26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 26:105–122

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

تو قوم نوح نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس کام کا تم سے صلہ نہیں مانگتا میرا صلہ تو رب العالمین ہی پر ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

وہ بولے کہ کیا ہم تم کو مان لیں اور تمہارے پیرو تو ذلیل لوگ ہوئے ہیں

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

(نوح نے) کہا مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب (اعمال) میرے پروردگار کے ذمے ہے کاش تم سمجھو

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں مومنوں کو نکال دینے والا نہیں ہوں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو صرف کھول کھول کر نصیحت کرنے والا ہوں

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ نوح اگر تم باز نہ آؤ گے تو سنگسار کر دئیے جاؤ گے

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوح نے کہا کہ پروردگار میری قوم نے تو مجھے جھٹلا دیا

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

سو تو میرے اور انکے درمیان ایک کھلا فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں ان کو بچا لے

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

پس ہم نے ان کو اور جو ان کے ساتھ بڑھی ہوئی کشتی میں سوار تھے ان کو بچا لیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

پھر اس کے بعد باقی لوگوں کو ڈبو دیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

(105 تا 122) اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منکروں کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں عذاب دوزخ کا انکار کرتے ہیں اور میدان حشر میں دوزخ کی حالت آنکھوں کے سامنے دیکھ کر دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے کی آرزو کریں گے اب ان آیتوں میں سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے شروع فرما کر چند رکوع میں کئی نبیوں کا تذکرہ فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ جب سے شریعت کا حکم روئے زمین پر شروع ہوا ہے اسی وقت سے دنیا میں ایسے لوگ بھی چلے آتے ہیں کہ شریعت کے جن حکموں کو وہ اپنی مرضی کے خلاف پاتے ہیں ان حکموں کو نہیں مانتے شروع نصیحت نہیں کرتے ہیں اس لیے ہم کو اللہ کا رسول مانو اور ہماری نصیحت پر چلو سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ قریش نے بھی آنحضرت ﷺ سے یہ کہا تھا کہ تمہارے پاس ہر وقت کمینے اور کم ظرف لوگ جمع رہتے ہیں اس لیے ہم اشراف لوگ تمہاری مجلس میں بیٹھنے اور تمہاری بات سننے کی اپنی ہتک عزت سمجھتے ہیں وہی بات قوم نوح ( علیہ السلام) نے حضرت نوح ( علیہ السلام) سے ان آیتوں میں کہی ہے اور جس طرح قریش نے آنحضرت ﷺ تک انبیاء کا ایک سلسلہ کیا جاوے تو ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی عنایت لوگوں پر بھی رہی ہے کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے احکام شریعت نازل فرمائے ان احکام کے سمجھانے کے لیے رسولوں کو بھیجا اور باوجود اللہ کی اس عنایت کے ہمیشہ سے مخالف لوگوں کا وہی نافرمانی کا ایک سلسلہ رہا اور انجام ان کی نافرمانی کا دنیا میں تو یہ ہوا کہ طرح طرح کے عذابوں سے وہ ہلاک ہوئے اور عاقبت میں ایسے نافرمان لوگوں کا جو کچھ انجام ہوگا اس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزر چکا ہے کہ کبھی اپنے گمراہی اور نافرمانی پر افسوس کریں گے کبھی اپنے بہکانے والوں کو برا کہیں گے کبھی دنیا میں دوبارہ پیدا ہونے اور نیک کام کرنے کی تمنا کریں گے اور کبھی ان انبیاء کی شفاعت کی آرزو کریں گے جن کو دنیا میں تکلیفیں دیتے تھے یہ تو ان لوگوں کا حال ہوا جو رسول ﷺ کے زمانہ حیات میں رسول ﷺ وقت کی مخالفت کرتے تھے اب بھی امت میں سے جو لوگ رسول ﷺ وقت کی کسی طرح کی مخالفت کریں گے ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ان سے پہلے نافرمان لوگوں کا ہوچکا اس باب میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ جس شخص کے دل میں اللہ کی کچھ بھی محبت ہوگی وہ اللہ کے رسول ﷺ کی فرمانبرداری ضرور کرے گا اور صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو حدیثیں 1 ؎ ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں نے آنحضرت ﷺ کے سوتے میں آن کر جنت کے ایک کھانے کی چنے ہوئے دسترخوان کی مثال دے کر امت کے لوگوں کو اچھی طرح سمجھا دیا ہے کہ بغیر پوری فرما نبرداری رسول وقت کسی شخص کو جنت نصیب نہیں ہوسکتی حق تعالیٰ کل مسلمانوں کو رسول وقت کی فرمانبرداری کا شوق عطا فرماوے تاکہ نافرمان لوگوں کی طرح ایک دفعہ دنیا سے اٹھ جانے کے بعد پھر دوبارہ دنیا میں پیدا ہونے اور رسول وقت کی فرمانبرداری کی حسرت دل میں باقی نہ رہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق اَرْذَلُوْنَ کے معنی اہل پیشہ لوگوں کے ہیں نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی اوپر کی بات کا یہ جواب دیا کہ مجھ کو ان غریب لوگوں کے پیشہ سے کچھ سروکار نہیں میں تو پیشہ ور اور شریف ہر ایک کو خالص اللہ تعالیٰ کے عبادت کی نصیحت کرتا ہوں اور ظاہر میں جو شخص میری نصیحت پر عمل کرے اس کو میں نیک سمجھتا ہوں کسی کے دل کا حال یا پیشہ کا حال مجھ کو معلوم نہیں یہ غیب کا حال اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے اور ہر شخص کی نیت کا معاملہ اسی کو خوب روشن ہے اگر تم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔ تو پھر تمہارا کچھ اعتراض باقی نہیں رہتا اور تم لوگوں کے کہنے سے میں ان غریب ایمانداروں کو اپنی مجلس سے نکال نہیں سکتا قوم کے لوگوں نے حضرت نوح ( علیہ السلام) کی ان باتوں کا یہ جواب دیا کہ اے نوح ( علیہ السلام) اگر تم اپنی اس طرح کی باتوں سے باز نہ آؤگے تو ہم تم کی پتھروں سے کچل کر مار ڈالیں گے آخر مجبور ہو کر نوح (علیہ السلام) نے بد دعا کی سوائے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ان کے فرمانبردار لوگوں کے ساری قوم طوفان میں غرق ہوگئی اسی کو فرمایا کہ اس قصہ میں رسولوں کی مخالفت کرنے والوں کے لیے اگرچہ بڑی عبرت ہے مگر جو لوگ علم الٰہی میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں وہ راہ راست پر نہیں آنے والے اور ایسے لوگوں کی سرکشی اگرچہ ہر وقت قابل سزا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے جب تک ایسے لوگوں کو مہلت دے رکھی ہے اس وقت تک وہ سرکشی کرلیویں پھر جب کہ اللہ تعالیٰ ان کو پکڑے گا تو اس کی پکڑ بہت زبردست ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب ان کو پکڑتا ہے تو بالکل برباد کردیتا ہے۔ قوم نوح ( علیہ السلام) کے انجام اور فتح مکہ تک کے نافرمان اہل مکہ کے انجام کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ طوفان کا پورا قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے اگرچہ ظاہر میں ہر ایک قوم نے فقط اپنے رسول کو جھٹلایا ہے۔ لیکن صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی 1 ؎ ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا نماز روزہ اور حلال و حرام کے احکام ہر ایک نبی صاحب شریعت کے زمانہ میں بدلتے رہے ہیں مگر اللہ کی وحدانیت جو اصل دین ہے اس سے کوئی شریعت خالی نہیں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس قوم نے ایک شریعت اور ایک رسول کو جھٹلایا تو اس سے کوئی شریعت اور کوئی رسول خالی نہیں ہے اسی مطلب کے ادا کرنے کے لیے ان قصوں میں مرسلین جمع کے طور پر فرما کر یہ جتلایا گیا ہے کہ ان قوموں سے ہر ایک قوم نے فقط اپنے رسول کو جھٹلا کر سب صاحب شریعت رسولوں کو جھٹلایا مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم تفسیر ابن ابی حاتم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی معتبر روایت سورة ہود میں گزر چکی ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) نبی ہوئے اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس اپنی قوم کو وہ نصیحت کرتے رہے جس نصیحت کے اثر سے اسی 80 آدمی کے قریب راہ راست پر آئے اس کے بعد طوفان آیا اور ساٹھ برس طوفان کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) پھر زندہ رہے اس حساب سے نوح (علیہ السلام) کی عمر ہزار برس سے اونچی ہوئی۔ پچھلی کسی تاریخی حالت سے آئندہ کے کسی معاملہ کو ثابت کرنا ثبوت دعا کے لیے ایک عمدہ طریقہ ہے اسی مطلب سے قرآن شریعت میں جگہ جگہ پچھلے قصے بیان فرمائے گئے ہیں تاکہ قریش کو اپنے آئندہ کے انجام سے خوف ہو۔ (1 ؎ مشکوٰۃ باب الا عتصام بالکتاب والسنتہ بروایت جابر ؓ اس مضمون کی روایت ہے۔ ) (1 ؎ تفسیر ہذاص 111 ج 3۔ )
Ayahs 26:123–140

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

عاد نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جب ان سے انکے بھائی ہود نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

بھلا تم جو ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہو

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

محل بناتے ہو شاید تم ہمیشہ رہو گے

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب تم (کسی کو) پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس سے جس نے تم کو ان چیزوں میں مدد دی جن کو تم جانتے ہو ڈرو

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہیں چارپایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

اس نے تمہیں چار پایوں اور بیٹوں سے مدد دی اور باغوں اور چشموں سے

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب کا خوف ہے

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ہمیں خواہ نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

یہ تو اگلوں ہی کے طریق ہیں

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر کوئی عذاب نہیں آئے گا

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

تو انہوں نے ہود کو جھٹلایا تو ہم نے انکو ہلاک کر ڈالا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب اور مہربان ہے

(123 تا 140) اوپر کے رکوع میں حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبی ہود گزرے ہیں اس رکوع میں ان کا اور ان کی امت کا ذکر ہے شروع میں یہ ہود (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی جو نوح (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا پڑپوتا ایک شخص عاد بن ارم تھا اس کی اولاد کو حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کہتے ہیں تفسیر ثعلبی وغیرہ میں باغ ارم کی حکایت جو لکھی ہے کہ شداد بن عاد کا ایک باغ اور عمارت یمن کے ملک میں ہے اللہ کے حکم سے کبھی وہ باغ یمن کے ملک میں رہتا ہے کبھی عراق کے ملک میں آجاتا ہے سونے چاندی کی اینٹوں سے وہ عمارت بنی ہوئی ہے معاویہ ؓ کی خلافت میں لوگوں نے اس باغ اور عمارت کو دیکھا ہے یہ سب باتیں صحیح تفسیروں اور صحیح تاریخوں کی کتابوں میں بالکل نہیں 1 ؎ ہیں یہ حضرت ہود ( علیہ السلام) کی امت کے لوگ بڑے شہ زور اور صاحب قوت تھے تفسیر ابن حاتم میں ایک حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس قوم عاد میں ایک شخص اتنا بڑا پتھر پہاڑوں سے لڑھکا دیا کرتا تھا جس سے اور قوم کے صدہا لوگ ہلاک ہوجایا کرتے تھے اور قرآن شریف میں بھی کئی جگہ اس قوم کے شہ زور ہونے کا ذکر ہے اس قوم کے لوگوں کو نمود کی عمارتیں بنانے کا بڑا شوق تھا انہیں بےفائدہ عمارتوں کے بنانے سے حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو روکا ہے حضرت ابو درداء صحابی ؓ جب دمشق کے ملک 3 ؎ میں تھے انہوں نے دیکھا کہ دمشق کے مسلمان لوگ باغ اور مکان بنانے کی بڑی حرص کرتے ہیں اس پر انہوں نے سب لوگوں کو دمشق کی جامع مسجد میں جمع کر کے ایک خطبہ پڑھا تھا جس کا حاصل یہ ہے کہ اے لوگو تم قوم عاد نے اتنا کچھ بنا کر پھر آخر کو یہیں چھوڑ دیا ان عمارتوں کو کوئی دو کوڑی کو بھی نہیں پوچھتا ابوداؤد کی انس بن مالک کی معتبر روایت 4 ؎ سے اوپر گزر چکا ہے کہ ایک صحابی ؓ نے ایک پختہ برج بنایا تھا جب وہ برج آپ کی نظر پڑا تو آپ نے ان کو صحابی ؓ سے بات نہ کی اور منہ پھیرلیا آخر ان صحابی نے وہ برج ڈھا ڈالا اور آپ نے یہ فرمایا کہ ضرورت سے زیادہ دنیا میں عمارت کا چھوڑ جانا بڑی وہاں کی چیز ہے۔ مسند امام احمد ‘ ترمذی اور ابن ماجہ کی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی معتبر 5 ؎ روایت سے یہ بھی گزر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک بورئیے پر سوئے تھے اس بوریئے کا نشان آپ کے جسم مبارک پر پڑگیا حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ مجھ کو خبر ہوتی تو حضرت میں آپ کے لیے کچھ بچھونا پچھا دیتا آپ ﷺ نے فرمایا مجھ کو دنیا میں زیادہ پھنسنا منظور نہیں ہے دنیا میں فقط اتنا آرام لینا چاہتا ہوں جس طرح ایک مسافر ایک پیڑ کے نیچے ٹھہرا اور پھر اس نے اپنی راہ لی صحیح مسلم کی حضرت جابر ؓ کی حدیث 1 ؎ جس میں مری ہوئی بھیڑ بکری کی مثال دنیا کی حقارت کے باب میں آپ ﷺ نے فرمائی ہے اور مستورد بن شداد ؓ کی صحیح مسلم کی روایت جس میں دریا میں انگلی ڈبو کر نکالنے کی مثال دنیا کے حق میں فرمائی ہے یہ حدیثیں اور اس قسم کی حدیثیں اوپر گذر چکی ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا ایک چند روزہ عارضی مقام ہے اس میں مضبوط عمارتیں یا باغ لگا کر جو کوئی دنیا پر زیادہ گرویدہ ہوتا ہے تو یہ کام اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کو ہرگز پسند نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق ریع کے معنے اونچی جگہ کے ہیں اسی مطلب کے ادا کرنے کے لیے شاہ صاحب نے ریع کا ترجمہ ٹیلے کے لفظ سے کیا ہے قوم ہود کے قصہ کا حاصل یہ ہے کہ کہ جب اپنی امت کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرح طرح کی نعمتیں یاد دلا کر بےفائدہ عمارتیں بنانے سے اور آپس کے ظلم و زیادتی سے ہود (علیہ السلام) نے منع کیا تو امت کے لوگوں نے سرکشی سے یہ جواب دیا کہ اے ہود ( علیہ السلام) تم ہم کو نصیحت نہ کیا کرو ہم تمہاری ایک نہ سنیں گے اور پچھلے لوگوں کی عادت کے موافق عیش و عشرت سے اپنی زندگی بسر کریں گے اور جس عذاب سے تم ہر وقت ہم کو ڈراتے ہو اس سے ہم نہیں ڈرتے اس کے بعد سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ ایک سخت آندھی کے عذاب سے یہ قوم ہلاک ہوئی اسی کو فرمایا کہ ایسی شہ زور قوم کا ہوا جیسی چیز سے ہلاک ہوجانا اللہ کی قدرت کی ایک بڑی نشانی ہے لیکن علم الٰہی میں جو لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں وہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں سے بالکل غافل ہیں جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے یہ غافل لوگ غفلت سے اپنی زندگی بسر کرتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو پکڑتا ہے تو پھر برباد کردیتا ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی حدیث اوپر گذر چکی ہے وہی حدیث قوم ہود کی مہلت اور ہلاکت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل وہی ہے جو قوم نوح ( علیہ السلام) کے قصہ میں بیان کیا گیا ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 342 ج 3 تفصیل کے لیے دیکھئے ایضا تفسیر ابن کثیر ص 508 ج 4 تفسیر سورة الفجر 2 ؎ ) (3 ؎ تفسیر ابن کثیر (بحوالہ تفسیر ابن ابی حاتم) ص 41 3 ج 3۔ ) (4 ؎ بحوالہ مشکوۃ کتاب الرقاق فیصل دوسری۔ ) (5 ؎ ایضا۔ ) (1 ؎ ایضا فصل اول۔ )