Ayahs 23:31–4131۔ 41:۔ پچھلی امتوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں فرمایا ہے اس سے اور صحیح حدیثوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیشہ سے انبیاء کے فرمانبردار اکثر غریب لوگ ہوتے رہے ہیں اور مالدار لوگوں کو اپنے مال ومتاع اور اپنی سرداری کا ایک طرح کا غرور ہو کر وہی انبیاء سے جھگڑے کرتے رہے ہیں ہمیشہ سے یہ طریقہ جاری رہتے رہتے ایسا عام ہوگیا تھا کہ لوگ رسول وقت کے سچے نبی ہونے کی دلیل اس بات کو قرار دینے لگے تھے کہ اللہ کے رسول کو اور ان کے فرمانبرداروں کو تنگ دست نہیں ہونا چاہیے لیکن یہ ایک غلط بات مشہور ہوگئی تھی ‘ کیونکہ صحیح بخاری میں ابوسفیان ؓ والی حدیث 1 ؎ جو ہے ‘ اس میں ہرقل نے جہاں اور نشانیاں آنحضرت ﷺ کو ابوسفیان ؓ سے پوچھی تھیں وہاں یہ بات بھی پوچھتی تھی کہ ان نبی کے دین میں غریب لوگ زیادہ آتے ہیں یا مالدار لوگ ‘ جب ابوسفیان ؓ نے کہا کہ ان نبی کے پیرو اکثر غریب لوگ ہیں تو ہرقل نے کہا کہ ہمیشہ سے غریب لوگ ہی انبیاء کے فرمانبردار ہوتے آئے ہیں ‘ اس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ انبیاء کے فرمانبردار قدیم سے غریب لوگ ہوتے آئے ہیں ‘ قریش کے مالداروں کا بھی یہی جھگڑا کئی جگہ قرآن میں آیا ہے کہ غریب مسلمان لوگوں کا نام دھرتے تھے اور آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ ہم کو ان کنگال لوگوں کے ساتھ بھیٹھنے سے شرم آتی ہے کیونکہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے ہماری ہتک ہے ‘ اگر ہمارے لیے علیحدہ مجلس مقرر کردی جاوے تو ہم تمہاری نصیحت کی باتیں الگ آن کر سنیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کو اپنے غریب دین دار بندے زیادہ پیارے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ان مالدار مغروروں کی خواہش کے پورا کرنے سے منع فرمایا چناچہ سورة انعام میں اس کا ذکر گزر چکا ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اکثر مالدار لوگ دنیا میں آلودہ ہوجاتے ہیں اور دین سے ان کو ذرا غفلت اور بےپرواہی ہوجاتی ہے اس لیے ہمیشہ سے رسولوں کی فرمانبرداری کرنے میں جس طرح مالدار لوگ رسولوں کے وقت میں جھگڑے کرتے رہے ‘ اسی طرح فرما نبرداری اختیار کرنے کے بعد بھی امت کے مالدار لوگوں کی طرف سے دین پر قائم نہ رہنے کا کھٹکا رسولوں کو لگا رہتا تھا چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں ابو سعید خدری کی روایت 1 ؎ میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ سب سے زیادہ خوف مجھ کو اس بات کا ہے کہ میرے بعد میری امت کو فراغت ہو اور اس سے ان کے دین میں فتور پڑجائے ‘ آپ نے معجزہ کے طور پر جو کچھ فرمایا تھا ‘ خلافت بنی امیہ اور عباسیہ کے عہد میں وہی ہوا کہ مسلمانوں میں آپس کی خونریزیاں اور طرح طرح کے فتور پڑگئے ‘ اللہ تعالیٰ جس شخص کو دنیا کی فراغت دیوے اسے چاہیے کہ دنیا میں ایسا نہ پھنسے جس سے دین میں فتور پڑجاوے ‘ دنیا کے اس طرح کے پھنساوے سے بچنے کی غرض سے آنحضرت ﷺ صحابہ ؓ کو نئے نئے ڈھنگ سے حرص دنیا میں نہ پھنسنے اور تنگ دستی سے نہ اکتانے کی نصیحت فرماتے رہتے تھے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں سہل بن سعد سے جو روایت 2 ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے روبرو سے ایک مالدار شخص گزرا اس کے چلے جانے کے بعد آپ نے مجلس کے موجودہ لوگوں سے پوچھا کہ تمہارے نزدیک دنیا میں یہ کس رتبہ کا شخص ہے لوگوں نے کہا کہ یہ ایسا عزت دار مالدار شخص ہے کہ جہاں یہ شادی کرنی چاہے وہاں اس کی شادی ہوسکتی ہے ‘ جو سفارش کرے وہ سفارش اس کی قبول ہوسکتی ہے ‘ پھر ایک تنگ دست مسلمان تھوڑی دیر کے بعد آپ کے روبرو سے گزرا ‘ اسی طرح آپ نے ان لوگوں سے پوچھا ‘ لوگوں نے کہا یہ ایک تنگدست شخص ہے نہ اس کو کسی کی بیٹی مل سکتی ہے نہ اس کی سفارش کوئی سنتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس پہلے شخص سے یہ دوسرا شخص ہزار درجہ بہتر ہے ‘ اس قصہ میں اور اس سے اوپر کے قصہ میں قوم کے مالدار ‘ سردار لوگوں کی سرکشی اور شرارت کا جو ذکر ہے اوپر کی روایتوں سے اس کا یہ سبب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ مالدار سردار لوگ اپنی مالداری اور سرداری کے غرور میں ہمیشہ سے قوم کے لوگوں کو مخالفت سکھاتے رہے اسی واسطے اللہ کے رسول ﷺ نے غریب شخص کو مالدار شخص سے ہزار درجہ بہتر فرمایا ‘ یہاں پچھلے قصوں کو مختصر طور پر بیان فرمایا ہے اس لیے سورة الاعراف اور سورة ہود کی طرح یہاں سلسلہ وار قوم نوح کے بعد قوم عاد کا قصہ نہیں ہے بلکہ قوم نوح کے بعد یہ قوم ثمود کا قصہ ہے جن کی ہلاکت چنگھاڑ کے صدمہ سے ہوئی ہے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قوم نوح اور قوم عاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو پیدا کر کے ان کی ہدایت کے لیے صالح (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو وہی نصیحت کی ‘ جو نصیحت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کی تھی ‘ صالح (علیہ السلام) کی نصیحت سن کر قوم کے مالدار سردار منکر شریعت لوگوں سے کہا کہ صالح ہم تم جیسے آدمی ہیں ‘ اور کھاتے پیتے ہیں ‘ ان کا وہی حال ہے جو ہمارا تمہارا ہے ‘ اپنی قدیمی سرداری چھوڑ کر ان کو سردار بنانا بڑے گھاٹے کی بات ہے مرنے کے بعد دوبارہ جینے اور نیک وبد کی جزا و سزا کا جو ڈراوا صالح دیتے ہیں یہ ایک سمجھ سے باہر بات ہے ‘ دنیا تو یونہی چل رہی ہے کہ بڈھے مرتے ہیں اور ان کی نسل کے بچے پھر بڈھے ہوجاتے ہیں کون سا مرا ہوا بڈھا دوبارہ زندہ ہوا ہے جو ہم دوبارہ زندہ ہوں گے یہ دوبارہ زندہ ہونے کی سمجھ سے باہر ایک بات صالح ( علیہ السلام) نے اپنی طرف سے گھڑی ہے زبردستی اور کو اللہ کا حکم ٹھہرا لیا ہے ہم تو صالح کی کوئی بات نہیں مانتے حاصل کلام یہ ہے کہ جب اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہ سرکشی کی باتیں نہیں چھوڑیں اور اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا تو صالح (علیہ السلام) نے مدد غیبی کی دعا اور ان کی دعا قبول ہو کر یہ جواب ملا کہ اب تھوڑے دنوں میں ان لوگوں کے پچھتانے کا وقت آتا ہے پھر اس وعدہ کا ظہور یہ ہوا کہ اونٹنی کی ہلاکت کے تین روز کے بعد ایک سخت چنگھاڑ کے صدمہ سے یہ لوگ ہلاک ہوگئے ‘ عشاء اس کوڑے کرکٹ کو کہتے کہیں جو پانی کے ریلے میں بہہ کر کہیں کا کہیں چلا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ پانی کے ریلے میں کوڑے کرکٹ کی طرف یہ لوگ بالکل بےپتہ ہوگئے ‘ آخر کو فرمایا ‘ اس طرح کے ظالم لوگ اللہ کی رحمت سے ایسے ہی دور پڑجاتے ہیں قوم ثمود کو ظالم فرمانے کا بھی وہی مطلب ہے جو قوم نوح کے قصہ میں صحیح مسلم کی ابوذر ؓ کی روایت سے اوپر بیان کیا گیا۔
(1 ؎ صحیح بخاری ‘ باب کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللہ ﷺ الخ۔ )
(1 ؎ مشکوٰۃ ‘ کتاب الرقاق ص 439 )
(2 ؎ مشکوٰۃ ص 446۔ باب فضل الفقراء وما کان من عیش النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
Ayahs 23:42–4342۔ 43:۔ قوم ثمود اور قوم فرعون کے مابین میں جو قومیں گزری ہیں ‘ مختصر طور پر یہ ان کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا قوم ثمود کے بعد قوم لوط اور قوم شعیب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور باری باری سے قوم لوط کی ہدایت کے لیے لوط (علیہ السلام) کو اور قوم شعیب کی ہدایت کے لیے شعیب (علیہ السلام) کہ پیغمبر بنا کر بھیجا اور راہ راست پر آنے کے لیے ہر ایک قوم کو مہلت دی اور مہلت کے زمانہ میں اگرچہ ان قوموں نے طرح طرح سے سرکشی کی لیکن وقت مقررہ تک ان لوگوں کو ڈھیل دی گئی کیونکہ انتظام الٰہی میں وقت مقررہ سے پہلے نہ کوئی کام ہوتا ہے نہ وقت مقررہ آجانے کے بعد کسی کام میں کچھ دیر لگتی ہے اسی واسطے مہلت کے زمانہ میں جب یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے اور مہلت کا زمانہ گزر کر عذاب کا وقت مقررہ آگیا تو قوم لوط پر پتھروں کے مینہ اور بستی کے الٹ دیئے جانے کا اور قوم شعیب پر زلزلہ سخت آواز اور انگارے برسنے کا عذاب آیا ‘ یہ قصے سورة الاعراف وسورۃ ہود میں گزر چکے ہیں اور سورة الشعراء میں بھی آویں گے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو عذاب کے وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو وقت مقررہ پر کسی ایسے عذاب میں ان کو پکڑ لیتا ہے جس کو وہ کسی طرح ٹال نہیں سکتے ‘ قوم لوط اور شعیب کی ہدایت کے لیے پیغمبروں کے آنے کی اور ان قوموں کی مہلت اور ہلاکت کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔
Ayah 23:4444:۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی بےپرواہ ہے کہ اس کو کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے لیکن رسول وقت کی بات کو نہ ماننا اور رسول وقت کی فرمانبرداری کو مسخرا پن میں اڑا کر رسول وقت کو غصہ دلانا ایسی اللہ کی ایک غصہ اور غصب اور وبال کی چیز ہے کہ جو لوگ اس نافرمانی میں مبتلا ہوں ‘ ان کے وبال کی حالت پر باوجود اس بےپروائی کے خود اللہ تعالیٰ نے حسرت اور افسوس کا استعمال فرمایا ہے چناچہ سورة یسٰ میں ارشاد فرمایا ہے یا حسرۃ علی العباد ما یاتیھم من رسول الا کانوا بہ یستھزؤن جس کا حاصل یہ ہے کہ بندوں کی رسولوں کو جھٹلانے کی حالت قابل افسوس ہے اب ایک گروہ ان لوگوں کا تھا وہ رسول وقت کو رسول ہی نہیں مانتے تھے اور طرح طرح کی باتیں کرتے تھے وہ تو صریح کافر لیکن اس طرح کے مسلمانوں کے گروہ سے ہی ہرگز خدا اور رسول خوش نہیں ہیں جو رسم کے سبب سے یا کسی کی بات کا دل کو اچھی لگنے کے سبب سے رسول وقت کے قول یا فعل کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے قول یا فعل کو مانے ‘ معتبر سند سے صحیح ابن حبان اور بیہقی کی شعب الایمان میں حضرت جابر ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ یہود سے جب ملاقات ہوتی ہے تو وہ لوگ اپنے دین کی بعض روایتیں ایسی بیان کرتے ہیں کہ وہ روایتیں دل کو نہایت بھلی لگتی ہیں اگر آپ اجازت دیویں تو ان روایتوں کو لکھ لیا جاوے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم لوگ بھی یہود اور نصاری کی طرح بھٹکنا چاہتے ہو ‘ میں شریعت خدا کی طرف سے لایا ہوں کہ اگر خود اللہ کے رسول موسیٰ آج زندہ ہوتے تو بغیر میری پیروی کے ان کو اور کچھ بن نہ آتا ‘ اس حدیث کے مضمون پر ذرا غور کرنا چاہیے کہ شریعت موسوی آخر ایک زمانہ میں حکم الٰہی سے ایک شریعت تھی ‘ جب جدید شریعت کے آجانے سے اس قدیم شریعت کے رسول حضرت موسیٰ بھی آج زندہ ہوتے تو اس کو بھی اس قدیم شریعت پر قائم رہنا جائز نہ ہوتا ‘ اب ذرا غور کرنے کی بات ہے کہ جب جدید شریعت کے آگے قدیم شریعت پر عمل جائز نہیں ہے تو پھر شریعت کے آگے کسی رسم کی کیا حقیقت ہے ‘’ مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں حضرت عمر ؓ کے قصہ کی یہ روایت 1 ؎ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی ہے حاصل مطلب آیت کے اس ٹکڑے کا یہ ہے کہ قوم ثمود بعد جن قوموں کی انجانی رفع کرنے کے لیے اللہ کے رسول آئے ‘ ان قوم کے لوگوں نے ان رسولوں کو جھٹلایا ‘ جس کے مآل میں آگے پیچھے وہ قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں اور ان کی ہلاکت کی کہانیاں باقی رہ گئیں ‘ آخر کو فرمایا ایسے لوگوں نے کسی کا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ خود ہی ایسے لوگ دنیا اور عقبیٰ میں اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے ‘ اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ اور ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایتیں جو گزر چکی ہیں وہی روایتیں آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ان قوموں کی انجانی کا عذر رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسول بھیجے اور رسولوں کی نصیحت کے سمجھنے کے لیے ان کو مہلت دی لیکن جب یہ مہلت کے زمانہ میں نافرمانی سے باز نہ آئے تو اللہ کی رحمت سے دور ہوگئے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنتہ ص 30 )
(1 ؎ تنقتح الرواۃ ص 42 ج 1 )
Ayahs 23:45–4945۔ 49:۔ اوپر کی آیتوں میں قوم شعیب کا ذکر مختصر طور پر فرما کر ان آیتوں میں قوم فرعون کا ذکر فرمایا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قوم شعیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ان کی پیغمبری کی تائید کے لیے ان کو عصا اور ید بیضاء کے معجزے بھی دیئے لیکن فرعون اور اس کی قوم کو یہ غرور کی باتیں سوجھیں کہ موسیٰ اور ہارون آخر بنی اسرائیل کی نسل میں سے ہیں اور بنی اسرائیل کی ساری قوم ہمارے تابع ہے پھر ہم ان دونوں اپنے جیسے آدمیوں کو اپنا سردار اور راہبر کیونکر بنا سکتے ہیں ‘ کوئی فرشتہ اللہ کا نائب بن کر آتا تو اس کی نصیحت کو مان لینا البتہ ایک ٹھکانے کی بات تھی ‘ انسان کی پیغمبری کے منکر لوگوں کا جواب سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لیے کوئی فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا تو وہ بھی ضرور انسان کی صورت میں ہوتا جس سے میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لیے کوئی فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا تو وہ بھی ضرور انسان کی صورت میں ہوتا جس سے ان لوگوں کا یہی شبہ باقی رہتا ‘ سورة الانعام کے جواب پر کفایت فرما کر ان آیتوں میں فرعون اور اس کی قوم کے اس اعتراض کا کچھ جواب نہیں دیا گیا کہ اللہ کا نائب کوئی فرشتہ ہونا چاہیے پھر فرمایا ‘ ان ہی غرور کی باتوں میں گرفتار ہو کر فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ اور ہارون کی پیغمبری کو جھٹلایا جس کے وبال سے یہ سب دریائے قلزم میں ڈوب کر ہلاک ہوگئے ‘ آگے فرمایا فرعون کے جیتے جی تو نبی اسرائیل کو کتاب آسمانی پر آزادی سے عمل کرنے کا موقع نہیں تھا اس لیے فرعون کی ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی تاکہ بنی اسرائیل کو ہدایت پانے کا پورا موقع ملے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے جنت میں جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کام بھی ویسے ہی کرتے ہیں اسی طرح جو دوزخ میں جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ ویسے کام کرتے ہیں ‘ اس حدیث سے فرعون اور اس کی قوم کا انجام اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم فرعون میں سے جادوگر لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جنتی ٹھہر چکے تھے ‘ اس لیے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اژدھے کے معجزہ کو معجزہ سمجھ گئے اور سوائے جادوگروں کے باقی فرعونی لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخی قرار پاچکے تھے ‘ اس لیے وہ مرتے دم تک اسی معجزہ کو جادو کہتے رہے۔
Ayah 23:5050:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر توراۃ بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی ‘ ان آیتوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم علیہا 1 ؎ السلام کا ذکر فرما کر یہ جتلایا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یہود نے تورات کی ہدایت سے فائدہ نہیں اٹھایا کیونکہ تورات کی جن آیتوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور خاتم الانبیاء ﷺ کے اوصاف تھے ‘ ان آیتوں میں انہوں نے رد وبدل کردیا جس سے شریعت عیسوی اور شریعت محمدی دو شریعتوں کے یہ لوگ منکر بن گئے ‘ حضرت مریم جیسی پاکدامن بی بی کو بدکاری کا الزام لگایا۔ دمشق کے ستارہ پرست بادشاہ کے دربار میں غلط مخبری کر کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی کے قابل ٹھہرایا چناچہ یہ سب قصہ سورة النسآء کی تفسیر میں گزر چکا ہے ‘ سورة المائدہ اور سورة الاعراف میں اس عہد کا ذکر بھی گزر چکا ہے جو یہود سے توراۃ پر قائم رہنے کے باب میں لیا گیا تھا توراۃ کی آیتوں کے بدل ڈالنے کے سبب سے یہود اس عہد پر قائم نہیں رہے اس لیے ان کو توراۃ کا پابند بھی نہیں کہا جاسکتا ‘ حاصل مطلب یہ ہے کہ بغیر کسی مرد کے چھونے کے حضرت مریم کو حمل کا رہ جانا اور پھر اس خلاف عادت حمل سے عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیدا ہونا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک ایسی ہی نشانی ہے جس طرح اس نے آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے اپنی قدرت سے پیدا کیا جو لوگ اس قدرت کے منکر ہیں وہ اس کی سزا بھگتیں گے ‘ سورة مریم میں گزر چکا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت حضرت مریم ؓ بیت المقدس سے دور ایک اونچے ٹیلے پر چلی گئی تھیں جس ٹیلے کے نیچے کھڑے ہو کر جبرئیل (علیہ السلام) نے مریم (علیہا السلام) کی تسکین کی تھی اور وہیں اللہ کے حکم سے پانی کی نہر بھی جاری ہوئی تھی۔ آخری آیت میں اسی اونچے ٹیلے کو ٹیلہ اور ستھرے پانی کی جگہ فرمایا ‘ اگرچہ بعضے مفسروں نے ربوہ کی تفسیر اس ٹیلہ پر کے گاؤں کو بھی قرار دیا ہے جس کا ذکر شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں کیا ہے لیکن حافظ ابن کثیر (رح) نے اسی تفسیر کو قوی ٹھہرایا ہے جس کا ذکر اوپر گزرا اور اپنی تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ یہی تفسیر سورة مریم کی آیتوں کے موافق ہے حافظ ابن کثیر (رح) کی یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ضحاک اور قتادہ کے قول کے موافق ہے صحیح مسلم ‘ ترمذی اور نسائی میں زید بن ارقم سے روایت 3 ؎ ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ایسے علم سے اللہ کی پناہ کی دعا کیا کرتے تھے جس علم سے آدمی کو دین کا کچھ فائدہ نہ پہنچے ‘ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگنے کے قابل اسی طرح کا علم ہے جس طرح سے تورات کا علم یہود میں ہے کہ انہوں نے بجائے دین کے فائدہ کے اس علم سے الٹا دین کا اور نقصان کمایا ‘ شریعت محمدی کا علم جن علمائے اسلام کے حق میں اسی حالت کو پہنچ گیا ہو ‘ ان کو اپنی حالت پر ذرا غور کرنا چاہیے۔
(1 ؎ حضرت مریم صحابیہ قرار پاتی ہیں لہٰذا ؓ کہنا چاہیے (ع ‘ ح )
(3 ؎ مشکوٰۃ باب الاستعاذۃ۔ )
Ayahs 23:51–5751۔ 56:۔ جس طرح اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو غذائے حلال کی تلاش کا حکم فرمایا ہے ‘ اسی طرح سورة بقرہ میں عام پابند شرع لوگوں کو یہی حکم فرمایا ہے ‘ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ بعضے لوگ رات دن گڑ گڑا کر طرح طرح کی دعائیں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتے ہیں اور جب ان کی دعا قبول نہیں ہوتی تو ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے ہیں لیکن جب تک وہ غذائے حلال کے پابند نہ ہوں گے ان کی دعا میں کچھ تاثیر پیدا نہ ہوگی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ غذائے حلال سے رسولوں کے کلام میں تو یہ تاثیر پیدا ہوگی کہ وہ امت کے لوگوں کو جو کچھ نصیحت کریں گے اس میں اثر پیدا ہوجائے گا اور عام پابند شریعت لوگوں کے کلام میں غذائے حلال سے یہ تاثیر پیدا ہوگی کہ دعا یا عبادت کے طور پر جو کچھ ان کے منہ سے نکلے گا وہ بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے کے قابل ٹھہرے گا ‘ آگے فرمایا غذائے حلال کے کھانے کے بعد خالص دل سے جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اس کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ نیک عمل کا دس گنے سے لے کر سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق اجر جو ملے گا اس کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے ‘ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ علمائے یہود اپنے آپ کو تورات کا وارث گنتے تھے اور اعمال ان کے ایسے تھے کہ جو عالم ان میں سے قاضی ہوجاتا تھا تو وہ لوگوں سے رشوت لے کر تورات کے برخلاف مقدمے فیصل کیا کرتا تھا ‘ توراۃ کے ذکر کے بعد اسی واسطے غذائے حلال کا حکم ایسے لوگوں کو یاد دلایا تاکہ توراۃ ‘ انجیل اور قرآن کے عالم لوگوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہوجاوے کہ جو شخص کتاب آسمانی کے موافق ہر نبی کے زمانہ میں بدلتے رہے ہیں ‘ دین عبادت کے طریقہ کو کہتے ہیں اور حرام حلال کے احکام کو شریعت کہتے ہیں ‘ حاصل مطلب یہ ہے کہ اکیلے اللہ کی عبادت کا طریقہ ہر ایک نبی کے زمانہ میں جاری رہا ہے ‘ زیادہ تفصیل اس کی سورة الشورٰی میں آئے گی ‘ سورة الشورٰی کی آیتوں اور ابوہریرہ ؓ کی روایت کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے آیت وَاِنَّ ھٰذِہٖ اُمَتُکُمْ اُمَّۃًّ وَّاحِدَۃً وَاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنَ کا یہ مطلب ہوا کہ اللہ کی عبادت کا جو طریقہ ہر ایک نبی کے زمانہ میں اللہ کے حکم سے جاری رہا ہے ہر شخص کو اس کے موافق اللہ تعالیٰ کی عبادت کا کرنا اور جو کوئی اس کے برخلاف کرے اس کو عذاب الٰہی سے ڈرنا ضرور ہے آگے فرمایا اللہ تعالیٰ کا حکم اگرچہ یہ ہے کہ شخص کو اس طریقہ کے موافق اللہ کی عبادت کرنی چاہیے جو طریقہ ہر ایک بنی کے زمانہ میں جاری رہا ہے لیکن اہل مکہ نے ملت ابراہیمی کو اور اہل کتاب نے اپنی کتابوں کو چھوڑ کر نئے طریقہ نکال لیے ہیں اور ان میں سے ہر ایک فرقہ اپنے ایجاری طریقہ کو اچھا جانتا ہے ‘ اے رسول اللہ کے تم ان فرقوں کو حساب و کتاب ان کے حال پر چھوڑ دو ‘ وقت مقررہ آجائے تو جزاو سزا کا پورا فیصلہ ہوجائے گا ‘ پھر فرمایا ‘ ان لوگوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے مال و اولاد کی ترقی اس سبب سے ہے کہ اللہ ان سے رضامند ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان سے زیادہ مالدار اور اولاد والی پچھلی امتوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہرگز ہلاک نہ کرتا۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الکسب وطلب الحلال ص 241 )
Ayahs 23:58–6158۔ 61:۔ اوپر کی آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ کی خلاف مرضی کام کرتے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق کاموں میں لگے رہتے ہیں ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نیک ٹھہر چکے ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ نیک کام کرنے کے بعد بھی عذاب آخرت کا اندیشہ ان کو لگا رہتا ہے ‘ احکام الٰہی کی آیتوں کا ان کے دل میں کلام الٰہی ہونے کا پورا یقین ہے اس لیے وہ ان احکام کے موافق خالص دل سے عمل کرتے ہیں ‘ شرک یا ریاکاری کے طور پر اپنے اس دینی عمل میں کسی کو اللہ کا شریک نہیں ٹھہراتے ‘ صدقہ ‘ خیرات اور ہر طرح کا نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے وقت کا یہ کھٹکا ان کے دل میں لگا ہوا ہے کہ اس وقت یہ نیک عمل بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے کے قابل نکلتے ہیں یا نہیں آخر کو فرمایا یہ لوگ وہ ہیں جو ہر طرح کی بھلائی کی طرف پیش قدمی کر کے دوڑتے ہیں وَھُمْ لَھَا سَابِقُوْنَ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا صحیح قول یہی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ‘ ہیں۔ آخری آیت میں ان ہی کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے نیک ٹھہر چکے ہیں دنیا میں پیدا ہونے کے بعد وہی لوگ نیک کاموں کے کرنے میں پیش قدمی کرتے ہیں اور ان ہی لوگوں کو نیک کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں وَھُمْ لَھَا سَابِقُوْنَ کی جو تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اوپر بیان کی گئی۔ اس حدیث سے اس کی پوری تائید ہوتی ہے ‘ مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ یہ آیتیں ایسے لوگوں کی شان میں ہیں جو نیک کام کرتے ہیں اور پھر بھی ان کے دل میں یہ کھٹکا لگا ہوا ہے کہ ان کے وہ نیک کام بارگاہ الٰہی میں قبول ہونے کے قابل ہیں یا نہیں ‘ جس طرح کے لوگوں کی شان میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ اس شان نزول کی روایت کو صحیح کہا 2 ؎ ہے ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا منکر شریعت لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اگر پوری رحمت کا حال معلوم ہوجاوے تو منکر لوگوں کو بھی جنت میں داخل ہونے کی امید پیدا ہوجاوے ‘ اسی طرح پابند شریعت نیک لوگوں کو عذاب الٰہی کا پورا حال معلوم ہوجاوے تو عذاب الٰہی کا خوف ان کے دل پر ہر وقت رہے ‘ اس حدیث سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ مطلب ان دونوں حدیثوں کا قریب قریب ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ ایماندار آدمی کو کسی حال میں عذاب الٰہی سے نڈر نہیں ہونا چاہیے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 248 ج 3 )
(2 ؎ صحیح مسلم ص 334 ج 2 کتاب القدر )
(3 ؎ تنقیح الرواۃ ص 26 باب الایمان بالقدر )
Ayah 23:6262:۔ اوپر ان نیک لوگوں کا ذکر تھا جو نیک کاموں میں پیش قدمی کرتے ہیں ‘ اس آیت میں فرمایا ‘ اس پیش قدمی میں یہ تائید غیبی بھی ہے کہ شریعت کا کوئی کام اللہ تعالیٰ نے انسان کی طاقت سے باہر نہیں رکھا مثلا جو بیمار آدمی نماز میں کھڑا نہ ہو سکے تو اس کو بیٹھ کر نماز جائز ہے ‘ اسی طرح مسافر یا بیمار آدمی وقت پر روزے نہ رکھے ‘ تو کچھ گناہ نہیں ‘ پھر فرمایا ہر شخص کے ہر طرح کے عمل پہلے لوح محفوظ میں اور پھر نامہ اعمال میں لکھے گئے ہیں جس سے ہر شخص کو اپنے عملوں کا سچا سچا حال سزاو جزا کے وقت معلوم ہوجاوے گا اور سزاو جزاء کے وقت کسی پر یہ ظلم نہ ہوگا کہ نیک کا اجر گھٹا دیا جاوے یا جرم کی حیثیت سے سزا کی مقدار بڑھا دی جاوے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جو شخص اپنے نامہ اعمال میں کے لکھے ہوئے گناہوں کا انکار کرے گا تو اس کے ہاتھ پاؤں اعمال نامہ کی صداقت بطور گواہی کے بیان کریں گے ‘ صحیح مسلم ‘ ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی یہ حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔ اعمالنامہ میں سچا سچا حال لکھے جانے کا اور سزا وجزا کے وقت کسی پر کچھ ظلم نہ ہونے کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اعمال نامہ میں ایسا سچا حال لکھا جاتا ہے جس کی صداقت کو گواہی کے لیے آدمی کے ہاتھ پاؤں تیار ہوجاویں گے اور سزا وجزا کے وقت کسی پر کوئی ظلم اس سبب سے نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔
Ayahs 23:63–6763۔ 67:۔ اوپر کی آیتوں میں ان کا ذکر تھا ‘ جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک قرار پاچکے ہیں ‘ ان آیتوں میں ان بدلوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو علم ازلی الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں اور ہر وقت دین کے کاموں کی طرف سے ان کے دل غافل ہیں ‘ ان آیتوں کی تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں میں آئی ہے چناچہ صحیح بخاری میں جو روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جس وقت فرمایا دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جنتی ہر شخص کا نام اہل جنت میں اور دوزخی ہر شخص کا نام اہل دوزخ میں لکھ لیا ہے تو یہ بات سن کر صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت پھر نیک عمل کی کیا ضرورت ہے ہم لوگ اپنی تقدیر پر شاکر ہو نہ بیٹھ جائیں اور یقین کرلیں کہ اگر اللہ کے علم میں ہم جنتی ہوں گے تو آخر جنت میں جاویں گے آپ نے فرمایا نہیں یہ نہیں ہوسکتا بلکہ ہر شخص کا جو انجام علم الٰہی میں قرار پا چکا ہے دنیا میں وہ شخص اسی طرح کے کام بھی کرتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں جو شخص جس طرح کا قرار پایا ہے وہ ایک غیب کی بات ہے اس کو سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں جانتا اور جزا وسزا کا مدار بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کا قرار دیا ہے جس طرح رزق ہر ایک شخص کا یا موت یا بیماری ہر شخص کی خدا کی طرف سے ہے مگر عالم اسباب میں اس کے سبب اور حیلے خدا نے ٹھہرا دیئے ہیں اسی طرح دنیا کے نیک و بدعمل کو اللہ نے سبب ٹھہرایا ہے اس سبب کو چھوڑ کر تقدیر پر شاکر ہونا ایسا ہی ہے جیسے کوئی بےحیلہ کے دنیا میں مثلا رزق چاہے ‘ اب اس نیک وبد کی پہچان کا موقع آدمی کی آخری عمر تک ہے ‘ اسی واسطے شریعت میں خاتمہ کا بڑا اعتبار ہے ‘ چناچہ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ 2 ؎ سے اور ترمذی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے 3 ؎ اور مسند امام احمد بن حنبل اور صحیح ابن حبان میں حضرت انس ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ کسی شخص کو نیک عمل کرتے ہوئے دیکھ کر کوئی بات منہ سے نہیں نکالنی چاہیے ‘ جب تک خاتمہ اچھا نظر نہ آوے کیونکہ بہت سے لوگ عمر بھر اچھے کام کرتے رہتے ہیں اور آخری عمر میں بگڑ کر برے کاموں میں لگ جاتے ہیں اور برے کاموں پر ان کا خاتمہ ہو کر دوزخ کے مستحق ٹھہر جاتے ہیں اور بہت سے لوگ عمر بھر برے کام کرتے ہیں اور آخر عمر میں نیک راستہ سے لگ جاتے ہیں اور نیکی پر ان کا خاتمہ ہوتا ہے اور جنتی بن جاتے ہیں اوپر یہ بیان ہوچکا ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ اندازہ فرمایا ہے کہ اگر دنیا پیدا کی جاوے اور ہر شخص کو اس کے فعل کا فعل مختار کیا جاوے تو کون اچھا عمل کرے گا اور کون برا اور اسی اندازہ کو لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اسی کا نام تقدیر ہے دنیا میں نیک وبد فعل ہونے کے بغیر نہ اس تقدیر کے لکھے پر کچھ سزا جزا ہے ‘ نہ تقدیر کے لکھتے وقت اللہ تعالیٰ نے کسی کو کسی کام پر مجبور کیا ہے۔
جو لوگ حشر کے منکر ہیں ان کا بڑا شبہ یہ ہے کہ جب وہ مرجاویں گے اور ان کی ہڈیاں تک خاک ہوجاویں گی اور وہ خاک کچھ ہوا میں اڑ جاوے گی اور کچھ پانی کے ریلوں میں بہہ جاوے گی تو پھر وہ رواں دواں خاک کیونکر جمع ہوجاوے گی جس کا پتلا بنے گا ‘ سورة قٓ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے شبہ کا یہ جواب دیا ہے کہ ان منکرین حشر کے پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ ان لوگوں کی خاک ہوا میں اڑ کر یا پانی میں بہہ کر کہاں جاوے گی اسی پتہ سے ان کی خاک جمع کرلی جاوے گی کیونکہ جنگل دریا کوئی چیز اس کے علم غیب اور حکم سے باہر نہیں ہے صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ایک شخص بڑا گنہگار تھا اس نے اپنے مرجانے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر آدھی خاک کو ہوا میں اڑا دینے اور آدھی کو دریا میں بہا دینے کی وصیت کی اور اس کے وارثوں نے وصیت کے موافق عمل بھی کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے جنگل اور دریا کو اس کی خاک کے حاضر کرنے کا حکم دیا جس سے وہ خاک حاضر ہوگئی ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس خاک کا پتلا بنایا اور اس میں دوبارہ روح پھونکی جس کے سبب سے وہ شخص دوبارہ زندہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس وصیت کا سبب اس سے پوچھا ‘ اس شخص نے جواب دیا اللہ تم کو خوب معلوم ہے کہ یہ کام میں نے تیرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر کر کیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت فرمادی ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ جس طرح جنگل اور دریا میں سے اس شخص کی خاک حاضر ہوگئی اسی طرح منکرین حشر کی خاک جہاں ہوگی وہاں سے حاضر ہوجاوے گی۔
حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ شرک کے وبال میں ان لوگوں سے بڑھ کر خوش حال پچھلی قومیں جب طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں جن کے قصے کئی دفعہ ان لوگوں کو سنا دیئے گئے تو ان مشرکوں کا یہ خیال بالکل غلط ہے کہ ان کے مال اور اولاد کی ترقی اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش ہے بلکہ ان لوگوں کے اس غلط خیال پر جمے رہنے کا سبب یہی ہے کہ یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو دھیان سے نہیں سنتے اور نیک لوگوں کے جو کام ان کو اوپر کی آیتوں میں بتلائے گئے ہیں ‘ رات دن ان کاموں کے برخلاف کام کرتے ہیں لیکن ان میں کے بڑے بڑے خوشحال وقت مقررہ پر جب عذاب آخرت میں گرفتار ہوجاویں گے تو عذاب کی تکلیف سے بہت چلاویں گے جن پر ان کو ذلیل کرنے کے لیے یہ کہا جاوے گا کہ آج تمہاری فریاد سن کر کوئی تمہاری مدد نہیں کرسکتا اور یہ بھی کہا جاوے گا کہ یہ عذاب تمہاری اسی شرارت کی سزا ہے کہ تم قرآن کی نصیحت کو سن کر الٹے قدموں بھاگتے تھے اور کعبہ کے خادم ہونے کی بڑائی جتلا کر اپنے گھروں میں راتوں کو قصے کہانیوں کی طرح قرآن اور اللہ کے رسول کی مذمت کیا کرتے تھے تَھْجُرُوْنَ کے معنی بےہودہ بکواس کے ہیں۔
(2 ؎ صحیح مسلم ص 224 ج 3 کتاب القدر )
(3 ؎ تنقیح الرواۃ ص 26 باب الایمان بالقدر )