22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 22:61–64

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور خدا تو سننے والا اور دیکھنے والا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا ہی برحق ہے اور جس چیز کو (کافر) خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور اسلئے کہ خدا رفیع الشان اور بڑا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ خدا آسمان سے مینہ برساتا ہے تو زمین سرسبز ہوجاتی ہے ؟ بیشک خدا باریک بین اور خبردار ہے

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے

61: 64:۔ اوپر مظلوم کی غیبی مدد کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں رات دن کے گھٹنے بڑھنے اور اس موسم کی تبدیلی سے برسات کا موسم آجانے اور اس موسم میں مینہ کے برسنے اور اس مینہ سے طرح طرح کی پیداوار کے پیدا ہونے قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا تاکہ ہر شخص کی سمجھ میں آجاوے کہ جس کی قدرت میں یہ خلاف عقل آنکھوں کے سامنے کی سب باتیں ہیں اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ جس کمزور کو چاہے خلاف عقل بڑے سے بڑے ظالم دشمن پر فتح یاب کر دے ‘ صحیح بخاری میں براء بن العازب سے اور صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے جو 2 ؎ روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت لشکر اسلام کی تعداد تین سو انیس سے بڑھ کر نہیں تھی ‘ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ کی فوج اس لڑائی میں ہزار آدمی کے قریب تھی ‘ یہ بھی گزر چکا ہے کہ مدد غیبی سے جو فتح ہوئی وہ بالکل خلاف عقل تھی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں سے پہلے کی آیت میں مظلوم کی مدد کا وعدہ فرما کر ان آیتوں میں قدرت کی چند نشانیوں سے قوت مقررہ پر اس وعدہ کے ظہور کا جو یقین دلایا گیا تھا وہ ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ایسا ہوا کہ مشرکین مکہ میں کے جن بڑے بڑے سرکش ظالموں نے ہجرت سے پہلے غریب مسلمانوں پر طرح طرح کا ظلم کیا تھا ‘ اس لڑائی میں وہ ظالم بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے ‘ جس عذاب کے جتلانے کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے ان سرکش ظالموں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدے کو سچا پالیا ‘ صحیح بخاری کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے بدر کی لڑائی کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جس اللہ نے وطن چھوڑنے والے مظلوم مسلمانوں سے مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ بڑا صاحب قدرت ہے ‘ جب یہ ہے کہ جس اللہ نے وطن چھوڑنے والے مظلوم مسلمانوں سے مدد کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ بڑا صاحب قدرت ہے ‘ جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں بڑھا کر رات کی گھڑیاں گھٹا دیتا ہے ‘ اسی طرح جب چاہتا ہے دن کی گھڑیاں گھٹا کر رات کی گھڑیاں بڑھا دیتا ہے مظلوموں کی ہر وقت کی فریاد کو سنتا اور ظالموں کے ہر طرح کے ظلم کو دیکھتا ہے ‘ یہ اس واسطے ہے کہ وہ بڑا بادشاہ ہے کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں ہے ‘ یہ نادان مشرک ایسے بڑے صاحب قدرت کی تعظیم میں بتوں کو جو شریک کرتے ہیں ‘ مکہ کے قحط کے وقت ان بت پرستوں کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہوچکی ہے کہ ان بتوں کو یا جن کے نام کی یہ مورتیں ہیں ان کو اللہ کے کار خانے میں کسی کو کچھ دخل نہیں ‘ پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ وہ صاحب قدرت موسیٰ کی تبدیلی سے ہر سال برسات میں آسمان سے مینہ کے برسنے کا حکم دیتا ہے جس سے تمام زمین سرسبز ہوجاتی ہے ‘ یہ سب تدبیریں اس کے اس لیے ہیں کہ وہ لوگوں کی ضرورتوں سے واقف اور ان ضرورتوں کی خبر رکھتا ہے ‘ پھر فرمایا کہ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے وہ سب اس کے حکم میں ہے اس واسطے اس کے کسی انتظام کو کوئی روک نہیں سکتا ‘ اس کو آسمان و زمین کی کسی چیز کی کچھ پرواہ نہیں اس لیے اس کے سب کام دوسروں کے فائدہ کے لیے اور قابل تعریف ہیں۔ (2 ؎ صحیح بخاری مع شرح فتح الباری ‘ باب عدۃ اصحاب بدر )
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تم نہیں دیکھتے کہ جتنی چیزیں زمین میں ہیں (سب) خدا نے تمہارے زیر فرمان کر رکھی ہیں ؟ اور کشتیاں (بھی) اسی کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں اور وہ آسمان کو تھامے رہتا ہے کہ زمین پر (نہ) گرپڑے مگر اسکے حکم سے بیشک خدا لوگوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے

65:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں ‘ مثلا مینہ کا موسم پر برسنا جس سے طرح طرح کی پیداوار کھیتوں اور باغات میں پیدا ہوتی ہے ‘ یہی مینہ اگر بےوقت برسے یا ضرورت سے زیادہ یا کم برسے تو کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ الٹا نقصان ہوتا ہے اور اگر بالکل نہ برسے تو قحط بڑھ جاتا ہے ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ وہی مینہ کا پانی ندیوں اور دریاؤں میں جمع ہوجاتا ہے اور اس پانی میں کشتیاں چلتی ہیں اور اس ملک کی پیداوار اس ملک میں اور اس ملک کی اس ملک میں ان کشتیوں کے ذریعہ سے دریاؤں میں چلی جاتی ہے ‘ اسی طرح جانور جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں ان کے ذریعہ سے طرح طرح کی تجارت خشکی میں ہوتی ہے ‘ آسمان جو اتنی بڑی چھت ہے اس کو بغیر ستون کے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جو اللہ کی حفاظت اور اس کے حکم سے کھڑا ہے ایسے خالق کو چھوڑ کر لوگ سوا اس کے اوروں کی پرستش یا عبادت جو کرتے ہیں اللہ چاہے تو آسمان کو پٹخ دیوے کہ تمام دنیا کے لوگ دب کر مرجاویں ‘ یا مینہ ضرورت سے زیادہ برسا دیوے کہ تمام دنیا غرق ہوجاوے یا بالکل نہ برساوے کہ قحط سے سب آدمی اور جانور ہلاک ہوجاویں ‘ غرض جو سامان آدمی کی زیست اور راحت کے ہیں اگر وہ خالق ان سب سامانوں کو اپنی قدرت سے ایک اندازہ پر نہ رکھے تو یہی سامان انسان اور دنیا کی ہلاکت کا سبب قرار پاسکتے ہیں ‘ ان نشانیوں کو ذکر فرما کر پھر فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان اور شفیق ہے ‘ باجود اس کے کہ انسان خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی پرستش کرتا ہے ‘ خدا کے عذاب کو بھول کر طرح طرح کے گناہ کرتا ہے اس پر بھی اللہ تعالیٰ انسان کی راحت کے سامان میں کچھ فرق نہیں ڈالتا بلکہ جس طرح شفیق آقا اپنے فرمانبردار غلام کی پرورش میں لگا رہتا ہے اس طرح اللہ تعالیٰ اس نافرمان غلام انسان کو پالتا اور پرورش کرتا ہے ‘ پھر فرمایا کہ انسان بڑا ناشکرہ ہے کہ نہ اس نے اس بات کی شکر گزاری کی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی راحت کے کیا کیا سامان پیدا کئے ہیں ‘ نہ اس بات کی شکر گزاری کی کہ باوجود نافرمانی کے اللہ تعالیٰ نے انسان کی راحت کے ان سامانوں کو بدستور جاری اور قائم رکھا ہے ‘ صحیحین ‘ مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ بردبار کوئی نہیں ہے۔ یہ لوگ اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور وہ ان کو تندرستی اور رزق دیتا ہے اور ان کی ہر طرح کی بلا کو ٹالتا ہے نافرمان لوگوں پر جلدی سے کوئی آفت جو نہیں آتی ‘ یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ نافرمان لوگوں کے کام اگرچہ اللہ کی مرضی کے موافق نہیں ہیں لیکن یہ اللہ کی بردباری ہے کہ اس نے ان نافرمان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے جلدی سے کوئی آفت ان پر نازل نہیں فرماتا ہے۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو حیات بخشی پھر تم کو مارتا ہے پھر تمہیں زندہ بھی کرے گا۔ اور انسان تو بڑا ناشکرا ہے

66:۔ اوپر انسان کی ضرورت کی چیزوں کے پیدا کرنے کا احسان جتلایا جاکر اس آیت میں خود انسان کے پیدا کرنے کا احسان جتلایا گیا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ انسان کی کچھ ہستی نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کو نسیت سے ہست کیا ‘ اس کی سب ضروری کی چیزوں کو پیدا کیا۔ انسان کی عمر کی ایک تعداد مقرر کی جس کے پورے ہوجانے کے بعد ہر شخص مرجاوے گا اور پھر وقت مقررہ پر سزا وجزا کے لئے ہر شخص کو دوبارہ زندہ کیا جاوے گا کہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے لیکن انسان ایسا ناشکرہ ہے کہ اللہ کے ان سب احسانات کو بھول کر اللہ کی تعظیم میں ایسے غیروں کو شریک کرتا ہے کہ نہ انہوں نے انسان کو پیدا کیا نہ انسان کی کسی ضرورت کی چیز کو پیدا کیا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے مغیرہ 1 ؎ بن شعبہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ رات کی نماز میں اللہ کے رسول ﷺ زیادہ کھڑے رہنے سے آپ ﷺ کے پاؤں سوج جاتے تھے لوگوں نے آپ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کردیئے ہیں ‘ پھر آپ عبادت میں اتنی کوشش کیوں کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا میں اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکریہ ادا نہ کروں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اللہ کا شریک نہیں اس لیے انسان پر خالص دل سے اکیلے اللہ کی تعظیم واجب ہے ‘ جو لوگ اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں ‘ ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گنہگار نہیں ‘ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ ہر شخص پر خالص دل سے اکیلے اللہ کی عبادت واجب ہے جو لوگ اس واجب میں خلل ڈالتے ہیں ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گنہگار نہیں۔ (1 ؎ مشکوٰۃ باب التحریض علی قیام اللیل۔ )
Ayahs 22:67–70

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہم نے ہر ایک امت کے لئے ایک شریعت مقرر کردی جس پر وہ چلتے ہیں تو یہ لوگ تم سے اس امر میں جھگڑا نہ کریں اور تم (لوگوں کو) اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہو بیشک تم سیدھے راستے پر ہو

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اگر یہ تم سے جھگڑا کریں تو کہہ دو کہ جو عمل تم کرتے ہو خدا ان سے خوب واقف ہے

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو خدا قیامت کے روز ان کا فیصلہ کر دے گا

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تم نہیں جانتے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے خدا اس کو جانتا ہے ؟ یہ (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ سب خدا کو آسان ہے

67۔ 70:۔ چند مشرکوں نے صحابہ ؓ سے جھگڑا کیا تھا کہ تم اپنے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھاتے ہو اور اللہ کا مارا ہوا جانور نہیں کھاتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ مفسروں نے ان آیتوں کے معنی دو طرح بیان کئے ہیں ‘ ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہر زمانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک شریعت قائم کی ہے ‘ کبھی شریعت موسوی ہے اور کبھی عیسوی اور کبھی محمدی ‘ اپنے اپنے زمانے میں ہر شریعت حق اور اللہ کی بھیجی ہوئی ایک شریعت ہے ‘ ایک شریعت کا حکم پکڑ کر دوسری شریعت کے حکم میں حجت کرنا ٹھیک نہیں ہے دوسرے معنی یہ ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ کے علم میں نیک وبد چھٹ چکے ہیں اس لیے ہر ایک گروہ اپنی تقدیری خو اور عادت پر اڑا ہوا ہے۔ مسئلہ تقدیر کی عمدہ تحقیق : غرض اس دوسرے معنی میں اللہ کے علم غیب کا اور اللہ کے اس علم غیب کے موافق جو کچھ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے قرار پایا ہے اس کا ذکر ہے اسی کو تقدیر کہتے ہیں ‘ آگے کی آیتوں میں یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں یہ سب کچھ لکھا ہوا ہے اس لیے دوسرے معنی قرآن کے مطلب کے موافق ہیں ‘ یہ تقدیر الٰہی اور علم الٰہی کا مسئلہ ایسا مشکل ہے کہ اس میں بہت لوگ بہک گئے ہیں اور طرح طرح کی غلطی میں پڑگئے ہیں ‘ چناچہ فلسفی لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں اور اپنے اس قول پر دلیل انہوں نے یہ پیش کی ہے کہ جزئی چیزیں بدلتی رہتی ہیں ‘ مثلا کبھی زید بھوکا ہے ‘ کبھی پیاسا ہے ’ کبھی بچپنے کی حالت میں ہے کبھی بڑھاپے کی حالت میں اگر زید کی ان سب حالتوں کا علم اللہ تعالیٰ کو ہوگا تو اللہ تعالیٰ کا علم بھی ہمیشہ گویا بدلتا رہے گا کیونکہ علم کی حالت بدلنے سے عالم کی حالت بھی بدل جاتی ہے علماء اسلام نے بہت آیتوں اور حدیثوں سے فلسفیوں کی عقلی دلیلوں کو غلط ٹھہرایا ہے اور عقلی جواب بھی دیئے ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہر جزئی حالت کو پیدا کرنے سے پہلے جان کر لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم کی نسبت یہ کہنا کہ علم کی حالت بدلنے سے عالم کی حالت بھی بدل جاتی ہے بالکل غلط ہے کس لیے کہ علم کی حالت بدلنے سے اس عالم کی حالت بدل جاتی ہے جو عالم اس حالت کو پہلے سے نہ جانتا ہو ‘ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم کی مثال ایسی ہے کہ جس طرح ایک گھڑی ساز ایک گھڑی کی عمر اور طرح طرح کی گھڑی کی حالت کو پہلے سے ذہن میں رکھ کر ایک گھڑی بنادے ‘ اب اس گھڑی کے تیار ہونے کے بعد اس گھڑی کی جس قدر حالتیں بدلیں گی ‘ ان سے اس گھڑی ساز کی حالت اس کے علم کی حالت کچھ نہ بدلے گی ‘ اس نے ان سب حالتوں کو پہلے ہی سے جان لیا ہے ‘ ہاں سوا اس گھڑی ساز کے اور لوگ جو اس گھڑی کا حال پہلے سے نہیں جانتے ‘ اس گھڑی کے نئے حال کے جاننے سے ان کے علم کی حالت اور خود ان کی حالت بدلے گی۔ اب اس مثال میں گھڑی ساز کے علم کی حالت اور اور لوگوں کی حالت کو ایک بتلانا جس طرح غلط ہے اسی طرح فلسفی لوگوں نے مخلوق کے علم کی حالت اور خالق کے علم کی حالت کو ایک جان کر ایک حالت کی جو دوسری حالت پر قیاس کیا ہے ‘ وہ بالکل غلط ہے ‘ یہ تو علم الٰہی میں فلسفی لوگوں نے جو غلطی کی ہے اس کا ذکر ہوا۔ اب تقدیر کے مسئلہ میں جبریہ اور قدریہ دونوں فرقوں نے غلطی کی ہے ‘ قدریہ لوگوں میں دو گروہ ہیں ایک گروہ تو تقدیر کو بالکل نہیں مانتا ‘ بلکہ یہ کہتا ہے کہ پہلے سے اللہ تعالیٰ نے کچھ نہیں لکھا ‘ بلکہ اب جو کچھ نیک وبد دنیا میں ہوتا ہے وہ بغیر اللہ کے پہلے سے لکھنے کے خود بندہ کرلیتا ہے ‘ دوسرا گروہ نیکی کو خدا کا فعل بتلاتا ہے اور بدی کو بندہ کا فعل کہتا ہے یہ عقیدہ پارسی لوگوں کے عقیدہ کے موافق ہے اسی واسطے قدریوں کے اس گروہ کو اس امت کے مجوس کہتے ہیں جبریہ فرقہ کا یہ عقیدہ ہے کہ بندہ کو اپنے فعل میں کچھ دخل نہیں ہے بلکہ وہ بمنزلہ ایک پتھر کے ہے ‘ جو کچھ نیک و بد کام بندہ کرتا ہے ‘ وہ خود خدا کرتا ہے ‘ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ دنیا میں امتحان کے لیے نیک وبد سب کچھ اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے اور بندہ کو ہر طرح کے فعل کا مختار کیا ہے ‘ جیسا کہ بندہ کرے گا ‘ ویسا ہی پھل پاوے گا اور علمائے اہل سنت نے جبریہ اور قدریہ دونوں مذہب کے لوگوں کی غلطیاں حدیث کی شرحوں اور عقائد کی کتابوں میں نقلی اور عقلی دلیلوں سے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں۔ یہاں ان کے بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ حکم اور عمرہ کی قربانی کے وقت اور روز مرہ جانوروں کے ذبح کے وقت جو لوگ مردار جانوروں کا گوشت جائز ٹھہرانے کے لیے یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ مسلمان غلطی پر ہیں جو اللہ کے مارے ہوئے جانور کا گوشت نہیں کھاتے اور اپنے ہاتھ کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت کھاتے ہیں اور لوگوں کی ایسی حجتیں پیش کرنے کا سبب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے اس کے موافق دنیا میں ہر فرقہ کا طریقہ پایا جاتا ہے ‘ اس واسطے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں کو ذبح کے باب میں اللہ کا حکم سنا دو کیونکہ جس طریقہ پر تم ہو وہ اللہ کا بتایا ہوا سیدھا راستہ ہے اور جس طریقہ پر یہ لوگ ہیں وہ بےسند طریقہ ہے اس پر بھی جو لوگ جھگڑے سے باز نہ آویں تو ان لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ ہمارا تمہارا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو ہو کر اس فیصلہ کے بعد حق ونا حق ہر ایک کو معلوم ہوجاوے گا اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو غیب کا علم نہیں ہے اس واسطے دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے تمام دنیا کا قیامت کے حال کا لوح محفوظ میں لکھا جانا ان کو مشکل معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اس لیے دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے تمام دنیا کا حال لوح محفوظ میں لکھ دینا اس کے نزدیک آسان ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کا حال لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے کس قدر مدت پہلے تمام دنیا کا حال لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے۔
Ayahs 22:71–72

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور (یہ لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی اس نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی اور نہ انکے پاس اس کی کوئی دلیل ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو (ان کی شکل بگڑ جاتی ہے اور) تم ان کے چہروں پر صاف طور پر ناخوشی کے (آثار) دیکھتے ہو قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ انکو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں کہہ دو کہ میں تم کو اس سے بھی بری چیز بتاؤں ؟ وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا خدا نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور (وہ) برا ٹھکانا ہے

71۔ 72:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ اسی کے موافق ہر فرقہ کا طریقہ دنیا میں پایا جاتا ہے ‘ اس بات کو پورا کرنے کے لیے ان آیتوں میں مشرکین مکہ کے غلط طریقہ کا حال بیان فرمایا کہ یہ لوگ رات دن بت پرستی کی کوئی سند نہیں ہے ‘ پھر فرمایا بت پرستی کے جائز ہونے پر کوئی سند نقلی موجود نہ ہونے کے علاوہ ان لوگوں کے پاس کوئی عقلی سند بھی بتوں کے معبود ٹھہرانے کی نہیں ہے کیونکہ یہ بت تو پتھر کی مورتیں ہیں ‘ ان میں نہ بولنے چالنے کی طاقت ہے نہ اپنی پوجا کرانے کی خواہش ‘ اب رہے وہ لوگ جن کی شکل کی یہ مورتیں ہیں وہ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہیں اس لیے ان ظالم بت پرستوں کا دنیا اور عقبیٰ میں کوئی یارو مددگار نہیں ‘ آگے فرمایا کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں جو لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ جب ان کو بت پرستی کی مذمت کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو غصہ سے ان کے چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے اور بتوں کی مذمت کی آیتیں سنانے والوں پر حملہ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ اس سے بھی زیادہ غصہ اور چہرہ کا رنگ بدل جانے کی چیز دوزخ کی وہ آگ ہے جس میں جھونکنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ایسے منکر شریعت لوگوں سے کیا ہے اور یہ خوب یاد رہے کہ ایسے لوگوں کے حق میں دوزخ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ صحح بخاری ومسلم میں انس بن مالک سے اور فقط ترمذی وغیرہ میں ابوذر ؓ سے جو 1 ؎ روایتیں ہیں ‘ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ دوزخ کے عذاب کا جو حال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ پورا حال لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو لوگ بستی اور بال بچوں کو چھوڑ کر جنگل میں نکل جاویں اور سوائے رونے کے اور کچھ کام ان کو نہ رہے ‘ دوزخ کے بہت ہی برا ٹھکانہ ہونے کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ (1 ؎ الترغیب والترہیب ص 264۔ 265 ج 4 طبع مصر 1388 ھ )
Ayahs 22:73–74

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو ! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو کہ جن لوگوں کو خدا کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں اور اگر ان سے کوئی مکھی چھین کرلے جائے تو اسے اس سے چھڑا نہیں سکتے طالب اور مطلوب (یعنی عابد اور معبود دونوں) گئے گزرے ہیں

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

ان لوگوں نے خدا کی قدر جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی کچھ شک نہیں کہ خدا زبردست اور غالب ہے

73۔ 74:۔ اوپر ذکر تھا کہ جب ان بت پرستوں کو بتوں کی مذمت کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو ان آیتوں کے سنانے والے مسلمانوں پر یہ مشرک حملہ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ‘ ان آیتوں میں مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ مشرک جن بتوں کی مذمت سے ایسے جڑتے ہیں ‘ آخر وہ بت اپنے پوجا کرنے والوں کی کیا مدد کرسکتے ہیں وہ تو ایسے عاجز ہیں کہ تمام دنیا کے بت بھی جمع ہوجاویں تو اللہ کی مخلوقات میں کی ایک ادنیٰ چیز مکھی کو بھی نہیں پیدا کرسکتے بلکہ مکھی کا پیدا کرنا تو درکنار یہ بت زعفران پانی میں گھول کر خوشبو کے لیے ان بتوں پر جو مل دیتے ہیں اور مکھیاں اس کو چاٹنا اور اس کے ریزے منہ میں لے کر اڑنا شروع کردیتی ہیں تو یہ بت ان ریزوں کو بھی مکھی کے منہ سے نہیں چھڑا سکتے ‘ اس واسطے اگرچہ مکھی اللہ کی ایک ناچیز اور عاجز مخلوق ہے لیکن یہ بت تو ایسے عاجز ہیں کہ ایک مکھی کا بھی مقابلہ نہیں کرسکتے رہی یہ بات کہ جن نیکوں کی شکل کی یہ پتھر کی مورتیں ہیں عقبیٰ میں وہ نیک لوگ ان مورت پرستوں کے کچھ کام نہ آئیں گے کیونکہ ان مشرکوں کو پہلے ہی سمجھا دیا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ نیک لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجاویں گے مَاقَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ لوگ ایسی عاجزی کی چیزوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں تو اللہ کی قدرت کے پہچاننے سے ایسے لوگ بالکل بےبہرہ ہیں اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مشرک اللہ کے علم غیب میں گمراہ اور دوزخی ٹھہر چکے ہیں وہ ایسی ہی بدحواسی کی باتیں کرتے ہیں کہ اللہ جیسے زبردست معبود کو چھوڑ کر خیالی چیزوں کی پوجا کو اچھا جانتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب میں دوزخی قرار پاچکے ہیں ان کو برے کام آسان اور اچھے معلوم ہوتے ہیں ‘ حدیث کے اس ٹکڑے سے آیتوں کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں کے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی ٹھہر چکے ہیں ‘ اگرچہ قرآن کی کھلی کھلی مثالوں سے ان کو بت پرستی کی برائی سمجھائی گئی لیکن مرتے دم تک وہ لوگ بت پرستی کو ہی اچھا جانتے رہے۔
Ayahs 22:75–76

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

خدا فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے منتخب کرلیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے وہ اس سے واقف ہے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے

75۔ 76:۔ سورة الزخرف میں آوے گا کہ اکثر مشرکین مکہ جب یہ سمجھ گئے کہ جس طریقہ پر وہ لوگ ہیں ‘ ملت ابراہیمی کے وہ طریقہ بالکل خلاف ہے تو ان لوگوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ہم لوگ مالدار اور محمد ﷺ تنگ دست ہیں اس واسطے مکہ کے ولید بن مغیرہ یا طائف کے عمرو بن مسعود جیسے مالدار شخص کو ہم اپنا رسول بنانا اور اس سے ملت ابراہیمی کو سیکھنا چاہتے ہیں مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے سورة الزخرف میں تفصیل سے دیا ہے اور یہاں مختصر طور پر اتنا ہی جواب دیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ اللہ کی قدرت کے پہچاننے سے بےبہرہ ہیں اسی طرح اللہ کی حکمت کا علم ان لوگوں کو نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا اپنی حکمت کے موافق فرشتوں اور بنی آدم میں سے رسول بنایا ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی حکمت کا نہ کچھ بھید معلوم ہے نہ ان کو اللہ تعالیٰ کی حکمت میں فضل دینے کا کچھ حق حاصل ہے۔ صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے ایک مری ہوئی بکری کو پڑا ہوا دیکھ کر فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کے مال ومتاع کی قدر اس بکری سے بھی کم ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ فقط مالداری کے سبب سے ولیدبن مغیرہ اور عمرو بن مسعود کو مشرکین مکہ قابل نبوت جو خیال کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشرکین مکہ کا یہ خیال غلط تھا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کی مالداری کچھ قابل قدر چیز نہیں ان اللہ سمیع بصیر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول کو تنگدست خیال کر کے یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول کی شان میں جو باتیں بناتے ہیں وہ اللہ سب سنتا ہے اور اللہ کے رسول ان باتوں پر صبر جو کرتے ہیں اس کو بھی اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے ‘ آگے فرمایا سب چیزیں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہیں ‘ اس لیے کسی کا حاضر و غائب کوئی حال اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ کتاب الرقاق ‘ فصل اول )
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

مومنو ! رکوع کرتے اور سجدے کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ

77:۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس وقت کوئی آدمی سجدہ کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے اور رو کر یہ کہتا ہے کہ افسوس انسان کو سجدہ کا حکم ہوا اور اس نے اس حکم کی تعمیل کی اس سبب سے وہ جنت کا مستحق ٹھہرا اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا ‘ میں نے اس حکم کی نافرمانی کی ‘ اس سبب سے میں دوزخ کے قابل ٹھہرا ‘ اگرچہ بعض علماء نے اس سورت میں دو سجدے ہونے کے باب میں اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سورت میں ایک ہی سجدہ ہے لیکن امام احمد بن حنبل اور ترمذی اور ابوداود وغیرہ کی روایتوں میں خود صاحب وحی ﷺ سے اس سورت میں دو سجدے ہونے کی صراحت آچکی ہے لیکن اس باب میں عبداللہ بن عمرو بن العاص اور عقبہ بن عامر کی 3 ؎ روایتوں کے سوا اور کوئی روایت نہیں ہے اور ان دونوں روایتیں کی سند کو علماء نے ضعیف قرار 4 ؎ دیا ہے ‘ اچھے کاموں میں لگے رہنا اور برے کاموں سے بچنا بھلائی میں یہ سب داخل ہے۔ (2 ؎ مشکوٰۃ باب السجودو فضلہ ‘ فصل اول ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 211 ج 3 ) (4 ؎ تاہم حافظ ابن کثیر (رح) کا فیصلہ یہ ہے کہ سب مل کر مضبوطی ہوجاتی ہے فھذہ شواھذ یشھد بعضھا بعضا (ص 212 ج 3) ؎ تفسیرابن کثیر ص 211 ج 3 )
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور خدا (کی راہ) میں جہاد کرو جیسا جہاد کرنے کا حق ہے اس نے تم کو برگذیدہ کیا ہے اور تم پر دین (کی کسی بات) میں تنگی نہیں کی (اور تمہارے لئے) تمہارے باپ ابراہیم کا دین (پسند کیا) اسی نے پہلے (یعنی پہلی کتابوں میں) تمہارا نام مسلمان رکھا تھا اور اس کتاب میں بھی (وہی نام رکھا ہے تو جہاد کرو) تاکہ پیغمبر تمہارے بارے میں شاہد ہوں اور تم لوگوں کے مقابلے میں شاہد ہو اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور خدا کے (دین کی رسی) کو پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست اور خوب مددگار ہے

78:۔ جہاد کے معنی محنت ومشقت کے ہیں ‘ خواہ وہ محنت ومشقت دین کی لڑائی میں ہو یا دین کے اور کاموں میں ہو ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ ضعف اسلام کے سبب سے جہاں مسلمانوں کو ہاتھ پیر سے دین کی لڑائی کے لڑنے اور خلاف شریعت بات کے مٹانے کی قوت نہ ہو تو زبانی نصیحت سے خلاف شریعت بات کو مٹانے کی کوشش کی جاوے اگر یہ قوت بھی نہ ہو تو ایماندار شخص کے لیے یہ ضعیف درجہ ایمان کا ہے کہ اس خلاف شریعت بات کو دل سے برا جانے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اس ضعف اسلام کے زمانہ میں زبانی وعظ ونصیحت کی محنت ومشقت کا بار اٹھانا ہی بڑا جہاد ہے ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ امت محمدیہ کے دیندار لوگو ! اللہ تعالیٰ نے اس آخری آسان شریعت پر عمل کرنے کے لیے تم کو پسند کیا ہے اس لیے اس شریعت کی پابندی خوب محنت ومشقت سے کرو پچھلی شریعتوں میں بعضی باتیں سخت تھیں مثلا پچیس روپے سینکڑہ زکوٰۃ ‘ یا نماز کے لیے خاص جگہ کا مقرر ہونا ‘ اس شریعت میں زکوٰۃ فقط ڈھائی روپے سینکڑہ ہے اور جہاں پاک زمین مل جاوے ‘ وہاں نماز ہوجاتی ہے ‘ اسی واسطے فرمایا اس دین میں کسی طرح کی تنگی نہیں ہے ‘ شریعت ابراہیمی اور شریعت محمدی کے اکثر مسئلے ملتے جلتے ہیں اس لیے فرمایا یہ شریعت ملت ابرہیمی کی مانند ہے ‘ ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ بنانے کے وقت الہام الٰہی کے موافق اپنی ادلاد میں ایک رسول اور فرمانبردار امت کے پیدا ہونے کی جو دعا کی تھی ‘ اس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے ‘ اسی کو فرمایا کہ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں امت محمدیہ کا نام امت مسلمہ قرار دیا اور پھر قرآن میں بھی ان لوگوں کا یہی نام جگہ جگہ لیا گیا ہے۔ مسند امام احمد ‘ صحیح بخاری ‘ ترمذی وغیرہ کی روایتوں کے حوالہ سے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ سوائے امت محمدیہ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے نبیوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گی اور یہ کہیں گی کہ یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا کوئی حکم نہیں پہنچایا ‘ اس پر امت محمدیہ کے نیک لوگ یہ کہیں گے کہ یا اللہ تو نے ہمارے نبی آخری الزمان پر جو قرآن اتارا تھا ‘ اس میں پہلے نبیوں اور پہلی امتوں کا سب ذکر ہے اس واسطے ہم گواہی دیتے ہیں کہ سب نبیوں نے اپنی اپنی امتوں کو تیرا حکم پہنچا دیا۔ اس کے بعد خاتم الانبیاء ﷺ قرآن کے حوالہ سے اپنی امت کی گواہی کی تائید فرماویں گے ‘ اگرچہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کے علم سے کوئی بات باہر نہیں ہے لیکن اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والے لوگوں کو اس گواہی سے قیامت کے دن قائل کیا جاوے گا جس گواہی کا ذکر اس آیت میں اور اس کی تفسیر ان روایتوں میں ہے اس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اے امت محمدیہ کے دیندار لوگو ! تم کو خاتم الانبیاء ﷺ کی امت اور قرآن کے پیرو اس واسطے بنایا گیا ہے کہ قیامت کے دن تم کو ایک خاص گواہی کے ادا کرنے کی عزت تمام اہل محشر کی روبرو دی جاوے گی ‘ آخر کو فرمایا ‘ اس عزت کے حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ تم نماز ‘ زکوٰۃ اور آئندہ جو احکام نازل ہوں ان کے پورے پابند رہو اور اسی دین کی پابندی پر خاتمہ بخیر ہونے کا اللہ پر بھروسہ رکھو ‘ کیونکہ ہر حال میں انسان کا اللہ ہی حامی و مددگار ہے اس کی مدد کے بغیر نہ انسان سے کوئی نیک کام ہوسکتا ہے نہ مرتے دم تک کسی نیک حالت پر انسان قائم رہ سکتا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت اس تفسیر میں ذکر کی گئی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ کہ رسول کی جان پہچان کے کچھ لوگوں کو فرشتے حوض کوثر سے گھسیٹ کر دوزخ میں لے جائیں گے ‘ یہ حالت دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کہیں گے یہ لوگ تو میرے صحابہ میں سے ہیں وہ فرشتے جواب دیں گے آپ کے بعد مرتے دم تک یہ لوگ نیک حالت دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کہیں گے یہ لوگ تو میرے صحابہ میں سے ہیں وہ فرشتے جواب دیں گے آپ کے بعد مرتے دم تک یہ لوگ نیک حالت پر نہیں رہے ‘ اس نبوت کے دور ہوجانے کے زمانہ میں مرتے دم تک نیک حالت پر قائم رہنے کی دعا جس قدر ہر مسلمان کو ضروری ہے ‘ اس کا حال اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے۔