Ayahs 25:38–4438۔ 44:۔ سیرۃ ابن اسحاق اور مسند عبد بن حمید وغیرہ میں ایک روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن سب سے پہلے ایک حبشی غلام جنت میں جاوے گا کس لیے کہ پہلے زمانہ میں ایک نبی کو ان نبی کی قوم نے ایک کنویں میں ڈال کر اس کنویں کے منہ پر ایک پتھر کی سل ڈھانک دی تھی ‘ وہ حبشی غلام ان نبی پر ایمان لے آیا تھا ‘ اس لیے ہر روز لکڑیاں جنگل میں سے چن کر لاتا تھا اور ان لکڑیوں کو بیچ کر کچھ کھانے کی چیز خریدتا تھا اور قوم کے لوگوں سے چھپ کر اس کنویں پر آتا تھا اور اللہ تعالیٰ اس کو اتنی قوت دے دیتا کہ وہ اس بھاری پتھر کی سل کو کنویں کے منہ پر سے ہٹا کر ان نبی کو کھانا کھلاتا تھا ایک دفعہ جنگل میں جو وہ حبشی غلام سویا تو خدا کی قدرت سے چودہ برس تک اس کی آنکھ نہ کھلی ‘ اتنے میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے لوگوں کو ہدایت دی اور ان لوگوں نے ان نبی کو کنویں سے سے نکالا اور ان نبی پر ایمان لائے ‘ یہ نبی قوم کے لوگوں سے اکثر اس حبشی غلام کا حال پوچھا کرتے تھے مگر کسی کو اس جنگل میں سوجانے کی خبر نہ تھی ‘ اس واسطے کسی نے اس کا کچھ حال نہ بتایا یہاں تک کہ جب وہ نبی وفات پاچکے تو اس حبشی غلام کی آنکھ کھلی اور وہ حسب عادت کنویں پر آیا اور ان نبی کو کنویں میں نہ پایا ‘ ابو جعفر ابن جریر نے اس قصہ کو اپنی تفسیر 2 ؎ میں نقل کر کے کہا ہے کہ آیت میں جن کنویں والوں کا ذکر ہے ‘ وہ اس قصہ کے لوگ اس سبب سے نہیں قرار پاسکتے کہ یہ لوگ تو آخر ایمان لے آئے اور آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے ‘ ان کا ایمان لانا آیت سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا عذاب میں گرفتار ہونا آیت سے نکلتا ہے ‘ حافظ ابن کثیر نے اس کا جواب 3 ؎ یہ دیا ہے کہ جن لوگوں نے ان نبی کو کنویں میں قید کیا تھا ‘ وہ عذاب سے ہلاک ہوگئے ہوں اور ان کی اولاد کو اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت دی ہو کہ انہوں نے نبی کو کنویں سے نکالا ہو اور ان نبی پر ایمان لائے ہوں تو اس صورت میں یہی قصہ آیت کی تفسیر قرار پاسکتا ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے سے جس طرح قوم نوح اور قوم فرعون کے لوگ دنیا اور آخرت کے عذاب میں پکڑے گئے ‘ وہی حال عاد ‘ ثمود اور کنویں والوں کا اور بہت سی بستی والوں کا ہوا کہ پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر ان لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ‘ جب یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے تو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے۔ چناچہ ملک شام کے سفر میں قوم لوط کی الٹی ہوئی اور پتھروں کے مینہ سے اجڑی ہوئی بستی ان مشرکین مکہ کو نظر آتی ہوگی ‘ پھر فرمایا یہ لوگ کچھ اس لئے اللہ کے رسول کو نہیں جھٹلاتے کہ قوم لوط کی اجڑی ہوئی بستی ان لوگوں کی نظر سے نہیں گزری بلکہ یہ لوگ تو اس لیے اللہ کے رسول کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں کہ ان لوگوں کو ایک دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے کا اور جزا وسزا کا یقین نہیں ہے اسی واسطے ان لوگوں نے بت پرستی کے وبال کو دل سے بھلا رکھا ہے مگر وقت مقررہ پر ان کو معلوم ہوجاوے گا کہ اللہ کے رسول ان کو جو طریقہ بتاتے تھے ‘ وہ اچھا تھا یا بت پرستی کا طریقہ اچھا تھا ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے ان لوگوں کی نادانی دیکھی کہ جس بت کی پوجا کو ان کا جی چاہتا ہے اس کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور جس کی پوجا کیا کرتے تھے اس کی پوجا جھوڑ دیتے ہیں ‘ اس لیے جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد نہ ہو تم ایسے نادان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں قرار پاسکتے ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے کیا تم اپنے جی میں یہ خیال کرتے ہو کہ یہ لوگ قرآن سنتے اور اس کی نصیحت کو سمجھتے ہیں ‘ نہیں یہ لوگ تو اپنی نادانی کے سبب سے بالکل چوپایوں کی طرح کسی بات کو نہیں سمجھتے بلکہ یہ لوگ چوپایوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ چوپائے اپنے پرورش کرنے والے کو خوب پہچانتے ہیں اور یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے اور پرورش کرنے والے کو نہیں پہچانتے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ مسعود کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ‘ اس پر بھی جو لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گنہگار نہیں ‘ مشرکوں کی چوپایوں سے بدتر ہونے کی حالت اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ چوپائے اپنے شیطان کی فرمانبرداری کو برابر جانتے ہیں ‘ سوائے شرک کے اور باقی کے گناہوں کے کرنے میں شیطان کی فرمانبرداری سے شیطان کی پوجا نہیں آتی اس واسطے شرک سب گناہوں سے بڑا ہے ‘ سورة السبا میں آوے گا کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ فرشتوں سے خفگی کے طور پر دریافت فرماوے گا کہ کیا یہ بت پرست لوگ دنیا میں تمہاری مورتوں کو پوجا کرتے تھے تو اللہ کے فرشتے بہت ڈریں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ شیطان نے ان لوگوں کے دل میں ہمارے نام کی مورتوں کی پوجا کا وسوسہ ڈال دیا تھا اس لیے شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ شیطان کی پوجا کرتے تھے۔ ہماری مرضی کا اس میں ہرگز کوئی دخل نہیں تھا ‘ اوپر یہ جو بیان کیا گیا تھا کہ بت پرستی میں شیطان کی پوجا لازم آتی ہے ‘ اس کا مطلب سورة السبا کی ان آیتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 71 ج 5 )
(2 ؎ ص 5 ا ج 19 طبع جدید )
(3 ؎ یہ حافظ ابن کثیر کا جواب نہیں بلکہ ابن جریر کے اپنے اشکال کے حل کی ان کی اپنی ایک توجیہ نقل کی ہے اور خود اس اثر پر فنی جرح کی ہے وفیہ غرابۃ ونکارۃ شدیدۃ ولعل فیہ ادر اجا (ص 319 ج 3) (ع۔ ح )
Ayahs 25:45–4745۔ 47:۔ صبح صادق کے شروع سے آفتاب کے نکلنے تک بغیر آفتاب کی دھوپ کے جو ایک سایہ ہوتا ہے اس آیت میں اس سایہ کا ذکر ہے ‘ یہ سایہ جنت میں ایک نشانی ہے ‘ جنت میں آفتاب کی دھوپ نہیں ہوگی یہی سایہ ہوگا ‘ تفسیر عبدالرزاق میں حسن بصری اور قتادہ کی روایت سے اور تفسیر ابن ابی حاتم میں علی بن طلحہ کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے اس آیت میں جو سایہ کا ذکر ہے ‘ اس کی یہی تفسیر آئی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے اور یہی تفسیر امام بخاری نے صحیح بخاری 1 ؎ میں بیان کے ہے۔ بعضے مفسروں نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے کہ غروب آفتاب کے شروع سے رات کے اندھیرے کے شروع ہونے تک بھی بغیر آفتاب کی دھوپ کے ایک اجالا ہوتا ہے ‘ اس کو بھی اس آیت کی تفسیر قرار دینا چاہیے حافظ ابن حجر نے فتح الباری 2 ؎ میں اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ جب آیت میں اس سایہ کا ذکر ہے ‘ غروب آفتاب کے وقت کا سایہ ایک الگ چیز ہے ‘ اس کو آیت سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ صحیح بخاری ومسلم اور ترمذی میں ابوسعید خدری سے روایت 3 ؎ ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ جنت میں بعضے سایہ دار درخت ایسے ہیں کہ ان کا سایہ گھوڑے کے سوار شخص سے بھی سو برس کے عرصہ میں طے نہیں ہوسکتا ‘ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی معتبر روایتوں کے موافق جنت میں نہ سورج ہے نہ دھوپ ‘ بلکہ جنت میں تو ہمیشہ ایسا وقت رہے گا ‘ جیسا وقت دنیا میں طلوع سے سورج کے نکلنے تک رہتا ہے ‘ اس حدیث سے اور حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی معتبر روایتوں سے وَلَوْ شَآئَ لَجَعَلَہٗ سَاکِنًا کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صاحب قدرت اس پر قادر ہے کہ اس کی قدرت سے جنت میں ہمیشہ ایسا وقت رہے گا ‘ جیسا وقت دنیا میں طلوع فجر سے سورج کے نکلنے تک رہتا ہے ‘ وہ صاحب قدرت اگر چاہے تو دنیا میں بھی سارے دن طلوع فجر سے سورج کے نکلنے تک کے وقت کو قائم رکھ سکتا ہے لیکن سورج اس بات کا راستہ بتاتا ہے کہ سورج کے نکلنے سے پہلے کا سایہ اور چیز ہے اور سورج کی دھوپ میں مکانوں اور درختوں وغیرہ کا جو سایہ ہوتا ہے وہ اور ہے ‘ پھر فرمایا سورج کے نکلنے کے بعد سورج سے وہ پہلے کا ٹھنڈا سایہ سہج سہج اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمیٹ لیا جاتا ہے اور بجائے اس ٹھنڈے سایہ کے تمام دنیا میں دھوپ پھیل جاتی ہے یہ ٹھنڈا سایہ رات کے اندھیرے کے بعد طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور پھر دن کے گزر جانے کے بعد رات ہوتی ہے اس واسطے اس ٹھنڈے سایہ کے ذکر میں رات اور دن کا تذکرہ فرمایا جس طرح اوڑھنے اور پہننے کے کپڑے سے انسان کا بدن ڈھانک دیا جاتا ہے اسی طرح رات کا اندھیرا ہر ایک چیز کو ڈھانک لیتا ہے اسی واسطے رات کو لباس کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے دن کو ہر طرح کے کام دھندے میں لگ کر آدمی کو تھکان ہوجاتی ہے اور رات کی نیند سے وہ تھکان رفع ہوجاتی ہے اس لیے رات کی نیند کو آرام فرمایا اور دن کے کام دھندے کو اٹھنا اور نکلنا ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ سونے کے بعد جاگنا مرنے کے بعد دوبارہ جینے کی نشانی ہے ‘ اسی واسطے صحیح بخاری میں حذیفہ ؓ سے جو روایت 1 ؎ ہے اس میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ سوتے وقت یہ کہا کرتے تھے یا اللہ تیرے نام پر میں مرتا ہوں اور تیرے نام پر اٹھوں گا اور جب سو کر اٹھا کرتے تھے تو یہ کہتے اس کا شکر ہے جس نے نیند کی موت سے جس طرح ہمیں زندہ کیا ہے اسی طرح موت کے بعد ایک دن دوبارہ زندہ ہو کر اس کے روبرو جانا پڑے گا۔
(1 ؎ کتاب التفسیر سورة الفرقان )
(2 ؎ ص 283 ج 4 کتاب التفسیر )
(3 ؎ الترغیب والترہیب ص 520 ج 4 )
(1 ؎ مشکوٰۃ باب مایقول عند الصباح والمساء والمنام )
Ayahs 25:48–5048۔ 50:۔ مینہ کا پانی جب تک زمین پر نہ آوے اور زمین کی کوئی نجاست کی چیز اس میں نہ ملے ‘ اس پانی کا اسی آیت میں ذکر ہے کہ وہ پانی پاک ہے اور زمین کے پانی کا یہ ذکر کہ کون سا پانی پاک ہے اور کس قدر پانی پاک ہے ‘ اس کی تفصیل حدیث شریف اور فقہ میں ہے ‘ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے ‘ پوری تفصیل تو اس مسئلہ کی یہاں ممکن نہیں مگر حاصل کلام یہ ہے کہ بہتا ہوا پانی تو بلا اختلاف کے سب علماء کے نزدیک خواہ کتنا ہی ہو پاک ہے ‘ رکے ہوئے پانی میں علماء کا اختلاف ہے ‘ اس اختلاف کا حاصل یہ ہے کہ مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابوداؤد ‘ نسائی میں حضرت ابو سعید خدری سے ایک روایت 2 ؎ ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک مشہور کنواں ہے جس کا نام بئر بضاعہ ہے ‘ اس کنویں کے باب میں لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اس کنویں میں لوگ ناپاک چیزیں ڈالتے ہیں ‘ اس حالت میں اس کا پانی استعمال کیا جاوے یا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا پانی پاک چیز ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرسکتی ‘ اس حدیث کی رو سے حسن بصری ابراہیم نخعی ‘ زہری اور بعضے علماء کا یہ مذہب قرار پایا ہے کہ پانی خواہ تھوڑا ہو یا بہت وہ نجاست کے پڑجانے سے اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا جب تک اس کے رنگ وبو اور مزہ میں فرق نہ آجاوے لیکن اس مذہب پر علماء کی ایک بہت بڑی جماعت نے یہ اعتراض کیا ہے کہ مسند امام احمد ‘ ابوداؤد و ترمذی ‘ نسائی ‘ دارمی ‘ ابن ماجہ کی روایت 3 ؎ سے جب حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی قلتین کی حدیث صحیح ٹھہر چکی ہے تو پھر حدیث کی تفسیر حدیث سے کیوں نہ کی جائے اور بئر بضاعہ میں دو قلے پانی کیوں نہ قرار دیا جاوے ‘ اس اعتراض کے بعد قوی مذہب پانی کے باب میں یہی قرار پایا ہے کہ دو قلے پانی جو سات من پکے کے قریب ہوتا ہے کسی ناپاک چیز کے پڑجانے سے اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا جب تک اس کے رنگ ‘ بو ‘ مزہ میں فرق نہ آجاوے اس مقدار سے اگر پانی کم ہو تو وہ ناپاک چیز کے پڑجانے سے ناپاک ہوجاتا ہے ‘ مٹی ‘ پیڑ کے پتے یا اور ایسی پاک چیزوں کے پڑنے سے یا بہت روز رکا رہنے سے اگر کوئی پانی ایسا ہو کہ اس کے رنگ ‘ بو ‘ مزہ میں فرق آجاوے تو وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا ‘ علاوہ اس مذہب کے پانی کے باب میں جتنے مذہب ہیں ‘ ان کی پوری تفصیل فقہ کی کتابوں 1 ؎ میں ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ پہلے ہوا سے بادل ابھارے اور پھیلائے جاتے اور تہ برتہ کئے جاتے ہیں جن میں سے ستھرا پانی برستا ہے جس سے سوکھی مردہ زمین زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کی پیداوار ہوتی ہے اور مینہ کا پانی ندی نالوں اور تالابوں میں جو جمع ہوتا ہے وہ چوپایوں اور آدمیوں کے پینے کے کام میں آتا ہے پھر فرمایا ‘ ہر ایک ملک کی ضرورت کے موافق اللہ تعالیٰ نے مینہ کے پانی کی تقسیم کردی ہے ‘ جہاں جتنی ضرورت ہے وہاں اسی قدر مینہ برستا ہے ‘ پھر فرمایا ‘ بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا نہیں کرتے مطلب یہ ہے کہ مینہ تو اللہ کے حکم اور اس کی رحمت سے برستا ہے لیکن ان مشرکین مکہ کا یہ اعتقاد ہے کہ تاروں کی گردش سے مینہ برستا ہے ‘ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ تاروں کی گردش مکہ کے قحط کے وقت کہاں چلی گئی تھی ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے زیدبن خالد جہنی کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ مشرکین مکہ تاروں گی گردش سے مینہ برسنے کے قائل تھے۔ یہ حدیث فَاَبٰی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّاکَفُوْرًا کی تفسیر ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ مینہ تو اللہ کی رحمت سے برستا ہے لیکن یہ مشرکین مکہ اپنی نادانی سے اس بات کے قائل ہیں کہ تاروں کی گردش سے مینہ برستا ہے۔
(2 ؎ مشکوٰۃ مع تنقیح الرواۃ ص 85 باب احکام المیاہ )
(3 ؎ ایضا۔ )
(1 ؎ السعایہ شرح الشرح وقایہ ص 363۔ 381 جلد اول نیز دیکھئے تحفہ الاحوذی ص 66 جلد اول۔ )
Ayahs 25:51–5251۔ 52:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ‘ مینہ کے ذکر کے بعد قرآن شریف کا ذکر جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح مینہ کا پانی عام فائدے کے لیے برستا ہے لیکن اس سے فائدہ فقط اچھی زمین کو پہنچتا ہے اور بری زمین میں وہ پانی بالکل رائیگاں جاتا ہے اسی طرح قرآن کی نصیحت اگرچہ عام لوگوں کے فائدے کے لیے ہے لیکن اس نصیحت سے فائدہ فقط ان ہی لوگوں کو پہنچتا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں برے قرار پاچکے ہیں ‘ ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اسی طرح رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اگر اللہ چاہتا تو تم پر سے نبوت کا بوجھ ہلکا کر کے ہر ایک بستی میں خدا رسول بھیج دیتا ‘ لیکن اس صورت میں تمہارا عقبیٰ کا اجر کم ہوجاتا اس لیے تمہارا عقبیٰ کا اجر بڑھانے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے تم کو ہر ایک قوم کا رسول بنایا ہے ‘ تم ان مشرکین مکہ کی کوئی بےہودہ بات نہ مانو اور یہ سمجھ لو کہ ہر ایک بستی میں بھی اگر رسول بھیجا جاتا تو راہ راست پر وہی لوگ آتے جن کا راہ راست پر آنا ‘ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں قرار پاچکا ہے۔ اس لیے اے رسول اللہ کے تم بڑی کوشش سے ان لوگوں کو قرآن کی آیتیں سناتے رہو ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ میں لوگوں کو کو لیاں بھر بھر کر انہیں دوزخ کی آگ میں گرنے سے روکتا ہوں مگر لوگ کیڑے پتنگوں کی طرح آگ میں گرنے کی جرأت کرتے ہیں ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا کی تعمیل کس طرح مستعدی سے فرماتے تھے کیونکہ ظاہر میں اگرچہ آپ لوگوں کی کو لیاں نہیں بھرتے تھے ‘ لیکن دلی مضبوط ارادہ سے آپ نے اس طرح کی کوشش قرآن کی مخالفت سے روکنے میں کی جس طرح کوئی شخص کسی کی کو لی بھر کر اس کو برے کام سے روکتا ہے ‘ مشرکین مکہ اللہ کے رسول ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ آپ برس دن ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کریں اور ہم برس دن تک اللہ کی عبادت کرلیا کریں گے تو پھر آپ کا اور ہمارا جھگڑا باقی نہ رہے گا ‘ مشرکین کی ایسی باتوں کی طرف التفات نہ کرنے کا مطلب فَلَاتُطِعِ الْکِفٰرِیْنَ سے ادا فرمایا گیا ہے ‘ چناچہ تفصیل اس کی سورة الزمر میں آوے گی۔
(1 ؎ چند صفحے قبل بھی اس کا حوالہ گزر چکا ہے )
Ayah 25:5353:۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ زمین کے نیچے پانی ہے کس واسطے کہ جہاں سے زمین کو کھودا جائے ‘ وہاں سے پانی نکلتا ہے ‘ پھر کہیں سے کھارا پانی نکلتا ہے اور کہیں سے میٹھا اور زمین کے نیچے دونوں پانی ملنے نہیں پاتے ‘ اسی طرح زمین کے اوپر میٹھی ندیاں اور چشمے جو جاری ہیں ان میں کھاری پانی کا کوئی چشمہ ابل کر نہیں مل سکتا ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ آیت میں میٹھے دریا سے زمین کے نیچے کا دریا مراد ہے جس میں سے بیٹھے کنویں کھودنے سے نکلتے ہیں اور میٹھی ندیاں اور چشمے جو جاری ہیں وہ بھی اس میں داخل ہیں کھاری پانی کے دریائوں میں دریائے ہند دریائے یمن ‘ دریائے چین اور دریائے روم وغیرہ سب داخل ہیں ‘ تھمے پانی کا کوئی میٹھا دریا زمین پر نہیں ہے ‘ بعض مفسروں نے یہ جو کہا ہے کہ میٹھے پانی کا تھما ہوا دریا کوئی شدید زمین کے اوپر ایسا ہو جو لوگوں کی نظروں سے غائب ہو ‘ یہ قول درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی پیدا کی ہوئی نعمتوں کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ لوگو اللہ کی نعمتوں کو پہچان کر اللہ کا شکر ادا کریں پھر جو چیز آنکھوں کے سامنے ہی نہیں وہ کیونکر پہچانی جاسکتی ہے اور بغیر پہچانے اس کا شکریہ کیا ادا ہوسکتا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی ہے کہ اس نے میٹھے اور کھاری دریا زمین کے اوپر اور نیچے پیدا کئے اور وقت مقررہ تک ایک دوسرے کے ملنے سے روک دیا اِذَا السَّمَآئُ انْفَطَرَتْ میں آوے گا کہ پہلے صور کے وقت زمین جب اڑ جاوے گی تو میٹھے کھاری سب دریا مل جاویں گے ‘ اس سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ میٹھے اور کھاری دریاؤں کے نہ ملنے کا انتظام ایک وقت مقررہ تک ہے ‘ مسند امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابوداؤد وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے سمندر کے پانی کو پاک فرمایا ہے ‘ عبداللہ بن عمر ؓ کی یہ ایک روایت جو مشہور ہے کہ سمندر کے پانی کے نیچے آگ ہے ‘ اس سمندر کے پانی سے وضو ‘ غسل کچھ جائز نہیں ہے ‘ یہ روایت ابوداؤد میں ہے لیکن اس روایت کو امام بخاری اور خود ابوداؤد نے ضعیف قرار 1 ؎ دیا ہے ‘ صحیح مسلم وترمذی وغیرہ میں سفینہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پانی کے پیمانے کے اختلاف کے سبب سے دس سیر پانی کے اندازہ سے اللہ کے رسول ﷺ نہایا کرتے تھے اس حدیث سے علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ آدمی کو دریا کے کنارے پر بھی زیادہ پانی سے نہ نہانا چاہیے ‘ اس لیے بعض علماء نے دریا کے کنارہ پر بھی زیادہ پانی سے نہانے کو حرام کہا ہے اور بعضوں نے مکروہ ‘ یہ سفینہ ؓ اللہ کے رسول ﷺ کے پروردہ ہیں جس طرح کشتی پر بوجھ لادتے ہیں اسی طرح یہ سفینہ ؓ اپنے ساتھ سفر میں بوجھ بہت رکھتے تھے ‘ اس لیے لوگوں نے ان کا نام سفینہ ؓ رکھ دیا ‘ اصلی نام ان کا مہران ہے ‘ سفینہ عربی زبان میں کشتی کو کہتے ہیں۔
(2 ؎ مشکوٰۃ مع تنقحر الرواۃ ص 58 جلد اول باب احکام المیاہ۔ )
(1 ؎ نیل الا وطارص 2 جلد اول )
(2 ؎ المنتقی للمجدا بن تیمیہ مع نیل الاوطار ص 314 جلد اول )
Ayah 25:5454:۔ اس آیت میں قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کا پتلا پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے بنایا ‘ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث 3 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ عورت کے رحم میں چالیس دن تک نطفہ رہ کر پھر اس کا جما ہوا خون اور پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور اس گوشت سے بچہ کا پتلہ تیار ہوجاتا ہے ‘ پانی جیسی پتلی چیز نطفہ سے جس طرح اولاد آدم کا پتلہ تیار ہوتا ہے اس کا حال اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے پھر فرمایا ‘ اولاد آدم کے پیدا ہونے کے بعد بیاہ ہونے سے پہلے انسان کا نام باپ دادا سے چلتا ہے کہ یہ لڑکا زید کا بیٹا ‘ یا یہ لڑکی زید کی بیٹی ہے اور بیاہ ہوجانے کے بعد لڑکا دوسرے خاندان کا داماد بن جاتا ہے اور لڑکی دوسرے خاندان کی بہو بن جاتی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث 4 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے ہر ایک مردہ شخص کا جسم تیار ہوجاوے گا اور پھر ہر ایک جسم میں روح پھونکی جاکر حشر قائم ہوجاوے گا ‘ یہ حدیث وَکَانَ رَبُّکَ قَدِیْرًا کی گویا تفسیر ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے اولاد آدم کی پہلی پیدائش کے وقت پانی جیسی پتلی چیز سے مٹی کا کام لیا ‘ دوسری پیدائش کے وقت اس کو ایک مینہ کے پانی میں مٹی سے مٹی کا کام لینے کی تاثیر کا پیدا کردینا کچھ مشکل نہیں ہے کیونکہ ایک مینہ کی تاثیر سے کھیتی کی پیدائش کا کام جو ہر سال لیا جاتا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔
(3 ؎ مشکوٰۃ ص 20 )
(4 ؎ مشکوٰۃ باب النفخ فی الصور۔ )
Ayah 25:5555۔ انسان کو اس کی ضرورت کی چیزوں کو پیدا کرنے کا ذکر اوپر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ یہ مشرک لوگ بڑے نادان ہیں کہ اپنے پیدا کرنے والے کی خاص عبادت کہ چھوڑ کر پتھر کی ایسی مورتوں کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں شریک کرتے ہیں کہ جن کے اختیار میں نہ کسی کا کچھ فائدہ ہے نہ نقصان اللہ تعالیٰ کے اختیار میں انسان کا جو فائدہ ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ اس نے انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح اپنی قدرت سے پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور اسی کے اختیار میں انسان کا جو کچھ نقصان ہے اس کا حال بھی ان لوگوں کو جتلا دیا گیا ہے کہ اس صاحب قدرت نے قوم نوح سے لے کر قوم فرعون تک بہت سی نافرمان قوموں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اور کوئی اس کے بھیجے ہوئے عذاب کے نقصان کو کسی طرح ٹال نہ سکا ‘ وَکَانَ الْکَافِرُ عَلٰی رَبِّہٖ ظَھِیْرًا کی تفسیر سلف نے دو طرح سے بیان کی ہے ‘ ایک تو یہ کہ ظہیر کے معنی مددگار بنتے ہیں کیونکہ شیطان یہی چاہتا ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں ‘ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ظہیر کو ظہر سے لیا جاوے جس کے معنی پیٹھ کے ہیں اس معنی کا حاصل کسی چیز سے بےپروائی کرنے اور اس کو پیٹھ کے پیچھے ڈال دینے کا ہے ‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان کے بہکانے سے ان منکر شریعت لوگوں نے احکام الٰہی کو پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا کیونکہ مجبور کر کے کسی کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے ‘ انتظام الٰہی کے موافق دنیا کو نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کیا گیا ہے ‘ کسی کو مجبور کرنے سے وہ امتحان کا موقع باقی نہیں رہتا ‘ حافظ ابو جعفر ابن جریر نے ان دونوں طرح کے سلف کے قولوں میں سے پہلے قول کو قوی ٹھہرایا ہے اور فارسی ترجمہ میں بھی اسی قول کو لایا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث 1 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ‘ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو بھول کر جو لوگ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گنہگار نہیں ‘ جن لوگوں کا ذکر آیت میں ہے ان کی گنہگاری کا حال اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
(1 ؎ نیز مشکوٰۃ باب الکبائر و علامات النفاق۔ )
Ayahs 25:56–5756۔ 57:۔ اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا ‘ جب وہ ہر وقت کی قرآن کی نصیحت کو سن کر شرک سے باز نہیں آتے تھے تو اس سے اللہ کے رسول ﷺ کو بڑا رنج ہوتا تھا ‘ اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے رنج کی کوئی بات نہیں ہے تمہارا کام اتنا ہی ہے کہ شرک سے باز آنے والوں کو عقبیٰ کی بہبودی کی خوشی اور شرک سے باز نہ آنے والوں کو آخرت کے عذاب کا ڈر سنا دو ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جو لوگ نیک ٹھہر چکے ہیں ‘ ان کے دل پر ضرور قرآن کی نصیحت کا اثر ہوگا اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد قرار پاچکے ہیں ‘ وہ مرتے دم تک برے کاموں کو اچھا جانتے رہیں گے اور قرآن کی نصیحت کا کچھ اثر ان کے دل پر پیدا نہ ہوگا ‘ پھر فرمایا ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ میں اس نصیحت کی کچھ مزدوری تم لوگوں سے نہیں مانگتا تاکہ اس مزدوری کے بار سے تم کو قرآن کی نصیحت کا سننا شاق گزرے ‘ پابند شریعت بن کر عقبیٰ کی بہبودی کی نیت سے کوئی شخص صدقہ و خیرات کرے ‘ وہ اور بات ہے مگر مجھ کو موافق ‘ مخالف کسی سے نصیحت کی مزدوری کا لینا جائز نہیں ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ‘ اب جس قابل ہر ایک شخص پیدا ہوا ہے ‘ مرتے دم تک ویسے ہی کام اس سے بن آتے ہیں ‘ اس حدیث کے آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ اللہ کے علم غیب میں بد اور دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ٹھہر چکے تھے ‘ اگرچہ ہر وقت ان کو قرآن کی نصیحت سنائی گئی اور یہی جتلایا گیا کہ اس نصیحت پر کوئی مزدوری تم لوگوں سے نہیں مانگی جاتی ‘ لیکن مرتے دم تک وہ شرک سے باز نہ آئے جس جرم کی سزا ہمیں ہمیشہ کے لیے دوزخی قرار پاکر دنیا سے اٹھ گئے۔
Ayahs 25:58–6058۔ 60:۔ توکل کے معنی اللہ پر بھروسہ رکھنے کے ہیں ‘ وعظ ونصیحت پر اجرت لینے کی مناہی فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم تو اپنے سب کاموں کا بھروسہ اللہ پر رکھو کہ اس کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے اور اللہ کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے ‘ اس واسطے کسی کام کا بھروسہ اللہ کی ذات پر رکھنے کے بعد اگر اس کام میں کچھ دیر ہو تو وقت مقررہ تک صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ پر بھروسہ رکھنے کا اور صبر کا دونوں کا اجر ملے ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے لوگ قیامت کے دن بلاحساب جنت میں جاویں گے ‘ بخاری ومسلم میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ صبر سے بہتر کوئی چیز دنیا میں انسان کو نہیں دی گئی ‘ مطلب یہ ہے کہ جب تک آدمی کے مزاج میں صبر نہ ہو تو نہ آدمی گناہ سے بچنے کی برداشت کرسکتا ہے ‘ نہ نیک کاموں کے کرنے کی تکلیف گوارا کرسکتا ہے کہ مثلا جاڑہ میں وضو کرے یا گرمی میں روزہ رکھے ان حدیثوں سے توکل اور صبر کی فضیلت اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے اور یہ بات بھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ توکل کے لیے صبر لازمی ہے پھر فرمایا اے رسول اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم کو خاتم الانبیاء بنانے کی نعمت جو دی ہے اس کے شکریہ میں تم کثرت سے اللہ کی عبادت کیا کرو صحیح بخاری ومسلم میں مغیرۃ بن شعبہ سے روایت 3 ؎ ہے کہ تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول ﷺ یہاں تک کھڑے ہوتے تھے کہ آپ کے پیروں پر ورم آجاتا تھا ‘ یہ حالات دیکھ کر لوگوں نے آپ سے کہا کہ حضرت اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دیئے ہیں ‘ پھر آپ عبادت میں اس قدر کوشش کیوں کرتے ہیں اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کروں ‘ نبوت کے شکریہ میں کثرت سے عبادت کرنے کا جو حکم ہے اس کی تعمیل میں اللہ کے رسول ﷺ جس قدر کوشش کرتے تھے اس کی تفسیر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ؎ ہے کہ لوگوں کے رات کے عملوں کا اعمال نامہ رات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوتا ہے ‘ آگے یہ جو فرمایا کہ لوگوں کے سب گناہوں کی اللہ کو خبر ہے ‘ اس کی تفسیر اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے مگر قیامت کے دن لوگوں کو قائل کرنے اور ہر شخص کو اس کے عمل یاد کرنے کے لیے ہر روز صبح وشام لوگوں کے اعمال نامے اللہ تعالیٰ کے روبرو میں پیش ہوجاتے ہیں قیامت کے دن ان ہی اعمال ناموں کے موافق جزا وسزا کا فیصلہ ہوجاوے گا ‘ آگے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں آسمان و زمین سب کچھ پیدا کیا ‘ اس واسطے آسمان و زمین میں کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہوسکتی ‘ اے رسول اللہ کے تم کو جو بات معلوم نہ ہو وہ اللہ ہی سے پوچھو کہ تمام مخلوقات اس کی پیدا کی ہوئی ہے اور اسی کو تمام مخلوقات کا پورا حال معلوم ہے اگر اللہ چاہتا تو ایک لمحہ میں آسمان و زمین سب کچھ پیدا کردیتا لیکن چھ دن کی مدت میں آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں یہ حکمت ہے کہ انسان اس عادت الٰہی کو سیکھ کر ہر کام سہولت سے کرے کسی کام میں عادت سے بڑھ کر جلدی نہ کرے کہ اس طرح کی جلدی شیطان کی عادت میں داخل ہے چناچہ مسندابی یعلی میں انس بن مالک کی صحیح روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہر کام میں سہولت عادت الٰہی ہے اور حد سے زیادہ جلدی عادت شیطانی ہے ‘ استواء علی العرش اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے اور اس طرح کی صفات کی آیتیں متشابہات کہلاتی ہیں ‘ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اس طرح کی آیتوں پر ایمان لانا اور ان کی تفصیلی کیفیت کو علم الٰہی پر منحصر رکھنا ‘ صحابہ ؓ اور تابعین (رح) کا طریقہ ہے ‘ اوپر اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کا ذکر تھا کہ اس نے اپنی مہربانی سے انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اور یہ بھی ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں اور نعمتوں کا شکریہ یہی ہے کہ خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے آخر آیت میں فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی صفت کے سبب سے اس کا نام رحمان بھی ہے لیکن ان مشرکین مکہ کے روبرو جب اللہ تعالیٰ کا یہ نام لیا جاتا ہے تو یہ لوگ بہت بدکتے ہیں حالانکہ یہ مشرک لوگ اہل کتاب سے ملتے رہتے ہیں جس سے ان کو یہ معلوم ہوچکا ہے کہ تورات میں اللہ تعالیٰ کا یہ نام موجود ہے ‘ اس آیت کے پڑھنے والے اور سننے والے دونوں کو یہاں سجدہ کرنا چاہیے۔
(2 ؎ مشکوٰۃ ص 162 باب من لاتحل لہ المسـٔلۃ ومن تحل لہ )
(3 ؎ مشکوٰۃ باب التحریض علیٰ قیام اللیل۔ )
(؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص 21۔ )
(1 ؎ الترغیب والترہیب ص 418 جلد 3 کتاب الآداب۔ )
Ayahs 25:61–6261۔ 62:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور نشانی بیان فرمائی ‘ سورة یونس اور سورة الحجر میں گزر چکا ہے کہ آسمان میں بارہ برج ہیں اور ہر برج میں تیس تیس درجے ‘ سورج ہر روز میں ایک درجہ کو ایک سال میں بارہ برجوں کو طے کرتا ہے ‘ سورج کے اس دورہ سے جاڑا ‘ گرمی ‘ برسات کی فصلیں ہوتی ہیں جس دورہ کو سورج برس دن میں طے کرتا ہے اس کو چاند اٹھائیس دن میں طے کرتا ہے اور جس طرح سورج کا دورہ فصلوں کے ہے ‘ اسی طرح چاند کا دورہ مہینوں اور سال کے حساب کے لیے ہے ‘ چاند کے دورہ کے حساب سے جو بارہ مہینے پیدا ہوتے ہیں اسلام سے پہلے مشرکین مکہ نے اس حساب کو بدل ڈالا تھا ‘ ملت ابراہیمی میں جو مہینے لڑائی کی ممانعت کے تھے ‘ ان مہینوں میں اگر لڑائی کی ضرورت پڑجاتی تھی تو مثلا محرم کا نام صفر رکھ کر محرم میں لڑائی جائز کرلیتے تھے ‘ سورة التوبہ میں اس کا ذکر تفصیل سے گزر چکا ہے اور صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوبکرہ ؓ کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ حجتہ الوداع کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے اس رسم کو موقوف کردیا ‘ اگرچہ بعض سلف نے برجوں کے معنی تاروں کے کئے ہیں ‘ لیکن حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ برجوں کے معنی بڑے مکانوں 1 ؎ کے ہیں ‘ سورة النساء میں بروج کا لفظ مکانوں موافق رات کا دن کے بدلہ میں اور دن کا رات کے بدلہ میں آنے کا یہ مطلب ہے کہ جس شخص کی رات کی کوئی عبادت فوت ہوجاوے تو دن کو اور دن کی کوئی عبادت فوت ہوجاوے تو رات کو اسے پورا کر لیوے ‘ رات دن کے ذکر کے بعد یاد الٰہی اور شکر گزاری کا تذکرہ جو فرمایا اس سے حسن بصری کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے ‘ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ سے روایت 2 ؎ ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر رات کو اپنی رحمت ؎ کا ہاتھ اس لیے پھیلاتا ہے کہ دن کا گنہگار رات کو توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اپنے رحمت کے ہاتھ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیوے اور دن کو اپنی رحمت کا ہاتھ اسی طرح رات کے گناہوں کے معافی کے لیے پھیلاتا ہے ‘ رات کا دن کے بدلے اور دن کا رات کے بدلہ میں آنے کا مطلب اس حدیث کے موافق یہ ہے کہ رات کے گناہوں کی توبہ کے لیے دن اچھا بدلہ ہے اور دن کے گناہوں کی توبہ کے لیے رات اچھا بدلہ ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 30 ج 19 )
(2 ؎ صحیح مسلم ص 358 بروایت حضرت ابو موسیٰ ؓ
(؎ حدیث کے لفظ یبسط یدہ کے ہیں جس کے معنی ہیں ” ہاتھ پھیلاتا ہے “ ” رحمت “ تاویل ہے ‘ جس کی مسلک اہلحدیث میں گنجائش نہیں ‘ بلاکیف ماننا چاہیے (ع۔ ح )
Ayahs 25:63–6763۔ 67:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا ‘ جن کے روبرو اللہ کی صفت رحمن بیان کی جاتی تھی ‘ تو وہ بدکتے تھے ‘ ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے رحمن کے بندوں کے پتے سے اپنے نیک بندوں کی یہ چند صفتیں بیان فرمائیں کہ وہ لوگ جب زمین پر چلتے پھرتے ہیں تو اترا کر نہیں چلتے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا پچھلی امتوں میں سے بعض اترا کر چلنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں دھنسا دیا ہے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ زمین پر اترا کر چلنے پھرنے کی عادت اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے ‘ اسی واسطے جن لوگوں میں یہ عادت نہیں ہے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی ہے ‘ پھر فرمایا ‘ ان رحمن کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ جب کوئی ناسمجھ آدمی ان سے سخت بات کہہ دے تو وہ نرم جواب سے اس کو ٹال دیتے ہیں ‘ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ درگزر کرنے والے شخص کی اللہ تعالیٰ عزت بڑھا دیتا ہے ‘ اس حدیث سے درگزر کی عادت کا اچھا پن اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے پھر فرمایا ‘ ان رحمن کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ وہ رات کو نماز پڑھتے رہتے ہیں ‘ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ فرض نماز کے بعد رات کی نماز افضل ہے ‘ اس سے رات کی نماز کی فضیلت اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے ‘ پھر فرمایا ان رحمن کے بندوں میں یہ بھی عادت ہے کہ دوزخ کے عذاب سے بچنے کی دعا مانگتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ دوزخ برا ٹھکانہ ہے اور اس کا عذاب سخت ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص دوزخ کی آگ سے پناہ مانگتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ سے بچاوے گا ‘ اس حدیث سے دوزخ کے عذاب سے بچنے کی دعا کا فائدہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ پھر فرمایا ان رحمن کے بندوں میں یہ بھی عادت ہے کہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرتے وقت اور خرچ کرنے سے ہاتھ روکتے وقت شریعت کی حد سے نہیں بڑھتے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے 4 ؎ اور معتبر سند سے مسند امام احمد میں عبداللہ بن عباس ؓ سے جو روایتیں 5 ؎ ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ نیک کام میں خرچ کرنے والوں کے مال بڑھتے اور ایسے خرچ سے ہاتھ روکنے والوں کے مال کے گھٹ جانے کے لیے ہر روز اللہ کے دو فرشتے دعا مانگتے رہتے ہیں مگر جس شخص کے ذمہ کسی کا کچھ قرض ہو تو اس کو چاہیے کہ قرض کی ادائیگی کے موافق مال بچا کر خیرات کرے ‘ آیتوں کے مطلب میں اوپر جو یہ بیان کیا گیا کہ خرچ کرنے میں اور خرچ سے ہاتھ روکنے میں شریعت کی حد سے نہ بڑھنا چاہیے ‘ اس کی تفسیر ان روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا کوئی قرضدارا ادائے قرضہ کا خیال نہ رکھے اور اپنا سارا مال صدقہ و خیرات میں خرچ کردے تو وہ اس خرچ میں گویا حد شریعت سے بڑھ گیا ‘ اسی طرح ہر طرح کی گنجائش کے ہوتے ہوئے جو شخص صدقہ ‘ خیرات سے ہاتھ کو روکے گا تو وہ بھی خرچ سے ہاتھ کو روکنے میں یہاں تک حد شریعت سے دور جا پڑے گا کہ ایسے شخص کے مال کے گھٹ جانے کی بددعا اللہ کے فرشتوں کی زبان سے نکلے گی۔
(3 ؎ مشکوٰۃ باب الجلوس والنوم والمشی )
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 419 باب البروالصلہ فصل اول کی آخری حدیث )
(2 ؎ مشکوٰۃ باب صیام التطوع )
(3 ؎ مشکوٰۃ ص 192 باب ذکر اللہ والتقرب الیہ )
(4 ؎ مشکوٰۃ ص 164 باب الانفاق وکراہیۃ الامساک )
(5 ؎ مجمع الزوائد ص 133 ج 3 )
Ayahs 25:68–7768۔ 77:۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 6 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے ‘ اس میں عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت دنیا میں سب سے بڑا گناہ کونسا ہے ‘ آپ نے فرمایا کہ جس اللہ نے بندے کو پیدا کیا ‘ ایک تو اس کی عبادت یا قدرت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا ‘ اس کے بعد کون سا بڑا گناہ ہے آپ نے فرمایا ‘ تنگ دستی کے خوف سے آدمی کا اپنی اولاد کو قتل کر ڈالنا ‘ میں نے پوچھا ‘ پھر اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا ‘ پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا ‘ آپ کے اس قول کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ‘ بعض مفسروں نے اس شان نزول میں یہ شبہ جو پیدا کیا ہے کہ آیت میں تو عام طور کے قتل اور زنا کا ذکر ہے اور حدیث میں خاص طور پر اولاد کے قتل اور پڑوس کی عورت سے زنا کا ذکر ہے ‘ پھر حدیث کی تصدیق آیت سے کیونکر نکل سکتی ہے اس کا جواب حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں یہ دیا ہے کہ جب آیت سے عام طور کا قتل اور زنا گناہ ٹھہرا ‘ اور شریعت میں اولاد کے ساتھ شفقت کرنے کا اور پڑوس کی عزت و حرمت کا پاس رکھنے کا حکم ہے تو اولاد کا قتل کرنا اور پڑوس کی عورت سے بدکاری کا کرنا بہت بڑا گناہ ٹھہرا ‘ اس طرح آیت سے حدیث کی تصدیق نکل آئی اس آیت میں توبہ کے ذکر کا جو ٹکڑا ہے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے صحیح بخاری 2 ؎ میں اس ٹکڑے کی شان نزول یوں بیان کی گئی ہے کہ جب اوپر کا ٹکڑا آیت کا نازل ہوا تو قریش نے کہا کہ ہم نے تو شرک ‘ قتل اور زنا سب کچھ کیا ہے ‘ پھر ہمارے لیے دائرہ اسلام میں داخل ہونا کیا مفید ہوسکتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ توبہ کے ذکر کا ٹکڑا نازل فرمایا اور یہ تو اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اس بات کے قائل ہیں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کر ڈالے تو اس کی توبہ قبول نہیں لیکن جمہور سلف 3 ؎ کا عقیدہ یہی ہے توبہ سب کی قبول ہوتی ہے فقط اتنا ہے کہ مسلمان کا مسلمان کو قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور اس کی توبہ کا قبول کرنا اور قاتل کو بغیر مؤاخذہ کے بخش دینا ‘ اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ رحمن کے بندوں کی یہ بھی عادت ہے کہ وہ نہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرتے ہیں نہ بغیر حکم شریعت کے کسی کے قتل کے درپے ہوتے ہیں ‘ حکم شریعت میں ایک تو قاتل کا قتل کرنا بطور قصاص کے آیا ہے یا اس شخص کو جو اسلام سے پھر جاوے یا بیا ہے ہوئے بدکار مرد عورت کا ‘ پھر فرمایا ان رحمان کے بندوں کی عادت بدکاری کی بھی نہیں ہے ‘ پھر فرمایا ‘ جو شخص شرک ‘ قتل ناحق اور بدکاری میں گرفتار ہوگا اور اسی حال میں مرجاوے گا تو ایسا شخص شرک کے سبب سے ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور سوائے شرک کے اور گناہوں کی سزا جدا اس کو بھگتنی پڑے گی ‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی کسی طرح بخشش نہیں ہے ‘ ہاں مرنے سے پہلے جو شخص ان باتوں سے توبہ کرلے گا اور شرک کو چھوڑ کر ایماندار بن جائے گا اور اپنی توبہ کو سچا کرنے کے لیے توبہ کے بعد نیک کاموں میں مصروف رہے گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی برائیوں کو اس طرح بھلائیوں سے بدل دے گا کہ ایسے شخص کے شرک کے زمانے کے سب گناہ معاف کر دے گا اور آیندہ گناہوں کی جگہ نیک کاموں کی توفیق دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ غضور رحیم ہے فَاُولِئٰٓکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّئَاتِھِمْ حَسَنَاتٍ کی یہی تفسیر 1 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس کے صحیح قول کے موافق ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے ‘ پھر فرمایا جو شخص خالص دل سے توبہ کرتا ہے اور توبہ کے بعد اپنی توبہ کو سچا کرنے کے لیے نیک کاموں میں لگا رہتا ہے ‘ اسی کی توبہ خالص ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جو شخص توبہ کے بعد بھی توبہ سے پہلے جیسے کاموں میں لگا رہے گا تو اس کی توبہ کسی کام کی نہیں ‘ معتبر سند سے طبرانی میں ابوذر ؓ سے روایت 2 ؎ ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص توبہ کے بعد پورا نیک بن گیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف ہوجاویں گے ‘ نہیں تو اگلے پچھلے سب گناہوں کا مؤاخذہ ہوگا ‘ اس حدیث سے وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا کا مطلب وہی قرار پاتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا ‘ بری بات یا بری چیز کو اچھی صورت میں ظاہر کرنا ‘ اس کو زور اور جھوٹی تعظیم اور سب گناہ داخل ہیں ‘ اس لیے آگے کی آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ شیطان نے شرک جیسی بری چیز کو اچھی صورت میں ظاہر کیا ہے ‘ وہ رحمان کے بندے اس کو جھوٹی بات جان کر شرک کے پاس نہیں پھٹکتے اور منکر شریعت لوگوں کو خلاف شریعت باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو لڑائی کا حکم نہ ہونے کے سبب سے درگزر کر جاتے ہیں ‘ پھر فرمایا ‘ ان رحمان کے بندوں میں یہ بھی اچھی عادت ہے کہ منکر شریعت لوگوں کی طرح دین کے سننے کی باتوں کو بہرے بن کر نہیں سنتے اور آنکھوں سے دیکھنے کی قدرت کی نشانیوں کو اندھے بن کر نہیں دیکھتے بلکہ جو کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں ‘ ان کے مگر ان کی بیوی بچے ابھی نعمت اسلام سے محروم ہیں لیے یہ رحمن کے بندے اپنی بیوی بچوں کے حق میں یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ یا اللہ ہم کو ہمارے بیوی بچوں کی طرف سے یہ آنکھوں کی ٹھنڈک دے کہ ہم اپنی آنکھوں سے ان کو ایماندار پرہیزگار دیکھ لیں اور ہم کو ان پرہیزگاروں کا امام اور پیشوا بنا دے ‘ مطلب یہ ہے کہ ہم کو پرہیزگاری کی زیادہ توفیق دے تاکہ ہمارے بیوی بچے ایماندار اور پرہیزگار بن جانے کے بعد زیادہ پرہیزگاری کی باتیں ہم سے سیکھیں ‘ آگے ان رحمان کے بندوں کا بھی انجام فرمایا کہ انہوں نے دنیا میں دین کی پابندی کے سبب سے طرح طرح کی تکلیفیں جو اٹھائی تھیں ‘ ان کے بدلہ میں ان کو جنت جھرونکو دار اونچے محل دیئے جاویں گے ‘ عبادہ بن الصامت کی ترمذی 1 ؎ وغیرہ کو صحیح روایت کے حوالہ سے اس کی تفسیر میں یہ کئی جگہ بیان کردیا گیا ہے کہ جنت کہ سو درجے ہیں اور نیچے کے درجے سے اوپر کے درجے تک پانچ سو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت 2 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کے نیچے کے درجے والے لوگوں کو اوپر کے درجے کے لوگ اس طرح نظر آویں گے جس طرح زمین پر سے آسمان کے تارے نظر آتے ہیں ‘ اس حدیث سے جنت کے محلوں کی بلندی اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے ‘ سورة الانبیاء اور سورة الزمر کی آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ جب جنتی لوگ جنت میں جانے لگیں گے تو جنت پر تعینات فرشتے جنتیوں کے استقبال کے لیے جنت کے دروازہ پر آن کھڑے ہوں گے اور سلام علیکم کے بعد جنت میں داخل ہونے اور وہاں پر ہمیشہ رہنے کی جنتیوں کو مبارک باد دیویں گے اور یہ کہیں گے کہ دنیا میں جس جنت کے ملنے کا تم سے وعدہ تھا ‘ آج اس جنت میں داخل ہونے کا دن ہے ‘ سورة الانبیاء اور سورة الزمر کی آیتیں یُلَقَّوْنَ فِیْھَا تَحِیَّۃً وَّسَلَامً کی گویا تفسیر ہے ‘ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ‘ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب جنتی لوگ جنت میں داخل ہوجاویں گے تو اللہ کے فرشتے ڈھنڈورہ کے طور پر پکار پکار کر کہیں گے کہ اب تم لوگ ہمیشہ صحت وسلامتی سے اس عیش و آرام میں رہوگے ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ جنتیوں کو جنت میں رہنے کا حکم قیامت کے دن ڈھنڈورے کے طور پر سنا دیا جائے گا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جنت میں تھوڑی سی جگہ تمام دنیا سے بہتر ہے ‘ یہ حدیث حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّمُقَامًا کی گویا تفسیر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے معاذ بن حبل کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں ‘ اس حق کے پورا ہوجانے کے بعد بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچاوے ‘ اس حدیث کو آخری آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیروں کو جو شریک کرتے ہیں اور اللہ کے کلام اور اس کے رسول کو جھٹلاتے ہیں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر کچھ یہ حق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ کے عذاب سے بچاوے ‘ اس واسطے اللہ تعالیٰ کو ان کے ہمیشہ دوزخ میں جلنے کی کچھ پرواہ نہیں ‘ مشرکین میں کے بڑے بڑے کلام الٰہی اور اللہ کے جھٹلانے والوں پر دنیا اور آخرت کا یہ عذاب بدر کی لڑائی میں آیا کہ اس لڑائی میں یہ لوگ دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے ‘ جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پالیا ‘ چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت سے یہ بدر کی لڑائی کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے ‘ حاصل کلام یہ کہ اکثر سلف نے فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا کے وعدہ کا ظہور اسی بدر کی لڑائی کو قرار دیا ہے اور شاہ صاحب نے ترجمہ میں اسی قول کو لے کر لزاما کا ترجمہ بھٹیا کیا اور فائدہ میں اس کا مطلب لڑائی کا بتلایا ہے ‘ سلف کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ لزاما کے معنی لازمی اور دائمی عذاب کے ‘ جس کا ظہور مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکش سرداروں کے حق میں بدر کی لڑائی کے وقت ہوا۔ سورة فرقان ختم ہوئی۔
(6 ؎ مشکوٰۃ باب الکبائر و علامات النفاق۔ )
(2 ؎ باب قولہ یضا عف لہ العذاب الایۃ۔ من کتاب التفسیر۔ )
(3 ؎ فتح الباری ص 286 ج 4۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 327 ج 3 )
(2 ؎ الترغیب والترہیب ص 105 ج 4 )
(1 ؎ مشکوٰۃ باب صفۃ الجنۃ واہلہا۔ )
(2 ؎ ایضا )