24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اسکا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو (یہ) خدا کی طرف سے مبارک (اور) پاکیزہ (تحفہ) ہے اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

61:۔ اس آیت کی شان نزول میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے لیکن صحیح 2 ؎ قول یہ ہے کہ جب سورة بقرہ میں یہ حکم نازل ہوا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال بلاوجہ نہ کھاوے تو مسلمان طرح طرح کی احتیاط ضرورت شرعی سے زیادہ کرتے تھے مثلا جب تندرست مسلمان لڑائی پر جاتے تھے تو اندھے ‘ لنگڑے ‘ اپاہج مسلمان لوگوں کو وہ تندرست مسلمان حفاظت اور جو کسی کے لیے اپنے گھر پر مقرر کردیتے تھے ‘ یہ اپاہج لوگ ان تندرستوں کے پیچھے ان تندرستوں کے کھانے پینے کی چیز کو بھی ہاتھ لگانے اور کام میں لانے کو منع سمجھتے تھے۔ اسی طرح تندرست لوگ اندھے اور بیمار لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے کو اس خیال سے منع جانتے تھے کہ بیمار بوجہ بیماری کے کم کھاتا ہے ‘ ساتھ والا اس کا کھانا زیادہ کھا کر گناہ میں نہ پھنسے ‘ یہی حال اندھے کا خیال کرتے تھے کہ وہ اپنے مال کی پوری حفاظت نہیں کرسکتا اور ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار یا دوست کے گھر میں کھانے پینے کو اچھا نہیں جانتا تھا ‘ غرض اس طرح کی احتیاط کی اور باتیں بھی لوگوں نے نکال رکھی تھیں جو حرج اور تکلیف سے خالی نہ تھیں ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ بغیر اذن کے تصرف بےجا کے طور پر ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا مال کھانا سورة بقرہ کے حکم سے منع کیا گیا ہے ‘ آپس کے سلوک کے طور پر اور آپس کی محبت کے طور پر ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار گے گھر میں یا ایک دوست دوسرے دوست کے گھر سے کھانا کھالے تو منع نہیں ہے ‘ رشتہ داروں کے ذکر میں باپ کا بیٹے کے گھر کھانے کا ذکر نہیں ہے لیکن مسند امام احمد اور سنن کی حضرت عائشہ ؓ کی معتبر 1 ؎ روایتوں میں یہ صراحت آچکی ہے کہ خود بیٹا اور بیٹے کا سب مال ومتاع باپ کا مال ہے ‘ اس صراحت کے بعد بیٹے کے گھر باپ کا کھانا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے ‘ صحیح حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بہ نسبت اکیلے کھانا کھانے کے چند آدمیوں کے مل کر کھانا کھانے سے ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور دو آدمیوں کا تین کو اور تین کا چار کو کافی ہوجاتا ہے ‘ چناچہ صحیح 2 ؎ بخاری کی ابوہریرہ ؓ کی اور ابن 3 ؎ ماجہ کی حضرت عمر ؓ کی روایتوں میں اس کا ذکر ہے ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جن اپاہج آدمیوں کو لڑائی پر جانے والے لوگ اپنے گھروں کی چوکسی کے لیے چھوڑ جاتے ہیں ‘ وہ اپاہج گھر والوں کے کھانے پینے کی چیز کام میں لاسکتے ہیں۔ اسی طرح وہ گھر والے اپنے گھر کے کھانے پینے کی چیزوں کی طرح اپنے باپ ‘ ماں ‘ بھائی ‘ بہن ‘ چچا ‘ پھوپھی ‘ ماموں ‘ خالہ کے گھروں میں کھانے پینے کی چیز کھا سکتے ہیں ‘ یہی حال آپس کے دوستوں کا اور اس شخص کا ہے جس کے اختیار میں کسی کے گھر کی کنجیاں ہوں ‘ پھر فرمایا کہ اس کی بھی کچھ مناہی نہیں ہے کہ لوگ اکھٹے مل کر ایک دسترخوان پر کھانا کھاویں یا اکیلے ‘ پھر فرمایا ‘ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے گھر پر جاوے تو سلام علیک کہا کرے ‘ کیونکہ سلام علیک مسلمانوں میں آپس کی بڑی دعائے خیر ہے ‘ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ دین کے احکام یوں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم لوگ دین کی باتوں کو اچھی طرح سمجھو ‘ مسلمان آپس کی بڑی دعائے خیر ہے ‘ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ دین کے احکام یوں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم لوگ دین کی باتوں کو اچھی طرح سمجھو ‘ مسلمان آپس میں سب ایک ہیں اس لیے فَسَلِّمُوْا عَلٰٓی بَعْضکُمْ فرمایا ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 4 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان سے فرمایا ‘ آدم تم فرشتوں کو ایک جماعت سے سَلَامٌ عَلَیْک کرو ‘ پھر جو کچھ وہ جواب دیں ‘ وہی طریقہ تمہاری اولاد میں جاری رہنا چاہیے ‘ آدم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق فرشتوں سے السلام علک کہا تو انہوں نے جواب دیا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ‘ سلام علیک جس طرح کی قدیمی سنت ہے ‘ اس کا حاصل اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ اس کی زیادہ تفصیل سورة النساء میں گزر چکی ہے۔ (2 ؎ جیسا کہ امام طبری نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے ص 170‘ 178 ج 18 ) (1 ؎ تفسیر ابن کثیر صر 305 ج 3 ) (2 ؎ مشکوٰۃ ص 370 باب الضیافتہ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 305 ج 3 ) (4 ؎ مشکوٰۃ ص 397 باب السلام )
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو وہی ہیں جو خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور جب کبھی ایسے کام کے لئے جو جمع ہو کر کرنے کا ہو پیغمبر خدا کے پاس جمع ہوں تو ان سے اجازت لیے بغیرچلے نہیں جاتے اے پیغمبر ﷺ جو لوگ تم سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں سو جب یہ لوگ تم سے کسی کام کے لئے اجازت مانگا کریں تو ان میں سے جسے چاہا کرو اجازت دیدیا کرو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مان گا کرو کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

62:۔ سورة آل عمران اور سورة النساء میں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے جابر بن عبداللہ اور زید بن ثابت کی 1 ؎ روایتیں گزر چکی ہیں کہ عبداللہ بن ابی منافقوں کا سردار بغیر پروانگی اللہ کے رسول کی احد کی لڑائی کے وقت میدان جنگ میں سے مدینہ چلا آیا اور اپنے ساتھ تین سو آدمیوں کو بھی پلٹا لایا ‘ سورة الاحزاب میں آوے گا کہ بہت سے منافق جھوٹے عذر کر کے احزاب یعنی خندق کی لڑائی سے جان بچا گئے ‘ ان قصوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ پکے مسلمانوں کی عادت منافقوں کی سی نہیں ہے بلکہ پکے مسلمان کسی جتھے کے کام کی ضرورت کے وقت جب اللہ کے رسول کی محفل میں جمع ہوتے ہیں تو اللہ کے رسول کی پروانگی کو اپنی ضرورتوں سے مقدم گنتے ہیں ‘ پھر فرمایا ‘ یہ لوگ سچے عذر کے سبب سے پروانگی مانگتے ہیں ‘ اس واسطے جب یہ لوگ پروانگی مانگیں تو اے رسول اللہ کے تم ان میں سے جن کو چاہو ‘ پروانگی دے کر ان کی غیر حاضری کی معافی کے لیے اللہ کی جناب میں دعا کرو ‘ اللہ بخشنے والا مہربان ہے اپنی مہربانی سے تمہاری دعا قبول کرلے گا ‘ صحیح بخاری میں انس بن مالک سے روایت 2 ؎ ہے ‘ جس میں تبوک کی لڑائی سے پلٹتے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ بہت سے لوگ جو سچے عذروں کے سبب سے اس سفر میں گھر بیٹھے رہے ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ان کو اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اجر سفر کرنے والوں کو ملنے والا ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ جتھے کی ضرورت کے وقت سچے عذر والوں کی غیر حاضری بھی معاف ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی اور رحمت سے ان کا اجر بھی ضائع نہیں فرماتا۔ (1 ؎ 365‘ جلد اول تفسیر ہذا ) (2 ؎ صحیح بخاری مع الفتح 97 ج 4 )
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو بیشک خدا کو وہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ڈرنا چاہیے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑجائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو

63:۔ اوپر ذکر تھا کہ بعضے منافق بغیر پروانگی اللہ کے رسول کے لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑ کر گھر آن بیٹھے اور جھوٹے عذر پیش کر کے لشکر اسلام کی شراکت کو ٹال گئے ‘ ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا کہ اے لوگو اس طرح کے دغا بازی کے کام کرکے اللہ کے رسول کی بددعا نہ لو ‘ کیونکہ اللہ کے رسول کی بد دعا عام لوگوں کی بددعا جیسی نہیں ہے ‘ مکہ کے سرکش لوگوں نے اللہ کے رسول کی بددعا کے اثر سے قحط کی سخت آفت جو اٹھائی ‘ اس قصہ سے تم لوگوں کو عبرت پکڑنی اور اللہ کے رسول جو چلے جاتے ہیں اور اپنے دل سے سمجھتے ہیں کہ تمہاری اس دغابازی کو کوئی نہیں جانتا یہ تمہاری نادانی ہے ‘ کیونکہ آسمان و زمین کی کوئی شے اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے اس کو تمہاری یہ سب دغابازیاں خوب معلوم ہیں وقت مقررہ پر ان دغابازیوں کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑے گا ‘ اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا کلام سچا ہے ‘ دنیا میں تو ان منافقوں کی دغا بازی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو منع فرما دیا کہ وہ ایسے لوگوں کے جنازہ کی نماز میں شریک نہ ہوں ‘ چناچہ اس کا ذکر سورة التوبہ میں گزر چکا ہے اور عقبیٰ میں اللہ کا وعدہ ہے کہ ان منافقوں کا ٹھکانا منکر شریعت لوگوں کے ساتھ دوزخ ہے ‘ چناچہ اس وعدہ کا ذکر بھی سورة التوبۃ میں گزر چکا ہے ‘ اللہ کے رسول ﷺ کی بددعا سے جو ڈرایا گیا ہے ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر یہ منافق لوگ اپنی دغا بازی سے باز نہ آئے اور اللہ کے رسول نے ان کے حق میں بددعا کی تو وہی نتیجہ ان کا ہوگا جو ہجرت سے پہلے مکہ کے مشرکوں کا ہوا ‘ اگرچہ لَاتَجْعَلُوْا دُعَآئَ الرَّسُوْلِ کی تفسیر میں سلف کے کئی قول ہیں ‘ لیکن اللہ کے رسول کی بددعا سے بچنے کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ہے اور حافظ ابو جعفر ابن جریرنے اپنی تفسیر میں اسی قول کو قوی ٹھہرایا ہے۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے جس (طریق) پر تم وہ اسے جانتا ہے اور جس روز لوگ اسکی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو عمل وہ (لوگ) کرتے رہے وہ ان کو بتادے گا اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

64:۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اپنے رسول کی مخالفت سے ڈرایا اور فرمایا جو لوگ رسول کے طریقہ اور رسول کی سنت کی مخالفت کرتے ہیں ان کو دین و دنیا کے وبال سے ڈرنا چاہیے ‘ اب یہ خوب جان لینا چاہیے کہ رسول کی مخالفت ایک تو ظاہری ہے جس طرح کافر لوگ کھلم کھلا رسول کی ہدایت کو نہیں مانتے اور دنیا میں گمراہ ہیں اور عاقبت میں اس گمراہی کا عذاب بھگتیں گے اور ایک مخالفت رسول کی منافق لوگوں کی ہے کہ ظاہر میں تو وہ لوگ اپنے آپ کو رسول کا فرمانبردار کہتے ہیں مگر دل سے رسول کے وہ لوگ فرمانبردار نہیں جس وقت قرآن شریعت نازل ہوتا تھا اس وقت تو ایسے لوگوں کا حال وحی کے ذریعہ معلوم ہوجاتا تھا ‘ اب وحی کے بند ہوجانے سے کسی کے دل کا حال تو معلوم نہیں ہوسکتا ‘ ہاں آدمی کے عملوں سے اس کے دل کا حال معلوم ہوسکتا ہے اس لیے جس شخص کے ظاہری عمل رسول کی سنت کے موافق ہوں گے ‘ ظاہری شریعت کے حکم کی رو سے اس کو منافق نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن اگر اس کے وہ عمل خالص نیت سے آخر کا ثواب اور اجر حاصل کرنے کی غرض سے نہ ہوں گے تو ایسے شخص کو ریا کار اور ریا کاری کے سبب سے اس کو اللہ اور رسول کے حکم کی مخالفت کرنے والا شریعت میں ٹھہرایا جاوے گا ‘ اور ریا کاروں کی جو سزا شریعت نے قرار دی ہے ‘ وہ سزا ایسے شخص کو عقبیٰ میں ملے گی اور جو شخص کسی رسم کی پابندی کے سبب سے رسول کی فرمانبرداری کا اقرار کیا ہے ‘ اس کا عمل اس کے اقراء کے مخالف ہے ‘ غرض آیت کے حکم میں ہر طرح کی مخالفت کرنے والے گو داخل ہیں لیکن شیطان انسان کے پیچھے ایسا دشمن لگا ہوا ہے کہ بہت سے برے کاموں کو انسان پر کھلنے نہیں دیتا بلکہ ملمع کر کے بہت سے برے کاموں کو اچھا دکھا دیتا ہے جب شیطان اپنے کام میں لگا ہوا ہے تو ہر شخص نجات عقبیٰ کے طلب گار کو چاہیے کہ وہ اپنے کام میں لگیں اس شخص طالب نجات کا کام کیا ہے ‘ ہر قول وفعل میں فرمانبرداری اور پیروی صاحب وحی ﷺ کے کرے کیونکہ دنیا میں ایک یہی سیدھی سڑک ہے جو منزل مقصود تک پہنچا سکتی ہے ‘ سوائے اس کے اور کئی راستہ شیطان کے دھو کے سے خالی نہیں ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ‘ مستدرک حاکم ‘ دارمی اور نسائی میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک سیدھا خط زمین پر کھینچا اور اس خط کے ادھر ادھر اور بہت سے خط کھینچ کر فرمایا ‘ کہ یہ ایک راستہ اللہ کا ہے اور باقی جتنے راستے ہیں سب پر شیطان بیٹھا ہوا ہے اور ان راستوں کی طرف وہ لوگوں کو بلاتا اور رغبت دلاتا ہے ‘ پھر آپ نے سورة انعام کی وہ آیت پڑھی ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ شریعت پر قائم رہنے اور فرمانبرداری رسول کی بجا لانے کا عہد جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہے ‘ لوگوں کو چاہیے کہ اس عہد کو پورا کریں اور یہی راہ راست اور سیدھی سڑک ہے ‘ اسی کو سب لوگ اختیار کریں ‘ سوا اس کی دنیا میں جتنے راستے ہیں ‘ وہ سب سیدھے راستہ سے ڈگانے والے ہیں ‘ ترمذی میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول ہے ‘ کہ جس شخص کو اللہ کے رسول کی مہری سند نجات کی دینی منظور ہو ‘ وہ سورة انعام کی ان آیتوں کو دیکھ لیوے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے رسول کی پروانگی کے بغیر لشکر اسلام یا جماعت وعید کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ‘ ان کو دنیا کی کسی آفت یا عقبیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے ‘ پھر فرمایا جو کچھ آسمان و زمین میں ہے ‘ وہ سب اللہ کا پیدا کیا ہوا ہے ‘ اس لیے آسمان و زمین کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے ‘ ان منافقوں کی کیا ہستی ہے جو یہ اللہ سے اپنی دغابازیوں کو چھپا سکیں گے ‘ اگرچہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو بھی دغا بازی سے اپنی بداعمالی کا انکار کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر خاموشی کی مہر لگا کر ان کے ہاتھ ‘ پیروں سے گواہی دلوا کر ان کو دوزخی ٹھہراوے گا ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی 2 ؎ ہے ‘ کہ قیامت کے دن منافق لوگ دغابازی کی راہ سے جب اللہ تعالیٰ کے روبرو اپنے گناہوں کا انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر خاموشی کی مہر لگا کر ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی ادا کرا دے گا ‘ جس سے ان لوگوں کی دغا بازی کچھ کام نہ آوے گی ‘ کیونکہ اس گواہی سے ان کی تمام عمر کی بداعمالی اچھی طرح ثابت ہو کر آخر کو یہ لوگ دوزخی قرار پاویں گے ‘ آخری آیت میں یہ جو فرمایا کہ قیامت کے دن جب یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام عمر کی بداعمالی انہیں جتلادے گا ‘ اس حدیث سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے ‘ کہ اس جتلانے پر ان میں کے جو لوگ دغا بازی کر کے اپنے گناہوں کے منکر ہوجاویں گے ‘ تو پھر ان کے ہاتھ ‘ پیروں سے گواہی دلائی جاکر ان کو دوزخی قرار دیا جاوے گا۔ (1 ؎ مشکوٰۃ مع تنیقح الرواۃ ص 40 باب الا عتصام بالکتاب والسنۃ ) (2 ؎ مثلا ص 333۔ )