24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 24:1

سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا وَ اَنْزَلْنَا فِیْهَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لَّعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:1 in the Quran reader

یہ (ایک) سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا اور اسکے (احکام کو) فرض کردیا اور اس میں واضح المطالب آیتیں نازل کیں تاکہ تم یاد رکھو

1:۔ یوں تو سارا قرآن اللہ تعالیٰ کا نازل فرمایا ہوا ہے لیکن اس سورت میں بدکاری کی شہادت ‘ اس کی سزا کے اسی طرح اور خاص خاص حکم تھے ‘ اس لیے تاکید کے طور پر فرمایا کہ یہ سورت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے ‘ اس میں جو احکام صاف لفظوں میں نازل کئے گئے ہیں ‘ ان کی پابندی ہر ایماندار شخص پر لازم ہے اور ہر شخص کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی اور یاد رکھنی چاہیے کہ آیٔندہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے یہ احکام اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق نازل فرمائے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے مخزومیہ عورت کے چوری کے معاملے میں خطبہ پڑھا اور اس خطبہ میں فرمایا کہ شرعی سزا کے جاری کرنے میں پہلوتہی بڑی وبال کی بات ہے کیونکہ اس پہلوتہی سے پچھلی قوموں پر طرح طرح کی آفتیں آگئی ہیں ‘ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اس سورت میں سزا کے احکام ہیں اور سزا کے احکام میں پہلوتہی کا کرنا بڑے وبال کی بات ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر فرمایا ‘ یہ سورت اللہ تعالیٰ کی نازل فرمائی ہوئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جو احکام ہیں ان پر عمل کرنے میں پہلوتہی کرنا بڑے وبال کی بات ہے۔ (2 ؎ مشکوٰۃ ص 314 باب الشفاعۃ فی الحدود )
Ayah 24:2

اَلزَّانِیَةُ وَ الزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ١۪ وَّ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ۚ وَ لْیَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:2 in the Quran reader

بدکاری کرنے والی عورت اور بدکاری کرنے والا مرد (جب ان کی بدکاری ثابت ہوجائے تو) دونوں میں سے ہر ایک کو سو درے مارو اور اگر تم خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو شرع خدا (کے حکم) میں تمہیں ہرگز ترس نہ آئے اور چاہیے کہ انکی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موجود ہو

2:۔ اس سورت میں جو احکام ہیں ‘ ان احکام میں کا یہ پہلا حکم ہے ‘ حاصل اس حکم کا یہ ہے کہ بدکار عورت یا مرد بن بیا ہے ہوئے ہیں اور چار گواہوں سے ‘ یاحمل سے یا اقرار سے ان کی بدکاری ثابت ہوجاوے تو ان کو سو کوڑے مارو ‘ اکثر علماء کے نزدیک علاوہ ان سو کوڑوں کی سزا کے ایسے لوگوں کو برس دن تک بموجب صحیح بخاری ومسلم کے ابوہریرہ ؓ کی حدیث 1 ؎ کے شہر سے نکال دینے کا حکم بھی ہے ‘ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمتہ اس حکم کے خلاف ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ دیس سے نکالنا حاکم کی رائے پر موقوف ہے خواہ وہ نکالے یا نہ نکالے ‘ زیادہ تفصیل اس کی فقہ کی کتابوں میں 2 ؎ ہے۔ یہاں تک بن بیا ہے بدکار مرد و عورت کا حکم ہوا اگر بیا ہے ہوئے مرد و عورت بدکاری کریں تو ان کا حکم سنگسار کرنے کا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم ومسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت 3 ؎ سے جو حدیث ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز حضرت عمر ؓ نے خطبہ پڑھا اور لوگوں کو جتلایا کہ قرآن شریف میں سنگسار کرنے کی آیت تھی ‘ جس کو ہم سب نے یاد کیا ہے اور ہم سب کے سامنے وہ آیت آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس آیت کے موافق عمل کیا ہے ‘ اس کی تلاوت اگرچہ منسوخ ہے مگر اس کا حکم ضرور باقی ہے ‘ اگر مجھ کو یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے عمر ؓ نے قرآن شریعت میں اپنی طرح سے کچھ لفظ بڑھا دیئے تو میں اس آیت کو ہر ایک قرآن شریف کے ایک گوشہ پر لکھوا دیتا کیونکہ مجھ کو یہ بھی خوف ہے کہ تھوڑے دنوں میں لوگ اس آیت کے حکم انکار کرنے لگ جاویں گے ابن حنبل اور سنن میں حضرت عبادہ بن صامت 4 ؎ کی حدیث ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ سنگسار کرنے سے پہلے ایسے بدکار کو کوڑے بھی مارنے چاہئیں اور امام احمد (رح) کا مذہب بھی اس حدیث کے موافق ہے ‘ لیکن جمہور علماء اس کے مخالف ہیں ‘ بدکار اگر لونڈی غلام ہوں تو بجائے سو کوڑوں کے پچاس کوڑے سورة النساء کی آیت فَعَلَیْھِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ اور حدیث کی رو سے اور سنگساری کی سزا لونڈی غلام کو نہیں ہے کیونکہ کوڑوں کی سزا کی طرح سنگساری کی سزا آدھی نہیں ہوسکتی ‘ اللہ کے رسول ﷺ نے مرد اور عورت دونوں کو سنگ ساری کی سزا دی ہے اس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کی عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت 5 ؎ میں تفصیل سے ہے ‘ لونڈی غلام کو پچاس کوڑے مارنے کی رواتیں زوائد مسلم اور مؤطا میں ہیں 6 ؎‘ حاملہ بدکار بیاہی ہوئی عورت کو اللہ کے رسول ﷺ نے بچہ پیدا ہوجانے کے بعد سنگساری کی سزا دی ہے چناچہ صحیح مسلم میں چند صحابہ ؓ سے جو روایتیں 7 ؎ ہیں ان میں اس کا تفصیل سے ذکر ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت 8 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بیا ہے ہوئے بدکار ایک عورت اور ایک مرد کو یہود لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لائے ‘ آپ ﷺ نے ان یہودیوں سے پوچھا ‘ تورات میں ایسے مرد اور عورت کے لیے کیا حکم ہے ‘ ان یہودیوں نے جواب دیا کہ تورات کے حکم کے مطابق ہم تو ایسے مرد اور عورت کا منہ کالا کر کے انہیں بستی میں پھراتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا کہ تورات میں تو ایسے گنہگاروں کے لیے سنگسار کرنے کا حکم ہے ‘ آخر توراۃ لائی گئی اور سنگ ساری کا حکم اس میں نکلا اور اس مرد اور عورت کو سنگسار کیا گیا۔ آخر آیت میں یہ جو فرمایا کہ ان پکے ایماندار لوگوں کو جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کا یقین دل میں رکھتے ہیں ‘ یہ نہیں چاہیے کہ شرعی سزا کے جاری کرنے کے وقت وہ گنہگاروں پر ترس کھاویں۔ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے موقع پر ترس کھانے سے شرع کے احکام سزا میں اس طرح کا تغیر وتبدل ہوجاتا ہے جس طرح کا تبدل یہود نے تورات میں کیا تھا۔ طَائِفَۃٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ کی تفسیر میں اگرچہ سلف کے کئی قول ہیں لیکن حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر 1 ؎ میں بدکاری کی گواہی کی تعداد کے موافق یہاں بھی چار شخصوں کی تعداد کو ضروری بتلایا ہے اور اگر چار سے زیادہ کچھ لوگ جمع ہوجاویں تو کچھ مناہی نہیں ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ کتاب الحدود ص 309 ) (2 ؎ دلائل اور راحج مذہب کے لیے ملاحظہ ہو فتح البارش ص 369 ج 6 ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیرص 361 ج 3 ومشکوٰۃ ص 309 ) (4 ؎ تفسیر ابن کثیر ایضا ومشکوٰۃ ایضا ) (5 ؎ مشکوٰۃ ص 309۔ 310 ) (6 ؎ المنتقی لابن تیمیہ باب زنا الرقیق خمسون جلدۃ۔ ) (7 ؎ صحیح مسلم 67 ج 2 ) (8 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص 355 ج 6 باب الرحم بالبلاط۔ ) (1 ؎ ص 7 ج 18 طبع جدید )
Ayah 24:3

اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً١٘ وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:3 in the Quran reader

بدکار مرد تو بدکار یا مشرک عورت کے سوا نکاح نہیں کرتا اور بدکار عورت کو بھی بدکار یا مشرک مرد کے سوا اور کوئی نکاح میں نہیں لاتا اور یہ (یعنی) بدکار عورت سے نکاح کرنا مومنوں پر حرام ہے

3:۔ ترجمہ میں لاَیَنْکِحُ کے معنی بیاہ نہ کرنے کے جو لیے ہیں ‘ حضرت عبد اللہ بن عباس کے علاوہ اور بعضے سلف کے قول کے موافق ہیں ‘ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق آیت کی تفسیر یہ ہے کہ بدکار مرد سے بدکار یا مشرکہ عورت بدکاری کرتی ہے ایماندار مرد عورت بدکاری کو حرام جان کر ہمیشہ بدکاری سے بچتے ہیں ‘ ابوداؤد ‘ نسائی اور ترمذی میں معتبر 2 ؎ سند سے مرثد بن ابی مرثد کا قصہ جو شان نزول کے طور پر ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام لانے سے پہلے مرثد بن ابی مرثد کی ایک عورت سے آشنائی تھی جس کا نام عناق تھا ‘ مرثد بن ابی مرثد کے اسلام لانے کے بعد عناق نے مرثد سے نکاح کرنے کی خواہش کی اور مرثد نے اللہ کے رسول ﷺ سے اس نکاح کی اجازت چاہی ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ اس صحیح شان نزول کی روایت سے اس کی پوری تائید ہوتی ہے کہ آیت میں لاَیَنْکِحُ کے معنی بیاہ نہ کرنے کے ہیں کیونکہ کسی صحابی کا بدکاری کی اجازت کا اللہ کے رسول سے اجازت چاہنا صحابی کی شان کے بالکل برخلاف ہے اس صحیح معنی کے موافق حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ بغیر خالص دل کی توبہ کے اگر کسی بدکار مرد کا بیاہ کسی پارسا عورت سے کردیا جاوے گا تو اس طرح کا مرد بیاہ ہوجانے کے بعد بھی اپنی بدکاری کی عادت سے باز نہ آوے گا جس سے پارسا عورت کا حق پورا ادا نہ ہوگا ‘ اسی طرح کسی بدکار عورت کا بیاہ کسی پرہیزگار مرد سے ہوجاوے گا تو یہی خرابی وہاں بھی پائی جاوے گی ‘ اسی واسطے بیاہ شادی میں دینداری کی شرط پر علماء کا اتفاق ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ سورة بنی اسرائیل میں بدکاری کو بےحیائی کا کام فرمایا ہے اور صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن عمر ؓ سے جو روایت 3 ؎ ہے ‘ اس میں شرم وحیا کو ایمان کا جز قرار دیا گیا ہے اس لیے بغیر خالص دل کی توبہ کے بدکار مرد کا پارسا عورت سے یا بدکار عورت کا پرہیزگار مرد سے نکاح جائز نہیں کیونکہ بےحیائی اور شرم وحیا ایک میاں بیوی میں جمع ہوں گے تو طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوجاویں گی۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 63 ج 3 تفسیر الدر المنثور ص 19۔ 20 ج 5 ) (3 ؎ مشکوٰۃ ص 430 الرفق والحیاء وحسن الخلق۔ )
Ayahs 24:4–5

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَۙ Open ayah 24:4 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیزگار عورتوں کو بدکاری کا الزام لگائیں اور اس پر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی درے مارو اور کبھی ان کی شہادت قبول نہ کرو اور یہی بد کردار ہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:5 in the Quran reader

ہاں جو ان کے بعد توبہ کرلیں اور (اپنی حالت) سنوار لیں تو خدا (بھی) بخشنے والا مہربان ہے

قذف : 4۔ 5:۔ حقیقت میں جو مرد یا عورت بدکار ہوں ‘ اوپر ان کا ذکر تھا ‘ ان آیتوں میں ان مرد اور عورتوں کا ذکر ہے جن پارسا عورت یا مرد پر لوگ زبردستی بدکاری کا الزام لگا دیں۔ حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ زبردستی الزام لگانے والے لوگ اگر الزام کے ثبوت میں چار گواہوں کی گواہی نہ لاویں تو اس جھوٹے الزام کی سزا میں ایسے لوگوں کے اسی کوڑے مارے جاویں اور ایسے لوگوں کی گواہی اس وقت تک کسی مقدمہ میں منظور نہ ہو جب تک یہ لوگ اپنی عادت سے خالص دل سے توبہ نہ کریں ‘ ہاں بعد توبہ کے اللہ غفور الرحیم ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ زنا کے مقدمہ میں جس طرح لونڈی غلام کو پچاس کوڑے مارے جاتے ہیں ‘ اسی طرح اکثر سلف کے نزدیک زبردستی بدکاری کا الزام لگانے کے جرم میں لونڈی غلام پر چالیس کوڑوں کی سزا ہے چناچہ موطا 1 ؎ میں جو روایتیں ہیں ان میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے ‘ کوئی آقا اپنی لونڈی یا غلام کو بدکاری کا الزام لگادے تو آقا کو کوڑے مارنے کی سزا نہیں دی جاتی ‘ چناچہ اس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 2 ؎ سے ہے۔ (1 ؎ موطا (باب الحدفی القذف والنفی والتعریض ) (2 ؎ صحیح بخاری باب قذف العبید )
Ayahs 24:6–10

وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:6 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور خود ان کے سوا ان کے گواہ نہ ہوں تو ہر ایک کی شہادت یہ ہے کہ پہلے تو چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک وہ سچا ہے

وَ الْخَامِسَةُ اَنَّ لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 24:7 in the Quran reader

اور پانچویں بار یہ (کہے) کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر خدا کی لعنت

وَ یَدْرَؤُا عَنْهَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْهَدَ اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِ١ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۙ Open ayah 24:8 in the Quran reader

اور عورت سے سزا کو یہ بات ٹال سکتی ہے کہ وہ پہلے چار بار خدا کی قسم کھائے کہ بیشک یہ جھوٹا ہے

وَ الْخَامِسَةَ اَنَّ غَضَبَ اللّٰهِ عَلَیْهَاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 24:9 in the Quran reader

اور پانچویں دفعہ یوں (کہے) کہ اگر یہ سچا ہو تو مجھ پر خدا غضب نازل ہو

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 24:10 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی (تو بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتیں) مگر وہ صاحب کرم امین ہے اور یہ کہ خدا توبہ قبول کرنے والا اور حکیم ہے

6۔ 10:۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ ؓ ایک صحابی تھے ‘ ان کا قصہ اس آیت کا شان نزول ہے ‘ رفع اس اختلاف کا وہی ہے ‘ جو حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح صحیح بخاری 3 ؎ میں بیان کیا ہے کہ دونوں قصے صحیح روایتوں میں ہیں اور ایک ہی زمانہ میں گزرے ہیں ‘ اس واسطے دونوں قصوں کو شان نزول کہنا چاہیے ‘ کیونکہ قرآن شریعت میں ایسی آیتیں بہت ہیں کہ کئی قصے ایک قسم کے گزرنے کے بعد وہ آیتیں نازل ہوئی ہیں اور ان چند قصوں کا مجموعہ ان کی شان نزول ہے ‘ ہلال بن امیہ کا قصہ صحیح بخاری میں عکرمہ کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے جو روایت کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے روبرو ہلال بن امیہ نے اپنی بی بی کی بدکاری کی شکایت کی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس شکایت کے ثبوت میں تم کو چار گواہی پیش کرنے پڑیں گے ورنہ تمہاری پیٹھ پر جھوٹی تہمت کے جرم میں اسی کوڑے پڑیں گے ‘ ہلال میں امیہ نے کہا کہ ایسے موقع پر گواہ کہاں پیدا ہوسکتے ہیں۔ مجھ کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی حکم نازل فرما کر میرے سچ کو سب پر ظاہر کردے گا اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور عیومر عجلانی کا قصہ صحیحین 5 ؎ میں سہل بن سعد کی روایت سے ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ عویمرنے ایک صحابی عاصم ؓ سے کہا کہ تم آنحضرت ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھو کہ کوئی شخص اپنی بی بی کے پاس غیر مرد کو دیکھے اور اس کو مار ڈالے تو کیا وہ قصاص میں قتل کیا جاوے گا ‘ عاصم ؓ نے آنحضرت ﷺ سے وہ مسئلہ پوچھا لیکن آپ ﷺ نے کچھ جواب نہ دیا ‘ عویمر ؓ نے جب عاصم ؓ کی معرفت اپنے مسئلہ کا جواب نہ پایا تو خود آن کر آنحضرت ﷺ سے وہ مسئلہ پوچھا ‘ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی ہیں ‘ حافظ ابن حجر (رح) نے ان دونوں قصوں کے ذکر کرنے کے بعد کہا 1 ؎ ہے کہ عاصم ؓ کے آنحضرت ﷺ کے پاس آنے کے وقت تک کوئی حکم اس باب میں نازل نہیں ہوا تھا اسی واسطے آپ ﷺ نے عاصم ؓ کے جواب میں سکوت فرمایا اتنے میں ہلال ؓ بن امیہ کا قصہ پیش آیا اور اسی پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس عرصہ میں خود عویمر اپنی ذات سے مسئلہ پوچھنے آئے اس لیے ہلال بن امیہ اور عویمر ؓ دونوں کے قصوں کی روایت میں آیتوں کے نازل ہونے کا ذکر ہے اور دونوں قصوں کو شان نزول کہنا مناسب حال ہے بعضے علماء نے جو یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کے لفظ پریشان ہیں کہیں ہلال بن امیہ کے قصہ کا ذکر ہے ‘ کہیں عویمر ؓ کے قصہ کا ‘ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے دونوں قصوں کو بیان کیا ہے ایک روایت عکرمہ کی سند سے ہے جس کو امام بخاری نے کتاب التفسیر میں روایت کیا ہے ‘ اس سند میں ہلال بن امیہ کے قصہ کا ذکر ہے دوسری روایت قاسم بن محمد کی سند سے ہے جس کو امام بخاری (رح) نے بغیر گواہی کے سنگسار نہ کرنے کے باب میں روایت کیا 2 ؎ ہے دونوں سندوں کو ایک خیال کرنے سے شبہ پیدا ہوتا ہے ورنہ حقیقت میں کوئی شہ نہیں۔ مسئلہ لعان : اس مسئلہ کو جس کا ذکر آیتوں میں ہے ‘ لعان کا مسئلہ کہتے ہیں کیونکہ اس مسئلہ میں خاوند اور بی بی دونوں اپنے اپنے سچے ہونے کے لیے جھوٹے پر لعنت کرتے ہیں ‘ اب اس لعان کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے ‘ امام مالک اور شافعی کے نزدیک فقط لعان سے طلاق ہوجاتی ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک لعان کے بعد حاکم کے طلاق دلوانے کی ضرورت ہے اور امام احمد سے اس باب میں دونوں طرح روایتیں ہیں ‘ تفصیل اس کی فقہ کی کتابوں 3 ؎ میں ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب میاں اپنی بی بی کے پاس غیر شخص کو دیکھتا ہے تو ایسی حالت میں اور کوئی نہیں ہوتا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مرد کے لعان کو عورت کی بدکاری کی شہادت قرار دیا ہے تاکہ مرد کے ذمہ سے زبردستی کی بدکاری کے الزام کی سزا اٹھ جاوے ‘ مرد کی اس گواہی کے بعد عورت کو سنگساری کی سزا دی جاوے گی لیکن اگر وہ اس سزا کو اپنے ذمہ سے ساقط کرنا چاہے تو لعان کی وہ صورت اختیار کرے جس کا ذکر آیتوں میں ہے ‘ آخر کو فرمایا یہ اللہ کا فضل اور اس کی حکمت ہے کہ اس نے لعان کا حکم نازل فرما کر میاں بی بی دونوں کو بدکاری کے الزام کی سزا سے بچا دیا اور بدکاری کے چرچا پر کوئی عذاب نہیں بھیجا اور ان دونوں لعان والوں میں جو جھوٹا ہے اس کو توبہ کی رغبت بھی دلائی۔ (3 ؎ ص 262 ج 4 تفسیر سورة نور ) (5 ؎ صحیح بخاری ص 695 ج 2۔ ) (1 ؎ فتح الباری ص 209 ج 5 باب اللعان ومن طلق بعد اللعان ) (2 ؎ باب قول النبی ﷺ لوکنت راجما بغیر بینتہ ص 211 صحیح بخاری مع الفتح جلد 5 ) (3 ؎ فتح الباری ص 207 ج 5 باب العان ومن طلق بد اللعان وص 213 ج 5 باب التفریق بین المتلاعنین )
Ayahs 24:11–15

اِنَّ الَّذِیْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِیْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:11 in the Quran reader

جن لوگوں نے بہتان باندھا ہے تم ہی میں سے ایک جماعت ہے اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھنا بلکہ وہ تمہارے لئے اچھا ہے ان میں سے جس شخص نے گناہ میں جتنا حصہ لیا اس کے لئے اتنا وبال ہے اور جن نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا

لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًا١ۙ وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 24:12 in the Quran reader

جب تم نے وہ بات سنی تھی تو مومن مردوں اور عورتوں نے کیوں اپنے دلوں میں نیک گمان نہ کیا ؟ اور کیوں نہ کہا کہ یہ صریح طوفان ہے ؟

لَوْ لَا جَآءُوْ عَلَیْهِ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ١ۚ فَاِذْ لَمْ یَاْتُوْا بِالشُّهَدَآءِ فَاُولٰٓئِكَ عِنْدَ اللّٰهِ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 24:13 in the Quran reader

یہ (افترا پرداز) اپنی بات (کی تصدیق) کے (لئے) چار گواہ کیوں نہ لائے ؟ تو جب یہ گواہ نہیں لاسکے تو خدا کے نزدیک یہی جھوٹے ہیں

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِیْ مَاۤ اَفَضْتُمْ فِیْهِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۚۖ Open ayah 24:14 in the Quran reader

اور اگر دنیا اور آخرت میں تم پر خدا کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا (سخت) عذاب نازل ہوتا

اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا١ۖۗ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ Open ayah 24:15 in the Quran reader

جب تم اپنی زبانوں سے اس کا ایک دوسرے سے ذکر کرتے تھے اور اپنے منہ سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تم کو کچھ علم نہ تھا اور تم اسے ایک ہلکی بات سمجھتے تھے اور خدا کے نزدیک وہ بڑی بھاری بات تھی

11۔ 15:۔ حضرت عائشہ ؓ پر جو لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا تھا ‘ ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں سات آٹھ صحابیوں کی روایت سے یہ قصہ آیا 1 ؎ ہے ‘ حاصل اس قصے کا یہ ہے کہ 6 ھ میں بنی مصطلق کی لڑائی سے واپسی کے وقت لشکر کے کوچ سے ذرا پہلے حضرت عائشہ ؓ رفع حاجت کے لیے لشکر کے پڑاؤ سے علیحدہ جنگل میں چلی گئیں ‘ وہاں اتفاق سے ان کے گلے کا پوتھوں کا ہار گر پڑا یہ تو اس ہار کے ڈھونڈنے میں رہیں اور یہاں لشکر کا کوچ ہوگیا ‘ کوچ کے وقت اونٹ والوں نے یہ سمجھا کہ معمول کے موافق حضرت عائشہ ؓ اونٹ کے کجاوہ میں ہیں ‘ اس لیے انہوں نے وہ خالی کجاوہ اونٹ پر لاد دیا اور لشکر کے انٹوں کے ساتھ یہ خالی کجاوہ کا اونٹ بھی روانہ ہوگیا ‘ سفر سے پلٹنے کی یہ اخیر منزل تھی اس واسطے پچھلی رات کا چلا ہوا لشکر صبح کو مدینہ میں پہنچ گیا ‘ حضرت عائشہ ؓ کو بہت دیر کی تلاش کے بعد جب وہ ہار مل گیا ‘ تو یہ جنگل سے پڑاؤ میں واپس آئیں اور دیکھا کہ لشکر روانہ ہوگیا تو نیند کے غلبہ کے سبب سے اپنی چادر اوڑھ کر اس خیال سے سوگئیں کہ جب لشکر کے اترنے کے وقت ان کے کجاوے کو لوگ خالی پاویں گے تو ان کی تلاش میں کوئی نہ کوئی پڑاؤ تک ضرور آوے گا ‘ یہاں سفر میں ایک صحابی لشکر سے پیچھے رہ گئے تھے جن کا نام صفوان بن المعطل تھا ‘ یہ صحابی جب پڑاؤ کی طرف سے گزرے تو انہوں نے پڑاؤ میں ایک اکیلے شخص کو سوتا ہوا دیکھ کر افسوس کے طور پر اناللہ پڑھی ‘ جب صفوان نے حضرت عائشہ ؓ کو پہچان لیا تو انہوں نے حضرت عائشہ سے کچھ بات نہیں کی بلکہ اپنے اونٹ کو حضرت عائشہ ؓ کے قریب لاکر بٹھایا اور خود اونٹ پر سے اتر پڑے ‘ حضرت عائشہ سمجھ گئیں ‘ کہ صفوان ؓ اپنے اونٹ پر بٹھا کر حضرت عائشہ ؓ کو مدینہ پہنچا دینا چاہتے ہیں اس لیے حضرت عائشہ ؓ اس اونٹ پر بیٹھ گئیں اور صفوان ؓ پیدل اس اونٹ کے ساتھ ہوئے ‘ لشکر کے مدینہ پہنچنے کے کچھ دیر کے بعد یہ اونٹ بھی مدینہ پہنچ گیا ‘ صفوان ؓ اور عائشہ ؓ کا کچھ دیر تک اس سفر میں جو ساتھ رہا ‘ اس پر کچھ لوگوں نے صفوان ؓ اور حضرت عائشہ ؓ کی شان میں بہتان کا چرچا کیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس بہتان کو جھوٹا قرار دیا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ اس بہتان کا چرچا کر رہے ہیں وہ اہل قبیلہ میں سے ہی کچھ لوگ میں لیکن پکے مسلمان اس چرچے کو اپنے حق میں کچھ برا نہ سمجھیں بلکہ ان کے حق میں یہ چرچا ایک تو اس لیے بہتر ہے کہ اس چرچے پر صبر کرنے کا اجر ان کو ملے گا ‘ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس بہتان کو جھوٹا کردیا جس سے اس چرچے کے سبب سے آئندہ رنج کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہا ‘ پھر فرمایا یوں تو جتنے لوگ اس بہتان میں شریک ہیں ان سب کو جرم کے موافق سزا دی جاوے گی ‘ لیکن جس نے اس گناہ کا بڑا بوجھ اپنے سر پر لیا ‘ وہ سخت عذاب میں پکڑا جاوے گا ‘ صحیح بخاری ومسلم کی جس روایت کا اوپر ذکر گزرا ‘ اس میں یہ بھی ہے کہ اس گناہ کا بڑا بوجھ اپنے سر پر جس شخص نے لیا وہ عبد اللہ بن ابی منافقوں کا سردار تھا کیونکہ اس نے اس بہتان کے قصہ کو زیادہ شہرت دی اسی واسطے حسان ؓ ‘ مسطح ؓ وغیرہ کو دنیا میں کوڑے مارنے کی سزا دی گئی اور عبد اللہ بن ابی کی سزا کا مدار عقبیٰ پر رہا ‘ آگے فرمایا جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دوسروں کو اپنے جیسا مسلمان جانتے ہیں تو منافقوں سے اس بہتان کا چرچا سن کر اپنے بھائی مسلمانوں کے حق میں نیک گمان کیوں نہیں کیا اور بغیر چار گواہوں کی گواہی کے اس چرچے کو جھوٹا کیوں نہیں جانا ‘ اگر مسلمانوں کے حال پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو فقط کوڑوں کی سزا کافی نہ ٹھہرتی بلکہ اس جرم کی سزا میں ان لوگوں پر کوئی عذاب آجاتا جنہوں نے اس پہتان کو جس طرح کسی سے سنا اسی طرح آپ بھی بکنے لگے اور ایسی بات کو چھوٹی سی ایک بات سمجھے جو اللہ کے نزدیک بہت بڑی بات ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا نادانی سے بعضے کلمے ایسے انسان کی زبان سے نکل جاتے ہیں جن کے سبب سے ایک مدت دراز تک اس کو دوزخ میں رہنا پڑے گا ‘ آخری آیت کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ (1 ؎ ملاحظہ ہو فتح الباری ص 264 ج 4 و تفسیر ابن کثیر ص 271۔ 272 ج 3 ) (1 ؎ مشکوٰۃ ص 481 باب حفظ اللسان والغیبہ والشتم۔ )
Ayahs 24:16–18

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا١ۖۗ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ Open ayah 24:16 in the Quran reader

اور جب تم نے اسے سنا تو کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں شایان نہیں کہ ایسی بات زبان پر لائیں (پروردگار) تو پاک ہے یہ تو (بہت) بڑا بہتان ہے

یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 24:17 in the Quran reader

خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن ہو تو پھر کبھی ایسا (کام) نہ کرنا

وَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:18 in the Quran reader

اور خدا تمہارے (سمجھانے کے لئے) اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

16۔ 18:۔ جس بہتاں کا ذکر اوپر گزرا ‘ اس بہتان میں دو طرح کے آدمی تھے ‘ کچھ تو عبداللہ بن ابی کے ساتھ منافق لوگ تھے جو حقیقت میں دل سے مسلمانوں کے بدخواہ تھے ‘ ان کے حق میں اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں یہ فرمایا ‘ ان کو عاقبت میں سخت عذاب ہوگا اور کچھ مسلمان لوگ منافقوں سے سن سنا کر دل میں اس بہتان کی بات کو سچا گمان کرنے لگے تھے یا بعض لوگ زبان سے بھی اس بہتان کی بات کا چرچا کرنے لگے تھے ‘ ان دونوں قسموں کے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ اوپر کے حکم کے موافق جب شریعت میں چار گواہوں کی گواہی کے بغیر یہ بہتان ثابت نہیں ہوسکتا تو پھر جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں انہوں نے اس بہتان کو اپنے دل میں کیوں کر سچا گمان کیا اور زبان پر کیوں اس کا چرچا لائے۔ اس میں ابو ایوب انصاری ؓ ابی ؓ بن کعب اور ان صحابہ کی تعریف نکلتی ہے جنہوں نے بغیر شہادت کے اس بہتان کو سنتے ہی جھوٹ جانا۔ ابو ایوب ؓ کی بی بی نے ان سے ایک روز کہا۔ اجی تم نے کچھ سنا حضرت عائشہ ؓ کے باب میں لوگ کیا کیا کہتے ہیں ‘ انہوں نے جواب دیا کیا تم سے ایسا کام ہوسکتا ہے جس کام میں لوگ حضرت عائشہ ؓ کو بدنام کرتے ہیں ان کی بی بی نے کہا ہرگز نہیں۔ حضرت ایوب ؓ نے کہا پھر اللہ کے رسول کی بی بی سے ایسا کام کیونکر ہوسکتا ہے ‘ جو کچھ چرچا لوگ کر رہے ہیں وہ بالکل بہتان ہے ‘ صحیحین 1 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں سات بڑے سخت گناہوں کا جو ذکر آیا ہے ‘ اس طرح کا بہتان بھی ان گناہوں میں سے ہے ‘ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگ اس طرح کی باتوں کو معمولی باتیں خیال کرتے ہیں اور اللہ کے نزدیک یہ بڑا سخت گناہ ہے ‘ صحیح مسلم ‘ ابوداود ‘ ترمذی اور نسائی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز صحابہ ؓ سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے کہ غیبت کیا چیز ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ ہم کو معلوم نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کسی کے حق میں کوئی ایسی بات کہنی کہ اس کے سننے سے اس کو رنج ہو ‘ اسی کو غیبت کہتے ہیں ‘ کسی نے عرض کیا کہ حضرت کسی میں کوئی بات حقیقت میں ہو تو کیا پیٹھ پیچھے اس کا ذکر کرنا بھی غیبت میں داخل ہے ‘ آپ نے فرمایا غیبت تو یہی ہے ورنہ جو بات کسی آدمی کے حق میں کہی جاوے اور حقیقت میں وہ بات اس میں نہ ہو ‘ اس کا نام تو بہتان ہے ‘ صحیح مسلم ‘ ترمذی وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز صحابہ ؓ سے فرمایا ‘ تم کو معلوم ہے کہ مفلس کس شخص کو کہتے ہیں ‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ جس شخص کے پاس کچھ مال متاع نہ ہو ‘ ہم لوگ تو اس کو مفلس کہتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا اصل مفلس میری امت میں وہ شخص ہے کہ جو نیک عمل کر کے پھر قیامت کے دن اس سبب سے خالی ہاتھ رہ جاوے گا کہ لوگوں میں غیبت کا کرنا لوگوں پر بہتان باندھنا اس کی عادت ہوگی اور اس عادت کی سزا میں قیامت کے دن اس کی سب نیکیاں چھین کر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دے گا جن لوگوں کی اس نے برائی کی تھی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ بہتان ‘ غیبت ‘ چغل خوری یہ اس طرح کے گناہ ہیں کہ اکثر لوگ ان کو ایک زبانی بات چیت اور محفل کا ایک مشغلہ گنتے ہیں اور شریعت میں یہ باتیں بڑے گناہ کی چیزیں ہیں ایسی باتوں کے باب میں ابوہریرہ ؓ کی صحیحین کی روایت 4 ؎ گزر چکی ہے کہ بعض باتوں کو انسان خفیف جان کر دنیا میں منہ سے کہہ دیتا ہے ‘ عاقبت میں جن کی سزا کے سبب سے ایک مدت دراز تک اس کو دوزخ میں رہنا پڑے گا۔ یہ تو عاقبت کے وبال کا ذکر ہوا ‘ علاوہ اس کے ایسے شخص پر جو بہتان ‘ چغل خوری ‘ غیبت میں لگا رہے ‘ دنیا میں بھی وبال پڑتا ہے ‘ مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ثوبان ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی کسی کی غیبت اور ایذا میں لگے گا وہ خود بھی دنیا میں فضیحت ہوگا ‘ معتبر سند سے اوسط اور صغیر طبرانی میں بھی ثوبان ؓ سے اس کے قریب قریب روایت ہے جس سے اس سند کی روایت کو تقویت ہوجاتی علاوہ اس کے صحیح سند سے ترمذی 2 ؎ میں عبداللہ بن عمر ؓ سے ابوداود میں ابوبرزہ سے ‘ ابن ماجہ 3 ؎ میں ابن عباس ؓ سے معتبر روایتیں اس مضمون کی ہیں جس سے سند کے راوی ابو محمد میمون تمیمی کا ضعف جاتا رہتا ہے ‘ یہی حال دوسرے راوی میمون بن موسیٰ مراغی کے ضعف کا ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ تم میں کا ایک منافقوں کی جماعت نے جب اے مسلمانوں اس بہتان کا چرچا تمہارے کانوں تک پہنچایا تھا تو تم نے یہ سیدھی بات کیوں نہ کہہ دی کہ بغیر گواہی کے ہم کو یہ چرچا تو بہتان معلوم ہوتا ہے ‘ پھر فرمایا ‘ آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ تم کو یہ نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم ایمان دار ہو تو پھر کبھی تم کو ایسی بات کی جرأت نہ کرنی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور حکمت کے موافق قرآن کی آیتوں کے ذریعہ سے صاف صاف تم کو یہ سمجھا دیا ہے کہ بغیر گواہی کے ایسی بےٹھکانے کی باتیں شریعت میں سزا کے قابل ہیں۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 17 باب الکبائرو علامات النفاق ) (2 ؎ مشکوٰۃ باب حفظ اللسان والغیبہ والشتم ) (3 ؎ مشکوٰۃ ص 435 باب الظلم ) (4 ؎ یعنی پچھلے صفحہ پر ) (1 ؎ 2 ؎ 3 ؎ تینوں حدیثوں کے لیے ملاحظہ ہو ‘ الرغیب والترہیب ص 239 ج 1 الترغیب فی ستر المسلم والترہیب من ہت کہ وتتع عوراتہ۔ )
Ayahs 24:19–21

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 24:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بےحیائی (یعنی تہمت بدکاری کی خبر) پھیلے ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 24:20 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اسکی رحمت نہ ہوتی (تو کیا کچھ نہ ہوتا مگر وہ کریم ہے) اور یہ کہ خدا نہایت مہربان و رحیم ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِنَّهٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:21 in the Quran reader

مومنو ! شیطان کے قدموں پر نہ چلنا اور جو شخص شیطان کے قدموں پر چلے گا تو شیطان تو بےحیائی (کی باتیں) اور برے کام ہی بتائے گا اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ایک شخص بھی تم میں پاک نہ ہوسکتا مگر خدا جس کو چاہتا ہے پاک کردیتا ہے (اور) خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

19۔ 21:۔ ایمان والوں سے ظاہری مطلب شان نزول کے طور پر اگرچہ حضرت عائشہ ؓ اور صفوان ؓ اور ان دونوں کے ایماندار رشتہ داری ہیں اور بدکاری کا دل سے چرچا کرنے والوں سے مطلب عبداللہ بن ابی ‘ اس کے ساتھ اور وہ مسلمان لوگ ہیں جو منافقوں سے سن کر اس بہتان کے چرچے میں زبانی شریک تھے لیکن آیت کا مطلب عام ہے ‘ اب بھی اس قسم کے چرچا کرنے والے اور جن کے حق میں چرچا کیا جاوے قیامت تک کے سب لوگ آیت کے حکم میں داخل ہیں اور دنیا میں ان جھوٹا بہتان لگانے والوں کو کوڑے پٹنے کی سزا دی جاوے گی اور اگر بغیر توبہ کے اس عادت پر مرجاویں گے تو عقبیٰ میں جدا عذاب ہوگا ‘ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کو جھوٹے سچے کا حال خوب معلوم ہے ‘ پھر فرمایا ‘ یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت اور مہربانی ہے کہ اس نے ان جھوٹا بہتان لگانے والوں پر جلدی سے کوئی عذاب نہیں بھیجا ‘ آگے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ شیطان لوگوں کو اپنی یہی بےحیائی کی باتیں سکھاتا ہے اس لیے ہر ایماندار شخص کو چاہیے کہ شیطان کے کہنے پر نہ چلے اور یہ اللہ کا فضل اور رحمت ہے کہ جو ایماندار شخص شیطان کے حملے سے بچنا چاہتا ہے اور شیطان کے حملہ کے وقت اللہ تعالیٰ سے پناہ چاہے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو شیطان کے حملے سے بچا کر نیک راہ سے لگ جانے کی توفیق دیتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو شیطان کا حملہ ایسا زبردست ہے کہ اس سے انسان کا بچنا دشوار ہے ‘ آخر کو فرمایا اللہ تعالیٰ ہر ایک نیک شخص کی منہ کی بات کو سنتا اور دل کے ارادہ کو جانتا ہے ‘ خالص دل سے جو کوئی شیطان کے حملہ کے روکنے کی التجا کرے گا اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد فرمائے گا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎ سے انس بن مالک کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ بہکانے کے حملہ کے وقت شیطان خون کی طرح انسان کے تمام جسم میں سرایت کرجاتا ہے ‘ ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے حارث اشعری کی صحیح حدیث بھی کئی جگہ کزر 2 ؎ چکی ہے کہ سوائے یاد الٰہی کے اور کوئی چیز انسان کو شیطان کے حملہ سے نہیں بچا سکتی ‘ ان حدیثوں سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اگرچہ شیطان کا حملہ بڑا زبردست ہے لیکن جو شخص اس کے حملہ کے وقت اللہ تعالیٰ کو نہ بھولے گا وہ شیطان کے حملہ سے بچ سکتا ہے۔ (1 ؎ نیز دیکھو مشکوٰۃ ص 18 باب الوسوسہ ) (2 ؎ مثلا ص 368 ج 3 تفسیر ہذا ‘ )
Ayah 24:22

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:22 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں صاحب فضل (اور صاحب) وسعت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ رشتہ داروں اور محتاجوں اور وطن چھوڑ جانے والوں کو کچھ خرچ پات نہیں دیں گے ان کو چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں کیا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ خدا تم کو بخش دے ؟ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

22:۔ تفسیر ابن ابی حاتم ‘ تفسیر ابن منذر وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ اور بعضے اور سلف کے قول کے موافق اس آیت کی جو شان نزول بیان کی گئی 3 ؎ ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت عائشہ ؓ اور صفوان ؓ پر جھوٹا بہتان لگانے والوں کے نام معلوم ہوگئے ان میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بھانجے مسطح بن اثاثہ کی شرکت بھی پائی گئی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے قسم کھالی کہ اب تک وہ مسطح کے ساتھ جو سلوک کیا کرتے تھے ‘ آئندہ اس سے ہاتھ روک لیں گے ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا ‘ خوشحال لوگوں کو یہ قسم نہ کھانی چاہیے کہ وہ غریب مہاجر رشتہ داروں کے سلوک سے آئندہ ہاتھ روک لیں گے بلکہ ان خوش حال لوگوں کو درگزر کے طور پر اپنے رشتہ داروں کا قصور معاف کر کے حسب دستور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا اور اس نیک کام کے بدلہ میں بارگاہ الٰہی سے مغفرت کا دل میں اعتقاد رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ غفور الرحیم ہے وہ کسی کے نیک کام کے اجر کو ضائع نہیں کرنا چاہتا صحیح ابن خزیمہ ‘ مستدرک حاکم اور طبرانی میں ام کلثوم بنت عقبہ سے روایت 4 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو رشتہ دار آدمی کے ساتھ برائی سے پیش آویں اور اس پر بھی آدمی ان رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرے تو ایسے سلوک کا بڑا اجر ہے حاکم نے مسلم کی شرط پر اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں عبد الرحمن بن سمرہ 5 ؎ سے روایت ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ جو شخص کسی بات پر قسم کھا لیوے اور قسم کھا لینے کے بعد قسم والی بات سے بہتر کوئی بات اس کو نظر آئے تو ایسے شخص کو چاہئے کہ قسم کا کفارہ دے کر اس بہتر بات پر عمل کرے ‘ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہو کہ اگرچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے بھانجے مسطح ؓ کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے لیکن ہر ایماندار شخص کے حق میں حکم یہی ہے کہ برائی سے پیش آنے والے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آوے کیونکہ شریعت میں اس کا بڑا اجر ہے اور کسی بات پر قسم کھا لینے کے بعد قسم والی بات سے بہتر کوئی بات نظر آجاوے تو قسم کھانے والے شخص کو چاہیے کہ قسم کا کفارہ دے کر اس بہتر بات کے موافق عمل کرے ‘ فتح مکہ کے وقت جو لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ‘ یہ عبد الرحمن بن سمرہ ان صحابہ میں ہیں ‘ اسلام سے پہلے ان کا نام عبد کلال تھا ‘ سجستان ان ہی کے ہاتھ پر فتح ہوا ہے ‘ زیادہ سکونت ان کی بصرہ کی ہے۔ صحاح کی سب کتابوں میں ان کی روایتیں ہیں ‘ تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن منذر کی روایتوں کے معتبر ہونے کا حال اس تفسیر میں ایک جگہ بیان کردیا گیا ہے ‘ اس لیے اوپر کی شان نزول کی روایت معتبر ہے۔ (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 34 ج 5 ) (4 ؎ الترغیب والترہیب ص 3241 ج 3 ) 5 ؎ مشکوٰۃ ص 296 باب الایمان والنذور )
Ayahs 24:23–25

اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 24:23 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار اور برے کاموں سے بیخبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت (دونوں) میں لعنت ہے اور ان کو سخت عذاب ہوگا

یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:24 in the Quran reader

(یعنی قیامت کے روز) جس دن ان کی زبانیں ہاتھ اور پاؤں (سب) ان کے کاموں کی گواہی دیں گے

یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْهِمُ اللّٰهُ دِیْنَهُمُ الْحَقَّ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:25 in the Quran reader

اس دن خدا ان کو (ان کے اعمال کا) پورا پورا (اور) ٹھیک بدلہ دے گا اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا برحق (اور حق کو) ظاہر کرنے والا ہے

23۔ 25:۔ شروع سورت میں اس طرح کے جھوٹا عیب لگانے والوں کے ذکر میں توبہ کا تذکرہ بھی فرمایا ہے اور یہاں ان آیتوں میں توبہ کا تذکرہ نہیں ہے اس کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے کہ جس بہتان کا اس سورت میں ذکر ہے ‘ اس بہتان میں دو طرح کے آدمی تھے ‘ کچھ تو عبداللہ بن ابی منافق کی طرح کے تھے جو حقیقت میں مسلمانوں کے بدخواہ تھے اور کچھ لوگ مسلمان تھے ‘ جو حقیقت میں تو مسلمانوں کے بدخواہ نہیں تھے مگر منافقوں کی سنی سنائی باتوں پر اس بہتان کے چرچے میں شریک ہوگئے تھے مثلا جیسے حسان بن ثابت اور مسطح بن اثاثہ ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی تفسیر کے موافق شروع سورة کی آیتوں میں ان عیب لگانے والوں کا ذکر ہے جو حقیقت میں مسلمانوں کے بدخواہ نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ان کو توبہ کی توفیق ہونے والی تھی اور ان آیتوں میں ان عیب لگانے والوں کا ذکر ہے ‘ جو اپنے منافق پنے کے سبب سے نہ قابل توبہ باتوں سے توبہ کرنے کی پرواہ کرتے تھے ‘ نہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ان کو توبہ کی توفیق ہونے والی تھی ‘ سورة منافقون میں آوے گا کہ پہلے تو عبد اللہ بن ابی نے مہاجرین کی بدخواہی کی باتیں کیں اور جب سورة منافقون کی آیتوں میں ان بدخواہی کی باتوں کی مذمت نازل ہوئی اور لوگوں نے عبداللہ بن ابی سے کہا کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس جا کر اپنی مغفرت کی دعا التجا کرے تو عبداللہ بن ابی نے لوگوں کا کہنا نہیں مانا اور اللہ کے رسول ﷺ کے پاس جانے اور مغفرت کی دعا کرنے کو بےپروائی سے ٹال دیا ‘ سورة منافقون میں یہ قصہ صحیح بخاری کی زید بن ارقم کی روایت سے مفصل آوے گا ‘ اس قصہ کا حاصل مطلب جو بیان کیا گیا ‘ اس سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ منافق لوگ نہ قابل توبہ باتوں سے توبہ کرنے کی پروا کرتے تھے نہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق ان کو توبہ کی توفیق ہونے والی تھی یہ تو ایسے لوگوں کی دنیا کی پھٹکار کا حال ہوا کہ گناہ کئے اور توبہ کی توفیق نہ ہوئی ‘ آخرت میں ایسے لوگوں کے عذاب کو بڑا عذاب جو فرمایا ‘ اس باب میں صحیح بخاری 1 ؎ اور مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ دوزخ کے عذاب کا جو حال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ پورا حال لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو ان کو سوائے رونے کے اور کچھ کام نہ رہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ آخرت کا بڑا عذاب وہ ہے جس میں گرفتار ہونا تو درکنار اس کا پورا حال سننا بھی انسان کی برداشت سے باہر ہے ‘ آگے ان لوگوں کا ذکر ہے جو اس عذاب سے بچنے کے لیے قیامت کے دن اپنے گناہوں سے منکر ہوجاویں گے اور ان کے ہاتھ پیروں سے گناہوں کے کرنے کی گواہی دلوائی جاکر ان کا جرم ثابت کیا جاوے گا اور ہر ایک جرم کے موافق سزا دی جاوے گی جس سے ان کو معلوم ہوجاوے گا کہ دنیا میں جس سزا کے وعدہ سے ان لوگوں کو ڈرایا جاتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ بالکل سچا اور ٹلنے والا نہیں تھا اَلْغَاِفِلَات کا مطلب یہ ہے کہ یہ نیک بیبیاں ان عیب کی باتوں سے ایسی بیخبر ہیں کہ ان کے دل میں ان باتوں کا کبھی خیال تک بھی نہیں آتا۔ (1 ؎ نیز ملاحظہ ہو الترغیب والترہیب ص 265 ج 4 )
Ayah 24:26

اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِ١ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓئِكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا یَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ۠ Open ayah 24:26 in the Quran reader

ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے یہ (پاک لوگ) ان (بد گویوں) کی باتوں سے بری ہیں (اور) ان کے لئے بخشش اور نیک روزی ہے

26:۔ طبرانی میں حکم بن عتبہ کی روایت سے جس کی سند صحیح ہے ‘ حضرت عائشہ ؓ کے قصہ کے شروع سے یہاں تک پندرہ آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ جب لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ پر بہتان باندھا ‘ تو آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تمہارے حق میں لوگ جو کچھ کہتے ہیں اگر تمہارے پاس اس بہتان کے جھٹلانے کا کوئی عذر ہو تو تم بھی اپنا وہ عذر بیان کرو حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا کہ میں سچی ہوں ‘ اس لیے مجھ کو توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ میری برأت کا کوئی عذر آسمان سے نازل فرما دے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے شروع قصہ سے یہاں تک یہ پندرہ آیتیں نازل فرمائیں۔ دشمن حضرت عائشہ ؓ کا حکم : علمائے اسلام نے متفق ہو کر یہ بات کہی ہے کہ اتنی بڑی برأت کے بعد جو فرقہ حضرت عائشہ ؓ کو اب بھی عیب لگاتا ہے وہ قرآن شریف کا منکر فرقہ ہے اس فرقے کا کافر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کیونکہ وہ فرقہ قرآن کی آیتوں کا منکر ہے۔ حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ اس بہتان میں جس قسم کے لوگ شریک تھے ان کو اللہ تعالیٰ اوپر کی آیتوں میں ہر طرح سے جھوٹا ٹھہرا کر ہر ایک کو اس کے مناسب حال تنبیہہ فرمائی ‘ بعد اس کے اب اس آیت میں فرمایا ہے کہ اس بہتان کے باندھنے والے ناسمجھ ہیں ‘ اتنا نہیں سمجھتے کہ اللہ کے رسول کی بی بی سے ایسا برا کام کیونکر ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں پیدا کی ہیں ‘ پھر اللہ کے رسول سے بڑھ کر کون نیک مرد ہوگا ‘ ایسی گندی باتیں تو گندے مرد اور گندی عورتوں میں پھیلتی ہیں جن لوگوں کی شان میں یہ عیب لگانے والے گندی باتیں منہ سے نکالتے ہیں وہ ان باتوں سے بالکل بےلگاؤ ہیں ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں سے عقبیٰ میں بخشش اور بڑی بڑی نعمتیں دینے کا وعدہ کیا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اہل جنت کے لیے جنت میں جو نعمتیں پیدا کی گئیں نہ وہ کسی نے آنکھ سے دیکھیں نہ کان سے سنیں ‘ نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ یہ حدیث وَرِزْقٌ کَرِیْمٌ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے۔
Ayahs 24:27–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 24:27 in the Quran reader

مومنو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے (لوگوں کے) گھروں میں گھر والوں سے اجازت لئے اور ان کو سلام کئے بغیر داخل نہ ہوا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے (اور ہم یہ نصیحت اس لئے کرتے ہیں کہ) شاید تم یاد رکھو

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

اگر تم گھر میں کسی کو موجود نہ پاؤ تو جب تک تم کو اجازت نہ دی جائے اس میں مت داخل ہو اور اگر یہ کہا جائے کہ (اس وقت) لوٹ جاؤ تو لوٹ جایا کرو یہ تمہارے لئے پاکیزگی کی بات ہے اور جو کام تم کرتے ہو خدا سب جانتا ہے

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

(ہاں) اگر تم کسی ایسے گھر میں جاؤ جس میں کوئی بستا نہ ہو (اور) اس میں تمہارا اسباب (رکھا) ہو تم پر کچھ گناہ نہیں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو پوشیدہ کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

27۔ 29:۔ تفسیر مقاتل بن حیان ‘ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کی چند روایتوں سے بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے رشتہ دار اپنے رشتہ داروں کے زنانہ میں بغیر اذن اور بغیر کھنکارنے کے چلے جاتے تھے اور بیخبر ان کے آجانے سے ننگی کھلی عورتوں کا اور ان کا آمنا سامنا ہوجاتا تھا ‘ بعض دیندار عورتوں نے آنحضرت ﷺ سے اس طریقہ کے بند ہوجانے کی خواہش کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اذن کی آیتیں نازل فرمائیں اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس طریقہ کے بند ہوجانے کی خواہش کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ اذن کی آیتیں نازل فرمائیں اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ شام کے ملک کی طرف ہم لوگ تجارت کی غرض سے جاتے ہیں اور راستہ میں مسافر خانوں کے طور کے اکثر ایسے مکان ہیں جن میں کوئی نہیں رہتا ‘ ان میں بلا اذن کے جاکر اتر جانا یا کچھ سامان ان میں رکھ دینا جائز ہے یا نہیں ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے آخری آیت نازل فرمائی حاصل معنی ان آیتوں کے یہ ہیں کہ جس مکان میں کوئی رہتا ہو وہاں اذن لے کر جانا چاہیے جہاں کوئی نہ رہتا ہو وہاں اذن کی ضرورت نہیں ‘ گھر میں سے اجازت کی آواز نہ آوے یا گھر والا کہے ‘ اس وقت نہیں پھر آنا ‘ تو الٹے پھر آنا بہتر ہے ‘ پھر فرمایا ‘ اس حکم کے موافق لوگ جس طرح عمل کریں گے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے باہر نہیں ہے ‘ معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی میں جو روایتیں 2 ؎ ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بعضے صحابہ بھول کر آپ کے پاس بغیر اذن کے آگئے تو آپ نے آیت کا حکم قائم رہنے کی غرض سے ان سے کہا کہ گھر کے دروازہ کے باہر چلے جاؤ ‘ اور پھر اذن حاصل کرکے گھر کے اندر آؤ ‘ آدب مفرد بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ گھر کے دروازہ پر جاتے ہی پہلے السلام علیکم کہے اور پھر گھر کے اندر آنے کی اجازت چاہے صحیح بخاری ومسلم میں سہل بن سعد سے روایت ہے کہ ایک شخص اللہ کے رسول ﷺ کے کسی حجرہ میں جھانک کر دیکھ رہا تھا جب اللہ کے رسول ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت چاہنے کا حکم اس لیے نازل ہوا ہے کہ بیخبر گھر میں چلے جانے سے ننگی کھلی عورتوں پر نظر نہ پڑے ‘ اگر میں اس شخص کی آنکھ پھوڑ 2 ؎ ڈالتا ‘ آخر کو فرمایا ‘ زبانی اذن چاہتے وقت جو لوگ دل میں اس کو برا جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے ان سب کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 280 ج 3 الدر المنثورص 38۔ 39 ج ھ۔ ) (1 ؎ الادب المفرد ص 283۔ 274 طبع المطبفۃ السلفیہ قاہرہ 1375 ھ ) (2 ؎ مشکوٰۃ ص 305 باب مالا یضمن من الجنایات )
Ayahs 24:30–32

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

مومن مردوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں یہ انکے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے (اور) جو کام یہ لوگ کرتے ہیں اللہ ان سے خبردار ہے

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہو اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈیوں غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں سے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں کہ (چھنکار کی آواز کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے اور (مومنو ! ) سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو اور اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بھی جو نیک ہوں (نکاح کردیا کرو) اگر وہ مفلس ہوں گے تو خدا ان کو اپنے فضل سے خوشحال کر دے گا اور خدا (بہت) وسعت والا اور (سب کچھ) جاننے والا ہے

30:۔ اوپر ذکر تھا کہ ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کے گھر میں بےکھنکارے ‘ بیخبر ی کی حالت میں نہ جاوے کیونکہ بیخبر ی کی حالت میں چلے جانے سے ننگی کھلی اجنبی عورتوں کے سامنے آجانے کا اندیشہ ہے ‘ اس آیت میں فرمایا ‘ اجازت کے بعد دوسرے رشتہ دار کے گھر میں جانے سے یا بازار وغیرہ میں اجنبی عورت نظر پڑجاوے تو ایماندار آدمی کو چاہیے کہ اپنی نگاہ نیچی کرے مرد کے نیچی نگاہ کرلینے کی حالت عورت مرد کی صورت دیکھ سکتی ہے ‘ اس واسطے اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے آیت کو پوری تعمیل ہونے کی غرض سے ایسے موقع پر حکم دیا کہ ایماندار شخص اجنبی عورت کی طرف سے اپنا منہ پھیر لے ‘ چناچہ مسند امام احمد ‘ صحیح مسلم ‘ ترمذی اور ابوداود میں جریر بن عبد اللہ بجلی سے جو روایت 3 ؎ ہے ‘ اس میں یہ ذکر تفصیل سے ہے ‘ یہ جریر بن عبد اللہ کوفہ میں اکثر رہے ہیں اس لیے ان کو کوفی صحابہ میں شمار کرنا چاہیے ‘ یہ بہت خوبصورت اور اس امت کے یوسف مشہور تھے ‘ اسی واسطے انہوں نے اجنبی عورتوں پر نظر پڑجانے کا مسئلہ اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا تھا ‘ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے بھائی فضل بن عباس ؓ کا قصہ 4 ؎ ہے جب اللہ کے رسول ﷺ نے فضل بن عباس ؓ کا منہ ایک عورت کی طرف سے پھیر کر دوسری طرف کردیا تھا ‘ معتبر سند سے ترمذی ابوداؤد وغیرہ میں حضرت علی ؓ کی حدیث 5 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ کسی ایماندار شخص کی نظر کسی اجنبی عورت پر اتفاق سے پڑجاوے تو پہلی نظر معاف ہے ‘ لیکن پھر ایماندار شخص کو نگاہ نیچی کرلینے کا ادھر سے منہ پھر لینے کا حکم ہے ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ دارمی ‘ ابن حبان وغیرہ میں مغیرہ بن شعبہ سے روایت 6 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب کسی شخص کا ارادہ کسی عورت سے نکاح کرنے کا ہو تو اس شخص کا اس عورت کو نکاح سے پہلے دیکھ لینا اچھا ہے ‘ کیونکہ اس سے نکاح کے بعد ان آیتوں میں رانڈ عورتوں اور نیک غلام اور لونڈیوں کے نکاح کردینے کا حکم بیان فرمایا ‘ ایامی ایم کی جمع ہے اور ایم کا لفظ رانڈ عورت اور رنڈوے مرد دونوں پر بولا جاتا ہے ‘ اس لیے حاصل مطلب آیتوں کا یہ ہے ‘ اسے مسلمانوں کے گروہ تم کو چاہیے کہ اپنے گروہ میں کی رانڈ عورتوں اور رنڈوے مردوں کو بغیر نکاح کے بیٹھا نہ رہنے دو بلکہ سمجھا بجھا کر ان کا اور اپنے نیک غلام لونڈیوں کا نکاح کرادو پھر فرمایا نکاح سے پہلے اگر ان میں کا کوئی تنگ دست ہو تو تنگدستی کے عذر سے نکاح کو نہ روکا جاوے۔ نکاح کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی تنگدستی کو رفع کر کے انہیں خوشحال کر دے گا کیونکہ اللہ کا فضل اور اس کا خزانہ بہت بڑا ہے اور وہ اپنے بندوں کی ضرورتوں سے خوب واقف ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جب ماں کے پیٹ میں بچہ کا پتلا تیار ہوتا ہے تو اس میں روح کے پھونکے جانے سے پہلے اس کا رزق لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق قرار دیا جاتا ہے اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ نکاح کے بعد میاں بی بی دونوں کا رزق ایک کہ ہوجانے سے کچھ تو نکاح سے یوں رزق بڑھ جاتا ہے علاوہ اس کے اکثر سلف نے اپنا یہ تجربہ بھی بیان کیا ہے کہ پارسائی کی نیت سے نکاح کیا جاوے تو اللہ تعالیٰ مقررہ رزق میں برکت دیتا ہے ‘ ترمذی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے صحیح روایت 2 ؎ ہے کہ پارسائی کی نیت سے نکاح کرنے والے شخص کی اللہ تعالیٰ مدد کرتا ہے اس حدیث سے مسلم کے تجربہ کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ رزق میں برکت کا ہونا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک مدد ہے آگے فرمایا جو لوگ بالکل ایسے تنگدست ہوں کہ کسی طرح کا نکاح کا بار نہ اٹھا سکتے ہوں تو جب تک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو کسی قدر صاحب مقدور نہ کر دیوے ‘ اس وقت تک ان کو اپنی حالت پر صبر کرنا اور بدکاری سے بچنا چاہیے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ‘ اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے لوگوں کو روزے رکھنے کی ہدایت فرما کر یہ فرمایا ہے کہ روزے رکھنے سے مردانگی کی قوت کم ہوجاتی ہے جو آقا اپنے غلام کو یہ کتابت کردے کہ اس قدر رقم ادا کرنے کے بعد وہ غلام آزاد ہے ‘ ایسے غلام کو مکاتب کہتے ہیں ‘ آگے ایسے ہی غلام کا ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس طرح کی کتابت کا چاہنے والا غلام اگر کتابت کی رقم کمانے کے قابل نظر آوے تو اس سے کتابت کا معاملہ کرلیا جاوے یہ جو فرمایا اگر کتابت کی رقم کمانے کے قابل نظر آئے تو کتابت کے چاہنے والے غلام سے کتابت کا معاملہ کرلیا جاوے ‘ اس سے ان علماء کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے جو کتابت کے فرض ہونے کے قائل نہیں ہیں ‘ کیونکہ آیت میں کتابت کو آقا کی مرضی پر رکھا ہے جو کہ حکم کے فرضی ہونے کی صورت نہیں ہے پھر فرمایا کہ جب کتابت کا معاملہ ٹھہر جاوے تو ہر ایک مسلمان صدقہ خیرات کی رقم میں سے ایسے غلام کو کچھ مدد دے دیوے تاکہ یہ بےچارہ جلدی سے اپنے ذمہ کی رقم ادا کر کے آزاد ہوجاوے۔ (3 ؎ مشکوٰۃ ص 268 باب النظرالی املحظوبۃ وبیان العورات و تفسیر ابن کثشر ص 281 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 40 ج 5 ) (4 ؎ صحیح بخاری باب الحج عمن لا یستطیع الثبت علی الدابۃ 12 ) (5 ؎ مشکوٰۃ ص 269 تفسیر ابن کثیر 282 ج 3 ) (6 ؎ مشکوٰۃ ص 269 ) (1 ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر ) (2 ؎ مشکوٰۃ کتاب النکاح ‘ والترغیب ص 43 ج 3۔ )
Ayahs 24:33–34

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جن کو بیاہ کا مقدور نہ ہو وہ پاک دامنی کو اختیار کئے رہیں یہاں تک کہ خدا ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے اور جو غلام تم سے مکاتبت چاہیں اگر تم ان میں (صلاحیت اور) نیکی پاؤ تو ان سے مکاتبت کرلو اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے انکو بھی دو اور اپنی لونڈیوں کو اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں تو (بےشرمی سے) دنیاوی زندگی کے فوائد حاصل کرنے کے لئے بدکاری پر مجبور نہ کرنا اور جو ان کو مجبور کرے گا تو ان (بےچاریوں) کے مجبور کئے جانے کے بعد خدا بخشنے والا مہربان ہے

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کی ہیں اور جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں ان کی خبریں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت

33۔ 34:۔ صحیح مسلم ‘ نسائی ‘ مستدرک حاکم ‘ مسند بزار ‘ طبرانی وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی چند روایتوں 1 ؎ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب میں یہ دستور تھا کہ نو عمر چھوکریاں پال لیتے تھے اور کمائی کے طور پر پھر ان سے بدکاری کراتے تھے چناچہ جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسلام پھیل گیا تو عبداللہ بن ابی منافقوں کے سردار کے پاس دو چھوکریاں تھیں انہوں نے اسلام کی صحبت پاکر بدکاری سے انکار کیا اور عبد اللہ بن ابی نے ان کو بدکاری پر مجبور کیا ‘ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ترس کھا کر اس لونڈی کو اپنے گھر میں چھپا دیا ‘ عبداللہ بن ابی نے بہت غل مچایا کہ اب ہماری لونڈیوں کو بہکانے اور ضبط کرنے کی نوبت آگئی ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘ سورة النحل کی آیتوں اور صحیح حدیثوں میں ہے کہ جو کوئی شخص بھول کر یا کسی زبردست کے جبر کے سبب سے کوئی برا کام کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے ‘ اس آیت اور صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی زبردست آدمی کسی کو کسی برے کام پر مجبور کرے تو وہ مجبور آدمی بےگناہ ہے جو کچھ وبال ہے وہ مجبور کرنے والے شخص پر ہے حاصل کلام یہ کہ سورة النحل کی آیتیں اور بہت سی صحیح حدیثیں فَاِنَّ اللّٰہَ مِنْ بَعْدِ ھِھِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ گی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل وہی ہے کہ کسی زبردست آدمی کے جبر کرنے سے جو گناہ کیا جاوے ‘ اس کا وبال مجبور کرنے والے شخص پر ہے ‘ آگے فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں اگرچہ کھلی کھلی نصیحت ہے اور پچھلے لوگوں کے قصوں سے قرآن میں یہ بھی جگہ جگہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جن پچھلی قوموں نے کلام الٰہی کی نصیحت کو نہیں مانا اور اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا ‘ وہ لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے لیکن ان سب باتوں کا اثر ان ہی لوگوں کے دل پر ہوتا ہے جو ایک دن اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرتے ہیں ‘ جن لوگوں کے دل میں یہ خوف نہیں ہے ان کے حق میں یہ سب نصیحت رائیگاں ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ؓ اشعری کی حدیث کئی جگہ گزر چکی 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ‘ اس حدیث سے وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ مینہ کے پانی کی طرح قرآن عام نفع کے لیے نازل کیا گیا ہے لیکن جس طرح مینہ کے پانی سے فقط اچھی زمین کو نفع پہنچتا ہے ‘ اسی طرح قرآن کی نصیحت سے فقط وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو قیامت کے قائل ہیں جس کے سبب سے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کا ان کے دل میں خوف ہے۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 36۔ 47 ج 5 ) (2 ؎ دیکھئے جلد سوم ص 30 )