23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

108:۔ یہ وہی خفگی کا جواب ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ حاصل اس جواب کا یہ ہے کہ جس وقت یہ لوگ دنیا میں پھر آنے اور نیک عمل کی خواہش اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کریں گے ‘ اس وقت یہ جواب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دے گا جو اس آیت میں ہے معتبر سند سے ترمذی ابوداود اور مستدرک حاکم وغیرہ میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے جو روایتیں 1 ؎ ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دوزخی لوگ دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر پہلے تو داروغہ دوزخ سے اپنی موت کی دعا کرنے کی خواہش کریں گے ‘ ہزار برس تک تو مالک داروغہ دوزخ کی طرف سے ان کو کچھ جواب نہ ملے گا ‘ ہزار برس کے بعد یہ جواب ملے گا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر فریاد رس کوئی تمہارا نہیں ہے پھر یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ یا اللہ اب ہم کو دوزخ سے نکال ‘ دوبارہ ہم تیری مرضی کے خلاف عمل نہیں کریں گے ‘ دنیا کی جتنی عمر ہے اس سے دو چند مدت تک تو کچھ جواب ان کو نہ ملے گا ‘ اس قدر مدت کے بعد یہ جواب ملے گا کہ دوزخی ہو ‘ تم لوگ بات کرنے کے قابل نہیں ہو اور اسی عذاب میں رہنے کے لائق ہو کیونکہ ایک تو تم خود نیک کام نہیں کرتے تھے اور اگر کوئی دوسرا بھی نیک کام کرتا تھا تو تم ان پر ہنستے تھے ‘ نیک کام کرنے والوں پر یہ منکرین شریعت جو ہنسا کرتے تھے اس کا ذکر آگے کی آیتوں میں آتا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں عدی بن حاتم سے جو روایت 2 ؎ ہے اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک شخص سے بلا واسطہ کلام کرے گا اس آیت اور اس حدیث میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ حساب و کتاب کے وقت جس طرح ہر شخص سے بلا واسطہ کلام کرے گا اسی طرح ان لوگوں سے بھی فرما دے گا کہ کیا دنیا میں تم لوگوں کو قرآن کی آیتیں نہیں سنائی گئیں اور تم نے ان آیتوں کو نہیں جھٹلایا ‘ چناچہ اوپر کی آیتوں میں یہ ذکر گزر چکا ہے ‘ ہاں حساب کتاب کے بعد جب ہمیشہ کے لیے یہ لوگ دوزخ میں ڈال دیئے جاویں گے اور فیصلہ الٰہی کے برخلاف یہ لوگ دوزخ سے نکالنے کی التجا کریں گے ‘ اس وقت یہ حکم ہوگا دور رہو ‘ تم لوگ بات کرنے کے قابل نہیں ہو۔ (1 ؎ الترغیب والترہیب ص 491۔ 492 ) (2 ؎ مشکوٰۃ ص 485 باب الحساب و القصاص والمیزان۔ )
Ayahs 23:109–111

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے تو تو ہم کو بخشدے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ وہ کامیاب ہوگئے

109۔ 111:۔ مشرکین مکہ کا یہ خیال تھا کہ ان میں کے جو لوگ مالداری یا قوم کے سر کردہ ہونے کے سبب سے دنیا میں عزت وآبرو رکھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی عزت دار ہیں ‘ اسی واسطے بلال ؓ ‘ عمار ؓ ‘ صہیب ؓ اور خباب ؓ جیسے غریب صحابہ ؓ کو یہ مالدار مشرک چھیڑا کرتے تھے اور طرح طرح کی مسخراپن کی باتیں کیا کرتے تھے ‘ کبھی کہتے کہ اسلام کوئی عزت کی چیز ہوتی تو یہ غریب لوگ اسلام لانے میں ہم عزت دار لوگوں سے کبھی آگے قدم نہ بڑھاتے چناچہ یہ ذکر سورة الاحقاف میں تفصیل سے آوے گا کبھی اس طرح کی اور باتیں کرتے تھے جن کا ذکر مناسب موقعوں پر آیا ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے خباب بن الارت کی روایت گزر چکی ہے جس میں خباب کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے یہ شکایت کی کہ اب تو مشرکین ہمیں بہت ستاتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کا جو وعدہ فرمایا ہے ‘ وقت مقررہ پر ضرور اس کا ظہور ہوگا ‘ وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے ‘ اس حدیث کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے مطلب یہ ہوا کہ جن دوزخیوں کے عذاب میں گرفتار ہونے کا اوپر ذکر تھا ان کے عذاب کا ایک سبب تو اوپر کی آیتوں میں تھا کہ وہ لوگ قرآن کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے ‘ ان آیتوں میں اسی عذاب کا یہ دوسرا سبب بیان فرمایا یہ عذاب میں گرفتار وہ لوگ ہیں جو قرآن کی آیتوں کو جھٹلاتے بھی تھے اور جو غریب ایماندار لوگ قرآن کی آیتوں کو مانتے تھے ان کو مسخراپن سے ستاتے بھی تھے کہ اس ستانے کے پیچھے اپنے ان انجام کو بالکل بھول گئے تھے جو آج درپیش ہے کہ ہمیشہ کے عذاب میں گرفتار اور اس عذاب سے نجات پانے اور دنیا میں دوبارہ جا کر نیک کام کرنے کی التجا کر رہے ہیں اور جن غریب ایمانداروں کو یہ مالدار مشرک طرح طرح سے دنیا میں ستاتے تھے اور اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت کے موافق وہ غریب اس پر صبر کر کے چپکے ہو رہتے تھے ان کا انجام بھی ان مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ وہ جنت میں بادشاہت کر رہے ہیں ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دنیا کے بڑے بڑے مالدار نافرمان لوگوں کو قیامت کے دن جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو دوزخ میں ڈالتے ہی فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کے جس عیش و آرام کے نشہ نے تم کو عقبیٰ سے غافل رکھا ‘ اس عذاب کے آگے دنیا کا وہ عیش و آرام تم کو کچھ یاد ہے تو اس کے جواب میں وہ قسم کھا کر کہیں گے کہ نہیں ‘ اسی طرح جنت میں داخل ہوتے ہی ایماندار غریب اہل جنت سے فرشتے پوچھیں گے کہ دنیا کی وہ غریبی کی حالت جس پر تم نے صبر کیا اور اس صبر کے اجر میں تم کو یہ بادشاہوں کا سا ہمیشہ کا عیش و آرام ملا ‘ اس عیش و آرام کے آگے دنیا کی وہ تنگ دستی اور غریبی تم کو کچھ یاد ہے تو وہ بھی قسم کھا کر کہیں گے کہ نہیں ‘ جن دو فرقوں کا حال ان آیتوں میں ہے ان کا انجام اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
Ayahs 23:112–114

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے

112۔ 114:۔ ان دوزخیوں کو قائل کرنے کے لیے جس طرح ان سے یہ پوچھا جاوے گا کہ کیا تم کو قرآن کی آیتیں نہیں سنائی گئیں اور تم نے ان کو نہیں جھٹلایا ‘ اسی طرح یہ بھی ان سے پوچھا جاوے گا کہ دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں تم عقبیٰ کو بھول گئے اور اللہ کے کلام کو تم نے جھٹلایا ‘ آخر تم کو کچھ یہ بھی یاد ہے کہ دنیا میں تم کتنے برس رہے ‘ عذاب کی سختی کے سبب سے یہ لوگ بالکل بدحواس ہوجاویں گے ‘ اس لیے بدحواسی کا جواب دیویں گے کہ جن کی صحیح گنتی یاد ہو ان سے یہ بات پوچھی جاوے کہ دنیا میں ہم کتنے برس رہے۔ اس ہمیشہ کے سخت عذاب کے آگے تو ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا میں ایک دن یا اس سے بھی کچھ کم رہے ‘ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب تو تم کو دنیا میں رہنے کی مدت یاد نہیں لیکن اگر یاد کر کے تم اس مدت کو اس وقت جان بھی لیتے تو اس ہمیشہ کے عذاب کے آگے وہ مدت کچھ شمار کے قابل نہ رہتی ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے مالدار نافرمان لوگ قیامت کے دن دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں دنیا کے سب عیش و آرام کو بالکل بھول جاویں گے اس حدیث کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ دوزخ کے عذاب کی سختی کے آگے دوزخی لوگ دنیا کی راحت کو سب چیزوں کو بھول جاویں گے۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے

115:۔ منکرین حشر کا یہ بھی جواب ہے کہ دنیا کے نیک وید کی جزاو سزا کے لیے پھر دوبارہ جینا نہ ہوتا تو دنیا کا پیدا کرنا بےفائدہ ہوتا جس سے اللہ کی شان پاک ہے ‘ اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں عقل مند لوگ اس طرح کے بےفائدہ کام سے پرہیز کرتے ہیں جس طرح کا بےفائدہ کام یہ لوگ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ مثلا کیھتی کرتے ہیں تو اناج پیدا ہونے کی نیت سے ‘ باغ لگاتے ہیں تو میوہ کھانے کے ارادہ سے ‘ پھر تمام مخلوقات کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ‘ بغیر سزاوجزا کے اس کو بلا نتیجہ ٹھہرانا ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے ‘ ایک بیمار شخص عبداللہ بن مسعود کے پاس آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں آیا ‘ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے یہ آیت پڑھ کر اس بیمار پر دم کی ‘ وہ اچھا ہوگیا ‘ جب آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا یہ آیت تو ایسی ہے کہ اگر اعتقاد سے کوئی شخص پہاڑ کو جگہ سے ہلا دینے کی نیت سے آیت کو پڑھ کر پہاڑ پر پھونکے تو پہاڑ بھی جگہ سے ہل جاوے ‘ عبد اللہ بن معسود کی یہ روایت مسند ابی یعلی تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن مردویہ وغیرہ کی کئی کتابوں میں 1 ؎ ہے اس واسطے ایک سند سے دوسری سند کو تقویت ہوجاتی ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرۃ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا انسان نے اپنی پہلی پیدائش کا جو انکار کیا اس سے اس نے اپنے پیدا کرنے والے کو جھٹلایا جو انسان کو زیبا نہیں تھا کیونکہ اگر انسان ذرا بھی غور کرتا تو یہ بات اس کی سمجھ میں اچھی طرح آجاتی کہ جس صاحب قدرت نے پانی کے ایک قطرہ سے انسان کا پتلا بنا کر اس میں روح پھونک دی ‘ اس کو آدم (علیہ السلام) کے ایک پتلا کی طرح خاک کے بہت سے پتلوں کا بنا دینا اور ان میں روح کا پھونک دینا کیا مشکل ہے۔ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ مشکل طریقہ کی پہلی پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر آسان طریقہ کی دوسری دفعہ کی پیدائش کے جو لوگ منکر ہیں وہ گویا اس عقلی تجربہ سے بےبہرہ ہیں کہ جو کام مشکل طریقہ سے ایک دفعہ کیا جاچکا ہو ‘ آسان طریقہ سے پھر دوسری دفعہ اس کا کیا جانا بالکل آسان ہے ‘ سورة الروم میں اللہ تعالیٰ نے اس مطلب کو ذرا تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 17 ج 5 وفتح البیان 233 نیز دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 259 ج 3۔ )
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے

116:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جو بغیر کسی سند کے اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور سزا وجزا کے لیے حشر کے قائم ہونے کا انکار کر کے دنیا کی پیدائش کو بلا نتیجہ ٹھہراتے تھے ‘ ان آیتوں میں فرمایا کہ جب دنیا کے عارضی بادشاہ اپنی بادشاہت میں کسی کا شریک ہونا پسند نہیں کرتے ‘ اسی طرح نافرمان نوکروں اور رعایا کو مناسب سزا دیتے ہیں ‘ فرمانبرداروں سے طرح طرح کے سلوک کرتے ہیں تو اس صاحب عرش حقیقی بادشاہ کی شان میں یہ منکر شریعت لوگ جو باتیں منہ سے نکالتے ہیں وہ بادشاہ حقیقی ان باتوں سے بہت بالاتر ہے اور جب اس صاحب قدرت نے انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو ہر شخص پر خالص اسی کی تعظیم واجب ہے جو لوگ اپنے اس واجب حق کو ادا نہیں کرتے وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنی عاقبت خراب اور برباد کرتے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے معاذ بن جبل کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی تعظیم میں کسی کو شریک نہ کریں ‘ اب جو بندے اللہ تعالیٰ کے اس حق کو پورے طور پر ادا کریں گے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو عقبیٰ کی خرابی سے بچاوے گا ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ان کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو عقبیٰ کی خرابی سے بچاوے گا ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ جو لوگ اس حق کے ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں وہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ اپنی عقبیٰ خراب کرتے ہیں۔
Ayahs 23:117–118

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

117۔ 118:۔ سورة الاحقاف میں آوے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تو زمین و آسمان اور ان بت پرستوں کو پیدا کیا ‘ ان بت پرستوں کے بتوں نے کوئی چیز پیدا کی ہو تو یہ لوگ اس کی سند پیش کریں اور اس طرح کو کوئی سند یہ لوگ پیش نہیں کرسکتے تو ان سے پوچھا جاوے کہ پھر آخر کس سبب سے یہ لوگ بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں کیونکہ دنیا میں تو ان بتوں کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کا یہ لوگ کچھ پتا اور نشان نہیں بتلا سکتے اور عقبیٰ کا یہ حال ان لوگوں کو قرآن میں کئی جگہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں ‘ قیامت کے دن وہ فرشتے اور نیک لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجاویں گے ‘ ان آیتوں میں شرک کا کسی سند سے ثابت نہ ہونے کا اور مشرکوں کا بھلائی کو نہ پہنچنے کا جو ذکر ہے ‘ سورة الاحقاف کی آیتوں سے اس کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں ‘ اس حدیث کو آیت کے ٹکڑے فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ شرک جتنا بڑا گناہ ہے قیامت کے دن نیکی بدی کے حساب و کتاب کے وقت اس کے مؤاخذہ کا حال ان مشرکوں کو اچھی طرح معلوم ہوجاوے گا ‘ جن غریب مسلمانوں کا یہ ذکر اوپر گزرا کہ جب مالدار مشرک ان کو طرح طرح کے مسخراپن میں اڑاتے تھے تو وہ غریب مسلمان کن لفظوں سے بارگاہ الٰہی میں دعا کیا کرتے تھے ‘ آخر سورة میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ان ہی لفظوں سے دعا مانگنے کا حکم دیا تاکہ ان غریب مسلمانوں کا دل بڑھے اور وہ جان لیویں کہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب ابوبکر صدیق ؓ نے اللہ کے رسول ﷺ سے اس کے لفظ بھی ان لفظوں کے قریب قریب ہیں اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ لفظ یا ان کے معنے کے قریب کے لفظ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں ‘ سورة المو ‘ منون ختم ہوئی (اب سورة النور شروع ہوتی ہے) (1 ؎ الدر المنثور ص 71 ج 5 ومشکوٰۃ باب التشہد ‘ اور وہ دعا یہ ہے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَاِنَّہ ‘ لَا یَغْفُِِ الذُّنُوْبَ اِلَّآ اَنْتَ فَا غْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمہُ ۔ )