25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 25:1–3

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

وہ (خدائے عزوجل) بہت ہی بابرکت ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل فرمایا تاکہ اہل عالم کو ہدایت کرے

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہی کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کا ایک اندازہ ٹھہرایا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا

1۔ 3:۔ اگرچہ بعض سلف نے اس سورت کی ان تین آیتوں کو مدنی کہا ہے ‘ جس کا ذکر آگے آوے گا لیکن اس سورة کا شروع کا حصہ مکی ہے اور اس تفسیر میں یہ ایک جگہ بیان کردیا گیا ہے کہ جس سورت کا شروع کا حصہ مکی ہو ‘ وہ سورت مکی کہلاتی ہے ‘ اس سورت کی قرأت کے باب میں حضرت عمر ؓ اور ہشام بن حکیم کا قصہ ہے جس کا ذکر صحیح بخاری اور مسلم کی حضرت عمر ؓ کو نئے معلوم ہوئے ‘ اس پر حضرت عمر ؓ ہشام بن حکیم کو اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لے گئے۔ آپ نے حضرت عمر ؓ اور ہشام بن حکیم دونوں سے یہ سورت پڑھوا کر سنی اور فرمایا ‘ دونوں قراءتیں صحیح ہیں کیونکہ قرآن شریف کے جن لفظوں کو ایک طرح سے لے کر سات طرح تک پڑھے جانے کا حکم ہے ‘ تم دونوں کی قراءتیں اس کے موافق ہیں ‘ ان ساتوں قرائتوں کا ذکر اس تفسیر کے دیباچہ 2 ؎ میں صحیح بخاری ومسلم ‘ ترمذی وغیرہ کی روایتوں کے حوالہ سے تفصیل وار کردیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے فقط قریش کی بول چال کے موافق قرآن شریف نازل ہوتا رہا ‘ ہجرت کے بعد جب ایسے قبیلوں کے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے جن کی زبان پر قریش کی بول چال کے لفظ مشکل سے چڑھتے تھے ‘ اس مشکل کے آسان ہوجانے کے لیے سات طرح کے مختلف محاوروں میں قرآن شریف کے بعضے لفظوں کا پڑھا جانا جائز ہوگا ‘ جبرئیل (علیہ السلام) ان ساتوں محاوروں میں دور کیا کرتے تھے اور جو صحابہ اس دور کے وقت موجود ہوتے ‘ وہ ساتوں قرائتوں کے لفظوں کو جبرئیل (علیہ السلام) سے سن کر یاد کرلیا کرتے تھے ‘ اور باقی کے صحابہ کو پھر وہ لفظ آنحضرت ﷺ کے بتلانے سے معلوم ہوجایا کرتے تھے ‘ جبرئیل (علیہ السلام) کے جس دور میں ہشام بن حکیم نے وہ نئے لفظ سنے ‘ اس دور میں حضرت عمر ؓ موجود نہیں تھے ‘ اس واسطے ان کا اور ہشام بن حکیم کا جھگڑا ہوا اور پھر اللہ کے رسول ﷺ کے سمجھانے سے حضرت عمر ؓ کی تسلی ہوگئی ‘ یہ ہشام بن حکیم صحابی کے بیٹے اور مشہور صحابہ میں ہیں صحیحین میں سوائے اس قصہ کے اور کہیں ان ہشام بن حکیم کا ذکر نہیں ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اس کی آسمان و زمین میں بڑی برکت ہے جس نے حق اور ناحق میں فرق بتادینے کے لیے قرآن اپنے بندے اور رسول ﷺ پر اس لیے تھوڑا تھوڑا کر کے حسب ضرورت نازل فرمایا کہ اللہ کے رسول لوگوں کو اس بات سے ڈراویں کہ جو کوئی اللہ کے حکم کو نہ مانے گا وہ عذاب الٰہی میں گرفتار ہوگا ‘ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی حکومت سے آسمان و زمین میں کوئی جگہ خالی نہیں ہے ‘ اس واسطے اس کے عذاب سے کہیں کوئی بچ نہیں سکتا ‘ پھر فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کو اپنی حکمت کے اندازہ کے موافق اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو جو لوگ اللہ کو صاحب اولاد یا اس کو حکومت میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں وہ بڑی غلطی پر ہیں کیونکہ جن کو یہ مشرک اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں انہوں نے اللہ کی مخلوقات سے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں داخل ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ کے کسی کارخانے میں ان کو کچھ دخل نہیں ہے ‘ ہر ایک کا نقصان نفع ‘ ہر ایک کی موت زندگی ‘ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا ‘ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ‘ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکوں کو اپنے بتوں کی بےبسی کا اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے اس پر بھی اب یہ لوگ شرک سے باز نہیں آتے ‘ اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کے علم غیب میں یہ لوگ دوزخی ٹھہر چکے ہیں ‘ اس واسطے ان کو بڑے کام اچھے نظر آتے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی ٹھہر چکے ہیں ان کو ویسے ہی کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی وہ حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں مکہ کے قحط کا ذکر ہے ‘ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے جو لوگ منکر ہیں ‘ یہ ان کی بڑی نادانی ہے کیونکہ یہ لوگ دنیا کے جتنے کام کرتے ہیں ان کا نتیجہ پہلے سوچ لیتے ہیں ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے انتظام میں دنیا کے پیدا کرنے کا یہ نتیجہ قرار پاچکا ہے کہ تمام دنیا کے فنا اور ختم ہوجانے کے بعد جزا وسزا کے لیے دوسرا جہان قائم کیا جاوے تاکہ دنیا کا پیدا کیا جانا بےٹھکانہ نہ رہے کیونکہ بےٹھکانے کام اللہ تعالیٰ کی شان سے بہت بعید ہیں۔ (2 ؎ ص 21720 و 25‘ 26 جلد اول۔ )
Ayahs 25:4–6

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) من گھڑت باتیں ہیں جو اس (مدعی رسالت) نے بنا لی ہیں اور لوگوں نے اس میں اس کی مدد کی ہے یہ لوگ (ایسا کہنے سے) ظلم اور جھوٹ پر (اتر) آئے ہیں

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جس کو اس نے لکھ رکھا ہے اور وہ صبح و شام اس کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس نے اس کو اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے

4۔ 6:۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ہرقل بادشاہ روم اور ابوسفیان کا جو قصہ ہے ‘ اس میں ہرقل نے ابو سفیان سے پوچھا ہے کے نبوت سے پہلے تم قریش کے لوگوں کو ان نبی کے جھوٹ بولنے کا کچھ تجربہ ہوا ہے ‘ اس کے جواب میں ابو سفیان کیونکہ روا رکھے گا۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کو بےانصاف اور جھوٹا جو فرمایا ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ نبوت سے پہلے چالیس برس تک جب یہ آزما چکے کہ محمد ﷺ کی عادت ہرگز جھوٹ بولنے کی نہیں ہے تو اب نبوت کے بعد ان لوگوں کا اللہ کے رسول کو جھٹلانا اور یہ کہنا بڑی ناانصافی اور بالکل جھوٹ ہے ‘ کہ مکہ میں چند یہودی جو رہتے ہیں وہ صبح وشام پچھلی قوموں کے کچھ قصے محمد ﷺ کو لکھ کر دے دیتے ہیں اور محمد ﷺ زبردستی ان باتوں کو اللہ کا کلام بتلاتے ہیں ‘ آگے فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ قرآن میں جو آسمان و زمین کی غیب کی خبریں ہیں ان سے تم لوگ سمجھو تو یہ بات تمہاری سمجھ میں آسکتی ہے کہ یہ قرآن اس اللہ کا کلام ہے جس کو آسمان و زمین کے سب بھید کی باتیں معلوم ہیں اور باوجود اللہ کے کلام کو جھٹلانے کے تم لوگوں پر جلدی سے کوئی آفت جو نہیں آتی ‘ اس کا سبب یہی ہے کہ ہمیشہ سے یہ ایک عادت الٰہی ہے کہ نافرمان لوگوں کو پہلے اللہ تعالیٰ اپنی درگزر اور مہربانی سے مہلت دیتا ہے ‘ پھر اگر مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو کسی سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کی ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت کے حوالہ سے اس کی عادت الٰہی ہے کہ نافرمان لوگوں کو پہلے اللہ تعالیٰ پانی درگز اور مہربانی سے مہلت دیتا ہے ‘ پھر اگر مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو کسی سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کی ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کے حوالہ سے اس عادت الٰہی کا ذکر کئی جگہ اوپر گزر چکا ہے 1 ؎‘ یہ حدیث اِنَّہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا کی گویا تفسیر ہے جس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نافرمان لوگوں کو پہلے مہلت دیتا ہے ‘ پھر اگر مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو کسی سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے چناچہ تیرہ چودہ برس کی مہلت کے بعد بدر کی لڑائی میں اس وعدہ کا جو کچھ ظہور ہوا ‘ اس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے کہ اس لڑائی میں بڑے بڑے قرآن کے جھٹلانے والے دنیا میں نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جن کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا ‘ کہ اب تم لوگوں نے اللہ کے وعدے کو سچا پایا۔ (1 ؎ صحیح بخاری ص 4 جلد اول۔ ) (1 ؎ نیز حوالہ کے لیے دیکھئے مشکوٰۃ ص 434 باب الظلم )
Ayahs 25:7–9

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کیسا پیغمبر ہے کہ کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس پر کیوں نازل نہیں کیا گیا اس کے پاس کوئی فرشتہ کہ اسکے ساتھ ہدایت کرنے کو رہتا ؟

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کی طرف (آسمان سے) خزانہ اتارا جاتا یا اس کا کوئی باغ ہوتا کہ اس میں سے کھایا کرتا اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور راستہ نہیں پاسکتے

7۔ 9:۔ تفسیر ابن جریر 2 ؎ میں عکرمہ اور سعید بن جبیر کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ پر تنگ دستی اور فقروفاقہ کی طعن کی اور کہا یہ کیسے رسول ہیں کہ ذرا ذرا سی چیز بازار میں خریدتے پھرتے ہیں ‘ اگر یہ اللہ کے سچے رسول ہوتے تو ضرور اللہ تعالیٰ ان کو خوشحالی سے رکھتا ‘ مشرکین کی اس طعن سے آنحضرت ﷺ کے دل پر کچھ اثر رنج کا پیدا ہوا ‘ اس رنج کا اثر دور کرنے کو اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا ‘ کہ شیطان نے ان لوگوں کو بہکا دیا ہے ‘ اس واسطے یہ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں ‘ ورنہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتلاتے ہیں اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو نبی جانتے ہیں ‘ پھر یہ نہیں ثابت کرسکتے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) فرشتے تھے ‘ کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے یا غیب سے ان کو خزانہ ملا تھا ‘ یا کوئی فرشتہ ان کے ساتھ رہتا تھا ‘ جو ان کے نبی ہونے کی شہادت لوگوں سے ادا کرتا تھا ‘ یا انہوں نے بڑے بڑے محل اور باغ بنائے تھے ‘ علاوہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے اور انبیاء کا حال اہل کتاب سے بھی انہوں نے سنا ہے کہ کسی نبی میں یہ باتیں نہیں تھیں ‘ پھر سب انبیاء سے انوکھی باتیں جو یہ لوگ نبی آخر الزمان میں چاہتے ہیں ‘ یہ خواہش ان کی ایک معجزے کے طور کی خواہش نہیں ہے بلکہ ایک شرارت اور اغوائے شیطانی کی خواہش ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی طعن کا جواب مختصر طور پر دیا ہے اور آیتوں میں اس کی زیادہ تفصیل ہے جس کا ذکر ہر ایک موقعہ پر آوے گا ‘ اس شان نزول کی سند کو بعضے مفسروں نے ضعیف جو کہا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ اس شان نزول کی دو سندیں ہیں ایک جبیر اور ضحاک بن مزحک مزاحم کی سند ہے اور دوسرے سعید بن جبیر اور عکرمہ کی سند ہے ‘ پہلی سند ضعیف ہے ‘ اس ضعیف سند سے اس شان نزول کو واحدی وغیرہ نے روایت کیا 1 ؎ ہے ‘ دوسری سند قوی ہے جس کو ابن جریر نے اپنی تفسیر میں روایت کیا ہے ‘ وہی روایت اس تفسیر میں لی گئی ہے ‘ ان آیتوں میں مشرکین مکہ نے اللہ کے رسول ﷺ پر جو طعن کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہتے ہیں ان میں اور ہم میں کچھ فرق نہیں ہے ‘ ہماری طرح یہ بھی کھانا کھاتے ہیں ‘ بازاروں میں پھرتے ہیں ‘ اگر یہ سچے رسول ہیں تو آسمان سے کوئی فرشتہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے رسول ہونے کی صداقت کیوں نہیں کرتا ‘ اور تنگدستی سے چھوٹ جانے کے لیے ان کو کوئی خزانہ اور عمدہ باغ غیب سے کیوں نہیں مل جاتا ‘ پھر فرمایا ان باتوں کے ساتھ مسلمانوں سے یہ بےانصاف لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو ان رسول کا کہنا نہیں ماننا چاہیے تھا کیونکہ ان پر تو کسی نے جادو کردیا اس جادو کے اثر سے یہ اپنے آپ کو اللہ کا رسول بتلاتے ہیں ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے دیکھا کہ یہ مشرک تمہاری شان میں کیا کیا کہتے ہیں لیکن اے رسول اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تمہاری معرفت ان کو جو نجات کا راستہ بتلایا ہے جب تک یہ لوگ اس کو نہ مانیں گے تو اسی طرح کی بہکی بہکی باتیں ان کو اچھی معلوم ہوں گی ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جنتی قرار پاچکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام کرتے ہیں اور جو دوزخی ٹھہر چکے ہیں وہ ویسے ہی کام کرتے ہیں ‘ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اہل مکہ میں سے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جنتی قرار پا چکے ہیں وہ کچھ دنوں تک بہکی ہوئی باتیں کرتے رہے لیکن پھر آخر کو قرآن کی نصیحت سے راہ راست پر آگئے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخی ٹھہر چکے تھے وہ مرتے دم تک ایسی ہی بہکی ہوئی باتیں کرتے رہے جیسی باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ (2 ؎ ص 83 ا ج 8 ا طبع جدید ) (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 63 ج 5 بحوالہ اسباب النزول واحدی 190‘ 191 )
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ (خدا) بہت بابرکت ہے جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں نیز تمہارے لئے محل بنا دے

10:۔ تفسیر سفیان ثوری 2 ؎ اور تفسیر ابن ابی 3 ؎ حاتم وغیرہ میں خیثمہ ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل ہے کہ مشرکین مکہ نے جب آنحضرت ﷺ پر تنگدستی اور فقر وفاقہ کی طعن کی تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے پاس پیغام بھیجا تھا ‘ کہ اے رسول اللہ کے تم اگر دنیا کی تنگدستی سے گھبراتے ہو تو تمام روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں اللہ کے حکم سے تمہارے حوالہ ہوجاویں گی اور دنیا میں یہ خوشحالی دینے کے بعد تمہارے عقبیٰ کے مرتبہ میں اللہ تعالیٰ کچھ کمی نہ کرے گا ‘ اور اگر تمہاری مرضی ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا وعقبیٰ کی خوبی کا ذخیرہ تمہارے لیے عقبیٰ ہی میں رکھے گا ‘ دنیا چند روزہ ہے ‘ اس کو ہر طرح سے کاٹ دو ‘ آنحضرت ﷺ نے اس پیغام کے جواب میں فرمایا کہ دنیا ہر طرح سے کٹ جاوے گی ‘ مجھ میں عقبیٰ میں ہر طرح کی خوبی کا ذخیرہ درکار ہے ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یہ خثیمہ بن الحارث قبیلہ اوس میں کے انصاری صحابہ میں ہیں ‘ احد کی لڑائی میں ان کی شہادت ہوئی ہے ‘ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگرچہ لوگوں کی خواہش دنیا کے عیش و آرام کی طرف مائل ہے اور ان کی خواہش کا پورا کرنا اللہ تعالیٰ چاہے تو اچھے لوگوں کے واسطے دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ سب کچھ کر دیوے لیکن دنیا کی خوبی اچھے لوگ چاہتے ہی نہیں بلکہ دنیا سے بچتے رہتے ہیں دنیا پر تو وہی لوگ مفتون ہیں جو عقبیٰ کے منکر ہیں اور ان کا مدار فقط دنیا کی زیست پر ہے اور عاقبت میں ان کے لیے دوزخ ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ جس کسی کو جس قدر آخرت کا یقین زیادہ ہے ‘ اسی قدر وہ دنیا سے بیزار ہے ‘ پھر آنحضرت ﷺ کو آخرت کا جس قدر یقین تھا وہ بیان سے باہر ہے ‘ اسی واسطے باوجود پیغام الٰہی کے آپ نے دنیا کی خوشحالی کو پسند نہیں فرمایا کیونکہ یہ بات معلوم تھی کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو دوست رکھتا ہے ‘ ان کو وہ دنیا میں پھنسانا پسند نہیں فرماتا چناچہ معتبر سند سے طبرانی ‘ صحیح ابن حبان میں رافع بن خدیج سے اور مستدرک حاکم میں ابو سعید خدری سے جو روایتیں 1 ؎ ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے اس کو دنیا سے اس طرح بچاتا ہے جس طرح کوئی رشتہ دار اپنے بیمار رشتہ دار کو بد پرہیزی سے بچاتا ہے ‘ معتبر سند سے طبرانی ‘ صحیح ابن حبان میں رافع بن خدیج سے اور مستدرک حاکم میں ابو سعید خدری سے بیمار رشتہ دار کو بد پرہیزی سے چاتا ہے ‘ معتبر سند سے ترمذی میں ابوامامہ 2 ؎ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے مکہ کے پہاڑوں کو سونے کے پہاڑ بنا کر ان کو میرے ساتھ رہنے کا حکم میری مرضی پر منحصر رکھا تھا لیکن میں نے اپنی مرضی یہ ظاہر کی کہ یا اللہ مجھ کو ایک دن کھانا ملے اور ایک دن فاقہ ہو تاکہ شکر اور صبر دونوں کے اجر کا مجھ کو موقع ملے۔ اوپر خیثمہ بن الحارث کی روایت سے شان نزول جو بیان کی گئی ‘ اس کو ان روایتوں سے پوری تقویت ہوجاتی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے ‘ جس میں وہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی تمام عمر میں کبھی دو دن ایسے نہیں گزرے ‘ جن میں پے درپے آپ ﷺ نے جو کی روٹی پیٹ بھر کر کھائی ہو ‘ اس حدیث سے اللہ کے رسول ﷺ کی تمام عمر کے کھانے کا حال اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ اسی طرح کی صحیح حدیثیں آپ کے لباس کے باب میں ہیں۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 310 ج 3۔ ) (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 63 ج 5۔ ) (1 ؎ الترغیب والترہیب ص 132 ج 4 ) (2 ؎ ایضا ص 153 ) (3 ؎ مشکوٰۃ باب فضل الفقراء وماکان من عیش النبی ﷺ ۔ )
Ayahs 25:11–13

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ تو قیامت کو ہی جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کے جھٹلانے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جس وقت وہ ان کو دور سے دیکھے گی (تو غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اسکے جوش (غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ دوزخ کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑ کر ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

11۔ 13:۔ مشرکین مکہ اللہ کے رسول کی تنگدستی پر طعن جو کرتے تھے ‘ اوپر اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ‘ ان لوگوں کی یہ طعن کی باتیں معجزہ کی خواہش کے طور پر نہیں بلکہ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہونے اور حساب کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے یہ لوگ منکر ہیں ‘ اس لیے عقبیٰ کی بہتری کو یہ لوگ طعن اور مسخراپن کی باتوں میں اڑا دیتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے بھی ایسے لوگوں کے لیے دوزخ کی آگ کو خوب دہکا کر تیار کر رکھا ہے ‘ صحیح سند سے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ 1 ؎ سے روایت ہے ‘ کہ دوزخ کی آگ میں اللہ تعالیٰ نے ایک طرح کی بینائی کی قوت پیدا کی ہے جس سے وہ مشرکوں ‘ ظالموں ‘ مصوروں کو دیکھ کر قیامت کے دین پہچان لے گی ‘ آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ دوزخ کی آگ گنہگاروں کو دیکھتے ہی جھنجھلانا اور چلانا شروع کر دیوے گی ‘ اس حدیث سے دوزخ کے دن گنہگاروں کو دیکھتے ہی پہچان لے گی ‘ یہ دوزخ کا جھنجھلانا اس وقت ہوگا جس وقت اس کو ستر ہزار نکیلیں لگا کر محشر کے میدان میں لایا جائیگا جس کا ذکر عبداللہ بن مسعود کی صحیح مسلم کی روایت 2 ؎ میں ہے ‘ سورة الحاقہ میں آوے گا کہ ایسے لوگوں کے گلے میں طوق ڈالا جاوے گا اور ستر گز کی ایک زنجیر میں ان کی جماعت کو جکڑا جا کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا ‘ اس سے مَکَانًا ضَیِّقًا کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ زنجیر میں جکڑ دیئے جانے کے سبب سے ایسے لوگوں کی جماعت کی جماعت دوزخ کی تھوڑی سی جگہ میں پڑی رہے گی ‘ پھر فرمایا دوزخ کے عذاب کی تکلیف سے ایسے لوگ بہت کچھ چلاویں گے اور پچتاویں گے مگر بےوقت کا چلانا اور پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آوے گا ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب سب کی آنکھوں کے سامنے اللہ تعالیٰ نے اس جہاں کو پیدا کردیا تو جو لوگ دوبارہ پیدا کئے جانے کے منکر ہیں وہ بڑے نادان ہیں کیونکہ معمولی عقل کا آدمی بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے ‘ کہ جو کام ایک دفعہ کیا جا چکا ‘ اس کے پھر دوبارہ کئے جانے کا انکار خلاف عقل ہے آیتوں میں جن منکرین حشر کا ذکر ہے۔ اس حدیث سے ان لوگوں کی نادانی کا حال اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 386 باب التصاویر ) (2 ؎ مشکوٰۃ باب صنقہ النار رواہلہا )
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بہت سی موتوں کو پکارو

14:۔ قیامت کے دن اہل دوزخ پر طرح طرح کی سختیاں گریں گی ‘ ان سختیوں سے یہ بھی ایک سختی ہے ‘ جس کا ذکر اس آیت میں ہے ‘ صحیح سند سے بعث ونشور بیہقی میں انس بن مالک کی روایت 3 ؎ ہے جو حدیث ہے ‘ اس میں اس آیت کی تفسیر جو آئی ہے ‘ حاصل اس کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے شیطان کو کھڑا کیا جائے گا اور اس کے تمام شیاطین اور سارے اس کے پیرو اس کے پیچھے کھڑے کیے جائیں گے اور ان سب سے پہلے شیطان کو ایک آگ کا لباس پہنایا جاوے گا اور پھر سب اس کے ساتھیوں کو بھی آگ کا لباس پہنایا جاوے گا ‘ اس وقت شیطان اور اس کے ساتھی اپنی ہلاکت کی حالت پر افسوس کریں گے اور کہیں گے کہ ہائے افسوس ہم ہلاک ہوگئے ‘ ان کے جواب میں خدا تعالیٰ فرمائے گا کہ ایک ہلاکت کو کیا جھیلتے ہو ‘ ابھی تو تمہیں طرح طرح کی ہلاکت بھگتنی اور طرح طرح کے عذاب دوزخ کی مصیبت جھیلنی پڑے گی ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ دوزخ کے عذاب کا جو کچھ حال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ حال پورے طور پر لوگوں کو معلوم ہوجاوے تو لوگ دنیا کے سب کام چھوڑ کر ہر وقت روتے رہیں ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ آگ کا لباس پہنائے جانے کے بعد دوزخ کے طرح طرح کے عذاب کی مصیبت جو شیطان اور اس کے ساتھیوں کو بھگتنی پڑے گی وہ بیان سے باہر ہے کیونکہ دنیا کا انتظام قائم رہنے کی غرض سے اس مصیبت کا حال اللہ کے رسول ﷺ نے امت کے لوگوں کو نہیں جتلایا۔ (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 64 ج 5 و تفسیر ابن کثیر ص 311 بحوالہ مسند امام احمد )
Ayahs 25:15–16

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

پوچھو کہ یہ بہتر ہے یا بہشت جاودانی جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ ہے ؟ یہ ان (کے عملوں) کا بدلہ اور رہنے کا ٹھکانا ہوگا

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں جو چاہیں گے ان کے لئے میسر ہوگا ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ وعدہ خدا کو (پورا کرنا) لازم ہے اور اس لائق ہے کہ مانگ لیا جائے

15۔ 16:۔ اوپر منکرین قیامت کا اور ان کے لیے دوزخ کے تیار کئے جانے کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ‘ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام تو پلٹنے والا نہیں ‘ اب ان لوگوں کو یہ بتلانا چاہیے کہ انتظام الٰہی کے موافق وقت مقررہ پر جب قیامت قائم ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق ان کو اس دوزخ کی آگ میں جھونک دیا جاوے گا جو ایسے لوگوں کے لیے اس طرح دھکائی گئی ہے کہ اس کی تیزی دنیا کی آگ سے انہتر حصہ زیادہ ہے تو یہ دوزخ کی آگ بہتر ہے یا پرہیز گار لوگوں سے جس جنت کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے وہ بہتر ہے ‘ صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ دوزخ کی آگ کی تیزی دنیا کی آگ سے انہتر حصے زیادہ ہے ‘ پھر فرمایا یہ جنت وہ ہے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی معرفت پرہیز گار لوگوں سے کیا ہے جس وعدہ کے پورے ہونے کی دعا پرہیز گار لوگ مانگتے رہتے ہیں ‘ صحیح بخاری 2 ؎ ومسلم میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ اور ابو سعید خدری ؓ سے جو روایتیں 3 ؎ ہیں ان میں جنت کی نعمتوں کے فنا نہ ہونے کا اور جنتیوں کے ہمیشہ جنت کے عیش و آرام میں رہنے کا ذکر تفصیل سے ہے ‘ نیک کام میں لگے رہنے اور برے کام سے بچنے کو پرہیزگاری کہتے ہیں ‘ صحیح 4 ؎ بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ جس شخص کے مزاج میں پرہیزگاری زیادہ ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی عزت زیادہ ہے ‘ آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ پرہیزگار لوگوں سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پرہیزگاری ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے سبب سے آدمی دوزخ کے عذاب کی ذلت سے بچ کر جنت میں داخل ہونے کی عزت حاصل کرسکتا ہے اور اس کے سو درجے پیدا کئے ہیں ‘ چناچہ صحیح بخاری ومسلم اور ترمذی کی عبادہ بن صامت کی حدیث 5 ؎ میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ باب صفۃ النا رواہلہا ) (2 ؎ الترغیب والترہیب ص 564 ج 4 ) (3 ؎ مشکوٰۃ ص 496 باب صفۃ الجنۃ واہلہا ) (4 ؎ مشکوٰۃ ص 417 باب المفاخرۃ والعصبیۃ ) (5 ؎ مشکوٰۃ ص 496 باب صنقہ الجنۃ واہلہا۔ )
Ayahs 25:17–19

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن (خدا) ان کو اور ان کو جن ہیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں جمع کرے گا تو فرمائے گا کیا تم میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود گمراہ ہوگئے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے تو پاک ہے ہمیں یہ بات شایاں نہ تھی کہ تیرے سوا اوروں کو دوست بناتے لیکن تو نے ہی ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتنے کی نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ تیری یاد کو بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے لوگ تھے

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو (کافرو) انہوں نے تو تم کو تمہاری بات سے جھٹلا دیا پس (اب) تم (عذاب) نہ پھیر سکتے ہو (کسی سے) مدد لے سکتے ہو اور جو شخص تم میں سے ظلم کرے گا ہم کو اس کو بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے

17۔ 19:۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ‘ سب کچھ اس کو معلوم ہے لیکن میدان محشر کی تمام مخلوقات کے روبرو مشرک لوگوں کو شرمندہ کرنے کے لیے ملائکہ ‘ حضرت عزیر ( علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور بتوں سے غرض سوائے خدا کے جس کسی کو مشرک لوگوں نے دنیا میں اپنا معبود ٹھہرا رکھا ہے ‘ ان سب سے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا تم نے ان مشرک لوگوں کو شرک کا طریقہ سکھایا تھا ‘ وہ سب اس سے انکار کریں گے اور اپنی بیزاری جتلا دیں گے ‘ یہ قیامت کا حال مشرکوں کو دنیا میں اس لیے جتلایا ہے کہ مشرک اپنی غلطی کو سمجھ جاویں اور جان لیویں کہ خدا کے سوا جس کو انہوں نے اپنا معبود ٹھہرایا ہے وہ معبود کچھ کام نہیں آویں گے بلکہ مصیبت کے وقت صاف جواب دیں گے ‘ پھر جو چیز مصیبت کے وقت ہی کام نہ آوے اور کچھ نفع ونقصان اس کے اختیار میں نہ ہو ‘ اس کو معبود بننے کا کیا حق حاصل ہے ‘ اولاد آدم میں سے جن اچھے لوگوں کی مورتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں وہ اچھے لوگ قیامت کے دن ان مشرکوں سے جو بیزاری ظاہر کریں گے ‘ اس کا ذکر سورة یونس میں گزر چکا ہے اور فرشتوں کی بیزاری کا حال سورة سبا میں آوے گا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان منکر قیامت بت پرستوں اور ان جھوٹے معبودوں سب کو اکٹھا کرے گا اور ان جھوٹے معبودوں سے پوچھے گا کہ کیا تم نے اپنی مورتوں کی پوجا کے لیے ان بت پرستوں سے کہا تھا ‘ یا یہ بت پرست خود ہی بت پرستی میں لگ گئے تو سب مورتوں کی اصل صورتیں ان مشرکوں کے شرک سے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کر کے یہ کہیں گے کہ یا اللہ تجھ کو خوب معلوم ہے کہ ہم تو خالص دل سے تجھ کو سچا معبود جانتے ہیں ‘ پھر ہم سے یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ہم ان مشرکوں سے اپنی مورتوں کو پوجا کو کہتے ‘ پھر کہیں گے یا اللہ تیرے علم غیب میں یہ لوگ قابل ہلاکت ٹھہر چکے تھے ‘ اس لیے دنیا میں تو نے ان کو خوشحالی اور تندرستی جو دی اس کے نشہ میں یہ تیری یاد سے غافل رہے ‘ اب اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو قائل کرنے کے لیے فرماوے گا ‘ سوائے اللہ کا جن کی تم پوجا کرتے تھے وہ تو تم کو جھٹلا چکے ‘ اب تم شرک کی سزا کے عذاب کو نہ خود ٹال سکتے ہو ‘ نہ کوئی دوسرا تمہاری مدد کرسکتا ہے ‘ شرک کی برائی جتانے کے لیے آگے مسلمانوں کو مخاطب ٹھہرا کر فرمایا کہ اسلام کے بعد تم میں سے اگر کوئی شرک میں گرفتار ہوجاوے گا تو قیامت کے دن اس کو بھی وہی عذاب بھگتنا پڑے گا جو منکر اسلام مشرکوں کے لیے تیار کیا گیا ہے ‘ حسن بصری کے قول کے موافق آخری آیت کی تفسیر وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے رسول کی جان پہچان کے کچھ لوگوں کو حوض کوثر پر سے دوزخ میں جھونک دینے کے لیے فرشتے گھسیٹ کر جب لے جانے لگیں گے تو اللہ کے رسول فرماویں گے یہ لوگ میرے صحابہ ؓ میں ہیں ‘ فرشتے جواب دیں گے کہ یہ لوگ اسلام سے پھرگئے تھے ‘ اس حدیث کو آخری آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ آخری آیت میں مختصر طور پر جیسے لوگوں کا ذکر قرآن کی معجزہ کی شان سے تھا ‘ قیامت کے دن ایسے لوگوں کا جو انجام ہوگا اس کا حال حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے اس حدیث سے حسن بصری کے قول کو پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ آیت کی جو تفسیر حسن بصری کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ آیت کو جو تفسیر حسن بصری کے قول کے موافق بیان کی گئی وہی مطلب اس کا ہے۔ (1 ؎ الترغیب والترہیب ص 422 ج 4 (ع۔ ح)
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے اور ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے کیا تم صبر کرو گے ؟ اور تمہارا پروردگار تو دیکھنے والا ہے

20۔ مشرکین کو جو کہتے تھے کہ اگر یہ سچے رسول ہوتے تو نہ کھانا کھاتے ‘ نہ بازاروں میں پھرتے ‘ اس کے جواب میں فرمایا ‘ کھانے کا کھانا اور بازاروں میں پھرنا رسولوں کے منصب کے خلاف نہیں ہے کیونکہ سب رسول بشر ہوئے ہیں اور کھانے کا کھانا بشر کا خاصہ ہے ‘ یہ لوگ ملک شام کے سفر میں اہل کتاب سے سن چکے ہیں کہ پچھلے سب رسول بشر ہوئے ہیں اور یہ بھی ان کو معلوم ہے کہ کھانا کھانا ہر بشر کے لیے ایک لازمی بات ہے ‘ اس پر بھی یہ لوگ شرارت سے نبی آخر الزمان میں ایک انوکھی بات چاہتے ہیں ‘ پھر فرمایا ‘ خوشحالی اور تنگدستی کا فرق اللہ تعالیٰ نے جو لوگوں میں رکھا ہے ‘ وہ فقط اس آزمائش کے لیے کہ کون شخص خوشحالی کی حالت میں اترانے کی حد تک نہیں پہنچتا اور کون شخص تنگدستی میں صبر کرتا ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے صہیب رومی کی حدیث 1 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ خوشحالی کے وقت صبر کرنا ایمان دار لوگوں کا کام ہے ‘ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں اور صبر کرنے والوں کے سب کاموں کو دیکھتا ہے ‘ کوئی چیز اس کی نظر سے غائب نہیں ہے ‘ قیامت کے دن ہر ایک کے عمل کے موافق جزاو سزا کا فیصلہ ہوگا۔ (1 ؎ مثلا ص 17 جلد سوم تفسیر ہذا۔ )
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہ نازل کیے گئے یا ہم اپنی آنکھ سے اپنے پروردگار کو دیکھ لیں ؟ یہ اپنے خیال میں بڑائی رکھتے ہیں اور (اسی بنا پر) بڑے سرکش ہو رہے ہیں

21:۔ اس آیت میں منکرین قیامت کے اترانے کی ایک اور بات کا ذکر فرمایا ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اترانے کی راہ سے یہ لوگ للہ کے رسول کو حقارت سے دیکھنے اور بازاروں میں پھرنے والا کہتے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک خود اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتے ہمارے روبرو آکر ان رسول کی صداقت بیان نہ کریں گے تو ہم ان کو سچا رسول نہ جانیں گے ‘ پھر فرمایا یہ لوگ شرارت میں حد سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ان کو سمجھا دیا گیا ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس پر بھی ان لوگوں کو فرشتوں کے دیکھنے کی ضد ہے تو فرشتوں کی اصلی صورت میں دیکھنے کے بعد ایسے لوگوں پر جو کچھ گزرے گی ‘ اس کا ذکر آگے کی آیتوں میں آتا ہے ‘ صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ لوگوں کے رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پہنچ جاتے ہیں یہ حدیث وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے باہر نہیں ہے لیکن اس نے اپنے انصاف سے جزا وسزا کا مدار اپنے علم غیب پر نہیں رکھا بلکہ اس علم کے ظہور پر رکھا ہے اس علم کے ظہور کے ملاحظہ کا انتظام وہی ہے جس کا ذکر اس حدیث میں ہے کہ لوگوں کے اعمال نامے دو وقت اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوجاتے ہیں۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 21 باب الایمان بالقدر )
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی اور کہیں گے (خدا کرے تم) روک لیے (اور) بند کردیے جاؤ

22:۔ مشرک لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے فرشتے آن کر آنحضرت ﷺ کی نبوت کی شہادت ادا کریں تو ہم کو ان کی نبوت کا یقین آسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ اس کا جواب دیا ہے ‘ حدیث شریف میں اس جواب کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے جو فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں دو موقع اللہ تعالیٰ نے ایسے ٹھہرائے ہیں جن میں فرشتے انسانوں کے روبرو ان کی آنکھوں کے سامنے آویں گے ایک موقع تو قبض روح کا ہے کہ آدمی کی جان نکالنے کو فرشتے اس کے روبرو آتے ہیں دوسرا موقع حشر کا ہے کہ جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو فرشتے ان کو حساب و کتاب کے لیے میدان محشر میں لے جاویں گے اور یہ دونوں موقع بےدین لوگوں پر باری ہیں چناچہ مسند امام احمد اور ابوداود کی براء بن العازب 2 ؎ کی صحیح روایت کے حوالہ سے کئی جگہ اوپر گزر چکا ہے کہ بےدین لوگوں کے قبض روح کے وقت ڈراؤنی صورت بنا کر فرشتے ایسے لوگوں کے سامنے آتے ہیں اور روح کو جسم سے الگ ہونے کے بعد طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہونے کی خبر سناتے ہیں ‘ اس خبر کو سن کر روح جسم میں جگہ جگہ چھپتی ہے اور فرشتے ان لوگوں کے منہ اور پیٹھ پر طرح طرح کی مار مارتے ہیں اور بڑی سختی سے جان نکالتے ہیں اور حشر کا ذکر صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک کی روایت 3 ؎ سے آیا ہے کہ بےدین لوگوں کو منہ کے بل بری طرح سے کھینچتے ہوئے میدان محشر میں فرشتے لے جاویں گے ‘ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اب تو نخوت سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تک فرشتے ہمارے سامنے نہ آویں گے ہم ہرگز ایمان نہ لاویں گے لیکن جب فرشتوں کے سامنے آنے کا وقت آوے گا تو ان کو اس نخوت کی قدر کھل جاوے گی کہ فرشتے قبض روح کے اور حشر کے وقت ایسے لوگوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دے کر یہ کہیں گے کہ دنیا میں تم لوگ بہت عیش و آرام میں رہے اب تم کو ایسی سختی بھگتنی پڑے گی کہ جس میں کسی طرح کی راحت کی کوئی خبر بھی تمہارے کانوں تک نہ پہنچنے گی ‘ بڑی سختی پیش آنے والی ہو تو عرب کے محاوے میں ایسے موقع پر حِجْرًا مَّحْجُوْرًا بولتے ہیں اس میں سلف کا ابن جریر (رح) نے اپنی تفسیر میں اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے اور مطلب اس کا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا جو مفسر یہ کہتے ہیں کہ یہ نافرمان لوگوں کا قول ہے وہ اس قول کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ فرشتوں کی سختی کے وقت اپنے اس قول سے کسی آڑ یا اوٹ میں چھپ جانے کی تمنا ظاہر کریں گے ‘ ترجمہ میں یہی قول لیا ہے مگر حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ عرب کی بول چال میں حجرا محجورا کے معنی آڑ یا اوٹ کے کہیں پائے نہیں جاتے اگرچہ فارسی اور اردو کے لفظی ترجمہ میں پہلا قول لیا گیا ہے اس اعتراض کے خیال سے پہلا قول لیا ہے لیکن آگے بیٹے اور کھاری دو دریاؤں کے نہ ملنے کے ذکر میں حِجْرًا مَّحْجُوْرًا کا لفظ آڑ اور اوٹ کے معنوں میں آیا ہے اس واسطے یہ معنی بھی صحیح ہیں۔ (2 ؎ مشکوٰۃ ص 142 باب مایقال عند من حضرہ الموت ) (3 ؎ مشکوٰۃ باب الحشر۔ )
Ayahs 25:23–24

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو انہوں نے عمل کئے ہوں گے ہم ان کی طرف متوجہ ہوں گے تو انکو اڑتی خاک کردیں گے

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن اہل جنت کا ٹھکانا بھی بہتر ہوگا اور مقام استراحت بھی عمدہ ہوگا

23۔ 24:۔ مشرک اور بےدین لوگوں سے جو نیک کام ہوتا ہے تو وہ نہ شریعت کی پابندی سے ہوتا ہے اور نہ خالص اس نیت سے ہوتا ہے کہ آخرت میں اس کا ثواب ان کو ملے کیونکہ شریعت اور عقبیٰ کے ثواب اور عذاب کے یہ لوگ منکر ہیں اس لیے جو نیک کام ان سے ہوتا ہے بغیر پابندی شریعت اور بغیر آخرت کے یقین کے محض رسم کے طور پر ہوتا ہے اور یہ ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ اس طرح کا نیک کام اللہ کی درگاہ میں مقبول نہیں ہے اس واسطے ایسے نیک عمل اللہ کے نزدیک اس طرح اڑ جانے کے قابل ہیں جس طرح آندھی میں ریت اڑ جاتی ہے اسی واسطے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت 1 ؎ میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ جو کوئی شخص ایسا کام کرے جس کا پتہ شریعت میں نہیں ہے تو ایسا کام اللہ کے نزدیک اکارت ہے اسی طرح صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی نظر انسان کی ظاہری حالت پر نہیں ہے بلکہ اس کی نظر ہمیشہ انسان کے دلی ارادے پر ہے کہ جو کام کیا گیا ہے وہ کس نیت سے ہے ‘ ان حدیثوں سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ آجاتا ہے کہ بغیر پابندی شریعت اور بغیر آخرت کے اجر کی نیت سے کوئی کام بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ‘ آگے فرمایا ‘ ان نافرمان منکر شریعت لوگوں کے نیک عمل تو اس طرح قیامت کے دن اڑ جاویں گے جس طرح آندھی میں ریت اڑ جاتی ہے اور فرمانبردار پابند شریعت لوگوں کے نیک عملوں کا بدلہ یہ ہوگا کہ ان نافرمان لوگوں کے دنیا کے عیش و آرام کے ٹھکانوں سے بہتر ٹھکانے ان پابند شریعت لوگوں کو جنت میں دیئے جاویں گے ‘ جہاں یہ لوگ ہمیشہ آرام سے رہیں گے ‘ صحیح ابن حبان اور مسند ابی یعلی میں ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث 1 ؎ ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہوگا اور اس دن کی دوپہر تک لوگوں کا حساب و کتاب پورا ہوجاوے گا ‘ آخر آیت میں جنت کو دوپہر کی آرام کی جگہ جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حساب و کتاب سے فارغ ہو کر جنتی لوگ پہلے پہل دوپہر کے وقت جنت میں جاویں گے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتب واسنتہ ) (2 ؎ ایضا باب الریاء والسمعۃ۔ ) (1 ؎ الترغیب والترہیب ص 390 ج 4 )
Ayahs 25:25–27

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان ابر کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کئے جائیں گے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا

25۔ 26:۔ یہ آسمان کے پھٹنے اور فرشتوں کے زمین پر اترنے کا ذکر حشر کے وقت کا ہے ‘ مسند امام احمد بن حنبل ‘ مسند ابویعلیٰ موصلی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود 2 ؎ اور عبداللہ بن عباس 3 ؎ کی روایت میں اس آیت کی تفسیر جو آئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ میدان محشر میں جب سب لوگ آفتاب کی گرمی اور پسینے سے گھبراویں گے اور حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک سب انبیاء کے پاس جاویں گے اور حساب و کتاب کے شروع ہونے کی شفاعت کی خواہش ان سے کریں گے اور سب انبیاء اس دن کے خدا کے غصہ سے ڈر کر اس شفاعت سے انکار کریں گے ‘ آخر یہ سب لوگ آنحضرت ﷺ کے پاس آویں گے اور آپ اللہ تعالیٰ سے لوگوں کا حساب کتاب شروع ہوجانے ‘ اور میدان محشر کی تکلیف سے ان کی نجات ہوجانے کی شفاعت فرماویں گے۔ اس وقت ان کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ ایک نورانی بدلی میں لوگوں کے حساب و کتاب کے لیے زمین پر نزول فرماوے گا اور ہر ایک آسمان کے فرشتے بھی زمین پر اتریں گے اور حساب و کتاب شروع ہوجاوے گا ‘ یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو متشابہات کہتے ہیں ان کے ظاہر معنی پر ایمان لانا ‘ اور ان کی کیفیت اللہ کے علم پر سونپنی چاہیے ‘ اگرچہ حافظ ابن کثیر وغیرہ نے علی بن زید بن جدعان راوی کو اس حدیث کی سند میں ضعیف کہا 4 ؎ ہے ‘ لیکن ترمذی اور دار قطنی نے علی بن زید کو قابل روایت قرار دیا ہے علاوہ اس کے یہ سب امتوں کے حساب و کتاب کے شروع ہوجانے کی شفاعت کی حدیث مختصر طور پر صحیح بخاری ومسلم میں بھی ابوہریرہ کی روایت 5 ؎ سے ہے اس سے بھی عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عباس ؓ کی روایتوں کی پوری تقویت ہوجاتی ہے ‘ یہ شفاعت سب امتوں کے حساب و کتاب کے شروع ہونے کے باب میں ہوگی اس لیے اس کو شفاعت عام اور شفاعت کبرٰی کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بہت بڑی شفاعت ہے جس کو کسی امت کے ساتھ کچھ خصوصیت نہیں ہے ‘ اس آیت میں مختصر طور پر فقط فرشتوں کے زمین پر اترنے کا ذکر ہے لیکن سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ اس بڑی شفاعت کے مقبول ہوجانے کے بعد ایک نورانی بدلی میں لوگوں کے حساب و کتاب کے لیے اللہ تعالیٰ بھی زمین پر نزول فرمادے گا ‘ سورة الزمر میں آوے گا کہ لوگوں کے حساب و کتاب کے لیے جب اللہ تعالیٰ محشر کی نئی زمین پر نزول فرماوے گا تو اللہ تعالیٰ کے نور سے تمام زمین میں روشنی ہوجائے گی ‘ دنیا میں عارضی بادشاہت کا جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں ‘ اس وقت فقیروں کی طرح سب ننگے پاؤں ‘ ننگے بدن میدان محشر میں کھڑے ہوں گے اس لیے ارشاد ہوگا کہ آج سچی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے ‘ کہ عارضی بادشاہت کا دعوٰی کرنے والے فقیروں کی طرح سب ننگے پاؤں اور ننگے بدن آج اس کی بارگاہ میں حاضر ہیں ‘ سب لوگ حشر کے دن قبروں سے ننگے پاؤں اور ننگے بدن جو اٹھیں گے ‘ اس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں تفصیل سے آیا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک سے روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قبروں سے میدان محشر تک نافرمان لوگوں کو منہ کے بل اللہ کے فرشتے گھسیٹ کرلے جاویں گے ‘ اسی طرح قیامت کے دن کے ہر موقع پر ایسے لوگوں کو ذلت اور تکلیف ہوگی ‘ جس کا ذکر صحیح حدیثوں میں ہے ‘ اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کا دن نافرمان لوگوں کے حق میں بڑی مشکل کا دن ہے۔ (2 ؎ نیز دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 248 جلد اول ) (3 ؎ تفسیر الد رالمنثور ص 67 جلد 5 لیکن یہ موقوف ہے نیز اس میں شفاعت کا ذکر نہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے نزول سے آخر تک کا حصہ ہے (ع۔ ح ) (4 ؎ تفسیر ابن کثیر تفسیر آیت ہذا مگر یہ بھی روایت اسی قدر ہے جس قدر الدر المنثور میں ہے ) (5 ؎ مشکوٰۃ ص 489 باب الحوض والشفاعۃ۔ ) (1 ؎ حوالہ ص 377 پر ابھی گزرا ہے )
Ayahs 25:28–29

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے

28۔ 29:۔ تفسیر ابو عمر عامر بن شراحیل شعبی اور تفسیر ابو جعفر ابن جریر طبری اور دلائل ابو نعیم میں صحیح سند کی حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت 2 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ میں عقبہ بن ابی معیط ایک شخص تھا اس کی عادت تھی کہ جب کبھی سفر سے آتا تھا تو بہت سے لوگوں کی دعوت کرتا تھا ‘ ایک دفعہ اس نے آنحضرت ﷺ کی بھی دعوت کی آپ نے فرمایا اگر تو اسلام لے آوے گا تو میں تیرا کھانا کھالوں گا اس نے کلمہ پڑھ لیا اور آپ نے اس کا کھانا کھالیا ‘ اس کے بعد اس کے دوست نے جس کا نام ابی بن خلف تھا ‘ عقبہ کو بہکایا اور عقبہ اسلام سے پھر گیا ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اب تو دنیا میں لوگ اپنے دوستوں کی خاطر دین کی بات کا خیال نہیں رکھتے مگر عاقبت میں ایسی دوستی سے پچتاویں گے ‘ پھر اس وقت کے پچھتانے سے کیا ہوتا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی 3 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے برے دوست کی مثال لوہار کی کھال دھونکنے والے شخص کی بیان فرمائی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کھال کے دھونکنے والے شخص کے پاس بیٹھنے سے آگ کی چنگاری اڑ کر کپڑوں پر پڑجانے اور کپڑوں کے جل جانے کا خوف ہے ‘ اسی طرح برے دوست کی دوستی سے آدمی کو کبھی نہ کبھی نقصان ضرور پہنچ جاتا ہے ‘ آیت کی شان نزول کی روایت اور اس روایت کے ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ ابی بن خلف کی دوستی سے جس طرح عقبہ بن ابی معیط کو نقصان پہنچا جس کو یاد کر کے قیامت کے دن عقبہ اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھاوے گا ‘ اسی طرح ہر ایک برے دوست کی دوستی کا انجام ہے آخر کو فرمایا ‘ شیطان بڑا دغا باز ہے برے دوستوں کی دوستی کے پھندے میں پھنسا کر انسان کو بہکاتا ہے اس لیے ہر ایماندار شخص کو چاہیے کہ وہ برے دوست کی دوستی کو شیطان کی دغا بازی کا پھندا سمجھ کر اس پھندے سے ہمیشہ بچتا رہے۔ (2 ؎ تفسیر ابن جریر ص 9 ج 19 و تفسیر الدر المنثور ص 68۔ 69 ج 5 ) (3 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ باب الحب فی اللہ والبغض فی اللہ )
Ayahs 25:30–31

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنادیا اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے

30۔ 31:۔ سورة انفال میں گزر چکا ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھتے تو مشرکین مکہ تالیاں اور سیٹیاں بجاتے تھے ‘ سورة لقمان اور حٰم السجدہ میں بھی اس مضمون کی آیتیں آویں گی ‘ صحیح بخاری ومسلم کی عبداللہ بن مسعود کی یہ حدیث 1 ؎ مشہور ہے کہ ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے نماز پڑھتے وقت اونٹ کی اوجھری اللہ کے رسول کی پیٹھ پر ڈال دی تھی ‘ حاصل مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے قریش کی ان بےہودہ باتوں کی شکایت اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیش کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے طور پر فرمایا اے رسول اللہ کے پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کے قصے جو قرآن میں جگہ جگہ ذکر کئے گئے ہیں ان سے تم کو معلوم ہوگیا ہوگا کہ ہر ایک نبی کے ساتھ مخالف لوگ اسی طرح کی باتیں کرتے رہے ہیں قریش کی یہ باتیں تمہارے ساتھ کچھ خاص نہیں ہیں لیکن ان لوگوں کی مخالفت سے دین اسلام کی ترقی رک نہیں سکتی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ راہ راست پر آنے والے ٹھہر چکے ہیں ان کی ہدایت میں اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا صحیح بخاری وغیرہ کی روایتوں کے حوالہ سے منی گھاٹی کی بیعت کا قصہ اس تفسیر میں کئی جگہ بیان کردیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب اہل مکہ نے قرآن کی نصیحت کو اس طرح کی بےہودہ باتوں سے ٹالنا شروع کیا تو موسم حج میں ادھر ادھر کے باہر کے لوگوں کو اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی آیتیں سنانی شروع کردیں ‘ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کی نصیحت کے اثر سے قبیلہ خزرج میں کے کچھ لوگوں نے منیٰ کی گھاٹی میں اسلام کی بیعت کی اور اس بیعت کے بعد نواح مدینہ میں اسلام کے پھیلانے والے بارہ نقیب مقرر ہوئے اور اسلام کی ترقی شروع ہوئی ‘ آیتوں میں اسلام کی ترقی کے لیے مدد الٰہی کا جو وعدہ ہے اس وعدہ کا ظہور اس قصہ سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 533 باب البعث وبدء الوحی۔ )
Ayahs 25:32–34

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟ اس طرح آہستہ آہستہ اس لئے اتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں اور اسی واسطے ہم اسکو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے ہیں

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اسکا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کیے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ راستے بھی بہکے ہوئے ہیں

32۔ 34:۔ مشرکین مکہ جہاں اور بےہودہ باتیں کرتے تھے وہاں یہ بھی کہتے تھے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر ساری تورات ایک ہی جگہ میں نازل ہوئی ‘ اگر یہ قرآن کلام الٰہی ہے تو یہ بھی تورات کی طرح ایک ہی دفعہ میں کیوں نہیں نازل ہوا ‘ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس بات کا جواب دیا کہ ایک تو نبی آخر الزمان ان پڑھ ہیں اتنی بڑی کتاب ایک دفعہ ہی زبان پر چڑھانا مشکل تھا اس مصلحت سے قرآن کی آیتیں ٹھہر ٹھہر کر نازل ہوتی ہیں ‘ علاوہ اس کے دوسری بات یہ بھی ہے کہ ان مشرکین کی ہر ایک بےہودہ بات کا جواب وقت پر اچھی طرح کھول کردیا جاتا ہے پھر فرمایا ‘ اس پر بھی یہ سرکش لوگ نہ مانیں گے تو قیامت کے دن اوندھے منہ دوزخ میں ڈالے جاویں گے کیونکہ ایسے میں انس بن مالک سے اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ وغیرہ سے جو روایتیں ہیں ‘ ان میں ایسے لوگوں کے منہ کے بل گھسیٹے جانے کا ذکر تفصیل سے ہے۔
Ayahs 25:35–37

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور کہا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی (جب تکذیب پر اڑے رہے) تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انھیں غرق کر ڈالا اور لوگوں کے لئے نشانی بنادیا اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

35۔ 37:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی حدیث 2 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم ارواح میں سب انبیاء سے اللہ تعالیٰ کے وحدانیت کے سکھانے کا اور سب مخلوقات سے اس پر قائم رہنے کا عہد لیا ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ پہلے پہلے بت پرستی قوم نوح سے دنیا میں شروع ہوئی ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ قوم نوح ( علیہ السلام) سے لے کر قوم فرعون تک کسی قوم نے اس عہد کے موافق عمل نہیں کیا جب سزا میں وہ سب قومیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں ‘ جن میں سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم ہے اور آخری قوم فرعون کی ‘ ان آیتوں میں ان ہی دونوں کی ہلاکت کا ذکر ہے ‘ ہاں حلال و حرام کے احکام ہر زمانہ کی ضرورت کے موافق بدلتے رہے ہیں ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ قوم نوح نے سب رسولوں کو جھٹلایا ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس قوم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو جھٹلایا ‘ اس نے سب رسولوں کو جھٹلایا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے کسی رسول کا دین خالی نہیں ہے ‘ قریب کے زمانہ کی بات زیادہ مشہور ہوتی ہے اس لیے قوم فرعون کے ذکر سے آیتوں کو شروع کیا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے فرعون کی قوم اور نوح (علیہ السلام) کی قوم اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے کے وبال میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی اگر قریش بھی تمہارے جھٹلانے سے باز نہ آئے تو ان پر بھی کوئی آفت ضرور آوے گی ‘ اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا کلام سچا ہے ‘ بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا جو ظہور ہوا اس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گذر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس لڑائی میں مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے اللہ کے رسول کے جھٹلانے والے دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے ‘ جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پالیا۔ (2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص 509 باب بدء الخلق و ذکر الانبیاء )