Ayahs 22:30–3130۔ 31:۔ کعبہ کی تعظیم اور حج کی باتوں میں سے چند باتوں کا ذکر فرمایا کہ یہ باتیں جو لوگ سن چکے یہ اللہ کی بتلائی ہوئی ادب کی باتیں ہیں ان میں سے مناہی کی باتوں سے جو شخص باز رہے گا اور جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے ان کو بجا لاوے گا تو اسی شخص کے حق میں یہ فرمانبرداری بہتر ہے کہ اس کو اس فرمانبرداری کا بدلہ ملے گا ورنہ اللہ کی بادشاہت تو ایسی بادشاہت ہے کہ اس کو کسی کی نیکی بدی کی کچھ پرواہ نہیں ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا دنیا کے جنات اور انسان نیک ہوجاویں تو اس سے اللہ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جائے گا اور اگر یہ سب بد ہوجاویں تو اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں سے کچھ گھٹ نہ جائے گا ‘ اس حدیث سے فھو خیرلہ عند ربہ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نیک کام کرنے کا حکم لوگوں کی بھلائی کے لیے دیا جاتا ہے ‘ ورنہ اللہ کی بادشاہت میں کسی کی نیکی کی کچھ پرواہ نہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس (رح) کی روایت ہے یہ حدیث قدسی بھی گزر چکی ہے کہ ہر ایک نیکی کا بدلہ دس گنے اجر سے لے کر سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا بدلہ اس سے بھی زیادہ دیا جائے گا۔ نیک کام کرنے میں جو نیک لوگوں کی بھلائی اور بہتری ہے اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ سورة المائدہ میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ بہت سے جانوروں کو بتوں کے نام ٹھہرا کر ان جانوروں کے گوشت کا کھانا حرام سمجھتے تھے اس واسطے آگے فرمایا ‘ سوائے ان جانوروں کے جن کی تفصیل ان لوگوں کو سورة المائدہ کی آیت حرمت علیکم المیتۃ میں سمجھا دی گئی ہے اور چوپائے اللہ تعالیٰ نے انسان پر حلال کردیئے ہیں ‘ ان کے بڑوں میں سے قوم خزاعہ کے سردار ایک شخص عمرو بن لحی نے بت پرستی کی اور بتوں کے نام جانوروں کے حرام ٹھہرانے کی رسم ان لوگوں میں جو پھیلائی ہے اس کو اللہ کا حکم ٹھہرانا بالکل جھوٹ ہے ان لوگوں کو بت پرستی کی گندگی اور اس جھوٹ سے باز آنا اور خالص اللہ کی عبادت میں لگے رہنا چاہیے کیونکہ عمروبن لحی کے بہکانے سے جن نیک لوگوں کے نام کی مورتوں کی یہ مشرک لوگ پوجا کرتے ہیں ‘ قیامت کے دن وہ نیک لوگ تو ان لوگوں کی صورت سے بیزار ہوجاویں گے اور ان مشرکوں کو ذلیل کرنے کے لیے ان کے بتوں کو دوزخ کا ایندھن بنا دیا جائے گا ‘ اس لیے ان مشرکوں کی مثال ایسی ہے جس طرح کوئی شخص آسمان پر سے گر پڑے اور زمین اس کے پہنچنے تک یا تو پرندہ جانور اس کی بوٹیاں نوچ کر کھا جاویں یا ہوا کے جھونکوں سے وہ کہیں ایسی دور جگہ جاپڑے جہاں اس کی ہڈیوں تک کا بھی کچھ ٹھکانا نہ لگے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح آسمان پر سے گرنے والے شخص کی کوئی صورت راحت کی نہیں ہے ‘ قیامت کے دن یہی حال مشرکوں کا ہوگا ‘ صحیح بخاری ‘ مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے سورة المائدہ میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ بت پرستی اور بتوں کے نام جانوروں کو حرام ٹھہرانے کی رسم قرش خزاعہ میں قبیلہ کے سردار عمر وبن لحی نے پھیلائی اور اس رسم کے پھیلانے سے پہلے پہل اسی شخص نے ملت ابراہیمی کو بگاڑا۔
(1 ؎ دیکھئے ص 101۔ 102 ج 2 تفسیر ہذا )
Ayahs 22:32–3332۔ 33:۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ رمضان کے مہینے میں عمرہ حج کے ثواب کے برابر ہے ‘ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت میں 3 ؎ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے رجب میں عمرہ ادا کیا۔ بیہقی میں حضرت علی ؓ کی صحیح روایت 4 ؎ میں ہے کہ عمرہ کا احرام ہر ایک مہینے میں جائز ہے۔ بخاری میں بغیر سند کے معلق طور پر اور صحیح ابن خزیمہ ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مع سند کے روایت ہے ‘ جس میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں 1 ؎‘ اللہ کے رسول کی سنت یہی ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں میں باندھا جائے ‘ بخاری میں معلق طور پر اور دار قطنی وغیرہ میں مع سند کے عبداللہ بن عمر ؓ سے جو روایت 2 ؎ ہے اس میں ہے کہ حج کے مہینے شوال سے لے کر ذی الحجہ کی دسویں تک ہیں ‘ صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے جس میں 3 ؎ جابر ؓ فرماتے ہیں ‘ آنحضرت ﷺ کے روبرو حج اور عمرہ کی قربانی کے اونٹ اور گائے میں ہم سات آدمی شریک ہوجاتے تھے شعائر شعیرہ کی جمع ہے جس کے معنی نشانی کے ہیں ‘ احرام کے مہینوں میں حج کے احرام کے وقت یا کسی اور مہینہ میں عمرہ کے احرام کے وقت قربانی کی مقررہ مقدار سے زیادہ کعبہ کے چڑہانے کی نیت سے منیٰ میں ذبح کرنے کے لیے جو جانور ساتھ لے جاتے ہیں ‘ سورة المائدہ میں اور اس آیت میں ان کو شعائر اللہ فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ احرام کے بعد ان جانوروں کو ساتھ رکھنا نشانی کے لیے ان کے گلے میں پٹہ کا ڈالا دینا ‘ سفر حج یا عمرہ بلا ضرورت اونٹ پر سواری نہ کرنا ‘ اسی طرح ان جانوروں میں اگر اونٹنی ہو تو بلا ضرورت اس کا دودھ نہ پینا ‘ یہ سب اللہ کی تعظیم کی نشانیاں ہیں اور تعظیم آدمی کی دلی پرہیز گاری کی علامت ہے ‘ کعبہ کی نیاز کی نیت سے جب تک ان جانوروں کو اللہ کے نام کے جانور نہ ٹھہرایا جائے اس وقت تک اونٹ پر سواری کرنا ‘ اونٹنی کا دودھ پینا جائز ہے اسی کو فرمایا کہ ان چوپایوں میں ٹھہرے وعدہ تک فائدے ہیں ‘ پھر ٹھہرا ہوا وعدہ آنے کے بعد اللہ کے نام پر ان جانوروں کی قربانی ہوگی حج کے وقت ٹھہرا ہوا وعدہ عرفات سے پلٹ کر منیٰ میں آجانا ہے اور عمرہ کے وقت عرفات کا جانا نہیں ہے اس لیے عمرہ کے وقت ان جانوروں کا منیٰ میں پہنچ جانا یہی ٹھہرا ہوا وعدہ ہے۔ صلح حدیبیہ کے قصہ کی صحیح بخاری وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ نے اللہ کے رسول کو مکہ کے اندر جانے سے روکا تو آپ ﷺ نے نیاز کے جانوروں کی قربانی حدیبیہ کے مقام پر ہی کردی۔ شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں جو یہ لکھا ہے کہ نیاز کے جانوروں کو مکہ تک پہنچانے میں دشواری ہو تو اللہ کا نام لے کر جہاں ان جانوروں کو ذبح کیا جاوے گا وہیں نیاز پوری ہوجائے گی ‘ اس سے شاہ صاحب نے اسی حدیبیہ کے قصہ کے مطلب کو ادا کیا ہے ‘ حج یا عمرہ کے سفر میں ایسے جانوروں پر ضرورت کے وقت سواری کا کرنا جائز ہے ‘ چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت 4 ؎ میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اگر آدمی مکہ کو خود نہ جائے ‘ تو دوسرے شخص کی معرفت نیار کے جانور قربانی کے لیے منیٰ کو بھیج دے ‘ اس صورت میں جانور بھیجنے والے شخص کی حالت احرام کی نہیں ہے اس لیے احرام کی حالت میں جن چیزوں کی مناہی کا حکم ہے وہ حکم اس شخص سے متعلق نہیں ہے ‘ صحیح بخاری و مسلم کی حضرت عائشہ ؓ کی روایت 5 ؎ میں اس صورت کا ذکر تفصیل سے آیا ہے۔
(3 ؎ منتقی مع نیل الاوطارص 3 ج 5۔ )
(4 ؎ منتقی مع نیل الاوطار ص 31 ج 8۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری باب قول اللہ تعالیٰ الحج اشہر معلومات )
(2 ؎ ایضا )
(3 ؎ اشکوٰۃ ص 127 باب فی الا ضحیتہ وص 231 باب الہدی )
(4 ؎ صحیح بخاری ص 229 ج 1 )
(5 ؎ مشکوٰۃ باب الہدی ص 231 )
Ayahs 22:34–3534۔ 35:۔ اوپر قربانی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ کے نام پر جانوروں کو ذبح کرنے کا حکم کچھ اس امت کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اور دیندار امتوں میں بھی خدا کا یہی حکم تھا تاکہ لوگ اللہ کے دیئے ہوئے جانوروں میں سے اس کے نام پر قربانی کریں اور عقبیٰ کا اجر کمائیں ‘ مشرکین مکہ بتوں کے نام پر جانوروں کو ذبح کرتے اور طرح طرح کے شرک میں گرفتار تھے اس لیے فرمایا جس نے ان لوگوں کو ان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو انسان پر ہر طرح سے اس کی فرما نبرداری واجب ہے ‘ اس کی فرما نبرداری میں کسی دوسرے کو شریک کرنا بڑے وبال کے بات ہے۔ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے اگر یہ مشرک لوگ قرآن کی نصیحت کو نہ مانیں تو تم فقط ان لوگوں کو عقبیٰ کی بہبودی کی خوشخبری سنا دو جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور مشرک ان کو ستاتے ہیں تو اس پر اور ہر طرح کی تکلیف پر صبر کرتے ہیں اور نماز کے پابند رہ کر قربانی اور سوائے قربانی کے سب صدقہ خیرات خاص اللہ ہی کے نام پر کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ کے ستانے کے سبب اللہ کے رسول ﷺ نے مکہ کی سکونت کو چھوڑ کر مدینہ کی سکونت جو اختیار کی ‘ اسی کو ہجرت اور ہجرت کرنے والوں کو مہاجر کہتے ہیں۔ فتح مکہ سے پہلے یہ حکم تھا کہ ہر مسلمان مکہ کو چھوڑ کر دین اسلام کے کاموں میں مدد دینے کے لیے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہو ‘ اس ہجرت پر بہت بڑے اجر کا وعدہ جگہ جگہ قرآن شریف میں اگرچہ آیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اجر کا مدار آدمی کی نیت پر ہے ‘ اسی واسطے صحیح بخاری ومسلم کی حضرت عمر ؓ کی حدیث 1 ؎ میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ سوائے دین کی مدد کے اور کسی نیت سے جو شخص ہجرت کرے گا تو اگرچہ ظاہر میں وہ شخص مہاجر کہلاوے لیکن عقبیٰ میں ایسے شخص کو ہجرت کا کچھ اجر نہ ملے گا ‘ اس حدیث سے یذکروا اسم اللہ علی ما رزقھم کا مطلب اسی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص ذبح سے پہلے سوائے اللہ کے کسی اور شخص کی تعظیم کی نیت سے جانور کو خریدے یا پالے گا اور ذبح کے وقت بطور عادت کے اللہ کا نام لے گا تو عقبیٰ کے اجر کے حساب سے ایسے شخص کا اللہ کا نام لینا اسی طرح بےکار ہے جس طرح ظاہری ہجرت کے بےکار ہونے کا ذکر حدیث میں ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ شریف کی پہلی حدیث۔ )
Ayah 22:3636:۔ والبدن بدنہ کی جمع ہے ‘ بدنہ موٹی چیز کو کہتے ہی ‘ زیادہ ثواب کی نیت سے نیاز کے اونٹوں اور گایوں کو لوگ یا تو پال کر خوب موٹا کرتے تھے ‘ یا نیاز کی نیت سے جو اونٹ یا گائے خرید کرتے تو موٹا دیکھ کر خرید کرتے ‘ انہیں فربہ جانوروں کو والبدن فرمایا ‘ صحیح بخاری ومسلم میں جابربن ؓ عبداللہ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں بدن اونٹ اور گائے دونوں کو ٹھہرایا ہے ‘ ہاں صحیح بخاری ومسلم میں بکری کو نیاز کا جانور ٹھہرانے کا ذکر حضرت عائشہ کی روایت 2 ؎ سے جو آیا ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نیاز کے فربہ جانوروں کو حج یا عمرہ کے سفر میں ساتھ رکھنا اور نیاز کعبہ کی پہچان کے لیے ان کے گلوں میں پٹہ کا ڈالنا اللہ کی تعظیم کی نشانی ہے اور قربانی سے پہلے ضرورت کے وقت سواری اور دودھ کا اور قربانی کے بعد عقبیٰ کے اجر کا تمہیں ان جانوروں سے نفع ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق صراف کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک اونٹ کا ایک پاؤں باندھ کر تین پاؤں کی قطار پر انہیں رو بقبلہ کھڑا کردیا جائے اور بسم اللہ اللہ اکبر۔ کہہ کر ان کی چھاتی میں زخم لگایا جائے اس زخم کے سبب سے جب وہ زمین پر گر پڑیں تو آگے کے حکم کے موافق ان کا گوشت قربانی کرنے والا شخص خود بھی کھائے ‘ نہ مانگنے والے اور مانگنے والے محتاجوں کو بھی دیوے ‘ آخر کو فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان چوپایوں کو تمہارے بس میں کردیا ہے تاکہ اس کے شکریہ میں تم خالص دل سے اللہ کے نام کی قربانی کرو اور اس کے نام کی قربانی میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الہدی ص 231 )
(2 ؎ ایضا مشکوٰۃ )
Ayahs 22:37–3837۔ 38:۔ تفسیر ابن منذر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 3 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حج کے وقت مشرک لوگ جو قربانی کرتے تھے تو ذرا سا خون اللہ کے نام کا کعبہ کو لگا دیتے تھے ‘ اسلام کے بعد مسلمانوں نے بھی اس رسم کو جاری کرنا چاہا ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کو اس رسم سے منع فرمایا اور فرما دیا کہ جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے ہو ‘ اس چیز کی اللہ کو پرواہ نہیں ہے ‘ خود تم اور جو چیز تم اللہ کے نام پر دیتے ہو ‘ سب کچھ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے صدقہ خیرات کا حکم شریعت میں اللہ تعالیٰ نے اس واسطے دیا ہے کہ صدقہ دینے والے کا دل اللہ آزمائے کہ کہاں تک اس کے دل میں پرہیز گاری کا اثر ہے ‘ اس تفسیر میں ایک جگہ یہ جتلا دیا ہے کہ صدقہ دینے والے کا دل اللہ آزمائے کہ کہاں تک اس کے دل میں پر ہزگاری کا اثر ہے ‘ اس تفسیر میں ایک جگہ یہ جتلا دیا گیا ہے کہ تفسیر ابن المنذر قدیمی اور معتبر تفسیروں میں ہے ‘ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 4 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ خدا تعالیٰ لوگوں کی صورت شکل اور ان کے مال ومتاع پر نظر نہیں ڈالتا بلکہ خدا کی نظر لوگوں کے دل اور ان کے اعمال پر پڑتی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں آخرت کا یقین ‘ اللہ تعالیٰ کی محبت ‘ ریا اور دکھاوے سے بچاؤ کہاں تک ہے اور ان کے اعمال حکم شریعت کے موافق کہاں تک صحیح اور بدعت کے اثر سے کہاں تک پاک وصاف ہیں ‘ ایک شخص بڑے سے بڑا کوئی نیک کام کرے اور اس کے دل میں یہ باتیں ایمان کی مضبوطی کی کم ہوں جن کا ذکر اوپر کی حدیث میں گزرا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں اس کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتا ‘ جو شخص چھوٹا سا کوئی کام نیک نیتی اور مضبوطی ایمان سے کرے ‘ چناچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت 5 ؎ سے یہ حدیث قدسی جو ہے کہ نیکی کا اجر دس سے سات سو تک اور کبھی اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے ‘ اس کی شرح خود صاحب وحی ﷺ نے صحیحین میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ میں یہ فرمائی ہے کہ جس قدر ایمان واسلام اچھا اور مضبوط ہوتا ہے اسی قدر نیکی کا اجر بڑھتا ہے اب ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہ کی یہ جو حدیث 2 ؎ ہے کہ جو چیز خیرات کی جائے تو محتاج کے ہاتھ میں وہ چیز پیچھے جاتی ہے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں وہ چیز چلی جاتی ہے اور قربانی کا خون زمین پر پیچھے گرتا ہے ‘ پہلے اللہ تعالیٰ کے روبرو وہ خون چلا جاتا ہے ‘ اس کے معنی بھی حل ہوگئے کہ نیک کام سے پہلے جس طرح کی نیت کام کرنے والے کی ہوتی ہے ‘ اس نیت کے موافق پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ثواب اور اجر قرار پا جاتا ہے ‘ پھر پیچھے وہ کام ظہور میں آتا ہے ‘ کس لیے کہ قصد اور نیت ہر کام سے مقدم ہے اور خدا تعالیٰ کی جناب میں نیت پر اجر کی مقدار ہے ‘ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جس کام کی اجازت شریعت میں نہ ہو وہ کام اللہ کو پسند نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خلاف ملت ابراہیمی کعبہ کو خون لگانے کی رسم کو پسند نہیں فرمایا ‘ سبب اس کا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اپنی فرما نبرداری کو اپنے بندوں سے چاہتا ہے اور فرما نبراداری حکم کی تعمیل سے ہوتی ہے ‘ جس چیز کا اللہ تعالیٰ نے حکم ہی نہیں دیا ‘ اس کے کرنے میں فرما نبرداری کہاں ہے ‘ الٹی نافرمانی ہے ‘ بدعتی لوگوں کو ذرا اس مطلب پر غور کرنا چاہیے ‘ چوپایوں کے انسان کے بس میں کردینا یہ کرتے تھے ‘ اس سے اوپر کی آیت میں اس نعمت کا ذکر فرما کر تاکید کے طور پر ان آیتوں میں پھر ان کا ذکر فرمایا۔ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک سے روایت 3 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جانوروں کے ذبح کے وقت اللہ کے رسول اللہ ﷺ بسم اللہ واللہ اکبر کہا کرتے تھے ‘ یہ حدیث لتکبروا اللہ علی ماھدکم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اللہ نے اپنے رسول کی معرفت ہدایت کی ہے ‘ جانوروں کے ذبح کے وقت اس کے موافق اللہ کی بڑائی خالص دل سے کیا کرو کہ اس نے اپنی کبریائی سے چوپایوں کو تمہارے بس میں کردیا ‘ صحیح بخاری ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ میں حضرت عائشہ سے روایت 4 ؎ ہے کہ بعضے ایسے نو مسلم لوگ صحابہ ؓ کو تحفہ کے طور پر گوشت بھیجا کرتے تھے کہ ذبح کے وقت ان لوگوں کے بسم اللہ واللہ اکبر کہنے میں شبہ باقی رہتا تھا ‘ جب یہ ذکر اللہ کے رسول ﷺ کے روبرو آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ایسے گوشت کے کھاتے وقت بسم اللہ کہہ لی جائے ‘ کھانے کے وقت کی سنت بسم اللہ کو ذبح کے وقت کی بسم اللہ کا قائم مقام جو اس حدیث میں ٹھہرایا گیا ہے ‘ اس سے علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ ذبح کے وقت بسم اللہ واللہ اکبر کہنا سنت ہے ‘ زیادہ تفصیل اس کی فقہ کی کتابوں میں ہے جس طرح احسان کے معنی کسی کے ساتھ نیکی اور بھلائی سے پیش آنے کے ہیں ‘ اسی طرح اس کے معنی خالص دل کے حسن عمل کے بھی ہیں ‘ چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے اور فقط مسلم میں حضرت عمر ؓ سے جو روایتیں 1 ؎ ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے احسان کے معنی یہ فرمائے کہ آدمی نیک کام کرتے وقت یہ جانے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ مرتبہ آدمی کو میسر نہ آئے تو اتنا ضرور جان لیوے کہ اللہ اس آدمی کو دیکھ رہا ہے یہ روایتیں وبشر المحسنین کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ قربانی اور باقی کے سب نیک عمل خالص عقبیٰ کے ثواب کی اس سے بھی بڑھ کر اجر دیا جائے گا اس نے فرمایا اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کو اس اجر کی خوشخبری سنا دی جائے ‘ اللہ کے رسول کی ہجرت کے بعد جو کمزور مسلمان مکہ میں رہ گئے تھے ‘ مشرکین مکہ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے ‘ ان مسلمانوں کی تسکین کے لیے آگے فرمایا کہ ان مشرکوں کی دعا بازی اور ناشکری اللہ کو پسند نہیں ہے اس لیے بہت جلد وہ زمانہ آنے والا ہے کہ اللہ ان دغا باز اسلام کے دشمنوں کا غلبہ مسلمانوں پر باقی نہ رکھے گا ‘ مشرکین مکہ نے دغا بازی سے اللہ کے رسول ﷺ پر ننگی تلواریں لے کر حملہ کرنے کا جو مشورہ کیا تھا اس کا ذکر سورة انفال میں گزر چکا ہے ‘ اس قصہ سے ان لوگوں کی دغا بازی اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے اور ناشکری ان لوگوں کی اس سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے آسمانی کتاب دے کر ان کی ہدایت کے لیے خاتم الانبیاء ﷺ کو بھیجا لیکن ان لوگوں نے اس نعمت کی ناشکری کر کے اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کو جھٹلایا ‘ آخری آیت میں مشرکوں کے غلبہ کو مٹا دینے کا جو وعدہ تھا فتح مکہ کے وقت اس وعدہ کا یہ ظہور ہوا کہ جن بتوں کی حمایت کے جوش میں مشرکین مکہ مسلمانوں سے دشمنی رکھتے اور شرک کے غلبہ کے سبب سے مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے ‘ فتح مکہ کے وقت اس غلبہ کو اللہ تعالیٰ نے یہاں تک مٹایا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار کر ان بتوں کو زمین میں گرادیا اور کوئی مشرک ان بتوں کی کچھ حمایت نہ کرسکا ‘ صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایتوں کے حوالہ سے یہ قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے۔
(3 ؎ تفسیر الدرا لمنثورص 363 ج 4 )
(4 ؎ تفسیر ابن اثیر ص 324 ج 3۔ )
(5 ؎ مشکوٰۃ کتاب اسماء اللہ تعالیٰ )
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 16 کتاب الایمان )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 224 ج 3 ومشکوٰۃ ص 128 باب فی الاضحتیہ )
(3 ؎ صحیح بخاری ص 834 ج 2 )
(4 ؎ صحیح بخاری ص 888 ج 2۔ )
(1 ؎ مشکوٰۃ کتاب الایمان پہلی حدیث )
Ayahs 22:39–4439۔ 44:۔ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند امام احمد بن حنبل اور مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو مشرکین مکہ صحابہ ؓ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے اور صحابہ ؓ جب آنحضرت ﷺ سے ان تکالیف کا ذکر کرتے تو آپ فرمایا کرتے تھے کہ صبر کرو مجھے ابھی لڑائی کا حکم خدا کی طرف سے نہیں ہے ‘ جس وقت مکہ سے ہجرت کا حکم آنحضرت کو ہوگیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو قرینہ سے معلوم ہوگیا کہ مشرکین مکہ پر اب کوئی وبال ضرور آئے گا اس لیے حضرت ابوبکر صدیق نے انا للہ پڑھی اور فرمایا ‘ قریش نے نبی وقت کو مکہ سے نکال دیا ‘ اب ان پر کوئی وبال آنے والا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے صدیق کی تصدیق میں یہ آیتیں نازل فرمائیں ‘ ترمذی نے اس شان نزول کی روایت کو حسن 1 ؎ اور حاکم نے صحیح کہا 2 ؎ ہے ‘ یہ پہلی آیتیں ہیں جن میں لڑائی کی اجازت مسلمانوں کو ملی ہے ‘ پہلی آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ آج تک جن مسلمانوں کو مشرک طرح طرح سے ستاتے تھے اور ستانے پر بھی مسلمانوں کو لڑائی کا حکم نہیں تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی مخالفوں سے لڑنے کا حکم دے دیا ‘ غرض اللہ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ‘ مکہ میں تھوڑے سے مسلمان جب تک تھے اور موسم حج پر مدینہ منورہ کے لوگ آن کر مسلمان نہیں ہوئے تھے اس وقت تک اگرچہ مکہ کے موجودہ مسلمان مشرکوں کی ایذا رسانی سے تنگ آکر لڑنے کو تیار تھے لیکن اللہ کی حکمت میں لڑائی کا حکم نازل ہونا مصلحت کے خلاف تھا جب اسی آدمیوں کے قریب انصار موسم حج کے وقت مسلمان ہوئے اور ہجرت کا حکم نازل ہو کر آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لے آئے اور مہاجر اور انصار مل کر ایک دل ہوگئے اور مسلمانوں کی جماعت بڑھ گئی ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کا ظہور ہوا ‘ جب مسلمانوں کی جماعت تھوڑی اور مشرکوں کی بھیڑ زیادہ تھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کو آسمان سے فرشتے بھیجے ‘ چناچہ اس کا پورا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے ‘ علاوہ اس کے مہاجرین کی ایک خاص مدد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی کہ انصار کے دل میں ان کی ایسی محبت ڈال دی کہ مہاجروں کو اپنا شہر مکہ چھوڑنے کے بعد مدینہ میں ہر طرح کا آرام انصار کے سبب سے ملا اور یہ بھی فرما دیا کہ شرع کے طور پر لڑائی کے جائز کردینے میں بڑی مصلحت یہ ہے کہ اس سے دین کی حفاظت ہوتی ہے اور کوئی مخالف دین ‘ کسی دین کی حد تک نہیں کرسکتا ‘ اگر یہ دین کی لڑائی جائز نہ ہوتی تو مخالف لوگ نصاری کے جنگلوں میں چھوٹے چھوٹے عبادت خانے ‘ شہروں میں کے ان کے بڑے بڑے گرجا ‘ یہود اور مسلمانوں کی مسجدیں سب ڈھا دیتے اور ان میں اللہ کا ذکر بند ہوجاتا مگر اللہ بڑا زبردست ہے ‘ جو اس کے دین کی مدد کرتا ہے ‘ وہ اسے غیب سے مدد دے کر مخالف لوگوں پر غالب کردیتا ہے ‘ اس کے بعد مہاجرین کی تعریف فرمائی کہ یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ کی زمین میں ان کو ٹھکانہ ملے تو یہ نماز روزہ اور نیک کام کرتے ہیں اور ہجرت کا ذکر آنے سے آنحضرت ﷺ کے دل پر مشرکین مکہ کے جھٹلانے کا خیال جو گزرا تھا اور اس خیال سے کچھ رنج جو آپ کو ہوا تھا ‘ اس رنج کو اس تسکین سے رفع فرما دیا کہ ہمیشہ سے مخالف لوگ انبیاء کو جھٹلاتے رہے ہیں ‘ تمہارے ساتھ کچھ یہ بات نئی نہیں ہے اور انبیاء کی قوم کے لوگوں نے ان انبیاء کو جھٹلایا تھا ‘ اس واسطے ان قوموں کا نام لیا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نہیں جھٹلایا تھا ‘ بلکہ فرعون کی قوم نے جس کا نام قبطی قوم ہے ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا ‘ اس لیے جھٹلانے والی قوموں میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی قوم کا نام نہیں لیا اور جھٹلانے والی قوموں کے ہلاک ہوجانے کا ذکر بھی فرما دیا تاکہ قریش کو تنبیہ ہوجاوے کہ رسول وقت کے ساتھ سرکشی کرنے والوں کا جو انجام سلف سے ہوتا رہا ہے وہی انجام ان کا ہوگا ‘ اصحاب مدین شعیب (علیہ السلام) کی امت کو کہتے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ نافرمان لوگوں کو پہلے اللہ راہ راست پر آنے کے لیے مہلت دیتا ہے ‘ جب مہلت کے زمانے میں وہ لوگ راہ راست پر نہیں آتے تو پھر ان کو سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ قوم نوح سے لے کر فرعون تک منکر شریعت قوموں کو اللہ تعالیٰ نے پہلے مہلت دی اور پھر طرح طرح کے عذابوں سے ان کو ہلاک کردیا۔ بدر کی لڑائی تک یہی عادت الٰہی قریش کے حق میں جاری رہی لیکن جب اس مہلت کے زمانہ میں مسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے اس کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے کہ دنیا میں بڑی ذلت سے یہ لوگ مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے ‘ جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے عذاب الٰہی کے وعدہ کو سچا پالیا فکیف کان نکیر اس کا مطلب یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ میں ان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی ‘ مہلت کے بعد اس ڈھیل کو ناپسندی کی نظر سے اللہ تعالیٰ نے دیکھا اور ان لوگوں کو طرح طرح کے عذاب میں پکڑ لیا۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 225 ج 3 والدر المنثور ص 363 ج 4۔ )
(1 ؎ جامع ترمذی ص 146 ج 2 )
(2 ؎ الدر المنثورص 364 ج 4 )
Ayahs 22:45–4845۔ 48:۔ اوپر ذکر تھا کہ مہلت کے زمانہ میں نافرمان لوگوں کو جو ڈھیل دی گئی تھی ‘ مہلت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ڈھیل کو بحال نہیں رکھا اور ان نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں میں پکڑلیا ‘ ان آیتوں میں اس کی یہ تفسیر فرمائی کہ ان نافرمان لوگوں کی بستیاں اس طرح ناگہانی عذابوں سے ہلاک کردی گئیں کہ مثلا قوم لوط کی بستیوں کے مکانات چھتوں کے بل الٹ دیئے گئے ‘ قوم ثمود کے پکے پکے مکانات اور بڑے بڑے کار آمد کنویں نکمے پڑے رہ گئے ‘ آگے فرمایا ‘ یہ مشرکین مکہ تجارت کی غرض سے اکثر ملک شام کا سفر کرتے رہتے ہیں ‘ اس سفر میں کیا ان کو قوم ثمود اور قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں ‘ پھر فرمایا ان لوگوں کے منہ پر آنکھیں ہیں اس لئے ان اجڑی ہوئی بستیوں پر تو ان کی نظر اکثر پڑتی ہے ‘ لیکن شرک اور گناہوں کے سبب سے ان کے دل اندھے ہیں اس واسطے نہ عبرت کی نظر سے ان اجڑی ہوئی بستیوں کو یہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں نہ اس کا کچھ حال ہوش حواس کے کانوں سے سنتے ہیں ‘ ترمذی ‘ نسائی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہوں سے آدمی کے دل پر سیاہی چھا جاتی ہے ‘ اس حدیث سے مشرک کے دل کے اندھے ہوجانے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اندھے آدمی کی آنکھوں پر اندھیرا چھا جاتا ہے ‘ اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتا ‘ اسی طرح رات دن کے شرک سے مشرک کے سارے دل پر سیاہی چھا جاتی ہے ‘ اس لئے اس کے دل میں کسی نیک بات کے سمجھنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے بچ اس ہزار سال پہلے جو کچھ دنیا میں ہونے والا تھا ‘ اپنے علم کے موافق اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی یہ حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ لوگوں کے دن کے عمل رات سے پہلے اللہ کے فرشتے آسمان پر لے جاتے ہیں اس تفسیر میں یہ بھی ایک 1 ؎ جگہ جتلا دیا گیا کہ زمین سے آسمان تک پانسو برس کی راہ کا فاصلہ ہے جس سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کا یہ مطلب ہوا کہ اول آسمان سے زمین تک آنے جانے کا ہزار برس کا فاصلہ اللہ کے فرشتے ایک دن میں طے کرتے ہیں ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ قریش میں کے عذاب کے جلدی کرنے والوں کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ جس کے حکم سے ہزار برس کا کام ایک دن میں طے ہوجاتا ہے اس کے حکم کے بعد عذاب کے آجانے میں کچھ دیر نہیں لگ سکتی مگر یہ عادت الٰہی ہے کہ لوح محفوظ کے نوشتہ کے مطابق پہلے نافرمان لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے ‘ پھر اگر مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے تو دنیا اور عقبیٰ کے عذاب میں ان کو پکڑ لیا جاتا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے بدر کے قصہ کی انس بن مالک کی روایت جو جگہ جگہ گزر چکی ہے ‘ اس سے آخری آیت کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں کے یہ دل کے اندھے لوگ مہلت کے بعد اس لڑائی کے وقت دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے ‘ جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم نے اللہ کے وعدہ کو سچا پالیا۔
(1 ؎ نیز دیکھئے مشکوٰۃ ص 510 باب بد الخلق الخ فصل ثالث )
Ayahs 22:49–5149۔ 51:۔ مشرکین مکہ مسخراپن سے عذاب کی جلدی جو کیا کرتے تھے اوپر کی آیتوں میں اس کا ذکر تھا اس لئے ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں تو فقط عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ہوں ‘ یہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ وہ عذاب کب آوے گا اور جس طرح میں عذاب سے ڈراتا ہوں اسی طرح یہ خوشخبری بھی سناتا ہوں کہ جو کوئی شرک سے باز آن کر خالص اللہ کو اپنا معبود جانے گا اور مرضی الٰہی کے موافق نیک کاموں میں لگا رہے گا تو شرک کے نیچے کے کچھ گناہ کر کے اگر ایسا شخص بغیر توبہ کے مرجاوے گا تو اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو ایسے شخص کے گناہوں کو معاف کر کے اسے جنت میں داخل کر دے گا ہاں جو لوگ بلاسند باتوں کے کلام الٰہی کی آیتوں کو جھٹلانے کی کوشش میں عمر بھر لگے رہیں گے وہ بلاشک دوزخ کے قابل ٹھہریں گے ‘ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کو گناہوں کے بخشنے پر قادر جان کر مرے گا اور اس شخص کے نامہ اعمال میں بغیر توبہ کا شرک نہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کو ایسے شخص کے گناہوں کو معاف کردینے میں کوئی دریغ نہ ہوگا اسی حدیث سے شرک کے نیچے کے بغیر توبہ گناہوں کے معاف ہوجانے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الاستغفارو التوبہ کی دوسری فصل میں یہ روایت بحوالہ شرح السنہ ہے راقم کو صحیح مسلم میں نہیں مل سکی (ع ح )
Ayahs 22:52–5352۔ 53:۔ مسند بزار تفسیر سدی ‘ تفسیر ابن منذر ‘ تفسیر ابن مردویہ ‘ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن جریر وغیرہ 2 ؎ میں مختلف سندوں سے اس آیت کی شان نزول میں جو قصہ بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت سورة والنجم مکہ میں نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ اس سورت کو مشرکین مکہ کے روبرو پڑھنے لگے اور سورة والنجم کی اس آیت پر پہنچے جس میں لات، عزی اور منات بتوں کا نام ہے تو شیطان نے آنحضرت ﷺ کی قرأت کے سکتہ کے وقت کچھ کلمے پڑھ دیئے ‘ جس کے معنوں سے ان بتوں کی تعریف کا ذکر اور ان کی شفاعت کا ذکر نکلتا ہے ‘ ان کلموں کو مشرکین مکہ نے قرآن کی آیت اور اس شیطان کی آواز کو آنحضرت ﷺ کی آواز خیال کیا اور کہنے لگے کہ سوا آج کے اور کبھی محمد ﷺ نے ہمارے بتوں کا اچھی طرح نام نہیں لیا اور اپنے بتوں کی تعریف سن کر خوش ہوگئے اور آخر سورة پر جب آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں نے سجدہ کیا تو مشرکین نے بھی سجدہ کیا ‘ اس سے یہ خبر مشہور ہوگئی کہ مکہ کے تمام مشرک مسلمان ہوگئے اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ مکہ میں نماز پڑھی ‘ چناچہ اس خبر کو سن کر مشرکین کی ایذا سے تنگ آن کر جو مسلمان لوگ حبشہ کے ملک کو چلے گئے تھے ان میں سے اکثر آدمی مکہ کو پھر کر واپس چلے آئے پھر مکہ میں آن کر ان کو معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی کیونکہ شیطان کی اس شرارت کے بعد فورا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے شیطان کی شرارت کا حال حضرت سے کہہ دیا اور آنحضرت ﷺ نے مشرکین پر یہ حال ظاہر کردیا کہ مشرکوں کے کانوں میں جو آواز گئی تھی وہ شیطان کی آواز تھی اور وہ کلمے جو شیطان نے کہے وہ بھی شیطان کے بناوٹی کلمے تھے ‘ اللہ کا کلام وہ نہیں تھا ‘ محی 1 ؎ الدین ابن عربی 2 ؎ اور قاضی 3 ؎ عیاض ؓ اور بعضے علمائ 4 ؎ نے اگرچہ اس قصہ کا انکار کیا ہے لیکن حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری 5 ؎ شرح صحیح بخاری میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ پھر روایت کسی درجہ میں ثابت بھی مان لی جائے تو اس کی کوئی نہ کوئی توجیہ ہی کرنی پڑی ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر (رح) اور حضرت مفسر (رح) نے کوشش فرمائی ہے تاہم جو کچھ بھی ہو آیت زیر بحث کا فہم اس قصہ پر موقوف نہیں جیسا کہ تینوں دہلوی ترجموں کے دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے جن میں ” تمنی “ کے معنی ” آرزو “ یا ” خیال “ کے کئے گئے ہیں کہ اس قصہ کو مرسل کے طور پر کئی سند سے معتبر (حاشیہ متعلقہ تین) اس آیت پر موضح القرآن کا فائدہ یہ ہے :۔ نبی کو ایک حکم اللہ سے آتا ہے ‘ اس میں ہرگز تفاوت نہیں اور ایک اپنے دل کا خیال اس میں جیسے اور آدمی ‘ کبھی خیال ٹھیک پڑا کبھی نہ پڑا جیسے حضرت نے خواب میں دیکھا کہ مدینے سے مکہ میں گئے عمرہ کیا خیال میں آیا کہ شاید اب کے برس وہ ٹھیک پڑا اگلے برس ‘ یا وعدہ ہوا کافروں پر غلبہ ہوگا خیال آیا کہ اب کی لڑائی میں اس میں نہ ہوا ‘ پھر اللہ جتا دیتا ہے لڑائی کا حکم تھا ‘ اس میں تفاوت نہیں۔
نیز مناسب ہے کہ شاہ عبدالقادر کے والد (شاہ ولی اللہ (رح) کا فارسی اور ان کے بھائی شاہ رفیع الدین کا (تحت اللفظ) اردو ترجمہ دونوں یہاں ذکر کردیئے جائیں کیونکہ اس سے فہم آیت میں صحیح راہ نمائی ملتی ہے (ع۔ ح) (فارسی) “ ونہ فرستادیم پیش ازتو ہیچ فرستادہ نہ صاحب وحی الاچوں آرزوئے بخاطربست ‘ بافگند شیطان چیزے در آرزوئے وے پس دورمے کند خدا آنچہ شیطان انداختہ اسب۔ باز محکم مے کند خدا آیات خودارا و خدا دانا باحکمت است “ (فتح الرحمان)
(اردو) اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نہ نبی ‘ مگر جس وقت آرزو کرتا تھا ڈال دیتا تھا شیطان بیچ آرزو اس کے ‘ پس موقوف کردیتا ہے اللہ جو ڈالتا ہے شیطان ‘ پھر محکم کرتا ہے اللہ نشانیوں اپنی کو اور اللہ جاننے والا ہے ‘ حکمت والا ہے۔
راویوں نے روایت کیا ہے ‘ اس سبب سے اس قصہ کو بےاصل نہیں کہا جاسکتا ‘ تابعی کسی حدیث کو اللہ کے رسول سے روایت کرے تو اس کو مرسل کہتے ہیں ‘ دنیا اور دنیا کے تمام معاملے اللہ تعالیٰ نے امتحان کے طور پر پیدا کئے ہیں ‘ یہ معاملہ بھی امتحان کے طور پر پیش آیا ہو تو اس کو شیطان کی ایسی شرارت خیال کرنی چاہیے جس طرح اس نے شرارت سے جنگ احد میں آنحضرت ﷺ کے شہید ہوجانے کی خبر لوگوں کے کانوں میں پھونک دی تھی جس خبر سے ایک بڑا موقع جانچ وامتحان کا پیش آیا تھا ‘ مشرکین اور یہود کی گمراہی اس خبر سے قریش سے امان مانگنے کو مستعد ہوگئے تھے مضبوط ایمان کے جو صحابہ ؓ تھے ان کے ایمان اس خبر سے اور مضبوط ہوگئے تھے ‘ چناچہ انس ؓ ہاتھ سے شہید بھی ہوگئے تو ہمارا اللہ حی وقائم ہے ہم کو اب بھی ویسی ہی جانبازی کرنی چاہیے جو آنحضرت کے روبرو کرتے تھے غرض اس آیت کے مضمون سے بھی وہی امتحان کا موقع پوری طور پر نکلتا ہے اور سند صحیح سے اس قصہ کی روایت بھی ہے ‘ پھر اس قصہ کو شان نزول ٹھہرانے میں کون سا امر شرعی مانع 1 ؎ ہے۔ رہی یہ بات کہ اس قصہ کی سند مرسل طور پر ہے تو جب اس مرسل روایت کی سندیں کئی ہیں اور ایک کو دوسری سندے سے قوت اور تائید ملتی ہے اور اس طرح کی مرسل روایت باتفاق محدثین قابل قبول ہے تو پھر اس مرسل روایت کے ماننے میں کیا عذر ہے ‘ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ صحابی کا نام ذکر کرنے کے بغیر کسی تابعی کا آنحضرت ﷺ کے کسی قول یا فعل کو روایت کرنا اس طرح کی روایت کو محدثین کی بول چال میں مرسل کہتے ہیں ‘ رسول اور نبی دونوں لفظ اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمائے کہ شریعت میں رسول ان پیغمبروں کو کہتے ہیں جن کے پاس حضرت جبرئیل وحی لے کر آئے تھے اور نبی کے لئے جدید وحی کا آنا ضرور نہیں بلکہ اپنے سے پہلے رسول کی کتاب کے موافق بھی نبی لوگوں کو ہدایت کرسکتے ہیں جس طرح آخر زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے اتر کر شریعت محمدی کے موافق ہدایت فرمادیں گے یا حضرت موسیٰ سے لے کر حضرت عیسیٰ کے زمانہ تک کئی ہزار نبی تورات کے موافق ہدایت کرتے رہے ‘ قرآن شریف میں جو یہ مضمون موجود ہے کہ شیطان اللہ کے کلام میں جو بات ملاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو مٹا کر اپنی آیتیں پکی کردیتا ہے ‘ اس سے بھی شان نزول کے قصہ کی اصلیت پائی جاتی ہے کیونکہ قرآن شریعت کے اس مضمون سے یہ بات نکلتی ہے ‘ کہ شیطان نے قرآن کی آیتوں میں کوئی بات ملائی تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے مٹا کر اپنی آیتوں کو پکا کردیا ‘ علاوہ اس کے جب صحیح بخاری کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں یہ ذکر موجود ہے کہ سورة والنجم کے ختم پر مسلمانوں کے سجدہ کرنے کے وقت مشرکوں نے بھی سجدہ کیا تو مشرکوں کے سجدہ جو اس آیت کے شان نزول کی روایتوں کے حوالہ سے اوپر بیان کیا گیا کہ اللہ کے رسول ﷺ جب سورة والنجم کی اس آیت پر پہنچے جس میں لات منات اور عزی بتوں کا نام ہے تو شیطان نے اللہ کے رسول کی آواز بنا کر ان بتوں کی تعریف کے چند کلمے پڑھ دیئے جن کلموں سے مشرکین مکہ خوش ہوگئے اور آخر سورت پر جب اللہ کے رسول مسلمانوں نے سجدہ کیا تو مشرکوں نے بھی سجدہ کیا۔ یہ شان نزول کی روایت مسندبزار اور تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی آئی ہے ‘ اگرچہ بعضے علماء نے اس سند پر اعتراض کیا ہے کہ اس سند میں ایک راوی امیہ بن خالد اکیلے ہیں لیکن یہ امیہ بن خالد امام شافعی (رح) کے زمانہ کے ثقہ اور مشہور تبع تابعیوں میں ہیں اس لئے ان کے اکیلے ہونے سے روایت کو ضعیف نہیں کہا جاسکتا۔ پھر جب یہ روایت ضعیف نہیں اور اصول حدیث میں یہ مسئلہ ٹھہر چکا ہے کہ شان نزول کے باب میں صحابہ ؓ کا قول حدیث نبوی کے برابر شمار کیا جاتا ہے اور اس شان نزول کے راوی بھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ہیں ‘ جن کا لقب امام المفسرین 1 ؎ ہے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ بعضے مفسروں نے اس شان نزول کو کیوں نامعتبر 2 ؎ ٹھہرایا۔ تمنی کے معنی قراءت کے بھی ہیں تینوں ترجموں میں دوسرے معنی کو ملحوظ رکھ کر ہی معنی کے مناسب حال فارسی اور اردو کا فائدہ بھی لکھا ہے ‘ لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق آیت کی تفسیر میں پہلے معنی زیادہ معتبر 3 ؎ ہیں اس واسطے امام بخاری نے صحیح بخاری میں ان ہی معنی کو لیا ہے ان معنی کے موافق آیت کا مطلب وہی ہوا جو اوپر بیان کیا گیا کہ سورة والنجم کی قراءت کے وقت اللہ کے رسول کی آواز بنا کر شیطان نے چند کلمے بتوں کی تعریف کے پڑھ دیئے جن کلموں کو مشرکین مکہ نے قرآن کی آیت اور شیطان کی آواز کو اللہ کہ رسول کی آواز سمجھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شیطان کے لائے کلموں کا حال کھول کر قرآن کی آیتوں کو پکا کردیا۔ واللہ علیم حکیم اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے جو شرارت کی اگرچہ وہ اللہ کے حکم سے باہر نہیں تھی ‘ اللہ چاہتا تو وہ شرارت ظہور میں نہ آتی لیکن اس شرارت کے ظاہر ہونے میں وہ حکمت تھی جس کا ذکر آگے فرمایا کہ اس شیطان کی شرارت سے ان مشرکوں کی گمراہی کا حال مسلمانوں پر اچھی طرح کھل گیا کیونکہ جب ان مشرکوں نے بتوں کی تعریف اور ان کی سفارش کے اعتقاد کو قرآن کی آیت کا مضموں سمجھا تو مسلمانوں کے ساتھ سجدہ کرنے کو تیار ہوگئے پھر جب ان مشرکوں کو یہ جتلایا گیا کہ وہ بتوں کی تعریف کے کلمے شیطان کی شرارت کا ایک ظہور تھا تو یہ مشرک اللہ کے رسول اور مسلمان سے زیادہ دشمنی کرنے لگے جس سے یہ بات اچھی طرح کھل گئی کہ بارگاہ الٰہی میں ان بتوں کو سفارشی ٹھہرانے کا اعتقاد جو ان مشرکوں کو جب یہ جتلادیا گیا کہ ثابت کرنا چاہیے تھا نہ یہ کہ جس طرح جھوٹا شخص سچے آدمی کا دشمن بن جاتا ہے اسی طرح ایک سچی بات پر یہ لوگ مسلمانوں سے زیادہ دشمنی کرنے لگے ‘ اسی واسطے آخر آیت میں فرمایا کہ یہ مشرک اسلام اور اہل اسلام کی مخالفت میں حق سے دور جا پڑے۔
(2 ؎ الدر المنثور ص 366 ج 4 )
(1 ؎ یہ ابن عربی “ محی الدین (محمد بن علی الطائی) (638 ھ) نہیں بلکہ بن العربی المالکی (ابوبکر محمد بن عبداللہ) 543 ھ) ہیں جیسا کہ فتح الباری میں ہے۔ )
(2 ؎ ابن العربی مالکی (رح) کی کتاب احکام القرآن (1288 ج 3) طبع جدید میں یہ مبحث ہے )
3 ؎ قاضی عیاض بن موسیٰ المالکی (544 ھ) یہ مبحث ان کی مشہور تصنیف الشفاء فی تعریف حقوق المصطفے (ص 260259۔ ) طبع صدیقی بریلی (ہند) میں ہے (ع۔ ح) نیز دیکھئے نووی شرح صحیح مسلم (ص 215 ج 1)
4 ؎ مثلا حافظ ابن کثیر (رح) کا رحجان انکار ہی کی طرف ہے جبکہ ان کے استاد شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) کا میلان حافظ ابن حجر (رح) کی طرح اس کے اثبات کی جانب ہے ملاحظہ ہو فتاوی ابن تیمیہ جلد دوسری ص 282۔ 283
5 ؎ دیکھئے ص 257 ج 4 تفسیر سورة الحج لیکن مولانا عبدالرحمن مبارک پوری (رح) اور ہمارے معاصر مولانا عبید اللہ صاحب رحمانی مبارک پوری حافظ ابن حجر کی اس تحقیق پر مطمئن نہیں اور وہ ان روایتوں کے مسترد کرنے والوں کے ہم نوا ہیں ملاحظہ ہو تحفتہ الاحوذی (ص 399 ج 1) اور مرعاۃ شرح مشکوٰۃ (ص 44 ج 2)
(1 ؎ مانع یہی ہے کہ اس سے قرآن مجید میں دخل اندازی کا پہلو نکلتا ہے جن واقعات کو حضرت مفسیر نے نظائر بنایا ہے ان پر اس کو قیاس کرنا مشکل ہے )
(1 ؎ لیکن ابن عباس ؓ کی طرف منسوب بعض روایتیں مجروح ہیں اور جو صحیح ہیں ان میں مبہنی تفیصلات نہیں ‘ ان کو توجیہ صحیح سے ان تفصیلات کی ضرورت ہی نہیں رہتی ‘ تفسیر قرطبی ص 851 ج 12 میں وہ توجیہ ملاحظہ کی جاسکتی ہے (ع۔ ح )
(2 ؎ کیونکہ اس شان نزول کے مطابق آیت کے معنی پر ایک یہ اشکال وارد ہوسکتا ہے کہ اس وحی الٰہی میں ” بےشعوری “ کی صورت پھر سب رسل وانبیاء کو اگر پیش آتی رہی تو نقلا اس کا کوئی ثبوت ہونا چاہیے۔ (ع۔ ح )
(3 ؎ اگر امام بخاری (رح) نے واقعی ” قرأ“ کو ترجیح دی تو بھی یہ صحت قصہ کو مستلزم نہیں کہ اس کو درمیان میں لائے بغیر آیت سمجھی نہ جاسکے چناچہ تفسیر ثنائی میں زیر بحث آیت کے تحت جو ترجمہ اور تفسیر کا انداز اختیار کیا گیا ہے وہ دہلوی تراجم دفوائد کی ترجمانی ہے جس سے آیت کا مطلب بہت حد تک واضح ہوجاتا ہے۔ (ع۔ ح )
Ayahs 22:54–5754۔ 57:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکوں کے حق میں شیطان کی شرارت کا کیا نتیجہ ہوا ان آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ اسی شیطانی شرارت سے سمجھ دار لوگوں نے یہ فائدہ اٹھایا کہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انہیں یقین اور زیادہ ہوگیا کیونکہ وہ لوگ سمجھ گئے کہ شیطان کا دخل مٹانے اور قرآن کی آیتوں کو پکا کرنے کا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس لئے فرمایا گیا کہ قرآن اس کا کلام ہے اس کو اپنے کلام میں شیطان کا دخل اچھا معلوم نہیں ہوا ‘ پھر فرمایا ‘ اس یقین کی زیادتی کے سبب سے قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کرنے کے لئے ان لوگوں کے دل پہلے سے زیادہ نرم ہوگئے اور یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم غیب میں جو لوگ ایماندار ٹھہر چکے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے سیدھے راستہ پر آنے کے لیے اسی طرح کے سامان پیدا کردیتا ہے ہاں جو لوگ اللہ کے علم غیب میں منکر شریعت قرار پاچکے ہیں یا تو قیامت کے عذاب دیکھ کر ان کی آنکھیں کھل جاویں گی ‘ یا قیامت سے پہلے کسی آفت کے دن کو دیکھ پاویں گے تو پچھتاویں گے ‘ اس سے پہلے قرآن کے کلام الٰہی ہونے میں ایسے لوگوں کو ہمیشہ شبہ رہے گا ‘ اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا کلام سچا ہے ‘ یہ ناگہانی آفت کا دن ان لوگوں کے حق میں بدر کی لڑائی کا دن تھا کہ جس طرح بانجھ عورت کو اولاد نصیب نہیں ہوتی اسی طرح ان میں کے بڑے بڑے سرکشوں کو اس دن صبح کی شام نصیب نہیں ہوئی جن کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے اگرچہ بعضے مفسروں نے یوم عقیم کی تفسیر قیامت کے دن کو قرار دیا ہے لیکن قیامت کا ذکر ان آیتوں میں جدا آیا ہے اس واسطے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں یوم عقیم کی تفسیر بدر کی لڑائی کے دن کو ٹھہرا کر اسی تفسیر کو صحیح قرار دیا ہے صحیح بخاری ومسلم کی حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ حشر کے دن ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن سب لوگ ایک حالت میں ہوں گے ‘ اس حدیث سے آگے کی آیتوں کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں عارضی بادشاہ اور امیر بہت سی آفتوں کو اپنی حکومت اور مالداری کے سبب سے ٹال دیتے ہیں ‘ قیامت کے دن سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کی حکومت نہ ہوگی بلکہ بڑے بڑے بادشاہ اور امیر اس دن فقیروں کی طرفح ننگے پاؤں اور ننگے بدن اللہ تعالیٰ کے روبرو گھڑے ہوں گے اور فرمانبرداروں کے حق میں جنت میں داخل ہونے کا اور نافرمانوں کے حق میں دوزخ میں جھونکے جانے کا جو فیصلہ اللہ تعالیٰ اس دن فرماوے گا ‘ اس کا اثر بادشاہ ‘ امیر ‘ فقیر سب پر یکساں پڑے گا۔
Ayahs 22:58–5958۔ 59:۔ اوپر جن لوگوں کا ذکر تھا کہ شیطان کی شرارت کے کھل جانے کے بعد ان کا ایمان زیادہ مضبوط ہوگیا ‘ ان آیتوں میں ان کے ایمان کی مضبوطی کا حال بیان فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کی راہ میں اپنے وطن ‘ اہل و عیال سب کو چھوڑا ‘ پھر فرمایا اس لیے وطنی اور مسافرت کی حالت میں جو کوئی ان میں سے شہید ہوا یا اپنی موت سے مرا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کر کے وہ نعمتیں دے گا جن کو یہ لوگ پسند کریں گے ‘ پھر فرمایا ان وطن کے چھوڑنے والوں میں ان لوگوں کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جنہوں نے اللہ کی راہ میں نہیں بلکہ دنیا کی کسی غرض کے لئے مکہ کو چھوڑا ہے اور ظاہر میں وہ اپنے آپ کو مہاجر کہتے ہیں لیکن اللہ بڑا بردبار ہے اس لئے اس نے ایسے لوگوں سے جلدی مواخذہ نہیں کیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ بارگاہ الٰہی میں دین کے ہر کام کا مدار نیت پر ہے اس لیے جو شخص دنیا کی کسی غرض سے ہجرت کرے گا تو یہ اللہ تعالیٰ کی راہ کی ہجرت نہ ہوگی ‘ اس حدیث سے فی سبیل اللہ کا مطلب اور یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری کے سبب سے دنیا میں ظاہری مہاجروں سے کچھ مواخذہ نہیں کیا ‘ لیکن آیتوں میں جن مہاجروں کے اجر کا ذکر ہے وہ وہی مہاجر ہیں جنہوں نے عقبی کے ثواب کی نیت سے ہجرت کی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بردبار کون ہوسکتا ہے کہ لوگ شرک کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے رزق اور ان کی صحت کے انتظام کو بحال رکھتا ہے ‘ اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی بردباری کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
Ayah 22:6060:۔ تفسیر مقاتل بن حیان ‘ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان 1 ؎ نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کچھ مسلمانوں اور مشرکوں کا مقابلہ محرم کے مہینہ میں پڑگیا۔ مشرکوں نے آپس میں صلاح کی کہ اس مہینے میں مسلمانوں پر ضرور حملہ کرنا چاہیے کس لیے کہ اس مہینہ میں یہ لوگ لڑائی کو جائز نہیں سمجھتے اس واسطے یہ اوپرے دل سے ان دنوں میں لڑیں گے اور ہم ان پر غالب رہیں گے ‘ مسلمانوں نے اگرچہ مشرکوں کو طرح طرح کی قسمیں دیں اور کہا کہ محرم کے مہینے میں مقابلہ نہ کرو لیکن مشرکوں نے نہ مانا ‘ آخر مقابلہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی مگر مسلمانوں کے دل میں خلش رہی کہ محرم کے مہینے میں لڑنے سے اللہ تعالیٰ ان سے ناخوش ہوا ہوگا اور ان کے مدینہ واپس جانے تک کوئی آیت اللہ کی خوشنودی کی ان کے حق میں نازل ہوگی لیکن اللہ تعالیٰ تو غیب دان ہے اس کو ان کے دلوں کا حال معلوم تھا کہ ان کے دلوں میں محرم کی تعظیم تھی اور اپنی طرف سے یہ ہرگز لڑنا نہیں چاہتے تھے مشرکوں نے جب ان پر کمال زیادتی کی اس وقت انہوں نے بدلہ لینے کے طور پر مقابلہ کیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ یہ لوگ مجبور ہو کر لڑے ‘ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان سے کچھ مواخذہ نہیں فرمایا اس طرح کی مجبوری کے ہر موقع کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ معاف کرنے والا اور بخشے والا ہے ‘ صحیح مسلم ‘ ابوداؤد اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ لڑائی جھگڑے میں سارا بوجھ اس شخص پر ہوتا ہے جو جھگڑے کی ابتدا اور جھگڑے کو شروع کرے۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اس لڑائی میں ناجائز لڑائی کہ ابتداء مشرکوں کی طرف سے تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ناجائز لڑائی کا سارا بوجھ مشرکوں پر رکھا اور مسلمانوں کو ناجائز لڑائی کے بوجھ سے سبکدوش فرما کر غیبی مدد سے انہیں فتحیاب کردیا ‘ تفسیر مقاتل اور تفسیر ابن ابی حاتم کے صحیح ہونے کا ذکر ایک جگہ اس تفسیر میں کردیا گیا ہے اس لئے اس شان نزول کو معتبر کہا جاسکتا ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 195 ج 17 والد رالمنثورص 369 ج 4۔ )
(1 ؎ الترغیب والترہیب ص 466 ج 3 )