26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 26:215–224

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو مومن تمہارے پیرو ہوگئے ہیں ان سے بتواضع پیش آؤ

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر لوگ تمہاری نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے اعمال سے بےتعلق ہوں

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور (خدائے) غالب اور مہربان پر بھروسہ رکھو

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو تم کو جب تم (تہجد) کے وقت اٹھتے ہو دیکھتا ہے

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

وہ بیشک سننے والا اور جاننے والا ہے

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

(اچھا) میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں ؟

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جو سنی ہوئی بات (اس کے کان میں) لا ڈالتے ہیں اور وہ اکثر جھوٹے ہیں

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

(215 تا 224) اوپر رشتہ داروں کو ڈرسنانے کا حکم تھا اب فرمایا بازو جھکادے ان کے لیے جو تیرے ساتھ ہوں ایماندار مطلب یہ ہے کہ ایمان والے خواہ اپنے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ان کے ساتھ تو شفقت سے رہ اور جو تیری نافرمانی کرے وہ کوئی کیوں نہ ہو اس سے جدارہ اور کہہ کہ میں بیزار ہوں تمہاری حرکتوں سے اور بھروسہ کر اس زبر دست رحم والے پر جو تجھ کو دیکھتا ہے جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور پھرتا ہے سجدہ کرنے والوں میں ان کی خبر کو کہ غافل ہیں یا یاد الٰہی میں مشغول ہیں بیشک وہ پروردگار ہر ایک بات کو سنتا جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے جب تم صحابہ ؓ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع سجود اور تمہارا تہجد کے وقت کا اٹھنا اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے اور اے رسول اللہ کے جب اللہ تعالیٰ تمہارے ذرا ذرا حال سے خبردار اور واقف ہے تو ہر حال میں تم کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے جس میں انس ؓ کہتے ہیں کہ دس برس تک میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں رہا لیکن کبھی آپ دنیا کی باتوں میں مصروف نہ ہوئے مسلمانوں سے شفقت کے ساتھ پیش آنے کا حکم جو ان آیتوں میں ہے اس کی تعمیل کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے بحاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے جو روایت 2 ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ تصویروں کا پردہ دیکھ کر آنحضرت ﷺ کو غصہ آگیا تھا ان آیتوں میں خلاف شرع بات پر بیزاری کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے صحیح بخاری میں جابر بن عبداللہ کی روایت 3 ؎ سے جو قصہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سوتے میں ایک شخص نے ننگی تلوار کھینچ کر آپ ﷺ سے پوچھا تھا کہ آپ کو میرے حملہ سے اب کون بچائے گا تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ کو اللہ بچائے گا اللہ پر بھروسہ کرنے کا جو حکم ان آیتوں میں ہے یہ حدیث اس کی تعمیل کی تفسیر ہے پھر فرمایا کہ بتاؤں تم کو کس پر شیطان اترتے ہیں وہ ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں جو کاہن کہلاتے ہیں وہ لوگ کسی شیطان سے نذرو نیاز سے پیش آن کر اس کو اپنا دوست بتاتے ہیں اس لیے وہ شیطان ان کی خاطر سے ملائکہ کی گفتگو سننے کی آسمان پر جاتا ہے تو وہ فرشتے اس کو انگارے مارتے ہیں اس پر بھی ایک دو بات اس کے کان میں پڑگئی تو اس نے اپنے دوست سے آ کر کہہ دی اس نے لوگوں سے کہہ دی لوگ اس کے قائل ہوگئے پھر ایک دو بات جو ملائکہ سے سنی تھی چار پانچ باتیں اپنی طرف سے ان میں اور جو زمین پر آخر کو وہ جھوٹ پڑیں یا سچ ہوئیں شیطان نیکوں سے ناخوش ہے کیوں کہ وہ اس کو برا جانتے ہیں ہاں جھوٹے آدمیوں سے شیطان خوش ہے کہ وہ اس کی مرضی کے موافق کام کرتے ہیں اور جھوٹے شاعروں کی بات پر وہی لوگ عمل کرتے ہیں جو بہکے ہوئے گمراہ ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ کچھ آدمیوں نے پیغمبر صلعم سے کاہن لوگوں کا حال دریافت کیا آپ ﷺ نے فرمایا ان باتوں کا کچھ اعتبار نہیں لوگوں نے عرض کیا وہ جو کچھ کہتے ہیں تو کبھی سچ بھی ہوتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک بات سچی ہوتی ہے جس کو وہ آسمان پر کی باتوں سے لے لیا ہے لیکن پھر جنات اور کاہن لوگ اس میں سو جھوٹ ملادیتے ہیں یلقون السمع و اکثر ھم کا ذبون کا یہی مطلب ہے کہ وہ شیطان آسمان پر کی جرائی ہوئی اور اچکی ہوئی جس بات کو کاہنوں سے کہتا ہے فقط وہ بات تو سچی نکلتی ہے اور باقی سب جھوٹ علی ابن ابی طلحہ ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے آیت والشعراء یتبعھم الغاؤن کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ شعراء سے وہ کافر شاعر مراد ہیں جو جھوٹی تعریف اور مذمت میں دفتر کے دفتر سیاہ کرتے ہیں اور قبیلے کے مشرک ان جھوٹی باتوں کا اور مسلمانوں کو ہجو کا چرچا آپس میں پھیلاتے ہیں جس طرح کا ہنوں کو شیاطین جھوٹی باتوں میں مدد دیتے ہیں اسی طرح مشرک شاعروں کو بھی اسلام کی ہجو اور بتوں کی پھیلاتے ہیں جس طرح کا ہنوں کو شیاطین جھوٹی باتوں میں مد دیتے ہیں اسی طرح مشرک شاعروں کو بھی اسلام کی ہجو اور بتوں کی تعریف میں طرح طرح کے مضمون وسوسہ کے طور پر سوجھاتے تھے اس لیے شیاطینوں کے ذکر کے ساتھ کاہنوں اور شاعروں دونوں کا ذکر فرمایا جو اسلام سے پہلے مشرکوں کو آئندہ کی جھوٹی سچی خبریں بتلایا کرتے تھے ان کو کاہن کہتے تھے قتادہ ؓ نے افاک اثیم کی تفسیر کاہن بیان کی ہے مشرکین مکہ قرآن کی غیب کی باتوں کو کاہنوں کی سی خبریں اور قرآن کی فصاحت کو شاعر انہ فصاحت جانتے تھے اس لیے شروع رکوع میں قرآن شریف کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں کاہنوں اور شاعروں کا ذکر فرمایا کہ مشرکین مکہ کو قرآن شریف کی حالت اور کاہنوں شاعروں کی باتوں کی حالت اچھی طرح معلوم ہوجائے۔ (2 ؎ مشکوٰۃ باب التصاویر ص 385۔ ) 3 ؎ مشکوٰۃ ص 453 باب التوکل والصبر فصل تیسری۔ ) (1 ؎ مشکوۃ ص 392 باب الکہانتہ )
Ayahs 26:225–226

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

225 تا 226۔ معتبر سند سے ادت مضرد بخاری مستدرک حاکم تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کو حضرت عبداللہ بن عباس وغیرہ کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عرب میں دو قبیلوں کے لوگوں میں کچھ مخالفت ہوجاتی تھی تو ایک شاعر ایک قبیلہ کی طرف ہوجاتا تھا اور دوسرا شاعر دوسرے قبیلہ کی طرف اور ہجو کے قصیدے دونوں طرف سے ہوا کرتے تھے اور جس طرح اس زمانہ کے شاعر فارسی اور اردو میں فرضی اور جھوٹے مضمون باندھتے ہیں اسی طرح ایک طرف کا شاعر دوسری طرف کے لوگوں کی صحیح اور غلط ہجو کیا کرتا تھا اور قبیلہ کے لوگ اپنی طرف والے شاعر کے ساتھ بن جایا کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شاعروں کی مذمت نازل فرمائی تو حسان بن ثابت اور عبداللہ بن رواحہ اور کعب بن مالک ؓ آنحضرت ﷺ کے پاس روتے ہوئے آئے اور عرض کیا کہ حضرت ہم لوگ بھی شاعر ہیں ہم سے بھی اللہ تعالیٰ ناخوش ہوگا اس پر اللہ تعالیٰ نے آخر کا حصہ ان آیتوں کا نازل فرمایا اور مستثنے کے طور پر فرماد یا کہ مسلمانوں میں کے یہ شاعر لوگ جو اسلام کی ہجو کا جواب دیتے ہیں اور اسلام کی مدح میں سچے مضمون باندھتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ ناخوش نہیں ہے شعر کا شریعت میں اب بھی یہی حکم ہے جھوٹے مضمون کے شعروں کو جس طرح شاعر لوگ خال وخط کی جھوٹی تعریفوں میں دفتر کے دفتر سیاہ کرتے ہیں اور ہر طرح کے مضمون اور قافیہ کی تلاش میں ایسے سرگرداں رہتے ہیں جیسے جنگل میں کوئی راستہ بھولا ہوا آدمی بھٹکتا پھرتا ہے اسی طرح کے شعروں کو آپ نے صحیحین کی ابوہریرہ ؓ ایک روایت 1 ؎ میں یہ فرمایا ہے کہ اس طرح کے مضمون دل میں رکھنے سے پیپ لہو پیٹ میں بھرنا بہتر ہے اور سچے مضمون حمد وثنا اور نصیحت دینی کے شعروں کو صحیح بخاری کی ابو بن کعب ؓ 2 ؎ اور ابوداؤد (رح) کی حضرت ابن عباس ؓ کی روایت 3 ؎ میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اور ابوداؤد (رح) کی حضرت ابن عباس ؓ کی روایت 3 ؎ ہیں یہ حکمت آمیز کلام ہے وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اہل سلام کے ہجو کے جواب کی فرمائی ہے صحیح بخاری ومسلم میں براء بن العازب ؓ کی جو حدیث 4 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حسان بن ثابت ؓ سے فرمایا کہ تم مشرکوں کے شعروں کا جواب دو جبرئیل (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے تمہاری مدد کو موجود ہیں اس حدیث سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے۔ “ (2 ؎ پوری تفصیل تفسیرا بن کثیر اور تفسیر الدر المنثور میں ملاحظہ فرمایے زیر تفسیر آیت ہذا۔ ) (1 ؎ مشکوۃ باب البیان والشعر ‘ ) ہے (2 ؎ ایضا مشکوۃ ‘ ) 3 ؎ مشکوٰۃ ایضا لیکن روایت عبداللہ بن بریدہ ) (4 ؎ مشکوۃ باب البیان والشعر۔ )
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور خدا کو بہت یاد کرتے رہے اور اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد انتقام لیا اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ کون سی جگہ لوٹ کر جاتے ہیں

227۔ بخاری شریف 5 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے اور مسلم میں 6 ؎ جابر ؓ سے روایتیں ہیں جن میں پیغمبر ﷺ نے ارشا فرمایا بچو ظلم سے کس واسطے کہ ظلم قیامت کے روزاندہیریاں ہیں مطلب یہ ہے کہ ظلم کے باعث سے ظالم کے آگے اندھیرے پر اند ہیرا ہوگا اس آیت میں قتادہ (رح) کے قول کے موافق ظالموں سے مراد گمراہ شاعر ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا کہ وہ جرم شرک کے علاوہ اسلام ناحق سمجھ کر اسلام اور اہل اسلام کی ہجو کیا کرتے تھے اس واسطے ایسے لوگوں کو حق اللہ اور حق العباد دونوں طرح کے جرموں کی سزا قیامت کے دن ہوگی حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی روایتیں ای منقلب ینقلبون کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں اگر اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن ان کو معلوم ہوجاوے گا کہ دوزخ کی سیاہ آگ کے اوپر تلے کے سات اندھیرے درجوں میں سے کون سی اندھیری در اندہیری کو ٹھری اور کیا کیا عذاب ان کے نصیب میں ہے معتبر سند سے ترمذی موطا امام مالک اور شعب الایمان بیہقی 7 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دوزخ کی آگ اندہیری رات کی جیسی کالی ہے معتبر سند سے تفسیر ابن کثیر میں حضرت علی ؓ سے روایت 8 ؎ ہے (8 ؎ یعنی ان کا قول دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 552 ج 2 تفسیر سورة الحجر۔ ) کہ دوزخ کے سات طبقے اوپر تلے ہیں سلف کا قول ہے کہ جن مشرک ظالموں کا ذکر آیت میں ہے ایسے لوگ دوزخ کے چھٹے طبقے میں جھونکے جاویں گے اس سے یہ مطلب سمجھ میں آسکتا ہے کہ قیامت کے دن ایسے لوگ دوزخ کی کالی آگ کی پانچ اندہیروں کے بعد چھٹے طبقہ کی اندہیری میں ہوں گے۔ (5 ؎ مشکوٰۃ باب انطلم) (6 ؎ الترغیب والترہیب ص 183 ج 3 الترہیب من الظلم ) (7 ؎ الترغیب والترہیب ص 464 ج 4 کتاب صفۃ الجنۃ والنار فصل فی ظلم تھا وسوادھا الخ )