27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 27:1–4

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس، یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے انکے اعمال انکے لئے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں

سورة النمل : (1 تا 4) سورتوں کے شروع میں جو حرف مقطعات ان کا حال مفصل طور سے سورة بقرہ کے شروع میں بیان ہوچکا ہے لفظ تلک سے یہ سورت اور تمام قرآن کی آیتیں مقصود ہیں اور مبین کے معنی واضح اور ظاہر کے ہیں اور دوسری آیت کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف سے اسی کو ہدایت اور بشارت ہوتی ہے جس نے قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا یقین کیا اور اس پر ایمان لایا اور جو احکام اس میں ہے ان پر عمل کیا فرض نماز پڑھے زکوٰۃ دے اور آخرت کو سچا جاننا کہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے اور نیکی بدی پر جزا و سزا ضرور ملے گی اور جنت اور دوزخ حق ہیں جیسا کہ سورة حم السجدہ میں فرمایا قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا ھَدْیً وَّشَفَآئٌ وَالَّذِیْنَ لَا یُوْء مِنُوْنَ فِیْ اٰذَانِھِمْ وَفُرْ وَّھُوْ عَلَیْھِمْ عَمًٰی اَوْ لٰئِکَ یُنَا دَوْنَ مِنْ مَّکَانٍ بَّعِید جس کا مطلب یہ ہے کہ ایمانداروں کو قرآن سے سوجھ ہے اور روگ کا دفعیہ اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ ان کو اندھاپن ہے ان کی مثال ایسی جیسے کسی کو دور سے بلایا جائے اور وہ نہ سنے غرض اور اسی قسم کی اور آیتیں ہیں پھر فرمایا جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کو چھا کر دکھایا ان کے عملوں کو اس لیے وہ سرگرداں ہیں اپنی گمراہی میں اور یہ سزا ہے ان کو آخرت کے جھٹلانے کی جیسا کہ سورة الانعام میں فرمایا ونقلب افئد تھم وابصار ھم کمالم یؤمنوابہ اول مرۃ ونذرھم فی طغیانھم یعمھون جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ارادہ سے راہ راست پر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے اس واسطے نہ ایسے لوگوں کے دل پر نیک بات کا اثر پڑتا ہے نہ وہ آنکھوں سے اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھتے ہیں پھر فرمایا یہ لوگ ہیں جن کے لیے بری مار ہے صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے یہ حدیث ھدی وبشری للمؤمنین کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی نصیحت سے اچھے ایمان دار لوگ نفع حاصل کرتے ہیں اور بدلوگوں کے حق میں قرآن کی نصیحت اسی طرح رائیگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے نیک عمل کے قبول ہونے میں عقبیٰ کے ثواب کی نیت اور دنیا کے دکھاوے سے بچنا ضروری ہے اس لیے نماز اور زکوٰۃ کے ساتھ عقبیٰ کے یقین کا ذکر فرمایا رمضان کے روزے اور حج ہجرت کے بعد فرض ہوئے ہیں اس واسطے مکی آیتوں سے ان کے قول کی تائید ہوتی ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر 1 ؎ چکی ہے (1 ؎ ص 18 جلد ہذا۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو لوگ علم الٰہی میں بدقرار پاچکے ہیں ان کی نشانی یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں برے کام اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ یہ حدیث زینا لھم اعمالھم کی گویا تفسیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ برے کاموں کو اچھا جانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا ہے کیونکہ مجبور کر کے کسی کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے اس لیے کہ دنیا نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہے کسی کے مجبور کرنے کے لیے نہیں پیدا کی گئی سوء العذاب سے مقصود دنیا کا عذاب ہے جیسے مثلا مکہ کا قحط جس کا ذکر صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ گزرچکی ہے کیونکہ آخرت کے عذاب کا ذکر اسی آیت میں جدا آیا ہے۔ “
Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں

5۔ جو لوگ عاقبت میں اپنی دنیا کی زیست سے نفع اٹھاویں گے اور جو لوگ عاقبت میں ٹوٹا پاویں گے ان کی نشانی کو سمجھایا ہے اس مثال سے یہ نشانی خوب اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے حاصل اس مثال کا یہ ہے کہ دنیا ایک تجارت کا بازار ہے اللہ کی مرضی اور نا مرضی کی چیزیں اس بازار میں موجود ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ان اچھی بری چیزوں کی تفصیل بتلادی ہے جس شخص نے اس بازار میں کی اچھی چیزوں کو اختیار کیا اسی نے تجارت میں نفع پایا اور جس نے بری چیزوں کو اختیار کیا اس نے ٹوٹا پایا اور خراب ہوا معتبر سند سے ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوٰۃ باب اثبات عذاب القبر فصل تیسری۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لیے ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک ٹھکانا دوزخ میں بنایا ہے قیامت کے دن جو لوگ ہمیشہ کے لیے دوزخی قرار پاویں گے ان کے نام کی جنت کی خالی جگہ جنتیوں کو مل جاوے گی یہ حدیث وھم فی الآخرۃ ھم الا خسرون کی گویا تفسیر ہے جس سے ایسے لوگوں کے ٹوٹے کا حال اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ ان کے نام کے جنت کے مکان باغ سب کچھ ان کے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔
Ayahs 27:6–13

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں سے (راستہ کا) پتہ لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارا تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (بجلی دکھاتا) ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

پاک ہے اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب و دانا ہوں

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈالدو جب اسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا بےعیب (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اسکی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچی کہنے لگے یہ صریح جادو ہے

(6 تا 13) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایا ہے جو حکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور خبردار ہے تمام امور میں اب آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ کس طور سے ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور ان سے باتیں کیں اور ان کو بڑی بڑی نشانیاں دیں اور بھیجا ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تو ان لوگوں نے کفر اور تکبر کیا اور جو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے ان کو کھلا ہوا جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ (1 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا علاوہ اور معجزوں کے مجھ کو قرآن کا ہی ایک معجزہ ایسا دیا گیا ہے جس کے سب سے کثرت سے لوگ راہ راست پر آویں گے جس کثرت سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے پیروکار لوگوں کی تعداد اور امتوں کے نیک لوگوں سے زیادہ ہوگی یہ حدیث من لدن حکیم علیم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں ایسی حکمت اور علم غیب کی باتیں ہیں جس کا اثر قیامت تک لوگوں کے دلوں پر پڑے گا ان آیتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) کا جو قصہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بی بی کو ساتھ لے کر مدین سے مصر کو آرہے تھے تو اندہیری رات میں راستہ بھول گئے تھے اور جاڑے کے موسم کے سبب سے ان کو اور ان کی بی بی کو سردی بھی بہت لگ رہی تھی اسی حالت میں طور پہاڑ کے پاس ان کو آگ کی سی روشنی نظر آئی اسی روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں اس آگ کی روشنی کی طرف جاتا ہوں آگ کے پاس کوئی شخص ملا تو اس سے راستہ کی خبر بھی مل جاوے گی کہ سیدھا راستہ کدہر کو ہے اور سردی میں تاپنے کے لیے تھوڑی سی آگ بھی لیتا آؤں گا اگرچہ اللہ تعالیٰ کی نظر تمام مخلوقات کو گھیرے ہوئے ہے لیکن مخلوقات میں یہ تاب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نظر کی برداشت کرسکے اس لیے اللہ تعالیٰ کے منہ کے آگے پردے ہیں چناچہ صحیح مسلم کی ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث 2 ؎ میں ان پردوں کا ذکر تفصیل سے ہے (2 ؎ صحیح مسلم ص 99 جلد اول۔ ) صحیح مسلم کی بعض روایتوں میں ناری پردہ کا ذکر ہے اور بعض میں نوری پردے کا اسی واسطے بعضے سلف نے یہاں نار کے معنے آگ کے لیے ہیں اور بعضوں نے نور کے اور صحیح مسلم میں دونوں معنے کی روایت ہے اس لیے دونوں معنے صحیح ہیں لیکن امام مسلم کی طرز روایت 3 ؎ سے نور کے پردے کی روایت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے (3 ؎ حوالہ مذکور۔ ) اس روشنی کے اندر اور آس پاس جو فرشتے تھے ان کو صاحب برکت فرمایا کیونکہ وہ مقرب فرشتے نور الٰہی کی روشنی میں تھے اب غیب سے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز آئی کہ اے موسیٰ اللہ کی ذات سب عیبوں سے پاک ہے اور وہ بڑا زبردست حکمتوں والا ہے اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو قدرت اور حکمت الٰہی دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ موسیٰ تم اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دو وہ لکڑی زمین پر ڈالتے ہی اب تو پتلا سا ایک سانپ بن گئی اور فرعون کے سامنے اور جادوگروں کے مقابلہ کے وقت بڑا سانپ بن گئی اس لیے اس قصہ میں کہیں سانپ کے بیان ہیں ایک لفظ آیا ہے کہ اور کہیں دوسرا پہلے پہل لکڑی کو سانپ بنتے ہوئے دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے اور جھجک کر پیچھے کو ہٹ گئے اس لیے فرمایا موسیٰ ڈر نہیں اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنا رسول مقرر کیا ہے اور اللہ کے رسول سوا اللہ کے اور کسی چیز سے نہیں ڈرتے اور ایک فرعونی شخص پر جو تم نے زیادتی کی اگرچہ وہ اللہ سے ڈرنے کا کام تھا لیکن ایسے کام کے بعد جو شخص نام ہو تو للہ غفور رحیم ہے اس کے بعد ہاتھ کے سورج کی طرح چمکدار ہوجانے کا معجزہ عنایت ہوا ان دونوں معجزوں کے ساتھ زبان کے تو تلاپن کے اچھے ہوجانے کو دریا میں راستہ پیدا ہوجانے کے طورفان کو ٹڈیوں چیچڑیوں کی مینڈکوں اور خون کو ملایا جائے تو یہ نو معجزے ہوئے ان سب کو فرعون اور اس کی قوم نے جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں برے کام اچھے معلوم ہوتے ہیں یہ یہ حدیث اس کی تفسیر ہے کہ فرعون اور اس کی قوم نے آنکھیں بند کر کے ایسے ایسے بڑے معجزوں کو جادو کیوں بتلایا۔
Ayah 27:14

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا کہ ان کے دل ان کو مان چکے تھے سو دیکھ لو کہ فسان کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

14۔ فرعون کے زمانہ کے بڑے بڑے جادوگر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ نہ کرسکے اور حضرت موسیٰ کے مقابلہ سے عاجز آن کر آخر کو مسلمان ہوگئے تو فرعون کے ساتھ کے لوگ اپنے دل میں یہ سمجھ گئے تھے کہ حضرت موسیٰ کا معاملہ بناوٹی اور جادو کا نہیں ہے کیونکہ اگر حضرت موسیٰ کا معاملہ بناوٹی اور جادو کا ہوتا تو اس طرح کے جادو گر جن کے باپ دادا سے جادو کا پیشہ چلا آتا تھا اسی کام کی تنخواہ اور جاگیر فرعون کی طرف سے ان کی مقرر تھی وہ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) سے عاجز نہ ہوتے لیکن باوجود اس بات کے دل میں سمجھ جانے کے وہ لوگ ظاہر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے اور انجام یہ ہوا کہ غرق ہو کر سب غارت ہوگئے یہی حال قریش کا تھا کہ بارہ تیرہ برس آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے پہلے مکہ میں رہنے اور طرح طرح کے معجزہ دیکھنے سے ان کے دلوں کو تو یہ بات معلوم ہوگئی تھی کہ آنحضرت ﷺ سچے نبی ہیں کیونکہ ان کے جتنے کام ہیں وہ بغیر تائید یعنی کے ممکن نہیں لیکن باوجود اس بات کے دل میں سمجھ جانے کے قریش بھی شیطان کے بہکاوے سے ظاہر میں ایمان نہ لاتے تھے اس لیے قریش کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ بیان فرما کر سمجھا دیا کہ یہ ضروری فہمایش طے ہوجانے کے بعد اگر یہ لوگ نبی وقت کی اطاعت قبول نہ کریں گے تو اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو انجام فرعون اور اس کا قوم کا ہوا اللہ کا وعدہ سچا ہے آخر وہی انجام ہوا کہ قریش میں سے جو لوگ ایمان نہ لائے وہ دنیا میں طرح طرح کی خواری سے ہلاک ہوئے اور عاقبت کا عذاب جدا اپنے سر لیا غرض ہر شخص کی نجات کی صورت اس میں ہے کہ ہر طرح ہر حال میں اللہ کے رسول کی اطاعت قبول کرے ورنہ دین و دنیا میں خوار ہوگا صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوٰۃ باب الا عتصام بالکتاب والنسۃ فصل اول ‘ ) جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے لیکن وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا جس نے میری اطاعت سے کسی قدر بھی انکار کیا یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت ﷺ سے ایک طرح کا انکار تو کفر ہے وہ یہ کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم اللہ کے رسول لائے ہیں اس کو سرے سے کوئی شخص سچا رسول جانے ہی نہیں یہ انکار تو کفار کی عادت ہے کلمہ گو لوگوں میں اگرچہ یہ عادت تو نہیں ہے لیکن جو شخص کلمہ گو ہو کر رسول وقت کے قول کی مخالف کسی رسم دنیایا کسی خواہش نفسانی پر چلے گا وہ بھی رسول وقت کا پورا اطاعت گزار نہیں کہلا سکتا اور آپ نے فرمایا ہے کہ اس طرح کا شخص پورا مسلمان نہیں ہے امام نووی نے اربعین میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی صحیح روایت 2 ؎ سے جو حدیث روایت کی ہے (2 ؎ ایضا فصل دوسری۔ ) اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اس وقت تک ایمان دار نہیں کہلا سکتا جب تک اپنی ہر طرح کی خواہش دلی کو اللہ کے احکام شریعت کے مقابلہ میں نہ چھوڑ دے جن احکام کو میں اللہ تعالیٰ کے طرف سے لایا ہوں حاصل معنی حدیث کے یہ ہیں کہ شریعت کے حکم کے آگے اور کوئی امر قابل اطاعت نہیں ہے حکم شرعی کے مخالف جو شخص کسی امر کی اطاعت کرے گا وہ اسی امر کا اطاعت گزار کہلاوے گا شریعت کا اطاعت گزرا نہیں کہلا سکتا اور جو شخص شریعت کا اطاعت گزار نہ ہو وہ ایماندار کیوں کر کہلا سکتا ہے
Ayahs 27:15–26

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے اپنے مومن بندوں پر فضیلت دی

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان داؤد کے قائم مقام ہوئے اور کہنے لگے کہ لوگو ! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عطا فرمائی گئی ہے بیشک یہ اسکا صریح فضل ہے

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سیلمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اسکے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار ! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے کہ کیا سبب ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا ؟ کیا کہیں غائب ہوگیا ہے

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا میرے سامنے (اپنی بےقصوری) کی دلیل صریح پیش کرے

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ (ہد ہد آموجود ہو اور) کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے انکے اعمال انھیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور انکو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ راستے پر نہیں آئے (اور نہیں سمجھتے )

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کہ خدا کو جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کردیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں نہ سجدہ کریں

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے

15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت کیا باقی رہ جائے گی اس لیے کہ انسان کی بولی کو تو ہر انسان سمجھ سکتا ہے غرض صحیح بات یہی ہے کہ دنیا کے پیدائش سے آج تک چرند وپرند جانوروں کی حالت وہی ہے جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے حضرت سلیمان جن اور انسان دونوں پر حکومت کرتے تھے اور چرند اور پرند سب جانوروں کی اصلی بولی سمجھتے تھے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو پرواز جانوروں اور پہاڑروں کی تسبیح کے سمجھنے کا اور سلیمان (علیہ السلام) کو پرند اور چرند کی ہر ایک بولی کے سمجھ لینے کا علم جو اللہ تعالیٰ نے عنایت فرمایا تھا اسی کو فرمایا کہ ہم نے داؤد اور سلیمان ( علیہ السلام) کو ایک علم دیا نبوت بادشاہت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر جن انسان اور پرند کو فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ پرندوں اور جانوروں پر بھی سلیمان (علیہ السلام) کی اسی طرح کی حکومت تھی جس طرح جن اور انسان پر ان کی حکومت تھی فھم یوزعون کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق لشکر کے باقاعدہ صف بندی کے ہے یہی قول شاہ صاحب نے ترجمہ میں لیا ہے قتادہ (رح) کے قول کے موافق یہ چیونٹیوں کا میدان ملک شام میں تھا۔ چیونٹیوں کی سمجھ داری کی بات سے سلیمان (علیہ السلام) کو تعجب ہوا اس لیے ان کو ہنسی آئی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا صحیح قول ہے کہ ہد ہد کی نظر زمین کے اندر دور تک پہنچتی ہے اس لیے بغیر پانی کے جنگل میں جہاں کہیں سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر اترتا تھا تو ہد ہد سے پانی کے نکلنے کا اندازہ پوچھا جاتا اور جنات سے پانی چشمہ کھودوایا جاتا تھا ایک روز ایسے ہی جنگل میں سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر اترا اور تلاش کے وقت ہد ہد غیر حاضر نکلا اسی واسطے ہد ہد کی غیر حاضری پر سلیمان (علیہ السلام) کو غصہ آیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق پرند جانوروں کی سزا سلیمان (علیہ السلام) نے یہ مقرر کی تھی کہ قصور وار جانوروں کے پر اکھیڑ کر ان جانوروں کو دھوپ میں ڈال دیا جاتا تھا اسی کو عذاب شدید فرمایا اور زیادہ غصہ کی حالت میں یہ بھی فرمایا کہ اس معمولی سزا سے بڑھ کر ہد ہد کو یہ سزادی جاوے گی کہ اس کو ذبح کر ڈالا جاوے گا۔ معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 531 ج 3۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ سبا ایک شخص کا نام تھا اسی کے نام پر ملک یمن میں یہ جگہ ہے یہ بڑی شاداب جگہ تھی پھر یہاں کے لوگوں کی سرکشی کے سبب سے و یران ہوگئی یہ قصہ سورة سبا میں تفصیل سے آوے گا قتادہ کے قول کے موافق سبا کی بادشاہ زادی کا نام بلقیس تھا سبا کے لوگ آتش پرست پارسی تھے اسی واسطے یہ لوگ آگ اور سورج کی پرستش کرتے تھے کیونکہ ان لوگوں کے مذہب میں آگ کی بڑی تعظیم ہے ان لوگوں کا یہ اعتقاد ہے کہ دنیا میں آگ سورج کی شعاع سے پیدا ہوئی ہے آسمان کی پوشیدہ چیز مینہ ہے زمین کی پوشیدہ چیز پیداوار ہے کیونکہ سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں کہ مینہ کب برسے گا اور اس سے کس قدر پیدا وار ہوگی ہد ہد نے بلقیس کے تخت کا ذکر کیا تھا اس لیے اس کی شان گھٹانے کے لیے عرش معلی کا تذکرہ کیا۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوٰۃ باب بدء الخلق وذکر الانبیائ (علیہ السلام) کہ داؤد (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی مزدوری میں اپنی گزر بسر کرتے تھے سورة صٓ میں آوے گا کہ سلیمان (علیہ السلام) ایک دن کچھ گھوڑوں کے دیکھنے میں لگ گئے جس سے ان کی نماز کو دیر ہوگئی اس پر غصہ ہو کر انہوں نے ان گھوڑوں کو ذبح کر ڈالا۔ اس سے معلوم ہوا کہ باوجود اتنی بڑی بادشاہت کے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) دنیا کو ہیچ سمجھتے تھے۔
Ayahs 27:27–31

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

(سلیمان نے) کہا (اچھا) ہم دیکھیں گے تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا خط لے جا اور اسے انکی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

(ملکہ نے) کہا دربار والو ! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(بعد اس کے یہ) کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع و منقاد ہو کر میرے پاس چلے آؤ

(27 تا 31) جب ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے بلقیس کی بادشاہت اور اس کے تخت کا حال آن کر کہا تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو شبہ ہوا کہ ہد ہد لشکر سے پیچھے جو رہ گیا تھا اس لیے اس نے یہ بات بنائی ہے کہ ایک عورت کی بادشاہت اور نئی نئی چیزیں ملک سبا میں دیکھ کر آیا ہے اس واسطے اس کا جھوٹ آزمانے کو یہ بات فرمائی کہ اب معلوم ہوجاوے گا کہ تو سچا ہے یا جھوٹا ہے اور یہ بات فرما کر بلقیس کے نام خط لکھ کر ہد ہد کو دیا۔ صحیح سند سے مسند امام احمد ابن ماجہ اور ابوداؤد کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ روایت 1 ؎ میں (1 ؎ مشکوٰۃ ص 362 باب مایحل اکلہ وما یحرم) آنحضرت ﷺ نے چیونٹی۔ شہد کی مکھی کے مارنے کی جہاں ممانعت فرمائی ہے وہاں ہد ہد کے مارنے کو بھی آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے جس طرح کا یہ مختصر خط سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس کو لکھا ہے آنحضرت ﷺ نے بھی ایسے ہی مختصر خط کسریٰ قیصر اور نجاشی کو لکھے ہیں سبا بن شحب جو ایک شخص تھا جس کا ذکر اوپر گزرا اس کی نسل میں ایک شخص شراحیل تھا بلقیس اس کی بیٹی تھی یہ شراحیل تمام سر زمین یمن کا بادشاہ تھا تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں قتادہ کا جو قول ہے کہ شراحیل اپنے آپ کو بڑا بادشاہ سمجھتا تھا جس زمانہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) بیت المقدس کی عمارت سے فارغ ہو کر مکہ معظمہ گئے اور مکہ سے واپس ہوتے وقت ایک روز دوپہر کو یمن کی سر زمین پر ٹھہرے اور ہدہد سیر کے طور پر لشکر سے جدا ہو کر مارب بستی کو چلا گیا جہاں بلقیس رہتی تھی اس زمانہ میں تمام ملک یمن کی بادشاہ بلقیس ہی تھی صحیح بخاری میں ابی بکرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ ایضا باب الامارۃ والقضاء ) جس کا حاصل یہ ہے کہ ملک فارس میں جب کسریٰ کی بیٹی بادشاہ ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے یہ خبر سنی تو آپ نے فرمایا جس قوم کی حاکم عورت ہو وہ قوم کبھی راحت نہیں پاسکتی۔ غرض جب ہدہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس کی چھاتی پر ڈال دیا تو بلقیس پڑھی لکھی ایک عورت تھی اس نے اس خط کو پڑھا اور اللہ کے نبی کے خط کی ایک ہیبت اس کے دل میں بیٹھ گئی اور تین سو آدمیوں کے قریب اس کے مصاحب تھے ان سے اور اپنے وزیروں سے اس خط کے باب میں اس نے صلاح لی اور آخر کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ملنے آئی اور مسلمان ہوئی قرآن شریف میں بس اسی قدر بلقیس کا ذکر ہے بعضی تفسیروں یہ جو لکھا ہے کہ خود حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے پھر بلقیس سے نکاح کرلیا اور بعضی تفسیروں میں یہ ہے کہ کسی اور سے بلقیس کا نکاح حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کرادیا اس کی صراحت کسی آیت یا حدیث صحیح سے پائی نہیں جاتی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے فقط عکرمہ کا یہ قول ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) نے بلقیس سے نکاح کرلیا تھا لیکن اس طرح غیب کی باتوں کا جب تک قرآن حدیث سے کچھ پتانہ لگے کوئی بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی ثم تول عنھم فانظر ماذا یرجعون کی صحیح تفسیر حافظ ابوجعفر ابن جریر نے یہ قرار دی ہے کہ ہد ہد خط پہنچا کر کہیں کنارہ ٹھہرا رہے اور خط ڈال کر چلا آوے کیونکہ اس میں فانظر ما ذا یرجعون کا کچھ مطلب حل نہیں ہوتا۔