Ayahs 26:1–4(1 تا 4) شروع سورة میں جو طٰسٓمٓ ہے یہ حروف مقطعات ہیں جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں ان حروف کا ذکر سورة بقرہ میں بیان ہوچکا 1 ؎ ہے۔ کتاب کے لفظ سے مطلب قرآن شریف ہے اور مبین کے معنی اس واضح اور روشن کے ہیں جس سے حق و ناحق کا فیصلہ ہوجاوے باخع کے معنے ہلاک کرنے والا مشرکین مکہ کے ایمان نہ لانے کے رنج کو دور کرنے کے لیے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر ﷺ کی تسلی ہے ‘ یہ آیت مثل سورة فاطر کی آیت کریمہ فَلَا تَذْھَبْ نَفْسٔکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍ الٰایۃ کے ہے سورة فاطر کی آیت اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے ایمان نہ لانے پر زیادہ رنج کرنے سے اپنے رسول کو منع فرمایا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے عکرمہ اور قتادہ ؓ نے باخع نفسک کی تفسیر قاتل نفسک کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ان مشرکوں کے ایمان نہ لانے کے رنج میں تم اپنی جان کو ہلاک نہ کرو اس تسلی کے بعد فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو آسمان سے ایسی نشانی اتارتا کہ ان کو جبرا وقہرا ایمان لانا پڑتا مگر ایسا مجبوری کا ایمان اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو نیک و بد کے امتحان کے لیے پیدا کیا ہے مجبوری کی حالت میں وہ امتحان کا موقع باقی نہیں رہتا سورة الم السجدہ میں آوے گا کہ اگر اللہ چاہے تو ہر ایک جن اور انسان کو نیک کر دیوے لیکن دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے کہ جب جن وانس کو نیک وبد کا اختیار دیا جا کر دنیا میں پیدا کیا جاوے تو اس قدر جن وانس اپنے اختیار سے نیک کام کریں گے اور اس قدر برے کام کریں گے اور پھر نیکوں کو جنت میں داخل کیا جاوے گا اور بد جن وانس کو دوزخ میں جھونکا جائے گا ‘ تبارک الذی میں آوے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انصاف کے موافق جزا وسزا کا مدار اپنے علم ازلی پر نہیں رکھا بلکہ دنیا کی ظاہری حالت پر رکھا ہے جیسا کوئی کرے گا ویسا ہی پھل پاوے گا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ ابتدائے اسلام کے زمانہ میں آنحضرت ﷺ کو اس بات کا حد سے زیادہ رنج تھا کہ باوجود ہر وقت کی نصیحت کے تمام مشرکین مکہ راہ راست پر کیوں نہیں آتے اور آپ کے رنج کو یہ بتلا دیا کہ اگر اللہ چاہے تو تمام جنات اور انسان راہ راست پر آجاویں لیکن دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے اس کے برخلاف کسی بات کو اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا بلکہ اللہ تعالیٰ کو اسی نوشتہ تقدیری کے موافق دنیا کا چلانا منظور ہے تو اللہ کے رسول ﷺ کی خود بھی تسکین ہوگئی اور ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کی مثال سے آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بھی سمجھا دیا کہ جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پاچکے ہیں ان کے حق میں دین کی نصیحت ایسی رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے۔
(1 ؎ ص 69 جلد اول )
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنہ فصل اول 12 )
Ayah 26:5(5) اس آیت سے فرقہ معتزلی 2 ؎ نے یہ مطلب جو نکالا ہے کہ قرآن شریف مخلوقات کے کلام کی طرح ایک نو پیدا چیز ہے جس کو حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے انبیاء کو پہنچا دیا یہ مطلب ان کا بالکل غلط ہے کیونکہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے کلام اور مخلوقات کے کلام میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا کس واسطے کہ آخر بندوں میں بھی قوت کلام کرنے کی اللہ نے ہی پیدا کی ہے پھر انسان اور پیڑ میں اس وقت کا پیدا کرنا برابر ہے حالانکہ مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جگہ جگہ اس سبب سے کافر فرمایا ہے کہ وہ لوگ قرآن کو بشر کا کلام کہتے تھے بلکہ اہل سنت اور تمام سلف کا مذہب قرآن شریف کے باب میں یہ ہے کہ قرآن شریف قدیم اور خاص اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اللہ تعالیٰ سے یہی الفاظ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے سنے اور اللہ کے حکم سے آنحضرت ﷺ کو وہی الفاظ جبرئیل (علیہ السلام) کی معرفت پہنچے اور آنحضرت کی معرفت امت کے لوگوں کو پہنچے اب جو لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں یہ آواز تو التبہ لوگوں کی ہے مگر کلام اللہ کا ہے جس طرح کوئی چوبدار لفظ کسی بادشاہ کا کوئی حکم لوگوں کو سنائے تو آواز چوبدار کی کہلائے گی اور حکم بادشاہ کا کہلاوے گا۔ مسند امام احمد ترمذی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں معتبر سند سے جابر ؓ کی یہ حدیث کہ موسم حج پر آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے یہ فرمایا کہ میں اللہ کا کلام لوگوں کو سناتا ہوں اور سوا اس کے بہت سی آیتیں اور حدیثیں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ قرآن شریف اللہ کا فرمایا ہوا کلام ہے غرض ان گمراہ فرقوں نے یہ جو کہا ہے کہ اللہ کے کلام کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز میں بولنے کی قوت پیدا کردیتا ہے یا یہ کہ قرآن شریف کلام تو حضرت جبرئیل کا ہے لیکن مطلب وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات پاک میں تھا۔ یہ سب غلط مذہب ہیں اور اہل سنت نے بڑی تفصیل سے ان غلط مذہبوں کو نامعتبر ٹھہرایا ہے اس صورت میں معنے آیت کے یہ ہیں کہ مشرکوں پر جو حکم نیا اترتا ہے وہ اس سے منہ پھیرتے ہیں یہ معنے نہیں ہیں کہ اللہ کا کلام نیا اور نو پیدا ہے بلکہ اللہ کا کلام قدیم ہے جن پر اترتا ہے ان کو نیا ہے جس طرح کوئی شخص مثلا دہلی کی جامع مسجد کو آج دیکھے تو اس کے دیکھنے کے حساب سے یہ کہا جاوے گا کہ اس نے ایسی نئی مسجد آج دیکھی ہے کہ عمر بھر کبھی نہیں دیکھی تھی اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ جامع مسجد شاہجہان نے آج نئی بنائی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ ہزار گیارہ سو برس سے اہل سنت اور مخالف فرقوں کی بحث اس مسئلہ میں اور صفات الٰہی کے مسئلوں میں چلی آتی ہے صدہا کتابیں خاص اس مسئلہ کے باب میں تصنیف ہوئیں جعد بن ورہم اس مسئلہ کا ایجاد کرنے والا ہشام بن عبدالملک کی خلافت میں خالد حاکم عراق کے ہاتھ سے اسی مسئلہ کی ایجاد کی تفصیل پر قتل ہوا تفصیل اس مسئلہ کی حدیث کی شرح کی کتابوں میں 1 ؎ ہے مختصر طور پر اس مسئلہ کا ذکر اس خیال سے کردیا گیا ہے کہ تفسیر کشاف 2 ؎ اور اس قسم کی تفسیروں کو دیکھ کر کوئی مسلمان دھوکے میں نہ پڑجاوے صحیح بخاری ومسلم 3 ؎ میں عدی بن حاتم سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن حساب و کتاب کے وقت اللہ تعالیٰ ہر شخص سے بلا واسطہ کلام کرے گا اس صحیح حدیث سے فرقہ معتزلی کا وہ اعتقاد کسی طرح سے صحیح نہیں قرار پاسکتا کہ خود اللہ تعالیٰ کی ذات میں بولنے کی صفت نہیں ہے کیونکہ جب اس حدیث میں واسطہ کو اڑا دیا گیا ہے تو پھر لوح محفوظ یا پیڑ یا اور کسی چیز کا واسطہ کہاں سے آسکتا ہے۔
(2 ؎ دوسری صدی ہجری کا ایک بدعتی اور گمراہ فرقہ جس کا امام احمد بن جنبل (رح) وغیرہ محدثین نے ہر طریقے سے مقا بلکہ کیا (ع ‘ ح۔ )
(1 ؎ مثلا فتح الباری ص 770 ج 6 طبح دہلی۔ )
(2 ؎ محمود جاز اللہ مخشری زمتوفی 528 ھ کی مشہور تفسیر (ع ‘ ح )
( 3 ؎ مشکوٰۃ باب الحساب والقصاص والمیزن فصل اول )
Ayahs 26:6–22(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی طرح دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس سے ان منکرین حشر کے جسم بن کر تیار ہوجاویں گے اور جس طرح ماں کے پیٹ میں پتلہ تیار ہوجانیکے بعد اس میں روح بھونک دی گئی ہے اسی طرح ان جسموں میں روح پھونک دی جاوے گی صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں دوسرے صور سے پہلے کے اس مینہ کا ذکر تفصیل سے ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث سورة انفال میں گزر چکی ہے کہ ابوجہل نے قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے کے طور پر مسخراپن سے یہ کہا تھا کہ اگر یہ قرآن حق ہے تو ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کا مینہ برسے ‘ ابوجہل کی اس شرارت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں ابوجہل کو زیادہ ذلیل ہونا پڑا چناچہ جب یہ مرنے لگا تو عبداللہ بن مشعود ؓ نے اس کے سینہ پر چڑھ کر اس کی داڑھی پکڑ لی اور اس کو برا بھلا کہا جس کا ذکر صحیح بخاری کی انس بن مالک ؓ کی روایتوں میں تفصیل سے ہے ‘ فسأیتھم انباء ما کانوا بہ یستھزؤن ‘ کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے ‘ پھر فرمایا اس میں نشانی ہے پروردگار کی قدرت کی جس نے زمین کو بچھایا اور آسمان کو ایک اونچی چھت بنایا انسان کو اور اس کی ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا باوجود اس کے پھر اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے بلکہ اس کو اور اس کے رسولوں اور کتابوں کو جھٹلاتے ہیں اور اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اور مناہی کی باتوں پر چلتے ہیں بیشک تیرا رب غالب ہے ہر شے پر اور رحیم ہے مخلوق پر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ ماننے پر جلد مؤاخذہ نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے پھر پکڑے گا پکڑنا زبردست اب آگے اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف جانے کا حکم دیا اور پکارا اس کو کوہ طور کے داہنے طرف سے اور کلام کیا اس کے ساتھ اور رسول بنایا اس کو اور چن لیا اس کو اس حکم کی تعمیل کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے جو عذر کیا وہ یہ تھا کہ میں ڈرتا ہوں اس سے کہ فرعونی لوگ مجھ کو جھٹلادیں اور مجھ کو غصہ آجاوے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا اس لیے میرے ساتھ ہارون ( علیہ السلام) کو بھی رسول بنایا جاوے علاوہ اس کے فرعون والوں کا مجھ پر یہ الزام ہے کہ میں نے ان کا ایک آدمی مار ڈالا تھا اس واسطے مجھ کو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھ کو قتل کر ڈالیں یہ عذر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کئے اور ان عذروں کے دور کرنے کی اللہ تعالیٰ سے التجا کی جس کا ذکر سورة طٰہ میں ہے قَالَ رَبِّ اشَرُحْ لِیْ صَدْریْ وَیَسّرِلیِ اَمْرِیْ وَاحْلُلْ عُقْدَۃ مِّنْ لِسَانِیْ یَقَقَھوْا قَوْلِیْ ‘ مطلب یہ ہے کہ یا اللہ میرے دل میں سخت باتوں کی برداشت پیدا کردی جاوے تاکہ میں نبوت کی خدمت کو بردباری سے ادا کرسکوں اور میری زبان میں توتلا پن جو ہے جاتا رہے تاکہ پیغام نبوت پورا ادا ہو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا قَدْاُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یٰمُوْسیٰ جس کا مطلب یہ ہے کہ اے موسیٰ تمہاری التجا قبول ہوگئی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے سینے کی کشادگی کا سوال اس واسطے کیا کہ غصہ نہ آئے اور زیان سے گرہ کا کھلنا اس واسطے چاہا کہ بچپن میں زبان جل گئی تھی اچھی طرح بات نہ کرسکتے تھے اس واسطے آپ کی التجا یہ تھی کہ وہ بات جاتی رہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کے جل جانے کا قصہ سورة طٰہٰ میں گزر چکا اور قبطی کے مار ڈالنے کا خوف حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے دل میں تھا جس کے سبب سے مصر سے نکلے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا مت ڈرو اور جاؤ میری نشانیاں اور میں تمہارے ساتھ سب باتیں سنتا ہوں جس طرح سورة قصص میں فرمایا (سَنَشُدُ عضدک باخیک ونجعل لکما سلطانا فلا یصلون الیکما بایتنا انتما ومن اتبعکما الغلبون) ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم قوت دیں گے تیرے بازو کو تیرے بھائی کے ساتھ اور دیں گے تم کو ایسا غلبہ کہ نہ پہنچ سکیں گے وہ لوگ تم تک ہماری مدد سے بلکہ تم اور جو تمہارے ساتھ ہوں گے غالب رہو گے یہ قبطی کے مار ڈالنے کا قصہ سورة قصص میں آوے گا جس کا حاصل یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک فرعونی اور اسرائیلی کو جھگڑتے ہوئے دیکھا اس جھگڑے میں قصور فرعونی کا تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) مدین کو چلے گئے اور وہاں نکاح کرلیا نکاح کے بعد کچھ عرصہ تک مدین میں رہے اور مدین سے مصر کی واپسی کے وقت کوہ طور پر اللہ تعالیٰ سے وہ باتیں ہوئیں جن کا ذکر ان آیتوں کے شروع میں ہے اور مصر میں آنے کے بعد فرعون سے وہ باتیں ہوئیں جن کا ذکر ان آیتوں کے آخر میں ہے حضرت موسیٰ کی التجا پر جب موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دونوں نبی ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں اے فرعون تو بنی اسرائیل کو اپنی قید سے اور عذاب سے چھوڑ دے وہ اللہ کے ایمان دار بندے ہیں اور ان کو ہمارے ساتھ کردے حضرت موسیٰ خدا کا یہ پیغام پہنچا چکے تو فرعون نے حضرت موسیٰ کی طرف حقارت کی نگاہ سے دیکھ کر کہا تو تو وہی ہے جسے ہم نے پرورش کیا ہمارے گھر میں اپنی عمر کے کئی سال رہا اس کا تو نے یہ بدلا کیا کہ ایک آدمی کو ہم لوگوں میں سے جان سے مار ڈالا تو بڑا ناشکرا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے لفظ کافرین کی تفسیر ناشکر کی ہے اور اس تفسیر کو ابن جریر نے قوی ٹھہرایا ہے فرعون کی ان باتوں کا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں نے یہ کام اس وقت کیا کہ نہ مجھ پر وحی آئی تھی اور نہ نبی رسول تھا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد وقتادہ نے ضلالت کی تفسیر جہالت کے ساتھ کی اور کہا انامن الضالین اس لیے فرمایا کہ عربی زبان میں ضلالت کا لفظ جہالت کی جگہ اکثر بولا جاتا ہے اسی واسطے ابن جریج کا قول ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی قراءت بھی اسی طرح ہے۔ پھر کہا حضرت موسیٰ نے کہ بھاگا میں تم سے جب ڈرا میں تم سے ‘ اب میں اس حالت پر نہیں ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو رسول بنا کر تیرے پاس بھیجا ہے اگر تو میری اطاعت کرے گا تو عذاب سے بچ جائے گا اور مخالفت کرے گا تو تو ہلاک ہوجاوے گا یہ جو تو مجھ پر احسان میری پرورش کا جتاتا ہے یہ بمقابلہ اس ظلم و زیادتی کے جو تو بنی اسرائیل کے ساتھ کر رہا ہے کچھ بھی نہیں کیونکہ تو نے ان کو غلام بنا رکھا ہے اور سخت سخت کام ان سے لیتا ہے فرعون کے گھر میں موسیٰ (علیہ السلام) کے پرورش کا قصہ وہی فرعون کا خواب ہے جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ فرعون نے خواب میں سوائے بنی اسرائیل کے محلہ کے مصر کے تمام گھروں کو آگ میں جلتے ہوئے دیکھا اور اس خواب کی یہ تعبیر قرار پائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جس کے سبب سے فرعونی بادشاہت مٹ جاوے گی فرعون نے اس تعبیر سے بچنے کے لیے بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کرنے کا حکم دیا مگر تقدیر الٰہی کے آگے آدمی کی تدبیر کیا چل سکتی ہے اخیر موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور فرعونیوں کے قتل سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بچا لیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو دودھ پلا کر ایک صندوق میں لٹا دیتی تھیں اور ایک رسی باندھ کر اس صندوق کو دریا نیل میں ڈال دیا کرتی تھیں ایک دن صنددق کی رسی کھل گئی اور وہ صندوق بہتا بہتا فرعون کے گھر پہنچ گیا آسیہ فرعون کی بی بی نے وہ صندوق پانی میں سے نکلوایا اور کھولا تو اس سے ایک لڑکا نکلا ‘ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی الفت آسیہ کے دل میں ڈال دی اس لیے آسیہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے پالنے کی اجازت فرعون سے چاہی اور فرعون نے اجازت دے دی بچہ پلنے میں آسیہ نے ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی گودی میں دے دیا موسیٰ (علیہ السلام) نے آیندہ کی نبوت کے جوش میں فرعون کی ڈاڑھی نوچ ڈالی جس سے فرعون کو اندیشہ ہوا کہ شاید یہ وہی فرعونی بادشاہت کو مٹانے والا لڑکا ہے۔ اس اندیشہ کے سبب سے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا قصد کیا مگر آسیہ نے فرعون کو سمجھایا کہ ناسمجھ بچہ کی بات کا کچھ خیال نہ کرنا چاہیے اخیر میاں بی بی کی قیل وقال کے بعد یہ صلاح ٹھہری کہ ایک رکابی میں آگ کے دھکتے ہوئے انگارے اور دوسری رکابی میں کچھ جواہرات ڈال کر دونوں رکابیاں اس بچہ کے سامنے رکھ دی جاویں اگر یہ بچہ جواہرات کی رکابی میں ہاتھ ڈالے تو جان لینا کہ سمجھ دار ہے اور اگر انگاروں کی رکابی میں ہاتھ ڈال دیوے تو ناسمجھ ہے جس وقت یہ دونوں رکابیاں موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے رکھی گئیں تو موسیٰ (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ جواہرات کی رکابی میں ہاتھ ڈالیں لیکن جبرئیل (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑ کر انگاروں کی رکابی میں ڈال دیا اور ایک انگارہ ان کے منہ میں بھی دے دیا جس سے ان کی زبان جل کر توتلی ہوگئی ‘ ان آیتوں میں ولا ینطلق لسانی کے لفظوں سے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی زبان کے اس توتلی پن کے مطلب کو ادا کیا ہے۔ فرعون کے خواب کا قصہ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زبان جل جانے کا قصہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے مجاہد اور سعید بن جبیر کے قول کے موافق تفسیر سدی اور تفسیر ابن جریر میں معتبر سند سے ہے۔ اس تفسیر میں سفیان ثوری کا یہ قول ایک جگہ گزر چکا ہے کہ تفسیر کے باب میں مجاہد (رح) اور سعید بن جبیر کی روایت کا بڑا اعتبار ہے سفیان بن سعید ثوری (رح) معتبر تبع تابعین میں ہیں حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں یہ آسیہ بنت مزاحم فرعون کی بی بی جنہوں نے فرعون سے موسیٰ (علیہ السلام) کے پالنے کی اجازت لی بنی اسرائیل میں بڑی کامل عورتوں میں سے ہیں چناچہ صحیح بخاری میں ابوموسیٰ اشعری ؓ 1 ؎ سے اور ترمذی میں انس بن مالک ؓ 2 ؎ سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مردوں میں سے تو بہت کامل لوگ گزرے مگر عورتوں میں مریم بنت عمران خدیجہ بنت خو یلد فاطمہ بنت محمد ﷺ اور آسیہ بنت مزاحکم یہ چار عورتیں کامل ہیں ‘ فرعون کو جب آسیہ کی توحید الٰہی پر قائم ہوجانے کا حال معلوم ہوگیا تو اس ظالم نے طرح طرح کے عذاب سے آسیہ کو شہید کیا مگر آسیہ رحمھا اللہ نے ان سب عذابوں کو جھیلا اور مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو نہیں چھوڑا۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب بدء الخلق فصلی اوں ‘ )
(2 ؎ مشکوٰۃ باب مناقت ازواج النبی ‘ فصل دوسری۔ )
Ayahs 26:23–30(23 تا 30) جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اس کی قوم کو ہدایت کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ جس کا قصہ آگے سورة قصص میں آوے گا اور مدین کے سفر سے حضرت موسیٰ مصر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں مل کر اللہ کا حکم پہنچانے کی غرض سے فرعون کے محل کے دروازہ پر گئے دستک دی دروازہ کے دربانوں نے پوچھا تم کون ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا ہم اللہ کے رسول اور قاصد ہیں اور فرعون کی ہدایت کو آئے ہیں فرعون کی قوم میں چار سو برس سے یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ وہ لوگ فرعون کو اپنا خدا جانتے تھے اس لیے دربانوں نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دیوانہ خیال کیا اور فرعون سے جاکر یہی کہا کوئی دو شخص دیوانے دروازے پر آئے ہیں اور اپنے آپ کو خدا کا رسول کہتے ہیں فرعون نے کہا اچھا ان کو بلا لو کوئی گھڑی ان دیوانوں سے مسخراپن کر کے دل بہلاویں گے پھر جب حضرت موسیٰ اور ہارون سے باتیں ہوئیں اور اس وقت فرعون نے تعجب سے یہ کہا کہ عالم کا پروردگار کون ہے جس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ سوا فرعون کے اور کوئی عالم کا پروردگار نہیں چناچہ آگے آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے اس کے قول کی صراحت فرمائی ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے اخیر کو کہا کہ تم اگر میرے سوا کسی اور کو معبود قرار دو گے تو میں تم کو قید کردوں گا غرض مفسر ابن سلف نے اس آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے جو بیان کی گئی سوا اس تفسیر کے مفسرین متاخرین نے تفسیر قرآنی میں علم مطلق کو دخل دے کر یہ جو کہا ہے کہ فرعون کا مطلب اس سوال سے یہ تھا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) فرعون کی خدا کی کچھ ماہیت اور اصلیت بتلاویں یہ قول قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہے قرآن شریف کی چند آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون خدا کے وجود کا منکر تھا اور لوگوں سے صاف کہتا تھا انا ربکم الاعلیٰ ۔ ماعلمت لکم من اللہ غیری پھر جو شخص کسی چیز کے موجود ہونے کا ہی منکر ہو وہ انکار چیز کی ماہیت اور اصلیت کیا پوچھے گا حاصل کلام یہ ہے کہ صحیح طریقہ قرآن کی تفسیر کا یوں ہے کہ اول تو قرآن کی تفسیر خود قرآن سے کی جاوے پھر حدیث صحیح سے پھر آثار صحابہ ؓ سے اس آیت کی تفسیر جب خود قرآن کی دوسری آیتوں میں موجود ہے تو قوائد عقلی کی مداخلت کی کیا ضرورت ہے فرعون کی بادشاہت کچھ دور دور تک نہیں تھی چناچہ ملک مصر میں فرعون کی بادشاہت تھی اور ملک شام عمالقہ کی حکومت اور بادشاہت تھی اسی واسطے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو یوں قائل کیا کہ اتنے چھوٹے سے ملک کی بادشاہت اور حکومت پر تیرا خدائی کا دعویٰ بالکل غلط ہے خدا تو وہ ہے جس کی بادشاہت آسمان اور زمین میں مشرق سے مغرب تک ہے آسمان سے جب وہ چاہتا ہے مینہ برستا ہے نہیں تو قحط پڑجاتا ہے زمین مشرق سے مغرب تک بڑے بڑے بادشاہوں کو جب وہ چاہتا ہے بیمار ڈال دیتا ہے مار ڈالتا ہے تجھ سے پہلے جو تیرے بڑے بوڑھے مصر کے بادشاہ تھے اخیر وہ کہاں گئے اور ان کی بادشاہت تجھ کو کیوں کر مل گئی ‘ ان آنکھوں سے دکھائی دیتی ہوئی چیروں کے سمجھنے اور ان پر یقین لانے کی اگر تجھ کو اور تیرے درباریوں کو عقل ہے تو یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان پر ہر عقلمند دھیان کر کر خدا کو پہچان سکتا ہے ‘ فرعونی لوگ ایک مدت سے فرعون کو خدا کہتے تھے اس لیے فرعون نے پہلے تو اپنے دربار کے فرعونیوں کو الا تسمعون کہہ کر ابھارا جس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ ان درباری فرعونیوں کے دل میں یہ بات جم جاوے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ان لوگوں کے بڑوں کے اور ان کے اعتقاد کے برخلاف ہے اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو باؤلا بتلا کر ان لوگوں کے دل سے موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کو نکال دینا چاہا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ڈرایا کہ ان لوگوں کے ایک مدت کے اعتقاد کے برخلاف میرے سوا تم کسی کو خدا مانو گے تو میں تم کو قید کر دوں گا۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ان باتوں کے جواب میں کوئی بات ایسی نہیں کہی تھی جس سے حق وناحق اچھی طرح کھل جاتا اس واسطے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے بےٹھکانے بکواس کا اتنا جواب دیا کہ اگر حق وناحق کی کھول دینے والی کوئی چیز میں دکھا دوں تو کیا پھر بھی ناانصانی سے تو مجھ کو قید کر دے گا صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں داخل ہونے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب ہر شخص دنیا میں اسی کے موافق کام کرتا ہے اور وہی کام اس کو اچھے نظر آتے ہیں اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو ایسی باتوں سے قائل کیا تھا جو آنکھوں سے دکھائی دیتے ہوئے موٹی موٹی باتیں تھیں مگر علم الٰہی میں فرعون اور اس کے ساتھی دوزخ کے قابل ٹھہر چکے تھے اس لیے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ان سچی باتوں کو بےٹھکانے بکواس سے اڑا دیا اور اس کے ساتھی بھی اس کے بہکانے بہک گئے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر فصل اول )
Ayahs 26:31–35(31‘ 35) فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا وہ حق اور ناحق کی کھول دینے والی کیا چیز ہے اسے لا اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو ڈال دیا تو وہ ایک ناگ ہوگیا جس کے پاؤں اور بڑا سا منہ اور خوفناک صورت ‘ اور نکالا موسیٰ (علیہ السلام) نے ہاتھ اپنا گریبان میں سے تو ناگہاں وہ ایک سفید اس طرح چمکنے والا تھا جس طرح سورج کا ٹکڑا یہ دوسرا معجزہ دکھایا تو فرعون بدبحت نے اس کے جھٹلانے کی طرف جلدی کر کے کہا یہ تو ایسا جادوگر ہے جو اور جادوگروں سے زیادہ علم والا ہے یہ بات فرعون نے کہہ کر ان کو بہکا دیا اور یہ سوجھا دیا کہ موسیٰ کا یہ کام جادو کی قسم سے ہے معجزہ نہیں ہے پھر فرعون نے ان سرداروں کو موسیٰ ( علیہ السلام) کی مخالفت پر آمادہ کیا اور کہا کہ یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے اپنے جادو کے سبب سے نکال دے اب تم مجھ کو صلاح دو کہ اس کے ساتھ میں کیا معاملہ کروں۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم بیہقی اور مصنف ابن ابی شیبہ میں ابوہریرہ ؓ اور سلمان ؓ فارسی سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب فرعون کو اپنی بی بی آسیہ کا شریعت موسوی کی طرف مائل ہوجانے کا حال معلوم ہوگیا تو فرعون نے چار میخیں گاڑ کر آسیہ کے ہاتھ پاؤں ان میخوں میں باندھ دیے اور طرح طرح کی تکلیف دے کر آسیہ کو ہلاک کر ڈالا ان روایتوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ فرعون نے اپنی ظالمانہ عادت کے سبب سے اپنی بی بی کے ہلاک کرنے کے ارادہ میں اپنے دربار کے کسی سردار سے مشورہ نہیں لیا بلکہ اپنی رائے سے جو کچھ کرنا تھا وہ کر گزرا اسی طرح جادوگروں کو جو اس نے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی پر چڑھانے کا حکم سنایا اس میں بھی کسی سے مشورہ نہیں لیا لیکن حضرت موسیٰ کے عصا اور یدبیضا کے معجزہ کو دیکھ کر آگرچہ اس نے اپنے دربار کے سرداروں کو بہکایا کہ یہ جادو ہے مدد غیبی کی اس میں کوئی بات نہیں ہے مگر دل میں وہ سمجھ گیا کہ جادو کی چیزوں کا دل پر ایسا خوف نہیں ہوتا جیسا خوف اس لکڑی کے سانپ سے ہوا تعجب نہیں کہ جادو سے بڑھ کر اس میں کوئی بھید ہو اس لیے بغیر مشورہ دربار کے سرداروں کے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کسی بد سلوکی سے پیش آنے کی اس کی جرأت نہ ہوئی پہلے فرعون نے دربار کے موجود سرداروں سے مشورہ لیا اس لیے یہاں پہلے کی حالت کا ذکر ہے اور سورة اعراف میں دوسری حالت کا اس واسطے دونوں سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔