26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 26:36–48

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اسکے اور اسکے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجئے اور شہروں میں نقیب بھیج دیجئے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ سب ماہر جادوگروں (کو جمع کر کے) آپ کے پاس لے آئیں

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

تو جادوگر ایک مقرر دن کی میعاد پر جمع ہوگئے

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکٹھے ہوجانا چاہیے

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم غالب رہے تو ہمیں صلہ بھی عطا ہوگا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں اور تم مقربوں میں بھی داخل کرلیے جاؤ گے

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو ڈالو

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالی اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں نگلنے لگی

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

تب جادوگر سجدے میں گرپڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے

36 تا 49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان کر کے فوعون کو باتوں سے قائل کیا اور عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھا کر بھی اس کو قائل کیا تو فرعون نے اپنے سرداروں کو ابھارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے یہ تمہاری بادشاہت تمہارا ملک چھین لیویں ان کے جادو سے بچنے کی تمہاری کیا صلاح اور مصلحت ہے بیان کرو انہوں نے فرعون کی عملداری کی سب بستیوں کے بڑے بڑے جادوگروں کو بلوانے کی صلاح دی اور وہ جادوگر آئے اور مقابلہ ہو کر آخر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب رہے یہاں بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجاوے گا کہ ان جادوگروں میں بادشاہ نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جو ان دونوں جادوگروں کو زندہ رکھنا بادشاہ نے مناسب نہیں خیال کیا اس لیے ان دونوں جادوگروں کا یہاں کے بڑے بڑے جادوگروں سے مقابلہ کرانا اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے یہ قول کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے یہ قول قرآن کے مضمون کے مخالف ہے کیونکہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے جانے سے اپنا یہ ڈر ظاہر کیا کہ وہ اس کو دیکھے گا تو قبطی کے خون کے معاوضہ میں قتل کر ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ بھی نہ آنے دیا ہوگا ‘ ان آیتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگروں کے مقابلہ کا جو قصہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ فرعون کے نقیب بڑے بڑے جادوگروں کو جگہ جگہ سے بلا کر مصر میں لائے۔ تفسیر مقاتل اور تفسیر سدی میں روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جادوگر اسی کے قریب تھے اور کئی سو اونٹ جادو کے اثر کی لکڑیوں اور رسیوں سے لدے ہوئے ان کے ساتھ تھے ‘ پہلے ان جادوگروں نے فرعون سے پوچھا کہ اگر ہم غالب آویں گے تو ہم کو کچھ انعام ملے گا فرعون نے جواب دیا اگر تم غالب آئے تو تمہیں نقد انعام بھی ملے گا اور تم فرعونی دربار کے مصاحب مقرر ہوجاؤگے غرض فرعون مصر کی رعایا کے بڑی بھیڑ جادوگر اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) یہ سب میدان میں آئے اور جادوگروں نے فرعون کے اقبال کو اپنا حمایتی ٹھہرا کر اپنی وہ لکڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈالیں سب طرح طرح کے سانپ ہوگئے جن سے تمام میدان بھر گیا موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی عصا ڈالا جب وہ بہت بڑا سانپ بن کر جادوگروں کے سب سانپوں کو نگل گیا۔ جادوگر تو اپنے فن کے استاد تھے فورا سمجھ گئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا کارخانہ جادو کا نہیں ہے کیونکہ ہم سے بڑا جادوگر یہی کرسکتا تھا کہ ہمارے جادو کے اٹر کو مٹا دیتا جس سے اصل لکڑیاں اور رسیاں باقی رہ جاتیں جب موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا کا سانپ اصل لکڑیوں اور رسیوں کو بھی نگل گیا تو یہ جادو نہیں بلکہ تائید آسمانی ہے اس بھید کو سمجھ کر سب جادوگر شریعت موسوی کے تابع ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مان کر سجدہ میں گر پڑے یہ حال دیکھ کر فرعون نے جادوگروں کو دھمکایا کہ بغیر میرے حکم کے تم نے جو یہ کام کیا ہے اس کی سزا جو کچھ ہوگی اس کا حال تمہیں معلوم ہوجائے گا اور یہ بھی کہا کہ موسیٰ گویا تمہارے استاد ہیں جن کے جادو کو تم نے اپنے جادو سے بڑا جان لیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی حدیث جو اوپر گذر چکی 1 ؎ ہے اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب جادوگر جو اس فن کے استاد ہو کر اس بات کے قائل ہوگئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا کارخانہ جادو کا نہیں ہے بلکہ یہ کارخانہ تائید آسمانی ہے تو فرعون اور اس کے ساتھیوں کو بھی اسی طرح قائل ہوجانا چاہیے تھا لیکن یہ لوگ علم الٰہی میں دوزخی قرار پاچکے تھے اس لیے اتنی ظاہر بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی اس قصہ سے جادو اور معجزہ کا یہ فرق اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جادو کے ہزاروں سانپ معجزے کے ایک سانپ کے مقابلے میں بالکل پست ہوگئے اس قصے سے قریش کو یہ جتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے اپنے رسولوں کی اس طرح مدد کر کے مخالفوں پر ان کو یوں غلبہ دیتا ہے “ (1 ؎ یعنی جلد ہذا کے صفحہ 18 پر )
Ayahs 26:49–51

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے کہا کچھ نقصان (کہ بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں

(49 تا 51) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ دیکھ کر جب جادوگر لوگ سجدہ میں گر پڑے اور ایمان لے آئے اس وقت فرعون نے ان کو یوں ڈرایا تھا کہ تمہارے اس جرم کی جو سزا تجویز کی جائے گی وہ تم کو معلوم ہوجائے گی اب وہ سزا کا حکم سنایا اور کہا کہ پہلے میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف پیر کاٹوں گا اور پھر تم کو سولی پر چڑھاؤں گا ‘ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ خاص ایک نئی سزا تھی جو فرعون نے نکالی تھی کہ جس پر خفا ہوتا تھا اس کا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹا کرتا تھا مفسرین سلف کا اس باب میں اختلاف ہے کہ فرعون نے جس سزا کا ڈراوا جادوگروں کو دیا تھا وہ سزا فرعون ان کو دے بھی سکا یا نہیں اگرچہ تفسیر ابن ابی حاتم میں عکرمہ کی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے اپنے وعدہ کے موافق ان جادوگروں کو سزا دی کیونکہ اسی روایت میں یہ ہے کہ صبح کو وہ جادوگر تھے اور شام کو شہید ہوئے اب یہ ظاہر بات ہے کہ فرعون اگر ان کو سزا نہ دیتا تو شام کو وہ شہید کیونکر ہوجاتے لیکن سورة قصص میں آوے گا ‘ انتماو من اتبعکما الغالبون جس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے ساتھیوں پر فرعون کا کسی طرح غلبہ نہیں ہوسکا اس سے یہی قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ جادوگر شریعت موسوی کے تابع اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے ساتھی بن گئے تو اس کے بعد فرعون اپنی دھمکی پر کچھ عمل نہیں کرسکا فرعون کی دھمکی کا جواب جادوگروں نے جو دیا اس کا حاصل یہ ہے کہ جب اس میدان بھر کی بھیڑ میں سے ہم سب سے اول اللہ کی وحدانیت کے قائل ہو کر اللہ تعالیٰ کی ذات سے یہ امید ہے کہ نادانی سے اتنے دنوں تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور قصور واری میں جو ہم نے عمر گزاری ہے اس وحدانیت کے طفیل سے وہ ہماری پچھلی تقصیریں معاف ہوجاویں گی صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت حضرت علی ؓ کی حدیث جو اوپر گزر چکی ہے اس کو ان آیتوں کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ جادوگر لوگ علم الٰہی میں جنتی قرار پاچکے تھے اس لیے آخری عمر میں ان کو ویسے ہی کام بھی اچھے نظر آئے۔
Ayahs 26:52–68

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعون کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

تو فرعونیوں نے شہروں میں نقیب روانہ کئے

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

(اور کہا) کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہے

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سب با سازوسامان ہیں

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور نفیس مکانات سے

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

(ان کے ساتھ ہم نے) اس طرح (کیا) اور ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو کردیا

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

تو انہوں نے سورج نکلتے ہی (یعنی صبح کو) انکا تعاقب کیا

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

(موسی نے) کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے راستہ بتائے گا

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور دوسروں کو وہاں ہم نے قریب کردیا

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور موسیٰ اور ان کے سب ساتھ والوں کو تو بچا لیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر دوسروں کو ڈبو دیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس (قصے) میں نشانی ہے لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا صندوق ساتھ لے جائیں اس واسطے اس رات کو موسیٰ (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی قبر کا حال دریافت کیا تو قوم بنی اسرائیل میں سے ایک بڑھیا عورت نے قبر بتلائی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کا صندوق 2 ؎ اٹھا لیا اور اپنے ساتھ رکھا اس باب میں ایک حدیث بھی ہے جس کو ابن ابی حاتم نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ پیغمبر ﷺ ایک گنوار کے ہاں مہمان ہوئے تو اس نے آپ کی عزت کی حضرت ﷺ نے فرمایا ہمارے پاس آتے جاتے رہا کرو جب وہ پھر آیا تو آنحضرت ﷺ نے ارشاد کیا تجھ کو کس شے کی حاجت ہے اس نے عرض کیا کہ ایک اونٹنی کی مع پالان کے مجھ کو ضرورت ہے اور ایک بکری کی جس کا دودھ میرے گھر کے لوگ پیا کریں آپ نے فرمایا تجھ سے اس قدر نہ ہوسکا کہ تو جنت کی خواہش میں بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا عورت کی طرح ہوتا اصحاب نے عرض کیا وہ بڑھیا عورت کیسی تھی آپ نے فرمایا جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے مصر سے بنی اسرائیل کو باہر لے جانا چاہا تو راستہ بھول گئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ کیا ہوا تو بنی اسرائیل میں جو عالم تھے انہوں نے کہا کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے ہم سے عہد کیا تھا کہ ہم مصر سے باہر نہ نکلیں گے جب تک ان کے تابوت کو ہمراہ اپنے نہ اٹھاویں گے اس پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا تم میں سے کسی کو یوسف (علیہ السلام) کی قبر معلوم ہے انہوں نے کہا ان کی قبر کو کوئی نہیں جانتا سوا ایک بڑھیا عورت کے تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس بڑھیا سے کہلا بھیجا کہ یوسف (علیہ السلام) کی قبر بتلاؤ وہ بولی قسم خدا کی میں نہ بتلاؤں گی جب تک مجھ کو میرا مدعا نہ حاصل ہوگا موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا تیرا کیا مدعا ہے اس نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ جنت میں رہوں اس پر موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم خدا ہوا کہ دیدے اس عورت کو اس عورت کا مدعا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ بڑھیا گئی ان کے ہمراہ ایک گڑھے کی طرف جہاں پانی تھا اس نے کہا اس پانی کو ہٹاؤ جب وہ پانی سنچا گیا تو بڑھیا نے کہا اب کھودو جب کھودا تو یوسف (علیہ السلام) کی قبر نکلی اور موسیٰ (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کے تابوت کو اپنے ساتھ لیا اور اس کے بعد پھر راستہ دکھائی دینے لگا اس حدیث کو حافظ ابن کثیر (رح) نے موقوف 1 ؎ کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ابو موسیٰ اشعری ؓ کا قول ہے حدیث نبوی نہیں ہے مگر حاکم 2 ؎ نے اس حدیث کو صحیح اور حدیث نبوی قرار دیا ہے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضبناک ہو کر فرعون نے ساتھ لیا اور بنی اسرائیل کے پکڑنے کو چلا اسی کو فرمایا نکالا ہم نے ان کو باغ اور چشموں اور گھروں سے طرف جہنم کے کیونکہ یہ بات اسی طرح مقدر تھی اور وارث بنایا ہم نے ان مکانوں کا اور باغوں کا اور نہروں کا بنی اسرئیل کو اکثر مفسروں 3 ؎ کا قول ہے کہ شرذمہ جس کو فرعون نے تھوڑا ٹھہرایا چھ لاکھ آدمی تھے اور فرعون کے لشکر میں سولہ لاکھ آدمی تھے پھر فرعون اور اس کے لشکر کے لوگ سورج کے نکلتے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم بنی اسرائیل کے پیچھے پڑے جب دونوں فوجیں مقابل ہوئیں تو بنی اسرائیل گھبرا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہم کو تو فوج نے آپکڑا کس لیے کہ دریا قلزم ہمارے آگے آگیا اور ہمارے راستہ میں حائل ہوگیا اب ہم آگے نہیں جاسکتے اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ڈرو نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھ کو راستہ بتاوے گا اس کا وعدہ خلاف نہیں ہوتا غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اپنے رسول کو سچا کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ مار لاٹھی اپنی دریا میں عصا کے مارتے ہی دریا میں بارہ راستے ہوگئے قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات دریا کو حکم کیا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تجھ کو اپنی لاٹھی ماریں تو تو اس کا حکم سن اور فرما نبرداری کر اس لیے دریا نے اس انتظار میں وہ رات بیقراری سے بسر کی کیونکہ دریا کو یہ خبر نہ تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کس طرف عصا ماریں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اس واسطے دریا میں بارہ راستے ہوگئے سدی کا قول ہے کہ ان پانی کا دیواروں میں جھروکے ہوگئے جن میں سے ایک ایک کو دیکھتا تھا حضرت ابن عباس ؓ قتادہ اور سدی نے وَاَزلَفنَا ثَمَّ اْلٓاخَرِیْنَ کی تفسیر میں کہا ہے کہ ہم نے نزدیک کیا دریا کے فرعون اور اس کے لشکر کو اب موسیٰ (علیہ السلام) کے لشکر کو بچا دینے اور فرعون کے لشکر کو غرق کردینے کا ذکر فرما کر پھر فرمایا البتہ یہ اللہ کی قدرت کی نشانی ہے لیکن اکثر لوگ اس سے بیخبر ہیں اور بیشک تیرا رب وہی ہے زبردست رحم کرنے والا صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے 1 ؎، جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہود کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا اور دریافت سے معلوم ہوا کہ اسی دن بنی اسرائیل کو فرعون کی قید سے نجات ہوئی فرعون معہ اپنے لشکر کے دریائے قلزم میں غرق ہو کر ہلاک ہوا ‘ اس کے شکریہ میں موسیٰ (علیہ السلام) نے روزہ رکھا تھا اس لیے یہود بھی آج کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ یہ قصہ سن کر آنحضرت ﷺ نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ظالم لوگوں کو اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے اپنی رحمت سے مہلت دیتا ہے پھر جب وہ لوگ مہلت پر بھی اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے تو ان کی ایسی گرفت فرماتا ہے اور ان کو بالکل ہلاک کردیتا ہے ‘ ان حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل ہے کہ فرعون کو اللہ تعالیٰ نے ایک عرصہ تک مہلت دی اور جب وہ مہلت کے زمانہ میں اپنی سرکشی سے باز نہ آیا تو عاشورہ کے دن اس کو مع لشکر کے دریائے قلزم میں ڈبو کر ہلاک کردیا۔ اس قصہ میں قریش کو رسول وقت کی مخالفت سے ڈرایا گیا ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 335 ج 3۔ ) (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 86 ج 5 میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی ہڈیاں چادر میں ڈال کر اٹھائی تھیں فَجََعَلَ عِظَامَ یُوْسَف فی کسآمذ الخ) (ع ‘ ح ) (1 ؎ حافظ ابن کثیر (رح) کے الفاظ یہ ہیں ہذا حدیث غریب جدا والا قرب انہ موقوف یعنی مرفوع بہت ہی عجیب سی روایت ہے۔ (ع ‘ ح ) (2 ؎ مستدرک حاکم ص 404 ج 2۔ ) (3 ؎ اس سلسلے میں تفسیر ابن کثیر (ص 335 ج 3) اور الدر المنثور (ص 87 ج 5) قابل مطالعہ ہیں (ع ‘ ح ) (1 ؎ مشکوٰۃ باب صیام التطوع فصل تیسری )