Ayah 21:104104:۔ تفسیر ابن حریر وغیرہ میں علی بن طلحہ کی سند سے سجل کے لفظ کے معنی خط اور دفتر کے جو بیان کیے گئے ہیں وہی معنی صحیح ہیں اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان کو لپیٹ لے گا ‘ جس طرح کوئی کاغذ کو لپیٹ لیتا ہے۔ ابوداؤد اور نسائی میں یہ روایت ہے کہ سجل آنحضرت ﷺ کے ایک کاتب کا نام ہے اس روایت کی سند میں اکثر علمائے محدثین کو کلام ہے ‘ بعضے مفسرین نے یہ جو لکھا ہے کہ دوسرے آسمان پر ایک فرشتہ ہے جس کے پاس کراما کاتبین پیر اور جمعرات کے روز بنی آدم کے اعمال پیش کرتے ہیں 1 ؎‘ اس اس فرشتہ کا نام سجل ہے ‘ اس روایت کا پتہ صحیح تفسیروں سے اس قدر لگتا ہے کہ پہلے انسان کے منہ سے جو کچھ نکلتا ہے اس کو کراما کاتبین لکھ لیتے ہیں پھر جمعرات کے روز اس میں سے آسمان پر صرف وہ باتیں چھانٹ لی جاتی ہیں جو ثواب یا عذاب کے قابل ہیں غرض اس کام کا دفتر جو آسمان پر ہے ‘ اس دفتر کے اہل دفتر میں سے سجل نام کا کوئی فرشتہ ہو تو عجب نہیں لیکن جب تک کوئی صحیح روایت اس باب میں نہ ملے۔ عقل سے ایسے ابواب میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ‘ جس وقت پہلا صور پھونکا جاکر تمام دنیا فنا ہوجاوے گی اور چالیس برس تک ساری دنیا ویران پڑی رہے گی۔ بڑے بڑے ملک اور حکومت کے دعوے کرنے والے جو ہیں یہ سب مٹ جاویں گے اور خاک کے ڈھیر ہو کر پڑے ہوئے ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کو اور تمام عالم کو لپیٹ کر اپنے ہاتھ میں لے لے گا اور فرمائے گا آج کہاں گئے وہ ملک اور بادشاہت کا دعویٰ کرنے والے جب کوئی جواب دینے والا پیدا نہ ہوگا تو آخر کو فرمائے گا سب ملک اللہ ہی کا ہے اور اللہ ہی بادشاہ ہے زیادہ تفسیر اس کی سورة زمر اور سورة مومن میں آئے گی۔ صحیح بخاری ومسلم وغیرہ کی روایتیں جو اس بات میں ہیں وہ بھی ان ہی سورتوں کی تفسیر میں آویں گی ‘ صحیح بخاری ومسلم 2 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں ننگے بدن بغیر ختنہ کیے ہوئے قبروں سے اٹھیں گے یہ حدیث کما بدانا اول خلق نعیدہ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اب بچہ ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن ‘ بغیر ختنہ کیا ہوا ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے قیامت کے دن سب لوگ قبروں سے اسی حالت میں اٹھیں گے آگے فرمایا دوبارہ پیدا کرنے کا اللہ تعالیٰ کا ایک یقینی وعدہ ہے جس کا ظہور ضرور ہوگا۔
(1 ؎ پیر اور جمعرات کے دن عملوں کے پیش ہونے والی روایات کے لیے ملا حظہ ہو الترغیب والترہیب 124 ج 2 کتاب الصوم ” سجل “ کان میں نام نہیں (ع۔ ح )
(2 ؎ مشکوٰۃ باب الحشرص 483 )
Ayah 21:105105:۔ مجاہد اور سعید بن جبیر کے قول کے موافق حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ پہلے لوح محفوظ میں اور لوح محفوظ کے بعد انبیاء پر جو کتابیں نازل کی گئی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے یہی لکھا ہے کہ جنت کی زمین کے وہی لوگ وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں ‘ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے 1 ؎ کہ بعضے لوگ تمام عمر جنتیوں کے سے کام کرتے ہیں لیکن آخر عمر میں لوح محفوظ کے لکھے کے موافق دورخیوں کے سے کام کر کے مرتے ہیں اسی طرح بعضے لوگ تمام عمر دوزخیوں کے سے کام کرتے ہیں لیکن آخر عمر میں لوح محفوظ کے لکھے کے موافق جنتیوں کے سے کام کر کے مرتے ہیں ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اسی واسطے اس نے ہر شخص کے کام کا انجام لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے لیکن انصاف کی نظر سے اللہ تعالیٰ نے جزاو سزا کا دارو مدار اپنے علم غیب پر نہیں رکھا بلکہ ہر شخص کا ایک ٹھکانا دوزخ میں اور ایک جنت میں پیدا کر کے سزا کے طور پر دوزخ میں جھونکے جانے اور جزا کے طور پر جنت میں داخل ہونے کا مدار دنیا کے ظاہری عملوں پر رکھا ہے ہاں اتنی بات ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اسی طرح اس کے علم غیب کے برخلاف کچھ نہیں ہوسکتا اس لیے اگرچہ ہر شخص کا ایک ٹھکانا دوزخ میں اور ایک جنت میں پیدا کیا گیا ہے لیکن آخر کو جنت میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو اللہ کے علم غیب کے موافق پہلے لوح محفوظ میں اور پھر آسمانی کتابوں میں نیک ٹھہر چکے ہیں اسی واسطے قرآن شریف میں جگہ جگہ فرمایا ہے کہ راہ راست پر آنے کی توفیق ان ہی لوگوں کو ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں راہ راست پر آنے کے قابل قرار چکے ہیں ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا میں پیدا ہو کر اپنے اختیار سے جو کوئی جس طرح کے کام کرنے والا تھا۔ لوح محفوظ میں وہ لکھا گیا ہے ‘ کسی کو کسی کام پر مجبور نہیں کیا گیا۔
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 20 باب الایمان بالقدر۔ )
Ayahs 21:106–107106۔ 107:۔ اوپر ذکر تھا کہ پہلے لوح محفوظ میں اور اس کے بعد انبیاء پر جو کتابیں نازل کی گئی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے یہی لکھا ہے کہ جنت کی زمین کے وہی لوگ مالک اور وارث ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں ‘ ان آیتوں میں فرمایا ایسے لوگ آسمان و زمین سے اور آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ہزاروں نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کو تو پہچان سکتے ہیں ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی مرضی اور نامرضی کے کاموں کی تفصیل ان کو بغیر آسمانی کتاب کے نہیں معلوم ہوسکتی تھی اس واسطے خالص دل سے اللہ کی عبادت کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس قرآن شریف میں اپنی مرضی اور نامرضی کی سب باتیں کافی طور پر بتلا دی ہیں اور اے رسول اللہ کے تم کو جو اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے تو یہ جہاں بھر کے لوگوں کے حق میں اللہ کی رحمت ہے کیونکہ جو لوگ تمہاری فرمانبرداری ‘ قرآن کی نصیحت کے پابند رہیں گے ان کو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ حکومت و ثروت سب کچھ دے گا اور عقبیٰ میں ان کے نیک کاموں کے بدلہ میں ہمیشہ کے لیے اتنا بڑا عیش وعزت کا سامان ان کو عطا فرمادے گا جو ان کے وہم و گمان سے باہر ہوگا ‘ حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت سے لے کر خلفائے عباسیہ کے عروج کے زمانہ تک دنیا کی جو کچھ حکومت و ثروت قرآن کی نصیحت کے پابند لوگوں میں رہی اس کا حال تاریخ الخلفاء کے دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے اس کے بعد کے لوگ قرآن کی نصیحت کے پابند نہ رہے اس واسطے وہ حکومت اور ثروت بھی نہ رہی ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیک بندوں کے لیے جنت میں جو عیش و عشرت کا سامان پیدا کیا ہے وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھا اور نہ کانوں سے سنا نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزر سکتا ہے اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ عقبیٰ میں جو عیش و عشرت کا سامان نیک بندوں کو ملے گا وہ انسان کے وہم و گمان سے باہر ہوگا۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے سرکشی سے جب عذاب کے نازل ہونے کی خواہش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی آیتیں نازل فرما کر یہ فرما دیا کہ اے رسول اللہ کے یہ اللہ کی ایک رحمت ہے کہ جب تک تم ان لوگوں میں موجود ہو اس وقت تک جس طرح پچھلی امتوں پر عام عذاب آئے اس طرح کا کوئی عام عذاب ان سرکش لوگوں پر نہ آئے گا جو لوگ اللہ کے رسول کے مخالف تھے ان کے حق میں بھی آپ کی موجودگی کا رحمت الٰہی ہونا سورة الانفال کی آیتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے ‘ سورة الانفال کی آیتوں کی جو شان نزول اوپر بیان کی گئی وہ صحیح بخاری میں انس بن مالک کی روایت سے آئی ہے اس لیے یہ شان نزول بہت صحیح ہے۔
Ayahs 21:108–111108۔ 111:۔ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن شریف میں اپنی مرضی اور نامرضی کی سب باتیں پوری طور پر جتلا دی ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ قرآن شریف کی نصیحت سے اگرچہ ان ہی لوگوں کو نیک ہدایت ہوتی ہے جو اللہ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو ہر شخص کے انجانی کا عذر رفع کردینا بہت پسند ہے اس واسطے اے رسول اللہ کے تم ان مکہ کے مشرکوں سے کہہ دو مجھ کو حکم ہے کہ جس اللہ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو انسان پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں انسان کسی کو شریک نہ کرے ‘ اس حق کے ادا ہونے کے بعد انسان کا اللہ تعالیٰ پر یہ حق ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس حق ادا کرنے اور نہ ادا کرنے دونوں باتوں کا انجام تم لوگوں کو جتلا دیا ہے اور یہ مجھ کو معلوم نہیں کہ قرآن کی نصیحت کو ٹالنے والوں پر دیر سویر کب عذاب آجائے۔ پھر فرمایا یہ بھی کہہ دیا جائے کہ ان لوگوں کے دل میں جو شرک کا عقیدہ ہے وہ اور ان کے ہاتھ پیروں کے شرک کے کام اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں ‘ اس پر بھی عذاب کے آنے میں جو دیر لگ رہی ہے تو مجھ کو یہ معلوم نہیں کہ اس مہلت میں راہ راست پر آنے کی جانچ ہے یا وقت مقررہ کا انتظار ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی انجانی کے عذر کا رفع کردینا بہت پسند ہے ‘ اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے ‘ صحیح مسلم و بخاری کے حوالہ سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اس حق کو جو لوگ پورا ادا کریں گے ان کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہوگا کہ وہ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچاوے آیتوں کی تفسیر میں جو مطلب اوپر بیان کیا گیا ہے وہ ان صحیح حدیثوں کا خلاصہ ہے۔
Ayah 21:112112:۔ یہ اللہ کے رسول کی دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے مشرکین مکہ کی سرکشی سے تنگ آن کر اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں کی تھی ‘ حاصل اس بددعا کا یہ ہے کہ یا اللہ جو لوگ تیری عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں اور تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں اور جو غریب لوگ راہ راست پر آئے ہیں ان کو طرح طرح سے ستاتے ہیں ‘ ان سرکش لوگوں کی سرکشی کے مٹ جانے میں تجھ سے ہی مدد چاہی جاتی ہے ‘ ان سرکشوں اور اپنے رسول کا اپنے انصاف کے موافق یا اللہ کوئی فیصلہ جلدی سے فرماوے اللہ تعالیٰ کے انتظام میں دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے ہر کام کا وقت مقرر ہوچکا ہے چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے اس واسطے اللہ کے رسول کی اس بددعا کے ظہور کا ایک وقت تو بدر کی لڑائی کے موقع پر آیا کہ اس لڑائی کے موقع پر بڑے بڑے سرکش معاندین نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پالیا۔ یہ قصہ صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے ‘ دوسرا موقع فتح مکہ کے وقت آیا کہ مشرکین مکہ جن بتوں کی حمایت میں اللہ کے رسول کو جھٹلاتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ سے فتح مکہ کے وقت ان بتوں کو یہ ذلت دلوائی کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ان بتوں کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے مار مار کر زمین میں ڈال دیا اور کسی مشرک کو اپنے جھوٹے معبودوں کی حمایت کی جرأت نہ ہوئی یہ قصہ بھی صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود کی اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے۔