23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 23:68–75

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا ؟ یا ان کے پاس کچھ ایسی چیز آئی ہے جو ان کے اگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے پہچانتے نہیں اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے سودا ہے (نہیں) بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر (خدائے) برحق ان کی خواہشوں پر چلے تو آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب درہم برہم ہوجائیں بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت (کی کتاب) پہنچا دی ہے اور اپنی (کتاب) نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا تم ان سے (تبلیغ کے صلے میں) کچھ مال مانگتے ہو ؟ تو تمہارے پروردگار کا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور تم تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاتے ہو

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں )

68۔ 75:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نسل ابراہیمی میں اپنے آپ کو زیادہ عقل مند سمجھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہم لوگوں کی ہدایت کے لیے کوئی آسمانی کتاب نازل ہوتی تو ہم پہلے لوگوں سے بڑھ کر راہ راست پر آتے ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ابوسفیان ؓ اور ہرقل بادشاہ روم کا جو قصہ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ نبی ہونے سے پہلے مشرکین مکہ اللہ کے رسول کو بہت سچا آدمی جانتے تھے ‘ صحیح 2 ؎ بخاری کے حوالہ سے جبیر بن مطعم کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے، جس میں محمد بن جبیر کے باپ نے کہا جب میں نے سورة والطور سنی تو میرا دل بےقابو ہوگیا۔ سورة الانعام کی آیتوں اور اوپر کی حدیثوں کو ان آیتوں کے ساتھ لانے کا یہ مطلب ہوا کہ نہ تو قرآن ایسی نئی آسمانی کتاب ہے کہ اس سے پہلے کسی بشر پر آسمانی کتاب کا نازل ہونا ان مشرکین مکہ کے کانوں تک نہ پہنچا ہو ‘ نہ اللہ کے رسول ایسے اوپرے ہیں جن کے سچ چھوٹ سے یہ لوگ واقف نہ ہوں اور نہ قرآن ایسا کلام ہے جو دیوانے لوگوں کے کلام کی طرح بےٹھکانے ہو ‘ بلکہ یہ تو ایسا کلام ہے جس کے سننے سے ان میں کے اکثر لوگوں کے دل بےقابو ہوجاتے ہیں اور وہ اپنے بڑوں کے طریقہ کو چھوڑ کر قرآن کے پیرو بن جاتے ہیں ‘ حاصل یہ ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات نہیں بلکہ بات فقط اتنی ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخی ٹھہر چکے ہیں ‘ حاصل یہ ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات نہیں بلکہ بات فقط اتنی ہے کہ ان میں کے اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دوزخی ٹھہر چکے ہیں ‘ اس لیے وہ قرآن کی نصیحت کو نہ دھیان سے سنتے ہیں ‘ نہ ان کو سچی بات اچھی معلوم ہوتی ہے ان کو تو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی خواہش کے موافق دنیا میں شرک جائز ہوجائے ‘ یہ نہیں جانتے کہ اگر ایسا ہو تو جس طرح دنیا کے دو بادشاہوں کے شراکت کی بادشاہت کا انتظام بگڑ جاتا ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا بھی کوئی شریک ہوتا تو تمام عالم کا انتظام خراب ہوجاتا ‘ پھر فرمایا کہ یہ لوگ قرآن کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں جو کہتے ہیں قرآن تو ایسا نہیں ہے بلکہ قرآن میں تو ان لوگوں کی عقبیٰ کے درست ہوجانے کی نصیحت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ بدبخت ٹھہر چکے ہیں وہ اس نصیحت کو دھیان سے نہیں سنتے ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے قرآن کی نصیحت پر اجرت بھی تو نہیں مانگتے جو یہ لوگ قرآن کی نصیحت سے گھبراتے ہیں ‘ تمہاری اجرت تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ رکھی ہے کیونکہ ساری مخلوقات کی پرورش اسی کے ذمہ ہے ‘ پھر فرمایا ‘ ان میں جو لوگ عقبی کے منکر ہیں وہ عقبیٰ کی بہبودی کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر ٹیڑھا راستہ چلتے ہیں ‘ پھر فرمایا ‘ ان لوگوں کو سرکشی کے سبب سے مکہ میں جو قحط پڑا ‘ اگر اللہ اپنی رحمت سے اس قحط کو رفع کردے تو ان لوگوں کی شرارت تو یہاں تک بڑھی ہوئی ہے کہ قحط کے رفع ہوتے ہی پھر یہ لوگ سرکشی کی وہی بہکی ہوئی باتیں کرنے لگیں گے ‘ صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود کی روایت کے حوالہ سے مکہ کے قحط کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے جب بہت سرکشی شروع کی تو اللہ کے رسول ﷺ نے قریش کے حق میں بددعا کی جس کے اثر سے مکہ میں بہت سخت قحط پڑا ‘ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول 3 ؎ کے موافق آخری آیت میں مختصر طور پر اسی قحط کا ذکر ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری باب اول حدیث) (2 ؎ دیکھئے اوائل صحیح بخاری۔ ) (3 ؎ تفسیر ابن جریر ص 45 ج 8 ا )
Ayahs 23:76–77

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے نہیں ہیں

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم نے ان پر عذاب شدید کا دروازہ کھول دیا تو اس وقت وہاں ناامید ہوگئے

76۔ 77:۔ معتبر سند سے نسائی ‘ مستدرک حاکم اور بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش مکہ نے جب آنحضرت ﷺ سے سرکشی کی تو آپ کی بددعا سے مکہ میں بڑا سخت قحط پڑا ‘ اس قحط کے زمانہ میں ابوسفیان ؓ نے آنحضرت ﷺ سے آن کر کہا کہ آپ ﷺ تو رحمتہ للعالمین اپنے آپ کو کہتے ہیں۔ قریش تو آپ ﷺ کے قرابت دار ہیں ‘ اب قریش کا یہ حال ہے کہ جو نہ کھانے کی چیز تھیں وہ سب کھاچکے ‘ ذرا ہماری غم خواری فرمائیے اور اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ بلا دفع ہو آپ ﷺ نے قریش کے اس حال پر ترس کھا کے دعا کی اور آپ کی دعا کی برکت سے وہ قحط جاتا رہا ‘ قحط کے جاتے ہی قریش نے پھر وہی سرکشی شروع کردی ‘ اس قحط کے ذکر میں عبد اللہ بن مسعود کی روایت صحیح بخاری کے حوالہ سے اوپر گزر چکی ہے ‘ اس قحط کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ‘ حاصل معنی آیتوں کے یہ ہیں کہ ان لوگوں کے دل ایسے سخت ہوگئے ہیں کہ خدا کی طرف سے کوئی مصیبت اور سختی آتی ہے تو جب بھی ان کو عبرت نہیں ہوتی اس لیے اب ان کو اللہ کے کسی بڑے سخت عذاب کا منتظر رہنا چاہیے اس بڑے عذاب کے بعد ان کی سب سرکشی نا امیدی سے بدل جاوے گی یہ بڑا عذاب آخر کو اللہ کہ وعدہ کے موافق بدر کی لڑائی کے روز آیا کہ بڑے بڑے سرکش ستر آدمی قریش کے حالت کفر میں بڑی ذلت اور خواری سے دنیا سے اٹھ کر ہمیشہ کہ عذاب آخرت میں مبتلا ہوئے جس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے۔ (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 13 ج 5۔ )
Ayahs 23:78–81

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزاری کرتے ہو

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب جمع ہو کر جاؤ گے

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا تصرف ہے کیا تم سمجھتے نہیں ؟

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

بات یہ ہے جو اگلے (کافر) کہتے تھے، اسی طرح کی (بات یہ) کہتے ہیں۔

78۔ 81:۔ اوپر منکر حشر لوگوں کا یہ ذکر تھا کہ یہ لوگ حشر کے منکر ہیں اس سبب سے یہ عقبیٰ کی بہبودی کے سیدھے راستہ کو چھوڑ کر ٹیٹرھا راستہ چلتے ہیں ‘ ان آیتوں میں قدرت کی چند نشانیاں بیان فرما کر ایسے لوگوں کو قائل کیا گیا ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ ان منکر حشر لوگوں کے سننے کے لیے کان ‘ دیکھنے کے لیے آنکھیں ‘ ہر بات کے سمجھنے کے لیے آنکھیں ‘ ہر بات کے سمجھنے کے لیے دل ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ پیدا کیا اب یہ لوگ ان چیزوں کے دوبارہ پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر جو گنتے ہیں ‘ تو انہوں نے اللہ کی قدرت کا بہت تھوڑا حق مانا ‘ پھر فرمایا ‘ جس طرح اب اللہ تعالیٰ نے ان منکرین حشر کو پیدا کرکے تمام روئے زمین پر ان کو بکھیر رکھا ہے اسی طرح حشر کے دن قبروں سے اٹھا کر میدان محشر میں ان کو جمع کیا جاوے گا۔ پھر فرمایا ‘ کیا ان لوگوں کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نیست سے ہست کیا اور ان کی زندگی کے انتظام کے لیے موسم میں ردو بدل ہے جس کے سبب سے رات دن کا گھٹنا اور بڑھنا پیدا ہوگیا ‘ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے اللہ کی قدرت کی ان نشانیوں کو کچھ عبرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا ‘ بلکہ قدرت کی ان نشانیوں کو دیکھنے کے بعد اسی طرح حشر کے انکار پر جمے رہے جس طرح ان سے آگے کے منکر حشر تھے ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے حدیث قدسی ہے ‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ کے انکار سے انسان نے مجھ کو جھٹلایا ‘ حالانکہ انسان کی پہلی پیدائش سے دوسری پیدائش سہل ہے ‘ یہ حدیث وَاِلَیْہِ تُحْشرُوْنَ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے ایک بوند پانی سے منکرین حشر کے پتلے بنا کر ان میں روح پھونک دی ‘ اس کو خاک سے ان پتلوں کا دوبارہ بنا دینا اور ان میں روح کا پھونک دینا کسی معمولی عقل والے آدمی کے نزدیک بھی کچھ مشکل نہیں ہے کیونکہ یہ کام عقل کا نہیں ہے کہ کسی چیز کا موجود ہونا ایک دفعہ آزما کر پھر دوبارہ اسی چیز کے موجود ہوجانے سے انکار کرے یا اس دوبارہ موجود ہوجانے کو مشکل جانے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 13 )
Ayahs 23:82–90

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور استخوان (بوسیدہ کے سوا کچھ) نہ رہے گا تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے (اجی) یہی تو صرف اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب کس کا مال ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

جھٹ بول اٹھیں گے کہ خدا کا کہو پھر سوچتے کیوں نہیں

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ سات آسمانوں کا مالک کون ہے ؟ اور عرش عظیم کا (کون) مالک (ہے)

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

بےساختہ کہ دیں گے کہ یہ (چیزیں) خدا ہی کی ہیں کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

کہو اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اسکے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) خدا ہی کی ہے تو کہو پھر تم پر جادو کہاں سے پڑجاتا ہے

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بیشک جھوٹے ہیں

82۔ 90:۔ حشر کے منکر جو لوگ اب ہیں یا پچھلے زمانہ کے قصے سنتے آئے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی ایک قصہ ہے کہ ایک دفعہ مر کر پھر جینا ہے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں منکرین حشر سے یہ پوچھا ہے کہ آخر ایک دفعہ تمام جہاں نیست سے ہست جو ہوا ہے یہ کس نے پیدا کیا ہے ‘ نمرود ‘ فرعون ‘ ان لوگوں کی طرح حشر کا انکار اور خدائی دعویٰ کرتے کرتے مرگئے ‘ کیا انہوں نے کچھ پیدا کیا تھا یا ان منکرین حشر کے بتوں نے کچھ پیدا کیا ہے۔ جب مجبوری سے یہ لوگ یہی جواب دیں گے کہ جو کچھ پیدا کیا ہے وہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تو اسی اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح ایک دفعہ سارا جہان نیست سے ہست ہوا ہے ‘ اسی طرح نیک وبد کی جزا وسزا کے لیے دوسری دفعہ پھر وہی ہونا ہے جو ایک دفعہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہوچکا ہے تاکہ جزا وسزا کے ہوجانے کے بعد دنیا کا پیدا کیا جانا ٹھکانے لگے ‘ ان لوگوں کے پاس کیا دلیل ہے جو آنکھوں کی دیکھی ہوئی چیز کو جھٹلاتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید خدری ؓ سے جو صحیح بخاری میں روایتیں 1 ؎ ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ جب قیامت کے دن سب لوگ جمع ہوں گے تو اللہ کے حکم سے فرشتے پکاریں گے کہ دنیا میں جس طرح لوگوں کے گروہ تھے ‘ کوئی بت پرست تھا ‘ کوئی آتش پرست ‘ آج وہ ہر ایک گروہ علیحدہ علیحدہ ہوجاوے سب گروہ الگ ہو کر اپنے فرضی معبودوں کے ساتھ ہوجاویں گے مگر جو لوگ قیامت کے حساب و کتاب کو اور اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کو حق جان کر اللہ کی عبادت کرتے تھے وہ باقی رہ جائیں گے لیکن ابھی تک اس گروہ میں وہ لوگ بھی شریک ہوں گے جو اوپرے دل سے دکھاوے کے طور پر اللہ کی عبادت کرتے تھے ‘ اس سارے گروہ کی توحید آزمانے کے لیے ایک ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو نظر آوے گا جس کو دیکھ کر ان خدا پرست لوگوں کا دل گواہی دے گا کہ یہ ان کا معبود نہیں ہے اس لیے یہ لوگ کہیں گے تم ہمارے خدا نہیں ‘ ہمارے دل میں ہمارے خدا نے اپنی خاص پہچان رکھی ہے ‘ جب ہم اپنے خدا کو دیکھیں گے تو خود پہچان لیں گے ‘ غرض پھر خدا کا اصلی دیدار ہوگا اور خالص توحید والے اس وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں گے اور منافقوں کی کمر تختہ ہوجاوے گی ‘ وہ سجدہ نہ کرسکیں گے ‘ پھر خالص توحید والا گروہ نجات پاوے گا اور سب گروہ طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوجاویں گے ‘ حاصل کلام یہ کہ شریعت میں حشر اور قیامت پر ایمان لانا جو شرط ٹھہرا ہے اور اس شرط کے سبب سے قرآن شریف میں منکرین حشر کی جگہ جگہ مذمت جو آئی ہے اس کا سبب یہی ہے کہ جب تک جزا وسزا کا پورا یقین نہ ہو خالص دل سے نیک عمل کرنے اور بدعمل سے بچنے کا شوق اور ارادہ آدمی کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتا اور جب نیت ہی آدمی کی درست نہ ہو تو تمام عمر نیک کام اوپرے دل سے اگر کوئی کرتا رہے یا برے کام سے بچتا رہے تو کچھ فائدہ نہیں اس لیے جہاں کہیں قرآن شریف میں منکرین حشر کا ذکر ہے وہ ایسے لوگوں سے بھی کسی قدر متعلق ہے جن کو اگرچہ حشر اور قیامت کا صاف انکار تو نہیں ہے لیکن ان کو پورا یقین بھی سزا وجزا کا نہیں ہے چناچہ اس یقین کی کوتاہی کے سبب سے ان کی نیت دین کے کام میں ڈانواں ڈول رہتی ہے اور یہی ڈانواں ڈول اوپر کی صحیح حدیثوں کے بموجب ان لوگوں کے خالص نیت سے عمل کرنے والے گروہ کے ذیل سے بالکل الگ کردے گا اور خدا تعالیٰ کو دیکھنے کے بعد کا ان کو خالص نیت کا سجدہ نصیب نہ ہوگا ‘ اس واسطے منکرین حشر کا ذکر سن کر اس طرح کے ڈانواں ڈول لوگوں کو بھی اپنے حال پر ذرا عبرت چاہیے کہ آخرت کے معاملہ میں ایک طرح کی غفلت کے سبب سے جو کچھ یہ لوگ کرتے ہیں ‘ وہ خالص اللہ کے واسطے نہیں کرتے بلکہ عمل کچھ ہے اور نیت کچھ ہے وَھْوَ یِجُیْرُ وَلَا یُجَارُعَلَیْہِ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر وقت بلا سے انسان کو بچاتا ہے مگر اس کے حکم سے جو آفت انسان پر آوے تو اس سے سوائے اس کے کوئی دوسرا کسی کو نہیں بچا سکتا فَاَنّٰی تُسْحَرُوْنَ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح جادوگروں کے فریب سے مثلا ٹھیکریاں روپے نظر آتے ہیں اسی طرح شیطان کے فریب سے مرنے کے بعد کی سچی باتیں ان لوگوں کو جھوٹی نظر آتی ہیں ‘ آخری آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت مرنے کے بعد کو جو باتیں بیان فرمائی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق بالکل سچی ہیں ‘ جو لوگ بغیر سند کے ان باتوں کو جھٹلاتے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ (1 ؎ جلداتا دوسری 1105۔ 1106 باب قول اللہ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ الٰایۃ )
Ayahs 23:91–93

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

خدا نے نہ تو (اپنا) کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چلتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا یہ لوگ جو کچھ (خدا کے بارے میں) بیان کرتے ہیں خدا اس سے پاک ہے

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اسکی شان اس سے بلند ہے۔

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہو کہ اے پروردگار جس عذاب کا ان (کفار) سے وعدہ ہوا ہے اگر تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے مجھے دیکھائے

91۔ 92:۔ اوپر ذکر تھا کہ جس طرح جادوگروں کے فریب سے ٹھیکریاں روپے دکھائی دیتی ہیں ‘ اسی طرح شیطان کے فریب دینے اور بہکانے سے مرنے کے بعد کی وہ سچی باتیں ان لوگوں کو جھوٹی معلوم ہوتی ہیں ‘ ان آیتوں میں فرمایا ‘ اللہ کے رسول کو جھٹلانے والوں میں سے کچھ لوگ تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد کہتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں مگر یہ بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے کی ہے کہ دنیا کی جس بادشاہت میں دو بادشاہ شریک ہوتے ہیں تو ان میں طرح طرح کے جھگڑے ہو کر ایک دوسرے پر غالب آجاتا ہے ‘ اب جس طرح دنیا کے دو بادشاہوں کے آپس کے جھگڑے کی بات ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے ‘ یہ بھی ان کی آنکھوں کے روبرو ہے کہ تمام دنیا میں انتظام الٰہی ہمیشہ سے ایک وتیرہ پر ہے جس سے ہر شخص کی سمجھ میں یہ بات اچھی طرح آسکتی ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اس کی بادشاہت میں اولاد بن کر یا ساجھی بن کر کوئی اس کا شریک نہیں ہے ‘ بغیر سند کے جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں وہ بالکل جھوٹے ہیں کیونکہ ان میں سے کسی کو غیب کا علم نہیں ہے اس واسطے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں میں اپنی وحدانیت کی جو خبر دی ہے وہ سچ ہے اس سچ کے مقابلہ میں کوئی بےسند بات کسی طرح اعتبار کے قابل نہیں ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی جو اوپر گزری اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ انسان نے مجھ کو صاحب اولاد ٹھہرا کر میری حقارت کی کیونکہ مجھ کو کسی طرح کے شریک کی حاجت نہیں ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اس لیے انسان پر اکیلے اللہ کی تعظیم واجب ہے جو لوگ اس واجب کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گنہگار نہیں ‘ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جب انسان کے پیدا کرنے میں اللہ کو کسی طرح کے شریک کی حاجت نہیں تو یہ مشرک لوگ دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں شریک کر کے اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں شریک کر کے اللہ تعالیٰ کو دوسروں کی مدد کا حاجت مند ٹھہراتے ہیں ‘ جس سے اللہ کی شان کی حقارت لازم آتی ہے اس واسطے شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں۔
Ayahs 23:94–98

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے پروردگار مجھے (اس سے محفوظ رکھیے اور) ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیں

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے پروردگار ! اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں

94۔ 98:۔ اوپر شرک کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں جتلایا کہ اگر یہ مکہ کے مشرک شرک سے باز نہ آویں گے تو جس طرح ان لوگوں سے عذاب کے نازل کرنے کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اس وعدہ کے ظہور پر قادر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس واسطے وقت مقررہ کے آتے ہی ان مشرکوں پر ایک نہ ایک دن وہ عذاب ضرور آوے گا اس عذاب کے آنے کو ضروری جان کر اے رسول اللہ کے تم اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ یا اللہ تو اپنی قدرت سے مجھ کو اس لائق عذاب قوم میں نہ رکھیو ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی دعا قبول فرمائی اور بدر کی لڑائی کا وقت آنے سے پہلے مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ‘ بدر کی لڑائی کے وقت مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکشوں پر جو عذاب آیا ‘ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت سے اس کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے ‘ آگے فرمایا ‘ ہجرت کا وقت آنے تک یہ مشرک کچھ ایذا دیویں تو اس کو درگزر کر کے ٹال دینا چاہیے اور اس ضعف اسلام کے زمانہ میں شیطان کی چھیڑ اور اس کے غلبہ سے اللہ کی پناہ کی دعا مانگنی چاہیے کیونکہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ اس ضعف اسلام کے زمانہ میں مسلمانوں اور مشرکوں میں لڑائی کرا دیوے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ابھی اس لڑائی کا وقت نہیں آیا جس سے اسلام کے غلبہ کا نتیجہ نکلے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں سلیمان سے روایت 1 ؎ ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک شخص کو غصہ کی حالت میں دیکھ کر فرمایا اگر یہ شخص اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھے تو ابھی اس کا غصہ جاتا رہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ غصہ شیطان کے وسوسہ سے آتا ہے اور اللہ سے پناہ مانگتے ہی اس کا اثر جاتا رہتا ہے۔ (1 ؎ الترغیب (باب) الترہیب من الغضب الخ ص 450 ج 3 )
Ayahs 23:99–100

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا اے پروردگار ! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا اور (اسکے ساتھ) عمل نہیں ہوگا اور ان کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے (رہیں گے )

99۔ 100:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر و قیامت کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ یہ انکار ان لوگوں کا اسی وقت تک ہے جب تک قبض روح اور قبر اور حشر اور قیامت کا عذاب ان کے روبرو نہیں آتا جب یہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا تو انہیں معلوم ہوجاوے گا کہ رسولوں کی معرفت اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا تھا کہ دنیا عمل کی جگہ ہے تو یہ لوگ آخرت کی ہر سختی اور عذاب کے وقت دنیا میں واپس آنے اور نیک عمل کرنے کی خواہش ظاہر کریں گے مگر جب وقت ہاتھ سے نکل گیا تو پھر بےوقت کی خواہش سے کیا ہوتا ہے ‘ قتادہ کا قول ہے کہ ایسے لوگوں کے حال پر بڑا افسوس ہے جو نیک عمل سے غافل ہیں اور دنیا کے دھندوں میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کو قیامت میں یہ موقع پیش آنے والا ہے کہ دنیا کے سب دھندوں سے زیادہ فائدہ مند ان کو عمل نیک ہی نظر آوے گا ‘ چناچہ اس آیت کے مضمون سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہت ‘ وزارت ‘ مال و ادلاد کے لیے کوئی شخص دنیا میں واپس آنے کی خواہش نہ کرے گا بلکہ خواہش اور آرزو ہوگی ‘ تو فقط اتنی ہی ہوگی کہ دنیا میں جاویں اور نیک عمل کریں ‘ صحیحین کے حوالہ سے انس بن مالک کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ قبر تک قرابت دار اور مال اور عمل یہ تین چیزیں آدمی کے ساتھ جاتی ہیں اور ان میں سے دو تو پھر دنیا کی دنیا میں ہی واپس آجاتی ہیں فقط عمل آدمی کے ساتھ رہتا ہے ‘ غرض دنیا میں جس طرح آدمی کی زیست کا ٹھکانا نہیں آج ہے اور کل نہیں ‘ اسی طرح خود دنیا اور دنیا کی سب چیزوں کا بھی ٹھکانا نہیں ‘ ایک عمل ہی دنیا میں آدمی کے ساتھ جانے کی چیز ہے اور نیک لوگوں کو نیک عملوں کا ثمرہ پاتے ہوئے جب بدلوگ آخرت میں دیکھیں گے تو دنیا میں پھر آنے اور نیکی کمانے کی تمنا ان کے دل میں پیدا ہوگی ‘ ابوداود اور مسند امام احمد کے حوالہ سے براء بن العازب کی صحیح روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نافرمان لوگوں کے آخر وقت پر خوفناک شکل کے فرشتے ایسے لوگوں کی قبض روح کے لیے آتے ہیں اور اللہ کی خفگی اور طرح طرح کے عذاب سے ایسے لوگوں کو ڈراتے ہیں جس سے ایسے لوگوں کی روح ان کے جسم میں چھپتی پھرتی ہے اور پھر نہایت سختی سے وہ فرشتے اس روح کو جسم سے نکالتے ہیں آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ ایسے لوگ موت کے وقت دنیا میں واپس آنے اور نیک عمل کرنے کی تمنا کرتے ہیں ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ قبض روح کے وقت ایسے لوگ دنیا میں رہ جانے اور نیک عمل کرنے کی تمنا کریں گے علاوہ اس کے جس وقت ایسے لوگوں کو دوزخ میں ڈالنے کے لیے دوزخ کے کنارہ پر کھڑا کیا جاوے گا ‘ اس وقت بھی یہ لوگ یہی تمنا کریں گے ‘ کہ ان کو نیک عمل کرنے کے لیے دنیا میں بھیج دیا جائے چناچہ اس کا ذکر سورة الانعام میں گزر چکا ہے ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قبض روح کے وقت جب ایسے لوگوں کو عذاب کے فرشتے نظر آویں گے تو یہ لوگ اپنی حالت پر بہت پچھتا کر پہلے اللہ تعالیٰ سے اور پھر قبض روح کے فرشتوں سے دنیا میں واپس آنے اور نیک عمل کرنے کی تمنا ظاہر کریں گے جس کا جواب ان لوگوں کو یہ ملے گا کہ انتظام الٰہی کے موافق حشر کے دن تک کوئی مرا ہوا شخص قبر سے اٹھ کر دنیا میں نہیں آسکتا ‘ اس واسطے تم لوگوں کی یہ تمنا پوری نہیں ہوسکتی ‘ دو چیزوں کے بیچ میں جو چیز اٹکاؤ کی طرح ہو اس کو برزخ کہتے ہیں ‘ انسان کا قبر میں رہنے کا زمانہ دنیا اور عقبیٰ کے مابین میں ایک اٹکاؤ کا زمانہ ہے اس لیے اس کو برزخ کہا جاتا ہے حشر کے دن سب لوگ قبروں سے اٹھ کر حساب کتاب کے لیے دنیا کے ایک ٹکڑے ملک شام میں جمع ہوں گے چناچہ اس کا ذکر ترمذی اور نسائی کی معاویہ بن حیدہ کی صحیح روایت میں ہے حشر کے دن تک کسی مرے ہوئے شخص کا قبر سے اٹھ کر دنیا میں نہ آنے کا ذکر جو آیت میں ہے ‘ اس حدیث سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حشر کے دن قبروں سے اٹھ کر دنیا کے ٹکڑے ملک شام میں یہ لوگ جمع ہوں گے اس سے پہلے دنیا میں نہیں آسکتے ‘ یہ معاویہ بن حیدہ بہز بن حکیم تابعی کے دادا مشہور صحابہ میں سے ہیں۔
Ayahs 23:101–104

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو نہ تو ان میں قرابتیں رہیں گی اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

تو جن کے (عملوں کے) بوجھ بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تیئیں خسارے میں ڈالا ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے

101۔ 104:۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور عبد اللہ بن مسعود کا اس باب میں اختلاف 1 ؎ ہے کہ ان آیتوں میں پہلے صور کا ذکر ہے یا دوسرے کا۔ رفع اس اختلاف کا یہ ہے کہ یہاں صور کے ذکر کے بعد عملوں کے تولے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے اور اس پر سب سلف کا اتفاق ہے کہ عملوں کا تولا جانا دوسرے صور کے بعد ہوگا اس سبب سے عبداللہ بن مسعود کا قول قوی معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں میں دوسرے صور کا ذکر ہے ترمذی ‘ ابوداؤد کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی صحیح روایت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن میزان میں خوش اخلاقی بڑی بھاری چیز ٹھہرے گی ‘ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اعمال کو ایک طرح کا ہلکا اور بھاری جسم دیا جاوے گا ‘ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اعمال کو جسم دیا جاوے گا اور اس جسم کو تولے جانے کے بعد جن کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا ‘ وہ جنتی قرار پاویں گے اور جن کے بدعملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ دوزخ میں جاویں گے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں جاوے گا ‘ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیتوں میں جن لوگوں کے ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا ذکر ہے قیامت کے دن یہ وہی لوگ ہوں گے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان نہ ہوگا ‘ اسی واسطے آگے کی آیت میں فرمایا ہے کہ یہ لوگ قرآن کی آیتوں کو جھٹلانے والے ہوں گے جن لوگوں کے نیک عمل اور بدعمل برابر ہوں گے ان کا ذکر ان آیتوں میں نہیں ہے لیکن سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہے جسکا نام اعراف ہے جن لوگوں کے نیک عمل اور بدعمل برابر ہوں گے ان کو جنتیوں اور دوزخیوں کے فیصلہ تک اس دیوار پر ٹھہرایا جاوے گا ‘ پھر جنتیوں اور دوزخیوں کے فیصلہ کے بعد یہ اعراف والے بھی جنت میں جاویں گے۔ مستدرک حاکم وغیرہ میں انس بن مالک سے روایت 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک بھائی اپنے دوسرے بھائی پر ظلم زیادتی کرنے کی فریاد کر کے اس کی سب نیکیاں لے لے گا ‘ اس کے بعد بھی ظلم زیادتی کا معاوضہ پورا نہ ہوگا تو اپنے گناہ اس ظالم بھائی پر ڈال دینے کی خواہش کرے گا ‘ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا 1 ؎ ہے ‘ حشر کے دن رشتہ داروں کے آپس میں پڑجانے کا ذکر جو آیتوں میں ہے اس کا حال اس حدیث سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ صحیح سند سے مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ مستدرک حاکم وغیرہ میں ابوسعید خدری سے روایت 2 ؎ ہے جس کا حاصل وہی ہے جو شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں بیان کیا ہے کہ جلتے جلتے تمام بدن سوج کر نیچے کا ہونٹ ناف تک لٹک پڑے گا اور اوپر کا ہونٹ سر پر جا چڑھے گا۔ یہ حدیث وَھُمْ فِیْھَا کَا لِحُوْنَ کی گویا تفسیر ہے ‘ دوزخیوں کی زبان کے گھسٹنے اور لوگوں کو اس کے روندنے کا ذکر جو شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں کیا ہے یہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کا خلاصہ ہے یہ حدیث ترمذی ‘ بیہقی وغیرہ میں 3 ؎ ہے اور اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابوالمخارق ہے جس کو ترمذی نے غیر مشہور بتلایا ہے لیکن یہ ابو المخارق الو العجلان کی کنیت سے زیادہ مشہور ہے اور امام بخاری کے مفرد کے معتبر راوی حمید بن ابی غنیہ وغیرہ نے ابو العجلان سے روایت لی ہے اس واسطے ابو العجلان کو بالکل غیر مشہور نہیں کہا جاسکتا۔ (1 ؎ فتح البیان ص 229 ج 3 ) (2 ؎ الترغیب والترہیب ص 405 ج 4 فصل فی ذکر الحساب وغیرہ ؎ فتح الباری ص 167 ج 6 باب ) (1 ؎ الترغیب والترہیب ص 405 ج 4 فصل فی ذکر الحساب وغیرہ ) (2 ؎ الدر المنثور ص 16 ج 5 ) (3 ؎ الترغیب والترہیب ص 484 ج 4 فضل فی عظم اہل النار )
Ayahs 23:105–107

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں ؟ (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور راستے سے بھٹک گئے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے

105۔ 107:۔ اوپر ذکر تھا کہ جلتے جلتے دوزخیوں کا تمام بدن سوج کر نیچے کا ہونٹ ناف تک لٹک پڑے گا اور اوپر کا ہونٹ سر کے اوپر چلا جاوے گا ‘ یہ تو ان لوگوں کی بدصورتی کا حال ہوا ‘ سینڈھ کا پھل جو ان لوگوں کو کھانے کو ملے گا جس کا ذکر سورة والصافات میں آوے گا ‘ اس پھل کی مذمت ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ وغیرہ کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت 4 ؎ میں یوں آئی ہے کہ اس پھل کے عرق کا ایک قطرہ زمین پر اگر آن پڑے تو اس کی بدبو سے تمام دنیا کے لوگ گھبرا جاویں ‘ سورة محمد میں آوے گا کہ دوزخیوں کو سینڈھ کا پھل کھلایا جاوے گا ‘ جب وہ پھل ان کے حلق میں پھنسے گا تو ایسا کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جاوے گا جس سے ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اس طرح کے عذاب کے وقت ان کو ذلیل کرنے کے لیے ان سے کہا جاوے گا کہ دوزخ کے عذاب کی قرآن کی آیتوں کو دنیا میں تم لوگوں کو سنائی جاتی تھیں اور تم اس عذاب کو جھٹلاتے تھے اب یہ وہی عذاب ہے جس میں تم لوگ گرفتار ہو ‘ اس کے جواب میں یہ لوگ کہیں گے کہ یا اللہ تیرے علم غیب کے موافق دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے جس طرح کہ ہم بدبخت ٹھہرے تھے ‘ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد وہی بدبختی ہمارے سر پر سوار رہی ‘ اس لیے ہماری ساری زندگی گمراہی میں گزری ‘ اب اگر اس آگ سے ہم کو نکالا جاکر دنیا میں دوبارہ بھیجا جاتا تو ضرور ہم نیک کام کریں گے اور اگر اس دفعہ بھی ہم اپنی زندگی گمراہی میں گزاریں تو ہم کو سخت مجرم قرار دیا جاوے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہونے والا تھا اپنے علم غیب کے نتیجے کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے اگر دنیا میں ان لوگوں کو دوبارہ بھیجا جاوے تو پھر یہ لوگ وہی کریں گے جو پہلی دفعہ کرچکے ‘ اوپر حدیث اور سورة الانعام کی آیتوں کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھا گیا ہے کہ یہ لوگ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد اپنی ساری عمر گمراہی میں گزاریں گے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات بھی ٹھہری ہوئی تھی کہ اگر ان لوگوں کو دوبارہ دنیا میں بھیجا جاوے تو پھر یہ لوگ وہی کریں گے جو پہلی دفعہ کرچکے ‘ اس واسطے ان لوگوں کو یہ درخواست اللہ تعالیٰ کے نزدیک منظوری کے قابل قرار نہ پائی بلکہ اس درخواست پر وہ خفگی کا جواب ملا ‘ جس کا ذکر آگے کی آیت میں ہے۔ (4 ؎ ایضا۔ فصل فی طعام اہل النار ص 480 ج 4۔ )