Ayahs 27:70–7370 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا اسی طرح تیرہ برس کے قریب تک مکہ میں قرآن شریف نازل ہوتا رہا اور طرح طرح کی نصیحت کی آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے قریش کو سمجھایا مگر باوجو اس قدر مدت اور اس قدر فرمائش کے آنحضرت ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے وقت تک ان میں سے ایک سو کے اندر ہی اندر آدمی اسلام لائے باقی اہل مکہ آپ کو ایذار سانی پر ہر طرح سے آمادہ رہے اور ایذار سانی کی شکلیں نکالنے میں طرح طرح کے اور داؤں سوچتے اور نکالتے رہے موسم حج پر باہر کے لوگ جو کچھ آپ کی نصیحت دھیان سے سنتے تو ان کو بہ کا دیتے کبھی کہتے کہ جو ہم چاہیں تو اس طرح کا قرآن بناسکتے ہیں جب آپ نماز پڑھتے تو سیٹیاں اور تالیاں بجاتے غرض آخر ہجرت کے وقت تک اہل مکہ کا یہی حال رہا یعنی ہجرت کے وقت جو کچھ انوں نے کیا اس کا تذکرہ انفال میں گزر چکا ہے کہ سب مخالفوں نے جمع ہو کر آپ کی ایذار سانی کا مشورہ کیا بعضوں نے کہا کہ آپ کو قید کرنا چاہیے بعضوں نے کہا کہ جان سے ہلاک کرنا چاہیے بعضوں نے کہا مکہ سے نکال دینا چاہیے شیطان بھی اس مشورہ میں شامل ہوا اور شیطان کے مشورہ کے موافق ابوجہل کے اس منصوبے پر سب کا اتفاق ٹھہرا کہ مکہ میں جتنے قبیلے اور جتھے ہیں ان سب میں کا ایک ایک آدمی تلوار لے کر مستعد ہو اور ایک دم سب مل کر آپ پر حملہ کردیں یہ تجویز اس لیے ٹھہرائی تھی کہ پھر سارے مکہ کے قبیلوں سے آپ کے ساتھیوں کو بدلا لینے کا بھی قابو باقی نہ رہے کفار کے اس مشورہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم دیا اور عزت حرمت سے اپنے رسول کو مدینہ پہنچا دیا حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ کی قدرت اور تدبیر کے آگے کوئی داؤ اور قریب ان لوگوں کا اللہ کے رسول پر چل تو نہیں سکا لیکن ان لوگوں کی ایذار سانی اور راہ راست پر نہ آنے کا حال دیکھ کر جب تک آپ مکہ میں رہے آپ کو ہیمشہ ایک طرح کا غم اور رنج رہتا تھا آپ کے اس رنج کے رفع فرمانے کی غرض سے مکہ میں جو قرآن شریف کا حصہ اترا ہے اس حصہ میں اکثر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تشفی اور تسکین کی آیتیں نازل فرمائی ہیں یہ آیت بھی انہی آیتوں میں کی ایک آیت ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تشفی اور تسکین فرما کر پھر آگے کی آیتوں میں قریش کو دھمکایا ہے کہ اللہ کے رسول کو جھٹلا کر اور طرح طرح کی ایذا دے کر یہ لوگ عذاب الٰہی کی جلدی جو کرتے ہیں یہ ان کی نادانی ہے کہ باوجد ایسی شرارتوں کے پھر عذاب کی بھی لدی کرتے ہیں ان کو کیا معلوم ہے کہ عاب کا وقت قریب آن لگا ہو یہ فقط اللہ کا فضل اور برد باری ہے کہ اس قدر شرارتوں پر ان کو چھوڑ رکھا ہے کسی سخت عذاب میں ان کو انہیں پکڑ تا اللہ کے بردباری کا شکر نہیں کرتے اور نہیں سمجھتے کہ عذاب کا وقت مقررہ آجائے گا تو ان کو جان کا بچانا دشوار ہوگا اللہ کا وعدہ سچا ہے جب بدر کی لڑائی کے وقت قریش کی ہلاکت کی گھڑی آن پہنچی تو دم کے دم میں ستر 70 آدمی قریش میں کے مارگئے اسی دن سے قریش کی سرکشی بنیاد اکھڑ گئی صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر صاحب حکم اور بردوبار کون ہوسکتا ہے مشرک لوگ شرک کر رتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تندرستی اور خوش حال سے رکھتا ہے غرض تشرہ برس تک اللہ تعالیٰ نے حلم اور بردباری کو کام فرمایا جب قریش کی سرکشی کم نہ ہوئی تو انہوں نے اپنے کئے کو بھگتا اب بھی جو کوئی اللہ کے رسول کی فرما نبرداری نہ کرے گا پشیمانی بھگتے گا فرق اس زمانے میں اور اس زمانہ میں اتنا ہے کہ اس زمانہ میں اللہ کے رسول خود موجود تھے اب ان کا کلام موجود ہے فرما نبرداری رسول کے کلام اور حکم کی جس طرح جب تھی وہ اب بھی ہے اور قیامت تک رہے گی
Ayahs 27:74–8174 تا 81۔ ان آیتوں میں مشرکوں کو فرمایا جو قیامت کو دور جانتے ہیں اوپر کی آیتوں میں ان کے حق میں یہ فرمایا تھا کہ قیامت کے آنے کی یہ لوگ جلدی کرتے ہیں شاید وہ ان کی پیٹھ کی پیچھے آ لگی ہو اور قریب ہو پھر فرمایا کہ تیر ارب لوگوں پر اپنا فضل رکھتا ہے اور نعمتیں دیتا ہے اور لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا کا شکر نہیں بجالاتے اب ان آیتوں میں فرمایا کہ وہ ایسا عالم الغیب ہے کہ جن باتوں کو یہ لوگ چھپا رہے ہیں ان کو بھی جنتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہیں وہ بھی جانتا ہے چناچہ سورة طہ میں فرمایا فانہ یعلم السر واخفی پھر فرمایا کوئی چیز لائق نہیں آسمان اور زمین میں مگر وہ موجود ہے کھلی کتاب میں یہ آیت مثل سورة حج کی اس آیت کے ہے الم تعلم ان اللہ یعلم مافی السماء والارض ‘ ان ذالک فی کتاب ‘ ان ذالک علی اللہ یسیر (آیت 70) مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ جو کچھ آسمان یا زمین میں ہے اس لیے اس کو اپنے علم ازلی کے موافق یہ سب کچھ لوح محفوظ میں لکھ لینا دشوار نہیں تھا پھر فرمایا کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ قصے بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰ اور عزیر کے باب میں یہود نصاریٰ مختلف القول ہیں لیکن یہ قرآن شریف سراسر ہدایت اور رحمت ہے ایمانداروں کے حق میں اس سراسر ہدایت کو چھوڑ کر اب جو لوگ اختلاف میں پڑے ہیں ان کے اس اختلاف کا پورا فیصلہ قیامت کے دن ہوجائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور فیصلہ میں بڑا زبردست ہے پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم کھلے راستے پر ہو اللہ پر بھروسہ کر کے لوگوں کو اس راستہ پر بلانے میں لگے رہو پھر اس کھلے راستے پر جو نہ آوے تو وہ مثل مردہ کے ہے اور تم مردوں کی نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو سنا سکتے ہو اور نہ تم اندھوں کو راستہ بتاسکتے ہو جب وہ راہ سے بچلیں تو ان ہی کو نصیحت کرسکتے ہو جو اللہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ وہی لوگ حکم بردار ہیں صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے رکھتے ہیں کیونکہ وہی لوگ حکم بر دار ہیں صحیح مسلم میں حوالہ سے عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے یہ حدیث ومامن غائبتہ فی السماء والارض الافی کتاب مبین کی گویا تفسیر ہے بہروں کے ذکر میں پیٹھ کے پھیر لینے کا لینے کے بعد یہ موقع بھی باقی نہیں رہتا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے قابل کام کریں گے اور کتنے آدمی دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث بھی ایک اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں جو دل ہے اس کے حاصل یہ ہے کہ جس قسم کی یہ آیتیں ہیں ایسی آیتوں کے نازل ہونے سے پہلے اللہ کے رسول ﷺ کو اس بات کا بڑا رنج تھا کہ تمام اہل مکہ دائرہ اسلام میں کیوں نہیں داخل ہوجاتے لیکن جب اس قسم کی آیتوں سے یہ بات کھل گئی کہ جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی ہی فائدہ مند ہے جیسے اچھی زمین میں مینہ کا پانی فائدہ مند ہوتا نے ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث جو ایک جگہ گزر چکی ہے۔ کہ بدر کی لڑائی کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے مشرکوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدے کہ سچا پا لیا اس حدیث کے معنے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں سے قتادہ نے یہ بیان کئے ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان لاشوں میں روح پھونک دی گئی تھی ان لاشوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی باتوں کو سن لیا امام احمد اور ابودا ؤد میں براء بن عازب ؓ کے صحیح حدیث 1 ؎ منکر نکیر کے سوال جواب کے باب میں جو ہے اس سے قتادہ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کس لیے کہ اس حدیث میں صاف طور پر یہ ذکر ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے وقت مردہ کے جسم میں روح پھونک دی جاتی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ آیت انک لاتسمع الموتیٰ میں اور انس بن مالک ؓ کی اس مضمون کی حدیثوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ حدیثوں میں مردہ کی خاص حاص حالتوں کا ذکر ہے اور آیت میں مردہ کی ان خاص خاص روح کے پھونکے جانے کی حالتوں کے علاوہ عام حالت کا ذکر ہے۔
(1 ؎ مشکوۃ باب اثبات عذاب القبر۔ )
Ayah 27:8282۔ اس جانور کا قیامت کے قریب نکلنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کا ہونا اس قدر تفسیر اس آیت کی بہت صحیح حدیثوں میں آئی ہے چناچہ صحیح مسلم میں حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث 2 ؎ ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تک دس نشانیاں لوگوں کو نظر نہ آویں گی اس وقت تک قیامت نہ آوے گی ان دس نشانیوں میں جانور کی بھی ذکر ہے اور اسی حدیث کی روایت ترمذی ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے دوسری حدیث صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی ہے اس میں بھی اس جانور کا ذکر ہے تیسری حدیث حضرت عبداللہ بن عمر ؓ و کی صحیح مسلم کی روایت میں ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت آفتاب مغرب سے نکلے گا اسی وقت میں یہ جانور بھی نکلنے کا قول حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا ہے اور امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے کہ اکثر مفسروں نے اس قول کی قوی قرار دیا ہے معتبر 3 ؎ سند سے ترمذی مسند امام احمد ابن ماجہ مستدرک حاکم بیہقی تفسیر ابن منذر تفسیر ابن جریر تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے
جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ حانور جب نکلے گا تو اس کے پاس حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا عصا اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی انگوٹھی یہ دونوں چیزیں ہوں گی مسلمانوں کے منہ کو وہ جانور انگوٹھی چھوادے گن جس سے ان کے چہرہ پر ایک طرح کی رونق آجائے گی اور جو لوگ پورے مسلمان نہیں ہیں ان کے ناک پر حضرت موسیٰ کے عصا سے ایک چھاپہ لگا دے گا اس روز سے مسلمان اور کافر کی ایسی پہچان ہوجائے گی کہ ایک دستر خوان پر جتنے لوگ ہوں گے وہ سب پہچانے جائیں گے حذیفہ ؓ بن اسید کی ایک حدیث مستدرک حاکم اور بیہقی اور تفسیر ابن منذر میں ہے جس کو حاکم نے صحیح کہا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ جانور تین دفعہ دنیا میں نکلے گا اور قرآن شریف میں یہ جو ہے کہ لوگوں پر جب ایک بات پڑچکے گی اس وقت یہ جانور نکلے گا اس کی تفسیر اور مفسرین متقدمین نے جو کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب مغرب سے آفتاب نکل چکے گا اور کافر کا ایمان اور گنہگار کی توبہ قبول ہونے کا موقع نہ رہے گا اس وقت یہ جانور نکلے گا صحیح مسلم کی عبداللہ بن عمر ؓ و کی یہ حدیث جو اوپر گزر چکی ہے کہ مغرب سے آفتاب کے نکلنے اور اس جانور کے نکلنے کا ایک ہی زمانہ ہوگا اس حدیث سے اس تفسیر کی تائید ہوتی ہے عطاخر اسانی کے قول کے موافق وہ جانور اس وقت کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق یہی کہے گا ان الناس کانوابا یتنا لا یوقنون جس کا مطلب یہ ہے کہ مغرب سے آفتاب کے نکلنے سے اور اس جانور کے پیدا ہوجانے سے پہلے جو منکر لوگ راہ راست پر نہیں آئے اور جن گنگاروں نے توبہ نہیں کی وقت کے ہاتھ سے نکل جانے کے سبب سے گویا یہ جانور ایسے لوگوں کے حال پر افسوس کرے گا یہ عطاء خراسانی اعمش کے طبقہ تابعی اور صحیح مسلم کے راویوں میں ہیں۔
(2 ؎ مشکوٰۃ باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال۔ )
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 116 ج 5۔ )
Ayahs 27:83–8883 تا 88۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا ہے کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کر بلاویں گے پھر ان کی مثل بنے گی ہر گناہ والے قسم دار ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ چور علیحدہ شرابی علیحدہ پھر اللہ تعالیٰ جھڑ کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کم کرتے رہے اس جھڑ کی کے سوال کے بعد مشرک لوگ عذاب کے قابل قرار پاویں گے۔ اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہر لگائی جائے گی ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی لی جاوے گی صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ اعضا کی گواہی کا ذکر ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے حشر کے منکروں کو اس طرح اپنی قدرت کا ملہ پر متنبہ کیا کہ یہ لوگ کیا غور وفکر نہیں کرتے کہ ہم نے بنائی رات کی چین پکڑیں اس میں اور بنایا دن کو روشنی کرنے والا جس کے سبب سے یہ لوگ معاش پیدا کریں جس کے اندر نشانیاں ہیں اللہ کی قدرت کی ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں اب اللہ تعالیٰ قیامت کے اس ہول کی خبر دیتا ہے جو صور کے پھونکے جانے کے وقت پیدا ہوگا معتبر سند سے ترمذی اور ابوداؤد میں عبداللہ بن عمر ؓ بن والعاص سے روایت 1 ؎ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صور ایک سینگ ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے جس میں اسرافیل (علیہ السلام) پہلا صور پھونکیں گے جس سے تمام مخلوق پہلے گھبرا جائے گی اور پھر مرجائے گی بعد اس کے خدا کے روبرو کھڑے ہونے کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا جس سے تمام مروے قبروں سے نکل کر خدا کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے پھر فرمایا کہ یہ پہاڑ جو اللہ کی قدرت اور صنعت سے مضبوط اور جمے ہوئے نظر آتے ہیں صور کے صدمہ سے بادلوں کی طرح چلنے لگیں گے بعد اس کے قیامت کے دن کی سزا سے ڈرانے کے لیے فرمایا کہ اللہ لوگوں کے ہر طرح کے عملوں سے اچھی طرح خبردار ہے رات کا سونا اور دن کا جاگنا حشر کا ایک نمونہ ہے اس لئے حشر کے ذکر کے بعد رات اور دن کی ذکر فرمایا صحیح بخاری میں حذیفہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے نیند کی مثال موت کی اور نیند سے پھر ہوشیار ہوجانے کی مثال دوبارہ زندہ ہونے کی فرمائی ہے اس سے سونے اور جگنے کو حشر کو نمونہ قرار دیا جاتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ لوگوں کے رات کے عمل دن کے عملوں سے پہلے اور دن کے عمل رات کے عملوں سے پہلے اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہوجاتے ہیں یہ حدیث انہ خبیر بماتفعلون کو گویا تفسیر ہے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا پہلے صور کی گھبراہٹ سے شہید لوگ امن میں رہیں گے یہ حدیث الامن شاء اللہ کی گویا تفسیر ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ 482 باب انفخ فی الصور۔ )
(1 ؎ مشکوۃ ص 208 باب مایقول عندا الصباح وانمتأ والمنام ‘ )
(2 ؎ فتح الباری ص 163 ج 6 باب نفخ الصور ‘
Ayahs 27:89–9089 تا 90۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے صور کے پھونکنے کا ذکر فرمایا تھا اگرچہ اس بات میں علماء نے بڑا اختلاف کیا ہے کہ صور کتنی دفع پھونکا جائے گا مگر صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر 20 والعاص ؓ کی حدیث 3 ؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ صور فقط دو دفع ہی پھونکا جاوے گا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دجال کو ہلاک کر چکیں گے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ گزر چکے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوجائے گی تو اس کے بعد شام کے ملک کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چل کر جن کے دل میں ذدرہ برابر بھی ایمان ہے اس طرح کے سب لوگ اس ہوا کے اثر سے مرچکیں گے اور شیطان کے بہکانے سے دنیا میں پھر پہلے زمانہ جاہلیت کی طرح بت پرستی کی زور ہوجائے گا اس وقت پہلا صور پھونکا جائے گا شروع شروع اس صور کی آواز سے لوگوں کے دلوں میں ایک گھبراہٹ پیدا ہوگی اور اس صور کی شروع کی آواز سے زمین کو حرکت ہو کر ایک زلزلہ بھی آوے گا پھر صور کی آواز بڑھتے بڑھتے زمین آسمان سب دنیا فنا ہوجائے گی مسند امام احمد ابوداؤد ونسائی صحیح ابن خزیمہ صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں اوس ؓ بن ثقفی کی روایت 4 ؎ ہے جس کو ابن خزیمہ اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا 5 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جمعہ کے دن آپ نے فرمایا کہ صور پھونکا جائے گا حاصل کلام یہ ہے کہ پہلے صور کی دو حالتیں ہوں گی اس کی شروع آواز سے لوگ گھبرائیں گی اور بےہوش ہوجائیں گے اور پھر رفتہ رفتہ اس کی آواز ایسی سخت ہوجائے گی جس سے پہاڑ زمین آسمان سب دنیا فنا ہوجائے گی پہلی حالت کا نام نفخہ فزع ہے اور دوسری حالت کا نام نفخہ صعقہ اور دوسرا صور وہ ہے جس سے تمام دنیا پھر جی اٹھے گی اس کا نام نفخہ قیام ہے جن مفسروں نے تین صور پھونکے جانے کا ذکر اپنی تفسیروں میں لکھا ہے اگر ان کا مطلب اس سے یہی ہے کہ پہلے صور کی حالتیں دو صور کے قائم مقام ہیں تو یہ مطلب صحیح ہے اور اگر یہ مطلب ہے کہ صور خودتین دفعہ پھونکے جاویں گے تو تین صور کی روایت ضعیف ہے غرض اوپر کی آیتوں میں صور کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں نیکی بدی اور نیکی کرنے والوں کی امن میں رہنے کا اور بدی کرنے والوں کا خرابی میں پھنسنے کا ذکر جو فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوپر کی آیتوں میں دونوں صور کا ذکر ہے گھبراہٹ اور پہاڑوں کی بادلوں کی طرح چلنا پہلے صور کی حالت کے بیان میں ہے اور مخلوقات کا عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا اور نیکی بدی کا نتیجہ دوسرے صور کی حالت کا بیان ہے بعضے مفسروں نے یہ ایک شبہ بھی یہاں پیدا کیا ہے کہ ان آیتوں میں پہلے تو فرمایا ہے کہ جب صور پھونکا جاوے گا تو اہل آسمان اور زمین سب گھبرا جاویں گے اور پھر فرمایا کہ نیک لوگ اس دن امن میں رہیں گے ان دونوں آیتوں میں مطابقت کیوں کر ہے اس کا جواب مفسرین نے یہ دیا ہے کہ پہلے پہل تو قیامت کا خوف سب کو ہوگا لیکن پھر میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تنہائی میں بعضے گنہگار مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ یاد دلاوے گا جب وہ ڈریں گے کہ ان کی پکڑ ہوئی تو اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرماوے گا اور کافر اور منافقوں پر سب کے سامنے لعنت فرماوے گا مسند امام احمد صحیح بخاری ومسلم اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے حدیث 2 ؎ قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک اور زیادہ نیک نیتی کی نیکیوں کا بدلہ اس سے بھی زیادہ دیا جائے گا یہ حدیث فلہ خیر منھا کی گویا تفسیر ہے اسی طرح صحیح بخاری ومسلم اور ترمذی میں اسن بن مالک ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایتیں 3 ؎ ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر لوگ اس دن منہ کے بل گھسیٹے جاکر دوزخ میں جھونکے جاویں گے یہ روایتیں فکبت وجوھم فی النار کی گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 27:91–9391 تا 93۔ اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کو حشر سے ڈرا کر ان آیتوں میں پیغمبر ﷺ کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ کے کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو مجھ کو تو اللہ کا یہی حکم ہے کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی بندگی کروں جس کو اس نے ادب والا بنایا اور انسان اور اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس نے اپنی قدرت سے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے شرع میں شہر مکہ کی بڑی تعظیم اور بڑا ادب ہے چناچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 4 ؎ ہے کہ پیغمبر ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے اللہ تعالیٰ نے شہر مکہ کو ادب والا بنایا ہے پھر فرمایا ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ اے لوگو اللہ تعالیٰ کا مجھ کو یہ بھی حکم ہے کہ پڑھوں قرآن لوگوں کی نصیحت کے لیے اب قرآن کی نصیحت مان کر جو کوئی راہ راست پر آوے گا اس کا بھلا ہے ورنہ میں تو فقط عذاب الٰہی سے ڈرانے والا ہوں ڈرنا نہ ڈرنا لوگوں کا کام ہے پھر فرمایا اے رسول اللہ کے لوگ اللہ کی قدرت کی اب تک کی نشانیوں سے اس کو نہیں پہچانتے انہیں انہی کے حال پر چھوڑ کر تم اللہ کی تعریف ور دزبان رکھو اور یہ مشرک تم کو اور کلام الٰہی کو جھٹلاویں تو تم اس سے کچھ گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ ان کے کاموں سے بیخبر نہیں ہے وقت مقررہ پر وہ اپنی قدرت کی ایسی نشانیاں ان مشرکوں کو دکھاوے گا کہ ان کی ساری سرکشی خاک میں مل جائے گی اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت اس وعدہ کا ظہور ہوا کہ مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکش خاک میں مل گئے چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت سے یہ قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے ان آیتوں میں آیت وَمَنْ صَنلَّ فَقُلْ اِنَّمَا انامن المنذرین کو کہ جہاد کے حکم سے بعضے مفسروں نے منسوخ جو ٹھہرایا ہے اس کی تفصیل ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جہاد کے حکم سے کوئی درگزر کی آیت منسوخ نہیں ہے۔ مشرکین مکہ کعبہ کو اللہ کا گھر جانتے اور برب کعبہ کہہ کر اللہ کی قسم کھایا کرتے تھے لیکن باوجود اس کے کعبہ میں انہوں نے وہ بت رکھ چھوڑے تھے جن کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے اسی واسطے ان مشرکوں کو قائل کرنے کے لیے فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم لوگوں کا کعبہ کو اللہ کا گھر کہنا بالکل غلط ہے اللہ کے گھر میں بتوں کا کیا دخل ہے مجھ کو تو یہ حکم ہے کہ کعبہ میں اس خالص ذات کی عبادت اور حکم برداری کروں جس کا یہ گھر ہے اللہ تعالیٰ کے گھر میں تم لوگ جو یہ بت پرستی کرتے ہو اس سے اللہ بیخبر نہیں ہے وقت مقررہ آنے پر وہ اپنی قدرت کا نمونہ تم کو دکھا ویوے گا اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے چناچہ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ ان بت پرستوں نے اللہ کے گھر کو جن بتوں سے گھیر رکھا تھا فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول ﷺ ان کو لکڑیاں مار مار کر زمین پر گرادیا اور کعبہ کو بت پرستی سے پاک کردیا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ کی یہ حدیث بھی گذر چکی ہے کہ فتح مکہ کے بعد مشرکوں کو حج کرنے کی ممانعت کردی گئی یہ حدیث بھی سیر یکم اینہ فتعر فونھا کی گویا تفسیر ہے
(3 ؎ مشکوۃ ص 481 باب لاتقوم الساعۃ الا علی شراز الناس ‘)
(4 ؎ مشکوۃ ص 120 باب الجمعہ ‘ )
(5 ؎ تنیقح الرواۃ ص 255 جلد اول )
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 485 باب الحساب والقصاص والمیزان ‘ )
(2 ؎ مشکوۃ مع تنقیح الرواۃ ص 87 جلد دوم ‘ )
(3 ؎ مشکوٰۃ باب الحشر ص 48‘ )
(4 ؎ مشکوۃ ص 237 باب حرم مکتہ حرسھا اللہ تعالیٰ ۔ )