Ayahs 22:1–21۔ 2:۔ علمائے مفسرین نے اس بات میں بڑا اختلاف 1 ؎ کیا ہے کہ پہلے صور کے وقت جو زمین ہلے گی اور آخر کو پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گی اور پہاڑ آسمان سب ریزہ ریزہ ہوجاویں گے ‘ اس آیت میں سورة الحاقہ کی آیتوں کے موافق زمین کے اس بھونچال کا ذکر ہے یا حشر کے دن جب اللہ تعالیٰ ہر ہزار اولاد آدم کی صف میں سے نو سو ننانوے آدمیوں کو دوزخ میں بھیجنے کا حکم حضرت آدم (علیہ السلام) کو دے گا اور اس حکم کی دہشت سے تمام مخلوقات کے دل جو بےقابو ہوجاویں 2 ؎ گے ‘ اس کا نام زلزلہ ہے ‘ اور وہی زلزلہ اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس اختلاف کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ جب آیت کے لفظ عام ہیں اور قابل خوف جو زلزلہ قیامت کا ہے اس سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ڈرایا ہے اور قرآن و حدیث میں ان دونوں زلزلوں کا ذکر آیت کی تفسیر کے طور پر آچکا ہے تو اب اختلاف کیا باقی رہ گیا یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ آیت دونوں زلزلوں سے ڈرانے کی غرض سے نازل ہوئی ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ جب سورة الحاقہ میں پہلے صور کی آواز سے سخت بھونچال آنا اور زمین کا اور زمین کے پہاڑوں کا ٹوٹ پھوٹ جانا موجود ہے اور طبرانی ‘ تفسیر ابن جریر ‘ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں صحیح 1 ؎ سند سے پہلے زلزلہ کو آیت کی تفسیر کے طور پر ابوہریرہ ؓ کی روایت میں اللہ کے رسول ﷺ نے بیان کیا ہے جس روایت کا حاصل یہ ہے کہ پہلا صور جب پھونکا جائے گا تو زمین اس طرح ڈگمگاوے گی جس طرح دریا میں ناؤ ڈانواں ڈول پھرتی ہے ‘ پھر آخر زمین اور پہاڑوں کے ٹکڑے ہوجاویں گے ‘ پھر آسمان بھی اسی طرح سب پھٹ جاویں گے ‘ سورج ‘ چاند تارے سب ٹوٹ کر گر پڑیں گے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی یایھا الناس اتقوا ربکم ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں ‘ میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت سورة زمر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پہلے صور کے شروع ہوتے ہی زمین و آسمان میں جتنے جاندار ہیں سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے مرجاویں گے پھر اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں یہ بھی فرمایا ہے کہ جن کو اللہ چاہے گا وہ اس صدمہ سے بچے رہیں گے وہ کون لوگ ہوں گے ‘ آپ نے فرمایا وہ شہید لوگ ہیں ‘ مردوں میں سے کسی کو اس صدمہ کی خبر نہ ہوگی ‘ شہید باوجودیکہ زندہ ہیں لیکن اس صدمہ سے بچے رہیں گے اور دوسرے زلزلہ کا ذکر صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری ؓ کی روایت 2 ؎ سے جو آیت کی تفسیر کے طور پر آیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو پڑھا اور فرمایا کہ یہ زلزلہ وہ ہے کہ حشر کے دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے فرمائے گا کہ اپنی اولاد میں سے دوزخ کا حصہ نکالو ‘ حضرت آدم عرض کریں گے ‘ یا الٰہی اولاد آدم میں دوزخ کا حصہ کس قدر ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ ہزار میں نو سو ننانوے ‘ اللہ کا یہ حکم سن کر تمام محشر میں ایک زلزلہ پڑجائے گا اور لوگوں کے دل ہل جاویں گے ‘ اس حدیث کو سن کر صحابہ ؓ کو بڑا رنج ہوا پھر آپ نے تسلی دی اور فرمایا کہ نو سو ننانوے یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے اور ایک تم میں کا ہوگا اور امتوں کے مقابلہ میں میری امت کی گنتی تو اتنی ہے کہ جس طرح سفید بیل کی کھال میں چند کالے بال ہوتے ہیں ‘ پھر فرمایا کہ مجھ کو توقع ہے میری امت آدھی جنت میں جائے گی۔ بعضی روایتوں میں دو تہائی بھی آیا ہے جس زلزلہ کا ذکر پہلی حدیث میں ہے اس زلزلہ کے وقت حقیقت میں دودھ والی عورت اپنے بچہ کو خوف کے مارے چھوڑ دے گی اور بھول جائے گی اور حاملہ عورت کے حمل گر پڑیں گے اور جن زلزلہ کا ذکر دوسری حدیث میں ہے ‘ اس زلزلہ میں یہ بات مثال کے طور پر فرمائی کہ اس وقت بھی اس قدر خوف لوگوں کے دلوں پر ہوگا کہ اگر وہاں بھی دودھ والی عورت ہوتی تو دودھ پلانا بھول جاتی اور حمل والی عورت ہوتی تو اس کا حمل گرجاتا ‘ نیک کام میں لگے رہنے اور برے کام سے بچنے کو تقویٰ کہتے ہیں جس کے معنی پرہیز گاری کے ہیں ‘ صحیح بخاری 3 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس شخص کے مزاج میں پرہیز گاری زیادہ ہے اللہ کے نزدیک اسی کی عزت زیادہ ہے اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا اے لوگو قیامت کے دن کا عذاب ایسا سخت ہے کہ اس کی سختی کو دیکھ کر دودھ پلانے والی عورت اپنے بچہ کو دودھ پلانا بھول جائے گی۔ حمل والی عورت کا حمل گر جائیگا اور بغیر نشہ کی چیز کے کھانے پینے کے لوگ نشہ بازوں کی طرح بدحواس ہوجاویں گے پرہیز گاری اس دن ایک ایسی چیز ہوگی جو اس عذاب کی ذلت اور تکلیف سے بچا کر آدمی کو عزت سے قائم رہنے کا سبب ہوسکتی ہے اس واسطے ہر شخص کو چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے پرہیز گاری اختیار کرے۔
(1 ؎ تفسیر کبیر۔ سورة الحج )
(2 ؎ تفسیر فتح البیان ص 146 ج 3 )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 201۔ )
(2 ؎ مشکوٰۃ ص 483 باب الحشر )
(3 ؎ مشکوٰۃ باب المفاخرۃ والعصبیۃ۔ بحوالہ شیخین۔ )
Ayahs 22:3–43۔ 4:۔ تفسیر سدی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن جریج وغیرہ میں معتبر سند سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ نضربن حارث ایک شخص بڑا جھگڑالو مشرکین مکہ میں تھا جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانی کہا کرتا تھا اور حشر کا بڑا سخت منکر تھا ‘ بدر کی لڑائی والے دن حالت کفر میں وہ مارا گیا اور اس کے ساتھ ایک دو اور تھے ‘ جو بجلی گر کر ہلاک ہوئے ایسے لوگوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
عقلی وجوہ سے شریعت کی باتوں کو مسترد نہ کیا جائے :
حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ نضربن حارث اور اس کے ساتھیوں کی طرح آدمی کو دین کی بات میں عقل سے جھگڑنا نہیں چاہئے کیونکہ جن باتوں کا شریعت میں حکم دیا گیا ہے ان میں سے اکثر باتوں کی مصلحت کو عقل نہیں پہنچ سکتی مثلا ریشمی کپڑے کو بہ نسبت سوتی کپڑے کے عقل اچھا اور نرم جانتی ہے مگر شریعت نے ریشمی کپڑا دنیا میں مرد کو جائز نہیں رکھا ‘ اس کی مصلحت عقل کی رسائی سے باہر ہے ‘ یہ شیطان کا کام ہے کہ آدمی کے دل میں عقلی وسوسہ دین کی باتوں میں ڈالتا ہے تاکہ جس طرح خود گمراہ ہوچکا ہے اوروں کو بھی گمراہ کر کے اپنے ساتھ دوزخ میں لے جائے ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ سے جو دین کی باتیں بتلا دی ہیں جو شخص ان باتوں کو چھوڑ کر عقل شیطانی وسوسوں میں پڑے گا۔ نضر بن حارث کی طرح اس کو دین و دنیا کا ٹوٹا بھگتنا پڑے گا کیونکہ شیطان کی قسمت میں یہ لکھا جاچکا ہے کہ جو کوئی اس کا رفیق ہوگا وہ اس کو نیک راہ سے بہکا کر اپنے ساتھ اسے دوزخ میں لے جائے گا جس طرح ایک بادشاہ کے دو وزیر ایک نیک مزاج ایک ظالم فرض کیے جاویں اسی طرح ایک اللہ کا فرشتہ نیک کام کی صلاح دینے والا اور ایک شیطان بری راہ لگانے والا۔ یہ دونوں ہر وقت ہر انسان کے ساتھ لگے رہتے ہیں ‘ صحیح مسلم میں عبداللہ بن مسعود کی روایت میں ان دونوں ساتھیوں کا ذکر صراحت سے آچکا ہے جس نے صلاح رحمانی کے موافق کام کیا ‘ نجات پائی اور جو وسوسہ شیطانی میں پھنسا خراب ہوا ‘ بعضے دوست آشنا بھی آدمی کے انسان کی صورت میں شیطان کی خصلت کے ہوتے ہیں جو ہمیشہ آدمی کو بری راہ لگنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں جن کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے ایسے لوگوں کی صحبت بھی آدمی کو برباد کردیتی ہے ایسے دوست آشناؤں سے بھی انسان کو بچنا چاہیے ‘ اسی واسطے اللہ کے رسول ﷺ نے صحیح بخاری ومسلم کی ابوسعید خدری ؓ کی روایت 1 ؎ میں ایسے دوست آشناؤں کی رفاقت کی مثال لوہار کی کھال دھونکنے والے کی رفاقت کی فرمائی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کھال دھونکنے والے کے پاس بیٹھنے میں آگ کی چنگاری اڑ کر ان پر پڑنے اور کپڑوں کے جلنے کا خوف ہے اسی طرح برے دوست آشناؤں کی رفاقت سے دوزخ میں جلنے کا اندیشہ ہے ‘ دوزخ کے عذاب کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس عذاب کے منکر اور اس سے غافلوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الحب فی اللہ ومن اللہ و صحیح بخاری ‘ باب المسک من کتاب الصید والذبائح ازروایت ابوموسیٰ ؓ
Ayahs 22:5–10دلائل حشرو نشر :
5۔ 10:۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں کا ذکر فرما کر یہاں اخیر رکوع تک دو دلیلیں حشر کی بیان فرمائی ہیں ‘ پہلی دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ میں یہ قدرت ہے کہ اس نے پانی مٹی کا کام لے لیا ‘ اس کو مٹی سے مٹی کا کام لینا کون سی عقل سے یہ لوگ مشکل بتاتے ہیں کیونکہ ماں کے پیٹ میں اس نے پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے آدمی کا پتلا بنا کر اس پتلے میں روح پھونک دی ہے ‘ حشر میں تو مٹی سے مٹی کا پتلا بنایا جا کر اس پتلے میں روح پھونک دی جائے گی۔
دوسری دلیل کا حاصل یہ ہے کہ جو زمین اللہ کہ حکم سے اس طرح کے جاندار صاحب عقل لوگوں سے بڑھ کر کام کرتی ہے کہ ساری دنیا کے جاندار صاحب عقل کاریگر اگر جمع ہوجاویں تو جس جس طرح کے ہزاروں پھول زمین میں سے ہر موسم پر سوکھے ہوئے بیجوں سے پیدا ہوتے ہیں اس طرح کا ایک پھل ایک پھول یہ دنیا بھر کے لوگ پیدا نہیں کرسکتے پھر اس زمین کو اللہ کے حکم سے انسان کا پتلا بنا دینا اور اللہ تعالیٰ کو اس پتلے میں روح کا پھونک دینا کیا مشکل ہے ‘ غرض ان آیتوں میں جو باتیں اللہ تعالیٰ نے حشر کے ذہن نشین ہونے کے ثبوت میں بیان فرمائی ہیں ان باتوں میں سے ہر ایک بات کو آدمی غور سے دیکھے تو ہر انسان کو اپنی پیدائش کے حال پر غور وتامل کرنے سے زمین میں کھیتی اور باغات کے ذریعہ سے جو اناج ‘ پھل ‘ پھول پیدا ہوتے ہیں ان کے حال کو دیکھنے سے یہ اچھی طرح ذہن نشین ہوسکتا ہے کہ ہمیشہ جو کچھ سب کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے وہ حشر سے سینکڑوں درجہ بڑھ کر مشکل ہے مثلا جس کی قدرت میں یہ ہے کہ منی جیسی پتلی بہتی ہوئی چیز کا اس نے رحم جیسے تنگ جگہ میں پتلا بنایا اور اس پتلے میں جان ڈالی۔ پھر پتلا بھی ایسا کہ اس میں بڑھنے کی قوت بھی رکھی ہے ‘ پیدا ہوتے وقت بچہ کیا ہوتا ہے اور برس دو برس میں کیا کا کیا ہوجاتا ہے ‘ حشر میں نہ کسی پتلی چیز کا پتلا بنانا ہے نہ رحم جیسی تنگ جگہ ہے نہ پتلے میں بڑھنے کی قوت رکھنے کی مشکل ہے نہ اس طرح کا چھوٹا پتلا ہے جس کی ہڈیوں کے جوڑ مشکل ہوں تاریخ کی کتابوں سے سینکڑوں برس کے بعد جس طرح اب لوگوں کو معلوم ہے کہ خلیفہ ہارون رشید (رح) کی خاک ملک طوس میں ہے اور اکبر کی خاک سکندرہ میں اور عالمگیر کی خاک اور نگ آباد میں۔ اسی طرح ہر شخص کی خاک کے مقام اور ٹھکانے کا دفتر خدا کے نزدیک موجود ہے جس سے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ رواں دواں ہوجانے کے بعد اس خاک کا پتہ اور نشان کیونکر ملے گا یہ تو آدمی کی پیدائش کا حال مختصر طور پر ہوا ‘ سو اس کے بعد یہ غور کرنے کی جائے ہے کہ حشر میں ایک ہی آدمی کی مٹی سے ایک ہی آدمی پیدا کیا جائے گا ‘ اب ایک بیج کے دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک آم یا جامن کی گٹھلی سے ہر آم اور جامنوں کا ہر سال کی فصل پر حشر ہوجاتا ہے یہ سب باتیں اور ہزاروں ‘ لاکھوں ‘ کروڑوں ایسی ہی آنکھوں کے سامنے کی باتیں ایک حشر کیا ہزار حشر سے بھی زیادہ مشکل ہے اس واسطے سورة الروم میں فرمایا وھو الذی یبدا الخلق ثم یعیدہ وھوا ھون علیہ جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی پیدائش کی بہ نسبت دوسری پیدائش بہت آسان ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے ہے جس کے سر پر شقاوت ازلی سوار ہے اس کا تو کچھ ذکر ہی نہیں وہ چاہے حشر کا انکار کرے چاہے خدا کی وحدانیت کا انکار کرے لیکن جس کو خدا نے ہدایت دی ہے اس کے سمجھنے کے لیے بلاشک خدا تعالیٰ نے ان آیتوں میں جو باتیں ذکر فرمائی ہیں ان باتوں کو جہاں تک غورو تامل کی نظر سے دیکھا جاتا ہے تو وہ قدرت اللہ تعالیٰ کی دکھائی دیتی ہے جس کے آگے ایک حشر کیا بےگنتی حشر سہل اور آسان معلوم ہوتے ہیں لیکن انسان کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ پڑا ہوا ہے جب تک وہ پردہ نہ اٹھے اس کو خدا کی قدرت کیا نظر آسکتی ہے۔ اس غفلت کے سبب سے نہ اس کو اپنی پیدائش کی خبر ہے نہ کسی دوسری چیز کی ‘ اسی واسطے ان آیتوں کے بعد آخر سورة میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لوگ اللہ کی قدرت کی قدر نہیں کرتے۔
ترمذی ‘ ابوداؤد ‘ صحیح ابن حبان کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی صحیح حدیث کئی جگہ گزر چکی 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کی مٹی لی ہے اسی واسطے بنی آدم میں کوئی گورا ہے ‘ کوئی کالا ‘ کوئی نیک مزاج ‘ یہ حدیث فانا خلقنکم من تراب کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اب بنی آدم کی پیدائش اگرچہ نطفہ سے ہے لیکن اس پیدائش میں آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے جو مٹی لی گئی ہے اس کا اثر پشت درپشت چلا آتا ہے اور قیامت تک چلے گا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث بھی گزر چکی ہے ‘ کہ عورت کے رحم میں مرد کا نطفہ چالیس دن کے بعد جما ہوا خون ہوجاتا ہے اور پھر چالیس دن کے بعد اس جمے ہوئے خون کا ایک گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ تین چلے میں نطفہ کا ایک گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے مجاہد کے قول کے موافق مخلقۃ وغیر مخلقۃ کا یہ مطلب ہے کہ تین چلے کے بعد اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے تو بچہ کا نقشہ آنکھیں کان اور سب اعضاء اس گوشت کے ٹکڑے سے بن جاتے ہیں ‘ نہیں تو گوشت کے ٹکڑے کی حالت میں حمل ساقط ہوجاتا ہے مخلقۃ وغیر مخلقہ کی تفسیر میں اگرچہ سلف کے کئی قول ہیں لیکن حافظ ابو جعفر ابن جریر نے مجاہد کے قول کو صحیح قرار 1 ؎ دیا ہے ‘ اسی واسطے ترجمہ میں یہی قول لیا ہے لنبین لکم اس کا مطلب یہ ہے کہ گوشت کے ٹکڑے سے پورا بچہ کا بن جانا یا گوشت کے ٹکڑے کی حالت میں حمل کا ساقط ہوجانا ‘ اللہ تعالیٰ نے اس لیے رکھا ہے کہ لوگ اس کی قدرت کو پہچانیں پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جو بچہ پورا پیدا ہونے والا ہوتا ہے وہ حمل کی پوری مدت تک ماں کے پیٹ میں رہتا ہے اور پھر بچہ پیدا ہو کر جوانی کو پہنچتا ہے کوئی جوانی سے پہلے اور کوئی بہت بوڑھا ہو کر مرتا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے اسی طرح سب مرے ہوئے لوگوں کے جسم تیاری ہوجاویں گے جس طرح اب مینہ کی تاثیر سے ہر طرح کی پیداوار زمین میں تیار ہوجاتی ہے اور اس کے بعد ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی آگے ان آیتوں میں اور اکثر جگہ قرآن شریف کی اور آیتوں میں کھیتی اور حشر کا ذکر ایک ہی جگہ جو آیا ہے اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو انسان کا دوبارہ پیدا کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہر سال کھیتی کی پیداوار سب کی آنکھوں کے سامنے ہے پھر بھی یہ مکہ کے مشرک اللہ کی قدرتیں آنکھوں سے دیکھ کر ‘ پھر پتھر کی مورتوں کو اللہ کا شریک جو ٹھہراتے ہیں اور مشکل طریقہ کی اپنی پہلی پیدائش کو بھول کر آسان طریقہ کی دوبارہ پیدائش کو جھٹلاتے اور حشر کا ذکر سن کر طرح طرح کی ایسی بےسند مکڑائی کی باتیں جو بناتے ہیں کہ جن باتوں کے سبب سے خود بھی گمراہی میں پھنستے ہیں اور دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے ہیں ان کی یہ باتیں دنیا میں ان کو رسوا اور عقبی میں سخت عذاب کا سزاوار ٹھہراویں گی کیونکہ ظلم کے طور پر تو اللہ تعالیٰ کسی کو سزا کا دینا نہیں چاہتا لیکن سزا کے قابل جرم پر سزا کے دینے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت قدسی کئی جگہ گزر چکی 2 ؎ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرالیا ہے ‘ یہ حدیث وان اللہ لیس بظلام للعبید کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہے وہ ہوسکتا ہے لیکن ظلم کے طور پر وہ کسی کو اس لیے سزا کا دینا نہیں چاہتا کہ اس نے اپنی ذات پاک پر ظلم کو حرام ٹھہرالیا ہے جس شخص نضر بن حارث کا ذکر اوپر گزرا ‘ یہ شخص ان ہی لوگوں میں سے ہے جو بدر کی لڑائی کے وقت دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوئے ‘ چناچہ یہ قصہ صحیح 1 ؎ بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں قرآن شریف کا یہ ایک بڑا معجزہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ان آیتوں میں یہ جو فرمایا تھا ‘ کہ ایسے لوگ دنیا میں رسوا اور عقبیٰ میں سخت عذاب بھگتیں گے تھوڑے عرصہ کے بعد ان لوگوں کا وہی انجام ہوا۔
(1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص 22 نیز دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 207 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 345 ج 4 )
(1 ؎ تفسیر ابن جریر طبری ص )
(2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ باب الاستغفار والتوبہ )
(1 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص 659 ج 4 )
Ayahs 22:11–1311۔ 13:۔ صحیح بخاری ‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ تفسیر ابن المنذر ‘ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ 2 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس کے کچھ دیہاتی لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آن کر اسلام لے آتے تھے اور پھر اپنے اپنے گاؤں کو چلے جاتے تھے ‘ گاؤں میں چلے جانے کے بعد اگر ان کے مال یا اولاد میں کچھ ان کو بہبودی نظر آتی تھی تو اسلام پر قائم رہتے تھے اور کہتے تھے بلاشک یہ دین اچھا ہے اور اگر اسلام کے بعد اتفاق سے کوئی سختی پیش آتی تھی تو اسلام کی مذمت کرنے لگتے تھے اور اسلام سے پھرجاتے تھے ایسے لوگوں کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ‘ تفسیر ابن مردویہ 3 ؎ میں ایک یہودی کا قصہ اس آیت کی شان نزول میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک یہودی اسلام لایا اسلام لانے کے بعد اتفاق سے وہ اندھا ہوگیا اس لیے اسلام سے پھر گیا ‘ اس روایت کی سند ضعیف ہے حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اللہ کے نزدیک خالص دل کا اسلام اور عمل مقبول ہے اس طرح دو دلہ بن کر اسلام لاوے یا نیک عمل کرے کہ خوشحالی کے وقت جو کچھ بن آیا وہ کرلیا ذرا کسی طرح کی کوئی مصیبت پیش آئی تو ناشکری کا کلمہ بھی زبان پر آنے لگا ‘ نماز روزہ بھی چھوٹ گیا یا چھوٹا نہیں تو اس میں کچھ فرق آگیا اس طرح کا اسلام اور نیک عمل اللہ کی درگاہ میں مقبول نہیں ‘ صحیح مسلم میں سفیان بن عبد اللہ سے روایت ہے 4 ؎ جس میں سفیان بن عبد اللہ کہتے ہیں میں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ حضرت دین میں مجھ کو کوئی ایسی بات بتلا دیجئے کہ پھر مجھ کو کسی بات کے پوچھنے کی ضرورت باقی نہ رہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے احکام پر ایمان لانا اور ہر حال میں اس پر قائم رہنا یہی بڑی بات دین کی ہے یہاں بعضے مفسروں 5 ؎ نے اعتراض کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ بت پرستوں کو ان کے بت نفع نقصان کچھ نہیں پہنچا سکتے اور پھر فرمایا کہ بت پرستوں کو ان کے بتوں سے بہ نسبت نفع کے نقصان زیادہ پہنچنے والا ہے اس اختلاف کا رفع کیونکر ہے اس اختلاف کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ دونوں آیتوں میں اختلاف کچھ بھی نہیں ہے ایک ٹکڑے میں دنیا کا حال ہے کہ بت بالکل پتھر ہیں ان کو کوئی پوجے تو وہ پتھر کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے اور جو نہ پوجے تو کچھ نقصان ان پتھروں سے انہیں پہنچ سکتا ‘ دوسرے ٹکڑے میں آیت کے آخرت کا حال ہے ‘ اس دوسرے ٹکڑے کے معنی کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جس طرح بت پرستوں کو بتوں سے نفع ونقصان پہنچانے کا غلط خیال ہے ‘ آخرت میں ان لوگوں کو بت پرستی کا نقصان جو عذاب آخرت سے پہنچنے والا ہے وہ خیالی نہیں بلکہ یقینی ہے ‘ اس لیے بت پرستی میں نفع سے نقصان زیادہ اور زیادہ نزدیک ہے ان پوری آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ بعضے دیہاتی لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ غنیمت کے مال میں سے صدقہ و خیرات میں سے کچھ مل جانے کا لالچ کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور جب تک ان کا مطلب پورا ہوتا رہتا ہے تو اوپرے دل سے مسلمانوں کے ساتھ نماز روزہ میں شریک ہوجاتے ہیں اور جس وقت ان کا یہ مطلب پورا نہیں ہوتا تو اسلام سے پھرجاتے ہیں جس سے ان کا دنیا میں تو یہ نقصان ہے کہ اسلام کے چھوڑنے پر ان کے نصیب سے زیادہ ان کو کچھ ملنے والا نہیں اور عقبیٰ کا نقصان وقت مقررہ پر ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا پھر فرمایا اسلام سے پھرجانے کے بعد یہ اور ان کے ساتھی مشرک پتھر کی مورتوں کی پوجا کرتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ وہ بت بالکل پتھر ہیں ان کو کوئی پوجا کرے تو وہ کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے اور نہ پوجا کرے تو ان پتھروں سے کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا یہ تو ان بت پرستوں کا دنیاوی مآل ہوا ‘ عقبیٰ میں ایسے لوگوں کا جو کچھ انجام ہوگا وہ سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی روایت کئی جگہ گزر چکی ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ رہتا ہے شیطان ہر وقت اس کو برے کاموں کی اور فرشتہ نیک کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے یہ حدیث لبئس المولی ولبئس العشیر کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں کا دوست اور رفیق ان کے ساتھ رہنے والا شیطان ہے جو ان کو برے کاموں میں لگائے رکھتا ہے اور اگرچہ ان لوگوں کے حق میں وہ بہت برا دوست اور رفیق ہے جس کی برائیاں لوگوں کو مرنے کے بعد معلوم ہوگی لیکن دنیا میں ان کو اس کی برائی نظر نہیں آتی۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 209 ج 4 و تفسیر الدر المنثور ص 346 ج 4 )
(3 ؎ فتح الباری 259 ج 4 )
(4 ؎ دیکھئے مشکوٰۃ ص 12 کتاب الایمان )
(5 ؎ تفسیر کبیر ‘ تفسیر آیت ہذا۔ )
Ayah 22:1414:۔ ان لوگوں کی عقلوں کی خرابی کا ذکر تھا جو دنیا کے لالچ سے ظاہری طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور حقیقت میں گویا اس دائرہ کے کنارے پر کھڑے رہ جاتے ہیں ‘ اندر نہیں گھستے کیونکہ جس طرح کسی چھت کے کنارہ پر کھڑا ہونے والا شخص ذرا سی ٹھیں میں گر پڑتا ہے اسی طرح جن لوگوں کا اوپر ذکر ہے وہ بھی ذرا سی آزمائش میں دائرہ اسلام کے باہر ہوجاتے ہیں ان آیتوں میں فرمایا ‘ جو لوگ پکے ایماندار ہیں اور تکلیف اور راحت ہر حال میں نیک کام کرتے رہتے ہیں اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو ایسے باغوں میں ہمیشہ کے لیے رہنے کا حکم دیوے گا جن کے باغوں کے درختوں کے نیچے دودھ ‘ شہد ‘ شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گی دنیا کی نہروں میں بہت دنوں تک پانی رہے تو اس میں ایک طرح کی بدبو پیدا ہوجاتی ہے دنیا کا دودھ زیادہ رہنے سے کھٹا ہوجاتا ہے ‘ دنیا کی شراب میں تلخی ہوتی ہے دنیا کا شہد بیرو چھانے کے صاف نہیں ہوتا جنت کے دودھ ‘ شہد ‘ شراب اور پانی میں یہ باتیں نہ ہوں گی چناچہ اس کی تفصیل سورة محمد میں آئے گی ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ 1 ؎ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں وہ وہ نعمتیں پیدا کی گئی ہیں جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں ‘ نہ کانوں سے سنیں ‘ نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ‘ اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس آیت میں اور آیتوں میں جہاں کہیں جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے وہ مختصر طور پر ہے تمام لوگوں کے نیک و بدعمل اور ان عملوں کے سبب سے ہر ایک کا جنت اور دوزخ کا ٹھکانا اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے اس واسطے اخیر آیت میں فرمایا قیامت کے دن اپنے علم اور ارادہ کے موافق اللہ تعالیٰ جزاو سزا کا جو فیصلہ کرے گا وہ ٹل نہیں سکتا۔
اس تفسیر میں ایک جگہ یہ گزر چکا ہے کہ پہلے ہر کام کا نتیجہ سوچ لیا جاتا ہے پھر اس کے کرنے یا نہ کرنے کا ارادہ کیا جاتا ہے علماء کا یہ قول جو مشہور ہے کہ ارادہ علم کا تابع ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ پہلے ہر کام کا نتیجہ سوچا جاتا ہے پھر اس کے کرنے یا نہ کرنے کا قصد کیا جاتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ ہر ارادہ کے ساتھ علم لگا ہوا ہے اس لیے آیت کے آخری ٹکڑے کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے علم غیب اور ارادہ کے موافق جزاو سزا کا جو فیصلہ کرے گا وہ ٹل نہیں سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا علم غب ردو بدل سے پاک ہے۔
Ayahs 22:15–1615۔ 16۔ اوپر ذکر تھا کہ بعضے لوگ دنیا کی خوشحالی کی امید پر اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور جب ان کی امید پوری نہیں ہوتی تو اس غصہ سے وہ لوگ اسلام کے دائرہ سے نکل جاتے ہیں کہ اسلام لانے والوں سے دین ودنیا کی بہبودی کا جو وعدہ اللہ کے رسول کرتے اور اس کو اللہ کا وعدہ بتلاتے ہیں ہمارے اسلام لانے کے بعد اس وعدہ کا ظہور جلدی کیوں نہیں ہوا اور جب اس وعدہ کا ظہور جلدی نہیں ہوا تو ہمارے دل میں یہ خیال جم گیا ہے کہ جو وعدہ یہ رسول اللہ لوگوں سے کرتے ہیں ‘ سرے سے وہ اللہ کا وعدہ ہی نہیں ہے ان رسول کا جو جی چاہتا ہے ‘ یہ اپنی طرف سے کہہ دیتے ہیں ان لوگوں کی خیالی باتوں کا جو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے ‘ اس لیے جس طرح یہ لوگ اگر رسی گلے میں ڈالیں اور اپنا گلا گھونٹ کر مرجاویں تو نہ بےوقت ان کو کچھ خوشحالی حاصل ہوسکتی ہے ‘ نہ ان کا وہ بےجا غصہ رفع ہوسکتا ہے ‘ اسی طرح وقت مقررہ سے پہلے کچھ نہیں ہوسکتا ‘ ہاں وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی دین و دنیا میں ضرور مدد کرتا ہے جس کا نتیجہ ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا ‘ اس وعدہ کے ظہور کا ذکر سورة التوبہ میں گزر چکا ہے کہ جب وقت مقررہ میں مدد الٰہی کا نتیجہ ان دیہاتی لوگوں نے دیکھ لیا تو ان میں کے بہت لوگ پکے مسلمان بن گئے آگے فرمایا کہ جس طرح ایسے لوگوں کے خیال کو جھٹلائے گئے ہیں ‘ لیکن دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو گمراہ اور دوزخی ٹھہر چکے ہیں وہ خود تو راہ راست پر نہیں آسکتے اور اللہ تعالیٰ مجبور کر کے ان کو راہ راست پر لانا نہیں چاہتا کیونکہ دنیا انتظام الٰہی کے موافق نیک وبد کی آزمائش کے لیے پیدا کی گئی ہے کسی کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے سورة یونس کی آیتوں اور عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے وہی مطلب ہوا جو اوپر بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جہاں اور سب کچھ لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے وہاں یہ بھی ہے کہ ان مشرکوں میں سے کچھ لوگ خود تو راہ راست پر نہیں آسکتے اور ان کو مجبور کر کے راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے ثم الیقطع کی تفسیر عبداللہ بن عباس ؓ نے ثم لتخنق کی فرمائی 1 ؎ ہے ‘ اختناق کے معنی گلے میں پھانسی لگالینے کے ہیں ‘ حاصل مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص اپنے گلے میں پھانسی ڈال کر جائے جب بھی انتظام الٰہی پلٹ نہیں سکتا ‘ پھانسی کو قطع اس لیے کہتے ہیں کہ جس طرح گردن کے قطع کردینے اور کاٹ ڈالنے سے آدمی مرجاتا ہے اسی طرح پھانسی گلے میں لگادینے سے سانس رک کر آدمی مرجاتا ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کیثر ص 210 ج 3 )
Ayah 22:1717:۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء سے اور انبیاء نے اپنی امتوں سے یہ مضبوط عہد لیا ہے کہ ہر زمانہ میں اسی شریعت کے موافق عمل ہوگا جو شریعت اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی کے موافق ہر ایک زمانہ کے لیے ٹھہرائی ہے اور اس آخری زمانہ کی مصلحت کے موافق مرضی الٰہی یہی ہے کہ اس زمانہ میں جو شخص آخری شریعت شرع محمدی کے موافق عمل کرے گا عقبیٰ سے اسی کو اجر ملے گا نہیں تو نہیں کیونکہ اجر اسی عمل پر مل سکتا ہے جو مرضی الٰہی کے موافق ہے ‘ مرضی الٰہی کے برخلاف کام پر تو مؤاخذہ ہوگا ‘ پھر ایسے کاموں پر اجر کہاں ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اس عہد کی بنا پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اس آخری زمانے میں موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو ان کو شرع محمدی کی پیروی لازمی ہوتی یہ حدیث جابر بن عبداللہ کی روایت سے مسند امام احمد ‘ شعب الایمان بیہقی ‘ صحیح ابن حبان میں اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 3 ؎ سے ابن ماجہ مسند امام احمد میں ہے اور اس کی سند صحیح ہے ‘ سورة آل عمران میں عہد کی آیتوں کی جو تفسیر ہے اس کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اس آخری زمانہ میں جو لوگ مرضی الٰہی کی شریعت کے پابند ہیں ان کا اور جو مرضی الٰہی کی شریعت کے منکر ہیں ان کا حاصل اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے ‘ قیامت کے دن ان سب کا فیصلہ ہوجائے گا ‘ جو شخص ایک حالت کو چھوڑ کر دوسری حالت کا پابند ہوجائے تو عربی زبان میں اس کو صابی کہتے ہیں ‘ چناچہ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو قصہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ثمامہ بن اثال کے اسلام لانے کے بعد مشرکین مکہ ثمامہ ؓ کو صابی کہتے تھے ‘ تمام اہل کتاب ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کے قائل ہیں اور فرقہ صائبین ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کا منکر ہے اس لیے اہل کتاب تو اس فرقہ کو یوں صابی کہتے ہیں کہ یہ فرقہ ملت ابراہیمی کو چھوڑ کر ایک نئی حالت کا پابند ہے اس فرقہ کے لوگ ادریس (علیہ السلام) کی نبوت کے قائل ہیں اس واسطے اس فرقہ کا شمار پارسی اور بت پرست لوگوں میں بھی نہیں ہے ‘ یہ فرقہ ستارہ پرست ہے اور نجوم کا رواج اس فرقہ کے لوگوں میں بہت ہے یونانی لوگوں کی طرح یہ فرقہ بھی جسمانی حشر کا قائل نہیں ہے۔
(3 ؎ تنقیح الرواۃ ص 42 ج 1۔ )
(1 ؎ باب وفد بنی حنیفہ و حدیث ثمامہ بن اثال )
Ayah 22:1818:۔ سورة الرعد اور سورة النحل کی آیتوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے حاصل مطلب یہ ہوا کہ آسمان کے سارے فرشتے زمین پر کے ایماندار جنات اور انسان خوشی سے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتے ہیں اور ایماندار جنات اور انسان کی پرچھائیاں بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں اور یہ مشرک لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم کو چھوڑ کر خود تو پتھروں کی مورتوں کو سجدہ کرتے ہیں لیکن سایہ کے ڈھلنے کے وقت ان کی پرچھائیاں ‘ پہاڑ ‘ درخت اور جانوروں کی پرچھائیاں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سورة النحل میں گزر چکی 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ آسمان پر کہیں چار انگل جگہ ایسی نہیں ہے جہاں ایک فرشتہ سجدہ میں نہ پڑا ہو ‘ فرشتوں کے سجدہ کرنے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم وغیرہ میں چند صحابہ ؓ سے 3 ؎ روایتیں ہیں جن میں غروب کے وقت سورج کے سجدہ کرنے کا ذکر ہے ‘ رفیع بن مہران ابو العالیہ ثقہ تابعی کا قول ہے کہ سورج کی طرح چاند اور تارے بھی سجدہ کرتے ہیں۔ یہ ابو العالیہ قدیم مفسروں میں سے ہیں تمام معتبر روایتیں تفسیروں میں مفسروں نے تابعیوں کے صحیح قول کو تفسیر ٹھہرایا ہے اور یہ کہا ہے کہ ثقہ تابعی تفسیر کے باب میں جو کچھ کہتے ہیں وہ صحابہ ؓ سے سن کر کہتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ عقلی تفسیر بڑے وبال کی بات ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی بھی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام دنیا کے تفسیر بڑے وبال کی بات ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی بھی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمام دنیا کے جنات اور انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوجاویں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جائے گا ‘ اسی طرح یہ سب لوگ اللہ کی عبادت چھوڑ دیویں تو اس کی بادشاہت میں سے کچھ گھٹ نہ جائے گا اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ مشرک لوگ خوشی سے اللہ کو سجدہ نہیں کرتے تو اللہ کو اس کی کچھ پرواہ نہیں لیکن اللہ کی عظمت وہ ہے کہ جن چیزوں کا آیت میں ذکر ہے ان کے ساتھ مشرکوں کی پرچھائیاں بےاختیار اللہ کو سجدہ کرتی ہیں ‘ صحیح سند سے ترمذی اور مسند امام احمد میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے دونوں ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں جن کی طرف آپ نے اشارہ کر کے صحابہ ؓ سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ان دونوں کتابوں میں سے ایک میں تمام اہل جنت کے نام مع ولدیت اور دوسری میں تمام اہل دوزخ کے نام مع ولدیت لکھے ہوئے ہیں اب ان کتابوں میں نہ کچھ بڑھ سکتا ہے نہ گھٹ سکتا ہے اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھ جھٹکے ‘ جس سے وہ دونوں کتابیں غائب ہوگئیں ‘ اس حدیث سے آخری آیت کے ٹکڑے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جن لوگوں کی قسمت میں عقبیٰ کے عذاب کی ذلت لکھی جاچکی ہے ان کو کوئی عزت دینے والا نہیں اسی طرح اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اس کے کسی کام کو کوئی روک نہیں سکتا ‘ اس آیت کے آخر پر سجدہ تلاوت کرنا سنت ہے۔
(2 ؎ دیکھئے تفسیر ہذاص 335 ج 3 )
(3 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص 313 ج 4 )
(1 ؎ مشکوٰۃ ‘ باب الایمان بالقدر )
Ayahs 22:19–2419۔ 24:۔ صحیحین ابوداؤد ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت علی ؓ اور ابوذر ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں سے جس وقت یہ تین شخص شیبہ بن ربیعہ اور شیبہ کا بھائی عتبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے صف جنگ سے باہر نکلے تو ایک انصاری جوان نے ان کا مقابلہ کرنا چاہا انہوں نے کہا کہ ہم تم لوگوں سے لڑنا پسند نہیں کرتے بلکہ ہم کو تو اپنے ہم قوم قریش کے لوگوں سے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور عبیدہ بن حارث ان ان تینوں کو مشرکوں کے مقابلہ کرنے کا شوق ہے یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر حمزہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور عبیدہ بن حارث ان تینوں کو مشرکوں کے مقابلہ کے لیے بھیجا ‘ ان ہی دو دو شخصوں کے مقابلہ کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں اس آیت کی شان نزول یہ جو بیان کی گئی ہے کہ یہود اور مسلمانوں میں ایک دن جھگڑا ہوا تھا۔ یہود نے اپنے دین کو اچھا بتلایا اور مسلمانوں نے اپنے دین کو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اس قول کا مقصد یہ ہے کہ اس قصہ پر بھی آیت کا مطلب صادق آتا ہے کیونکہ جس طرح اس مقابلہ میں ایک گروہ حق پر تھا اور دوسرا ناحق پر ‘ اسی طرح اس جھگڑے کا حال ہے ‘ غرض اصل شان نزول وہی ہے جو صحیحین کی روایت میں ہے کیونکہ ابوذر ؓ اس شان نزول کو قسم کھا کر روایت کیا کرتے تھے۔
اب آگے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اس مقابلہ کا نتیجہ ذکر فرمایا ہے کہ اس مقابلہ میں ناحق پر جو لوگ مارے گئے دنیا میں تو ان کی جان گئی اور عقبیٰ میں لگے ہوئے تانبے کے کپڑے ان کو پہنائے جاویں گے ان کے سر پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا جس سے بدن کی کھالیں اور پیٹ کی انتڑیاں جل کر گر پڑیں گی۔ بھاری بھاری ہتھوڑوں سے سر کچلا جائے گا اسی طرح کے عذاب ہوں گے ان عذابوں سے گھبرا کر جب یہ لوگ دوزخ سے باہر بھاگنا چاہیں گے تو فرشتے پھر گھیر کر ان کو اندر کر دیویں گے اور کہیں گے جس عذاب کو تم جھٹلاتے تھے اب اس عذاب کا مزہ چکھو ‘ اکثر متقدمین مفسروں سے روایت ہے کہ جس طرح پانی میں کوئی ڈوب کر اوپر کو آتا ہے اسی طرح آگ کی لپٹ میں دوزخی جب اوپر کو آویں گے یہ اس وقت کا حال ہے ورنہ خود ان کو بھاگنے کا موقع نہ ملے گا کیونکہ ان کے ہاتھ ‘ پیر زنجیروں سے جکڑے ہوئے ہوں گے ان اہل دوزخ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا ذکر فرمایا ہے کہ طرح طرح کے ریشمی کپڑے کے خلعت ان کو ملیں گے ‘ سونے اور موتیوں کے جڑاؤ کپڑے پہنائے جاویں گے ‘ فرشتے ان کو شادمانی کی مبارک باد دیویں گے سوا اس کے جنت کی تفصیلی نعمتیں جو ہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی اس بات میں کئی جگہ گزر چکی ہے کہ وہ نعمتیں نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھی ‘ نہ کانوں سے سنی ‘ نہ ان کا خیال کسی کے دل میں گزر سکتا ہے ‘ آخر کو فرمایا جنت کی یہ نعمتیں ان نیک لوگوں کو اس واسطے دی جاویں گی کہ دنیا میں یہ لوگ اللہ کی وحدانیت پر قائم رہ کر اللہ کی مرضی کے موافق کاموں میں لگے رہے اطیب من القول کا مطلب اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر قائم رہنے کا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں اس واسطے دنیا میں اس سے بڑھ کر کوئی ستھری بات نہیں کہ انسان خالص اللہ ہی کی ذات کو اپنا معبود قرار دیوے صراط الحمید اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس اللہ تعالیٰ کا راستہ اختیار کیا جس کے سب کام تعریف کے قابل ہیں مسند امام احمد اور ابوداؤد میں براء بن العازب سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ قابل عذاب لوگوں کے مارنے کے لیے جو ہتھوڑے فرشتوں کو دیئے گئے ہیں اگر ان میں کا ایک ہتھوڑا پہاڑ پر مارا جاوے تو پہاڑ خاک درخاک ہوجائے جن ہتھوڑوں کا ذکر آیتوں میں ہے ان کے بھاری پن کی تفسیر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 25۔ باب اثبات عذاب القبر۔ )
Ayah 22:2525:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو یہ الزام دیا ہے کہ یہ مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہمی پر کہتے ہیں حالانکہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) نے جب اللہ کے حکم سے کعبہ بنایا ہے تو اس لیے بنایا ہے کہ دور دور سے لوگ آویں اور اس میں خالص اللہ کی عبادت کریں حضرت عبداللہ 1 ؎ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق کعبہ کے بن جانے کے بعد مقام ابراہیم جس پتھر کا نام ہے اس پر کھڑے ہو کر حضرت ابرہیم (علیہ السلام) نے لوگوں کے دل کعبہ کی طرف مائل ہوجانے کی غرض سے ایک اذان دی جس اذان کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو ! حج کرنے کو آؤ ‘ اللہ کا گھر بن کر تیار ہوچکا ہے اس اذان کی تاثیر اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے دل میں ڈال دی ہے کہ قیامت تک جن ارواحوں نے اس اذان کے جواب میں لبیک کہا ہے وہ حج اور عمرہ کی نیت سے کعبہ کو آویں گے ‘ صلح حدیبیہ کے وقت ان مشرکوں نے ملت ابراہیمی ( علیہ السلام) کے خلاف اور اس غرض کے خلاف جس غرض سے کعبہ بنایا ہے مسلمانوں کو تو عمرہ سے روکا اور خود اللہ کے گھر میں بت پرستی پھیلاتے ہیں اور دوسروں کو بھی نیک راہ سے روک کر بت پرستی کے راستہ سے لگاتے ہیں ‘ پھر یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی ( علیہ السلام) پر کیوں کر بتلاتے ہیں ‘ اس بات میں سب علماء کا اتفاق 2 ؎ ہے کہ مسجد حرام میں مسافر اور مکہ کے رہنے والے برابر ہیں کوئی کسی کو طواف نماز یا اور عبادت سے روک نہیں سکتا ‘ ہاں تمام شہر مکہ کے حکم میں حضرت عمر ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ یہ فرماتے ہیں کہ مسجد الحرام اور تمام مکہ کا ایک ہی حکم ہے باقی صحابہ کو اس میں اختلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ مسجد الحرام کے سوا مکہ میں جن لوگوں کے گھر ہیں ان کو اپنے گھروں کا اختیار ہے ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حرم کی حد کے اندر جو کوئی گناہ کا ارادہ بھی کرے تو اس پر اس سبب سے عذاب ہوگا کہ اس نے حرم کی بزرگی میں خلل ڈالنے کا ارادہ کیا ‘ اسی واسطے بخاری وغیرہ میں ابوہیرہ ؓ کی حدیث 3 ؎ میں یہ جو حکم ہے کہ نیکی فقط قصد کرلینے سے لکھ لی جاتی ہے اور بدی جب تک عمل نہ کرلیا جائے فقط قصد سے نہیں لکھی جاتی ‘ اس حدیث کا حکم حرم کی سر زمین کے سوا اور سر زمین کے لیے ہے ‘ چناچہ مسند امام احمد بن حنبل ‘ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود کی صحیح روایت 4 ؎ سے صراحت بھی آچکی ہے کہ سرحد حرم کے اندر گناہ کے ارادہ کی بھی پکڑ اور اس پر عذاب ہے مجاہد اور علمائے سلف کا مذہب ہے کہ حرم کے حد کے اندر جو شخص گناہ کرے گا اس پر دوگنا عذاب ہوگا ‘ گناہ کا عذاب جدا اور حد حرم کی بزرگی میں خلل ڈالنے کا عذاب جدا ‘ صلح حدیبیہ کے وقت مشرکین مکہ نے اللہ کے رسول اور ان کے ساتھ کے مسلمانوں کو عمرہ کے ارادہ سے روک کر مکہ کے اندر جو نہیں جانے دیا ‘ اس کا پورا قصہ تو سورة انا فتحنا کی تفسیر میں آئے گا لیکن حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ہجرت کے بعد 6ھ میں اللہ کے رسول ﷺ نے چودہ سو صحابہ ؓ کے ساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ کا ارادہ کیا اور مشرکین نے راستہ کے ایک مقام پر جس کا نام حدیبیہ ہے آپ کو مع صحابہ ؓ کے روک کر مکہ کے اندر جانے سے منع کیا اس کے بعد چند شرطوں پر دس برس تک کے لیے صلح ہوئی ‘ ان شرطوں میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ صلح کی مدت تک قبیلہ خزاعہ مسلمانوں کے امن میں رہے اور قبیلہ بنی بکر مشرکین مکہ کے امن میں ‘ صلح کے دو برس کے بعد قبیلہ خزاعہ اور بنی بکر میں لڑائی ہوئی اور مشرکین مکہ نے صلح کے برخلاف درپردہ قبیلہ بنی بکر کو مدد دی ‘ مغازی ابن 1 ؎ اسحاق میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لڑائی اور مدد حرم کی حد کے اندر بھی جاری رہی اور حرم کی عزت و حرمت کا بالکل کچھ پاس ولحاظ نہیں رکھا گیا ‘ مسند بزار میں اس قصہ کی روایت جو ابوہریرہ ؓ سے 2 ؎ ہے اس کی سند بھی معتبر ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا تو آپ نے مکہ پر چڑھائی کی اور اس کی سند بھی معتبر ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ کو یہ حال معلوم ہوا تو آپ نے مکہ پر چڑھائی کی اور اللہ کی مدد سے مکہ فتح ہوگیا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی یہ روایت بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ بدر کی لڑائی میں مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکش جو مارے گئے وہ مرتے ہی عذاب میں گرفتار ہوگئے ‘ جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے عذاب الٰہی کے وعدہ کو سچا پالیا ‘ آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ جو شخص حرم کی حد کے اندر شرارت سے ٹیڑھی راہ چلے گا ‘ اس کو دردناک سزا کا مزہ چکھنا پڑے گا ‘ ان روایتوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے اللہ کے رسول کو عمرہ سے روکنے کی حرم کی حد میں لڑائی اور شرک کا فساد پھیلانے کی صلح کی شرط پر قائم نہ رہنے کی جو شرارت کی اس کی سزا میں دنیا اور عقبیٰ کے عذاب کی وہ ذلت انہوں نے بھگتی جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن جریرص 144 ج 17 وابن کثیر ص 216 ج 3 )
(2 ؎ فتح البیان ص 160 ج 3 )
(3 ؎ صحیح بخاری باب قول اللہ تعالیٰ یریدون ان یبدلوا کلام اللہ من کتاب التوحید )
(4 ؎ تفسیر ابن کیثر 215 ج 3۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 186 ج 4 تفسیر سورة فتح )
(2 ؎ فتح الباری ص 30 ج 4 باب غزوۃ الفتح )
Ayah 22:2626:۔ اس تفسیر میں یہ بات کئی جگہ جتلادی گئی ہے کہ قرآن شریف میں پچھلے قصے فقط قصہ کے طور پر نہیں ذکر کیے جاتے بلکہ ان کے ذکر سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ ان کو تاریخی ثبوت کے طور پر بیان کیا جا کر قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانے کا کوئی مطلب اس تاریخی شہادت سے ثابت کیا جائے ‘ چناچہ مشرکین مکہ نے اللہ کے گھر میں بت پرستی کا شرک جو پھیلا رکھا تھا اوپر اس کا ذکر فرما کر ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قصہ سے ان مشرکین کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ اگرچہ کعبہ کے بنانے کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ حکم دیا تھا کہ کعبے میں شرک نہ پھیلنے پائے بلکہ خالص نیت سے طواف کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں کے لیے یہ جگہ خاص کردی جائے لیکن عمروبن لحی کے زمانہ سے ان مشرکوں کے بڑوں نے اللہ کے اس حکم کی تعمیل چھوڑ دی اور یہ حال کے مشرک اپنے بڑوں کی رسم کے پابند ہیں اب اس شرک کے دفع کرنے کے ارادہ سے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو پیدا کیا ہے اور وقت مقررہ پر اللہ کا یہ ارادہ ضرور پورا ہوگا ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابربن عبداللہ کی روایت 3 ؎ سورة بقر میں گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا شیطان جزیرہ عرب کی بت پرستی سے تو اب مایوس ہوگیا ہے ہاں جزیرہ عرب میں مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا اس کا کام باقی رہ گیا ہے ‘ نبی آخر الزمان ﷺ کے پیدا اور رسول ہونے سے جس قدر شرک مٹا اس کا مطلب جابر بن عبداللہ کی اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ طواف تین ہیں ایک تو مکہ میں داخل ہوتے ہی کیا جاتا ہے یہ طواف اگر جاتا رہے تو اس کی کچھ تاکید ہے نہ اس کا کچھ بدلہ دینا پڑتا ہے ‘ دوسرا طواف عرفات سے پلٹنے ‘ احرام کے کھولنے اور شیاطینوں کے کنکریاں مارنے کے بعد دسویں ذی الحجہ کو کیا جاتا ہے اس طواف کے بغیر مکہ سے سفر کرنا جائز نہیں ہے ‘ تیسرا طواف مکہ کے چھوڑنے کے وقت ہے۔ یہ طواف اگر جاتا رہے تو اس قصور کے بدلے میں قربانی لازم آتی ہے مگر حیض والی عورت اس حکم سے مستثنیٰ ہے ‘ چناچہ صحیح بخاری، مسلم اور مسند امام احمد کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث 1 ؎ میں اس کا ذکر تفصیل سے آیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر حیض والی عورت نے حیض کے آنے سے پہلے دسویں ذی الحجہ کا طواف عرفات سے آن کر کرلیا ہے تو پھر آخری طواف کے لیے اس کو مکہ میں ٹھہرنا ضروری نہیں ہے نہ اس پر کچھ فدیہ ہے ‘ حج اور عمرہ کی باقی باتوں کی تفصیل سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔
(3 ؎ مشکوٰۃ ص 19‘ باب فی الوسوستہ۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص 17 ج 2 باب اذا حاضت المرأۃ بعد ما افاضت )
Ayahs 22:27–2927۔ 29:۔ اوپر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ قول گزر چکا ہے کہ کعبہ کے تیار ہوجانے کے بعد مقام ابراہیم پر کھڑے ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ اذان دی کہ اے لوگو ! حج کرنے کے لیے آؤ ‘ اللہ کا گھر تیار ہوگیا ہے اور اس اذان کی یہ تاثیر اللہ تعالیٰ نے اہل قبلہ کے دلوں میں ڈال دی کہ وہ حج اور عمرہ کی نیت سے قیامت تک کعبہ کو جاویں گے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ ‘ سنن بیہقی ‘ تفسیر ابن المنذر ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم وغیرہ میں ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ‘ اذان کے معنی جتلانے کے ہیں۔ نماز سے پہلی جو اذان دی جاتی ہے اس سے نماز کا وقت جتلایا جاتا ہے اس لیے اس کو بھی اذان کہتے ہیں جس طرح اللہ کے حکم سے ابراہیم (علیہ السلام) نے حج کی فرضیت لوگوں کو جتلائی ‘ اسی طرح حجتہ الوداع کے خطبہ میں خاتم الانبیاء ﷺ نے بھی حج کی فرضیت لوگوں کو جتلائی ہے جس کا ذکر مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت 3 ؎ میں ہے ‘ دبلے اونٹوں کے ذکر کا مطلب ایسے دور مقامات سے حج کو آنے کا ہے جس سفر کی تکلیف سے ان حج کو آنے والوں کے سواری کے اونٹ دبلے ہوگئے ‘ ترمذی میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت 4 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ حج آدمی پر جب ہی فرض ہوتا ہے کہ اس کے پاس مکہ تک کے سفر کا کھانے اور سواری کے انتظام کا خرچ ہو ‘ ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی کو ابن معین ‘ نسائی وغیرہ نے اگرچہ ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن عدی نے ابراہیم کو معتبر ٹھہرایا ہے ‘ سنہ تین سو کے علماء میں یہ عبداللہ بن عدی مشہور اور ثقہ عالم ہیں ‘ راویوں کے ثقہ اور ضعیف ہونے کے باب میں ان کے قول کا بڑا اعتبار ہے اس مضمون کی ایک روایت دارقطنی اور مستدرک حاکم میں انس بن مالک سے بھی ہے جس کو حاکم نے صحیح قرار دیا 5 ؎ ہے ان روایتوں کے موافق اکثر علماء کا مذہب وہی ہے جو شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں بیان کیا ہے کہ حج کے فرض ہونے کے لیے سوار کا خرچ ضروری ہے ‘ فقط امام مالک (رح) یہ کہتے ہیں کہ جس شخص کو پیدل چلنے کی عادت ہو اس پر بغیر سواری کے خرچ کے حج فرض ہوجاتا ہے ‘ ترمذی 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی صحیح روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص پرہیزگاری سے حج کا فرض ادا کرے تو اس کے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ؓ بن عباس کی روایت سورة بقرہ میں گزر چکی 2 ؎ ہے کہ حج کے سفر میں تجارت جائز ہے یہ حدیثیں منافع لھم کی گویا تفسیر ہیں جن سے دین و دنیا کے جو فائدے حج میں ہیں ان کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ قربانی کے دنوں میں جانوروں کے ذبح کے وقت اللہ کا نام جو لیا جاتا ہے آگے اس کا ذکر فرمایا ‘ مشرکین مکہ قربانی کے گوشت میں سے خود نہیں کھاتے تھے اس لیے فرمایا کہ قربانی کے گوشت میں سے خود کھانا اور محتاجوں فقیروں کو دینا سب کچھ جائز ہے ہاں حج کے دنوں کے کسی قصور کی سزا میں جو قربانی کی جاتی ہے وہ سب گوشت محتاجوں کو دے دیا جائے کیونکہ وہ گوشت قربانی والا شخص نہیں کھا سکتا ‘ عرفات سے پلٹنے کے بعد حجامت جو بنوائی جاتی ہے کپڑے پہنے جاتے ہیں دسویں ذی الحجہ کا طواف منی سے آن کر کیا جاتا ہے حج کے دنوں کی کوئی منت ہو تو وہ پوری کی جاتی ہے آخر آیت میں ان سب باتوں کا ذکر فرمایا ‘ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ کعبہ پہلے آدم (علیہ السلام) نے بنایا ‘ پھر شیث (علیہ السلام) نے پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے ‘ حاصل یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے کعبہ بنانے کے ذکر میں کعبہ کو قدیم گھر اس لیے فرمایا کہ کعبہ کی عمارت کا ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے پہلے کا ہونا اور اس پہلی بنا پر ابراہیم (علیہ السلام) کا کعبہ کو بنانا اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔
(2 ؎ تفسیر الدر المنثور 354 ج 4 )
(3 ؎ مشکوٰۃ کتاب المناسک بحوالہ مسلم )
(4 ؎ جامع ترمذی ص 100 ج 1۔ طبع مجتبائی دہلی۔ )
(5 ؎ تنقیح الرواۃ ص 113 ج 2 )
(1 ؎ ص 100 ج 1 باب ثواب الحج )
(2 ؎ ص 159 جلد اول )