Ayahs 28:1–2سورة قصص 2 تا 2۔ حروف مقطعات کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اب آگے حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان فرمایا مُبِیْن کے مُبِیْن حق اور ناحق کو کرنے کے ہیں لقوم یؤمنون میں ایمان والوں کو اس واسطے خاص کیا کہ انہیں کو قرآن کی نصیحت فائدہ کرتی ہے علا کے معنی تکبر کے ہیں اور بعضے مفسرین کا قول ہے کہ علا سے مطلب ہے کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا فرعون نے مصر کے رہنے والوں کو کئی فرقے کرنے کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے کہ ایک جماعت کو فرعون نے غلام بنایا تھا اور ایک جماعت کو قتل کرتا تھا غرض فرعون نے بنی اسرائیل کو ہر طرح سے کمزور اور ضعیف کر رکہا تھا اور ان سے ذلیل کام لیتا تھا بنی اسرائیل اپنے زمانہ کے لوگوں میں سربر آور وہ تھے انہوں نے لوگوں پر ظلم کیا اور گناہ کے کام کئے اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قبطیوں کو ان کے اوپر مسلط کردیا انہوں نے ان کو کمزور کردیا اور طرح طرح کی ان کو تکلیفیں دیں یہاں تک کہ فرعون ان کے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتا تھا اور لڑکیوں کو چھوڑ دیتا تھا جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے خباب ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی 1 ؎ ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے یہ شکایت کی کہ مشرک ہم لوگوں کو اب تو بہت ستاتے ہیں آپ نے خباب ؓ کی تسکین فرمائی اور یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ایسی مدد کرے گا کہ اہل اسلام کو مشرکین کے خوف کا کچھ اندیشہ باقی نہ رہے گا۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح فرعون بنی اسرائیل کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتا تھا اسی طرح ہجرت سے پہلے مشرکین اور مسلمانوں کا حال آخر میں ہوا چناچہ بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو مشرکوں پر غلبہ ہوا اس کا قصہ صحیح بخاری کی عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے اوپر گزر 2 ؎ ہے خباب بن الارت ؓ کی اوپر کی حدیث سے آنحضرت ﷺ کا یہ معجزہ بھی نکلتا ہے کہ فتح مکہ سے ایک مدت پہلے جس طرح آپ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ایسی مدد کرے گا کہ اہل اسلام کو مشرکوں کے خوف کا کچھ اندیشہ باقی نہ رہے گا فتح مکہ کے بعد بالکل اس کے موافق ظہور ہوا۔
(1 ؎ ص 276 ج 3 وص 91 ج 4۔ )
(2 ؎ ص 60 ج 4 تفسیر ہذا۔ )
Ayahs 28:3–73 تا 7۔ اوپر گزر چکا ہے کہ فرعون نے ایک رات کو سوتے میں خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ مصر میں آن کر پھیل گئی اور فرعون کی قوم کے تمام گھر تو اس آگ میں جل گئے لیکن مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ اس آگ سے بچ گیا ہے صبح کو فرعون جب سو کر اٹھا تو اس نے اپنے نجومیوں اور جادو گروں کو جمع کر کے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے کہا بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے ہاتھوں سے تیری بادشاہت غارت ہوجائے گی اور مصر کو صدمہ پہنچے گا اس خواب اور اس تعبیر کے ڈر سے فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ جب ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل ہونے لگے تو فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے آکر کہا کہ بنی اسرائیل کی فقط عورتیں باقی رہ جائیں گی پھر بادشاہی حکم سے طرح طرح کی محنت مزدوری کے کام جو بنی اسرائیل کو سونپے گئے ہیں آخر وہ کیوں کر چلیں گے اس پر فرعون نے یہ حکم دیا تھا کہ ایک سال بنی اسرائیل کے لڑکے مارے جاویں اور ایک سال چھوڑ دیے جاویں حضرت ہارون ( علیہ السلام) تو اس سال میں پیدا ہوئے جو لڑکوں کے زندہ چھوڑ دینے کا سال تھا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) لڑکوں کے مارے جانے والے سال میں پیدا ہوئے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ان کی ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو صندوق میں ڈال کر دریا میں ڈال دیویں۔ یہ اوپر سورة یوسف میں گزر چکا ہے کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے زمانہ سے حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی اولاد جو بنی اسرائیل کہلاتی ہیں ملک شام سے مصر میں آن کر رہے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی وفات کے بعد جب فرعون کی حکومت ہوئی تو فرعون اپنی قبطی قوم کو تو عزت سے رکھتا تھا اور بنی اسرائیل کو غیر قوموں کے لوگ پا کر ذلت سے رکھتا تھا اور محنت مزدوری کے ذلیل کام ان سے لیتا تھا یہ قصہ تفسیر 1 ؎ سدی میں ہے یہ تفسیر ایک معتبر تفسیر ہے اس تفسیر میں اکثر روایتیں حضرت عبداللہ بن معسود اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اسماعیل سدی نے نقل کی ہیں سفیان ثوری اور شعبہ نے اکثر روایتیں اسماعیل سدی سے اپنی تفسیروں میں نقل کی ہیں اور ابن جریر (رح) نے بھی اپنی تفسیر میں جگہ جگہ اسماعیل سدی سے روایت کی ہے حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں بھی اکثر جگہ تفسیر سدی سے روایتیں نقل کی ہیں چناچہ اس قصہ کو بھی حافظ ابن حجر (رح) نے تفسیر سدی کے حوالہ سے فتح الباری میں نقل کیا 2 ؎ ہے اور اس کی سند پر کچھ اعتراض نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قصہ کی اصل ہے امام احمد (رح) نے اسماعیل سدی کو ثقہ کہا ہے اور ابن عدی نے صدوق ٹھہرایا ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اپنے خواب کی تعبیر سے ڈر کر فرعون نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اس کو مار ڈالا جائے اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا جائے بنی اسرائیل کے بےگناہ لڑکوں کو مار ڈالنا ایک ظلم تھا اسی واسطے فرعون کو دنیا میں خرابی ڈالنے والا فرمایا اس سے بڑھ کر اور پیدا ہونے والے لڑکوں کو یہ ظالم مروا ڈالنا صحیح مسلم کے حوالہ 3 ؎ سے جابر ؓ بن عبداللہ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام ٹھہرالیا ہے اور لوگوں کو بھی ظلم سے منع فرمایا ہے اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ ظلم کیسی خرابی کی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو خود بھی اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرایا اور لوگوں کو بھی اس کے برتاؤں سے روکا۔ اب آگے فرمایا کہ فرعون نے تو اپنے خواب کی تعبیر کے مٹانے کی بہت کوشش کی مگر تقدیر الٰہی کے آگے انسان کی تدبیر کیا چل سکتی ہے اللہ کا ارادہ ازلی تو یہ تھا کہ وہ بنی اسرائیل پر یہ احسان کرے کہ فرعون کو ہلاک کر کے بنی اسرائیل کو ملک شام میں بادشاہ اور مصر میں فرعون کا قائم مقام بنا دیوے تاکہ فرعون اس کا وزیر ہامان اور ان کے لشکر کے لوگ فرعون کی جس خواب کی تعبیر سے ڈرتے ہیں وہی تعبیر ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے اور فرعون کو خدائی کے دعویٰ کی اور اس کے ساتھیوں کو اس کا ساتھ نباہنے کی پوری سزا مل جاوے لکنا اس انتظام کی ظہور موسیٰ (علیہ السلام) کے پرورش پانے اور نبی ہونے پر منحصر تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے دل میں اللہ نے یہ بات ڈال دی تھی کہ جس سال لڑکے مارے جاتے تھے اس سال موسیٰ کے پیدا ہونے کا کچھ اندیشہ نہ کیا جاوے اور دودھ پلانے کے بعد بلا خوف بچہ کو ایک صندوق میں لٹا کر اس صندوق میں ایک رسی باندھ دی جائے اور اس رسی کے ایک سرے کو کسی پیڑ میں باندھ دیا جائے تاکہ اس بچہ پر کسی فرعونی کی نظر نہ پڑے اتنے سے بچہ کے دریا میں ڈالنے سے کچھ اندیشہ نہ کیا جاوے کیوں کہ اس بچہ کو ہر آفت سے بچانا اور صحیح سلامت ماں کے پاس لے آنا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنا ذمہ لیا ہے ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے رسولوں کے گروہ میں داخل کرنا چاہتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ 1 ؎ سے عبداللہ بن ؓ عمرو بن العاص کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے دینا میں جو کچھ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اس حدیث کو آیتوں کو تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کے ہزارہا لڑکوں کو قتل کرایا موسیٰ (علیہ السلام) کا جادو گروں سے مقابلہ ٹھہرایا غرض اس نے کوئی تدبیر اپنے خواب کی تعبیر کو اڑا دینے کی اٹھا نہیں رکھی لیکن دنیا سے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو بات لوح محفوظ میں لکھی جاچکی تھی وہ کسی تدبیر سے ٹل نہ سکتی قتادہ کا قول ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے دل میں جو بات اللہ تعالیٰ نے ڈالی وہ نبوت کی وحی نہیں تھی کیوں کہ نبوت کی وحی میں امت کی ہدایت کے طرح طرح کے احکام ہوتے ہیں جو اس الہام میں نہیں تھے اس لیے یہ الہام خاص دنیوی انتظام کا ایک الہام تھا نبوت کی وحی نہ تھی معتبر سند سے ترمذی میں انس بن مالک ؓ سے 2 ؎ اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 3 ؎ سے عورتوں کی فضیلت میں جو روایتیں ہیں لیکن بروایت مسند امام احمد (رح) ان میں حضرت خدیجہ ؓ فاطمہ ؓ مریم ؓ اور آسیہ ؓ فرعون کی بیوی ان چار عورتوں کا ذکر ہے علاوہ ان روایتوں کے اور بعضی صحیح روایتوں میں حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت کا بھی ذکر 4 ؎ ہے
ان سب روایتوں سے قتادہ قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا الہام اگر تبوت کی وحی کے برابر ہوتا تو وہ نبی ہوتیں اور عورتوں کی فضیلت کی حدیثوں میں ان کا ذکر ضرور ہوتا۔
(1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 27 پارہ 20 طبع جدید و تفسیر الدر المنثور ص 119 ج 5۔ )
(2 ؎ فتح الباری ص 248 ج 3 طبع دہلی۔ )
(3 ؎ صحیح مسلم ص 32 ج 2۔ )
) 1 ؎ مشکوۃ باب الایمان بالقدر۔ (
(2 ؎ مشکوۃ باب مناقب ازواج النبی ‘ )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 394 ح 4
(4 ؎ مثلا مشکوٰۃ ص 509 باب بدر الخلق۔ )
Ayahs 28:8–98 تا 9۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا مکان دریائے نیل کے کنارہ پر تھا ان کی ماں نے ایک صندوق بنایا اور اس میں بچھونا بچھایا اب فرعونیوں کے خوف سے دودھ پلانے کے بعد بچہ کو اس صندوق میں ڈال کر صندوق کو دریا میں چھوڑ دیاوہ بہ گیا یہاں تک کہ فرعون کے محل کے نیچے سے وہ صندوق گزرا لونڈیوں نے اس کو اٹھا کر حضرت آسیہ ؓ کے پاس پہنچا یا ان کو خبر نہ تھی کہ اس میں کیا ہے کھولا تو ایک لڑکا تھا اس کی محبت خدا نے حضرت آسیہ ؓ کے دل میں ڈالی یہ اس واسطے کہ خدا نے آسیہ ؓ کو نیک بخت اور فرعون کو بدبخت بنانے کا ارادہ کیا تھا جب فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا مگر حضرت آسیہ ؓ نے فرعون کو اس ارادہ سے روکا اور کہا کہ یہ لڑکا میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے فرعون نے کہا تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میری نہیں فرعون سے یہ بات اللہ تعالیٰ نے کہلوائی کیوں کہ حقیقت میں ایسا ہی ہوا کہ خدا نے موسیٰ ( علیہ السلام) کے سبب سے حضرت آسیہ کو ہدایت دی اور فرعون مردود کو ہلاک کیا حضرت آسیہ ؓ نے یہ بھی کہا کہ ہم اس لڑکے کو لے پالک بیٹا بنالیں گے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کی خبر اس کو نہ تھی۔ لیکون لھم عدوا وحزنا کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے کہ دین کی باتوں میں تو موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور فرعونیوں کے دشمن تھے اور دنیا میں فرعون اور فرعونیوں کی بربادی کا سبب تھے یہی مطلب آیت کے اس ٹکڑے کا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق قصہ کے انجام کے طور پر بڑھا کر آخر میں وھم لایشعون فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کو اس انجام کی خبر نہ تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ لوگ فرعون کا لے پالک بیٹا جان کر یہ خیال جو کرتے ہیں کہ فرعونی بادشاہت کو موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب سے کچھ مدد پہنچے گی ان لوگوں کا یہ خیال اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب سے فرعونی بادشاہت برباد ہو کر مصر سے فرعون پرستی بالکل جاتی رہے گی۔ کانو خاطیٔن کا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) بڑھ کر انہی لوگوں کے طریقہ پر رہیں گے یہ خیال بھی غلط ہے موسیٰ (علیہ السلام) تو بڑھ کر مصر کو فرعون پرستی سے بالکل صاف وپاک کردیں گے۔ سورة بقر میں گذر چکا ہے کہ انسان کو غیب کا علم نہیں ہے اس لیے انسان بعض باتوں کو اپنے حق میں اچھا جانتا ہے لیکن علم الٰہی میں وہ باتیں اس کے حق میں اچھی نہیں ہوتیں یہی حاصل موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کہ قصہ کا ہے کہ فرعونی لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا لے پالک بیٹا جان کر جن اچھے خیالوں میں لگے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ان کے وہ خیالات بےاصل تھے۔ معتبر سند سے مسند امام احمدمسند بزار اور مسند ابی یعلی میں ابو سعید ؓ خدری سے روایت 1 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کوئی ایمان دار شخص کسی بات کو اپنے حق میں اچھا جان کر اللہ تعالیٰ سے اس بات کے پورے ہوجانے کی دعاء کرتا ہے اور علم الٰہی میں وہ بات اس شخص کے حق میں اچھی نہیں ہوتی تو بجائے اس کے پوری ہونے کے کوئی برائی اس شخص پر جو آنے والی تھی وہ ٹل جاتی ہے اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ فرعونی لوگ اللہ کو نہیں پہچانتے تھے بلکہ فرعون کو اپنا معبود جانتے تھے اس واسطے ان کے دلی خیالات بھی پورے نہیں ہوئے اور خیالات کے پورے نہ ہونے کے عوض میں ڈوب کر مرنے کی برائی جو ان لوگوں پر آنے والی تھی وہ بھی ان کے سر پر سے نہ ٹلی مگر ایماندار لوگوں پر اللہ کی یہ رحمت ہے کہ ان کی کوئی خواہش ان کے حق میں اچھی نہیں ہوتی تو بجائے اپنی خواہش کے پورے ہونے کے کوئی آفت ان کے سر پر سے ٹل جاتی ہے۔
(1 ؎ الترغیب والترہیب ص 478 ج 2۔ باب الترغیب فی کثرۃ الدعاء الخ )
Ayahs 28:10–1310 تا 13۔ اگرچہ بعضے مفسروں نے اس آیت کے معنے یہ کئے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کا دل ہر طرح کے غم سے خالی تھا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں پہلے ہی یہ اطمینان الہام کے ذریعہ سے پیدا کردیا تھا کہ ان کا لڑکا دریا میں ڈال دینے سے ضائع نہ ہوگا اور صحیح سلامت پھر ان کے پاس آجائے گا لیکن یہ معنے قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہیں اسی واسطے حافظ ابو جعفرابن جریر نے اس معنے کو ضعیف ٹھہرایا ہے کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں نے بےقراری کے سبب سے حضرت موسیٰ کی بہن کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال دریافت کرنے کو بھیجا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کو اس قدر رنج اور پر یشانی تھی کہ اگر اللہ ان کا دل مضبوط نہ کردیتا تو کچھ در نہ تھا کہ وہ اپنے لڑکے کو دریا میں ڈال دینے کا قصہ ظاہر کر دیتیں اور اللہ نے ان کا دل غیب سے اس واسطے مضبوط کیا کہ ان کو اللہ کے اس وعدے کا پورا یقین رہے کہ ان کا لڑکا ان کے پاس پھر آجاوے گا تو اس قرآن شریف کے مطلب سے صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے دریا میں ڈالنے کے بعد حضرت موسیٰ کی ماں کو نہایت بےقراری تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس بےقراری کو رفع کرنے کی غرض سے ان کے دل کو مضبوط کیا اس لیے صحیح قول میں امام المفسرین عبد اللہ بن عباس ؓ نے بی معنے پسند کئے ہیں جو قرآن شریف کے مطلب کے موافق ہیں جس کا حاصل یہی ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کے دل میں اس قدر بےقراری تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کا دل مضبوط نہ کرتا تو وہ لوگوں کے سامنے اپنا سارا قصہ ضرور بیان کر دیتیں بعضے مفسروں نے یہ معنے بھی بیان کئے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کا دل اس سبب سے غم سے خالی ہوگیا تھا کہ انہوں نے سن لیا تھا کہ فرعون نے ان کے لڑکے کو اپنا بیٹا بنا لیا اور اسی خوشی سے وہ یہ قصہ لوگوں سے ظاہر کرنا چاہتی تھیں کہ جس لڑکے کو فرعون نے اپنا بیٹا بنایا ہے وہ ان کا ہی لڑکا ہے اس معنے کو بھی اکثر مفسروں نے ضعیف قرار دیا ہے غرض قرآن شریف کے مضمون سے لگتے ہوئے وہی معنے ہیں جو اوپر بیان کئے گئے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب وہ صندوق دریا میں بہ گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کی جدائی کے غلم میں موسیٰ ( علیہ السلام) (علیہ السلام) کی ماں کا دل یہاں تک بےقرار ہوگیا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کے دل میں انا راد وہ کے وعدہ کا یقین نہ پیدا کردیتا تو وہ اپنے لڑکے کا سارا قصہ لوگوں سے کہہ دیتیں اس پر بھی موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے یہ بےقراری کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو صندوق کے پیچھے یہ سمجھا کر بھیجا کہ اجنبی بن کر اس صندوق کو دیکھیں کہ کہاں بہ کرجاتا ہے۔ یہ تو اوپر گذر چکا ہے کہ جب وہ صندوق فرعون کے محل کے نیچے پہنچا تو آسیہ ؓ کے پاس پہنچ گیا اور جب وہ صندوق کھولا گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو صندوق کے پیچھے یہ سمجھا کر بھیجا کہ اجنبی بن کر اس صندوق کو دیکھیں کہ کہاں بہ کرجاتا ہے۔ یہ تو اوپر گذر چکا ہے کہ جب وہ صندوق فرعون کے محل کے نیچے پہنچا تو آسیہ ؓ کے پاس پہنچ گیا اور جب وہ صندوق کھولا گیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی محبت آسیہ کے دل دل میں ڈال دی اب اس محبت کے جوش میں آسیہ نے کئی انائیں موسیٰ (علیہ السلام) کے دودھ پلانے کے لیے بلوائیں مگر اپنی ماں کے آنے سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی انا کی چھاتی منہ میں نہ پکڑی یہ حال دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے لوگوں سے کہا کہ میں تم کو ایسی انا کا پتہ بتلاتی ہوں جس کے پاس یہ بچہ اچھی طرح پرورش پاسکتا ہے۔ اب اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں وہاں بلائی گئیں اور ان کا بچہ دودھ پلانے کے لیے ان کے حوالہ ہوگیا۔ آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام اس لیے کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی تسکین ہوجائے اور اللہ کے وعدے کو وہ سچا جان لیویں پھر فرمایا اکثر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اللہ کے سب وعدے سچے ہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایت کئی جگہ گذر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے بدر کی لڑائی میں مشرکوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تم لوگوں نے اللہ کے وعدے کو سچا پالیا اس حدیث کو آیتوں کو تفسیر میں جو دخل ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین کہ اگرچہ اس وقت اس بات کو نہیں سمجھ سکتے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کے وعدہ کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے پورا کیا اسی طرح اس کا عذاب آخرت کا وعدہ ایک دن پورا ہونے والا ہے لیکن دنیا سے اٹھنے کے ساتھ ہی ان ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے سچا ہونے کی حالت اچھی طرح معلوم ہوجائے گی۔
Ayahs 28:14–2614 تا 26۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نابالغی اور بچپن کا حال بیان کردیا تو فرمایا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ گئے اور دشمن کے گھر پرورش پاکر سب طرح سنبھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم اور سمجھ دونوں عنایت کئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے نکل کر مدین میں پہنچنے کا سبب بیان فرمایا کہ ایک دن موسیٰ (علیہ السلام) مصر کے بازار میں تھے کہ انہوں نے دو شخصوں کو لڑتے ہوئے دیکھا جن میں ایک ان کے گروہ میں سے تھا اور دوسرا ان کے دشمنوں سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حین غفلۃ کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ وہ دوپہر کا وقت تھا اسرائیل نے فریاد کی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونی کے ایک گھونسا مارا جس سے وہ فرعونی مرگیا تو فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ شیطانی کام ہے۔ وہ کھلا دشمن ہے بہکانے والا موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کی کہ اے رب میرے، ظلم کیا میں نے اپنی جان پر پس بخشش کر میرے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ چوک بخش دی کہ وہ بڑا بخشش کرنے والا مہربان ہے موسیٰ (علیہ السلام) کا ارادہ اس قبطی کے مار ڈالنے کا نہ تھا اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے مرنے کے بعد پچھتائے اور اس کو ریت میں دفن کردیا اور اپنے اس قصور پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ہمیشہ پشیمان رہے یہاں تک کہ قیامت کے روز جب لوگ ان سے شفاعت کرانا چاہنگے تو وہ فرمائیں گے اِنِّی قَتَلْتُ نَفْسًا لَّمْ اُوْمَرْ بِقَتْلِھَا جس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ایک جان کو قتل کر ڈالا جس کا مجھ کو حکم نہ تھا یہ ٹکڑا شفاعت والی حدیث کا ہے جو صحیح بخاری اور مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث 1 ؎ سے ہے
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اسرائیلی مظلوم کی یہ مدد کی تھی کہ اس سے اس کے ظالم دشمن کو دفع کیا تھا لیکن اتفاق سے وہ قبطی مرگیا غرضیکہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی کو مار ڈالا تو صبح کے وقت راہ دیکھتے اٹھے کہ مقتول کے وارث فرعون کے پاس فریادی گئے ہوں گے دیکھا چاہئے کہ کس کے اوپر خون ثابت ہوا بھی تک یہ بات پوشیدہ تھی کہ کس نے مارا کہ ناگہاں وہی شخص جس کی مدد میں موسیٰ (علیہ السلام) نے کل فرعونی کو مارا تھا دوسرے فرعونی کے ساتھ جھگڑ رہا تھا جب حضرت موسیٰ اس پر سے گذرے تو پھر اس نے فریاد کی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے خفا ہو کر اس سے کہا کہ تو تو صریح بےراہ ہے کہ ہر روز ہر ایک سے الجھتا ہے اور مجھے لڑواتا ہے پھر جب اس ظالم پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ہاتھ ڈالنا چاہا تو مظلوم نے جانا کہ مجھے مارنا چاہتے ہیں کیوں کہ مجھ ہی پر خفا ہوئے ہیں اور اپنے بچانے کے واسطے کہتے لگا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) تم چاہتے ہو کہ جس طرح تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا اسی طرح مجھ کو بھی آج مار ڈالو اس سے پیشتر پہلے روز کا معاملہ سوائے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور اس اسرائیلی کے کوئی اور نہیں جانتا تھا فرعونی نے قتل کیا ہے فرعون بہت غضبناک ہوا اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے مارنے کا ارادہ کیا اور کئی پیادے مقرر کئے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو تلاش کر کے لاویں ‘ اتنے میں پیادوں کے آنے سے پہلے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے آن کر کہا کہ اے موسیٰ ( علیہ السلام) تم اس شہر سے کہیں اور چلے جاؤ فرعونی لوگ تمہارے مارنے کی صلاح کر رہے ہیں میں تمہارا خیر خواہ ہوں اس لیے میں نے تم کو یہ خبر دی ہے اس شخص کا نام حزقیل تھا فرعون کے لوگوں میں سے یہی مسلمان تھا اقصی المدینہ شہر کے دوسرے کنارے کو کہتے ہی مطلب یہ ہے کہ وہ اتنا تیز آیا اور نزدیک کا راستہ اختیار کیا کہ فرعون کے سپاہی سے پہلے موسیٰ ( علیہ السلام) تک پہنچ گیا اور ان کو فرعون کے ارادہ سے آگاہ کردیا اس وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تنہا شہر سے باہر نکلے اور اس سے پیشتر انہوں نے کبھی سفر نہیں کیا تھا اتنی عمر عیش و عشرت میں گذاری تھی ڈرتے ہوئے شہر سے نکلے بعضے مفسروں نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ گھوڑے پر سوار بھیجا اس نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو راستہ بتایا غرضیکہ مدین کی طرف متوجہ ہو کر کہا مجھ کو امید ہے کہ میرا پروردگار مجھ کو سیدھے راستہ پر لے جاوے جب مدین کے پانی پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک کنویں پر لوگ اپنی بکریوں کو پانی پلا رہے ہیں اور دو عورتیں اپنی بکریوں کو رو کے ہوئے الگ کھڑی ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان عورتوں سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں ان کے ساتھ اپنی بکریوں کو پانی پلاتیں انہوں نے کہا کہ جب یہ لوگ فارغ ہو کر چلے جائیں گے تو ان کا بچا ہوا پانی ہم اپنی بکریوں کو پلاویں گے کیونکہ ہم خود تو پانی کا ڈول کھینچ نہیں سکتے اور ہمارے باپ بہت بوڑھے ہیں معتبر سند سے مصنف ابوبکر ابن ابی شیبہ میں حضرت عمر ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ جب کنویں پر کے لوگ اپنی بکریوں کو پانی پلا چکے تو کنویں کے منہ پر انہوں نے ایک پتھر رکھ دیا جس کی دس آدمی اٹھاتے تھے یہ حال دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) پتھر کے نزدیک آئے اور اس کو اٹھایا اور ان دونوں عورتوں کی بکریوں کو اچھی طرح پانی پلادیا اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ نے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے جو مدین تک سفر کیا تو ان کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی اور ننگے پاؤں تھے
مدین تک ابھی نہ پہنچے تھے کہ پاؤں کے تلووں میں چھالے پڑگئے تھے اور تلووں کی کھال اتر پڑی تھی درخت کے سایہ میں بیٹھے مدین فرعون کی عملداری سے باہر مصر سے دس دن کے راستے تھے اور وہ دو عورتیں جو اپنی بکریوں کو روکے کھڑی تھیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیاں تھیں حضرت شعیب (علیہ السلام) بیٹیوں کے بکریاں چرانے پر خوش تھے کیونکہ کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں چناچہ صحیح بخاری کی ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ میں اس کا ذکر ہے غرضیکہ جب وہ دونوں لڑکیاں ہر روز کی بہ نسبت سویرے سے بکریاں لے کر اپنے باپ کے پاس آئیں تو باپ کو تعجب ہوا جب لڑکیوں کو زبانی سے قصہ سنا تو باب نے ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بلانے کو بھیجا وہ آئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بلانے کو بھیجا وہ آئی اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا میرا باپ تم کو بلاتا ہے کہ پانی پلانے کی اجرت دے معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عمر ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ وہ آستین سے منہ ڈھانک کر آئی غرضیکہ جب موسیٰ (علیہ السلام) حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس آئے اور انہوں نے اپنی وہ سرگذشت بیان کی کہ جس کے سب سے مصر سے نکلے تو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا اب کچھ نہ ڈرو تم ظالم قوم کے ظلم سے بچ گئے مطلب یہ کہ تم ان کی عملداری سے باہر نکل آئے کہ یہاں ان کی حکومت نہیں ہے اس میں اختلاف ہے کہ کونسی لڑکی نے دونوں میں سے یہ کہا کہ ائے باپ اس کو مزدوری پر نوکر رکھ لو بعض نے کہا جو لڑکی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بلانے گئی تھی اس نے کہا کہ اے باپ اس کو بکریاں چرانے کے اسطے نو کر رکھ لو اور جب لڑکی نے یہ بات کہی کہ یہ صاحب قوت اور امانت دار ہے تو باپ نے کہا تجھ کو اس شخص کی طاقت اور امانت کا حال کیونکہ معلوم ہوا اس نے جواب میں کہا کہ کنویں کے منہ پر سے اس پتھر کو اٹھا لیا جس کو دس آدمی اٹھاتے ہیں اور جب وقت میں اس کو بلا کر لائی تو اس کے آگے آگے چلتی تھی اس نے کہا کہ میرے پچھے پیچھے چل جب کوئی راستہ نیا آوے یا کئی راہیں ہوں تو جونسے راستے پر چلنا مقصود ہو اس کی طرف کنکر پھینک دے میں سمجھ جاؤں گا کہ اس طرح جانا ہے اتیناہ حکما وعلما کر تفسیر میں مجاہد کا قول ہے کہ انبیاء کو نبوت سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی جان لینے کی سمجھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی ہے جس سے انبیاء اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے کا حکم قائم کرلیتے ہیں اسی کو انتباہ حکما وعلما فرمایا سورة انعام میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جو قصہ گذر چکا ہے کہ انہوں نے سورج چاند اور تاروں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک جان لیا اس سے اور صحیح بخاری 1 ؎ کی حضرت عائشہ ؓ کی اس حدیث سے جس میں یہ ذکر ہے کہ نبوت سے پہلے آنحضرت ﷺ غار حرا میں جاکر خالص اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے مجاہد کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ انبیاء کو نبوت سے پہلے توحید کی سمجھ اللہ تعالیٰ طرف سے دی جاتی ہے آگے آتا ہے کہ نبوت سے پہلے کی اس حالت کے دس برس کے بعد مدین سے مصر کو واپس آتے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی ہے اس لیے جن مفسروں نے نبوت سے پہلے کی اس حالت کی تفسیر نبوت کو قرار دیا ہے وہ تفسیر صحیح نہیں ہے صحیح بخاری ومسلم 2 ؎ میں سلیمان بن صرد سے روایت ہے جس آنحضرت ﷺ نے غصہ کے وقت اعوذ بااللہ من الشیطان الرحیم پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو غصہ شیطان کے بہکانے سے آتا ہے جو اعوذ کے پڑھنے سے جاتا رہتا ہے۔ غصہ کی حالت میں فرعون کے شخص کے گھونسا مارنے کو موسیٰ (علیہ السلام) نے شیطانی کام جو کہا اس کی تفسیر اس حدیث سے اچھی طرح متجھ میں آسکتی ہے یہ سلیمان بن صرد کو فی صحابہ میں ہیں حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایت ہے گھونسا مارنے سے بطور عادت کے آدمی نہیں مرتا اس لیے یہ قتل خطا کی صورت تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) سے ظہور میں آئی مقتول کے وارث بغیر عہد والے مشرک تھے اس واسطے بغیر خون بہا کے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی خطا کو معاف کردیا صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے اپنی نوے بیبیوں سے نوے لڑکے پیدا ہونے کی قسم کھائی مگر انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لیے کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا یہ حدیث اس بات کی تفسیر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی فَلَنْ اکون ظھیر المجرمین کے بعد انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لیے دوسرے دن پر وہی قصہ پیش آیا “
1 ؎ الترغیب والترہیب ص 444 ج 4 باب فی الشفاعۃ وغیرہا۔ )
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 24 1 ج 5 )
2 ؎ ایضا
(1 ؎ مشکوٰۃ باب المبعث وبدء الوحی۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 384 ج 3 )
(1 ؎ مشکوٰۃ باب المبعث وبدء الوحی )
(2 ؎ الترغیب والترہیب ص 450 ج 3‘ )
(3 ؎ مشکوٰۃ باب بدء الخلق وذکر الانبیاء ( علیہ السلام) ۔ )
Ayahs 28:27–2827 28۔ علماء مفسرین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں بڑا اختلاف کئی باتوں میں کیا ہے پہلی یہ کہ مصر سے جاکر جن بزرگ سے مدین میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ملے وہ بزرگ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے یا دوسرے کوئی شخص تھے دوسرے یہ کہ ان بزرگ کی چھوٹی لڑکی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوا یا بڑی سے دوسرے یہ کہ ان بزرگ سے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ شرط جو ٹھہری تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان بزرگ کے پاس کم سے کم آٹھ برس رہ کر ان بزرگ کی بکریاں چرائیں اور اگر ہو سکے تو اور دو برس اپنی طرف سے اور اپنی خوشی سے پورے کریں پھر یہ نہیں معلوم ہوا کہ مدین میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کو گئے تو وہاں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی جن بزرگ کا نام اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر نہیں کیا اور ان بزرگ کی ایک بیٹی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوا خواہ چھوٹی خواہ بڑی اور آٹھ برس یادس برس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں رہے لیکن مفسرین نے جب ان باتوں کو اپنی تفسیروں 1 ؎ میں ذکر کر کے آپس میں اختلاف بھی کیا ہے تو اس اختلاف میں غلبہ کدہر ہے اور نتیجہ اس اختلاف کا کیا ہے اس کا ذکر مختصر طور پر کردیا جاتا جاتا وہ یہ ہے کہ روایت طبرانی اور تفسیر حسن بصری اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بزرگ حضرت شعیب ( علیہ السلام) تھے اب جو مفسران روایتوں کے خلاف میں ہیں ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب اور حضرت لوط کا زمانہ قریب قریب تھا کیوں کہ حضرت شعیب نے اپنی امت کو وما قوم لوط منکم یعید۔ کہہ کر ڈرایا ہے اور حضرت موسیٰ اور حضرت لوط کے زمانہ میں چار سو برس کے قریب کا فرق ہے حضرت شعیب حضرت موسیٰ کے زمانہ تک کیوں کر زندہ رہ سکتے ہیں اس کا جواب مفسرین نے یہ دیا ہے کہ حضرت شعیب کی عمر بہت بڑی ہوئی ہے دوسرا اعتراض یہ ہے کہ وہ بزرگ اگر حضرت شعیب ہوتے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کا نام قرآن شریف میں ذکر فرماتا اس کا جواب ہے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے وابونا شیخ کبیر جو فرمایا ہے یہ ان بزرگ کی لڑکیوں کا قول ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تذکرہ کے طور پر فرمایا ہے اور یہ بات دنیا میں ایک عادت ہے کہ اولا داپنے باپ کا نام کم لیا کرتی ہے اس لیے قرآن شریف کے اس قصہ میں ان بزرگ کے نام لینے کا موقع نہیں تھا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے اس قصے کی جن روایتوں میں حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا نام آیا ہے وہ روایتیں ضعیف ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سب روایتوں کو ملانے سے ایک روایت کو دوسرے سے قوت ہوجاتی ہے علیٰ الخصوص جبکہ عتب بن منذر کی معتبر روایت میں حضرت شعیب کا نام موجود 2 ؎ ہے تو پھر اب باقی کی دو باتیں اختلاف کی راہیں اس اختلاف کا رفع یہ ہے کہ صحیح بخاری اور مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس سے اور مسند بزار میں حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دس برس تک مدین میں رہے اور ابوذر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت شعیب کی چھوٹی لڑکی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوا اور تفسیر ابن ابی حاتم میں عوید بن عمران اور عتبہ بن منذر کی جو روایتیں ہیں وہ بھی مسند بزار کے موافق ہیں جس روایت میں کچھ ضعف ہے۔ اس کا حال یہ ہے کہ ایک روایت کو دوسری روایت سے تائیدہو جانے کے بعد وہ ضعف جاتا رہتا ہے ابوذر کی مسند بزار کی حدیث میں سند اسحاق بن ادریس راوی میں کلام ہے 2 ؎ لیکن طبرانی صغیر اور اوسط کی سند میں یہ راوی نہیں ہے اسی واسطے مجمع الزوائد میں اس سند کو معتبر قرار دیا ہے 3 ؎ حاصل کلام یہ ہے کہ اختلاف کی یہ جانب ایسی ہے جس کی سند روایتی ہے اور دوسری جانب ایسی ہے کہ محض عقلی ہے اور یہ ایک مسلم الثبوت بات ہے کہ تفسیر کے باب میں جانب روایتی ‘ عقلی پر غالب ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ شعیب (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم اگر اس شرط پر راضی ہو کہ آٹھ برس یہاں مدین میں رہ کر میری بکریاں چراؤ تو ان دونوں لڑکیوں میں سے اپنی ایک لڑکی کا نکاح میں تمہارے ساتھ کرنا چاہتا ہوں اور اگر اس شرط سے بڑھ کر اور دو برس تم یہاں رہو تو یہ تمہارا احسان ہے میں دو برس کی زیادتی میں تمہارے اوپر کچھ زبردستی نہ کروں گا اور اللہ نے چاہا تو تم مجھ کو حسن اخلاق اور وعدہ کا پورا کرنے میں نیک خصلت پاؤ گے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا یہ شرط مجھ کو منظور ہے آٹھ برس تو ضرور میں یہاں رہوں گا اس کے بعد دو برس کی زیادتی میرے اختیار پر چھڑ دی جائے جائے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس جواب کے بعد معاہدہ پوا ہوگیا اس لیے شعیب (علیہ السلام) نے کہا اب ہم اس معاملہ کے پورا ہوجانے کا اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں وہ اس معاہدہ کی سچائی سے پورا کر دے صحیح بخاری و مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت 4 ؎ ہے جس میں آنحضٗرت نے سچ بولنے کو جنت کا راستہ فرمایا ہے اس حدیث سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مسلمان آدمی کو ہر معاملہ میں سچ بولنے کی عادت کا پابند ہونا کتنے بڑے مرتبہ کی بات ہے اس لیے ایماندار آدمی کو شعیب (علیہ السلام) کی طرح اللہ پر بھروسہ کرکے ہر معاملہ میں سچ بولنے کی عادت لازم ہے۔
1 ؎ ایضاً تفسیر ابن کثیر
2 ؎ مجمع الزوائد ص 7
3 ؎ ایضاً
4 ؎ مشکوٰۃ ص 412 باب حفظ اللسان والغیبۃ والشتم
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 385‘ 386 ج 3 تفسیر روح المعانی۔ )
(2 ؎ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) کے رسالۃ فی قصہ شعیب (علیہ السلام) “ میں بھی یہ تحقیق فرمائی گئی ہے کہ یہ بزرگ حضرت شعیب نبی نہیں تھے بلکہ کوئی دوسرے تھے رجامع الرسائل لابن تیمیہ ص 64‘ 6 جلد اول) ۔ (ع ‘ ح)
Ayahs 28:29–3429 تا 34۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا اور وہ شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بی بی اور بکریاں تھیں جو شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا اور اندھیری رات میں راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا تم ٹھہرو میں جاتا ہوں تاکہ راستہ کی کچھ خبر لاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتا آؤں جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کے جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) تعجب ہوا اتنے میں میدان کے داہنے کنارے کے درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تمام جہان کا پالنے والا اللہ رب العالمین ہوں معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ انہوں نے اس درخت کو دیکھا جس کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز آئی وہ کی کر کا درخت تھا نہایت سبز ‘ پھر فرمایا اے موسیٰ ڈال دے اپنی لکڑی جو تیرے ہاتھ میں ہے انہوں نے وہ لکڑی ہاتھ سے ڈال دی تو وہ سانپ بن کر دوڑنے لگی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ڈر کر پیٹھ پھیری اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آگے اے موسیٰ اور خوف نہ کر بیشک تو امن والوں میں سے ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلی جگہ آکر کھڑے ہوگئے پھر فرمایا اپنا ہاتھ بغل میں دبا اور پھر نکال کہ وہ بغیر کسی مرض کے سفید ہوجائے گا اور اس میں سورج کی سی چمک ہوگی پھر فرمایا اگر لکڑی کے سانپ بن جانے اور ہاتھ کے چمکدار ہوجانے سے کچھ ڈر لگے تو سینہ پر ہاتھ رکھ لینے سے یہ ڈر جاتا رہے گا پھر فرمایا یہ دونوں معجزے ہیں تیرے رب کی طرف سے ایک تو عصا کا سانپ ہوجانا دوسرا ہاتھ کا گریبان سے سفید چمک دار نکلنا فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف دونوں معجزے خدا نے بھیجے ہیں کہ وہ لوگ بےحکم ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ یہ دونوں معجزے لے کر فرعون کے پاس جاؤ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں نے تو ایک قبطی کو قتل کیا ہے میں ڈرتا ہوں کہ جب وہ لوگ مجھ کو دیکھیں گے تو جان سے مار ڈالیں گے اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان کا ہے کیونکہ میری زبان میں توتلا پن ہے ‘ اس لیے ہارون کو میرا مددگار مقرر فرمایا جائے تاکہ وہ میرے کلام کی تائید کرے کس لیے کہ توتلے پنے کے سبب سے مجھ کو خوف ہے کہ وہ لوگ میرے جھٹلانے پر آمادہ ہوجاویں گے اس کے جواب میں فرمایا اے موسیٰ ہم ہارون کو تمہارا قوت بازو ٹھہراتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ ان معجزوں کے سبب سے تمہارے اور تمہارے ساتھیوں پر کوئی غالب نہ آسکے گا۔ معتبر سند سے مسند بزار مسند ابی لیلیٰ اور مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ ؓ بن عباس سے روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے موسیٰ (علیہ السلام) کے مدین میں رہنے کی مدت کا حال پوچھا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے جواب دیا موسیٰ (علیہ السلام) شرط کی پوری مدت تک مدین میں رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دس برت تک مدین میں رہے یہ حدیث فلما قضی موسیٰ الاجل کی گویا تفسیر ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت اس باب میں جو اوپر گزر چکی اگرچہ وہ ان کا قول ہے لیکن اس تفسیر میں یہ بات ایک جگہ بیان کردی گئی ہے کہ تفسیر کے باب میں صحابہ ؓ کا صحیح قول حدیث نبوی کے حکم میں ہوتا ہے خصوصاً حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا صحیح قول تفسیر کے باب میں بڑا معتبر ہے سورة النمل میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث جو گذر چکی ہے وہی انس من جانب الطورنارا کی بھی تفسیر ہے اس میدان میں نور الٰہی کی برکت تھی اس لیے اس کو بقعہ مبارک فرمایا ہے فرقہ جہمیہ کا یہ اعتقاد ایک جگہ گذر چکا ہے کہ کوہ طور کے پاس جو کی کر کا درخت تھا اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک آواز پیدا کردی تھی وہی آواز موسیٰ (علیہ السلام) نے سنی کیوں کہ خود بات چیت کرنے کے لیے زبان اور ہونٹوں کی ضرورت ہے اور ان چیزوں سے اللہ پاک ہے اہل سنت نے آیت انی انا اللہ رب العالمین سے اس اعتقاد کو یوں غلط ٹھہرایا ہے کہ اگر کی کر کا درخت یہ لفظ کہتا تو وہی درخت موسیٰ (علیہ السلام) کا معبود بن جاتا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس درخت کو معبود جانتے تو نعوذ باللہ من ذالک مشرک ٹھہرتے۔ اہل سنت نے یوں بھی اس عتقاد کو غلط ٹھہرایا ہے کہ سورة حم السجدہ میں یہ جو ذکر ہے کہ بغیر زبان اور ہونٹوں کے آسمان اور زمین نے اتینا طاعین کہ کر اللہ تعالیٰ کے حکم کا جو جواب دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے بات چیت میں زبان اور ہونٹوں کا ہونا کچھ لازمی چیز نہیں ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 2 ؎ سے عدی ؓ بن حاتم کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر شخص سے بلا واسطہ بات چیت کرے گا ‘ اس حدیث سے بھی فرقہ جہمیہ کے اعتقاد کی غلطی اچھی طرح ثابت ہوتی ہے کیوں کہ اس میں کلام الٰہی کے ساتھ کسی واسطے کا ذکر نہیں ہے اس سورة میں یہ ذکر تفصیل سے نہیں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی زبان کے توتلے پنے کی جو شکایت کی تھی اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے کیا دیا لیکن سورة طہٰ میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ شکایت بی اتنی رفع فرمادی تھی کہ لوگ ان کی بات کو سمجھ لیتے تھے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے فرعون کی قوم کے ایک شخص کے مارے جانے کا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کے جل جانے کا اور اسی سبب سے اس میں توتلاپن پیدا ہوجانے کا قصہ اوپر گزر چکا ہے یہاں تو مختصر طور پر اتنا ہی فرمایا کہ اے موسیٰ ہم ہارون کو تمہارا قوت بازو ٹھہراتے ہیں لیکن سورة مریم میں گزر چکا ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کے لیے ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی۔
(1 ؎ تفسیر الدرالمنثور 126 ج 5 تفصیلی کے لیے دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 386‘ 387 ج 3 )
(2 ؎ مشکوۃ باب الحساب والقصاص والمیزان فصل اول۔ )
Ayah 28:3535۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ فرعون کے ساتھ اگرچہ بہت کچھ بھیڑ بھاڑ لشکر یک تھی اور اس لشکر کے مقابلہ میں ادھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کل دوہی شخص تھے لیکن حضرت موسیٰ ہی اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کے موافق ہیمشہ فرعون اور اس کے ساتھیوں پر ایسے غالب رہے کہ فرعون اور اس کے ساتھ عاجز آگئے اور باوجود اس قدر لاؤ لشکر کے دو آدمیوں کا مقابلہ نہ کرسکے پہلے برسر میدان جادو گروں نے مقابلہ کیا وہ عاجز ہو کر مسلمان ہوگئے پھر قحط پڑا تو ایسا ہی کہ جنگل میں تمام کھیت اور شہر میں تما باغ خشک ہوگئے پھر آٹھ روز تک مینہ بر ساتو ایسا ہی برسا کہ بنی اسرائیل کو کچھ صدمہ نہ پہنچا اور قبطیوں کی زراعت ان کے باغ مکانوں کی چھتیں بدن کے کپڑے اور گھر کا سب سامان ٹڈیوں نے کھا کر برابر کردیا پھر جچڑیوں کا وبال ایسا ہی آیا جس سے ہر ایک قبطی زیست سے بےزار ہوگیا پھر مینڈکوں کا وبال ایسا ہی آیا کہ کھانے پینے میں جہاں دیکھوں وہاں مینڈک تھے یہاں تک کہ پکتی ہنڈیا اور گرم تنور سب میں مینڈک ہی بینڈک تھے پھر خون کا عذاب ایسا ہی آیا تمام پینے کا پانی یہاں تک کہ نیل دریاسب خون ہی خون ہوگیا غرض سورة اعراف میں ان و بالوں کی تفصیل گذر چکی ہے کہ جادو گروں کے مسلمان ہونے کے زمانہ سے فرعون کے غرق ہونے کے زمانہ تک چالیس برس کے قریب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد میں غیب سے یہی آنتیں فرعون پر آئیں اور اس کے ساتھیوں نے رسول وقت کی فرما نبر داری قبول نہ کی تو آخر کو ایک دم غرق ہو کر سب ہلاک ہوگئے حاصل کلام یہ ہے کہ مدد غیبی کے سبب سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت ہارون دونوں بھائیوں کو اور ان کے طفیل سے نبی اسرائیل کو فرعون اور اس کے ساتھیوں پر جو کچھ غلبہ رہا ہے اس غلبہ کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس وقت فرمایا ہے جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ کو نبوت ملی ہے اس وعدہ کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ اور جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے اسی طرح کتب اللہ لاغلبن و رسلی کے موافق ہر رسول سے اللہ تعالیٰ کی مدد غیبی کا وعدہ ہے اور اس وعدے کا یہ ظہور ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ تک جو صاحب شریعت نبی ہیں۔ آخر کو ان کا ہی غلبہ رہا اور ان کے مخالف طرح طرح کے و بالوں سے ہلاک ہوگئے۔ اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے مدد غیبی کا وعدہ فرمایا ہے اسی طرح سچے دل سے جو لوگ اللہ کے رسولوں کے فرما نبر دار ہیں ان کی مدد کا بھی اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے چناچہ سورة غافر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے انا لننصر رسلنا والذین آمنو فی الحیوٰۃ الدنیا ویوم یقوم الا شھاد مطلب یہ ہے کہ رسولوں اور ایمانداروں کو دنیا اور عقبیٰ میں مدد دینے کا اللہ کا وعدہ ہے امتحان کے طور پر اللہ کے رسولوں کے سچے فرما نبرداروں کو مخالفوں کے ہاتھ سے کچھ تکلیف پہنچ گئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے موافق پھر مخالفوں سے پورا بدلہ لیا ہے حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) اور حسین ؓ شہید کے بدلہ میں ہزا رہا آدمی قتل ہوئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے جیسی تکلیف دی اللہ تعالیٰ نے اہل روم کو پھر ان پر مسلط کیا اور ویساہی ان سے بدلہ لیا مکہ میں آنحضرت ﷺ کی تکلیف کے درپے جو لوگ تھے جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی مدد بھیج کر کیا کچھ ان کو ذلیل کیا یہ سب کچھ تو دنیا کی مدد غیبی کا ذکر ہوا جو لوگ اللہ کے عہد پر پورے قائم رہیں گے اور اللہ کے رسولوں کی پوری فرمانبرداری کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مدد آخرت کا جو ان سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ایک نیکی کا دس سے لے کر سات سو تک بدلہ اور بہت سے گناہوں سے درگزر کرے گا اس اپنے وعدے کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ضرور پورا فرمائے گا اوفو بعھدی اوف بعھد کم پر ہر مسلمان کو پورا ایمان رکھنا چاہیے اور اپنی عہد کو خالص دل سے پورا کرنا چاہیے ‘ پھر اللہ کے عہد کا اپنے وقت پر ضرور ظہور ہونے والا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎ سے معاذبن جبل ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ لوگ خالص دل سے اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اور اس حق کے پورا ہوجانے کے بعد بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ ان کو اپنے عذاب سے بچادے یہ حدیث اور بندوں کے عہد اور اس کہ پورا ہونے کی گویا تفسیر ہے
(1 ؎ مشکوۃ کتاب الایمان )