لئے (ثواب اعمال) لکھ رہے ہیں

92۔ 94:۔ امت کے معنی ایسی جماعت کے ہیں ‘ جس کے سب آدمی ایک ہی مقصد پر جمے ہوئے ہوں ‘ اس مطلب کے ادا کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے یہاں امت کے معنی دین کے لیے ہیں ‘ حاصل ان معنوں کا یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے احکام کی پابندی اصل دین ہے ‘ اس مقصد کے پھیلانے میں سارے انبیاء ایک ہیں ‘ ضرورت وقتیہ کے لحاظ سے فقط حلال و حرام کے احکام بدلتے رہے ہیں جس کی ہر ایک نبی کی شریعت کہتے ہیں لیکن اصل دین کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اصل دین کے حساب سے سب انبیاء اس طرح سے ایک ہیں جس طرح ایک باپ کی اولاد میں بھائی ایک ہوتے ہیں ‘ ہاں حلال و حرام کے احکام ہر شریعت کے اس طرح الگ الگ ہیں جس طرح ایک باپ کی اولاد کے دو بھائیوں کی ماں جدا ہوا کرتی ہے ‘ اس حدیث سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اوپر کے قول کا مطلب اچھی طرح سجھ میں آجاتا ہے ‘ آگے فرمایا اصل دین میں اگرچہ سب انبیاء ایک ہیں لیکن جن لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے گئے انہوں نے انبیاء کی نصیحت کو نہیں مانا اور ایک دین کے بہت سے دین ٹھہرائے مثلا کوئی بت پرست ہے ‘ کوئی ستارہ وآتش پرست ‘ پھر فرمایا ‘ ایک دن یہ سب اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوں گے اور ایماندار کے نیک عمل کی جزا رائیگاں نہ جائے گی کیونکہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ اجر جن نیکیوں کا ہے وہ سب نیکیاں دفتر الٰہی میں صبح وشام لکھی جاتی ہیں ‘ اسی طرح بد لوگ اپنی بدی کی سزا سے کسی طرح بچ نہ سکیں گے کہ ان نیک لوگوں کے سب برے عملوں کا اعمال نامہ بھی دفتر الٰہی میں موجود ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ ہے اور بدی کی سزا میں کچھ زیادتی نہ ہوگی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونے کا اور نیکی کے اکارت نہ جانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 509 باب بدء الخلق وذکر الانبیآئ۔ )
Ayah 21:95

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور جس بستی (والوں) کو ہم نے ہلاک کردیا محال ہے کہ (وہ دنیا کی طرف رجوع کریں) وہ رجوع نہیں کریں گے

95:۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ نافرمانی کے سبب سے جس بستی والوں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کردیا ایسے لوگوں پر قیامت سے پہلے دنیا میں پھر آنا انتظام الٰہی میں حرام ٹھہر چکا ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس کے اس قول کے موافق مَامَنَعَکَ اَنْ لاَّ تَسْجُدَ میں جس طرح حرف ما کے بعد تاکید کے لیے حرف لا بڑھایا گیا ہے۔ اسی طرح لَاَ یَرْجعُوْنَ میں لاَ حرف فقط حَرَامٌ کی تاکید کے لیے بڑھایا گیا ہے قَدْ اَفْلَحَ الْمُئوْمِنُوْنَ میں آوے گا کہ ایسے نافرمان لوگ جب مرجاتے ہیں اور منکر نکیر کے جواب کے لیے ان کے جسم میں روح پھر اللہ کے حکم سے آجاتی ہے تو ایسے لوگوں کا دوزخ کا ٹھکانا ان کو دکھا کر اللہ کے فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ قیامت کے دن اسی ٹھکانے میں رہنے کے لیے تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘ اس وقت ایسے لوگ دنیا میں دوبارہ آنے اور نیک کام کرنے کی تمنا ظاہر کرتے ہیں اور ان کو یہی جواب ملتا ہے کہ انتظام الٰہی کے موافق قیامت تک اب دنیا میں دوبارہ جانا ممکن نہیں ہے ‘ ہاں ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج کے روکنے کے لیے جو دیوار بنائی ہے ‘ قیامت کے قریب جب وہ دیوار ڈھے جائے گی اور یاجوج ماجج زمین پر پھیل جاویں گے اور پھر مرجاویں گے اور اس کے بعد وقت مقررہ پر پہلا صور پھونکا جا کر تمام دنیا ویران ہوجائے گی تو اس کے چالیس برس کے بعد ان دنیا میں دوبارہ جانے کی تمنا کرنے والوں کو قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے دوبارہ زندہ کیا جا کر دنیا کے میدان محشر میں سب کے ساتھ جمع کیا جائے گا ‘ اس پر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول جو بیان کیا گیا اس کا مضمون قَدْاَ فْلَحَ اْلُمْئومِنُوْنَ کی آیت کے مضمون کے موافق ہے اس واسطے آیت کی وہی تفسیر صحیح ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے حوالہ سے اوپر بیان کی گئی ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث 1 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہونے والا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ جو کچھ لکھا جانا تھا وہ لکھا جا کر قلم خشک ہوگیا ‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ قلم کو دوبارہ سیاہی میں ڈبویا جا کر نہ تر کیا جائے گا نہ کچھ لکھا جائے گا۔ شاہ صاحب نے حرام کا ترجمہ مقرر ہو رہا ہے جو کیا ہے یہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ہے ‘ اوپر کی حدیثوں کے موافق اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حرام شریعت کے حکم سے نہیں مقرر ہوا بلکہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے انتظام الٰہی میں یہ امر مقرر ہوا ہے اور لکھا جا کر قلم بھی خشک ہوگیا ہے کہ ایسے لوگوں پر قیامت سے پہلے دنیا میں پھر آنا انتظام الٰہی کے موافق منع اور حرام ہے ‘ تفسیر کے حساب سے قرآن شریف کی مشکل آیتوں میں سے یہ آیت بھی مشہور ہے ‘ انتظامی حرام کی شریعت میں اور بھی مثالیں ہیں مثلا جیسے سورة القصص میں آوے گا کہ سوائے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے دودھ کے غیر عورتوں کا دودھ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر حرام ٹھہرا دیا تھا یا مثلا صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر ) (2 ؎ ایضا )
Ayah 21:96

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں

96:۔ امام نووی اور بعض علماء نے ایک حکایت جو نقل کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو احتلام ہوگیا تھا۔ اور وہ نطفہ زمین پر گر پڑا ‘ اس خاک سے جو نسل چلی ‘ اسی کا نام یاجوج ماجوج ہے اس حکایت کی سند صحیح نہیں ہے 1 ؎‘ صحیح یہی ہے کہ یاجوج ماجوج یافث بن نوح کی اولاد ہیں اس کی تصریح مستدرک حاکم اور تفسیر ابن مردویہ کی معتبر روایت میں آئی ہے 2 ؎، دجال کا پیدا ہونا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا اور دجال کو قتل کرنا ‘ یہ سب دس نشانیاں قیامت کی جو صحیح 3 ؎ مسلم وغیرہ کی روایت میں ہیں جن نشانیوں کا ذکر مناسب طور پر ہر ایک آیت کے ساتھ آوے گا۔ ان دس نشانیوں میں سے ایک نشانی یاجوج ماجوج کا سکندری کو توڑ کر زمین میں پھیل جانا بھی ہے ‘ ترمذی ‘ صحیح ابن حبان ‘ مستدرک حاکم ‘ مسند عبدبن حمید وغیرہ میں جو معتبر 4 ؎ روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اب یاجوج ماجوج کا کام یہی ہے کہ وہ سب مل کر سارا دن اس دیوار کو کھودا کرتے ہیں جو سکندر ذوالقرنین نے ان کے روکنے کو بنا دی ہے ‘ جب وہ دیوار قریب قریب اس کے کھودی جاتی ہے کہ ذرا اور کھودنے سے راستہ ہوجائے تو ان کا سردار کہتا ہے کہ کل راستہ کرلیں گے اور زمین پر چلے جاویں گے رات کو اللہ کی قدرت سے پھر وہ دیوار ویسی ہی ہوجاتی ہے جیسے کہ تھی۔ جب قیامت قریب ہوگی اور یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت آجاوے گا تو ان کا سردار کہے گا کہ انشاء اللہ کل کے روز راستہ کر کے زمین پر پھیل جاویں گے ‘ اس رات کو وہ دیوار اور راتوں کی طرح مضبوط نہ ہوگی اور صبح کو یاجوج ماجوج کل روئے زمین پر پھیل جاویں گے ‘ مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان وغیرہ میں سند صحیح سے جو روایتیں 5 ؎ ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ روئے زمین پر جس قدر انسان ہیں یاجوج ماجوج ان سب سے نو حصے زیادہ ہیں ‘ ایک ایک شخص کی ان میں سے ہزار کبھی ہزار سے زیادہ اولاد ہوجاتی ہے جب وہ شخص مرتا ہے تو اپنے مرے ہوئے مردوں کو وہ آپ ہی کھا جاتے ہیں 6 ؎‘ صحیح مسلم ‘ مسندامام احمد وغیرہ میں جو روایتیں ہیں 7 ؎۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دجال کو قتل کر چکیں گے تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا کہ اب تم اپنے ساتھ کے مسلمانوں کو لے کر کوہ طور پر چلے جاؤ ‘ زمین پر اللہ کی ایک اور مخلوق آنے والی ہے جس کے مقابلہ کی تم کو طاقت نہیں ہے ‘ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھ کے مسلمانوں کو لے کر کوہ طور پر چڑھ جاویں گے ‘ اس وقت یاجوج ماجوج زمین میں پھیلیں گے سارے دریاؤں اور ندیوں کا پانی پی جاویں گے اور جو کچھ نظر پڑے گا وہ کھا جاویں گے زمین کو خالی پاکر وہ کہیں گے ‘ زمین والوں کو تو سب کو ہم نے ہلاک کردیا ‘ پھر آسمان کی طرف تیر چلاویں گے۔ اللہ کے حکم سے وہ تیر خون میں بھر کر گریں گے ‘ یہ دیکھ کر وہ کہیں گے ہم نے آسمان میں رہنے والوں کو بھی قتل کر ڈالا ‘ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا سے ان کی گردنوں میں پھوڑے نکل کر اور کیڑے پڑ کر سب مرجاویں گے ان کی لاشوں کی یہ کثرت ہوگی کہ تمام زمین میں کہیں جگہ باقی نہ رہے گی ‘ اللہ کے حکم سے ایک پر دار بڑے بڑے جانور پیدا ہوں گے ‘ وہ جانور ان کی لاشوں کو جہاں اللہ کا حکم ہوگا وہاں پھینک دیں گے اور زمین کو خالی کردیں گے پھر اللہ کے حکم سے مینہ برسے گا اور ساری زمین دھل کر صاف ہوجائے گی اور زمین میں ایسی برکت آجاوے گی کہ ایک انار کے دانوں سے چند آدمیوں کا پیٹ بھر جائے گا ‘ اس برکت کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حج کریں گے غرض سات برس زمین پر رہنے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پاویں گے اور مدینہ منورہ میں آنحضرت ﷺ کے مزار شریف کے پاس حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مزار کے بیچ میں جو جگہ ہے ‘ وہاں دفن ہوں گے 7 ؎‘ پھر شام کے ملک کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چلے گی اور اس ہوا کی تاثیر سے اس طرح کے سب لوگ جن کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہے ایک دفعہ ہی مرجاویں گے اور دنیا میں اس طرح بد لوگ رہ جاویں گے کہ جانوروں کی طرح سر بازار بدکاریاں کریں گے اور بت پرستی بھی پھیل جائے گی ‘ دنیا کی عمر اس وقت بہت تھوڑی رہ جائے گی جس طرح پورے دنوں سے پیٹ والی عورت ہوتی ہے کہ ہر وقت اس کے جننے کا کھٹکا لگا رہتا ہے ‘ اسی طرح آسمان پر ملائکہ کو ہر وقت قیامت کا کھٹکا لگا رہے گا ‘ انجام یہ ہوگا کہ دنیا کے یہی کار خانے چل رہے ہوں گے ‘ مکانوں کی مرمت ہو رہی ہوگی بازار لگے ہوں گے ‘ دودھ والے جانوروں کا دودھ دوہا جا رہا ہوگا کہ ایک دفعہ ہی پہلا صور پھونکنے کا حکم ہوجائے گا اور تمام دنیا فنا ہوجائے گی۔ ایک اشکال اور اس کا حل یہاں ایک اعتراض ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابوداؤد اور مستدرک حاکم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک جماعت مسلمانوں کی ایسی ہوگی کہ آخر وقت تک دین پر قائم رہے گی اور اوپر جو ذکر ہوا ‘ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی وفات کے بعد شام کے ملک کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چل کر جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ فوت ہوجائے گا اور کوئی مسلمان روئے زمین پر باقی نہ رہے گا اس اختلاف کا رفع کیونکر ہے۔ حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں اس اعتراض کا جو جواب دیا ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ آخر وقت تک ایک جماعت مسلمانوں کی دین پر قائم رہے گی۔ اس آخر وقت سے مراد یہ ہے کہ جب تک بڑی بڑی نشانیاں قیامت کی ظاہر نہ ہوں گی ‘ مثلا آفتاب کا مغرب کی طرف سے نکلنا یا اس جانور کا ظاہر ہونا ‘ جس کو دابۃ الارض کہتے ہیں ‘ اس وقت تک ایک جماعت مسلمانوں کی دین پر قائم رہے گی ‘ اس کے بعد وہ شام کی طرف کی ٹھنڈی ہوا چل کر سب مسلمان مرجاویں گے۔ غرض آخری وقت سے صور پھونکنے کا وقت مراد نہیں ہے ‘ کس لیے کہ صور پھونکنے کے وقت جس طرح کے لوگ زمین پر علی العموم ہوں گے ‘ ان کی صراحت صحیح حدیثوں میں آچکی ہے چناچہ صحیح مسلم ‘ مسند امام احمد ‘ ابن ماجہ ‘ طبرانی وغیرہ میں جو روایتیں 8 ؎ ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ صور پھونکنے کے وقت زمین پر ایسے لوگ ہوں گے کہ لَآ اِلٰہَ اِلّاَ اللّٰہُ اور اللہ کا کہنا زمین پر باقی نہ رہے گا اور سر بازار بدکاری دیکھ کر ان میں سے اگر کوئی یہ کہے گا کہ یہ کام دیوار کی آڑ میں کرنا چاہیے تھا تو اس کا درجہ ان لوگوں میں ایسا گنا جائے گا جیسے صحابہ ؓ میں حضرت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کا درجہ گنا جاتا ہے۔ ایک بحث : یہاں ایک بحث جو صحابہ ؓ کے زمانے سے اب تک چلی آتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض صحابہ ؓ اس بات کے قائل ہیں کہ ابن صیاد ایک شخص جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں پیدا ہوا وہی دجال ہے اس ابن صیاد کا قصہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت سے صحیحین میں اور روایتوں 9 ؎ سے مسلم وغیرہ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ چند صحابہ ؓ کے ساتھ ابن صیاد کو دیکھنے تشریف لے گئے تھے۔ اور آپ ﷺ نے اس سے باتیں کیں اور اس نے آپ سے کہا کہ مجھ کو ایک تخت پانی پر نظر آیا کرتا ہے آپ نے فرمایا ‘ وہ شیطان کا تخت ہے ‘ حضرت عمر ؓ نے آپ سے ابن صیاد کے قتل کرنے کی اجازت چاہی آپ نے فرمایا۔ اگر یہ دجال ہے تو اس کو عیسیٰ (علیہ السلام) قتل کریں گے تم اس کو قتل نہیں کرسکتے ‘ پھر یہ ابن صیاد مسلمان ہوگیا اور حضرت ابو سعید خدری کے ساتھ ایک دفعہ یہ ابن صیاد حج کو جارہا تھا تو اس نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے کہا کہ لوگ میرے اوپر دجال ہونے کا شبہ کرتے ہیں ‘ اس واسطے میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنا گلا گھونٹ کر مرجاؤں ‘ پھر آخر کو اس نے یہ بھی کہا کہ دجال کو ‘ دجال کی پیدائش کی جگہ کو اور اس بات کو کہ اس وقت دجال کہاں ہے ‘ میں خوب جانتا ہوں ‘ حضرت ابوذر ؓ ‘ عبداللہ بن مسعود ‘ حضرت عمر ؓ ‘ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ‘ حضرت جابر ؓ قسمیں 10 ؎ کھایا کرتے تھے کہ ابن صیاد ہی دجال ہے اگرچہ بعضے علماء نے یہ روایت کی ہے کہ ابن صیاد مدینہ میں ہی مرگیا لیکن صحیح روایت یہ ہے کہ یزید کی خلافت کے زمانہ میں یہ ابن صیاد لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگیا 11 ؎۔ بہیقی نے ابن صیاد کے دجال ہونے کا انکار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جن صحابہ ؓ کو تمیم داری کا قصہ معلوم نہ تھا ‘ انہوں نے ابن صیاد کو دجال کہا 12 ؎ ہے۔ تمیم داری کے قصہ کی مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک روز بےوقت اپنے حجرہ سے مسجد نبوی میں تشریف لائے اور مہاجرین اور انصار صحابہ ؓ کو بلا کر جمع کیا اور فرمایا کہ میں نے تم سب کو اس وقت خاص اس لیے جمع کیا ہے کہ تمیم داری جو ایک شخص نصرانی اسلام لایا ہے کہتا ہے کہ اس کی کشتی طوفان میں آکر ایک ٹاپو میں چلی گئی تھی ‘ وہاں یہود کا ایک عبادت خانہ تھا جس میں ایک شخص زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اس نے تمیم داری ؓ سے باتیں کیں اور پوچھا کہ ملک شام میں بیسان جو ایک قصبہ ہے وہاں کی کھجوروں میں ابھی پھل آتا ہے تمیم داری ؓ نے کہا ہاں ان میں پھل آتا ہے اس شخص نے کہا کہ ایک زمانہ قریب میں ایسا آوے گا کہ ان کھجوروں میں پھل آنا بند ہوجائے گا اور پھر ملک شام میں طبریہ جو ایک چشمہ ہے اس میں پانی ہونے کا حال تمیم داری ؓ سے سن کر کہنے لگا کہ کچھ مدت میں اس کا پانی بھی سوکھ جائے گا پھر نبی آخرالزمان کا حال پوچھا اور کہا کہ تو سوائے مکہ اور طیبہ کے میں ساری زمین کو روند ڈالوں گا اور طیبہ کے ناکوں پر ننگی تلواریں لیے فرشتے کھڑے ہوں گے اس واسطے وہاں نہ جاسکوں گا۔ یہ قصہ تمیم داری ؓ کا آنحضرت ﷺ نے ذکر فرما کر فرمایا کہ یاد رکھو طیبہ مدینہ کا نام ہے۔ بقیا نے یہ قصہ نقل کرتے وقت یہ بھی روایت کی ہے کہ تمیم داری ؓ نے جس شخص کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھا وہ شخص بڈھا تھا اور ابن صیاد کو آنحضرت ﷺ نے تمیم داری ؓ کے قصہ سے تھوڑے عرصہ پہلے جو دیکھا تو اس وقت ابن صیاد کی عمر چودہ پندرہ برس کی تھی پھر ابن صیاد اور دجال ایک کیونکر ہوسکتے ہیں 13 ؎‘ حافظ ابن حجر ؓ نے اس بحث کا یہ فیصلہ کیا ہے کہ دجال تو اصل میں وہی شخص ہے جس کو تمیم داری ؓ نے دیکھا ہے مگر ابن صیاد شیطان ہے جو دجال کے ساتھ اس کے ہمراز کے طور پر پیدا ہوا ہے 14 ؎۔ صحیح مسلم کی بعض روایتوں کو جو دیکھا جاتا ہے تو ابن صیاد کی عادتیں انسانوں کی نہیں پائی جاتیں مثلا یہ روایت کہ ابن صیاد کو شیطان کا تخت پانی پر نظر آتا ہے اور یہ روایت کہ مدینہ کے ایک گلی میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور ابن صیاد کا کچھ جھگڑا ہوگیا تھا جس جھگڑے کے سبب سے ابن صیاد کو غصہ آگیا اور وہ غصہ کے سبب سے ایسا پھول گیا کہ مدینہ کی تمام گلی اس کے جسم سے بھر گئی یا یہ روایت کہ اس نے کہا مجھ کو دجال کا حال اور اس کی پیدائش کی جگہ معلوم ہے اور اگر میں دجال بنا دیا جاؤں تو میں اس بات کو کچھ برا نہیں جانتا ‘ جب ان روایتوں سے ابن صیاد کی عادتیں انسانوں کی سی نہیں پائی جاتیں تو حافظ ابن حجر (رح) نے جو فیصلہ ابن صیاد کے باب میں کیا ہے اس فیصلہ کی تائید ان روایتوں سے پورے طور پر ہوتی ہے ‘ امام بخاری (رح) کا منشا بھی قریب قریب اس کے معلوم ہوتا ہے کہ ابن صیاد دجال ہے کیونکہ امام بخاری (رح) نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں فقط ابن صیاد کا قصہ ذکر کیا ہے تمیم داری کا قصہ ذکر نہیں کیا 15 ؎‘ دوسرے صور کے وقت لوگ جو قبروں سے نکل کر زمین پر ٹڈیوں کی طرح پھیلیں گے بعضے مفسرین نے من کل حدب ینسلون کی تفسیر اسی حالت کو قرار دیا ہے 16 ؎، لیکن صحیح مسلم میں نواس بن سمعان کی جو روایت ہے اس میں خود اللہ کے رسول ﷺ نے من کل حدب ینسلون کی تفسیر میں یاجوج ماجوج کے پھیلنے کا ذکر فرمایا ہے۔ اس واسطے آیت کی وہی تفسیر صحیح ہے جو اوپر بیان کی گئی۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیرص 104 ج 3 ) (2 ؎ فتح الباری ص 575 ج 6۔ ) (3 ؎ دیکھئے مشکوٰۃ باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال ) (4 ؎ فتح الباری ص 576 ج 6 ) (5 ؎ فتح الباری ص 230 ج 3 و 575 ج 6 والدر المنثورص 250 251 ج 4۔ لیکن ان میں سے اکثر اسرائیلیات ہیں جو بغیر کسی صحیح بنیاد کے ناقابل اعتماد ہیں (ع ‘ ح ) (6 ؎ دیکھئے مشکوٰۃ ص 473 وفتح الباری ص 576 طبع دہلی) (5 ؎ الدر المنثور ص 336۔ 338 ج 4 ) (7 ؎ ایضا فتح الباری 682 ج 6 شرح باب ما ذکر النبی ﷺ وحض علیٰ اتفاق اہل العلم الخ۔ ) (8 ؎ فتح الباری ص 523 ج 6 کتاب الفتن۔ ) (9 ؎ ان روایات کے لیے دیکھئے مشکوٰۃ ص 487۔ 479۔ ) (10 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص 692۔ 694 ج اطبع ہند ) (11 ؎ مشکوٰۃ ص 479 ) (12 ؎ مشکوٰۃ ص 475 وفتح الباری ص 694 ج 6 ) (13 ؎ فتح لباری ص 694 باب ایضا ) (14 ؎ فتح الباری ص 692 ج 6۔ ) (15 ؎ فتح الباری ص 694 ج 6 ) (16 ؎ مشکوٰۃ ص 474 )
Ayah 21:97

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور (قیامت کا) سچا وعدہ قریب آجائے تو ناگاہ کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں (اور وہ کہنے لگیں کہ) ہائے شامت ہم اس (حال) سے غفلت میں رہے بلکہ ہم (اپنے حق میں) ظالم تھے

97:۔ اوپر یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ یاجوج ماجوج کا نکلنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایسی نشانی ہے کہ جس کے بعد قیامت کے قائم ہونے کے سچے وعدہ کا وقت نزدیک آپہنچے گا اور جس دن اس سچے وعدہ کا ظہور ہوجائے گا تو اس دن کی آفتوں کو دیکھ کر دہشت کے مارے ان منکرین حشر کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاویں گی اور اس دن کی آفتوں سے غافل رہنے پر پچھتاویں گے اور کہیں گے کہ اللہ کے رسولوں نے ہمیں ان آفتوں کا حال جو بتلایا اور ہم نے ان کو جھٹلا دیا ‘ حقیقت میں ہم نے یہ اپنے حق میں بڑا ظلم کیا ہے 1 ؎‘ صحیح مسلم میں حذیفہ بن اسید سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے آفتاب کے مغرب سے نکلنے کے بعد یاجوج ماجوج کے نکلنے کا ذکر فرمایا ہے 2 ؎‘ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ گنہگار لوگوں کی توبہ قبول ہونے کا وقت آفتاب کے مغرب سے نکلنے تک ہے ان حدیثوں سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ یاجوج ماجوج کا نکلنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایسی قریب قیامت کی نشانی ہے کہ جس کے ظہور سے پہلے ہی گنہگاروں کی توبہ کا وقت ہاتھ سے نکل جائے گا اور اس نشانی کے ظہور کے وقت جو شخص جس حالت پر ہوگا ‘ قیامت کے دن وہ اسی حالت پر قبر سے اٹھے گا۔ (1 ؎ مشکوٰۃ باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال ) (2 ؎ مشکوٰۃ باب الاستغفار والتوبۃ )
Ayahs 21:98–99

اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ١ؕ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ Open ayah 21:98 in the Quran reader

(کافر اس روز) تم اور جن کی تم خدا کے سوا عبادت کرتے ہو دوزخ کا ایندھن ہونگے (اور) تم (سب) اس میں داخل ہو کر رہوگے

لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا١ؕ وَ كُلٌّ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 21:99 in the Quran reader

اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے

98۔ 99:۔ مستدرک حاکم اور تفسیر ابن مردویہ 1 ؎ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے قائل کرنے کے لیے اوپر کی آیتیں نازل فرمائی تھیں جن کا حاصل یہ ہے کہ یہ مشرک لوگ اور جن بتوں کو یہ پوجتے ہیں قیامت کو یہ سب دوزخ کا ایندھن بنائے جاویں گے اور ہمیشہ دوزخ ان کا ٹھکانا ہوگا ‘ ان سے پوچھا جائے گا کہ اگر یہ بت معبود ہونے کی صلاحیت رکھتے تو خدا کے نزدیک ان کی بھی قدر ومنزلت ہوتی نہ کہ خدا ان کو دوزخ کا ایندھن ٹھہراتا جب آنحضرت ﷺ نے یہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سنائیں تو ایک شخص ابن الزبعری شاعر نے آنحضرت ﷺ سے بڑا جھگڑا کیا اور کہا کہ سوائے اللہ کے حضرت عیسیٰ اور عزیر اور ملائکہ کو بھی لوگ پوجتے ہیں ہمارے معبود دوزخ کا ایندھن ٹھہریں گے تو عیسیٰ عزیر اور ملائکہ کا کیا حال ہوگا ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے آگے کی آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جن سے اللہ تعالیٰ نجات کا وعدہ فرما چکا ہے اور یہ مشرک ان کی بغیر مرضی انہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ان کو دوزخ کی بھاپ بھی نہ لگے گی یہ ابن الزبعری پھر مسلمان ہوگئے اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی مدح میں بہت شعر انہوں نے کہے ہیں 2 ؎‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہوگا ‘ اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی دوسری روایت بھی گزر چکی ہے کہ جب جنت کے قابل لوگ جنت میں جا چکیں گے اور ہمیشہ وہیں رہے گا ‘ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کلمہ گو گنہگار جب دوزخ سے نکل کر جنت میں جا چکیں گے اور کلمہ کے منکر مشرک لوگ اور ان کے بت دوزخ میں رہ جاویں گے تو ان کو یہ حکم سنا دیا جائے گا کہ اب تم اور تمہارے جھوٹے معبود ہمیشہ دوزخ میں پڑے رہو۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 238 ج 4 ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیرص 199 ج 3 )
Ayahs 21:100–103

لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ هُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 21:100 in the Quran reader

وہاں ان کو چلانا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى١ۙ اُولٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَۙ Open ayah 21:101 in the Quran reader

جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے وہ اس سے دور رکھے جائیں گے

لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَا١ۚ وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 21:102 in the Quran reader

(یہاں تک کہ) اس کی آواز بھی تو نہیں سنیں گے، اور جو کچھ ان کا جی چاہے گا اس میں (یعنی ہر طرح کے عیش اور لطف میں) ہمیشہ رہیں گے

لَا یَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَ تَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ هٰذَا یَوْمُكُمُ الَّذِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 21:103 in the Quran reader

ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا، اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

100۔ 103:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں اور ان کے جھوٹے معبودوں کو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا حکم سنا دیا جائے گا اور قائل کرنے کے لیے ان مشرکوں سے یہ کہا جائے گا کہ دنیا میں جن تبوں کو تم اپنا معبود جانتے تھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر ان بتوں میں معبود ہونے کی صلاحیت ہوتی تو آج ان کو دوزخ کا ایندھن نہ بنایا جاتا ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا حکم سن کر یہ لوگ روئیں گے چلاویں گے اور ان میں کا ہر ایک شخص اپنے اپنے عذاب کی تکلیف میں ایسا بدحواس ہوگا کہ ایک شخص دوسرے کے رونے اور چلانے کی آواز بھی نہ سنے گا 1 ؎‘ ترمذی میں ابودرداء ؓ سے اور مستدرک حاکم ‘ بیہقی کی بعث ونشور وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں 2 ؎ ان کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ دوزخی لوگ دوزخ کے عذاب کی تکلیف سے بہت گھبرا جاویں گے تو لوگ دوزخ کے داروغہ سے التجا کریں گے کہ مالک ان لوگوں کی موت کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرے ہزار برس تک تو ان لوگوں کی التجا کا کچھ جواب نہ ملے گا پھر ہزار برس کے بعد یہ جواب ملے گا کہ دنیا میں تم لوگوں نے اس عذاب کو جھٹلایا اس لیے اب تمہاری یہی سزا ہے کہ تم ہمیشہ اس عذاب میں گرفتار رہو گے اس حکم کو سن کر یہ لوگ اور بھی زیادہ چیخنا اور چلانا شروع کردیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی اس روایت کو حاکم نے صحیح کہا ہے 3 ؎، اور ترمذی کی ابودرداء ؓ کی حدیث کی سند میں قطبۃ بن عبدالعزیز روای کو اگرچہ بعض علماء نے لائق اعتراض قرار دیا ہے لیکن اکثر اہل حدیث نے قطبۃ بن عبد العزیز کو ثقہ کہا ہے 4 ؎، ابن ماجہ میں انس بن مالک سے روایت ہے 5 ؎۔ کہ دوزخ میں دوزخی یہاں تک روئیں گے کہ ان کے آنسوؤں میں کشتی چلاؤ تو چل نکلے اس حدیث کی سند میں ایک روای یزید الرقاشی کو اگرچہ بعض علماء نے قابل اعتراض ٹھہرایا ہے لیکن ابن معین اور ابن عدی نے یزید الرقاشی کو ثقہ قرار دیا ہے 6 ؎، جن لوگوں کا ذکر پہلی آیت میں ہے ان روایتوں سے ان کے رونے اور چلانے کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے ‘ مشرکین مکہ جو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے بت دوزخ کا ایندھن ٹھہریں گے تو فرشتوں کو عزیر (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں پھر ان کا کیا حاصل ہوگا ‘ اس کے جواب میں فرمایا دوزخ کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ اللہ کی رحمت اور ہمیشہ کی جنت کے عیش کے قابل ٹھہر چکے ہیں ‘ ان کے کانوں میں دوزخ کے شوروغل کی آواز تک بھی نہ جائے گی بلکہ دوسرے صور کے بعد جب سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اور اس دن کی آفتوں کو دیکھ کر گنہگار لوگوں کے دل پر گھبراہٹ چھا جائے گی ‘ ان نیک لوگوں کو اسی وقت اللہ کے نہ رہے گی ‘ مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی صحیح حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ منکر نکیر کے سوال جواب کے بعد اللہ کے فرشتے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کو ان کا جنت کا ٹھکانا دکھا کر یہ وعدہ خوشخبری کے طور پر سنا دیتے ہیں کہ اسی ٹھکانے میں ہمیشہ رہنے کے لیے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قبر میں رکھتے ہی اللہ کے حکم سے فرشتوں نے جو خوشخبری نیک لوگوں کو وعدہ الٰہی کے موافق سنائی تھی قبر سے اٹھتے ہی وہ خوشخبری کا وعدہ ان لوگوں کو اللہ کے فرشتے پھر یاد دلا دیں گے یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی انس بن مالک کی روایت سے آئی ہے 7 ؎۔ 1 ؎ الترغیب والترہیب ص 481 ج 4 طبع مصر۔ فصل فی طعام اہل النار۔ 2 ؎ ایضاص 492 فصل فی بکا ہم وشہیقہم 3 ؎ مستدرک حاکم ص 448 ج 2 4 ؎ الترغیب والترہیب ص 482 ج 4 5 ؎ ایضا ص 493 6 ؎ ایضا ص 580 7 ؎ مشکوٰۃ ص 25 باب اثبات عذاب القبر