Ayahs 28:76–8476 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی جماعت پر بھاری تھیں اس لیے وہ اترا گیا اور جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ مت اترا کہ اللہ کو بھاتے نہیں اترانے ولے اور جو تجھ کو خدا نے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر چاہ اور نہ بھول حصہ اپنا دنیا سے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مال خطیر خدا کی اطاعت میں خرچ کر اور بھلائی کر خدا کی مخلوق کے ساتھ جیسے بھلائی کی خدا نے تیرے ساتھ اور نہ فساد کر زمین میں جس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق خدا کے ساتھ برائی نہ کر اللہ مفسدوں کو دوست نہیں رکھتا قارون نے اپنی قوم کے لوگوں کی نصیحت کا یہ جواب دیا کہ یہ مال مجھ کو میری عقل مندی کے سبب سے ملا ہے میں مال کمانا جانتا ہوں اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی عنائیت سے مجھ کو یہ مال داری کی فضیلت دی ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا اس کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہلاک کرچکا ہے پہلے بہت لوگ جو قاروں سے قوت اور مال میں زیادہ تھے مثلا فرعون کہ وہ قوت اور مال میں زیادہ تھا اگر مال اور قوت باعث فضیلت ہوتا تو اس کو ہلاک نہ کرتا اور نہ پوچھیں جائیں گے مجرم ان کے گناہوں سے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے اس طرح کا سوال نہ ہوگا جس میں ان کو عذر کرنے کی گنجائش رہے بلکہ بےجا عذروں کے نہ سننے کے لیے ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی لیجا کر ان فیصلہ ہوجائے گا چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے اس باب میں انس بن مالک کی حدیث ایک 1 ؎ جگہ گذر چکی ہے آگے فرمایا کہ ایک روز قارون اپنی قوم کے روبرو بڑی طیاری و سامان سے نکلا جب دنیا کے طلب گاروں نے یہ دیکھا تو تمنا کی کہ کسی طرح ہم کو بھی ایسا ہی سامان ملتا اور یہ بھی ان دنیا کے طلب گاروں نے کہا کہ قارون بڑا نصیبے والا ہے جب ان کی یہ بات قوم کے علم والوں نے سنی تو کہنے لگے کیوں خرابی میں پڑے ہو اللہ کا دیا ہوا ثواب دنیا کے مال ومتاع سے بہتر سے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے گھر کو اور اس کو زمین کے اندر دھنسادیا اکثر مفسروں کا قول ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بدعاء سے قارون زمین میں دہسا۔ چناچہ معتبر سند 2 ؎ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ قارون نے ایک فاحشہ عورت کو اس شرط پر کچھ مال دیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بدکاری کی تہمت لگائے جب اس نے تہمت لگائی تو آپ خدا کے ڈر سے کانپ گئے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس عورت سے کہا کہ میں تجھ کو قسم دیتا ہوں اس ذات پاک کی جس نے دریا کو پھاڑ دیا اور فرعون سے نجات دی مجھ کو ضرور اس شخص کا بتا جس نے تجھ کو اس بات کے کہنے پر آمادہ کیا اس نے کہا جب آپ نے قسم دے کر مجھ سے سچا حال دریافت کیا ہے تو اب میں کہتی ہوں کہ اس تہمت کے لگانے پر قارون نے مجھ کو اس قدر مال دینا کیا ہے اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سجدہ میں گر پڑے اور قارون کے حق میں بدعا کی اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی کہ اللہ نے زمین کو حکم دے دیا کہ وہ قارون کے باب میں تمہاری فرماں برداری کرے اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے زمین کو حکم دیا کہ قارون اور اس کو حویلی کو دھنسادے اور نگل جاجب قارون زمین میں دہنس گیا تو اللہ کے عذاب کو اس کے مال نے اور نوکر چا کروں نے کچھ دفع نہ کیا اور جب قارون کے مرتبہ کی خواہش کرنے والوں نے یہ حال دیکھا تو کہنے لگے ہم نے جانا کہ آدمی کے پاس مال کا ہونا کچھ اللہ کی رضا مندی کا سبب نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ تنگ و فراخ کرتا ہے روزی جس پر چاہتا ہے اور اگر ہمارے پاس بھی اللہ کی رضا مندی کا سبب نہیں ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ تنگ و فراخ کرتا ہے روزی جس پر چاہتا ہے اور اگر ہمارے پاس بھی اترانے کے قابل مال ہوتا تو اترانے کی ناشکری میں ہم بھی قارون کے ساتھی ہوتے کیوں کہ ناشکر لوگوں کا کبھی بھلا نہیں ہوتا ان لوگوں کے کلام کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا عقبے میں تو ان ہی لوگوں کا بھلا ہوگا جو ہر طرح کے اترانے اور فسادے دور بھاگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نامرضی کے کام کرتے ہوئے اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اوپر جزاو سزا کا ذکر تھا اس لیے آگے کی آیتوں میں جزا وسزا کی مقدار کا ذکر فرمایا کہ جو شخص قیامت کے روز ایک نیکی لاوئے گا اس کو اس سے بہتر ثواب ملے گا اور جو کوئی برائی لائے گا تو برائی کی حیثیت کے موافق سزادی جائے گی صحیح بخاری ومسلم میں عمر ؓ وبن عوف انصاری 1 ؎ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کے فقر وفاقہ کی حالت کا خوف نہیں ہے بلکہ ان کی مال داری کی حالت سے یہ خوف ہے کہ کہیں مال داری کی حالت ان کو پہلی امت کے لوگوں کی طرح بربادی میں نہ ڈال دے اسی طرح معتبر سند سے ترمذی صحیح بابن حبان اور مستدرک حاکم میں کعب ؓ بن عیاض 2 ؎ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے مال داری کی حالت سے یہ خوف ہے کہ کہیں مال داری کی حالت ان کو پہلی امت کے لوگوں کی طرح بربادی میں نہ ڈال دے اسی طرح معتبر سند سے ترمذی صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں کعب ؓ بن عیاض 2 ؎ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے مال داری کو بڑے فتنہ اور فساد میں پڑنے کی چیز فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اکثر آدمی مال داری کی غفلت میں پھنس کر قارون کی طرح اترانے لگتے ہیں اور عقبے کو بالکل بھول جاتے ہیں جس کا نتجیہ یہ ہے کہ شریعت میں جن کاموں کے کرنے کی تاکید ہے ایسے لوگوں کے دل میں ان کاموں سے ایک طرح کی بےپرواہی اور مناہی کے کاموں کی جرت پیدا ہوجاتی ہے چناچہ قتادہ (رح) کے قول کی موافق قارون تو رات کے خوش آواز قاریوں میں مشہور تھا زیادہ مال داری کے بعد پہلے قارون زکوٰۃ کا منکر ہوا پھر اسی طرح کے بےدینی کی باتوں کی روک ٹوک کے سبب سے موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن ہوگیا یہاں تک کہ ان پر بدکاری کی تہمت لگائی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ کی روایت سورة تو بہ میں گذر چکی 1 ؎ ہے جس میں ثعلبہ بن حاطب انصاری کا قصہ بھی قریب قریب قارون کے قصہ کے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قارون کی طرح ثعلبہ نے بھی زکوٰۃ کا نام جرمانہ کہا اور زکوٰۃ کے دینے سے انکار کیا۔ صحیح بخاری مسلم ترمذی ابو داؤد اور نسائی میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ کے منکرین زکوٰۃ کا قصہ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان منکرین زکوٰۃ پر جو فوج کشی کی تھی وہ قصہ ابوہریرہ ؓ کی روایت سے تفصیل وار ہے حال کلام یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے عمر ؓ وبن عوف انصاری کی روایت میں جس اندیشہ کا ذکر فرمایا ہے اللہ کے رسول اور صحابہ کے زمانہ سے اس اندیشہ کا ظہور شروع ہو کر رفتہ رفتہ اب اس آخری زمانہ میں تو یہ حال ہے کر امت محمد ﷺ یہ میں کے بہت سے مال دار لوگ ترک زکوٰۃ ترک حج سود خواری اسی طرح کی اور بڑی بڑی آفتوں میں پھنس گئے ہیں اللہ تعالیٰ ولا تبغ الفساد فی لارض کے مضمون کی طرف جلدی ان کے دلو کو مائل کرے۔ عکرمہ (رح) کے قول کے موافق یہاں فساد کے معنے ان گناہوں کے ہیں جو مال داری کے سبب سے پیدا ہوجاتے ہیں مثلا ترک زکوٰت یا سود بخاری صحیح مسلم ترمذی اور نسائی میں ابوہریرہ ؓ اور عبداللہ ؓ بن الشیخر سے روایتیں ہیں کہ مال داری آدمی نے اپنے مال میں سے جو کہا یا پہنایا وارثوں کے لیے چھوڑا وہ تو دنیا کا دنیا ہی ہیں رہا ہاں جو اللہ کے نام پر دیا وہ اس کے ساتھ جاوے گا اس کا اجر عقبے میں اسے ملنے والا ہے یہ حدیث آیت وابتغ فیما اتاک اللہ الداز الآخرۃ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مال دار آدمیوں کے لیے پائیدار حصہ وہی ہے جو انہوں نے نیک نیتی سے صدقہ خیرات میں خرچ کیا کہ اس میں تنگ دست لوگوں کے ساتھ بھلائی بھی ہے اور اجر بھی ہے اور جس شخص نے ایسا نہیں کیا وہ گویا اپنے مال میں سے پائے دار حصہ لینا بھول گیا اور جب شخص نے یہ اور زیادتی کی کہ اپنے مال کو بیجا صرف کیا اس نے مال خرچ کر کے اپنے حق میں وبال مول لیا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیک کام کے فقط ارادہ پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جب انسان اپنے اس ارادہ کے موافق نیک کام بھی کرلیتا ہے تو دس سے لے کر سات سو تک اور زیادہ نیک نیتی کی صورت میں اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور کوئی شخص کسی بد کام کا ارادہ کر کے پھر اس کام کے کرنے سے باز ہے تو ایک نیکی لکھی جاتی ہے اگر اس نے وہ بد کام کرلیا تو بدی کی سزا میں نیکی کی جرا کی طرح کوئی زیادتی نہیں لکھی جاتی بلکہ ایک بدی کی ایک ہی لکھی جاتی ہے یہ حدیث من جاء بالحنسۃ کی گویا تفسیر ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 485 باب الحساب والقصاص والمیزا۔ الترغیب والترغیب ص 413 ج 4۔ فضل فی ذکر الحساب وغیرہ۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر زیرم یت وکذلک جعلنا کم امۃ وسطا۔ الایۃ۔ )
(1 ؎ قریب ہی صفحہ 93 پر۔ )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 401 ج 3 و تفسیر الدز المنشور ص 136 ج 5۔ )
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 440 کتاب الرقاق )
(2 ؎ الترغیب والترھیب ص 178 ج 4۔ عنوان الترغیب فی الزھدفی الدنیا الح )
(1 ؎ ملاخطہ ہو 471 جلد دوسری۔ لیکن اس کی سند میں کلام ہے کمافی الا صابداع ‘ ح )
Ayahs 28:85–8885 تا 88۔ صحیح بخاری اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے فرمایا معاد سے مقصود مکہ معظمہ ہے جس کا حاصل فتح مکہ کی خوشخبری ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا دوسرا قول ہے۔ جس میں انہوں نے معاد کی تفسیر قیامت کی فرمائی ہے حقیقت میں دونوں تفسیریں صحیح ہیں کیوں کہ پہلی تفسیر کا ظہور تو فتح مکہ کے وقت ہوچکا دوسری تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ قرآن کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اے رسول اللہ کے تم اپنا کام کیے جاؤ۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے ماذا اجبتم المرسلین کا سوال کرے گا۔ تو یہ لوگ لاجواب ہوجا ہیں گے اس دوسری تفسیر کی زیادہ تفصیل صیح بخاری نسائی وغیرہ کی ابو سعید حذری ؓ کی حدیث کے حوالہ سے آیت ونزعنا من کل امۃ شھیدا کی تفسیر (صفحہ 321 جلد اول) میں گذر چکی ہے پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو ہدایت پر ہے۔ اور جو کھلا گمراہ ہے اور اے رسول اللہ کے تم کو امید نہ تھی کہ تم پر خدا کی کتاب اتاری جائے گی جب اللہ تعالیٰ نے تم کو ایسی نعمت دی ہے۔ تو تم مشرکوں کے مددگار مت بنو مطلب یہ ہے۔ کہ ان کی مخالفت تم کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی نصیحت سے نہ روک دے کیوں کہ اللہ تعالیٰ تمہارا بول بالا کرنے والا ہے اس لیے تم لوگوں کو اس معبود کی عبادت کی رغبت دلاؤ جو وحدہ لاشریک ہے۔ اور اپنی مشرک قوم کی کچھ پاس داری نہ کرو اس کے بعد اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر مشرکوں کو جتلایا کہ سوا اللہ کے اور کسی کی عبادت جائز نہیں ہے کیوں کہ سوا اس کی ذات پاک کے اور سب کو فنا ہے پھر فنا ہونے والی چیز نہ لائق عبادت ہے نہ ایسی چیز کے ہاتھ میں جزا وسزا ہے بلکہ جزاو سزا کے لیے سب اسی ذات پاک کے روبرو ایک دن حاضر کئے جاویں گے اوپر چند آیتوں کی تفسیر میں یہ ذکر گذر چکا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے دل میں تمام اہل مکہ کے راہ راست پر آجانے کی بڑی تمنا تھی ان مکی آیتوں میں بھی یہی ذکر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب مشرکین مکہ نے لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ کہہ کر تو رات کی طرح کسی کتاب آسمانی کے اہل مکہ پر نازل ہونے کا آپس میں چرچا کیا تو آنحضرت ﷺ کے دل میں بھی یہ بات تھی۔ کہ کوئی معجزہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا عطا ہوجائے جس سے یہ لوگ راہ راست پر آجاویں اس پر ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی کی حالت پر مرجانے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اس لیے علم الٰہی کے موافق جو لوگ ان میں سے گمراہی کی حالت میں دنیا سے اٹھنے والے ہیں۔ وہ کسی معجزہ کو دیکھ کر راہ راست پر نہیں آنے والے اس واسطے اے رسول اللہ کے تم مشرکوں کی ایسی باتوں میں ان کے اور پاسدار بنو۔ جب یہ گمراہی کہ حالت پر مرجانے والے لوگ مرمٹ جاویں گے تو اللہ تعالیٰ تم کو فتح مند کر کے مکہ میں داخل کرے گا اور اور میدان محشر میں سب مخلوقات کے روبرو ان لوگوں سے جب تمہاری نافرمانی کی پرستش ہوگی تو یہ لوگ لاجواب ہو کر اپنی گمراہی پر بہت بچتاویں گے۔ اسی طرح کی چند آیتیں نازل ہوجانے کے بعد جب اللہ کے رسول ﷺ کو علم الٰہی کا یہ حال اچھی طرح سے کھل گیا تو آپ نے بھی پھر چند حدیثوں میں اچھی طرح یہ مطلب امت کو سمجھا دیا۔ چناچہ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے علم ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ( علیہ السلام) اشعری ؓ کی حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور نیک وبد لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی اس قسم کی سب حدیثوں کو حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی میں جو لوگ گمراہ قرار پاچکے ہیں وہ کسی معجزہ یا نصیحت سے راہ راست پر آنے والے نہیں یہی مضمون آیتوں کا ہے اس لیے یہ حدیثیں گویا ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں۔