23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 23:1–11

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:1 in the Quran reader

بیشک ایمان والے رستگار ہوگئے

الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ Open ayah 23:2 in the Quran reader

جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ Open ayah 23:3 in the Quran reader

اور جو بےہودہ باتوں سے منہ موڑتے رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ Open ayah 23:4 in the Quran reader

اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ Open ayah 23:5 in the Quran reader

اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں

اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ Open ayah 23:6 in the Quran reader

مگر اپنی بیویوں یا (کنیزوں سے) جو ان کی ملک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انھیں ملامت نہیں

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ Open ayah 23:7 in the Quran reader

اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ Open ayah 23:8 in the Quran reader

اور جو امانتوں اوراقراروں کو ملحوظ رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ Open ayah 23:9 in the Quran reader

اور جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ Open ayah 23:10 in the Quran reader

یہی لوگ میراث حاصل کرنے والے ہیں

الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 23:11 in the Quran reader

(یعنی) جو بہشت کی میراث حاصل کریں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے

1۔ 11:۔ امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ نسائی اور مستدرک حاکم میں حضرت عمر ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس سورت کے شروع کی یہ دس آیتیں جب نازل ہوئیں تو آنحضرت ﷺ نے 2 ؎ دعا مانگی ‘ جس دعا کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ اپنی نعمت کو روز بروز ہم پر بڑھا اور اپنی نعمت سے ہم کو محروم نہ رکھ اور اپنی رضا مندی کے کام ہم سے لے اور پھر آپ نے ان آیتوں کو پڑھ کر فرمایا جو کوئی اس دس آیتوں کے موافق عمل کرے گا بلا شک جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور صحابہ ؓ نے ان آیتوں کی جو تفسیر 3 ؎ کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آدمی کا ایمان مضبوط ہونا چاہیے اور نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر نظر نہ ڈالنی چاہیے بلکہ سجدہ کی جگہ نظر جمی رکھنی چاہیے صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 4 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص نماز پڑھنے میں ادھر ادھر دیکھتا ہے اس کی نماز میں شیطان کا ساجھا رہتا ہے ‘ معتبر سند سے ترمذی اور نسائی میں حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نماز پڑھنے والا شخص جب تک ادھر ادھر نظر نہیں ڈالتا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف متوجہ رہتا ہے ‘ نماز کے ذکر کے بعد یہ ذکر ہے کہ گناہوں سے آدمی کو بچنا چاہیے ‘ امانت اور عہد کا پاس رکھنا چاہیے ‘ روزہ اور حج ہجرت کے بعد فرض ہیں اس لئے اس مکی سورت میں ان دونوں فرضوں کا ذکر نہیں ہے ‘ غرض یہ خصلتیں جس شخص میں ہوں اس کو فرمایا کہ وہ جنتی ہے قرآن شریف میں جگہ جگہ اچھے لوگوں کو جنت کا وارث جو فرمایا ہے اس تفسیر میں حدیث ابوہریرہ ؓ کی صحیح روایت 1 ؎ سے یوں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لیے جنت اور دوزخ دونوں جگہ مکان بنائے ہیں ‘ شرک اور گنہگاری کے سبب سے جو لوگ جنت سے محروم رہ کر ہمیشہ دوزخ میں رہنے کی سزا پاویں گے ان کے نام کے جنت میں جو مکان لاوارث خالی پڑے رہ جاویں گے ان مکانوں کے وارث بھی اچھے لوگ ٹھہریں گے اس لیے اچھے لوگوں کو جنت کا وارث ٹھہرایا ‘ صحیح سند سے مسند امام احمد میں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث 2 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قبر میں منکر نکیر کے سوال کے بعد اچھے لوگوں کو دوزخ دکھا کر یہ کہا جاتا ہے کہ اس برے ٹھکانے سے اللہ تعالیٰ نے تم کو محفوظ رکھا اور برے لوگوں کو جنت دکھا کر یہ کہا جاتا ہے کہ ایسے اچھے اور عمدہ ٹھکانے سے تم محروم رہے ‘ اس حدیث سے بھی ہر ایک شخص کے لیے جنت اور دوزخ دونوں جگہ میں ٹھکانے کا ہونا ثابت ہوتا ہے ‘ بعضے مفسروں نے یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ ان آیتوں میں نماز کا ذکر دو دفعہ آیا ہے جواب اس کا یہ ہے کہ ایک جگہ نماز کے ارکان کو پورے طور پر ادا کرنے کا ذکر ہے اور دوسری جگہ نماز کو وقت پر پڑھنے کا ذکر ہے ایک بات کا ذکر دو دفعہ نہیں ہے مستدرک حاکم ‘ مسند سعید بن منصور ‘ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن مردویہ میں ابوہریرہ ؓ سے صحیح روایت 3 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے آنحضرت ﷺ اور صحابہ ؓ نماز پڑھنے کے وقت کبھی آسمان کی طرف اور کبھی ادھر ادھر دکھا کرتے تھے جب سے یہ آیتیں اتریں تو نیچے نگاہ رکھنے لگے ” نوے “ کے معنی نیچے کے ہیں ترجمہ میں خشعون کا ترجمہ ” نوے “ جو کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ نماز پڑھتے وقت ان کی نگاہ نیچے رہتی ہے وہ ادھر ادھر نظر نہیں ڈالتے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے امانت میں خیانت کرنے اور عہد پر قائم نہ رہنے کو منافق کی نشانی فرمایا ہے اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ ان پکے ایماندار لوگوں میں منافقوں کی سی عادتیں نہیں ہیں۔ صحیح مسلم میں ابو سعید خدری ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایتیں 5 ؎ ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اہل جنت کے جنت میں داخل ہونے کے بعد فرشتے ان کو حکم سناویں گے کہ اب تو تم ہمیشہ اسی عیش و آرام میں رہو گے ‘ نہ کبھی بیمار پڑو گے ‘ نہ موت کا صدمہ ہوگا ‘ یہ حدیث ھم فیھا خلدون کی گویا تفسیر ہے ‘ علماء اس بات کے قائل ہیں کہ زکوٰۃ کا حکم مکہ میں نازل ہوا ہے اور اس کے وصول کا انتظام مدینہ میں آنے کے بعد کیا گیا 1 ؎ ان مکی آیتوں میں زکوٰۃ کا جو ذکر آیا ہے ‘ اس سے ان علماء کے قول کو پوری تائید ہوتی ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیرص 237 ج 3 و تفسیر الدرا المنثورص 2 ج 5 ) (2 ؎ الفاظ یہ ہیں اَللّٰھُمَّ زِدْنَا وَلاَ تَنْقُصْنَا وَاکْرِمْنَا وَلَا تِھُنَّا وَاَعْطِنَاوَ لَا تَحْرِ مْنَا وَاٰثَرْنَا وَلاَ تُوْثِرْ عَلَیْنَا وَاْرضَ عَنَّا وَاَرْضِنَا۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 238 ج 3 ) (4 ؎ مشکوٰۃ ص 90 ) (1 ؎ الدر المنثور ص 5 ج 5 ) (2 ؎ الترغیب والترہیب ص 364 ج 4 ) (3 ؎ الدر المنثور ص 5 ج 5 ) (5 ؎ مشکوٰۃ ص 496 باب صنقہ الجنۃ واہلہا۔ ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 239 ج 3 )
Ayahs 23:12–17

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ Open ayah 23:12 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے

ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪ Open ayah 23:13 in the Quran reader

پھر اس کو اس کو مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا

ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ Open ayah 23:14 in the Quran reader

پھر نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا پھر اس کو نئی صورت میں بنادیا تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا بابرکت ہے

ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ Open ayah 23:15 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تم مرجاتے ہو

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:16 in the Quran reader

پھر قیامت کے دن اٹھا کھڑے کئے جاؤ گے

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ Open ayah 23:17 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے اوپر (کی جانب) سات آسمان پیدا کیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں

12۔ 17:۔ ابوداود، ترمذی کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت جس روایت کو ابن حبان نے صحیح بتلایا 2 ؎ ہے اوپر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی مٹی ساری زمین سے ہر طرح کی اچھی بری ‘ سخت نرم سب سے لی تھی ‘ اسی تاثیر سے مختلف مزاج مختلف عادت کے انسان اولاد آدم میں پیدا ہوئے اور قیامت تک پیدا ہوں گے ‘ غرض اب دیکھنے میں اگرچہ آدمی کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن اس کی پیدائش میں مٹی کا اثر بھی ہے جو حضرت آدم سے لے کر قیامت تک سلسلہ بہ سلسلہ چلا آتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کی پیدائش کی اصل مٹی اور منی دونوں چیزیں فرمائی ہیں ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ مسند بزار ‘ صحیح ابن حبان میں جو حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی مٹی لے کر اس کا خمیر کیا ‘ پھر پتلا بنا کر چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس پتلے کی مٹی خوب سوکھ کر کھن کھن بولنے لگی ‘ جب اس میں روح پھونکی پہلے پہل روح حضرت آدم ( علیہ السلام) کی آنکھوں اور ناک نتھنوں میں آئی جس سے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو چھینک آئی اور انہوں نے الحمد للہ کہا اور خود اللہ تعالیٰ نے یرحمک اللہ فرمایا ‘ روح پھونکنے سے پہلے اس پتلے کو شیطان نے دیکھ کر کہا تھا کہ یہ پتلا کسی بڑے کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا 4 ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ پتلے کو اندر سے خالی دیکھ کر شیطان یہ بھی کہا کرتا تھا کہ اگر اس پتلے میں جان پڑی تو اس کے پیٹ میں بات نہ ٹھہرے گی۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود کی جو روایت 5 ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عورتوں کو خوش اخلاقی سے رکھنا چاہیے ‘ عورتوں کے مزاج میں ایک طرح کی کجی اس وجہ سے ہے کہ عورت کی پیدائش پسلی سے ہے اور پسلی کی ہڈی ٹیڑھی ہی ہوتی ہے۔ سیرت ابن اسحاق کی روایت اور روایتوں 6 ؎ میں اس حدیث کی صراحت یوں آئی ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے حضرت حوا ( علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی اب حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا ( علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ نے دنیا عالم اسباب میں انسان کا یہ سبب ٹھہرا دیا ہے کہ عورت اور مرد میں مباشرت ہو کر دونوں کے نطفے سے انسان کی نسل بڑھی ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 7 ؎ کا حاصل یہ ہے کہ نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے ‘ پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور ہڈیاں اسی گوشت سے بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے اور پتلا تیار ہوجاتا ہے ‘ غرض چار ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر پتلے میں اللہ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے اس کو اس پتلے کی عمر ‘ رزق ‘ نیک وبد لکھنے کا اللہ کا حکم جس طرح ہوتا ہے وہ فرشتہ اس کہ موافق لکھ لیتا ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس عادتی سبب نطفہ سے جو انسان پیدا ہوتے ہیں ‘ ان کا اور حضرت آدم ( علیہ السلام) اور حوا ( علیہ السلام) بغیر اس سبب عادتی کے پیدا ہوئے تھے ‘ ان دونوں کا ذکر فرمایا ہے تاکہ حشر میں کسی کو شک نہ رہے اور سمجھنے والا سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کسی طرح کی پیدائش باہر نہیں ہے۔ اس آیت اور صحیح حدیث سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ انسان کی پیدائش نطفہ سے ہے تو اس کے مخالف اہل تشریح نے محض عقل سے یہ جو کہا ہے کہ مرد کے نطفہ کو بچہ کی پیدائش میں کچھ زیادہ دخل نہیں ہے ‘ بچہ تو حیض کے خون سے بنتا ہے۔ مرد کا نطفہ ایک ضامن ہے جو عورت کی منی کو جما دیتا ہے ‘ وہ ایک غلط قول ہے کیونکہ ایسی غیب کی باتیں محض عقل و قیاس سے صحیح طور پر معلوم نہیں ہوسکتی ہیں صحیح وہی ہے جو خود خالق انسان اور خالق کے رسول صاحب وحی ﷺ نے فرمایا ہے ‘ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عمر ؓ سے جو روایت 1 ؎ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ انسان کی پیدائش کی آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ کی زبان سے نکلا فتبارک اللہ احسن الخلقین یہ ٹکڑا آخر آیت کا اللہ تعالیٰ نے پھر حضرت عمر ؓ کے اس قول کے موافق نازل فرمایا ثم انشانہ خلقا اخر کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ ہے کہ پتلے کے تیار ہوجانے کے بعد پھر اس پتلے میں روح پھونکی گئی ‘ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اسی کو صحیح ٹھہرایا 2 ؎ ہے ‘ آگے فرمایا اس انسان کا اس طرح پیدا کرنا اور اس کی عمر کی ایک مدت کا ٹھہرانا کھیل تماشہ کے طور پر نہیں ہے کہ ہر شخص جب مر کر خاک ہوجاوے تو پھر اس کی خبر نہ لی جاوے کہ عمر بھر اس نے اپنی پیدائش کے بعد دنیا بھر کے لوگوں کو ایک ہی دفعہ دوبارہ پیدا کیا جا کر نیکی وبدی کو جزا وسزا کا فیصلہ کیا جاوے گا۔ آگے آسمانوں کی پیدائش کے شکریہ میں اپنے پیدا کرنے والے کی مرضی کے موافق کچھ کام کیے یا نہیں اس لیے دنیا کی عمر ختم ہوجانے اور اس کے اجڑ جانے کا ذکر فرما کر یہ جتلایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اس حال سے بیخبر نہیں کہ وہ گر کر زمین اور اہل زمین کو برباد نہ کردیں ‘ اسی طرح ہر شخص کے نیک وبد کاموں سے بھی وہ غافل نہیں ہے اس کو سب کے عملوں کی خبر ہے جس کا نتیجہ وقت مقررہ پر سب کو معلوم ہوجائے گا۔ طریقہ کے معنی راستہ کے ہیں ‘ طرائق اسی کی جمع ہے ‘ کئی منزل کی عمارت کو اہل عرب طرائق اسی لیے کہتے ہیں کہ اوپر کی منزل کا راستہ نیچے کی منزل میں سے ہوا کرتا ‘ ساتوں آسمانوں کی بناوٹ بھی کئی منزل کی عمارت کی طرح ہے کیونکہ پہلا آسمان جس طرح سے دنیا کی چھت ہے اسی طرح ہر ایک آسمان دوسرے مسلمان کی چھت ہے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے اسی واسطے سات آسمانوں کو سات راہیں فرمایا ‘ مسند امام احمد ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ ؓ سے روایتیں 1 ؎ ہیں ‘ جن میں ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانسو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے۔ (2 ؎ فتح الباری ص 219 ج 3 ) (3 ؎ صتح الباری بات حلق آدم وزریتہ ص 219 ج 3 ) (4 ؎ ایضا ) (5 ؎ صحیح بخاری بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ (6 ؎ فتح الباری ص 222 ج 3 ) (7 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 241 ج 3 و صحیح بخاری مع الفتح ص 232 ج 3۔ ) 1 ؎ الدر المنثورص 7 ج 5 و تفسیر ابن کثیر ص 241 ج 3 ) (2 ؎ تفسیر ابن جریر ص 11 ج 18۔ ) (1 ؎ فتح الباری ص 188 ج 3 باب ماجاء فی سبع ارضین الخ۔ )
Ayahs 23:18–22

وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ Open ayah 23:18 in the Quran reader

اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی نازل کیا پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کے نابود کردینے پر قادر ہیں

فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:19 in the Quran reader

پھر ہم نے اس سے تمہارے لئے کھجوروں کے باغ بنائے ان میں تمہارے لئے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے بھی ہو

وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ Open ayah 23:20 in the Quran reader

اور وہ درخت بھی (ہم ہی نے پیدا کیا) جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت کہ) کھانے والوں کے لئے روغن اور سالن لئے ہوئے اگتا ہے

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ Open ayah 23:21 in the Quran reader

اور تمہارے لئے چارپایوں میں عبرت (اور نشانی) ہے کہ جو ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو

وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ Open ayah 23:22 in the Quran reader

اور ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو

18۔ 22:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے سب مرے ہوئے لوگوں کی مٹی سے ان کے جسم اسی طرح تیار ہوجاویں گے جس طرح اب مینہ برس کی بیج سے کھیتی تیار ہوجاتی ہے ‘ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ حشر کے دن ریڑھ کی ہڈی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا جسم کے تیار ہوجانے میں ایسا ہی کام دے گا جیسے اب اناج کا بیج کھیتی کی تیاری میں کام دیتا ہے ‘ اس حدیث کا جہاں ذکر آیا ہے وہاں اس تفسیر میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ قرآن میں حشر کے ذکر کے ساتھ مینہ کا ذکر جو آیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ ان منکرین حشر کے نزدیک حشر بڑی چیز ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو ہر سال کی کھیتی اور حشر برابر ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیک وبد کی جزا وسزا کی حکمت سے پیدا کیا ہے کھیل تماشہ کے طور پر نہیں پیدا کیا اسی طرح مینہ بھی حکمت سے ضرورت کے موافق برساتا ہے ‘ نہ ایسا بہت برستا ہے جس سے کھیتوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچ جاوے ‘ نہ ایسا تھوڑا کہ کھیتوں اور باغوں کو کافی نہ ہو ‘ زمین میں پانی کے ٹھہرنے کا یہ مطلب ہے کہ زمین کے اندر پانی ٹھہر کر اناج کے بیج اور میوے کی گٹھلی کو تری پہنچاتا ہے اور تالابوں وغیرہ میں جو پانی ٹھہر جاتا ہے وہ آدمیوں اور جانوروں کے پینے میں آتا ہے ‘ پھر فرمایا ‘ یہ بات بھی اللہ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ زمین کے اندر اور تالابوں کے اندر کا پانی سوکھا دے جس سے کھیتی اور جانوروں کو نقصان پہنچ جاوے ‘ مدینہ کے اطراف میں کھجور کی اور طائف میں انگور کی بہت پیداوار ہے اس لیے خاص طور پر ان دونوں چیزوں کا نام لیا ‘ عرب لوگ کھجوروں اور انگوروں کی تجارت بھی کرتے اور کھاتے بھی تھے اس واسطے کھانے کا نام جدا لیا ‘ یہ سینا پہاڑ شام کے ملک کا وہی پہاڑ ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت اور تورات ملی ہے اس جنگل میں زیتون کے درخت بہت ہوتے ہیں ‘ اس واسطے اس پہاڑ کے پتہ سے زیتون کے درخت کا ذکر فرمایا۔ اس درخت کا پھل روئی کے ساتھ کھایا بھی جاتا اور اس کا تیل بھی نکلتا ہے ‘ آگے چوپایوں کے دودھ کے پینے ‘ ان کے گوشت کے کھانے ان پر سواری کے کرنے کی نعمتوں کا ذکر فرما کر یہ بھی فرمایا کہ جس طرح خشکی میں لوگ چوپایوں پر سواری کرتے ہیں ‘ دریا میں وہی حال کشتی کا ہے۔
Ayahs 23:23–30

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:23 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان سے کہا کہ اے قوم ! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں ؟

فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ Open ayah 23:24 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اگر خدا چاہتا تو فرشتے اتار دیتا ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو یہ بات کبھی نہیں سنی تھی

اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:25 in the Quran reader

اس آدمی کو تو دیوانگی (کا عارضہ) ہے تو اسکے بارے میں کچھ مدت انتظار کرو

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:26 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ پروردگار مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 23:27 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی بناؤ پھر جب ہمارا حکم آپہنچے اور تنور (پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب (قسم کے حیوانات) میں سے جوڑا جوڑا (یعنی نر اور مادہ) دو دو کشتی میں بٹھا دو اور اپنے گھر والوں کو بھی سو ان کے جن کی نسبت ان میں سے (ہلاک ہونے کا) حکم پہلے صادر ہوچکا ہے اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا وہ ضرور ڈبو دئیے جائیں گے

فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:28 in the Quran reader

اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (خدا کا شکر کرنا اور) کہنا کہ سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جس نے ہم کو ظالم لوگوں سے نجات بخشی

وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 23:29 in the Quran reader

اور (یہ بھی) دعا کرنا کہ اے پروردگار ہم کو مبارک جگہ پر اتاریو اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ Open ayah 23:30 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی

23۔ 30:۔ انبیاء کے تین طرح کے زمانے ہیں ‘ ایک زمانہ حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح ( علیہ السلام) تک کا ہے ‘ اس زمانہ تک حلال حرام کا کوئی حکم نہ تھا اور نہ کوئی شریعت تھی ‘ صرف کچھ وظیفے اور آداب تھے ‘ سورة شورٰی میں جو آیت شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا ہے اس سے اور صحیح حدیث شفاعت کی جو صحیح بخاری ومسلم ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس سے یہ امر ثابت ہے کہ نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ سے شریعت شروع ہوئی ہے ‘ یہ دوسرا زمانہ نبوت کا حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک کا ہے اس زمانہ میں انبیاء کو مخالف لوگوں سے لڑنے کا حکم نہیں تھا بلکہ مخالف لوگوں کو پہلے انبیاء طرح طرح سے سمجھاتے تھے ‘ جب مخالف لوگ کسی طرح نہیں مانتے تھے تو عام عذاب آکر سب مخالف ایک ہی دفعہ غارت اور ہلاک ہوجاتے تھے ‘ فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد جب تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی اور تورات میں جہاد کا حکم آگیا تو وہ عام عذاب کا طریقہ بند ہوگیا چناچہ سورة القصص میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی اْلِکتَابَ مِنْ بَعْدِ مَآ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی جس کا مطلب یہ ہے کہ عام عذاب سے پہلے امتوں کے ہلاک ہوجانے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل ہوئی ہے ‘ تیسرا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے آنحضرت ﷺ تک کا ہے جس میں مخالفوں سے لڑنے کا حکم ہے ‘ قرآن شریعت میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے تاکہ اس ذکر سے آنحضرت ﷺ کی یہ تسکین ہوجائے کہ جس طرح قریش لوگ آنحضرت ﷺ کے حق میں بدگوئی کرتے ہیں۔ اس صورت میں بھی وہی تسکین کا موقع ہے اس واسطے حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک کے قصوں کا ذکر ان آیتوں میں بھی فرمایا ہے جس طرح کی نصیحت نوح (علیہ السلام) کی ان آیتوں میں ہے ‘ سب انبیاء نے اپنی امت کے لوگوں کو یہی نصیحت کی ہے کہ اے لوگو ! جس اللہ نے تم کو پیدا کیا ہے ‘ اسی کی تعظیم تم پر واجب ہے کیونکہ وہی تمہارا معبود اور پیدا کرنے والا ہے اس کے عذاب سے ڈرو ‘ اور اس کی تعظیم میں دوسروں کو شریک نہ کرو ‘ نوح (علیہ السلام) کی یہ نصیحت سن کر قوم کے سرداروں نے عام لوگوں سے کہا ہم نے اپنے بڑوں سے یہ بات نہیں سنی کہ جن نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہی ان کو چھوڑ کر خالص اللہ ہی کی عبادت کی جاوے ‘ اپنے بڑوں کے جس طریقہ پر ہم ہیں اگر اللہ کے نزدیک یہ طریقہ برا ہوتا تو اللہ کسی فرشتہ کو بھیج کر اس طریقہ کی برائی ہمیں جتلا دیتا نوح تو ہم جیسے آدمی ہیں ان میں کیا خصوصیت ہے جو یہ اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہتے ہیں ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمام قوم پر اپنی سرداری جمانے کے لیے نوح اپنے آپ کو اللہ کا نائب بتلاتے ہیں اس سرداری کی دھن میں ان کو سودا ہوگیا ہے اسی دیوانگی کی حالت میں یہ ایسی نئی باتیں کرتے ہیں ‘ کچھ دنوں انتظار کرنا چاہیے شاید ان کا یہ دیوانہ پن جاتا رہے ‘ جب ساڑھے نو سو برس کی نصیحت کے اثر سے فقط اسی 80 آدمی راہ راست پر آئے اور باقی تمام قوم کے لوگ اسی سرکشی کی حالت پر رہے اور نوح (علیہ السلام) کے عذاب کے وعدہ کو جھوٹا جان کر اپنے منہ سے عذاب کے نازل ہونے کی خواہش کرنے لگے تو نوح (علیہ السلام) نے مدد غیبی کی اللہ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کشتی کے بنانے کا حکم دیا اور فرما دیا تمہارے گھر کے تنور میں سے بجائے آگ کے جب پانی ابلنے لگے تو ہر ایک جانور کے ایک جوڑے کو اور اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اور اپنی بی بی اور اپنے بیٹے کنعان کے حق میں سفارش کی بات زبان پر نہ لاؤ کیونکہ ان کا شمار نافرمانوں میں ہے اس لیے قوم کے نافرمان لوگوں کے ساتھ یہ دونوں ڈوب جاویں گے ‘ پھر فرمایا اے نوح جب تم اپنے ساتھ والوں کو لے کر کشتی میں بیٹھ جاؤ تو اللہ کا شکریہ ادا کرو کہ اس نے تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو نافرمان قوم کے ظلم سے چھڑا دیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے ‘ قوم نوح کو ظالم جو فرمایا ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظلم سے نہیں ہلاک کیا کیونکہ ظلم اس نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے بلکہ ان لوگوں نے اپنی جان پر ظلم کر کے کام ہی ایسے کئے جن کی سزا میں پکڑے گئے ‘ اس شکریہ کے ساتھ یہ دعا بھی مانگو کہ جب تم کشتی سے اترو تو اللہ تعالیٰ تم کو خیر و برکت سے اتارے ‘ نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کا نتیجہ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ طوفان کے بعد نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں اتنی خیر و برکت ہوئی کہ پھر ان سے ہی تمام دنیا آباد ہوئی ‘ آخر کو خاتم الانبیاء ﷺ سے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے سننے کے بعد قریش کو یہ عبرت پکڑنی چاہیے کہ اللہ کے کلام اور اس کے رسول کو جھٹلانے والوں کا یہ انجام ہوتا ہے جو انجلام قوم نوح کا ہوا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ پچھلے قصے سنا کر اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو اس بات میں جانچتا ہے کہ یہ لوگ پچھلی قوموں کا حال سن کر کہاں تک عبرت پکڑتے ہیں ‘ یہ یاد رہے کہ پچھلی قوموں کا حال سن کر اگر اہل مکہ کو کچھ عبرت نہ ہوئی تو کچھ عرصہ کی مہلت کے بعد ایسی آفت اس قوم کے سرکشوں پر آوے گی جس طرح کی آفت قوم نوح پر آئی ‘ اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ اہل مکہ کے حق میں بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا جو کچھ ظہور ہوا صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے اس کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری مع الفتح ص 224 ج 3 )