Ayahs 29:1–41 تا 4۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقر میں گذر چکا ہے تفسیر شعبی تفسیر ابن ابی حاتم معالم التتریل وغیرہ 1 ؎ میں مجاہد اور قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے
اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے بعد کچھ مسلمان مکہ میں ایسے رہ گئے تھے جن کو مشرک لوگ ہجرت سے بھی روکتے تھے اور مکہ میں بھی ان کو امن سے نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں ان مسلمانوں کو ہر قت دیتے تھے جن تکلیفوں سے وہ مسلمان تنگ دل تھے ان کی ہمت بڑھانے لے لیے مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جب مدینہ سے ان کے دوست صحابہ ؓ نے ان کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا حال لکھ کر مکہ میں بھیجا تو وہ مشرکین سے لڑ کر ہجرت کے لیے مکہ سے نکلنے کو مستعد ہوگئے اور اپنے ارادہ کے موافق ہجرت کی نیت سے نکلے اور مشرکین نے ان کو روکا اور لڑائی ہو کر کچھ مسلمان تو شہید ہوگئے اور کچھ مدینہ میں مہا جربن کر پہنچ گئے صحیح مسلم کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی وہ مشہور حدیث 2 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو اپنی نعلین مبارک نشانی کے طور پردے کر لوگوں کو یہ خوشخبری سنانے کو بھیجا تھا کہ جو کوئی شخص دل سے کلمہ شہادت پڑھے گا وہ جنتی ہے اور حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو اس بشارت سے منع کیا تھا اور جب آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے اس منع کرنے کا سبب پوچھا تھا تو حضرت عمر ؓ نے یہ سبب عرض کیا تھا کہ اس بشارت کے سننے کے بعد لوگ ایسے نیک عملوں سے باز رہ جاویں گے جن عملوں کے سبب سے ان کو بڑے بڑے درجے جنت میں مل سکتے ہیں ان آیتوں کی وہ صحیح حدیث پوری تفسیر ہے کیوں کہ اس کا بھی وہی مطلب سے کہ اگر فقط مونہ سے کلمہ شہادت کے کہ لینے پر لوگوں کو چھوڑ دیا جائے اور نقصان مال اور جان سے ان کو اللہ تعالیٰ نہ آزمائے تو نقصان کے وقت صبر کرنے سے جو درجے ان لوگوں کو ملنے والے ہیں ان درجوں سے وہ محروم رہ جائیں گے۔ مثلا صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ عباس ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کر کے آگ میں ڈالا اس چانچ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قیامت کے دن یہ مرتبہ 3 ؎ دلوایا کہ سب 4 ؎ سے پہلے ان کو اس دن کپڑے پہنائے جائیں گے
اللہ تعالیٰ کا علم قدیمی ہے دنیا کی روز کی نئی باتوں سے کوئی جدید علم اللہ تعالیٰ کا نہیں بڑھتا لیکن ازل میں مثلا اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ جب دنیا پیدا ہوگی تو ایک شخص ابوجہل پیدا ہوگا اور باوجود رسول وقت کے سمجھانے کے وہ ایمان نہ لائے گا اور حالت کفر میں مارا جائے گا جب دنیا پیدا ہوئی اور ابوجہل پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ کے اس علم ازلی کی ظہور ہوگا اس ظہور ازلی کو اللہ کے جانچ اس واسطے جگہ جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ نیکی اور کی جزاو سزا اللہ تعالیٰ نے اس جانچ پر موقوف رکھی ہے اپنے علم ازلی پر موقوف نہیں رکھی تاکہ لوگوں کو اس حجت کا موقع باقی نہ رہے کہ نیکی بدی کی جانچ سے پہلے فقط اپنے علم ازلی پر اللہ تعالیٰ نے ہم کو سزا دی ہے۔ آگے فرمایا کہ یہ جانچ کچھ اس امت کے لوگوں پر ہی منحصر نہیں ہے۔ اس سے پہلے جو امتیں گذری ہیں ان کا بھی یہی حال تھا مثلا فوعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل نے جو جو تکلیفیں پائی ہیں وہ قصہ یہ لوگ سن چکے ہیں ان کا بھی یہی حال تھا مثلا فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل نے جو جو تکلیفیں پائی ہیں وہ قصہ یہ لوگ سن چکے ہیں نبی اسرائیل کے قصہ کی آیتیں قرآن میں جہاں جہاں ہیں وہ سب گویا ان آیتوں کی تفسیر ہیں پھر فرمایا یہ مشرک لوگ جو غریب مسلمانوں کو ہجرت سے روکتے ہیں اور ان کو مکہ میں بھی امن سے نہیں رہنے دیتے اپنے دل میں یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ ان سے اس ظلم و زیادتی کا بدلیہ نہیں لے سکتا اللہ بڑا صاحب قدرت ہے اور سے بڑھ کر صاحب قوت قوموں کو اس نے ایک دم میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا جن کی اجڑی ہوئی بستیاں ملک شام اور یمن کے سفر میں یہ لوگ جو غریب مسلمانوں کو ہجرت سے روکتے ہیں اور ان کو مکہ میں بھی امن سے نہیں رہنے دیتے لیکن اللہ کے کار خانہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس کے آنے پر ان لوگوں کو اس ظلم و زیادتی کی حقیقت کھل جائے گی اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت یہ حقیقت کھل گئی جس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت سے ایک جگہ گزر چکا ہے۔ صحیح بخاری مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث بھی گذرچ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ظالم لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب ان کو پکڑتا ہے تو بالکل برباد کردیتا ہے اس حدیث کو آیتوں کو تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک اللہ کو منظور تھا مشرکین مکہ طرح طرح سرکشی کرتے رہے اور جب بدر کی لڑائی کے وقت ان آیتوں کے وعدہ کے موافق اللہ تعالیٰ نے ان میں کے بڑے بڑے سرکشوں کو پکڑا تو بالکل بر باد کردیا۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 141 جلد 5۔ )
(2 ؎ مشکوٰۃ ص 15 کتاب الایمان )
(3 ؎ حکمت فتح الباری ص 231 ج 3 میں بیان کی گئی ہے حدیث کے الفاظ نہیں (ع ‘ ح۔ )
(4 ؎) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سب سے پہلے کپڑے پہنائے جانے کی حدیث کے لیے دیکھئے مشکوٰۃ ص 483 باب الحشر )
Ayahs 29:5–75 تا 7۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جس کو آخرت میں خدا تعالیٰ سے ملنے کی امید اور اپنے اچھے کاموں کے ثواب پانے کا بھروسہ ہے اللہ تعالیٰ اس کے امید کو پورا کرے گا اس واسطے کہ وہ دعا کا سننے والا اور تمام عملوں کا دیکھنے والا ہے پھر فرمایا جو محنت کر کے اچھے عمل کرے وہ اپنے ہی واسطے کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ بندوں کے نیک عملوں سے بےپرواہ کسی کا نیک اور پرہیز گار ہونا خدا کی بادشاہت میں کچھ رونق نہیں بڑھاتا اس پر بھی وہ ایمان والوں کو عمدہ جزادے گا اور ان کو برائیوں کو ان کے ایمان اور نیک عمل کی برکت سے دور کر دے گا اور اچھے سے اچھا ان کے عملوں کا بدلہ دے گا ایک نیکی کا دس گنا اور سات سونے کی تک اور بعضے زیادہ خالص نیتوں کے عملوں کا اس سے بھی بڑہ کر ثواب دے گا اور بڑائی کی سزا بقدر برائی کے دے گا بلکہ معاف کردے گا سورة یونس کی آیت ان الذین لایرجون لقاؤ نا ورضوا بالحیواۃ الدنیا آیت من کان یرجو لقآء للہ کی گویا تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ان اہل مکہ میں سے جو لوگ حشر کے منکر ہیں ان کو تو حشر کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے اور حساب کتاب کی بالکل توقع نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے تو اپنا سارا دارومدار دنیا کی زندگی کو قرار دیا ہے ہاں جو لوگ ان میں سے راہ راست پر آگئے ہیں اور دنیا کے زندگی میں عقبیٰ کے فکر سے غافل نہیں ہیں اور جزاو سزا کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کی اور نیک کاموں کے ثواب کی ان کو توقع ہے ان کی توقع کو اللہ تعالیٰ پورا کرے گا صحیح بخاری میں عبادہ ؓ بن الصامت سے روایت 1 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو خص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا شوق دل میں رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی اس کو ایسے نیک کاموں کو توفیق دیتا ہے کہ وہ اچھی حالت سے اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہو۔ اور یہ حشر کے منکر لوگ اللہ تعالیٰ کے ملنے کا شوق دل میں نہیں رکھتے اس لیے اللہ تعالیٰ بھی خوشی سے ان کو اپنے روبر وبلانا نہیں چاہتا حضرت عائشہ ؓ نے جب یہ حدیث سنی تو اللہ تعالیٰ سے ملنے کا مطلب موت کو خیال کر کے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ موت کا شوق تو کوئی شخص اپنے دل میں نہیں رکھتا آپ نے فرمایا مرنے والے شخص کو آخری وقت پر اللہ کے فرشتے جزاو سزا کی اطلاع دیتے ہیں جس سے نیک لوگوں کو جزا کا حال سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو جانے کا شوق پیدا ہوجاتا ہے حدیث میں اس شوق کا ذکر ہے موت کے شوق کا ذکر نہیں ہے اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی توقع کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اگر ساری مخلوقات نیک ہوجاوے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جاوے گا اسی طرح اگر ساری مخلوقات بد ہوجاوے تو اس کی بادشاہی میں سے کچھ گھٹ نہ جاوے گا یہ حدیث ان اللہ غنی عن العالمین گویا تفسیر ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ایک نماز سے دوسری نماز تک کے اور ایک جمعہ اور رمضان سے دوسرے رمضان تک کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں نیک عملوں کی برکت سے گناہ کا بوچھ کی حدیث قدسی گزر چکی ہے کہ نیک کام کا اجر دس گنا ثواب سے لے کر سات سو تک اور زیادہ نیک نیتی کی صورت میں اس سے بھی زیادہ ثواب ملے گا یہ حدیث ولنجزنیھم احسن الذی کا نوایعلون کی گویا تفسیر ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 139 باب تمنی الموت و ذکر 5۔ )
Ayah 29:88۔ صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں حضرت سعد بنابی وقاص ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت سعد ؓ نے اسلام قبول کیا تو انکی ماں نے ان کو اسلام سے باز رکھنے کے ارادہ سے کھانا پینا چھوڑ دیا کئی روز تک کھانا نہیں کھایا اور یہی کہتی تھیں کہ جب تک سعد تم اپنا قدیمی دین اختیار نہ کرو گے میں کھانا نہ کھاؤں گی حضرت سعد ؓ نے جواب دیا کہ میری ماں اگر ہزار دفعہ بھی مر کر جیوے گی اور پھر مرے گی جب بھی میں اسلام سے ہزگز نہ پھروں گا ان ماں بیٹوں کے جھگڑے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرما دیا کہ اگرچہ ماں باپ کا حق بہت بڑا ہے لیکن جس اللہ نے ماں باپ اور اولاد سب کو پانی قدرت سے پیدا کیا ہے اس کا حق سب سے بڑا ہے اس کے حکم کے محالف ماں ہو یا باپ پیر ہو یا استاد کسی کی فرما نبرداری جائز نہیں ہے بہت سی صحیح حدیثوں میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت کے مضمون کی تفسیر فرمائی ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس امر میں خدا کی نافرمانی لازم آتی ہے اس امر میں مسلمان کو کسی کی فرمانبرداری نہیں چاہیے دوسری روایت صحیح بخاری ومسلم میں حضرت 2 ؎ علی ؓ کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس امر کو شریعت جائز رکھے مخلوق کی فرما نبرداری اس امر میں ہوسکتی ہے جب خالق کی نافرمانی کسی امر میں نظر آوے تو پھر کسی مخلوق کی فرما نبرداری نہیں چاہیے اس آیت کے آگے منافقوں کا ذکر فرما کر یہ جتلایا ہے کہ خواہ ماں کی ناراضی ہو خواہ باپ کی خواہ تکلیف ہو خواہ راحت مسلمانوں کو منافقوں کی طرح دین میں ڈانواں ڈول نہیں رہنا چاہیے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 3 ؎ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں جو لوگ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی زیادہ گناہ گار نہیں یہ حدیث مالیس لک بہ علم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم جو انسان پر واجب ہے اس کی سند تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اب شرک میں گرفتار لوگوں کے پاس جب کوئی سند نہیں ہے تو مشرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ گار نہیں ہے آخر آیت میں فرمایا کہ ایک دن سب کو اللہ کے روبرو حاضر ہونا پڑے گا اور فرما نبرداروں کی جزا اور نافرمانوں کی سزا کا پورا پورا فیصلہ ہوجائے گا مطلب یہ ہے کہ ماں باپ کا واسطہ فقط دنیا کا ہے اور اللہ تعالیٰ کا واسطہ دونوں جہاں کا اس لیے اللہ کی فرما نبرداری سب کی فرما نبرداری سے مقدم ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 405 ج 3 الدر المنثور ص 141 ج 5 )
(2 ؎ مشکوٰۃ ص 319 کتاب الامارۃ والقضائ۔ )
(3 ؎ مشکوٰۃ باب الکبائر۔ )
Ayahs 29:9–119 تا 11۔ مطلب یہ ہے کہ ہم ایمانداروں کو اور ان کو جنہوں نے اچھے عمل کئے ہیں اپنے نیک بندوں میں داخل کریں گے اس سے مقصود یہ ہے کہ نیک بندوں کے رہنے کی جگہ جنت میں ان کو رکھا جائے گا اس کے بعد ارشاد کیا کہ لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ایمان لائے ہم اللہ پر لیکن وہ لوگ یہ بات صرف زبان سے کہتے ہیں ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا ہے اسی واسطے ان کا یہ حال ہے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچے تو پھر وہ لوگ دین اسلام سے پھرجاتے ہیں غرضیکہ ان لوگوں کو اگر بھلائی حاصل ہوئے تو اطمینان ہے اور اگر کچھ جانچ ہوئی تو پھرگئے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ اگر آجاوے مدد اور فتح تیرے رب کی طرف سے تو کہنے لگے ہم تمہارے ساتھ ہیں کیا اللہ کو خبر نہیں اس کو جو جہان کے لوگوں کے دلوں میں ہے وہ سب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے اگرچہ وہ منافق ظاہر میں تمہارے ساتھ ہونے کا دم بھریں لیکن اللہ خوب جان لے گا ایمان والوں کو اور خوب جان لے گا منافقوں کو کہ کون مطیع ہے اور کون نافرمان ہے تفسیر ضحاک 1 ؎ میں ہے کہ مکہ میں بعضے لوگ ایسے تھے جو مشرکوں کی ایذا کی برداشت نہ کرسکے اور ایذا سے ڈر کر اسلام سے پھرگئے انہی کو فرمایا کہ انہوں نے دنیا کی تھوڑی سی ایذا کو عذاب آخرت کے برابر اس لیے سمجھ لیا کہ عذاب آخرت کا ان کو پورا یقین نہیں تھا یکیوں کہ اگر چذاب آخرت کا ان کو پورا یقین ہوتا تو مشرکوں کی ایذا سے بچنے کے لیے یہ لوگ زبانی باتوں میں مشرکوں کی ہاں میں ہاں ملا دیتے یہ تو دل سے مشرکوں کے شریک حال ہوگئے اب یہ مسلمانوں کی بہتری کے وقت اپنے آپ کو مسلمانوں کے ساتھی ہونے کا دعوٰے کریں تو اس سے کیا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کے حال خوب معلوم ہے کس لیے کہ تمام جہان کے لوگوں کے دلوں کا حال اس سے پوشیدہ نہیں ہے سفیان ثوری کا قول ایک جگہ گزر چکا ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ سعید 1 ؎ بن جبیر 2 ؎‘ عکرمہ 3 ؎‘ ضحاک 4 ؎ ان چار تابعیوں کے قول کا تفسیر کے باب میں بڑا اعتبار ہے معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے عماربن یاسر ؓ کے قصہ کی روایت سورت النحل میں گزر چکی 2 ؎ ہے کہ عماربن یاسر ؓ نے مشرکوں کی ایذا سے بچنے کے لیے مشرکوں کی ہاں میں ہاں ملادی اور جب مدینہ میں آن کر آنحضرت صلعم سے انہوں نے اپنا قصہ بیان کیا تو آپ نے ان سے دریافت کیا کہ جس وقت تم نے مشرکوں کی ہاں میں ہاں ملائی تو تمہارے دل کیا کیا حال تھا عماربن یاسر ؓ نے عرض کیا کہ اس وقت میرے دل میں تو اسلام بسا ہوا تھا آپ نے فرمایا تو زبانی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو اس حدیث سورة النحل کی آیت الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالا یمان سے ضحاک کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے
(1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 132 ج 2۔ )
(2 ؎ صفحہ 372 جلد 3۔ )
Ayah 29:1212‘ 13۔ تفسیر مقاتل وغیرہ میں مجاہد اور ضحاک کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں جو تھوڑے سے مسلمان لوگ رہ گئے تھے ان سے ابوسفیان اور مشرک لوگ یہ کہ کرتے تھے کہ اول تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مرنے کے بعد پھر جیویں گے اور نیکی بدی کا حساب و کتاب ہو کر جزاوسزا ہوگی اور اگر ایسا ہوا بھی تو تمہاری بدیوں کی سزا ہم اپنے ذمہ لے لیں گے تم اپنے قدیمی دین پر قائم ہوجاؤ ان کے اس قول کا جواب ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے حاصل جواب کا یہ ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں جو آخرت کے مؤاخذہ کا غیروں کا بوجھ اپنے ذمہ لیتے ہیں وہاں ایسی نفسانفسی ہوگی کہ باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے دور بھاگے گا کہ ایک کا وبال دوسرے پر نہ پڑجاوے اور جتنے لوگوں کو گمراہوں نے بہکایا ہے گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کے دو وبال ایسے لوگوں کی گردن پر اس دن پڑیں گے اپنی خوشی سے کسی کا بوجھ ایسے گمراہ لوگ قیامت کے دن کیا اٹھاسکتے ہیں صحیح مسلم کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی 1 ؎ حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی شخص دین کے کام میں کسی کو بہکادے گا اس کی ذاتی بداعمالی کے علاوہ اس بہکانے کا وبال جدا اس کی گردن پر پڑے گا آخر کو فرمایا کہ قیامت کے دن جب ان لوگوں سے اس جھوٹ کا مؤاخذہ کیا جاوے گا تو یہ لوگ بالکل لا جواب ہوجاویں گے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنہ فصل اول۔ )
Ayahs 29:13–2313 تا 20۔ اوپر مشرکین مکہ کی سرکشی کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اللہ نے پیغمبر ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کے حال سے ان کو آگاہ فرمایا کہ وہ اپنی قوم میں اس قدر عرصہ دراز تک رہے اور پوشیدہ اور علانیہ دن رات ان کو سمجھاتے رہے جب بھی قوم کے لوگ نہ سمجھے اور اللہ کے رسول کو جھٹلاتے رہے اور اتنی مدت میں ان کی قوم میں سے بہت تھوڑے آدمی ایمان لائے جب اس قدر مدت دراز تک حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت اور ڈرانے نے کچھ فائدہ نہ دیا تو اے محمد ﷺ وسلم اپنی امت کے حال پر کچھ نہ پچھتاؤ اور نہ غم کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اسی کے دست قدرت میں سب کچھ ہے اس لیے جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں وہ کسی طرح راہ راست پر نہیں آویں گے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں چالیس سال کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) رسول کر کے بھیجے گئے اور قوم کے لوگوں میں ساڑھے نو سو برس رہے اور طوفان کے بعد ساٹھ برس تک زندہ رہے سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ قوم نوح ( علیہ السلام) نے حضرت نوح ( علیہ السلام) کی نصیحت اور عذاب کے وعدہ کو جھوٹا جان کر خود اپنی زبان سے عذاب کے نازل ہونے کی خواہش کی آخر طوفان کا عذاب آن کر سوا اسی 80 آدمیوں کے اور ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ یہ طوفان نوح ( علیہ السلام) کا قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے قتادہ کا قول ہے کہ بہت دنوں تک وہ کشتی باقی رہی اور لوگوں نے اس کو دیکھا اسی کو فرمایا کہ یہ قصہ اور کشتی جہان کے لوگوں کے لیے اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس لیے اکیلے اللہ کی تعظیم انسان پر واجب ہے برخلاف اس کے جو لوگ اللہ کی تعظیم میں دوسروں کی شریک کرتے ہیں ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ناانصاف نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں مشرکوں کو جگہ جگہ ظالم فرمایا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کو جب تک چاہتا ہے مہلت دیتا ہے پھر جب انکو پکڑتا ہے تو بالکل بر باد کردیتا ہے اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ میں یہ لوگ عذاب کی جلدی کرتے رہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان پر عذاب نازل نہیں کیا پھر جب پکڑ کا وقت آگیا تو سوا اسی 80 آدمیوں کے اور ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو خدا کی عبادت کی طرف بلایا اور اس سے ڈرنے کو کہا اور کہا کہ جب تم یہ کام کرو گے تو دنیا اور آخرت کی بہتری تم کو حاصل ہوگی اور سوا اللہ کے جن بتوں کو اے کافرو تم پوجتے ہو وہ تمہارے نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں تم نے ہی ان کے نام گھڑ لیے ہیں اور ان کو معبود ٹھہرا لیا ہے وہ تمہاری طرح مخلوق ہیں وتخلقون افکا کر تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ خود تم بت تراشتے ہو لیا ہے اور ان کو اپنا معبود ٹھہراتے ہو جن لوگوں کے نام یہ مورتیں ہیں ان کو تمہارے اس کام کی بالکل خبر نہیں اس لیے قیامت کے دن وہ تم سے بیزار ہوجائیں گے اور جن کو تم سوائے للہ کے پوجتے ہو وہ مالک تمہارے رزق کے نہیں کیونکہ ایک سال اگر قحط پڑجاوے تو تم کو ان بتوں سے کچھ مدد نہیں مل سکتی اس لیے تم اللہ کی ہی خالص عبادت کرو اور اس سے کشائش رزق کی التجا کرو اور اسی کا شکر ادا کرو اور اس کی طرف پھیرے جاؤ گے تم قیامت کے روز اور وہ ہر ایک کو اس کے عمل کے موافق جزاو سزادے گا اور اگر تم ان باتوں کو جھٹلاؤ گے تو تو مثلا نوح (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ بات تم کو معلوم ہوچکی ہے کہ جن لوگوں نے پہلے پیغمبروں کو جھٹلایا ہے ان پر عذاب نازل ہوا ہے ہر رسول اسی بات کا ذمہ دار ہے کہ خدا کا حکم امت کے لوگوں کو پہنچا دیوے اور پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے تم بھی نیکوں میں ہونے کی حرص کرو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو جو حشر کے منکر تھے یوں سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی دفعہ تم کو پیدا کیا جس سے تم ہوگئے سننے والے دیکھنے والے پھر جس خدا نے پہلی بار تم کو بنایا وہ دوسری بار تمہیں بنا سکتا ہے کیوں کہ دوسری بار کا پیدا کرنا اس پر آسان ہے پھر فرمایا سیر کرو زمین میں اور خدا تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر عبرت پکڑو کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اب پہاڑوں درختوں بوٹیوں اور کھیتیوں کو پیدا کیا ہے اسی طرح جس چیز کا دوبارہ پیدا کرنا اس کا منظور ہوگا وہ پیدا کر دیوے گا اس کا قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اور یہ دوبارہ پیدا کرنا جزا وسزا کے لیے ہوگا تاکہ پہلی دفعہ کا پیدا کرنا ٹھکانے سے لگے اس سزا کے وقت تم آسمان و زمین میں کہیں بھگ نہ سکو گے اس لیے تم اللہ کو اپنا خالص معبود ٹھہراؤ کس لیے کہ اس شرک کے مؤاخذہ میں پکڑے گئے تو تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے کہ وہ تم کو گرفتار نہ کرسکے غرضیکہ خدا کو کوئی عاجز نہیں کرسکتا اور اس کے سوا تمہارا کوئی دست اور مددگار نہیں پھر فرمایا جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی قدرت کی نشانیوں اور آخرت کو نہیں مانتے وہ خدا کی رحمت سے ناامید ہیں اور دنیا اور آخرت میں ان لوگوں کے واسطے سخت عذاب ہے قتادہ کے قول کے موافق حافظ ابو جعفرابن جریرنے اپنی تفسیر 1 ؎ میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے مابین میں وان تکذبوا سے عذاب الیم تک کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو نصیحت کی ہے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے اوپر فما کان جواب قومہ سے ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کا سلسلہ ملایا ہے شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں اس قول کو لیا ہے معتبر سند سے مسند امام احمد اور ابوداؤد کے حوالہ 2 ؎ سے براء بن ؓ عازب کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ نافرمان لوگون کی موت کے وقت اللہ کے فرشتے ایسے لوگوں کو اللہ کے غصہ اور عذاب سے خبردار کردیتے ہیں جس سے ایسے لوگوں کی روحین رحمت الٰہی سے مایوس ہو کر جگہ جگہ جسم میں چھپتی ہیں اور پھر آخر نہایت سختی سے اللہ کے فرشتے ان لوگوں کی روحوں کی جسم سے نکال لیتے ہیں اور پھر ایسے لوگ دفن کے بعد طرح طرح کے عذاب قبر میں گرفتار ہوجاتے ہیں معتبر سند سے مسند امام احمد میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (کہ قبر میں دفن کرنے کے بعد عذاب قبر کی سختی کے علاوہ یہ سختی بھی ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کا دوزخ کا ٹھکانہ انہیں دکھا کر اللہ کی فرشتے ان سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں جانے کے لیے تم کو حشر کے دن دوبارہ زندہ کیا جاوے گا براء ابن عازب کے اوپر کی حدیث میں یہ بھی ذکر ہے کہ دوزخ کے ٹھکانے کے عذاب کو دیکھ کر ایسے لوگ عذاب قبر کو غنیمت جانتے ہیں اور یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہو معتبر سند سے عبداللہ بن عمر ؓ نے ترمذی کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ موت کے فرشتوں کے نظر آجانے کے بعد کسی کی توبہ قبول نہیں ہوسکتی حاصل کلام یہ ہے کہ وان تکذبوا سے عذاب الیم تک کی آیتیں خواہ مشرکین مکہ کی شان میں ہوں یا ان کی اور پہلی امتوں کے منکرین حشر سب کی شان میں ہوں ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے لوگ اس طرح کی بےکسی کے وقت میں اللہ کی رحمت سے ناامید ہو کر غذاب میں گرفتار ہونے سے خبر دار ہوتے ہیں کہ آئندہ کے لیے ان کو توبہ اور استغفار کا موقع بھی نہیں رہتا اور جس عذاب دوزخ کے یہ لوگ دنیا میں منکر تھے مرتے کے ساتھ ہی جب ان کا دوزخ کا ٹھکانہ انہیں دکھا دیا جاتا ہے تو اس کا ایسا خوف ان پر چھا جاتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں طرح طرح کے عذاب قبر کو یہ لوگ غنیمت جاننے لگتے ہیں اور قیامت کے دن اس عذاب دوزخ میں گرفتار ہوجانے کو یقینی جان کر عذاب قبر کی تکلیف میں بھی قیامت کے قائم نہ ہونے کی دعا مانگتے رہتے ہیں۔
(1 ؎ تفسیر ابن جریر ص 140 ج ‘ 2 نیز دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 408 ج 3۔ )
(2 ؎ مشکوٰۃ باب اثبات عذاب القبر۔ )
3 ؎ الترغیب والترہیب ص 364 ج 3 درمیان عذاب قبر۔ )
Ayah 29:2424۔ اوپر ایک جگہ یہ بات گزر چکی ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے انبیا اور پچھلی امتوں کا ذکر جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہر ایک مقام میں تاریخی ثبوت کے طور پر اللہ تعالیٰ کو ایک نئی بات لوگوں کے ذہن میں ان قصوں سے جمانی منظور ہوئی ہے چناچہ یہاں اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کو جانچتا ہے تاکہ جانچ کے وقت وہ صبر کریں اور اس صبر کے اجر میں اللہ تعالیٰ ان کو بڑے بڑے رتبے عقبیٰ میں عنایت فرماوے اب حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تک جانچ کے طور پر ان کی امت کے اچھے لوگوں کو یا خود انبیا کو طرح طرح کی تکلیفیں جو پہنچی تھیں ان کا ذکر اس لیے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کی تسکین ہوجاوے اور پچھلے تاریخی حالات سے آپ کے ذہن میں یہ بات خوب اچھی طرح جم جاوے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کچھ جانچ کے موقع جو پیش آرہے ہیں یہ کچھ نئی بات نہیں ہے بلکہ جب سے اللہ تعالیٰ کی شریعت کے احکام روئے زمین پر پہنچے ہیں اور سب سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اہل زمین کی ہدایت شروع کی ہے اسی وقت سے یہ عادت الٰہی جاری ہے کہ ہر نبی کی امت کی سرکشی کے سبب سے ان انبیاء ( علیہ السلام) کو یا امت کے اچھے لوگوں کو طرح طرح کی تکلیفیں رہیں اور وہ تکلیفیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان انبیا کے حق میں ایک جانچ اور آزمائش تھی۔ آزمائش کے زمانہ میں جو صبر وثابت قدمی ان انبیاء نے کی اس کا اجر اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے ان کو عقبیٰ میں تو جدا ملے گا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ان کو خوش کیا کہ آزمائش کی مدت جو اللہ تعالیٰ کے حکم میں تھی اس مدت کے گزرنے کے ساتھ ہی اللہ کے رسولوں کا آخر بول بالا ہوا اور جتنے سرکش اور شریر لوگ ہر ایک نبی کی امت میں تھے وہ ایک دم میں غارت ہوگئے اللہ چاہتا تو وہ شریر لوگ شرارت ہی یا تو نہ کرتے تو شروع شرارت کے زمانہ میں ہلاک ہوجاتے لیکن جو کچھ پچھلے زمانہ میں ہوا اور نبی آخر الزمان کے زمانہ میں ہو رہا ہے اس میں یہی مصلحت الٰہی ہے کہ انبیاء کا رتبہ بلند ہو اور سرکشی کے سبب سے ایک زمانہ کے لوگوں کہ ہلاک ہوجانے کا حال سن کر دوسرے زمانہ کے لوگوں کو عبرت ہو چناچہ اس مصلحت الٰہی کے موافق ظہور ہوا کہ مدت آزمائش پوری ہوتے ہی وہ مکہ جہاں گلی گلی کفر اور شرک نظر آتا تھا جہاں کے کفر اور شرک کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو وہاں سے ہجرت کا حکم دیا تھا۔ اور جہاں سے ہجرت کرنا دین میں بڑا ثواب قرار پایا تھا وہی مکر ایسا دارالا من اور دارلاسلام ہوگیا کہ اور جگہ سے اہل اسلام وہاں ہجرت کر کے جانے لگے اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے لوگوں کو قرآن شریف کے قصوں میں پچھلے زمانہ کے لوگوں کا حال سن کر وہ عبرت ہوئی کہ جن بستیوں میں ہزا رہا برس سے بت پرستی چلی آتی تھی کل تئیس 23 برس کے زمانہ نزول قرآن شریف میں ان بستیوں کی گلی گلی اہل اسلام سے آباد ہوگئی جو لوگ دین محمدی کے دشمن تھے وہی دین محمدی کے حامی اور مددگار بن گئے غرض ہر کام کا وقت مقررہ آنے کی دیر ہے ہجرت سے پہلے تیرہ برس آنحضرت ﷺ مکہ میں رہے اور مسلمانوں کی تعداد سو سے زیادہ نہ بڑھی جب وقت مقررہ آگیا ہجرت کے دسویں سال حجۃ الوداع میں بعضے صحابہ ؓ کی روایت سے سوا لاکھ اور بعض روایتوں سے اس سے بھی زیادہ مسلمان مکہ میں موجود تھے حاصل مطلب اس آیت کا یہ ہے۔ کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی باتیں سن کر ابراہیم (علیہ السلام) کے مار ڈالنے یا آگ میں جلا دینے کا ارادہ کیا اور جب ان لوگوں نے اپنے ارادہ کے موافق ابراہیم (علیہ السلام) کا ننگا کر کے آگ میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو اس آگ کے صدمہ سے بچا دیا جس کے سننے سے ایماندار لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے نازک وقت میں اپنے خلیل کی کیسی مدد کی کہ آگ جیسی چیز میں جلانے کی تائیر باقی نہ رہی اور اللہ کے خلیل سے جن لوگوں نے اپنے بتوں کے توڑنے کا بدلہ لنام چاہا تھا وہ لوگ اپنے ارادہ میں کامیاب نہیں ہوئے اوپر گزر چکا ہے کہ پچھلے قصے قرآن شریف میں فقط قصوں کی طرح نہیں بلکہ تاریخی شہادت کے طور پر ذکر کئے جاتے ہیں اور اس ضرورت سے بعضے قصوں کو مختصر بھی کردیا جاتا ہے اس کی مثال ان آیتوں سے بھی سمجھ میں آسکتی ہے کہ یہاں جانچ کے بعد انبیاء کی مدد جو غیب سے کی جاتی ہے اس کا ذکر تھا اس لیے ابراہیم (علیہ السلام) کے آگ سے بچا دینے کا ذکر فرمایا جس سبب سے ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا تھا وہ قصہ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان لوگوں کے بتوں کو توڑ ڈالا تھا صحیح بخاری مسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ نمرود اور اس کے ساتھیوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کر کے جو آگ میں ڈالا تھا اس جانچ کے صبر کے اجر میں قیامت کے دن سب سے پہلے ان کو کپڑے پہنائے جاویں گے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ آیت میں ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے بچا دینے کی دنیا کی مدد کا ذکر ہے اور حدیث 1 ؎ میں ابراہیم (علیہ السلام) کی اس مدد کا ذکر ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے ان کو کپڑے پہنائے جاویں گے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الحشر )
Ayahs 29:25–3725 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم کو آگ میں ڈال دیا اسی سبب سے سب دینوں کے لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی محبت کا دم بھرتے ہیں غرض حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں کو بطور جھڑ کی کے ارشاد کیا کہ تم نے بتوں کو فقط اس لیے معبو دبنا رکھا ہے کہ دنیا میں ان کے پوجنے پر محبت سے اکھٹے ہوا کرو لیکن قیامت کے دن یہ محبت عداوت ہوجاوے گی ایک ایک پر لعنت کرے گا یہ آپس کی عداوت اور لعنت کا حال سورة بقرہ اور اعراف میں گزر چکا ہے اب آگے اللہ تعالیٰ ارشاد کرتا ہے کہ آگ کا سرد ہوجانا اور ابراہیم (علیہ السلام) کا سلامت رہنا دیکھ کر کسی نے سوائے حضرت لوط (علیہ السلام) کے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو اللہ کا رسول نہ مانا حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھیجتے تھے قتادہ کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت لوط (علیہ السلام) نے مقام کوئی جو کوفہ کے نواح میں ہے ملک شام کی طرف ہجرت کی اور قتادہ نے یہ بھی کہا کہ پیغمبر ﷺ نے فرمایا ہجرت ہوتی رہے گی یہاں تک کہ سب زمین والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت کی جگہ ہجرت کریں گے مسند امام احمد اور ابوداؤد میں عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کی روایت سے ایک حدیث 1 ؎ اسی مضمون کی ہے جس سے قتادہ کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے اس حدیث کی سند میں ایک راوی شہربن جو شب کو اگرچہ بعضے علمانے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابوزرعہ اور امام احمد نے شہر بن حوشب کی معتبر کہا ہے پھر فرمایا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب دیا اور ہر ایک کو نبی کیا حضرت اسحاق (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ اہم نے ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھی یہ ایک اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے بنی اسرائیل کے کل انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) کے خاندان میں سے ہی ہوئے ہیں سب سے آخر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہوں نے سب لوگوں میں کھڑے ہو کر پیغمبر ﷺ کے نبی ہونے کی بشارت دی ہے جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے پیغمبر ﷺ کے سوا کوئی اور نبی نہیں ہوا حضرت اسماعیل بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں پھر فرمایا ہم نے ابراہیم کو اس کا بدلہ دنیا میں دیا کہ سب دین مذہب والے ان کی تعریف کرتے ہیں اور ان کو دوست جانتے ہیں اب آگے حضرت لوط (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسے ب برے کام کرتے ہو جو تمام جہان میں کسی نے نہیں کئے مردوں پر دوڑتے ہو اور راہ مگر تے ہو جو راہ سے گزرتا ہے اس کو قتل کر ڈالتے ہو اور اس کا مال واسباب لوٹ لیتے ہو اور مجلس میں جمع ہو کر برے فعل کرتے ہو اور کوئی کسی کو برا نہیں کہتا مجاہد نے جہا مجلس میں سب کے روبر ایک دوسرے سے بدکاری کرتے تھے اور حضرت بوط (علیہ السلام) کے وعظ ونصیحت کا کچھ جواب نہ دیتے تھے یہی کہتے اگر تو سچا ہے تو خدا کا عذاب ہم پر لے آ فرمایا حضرت لوط (علیہ السلام) نے اے رب میری اس فسادی قوم کے مقابلہ میں میری مدد کر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور فرشتے ان کی مدد کو بھیجے وہ پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مہمانوں کی شکل میں آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے آگے کھانا رکھا جب دیکھا کہ وہ نہیں کھاتے تو ان کو اوپرے جان کر ڈرے تو فرشتے ان کو خوشخبری سنانے لگے کہ تمہاری بی بی سارہ کے پیٹ سے بیٹا نیک پیدا ہوگا بی بی نے سن کر تعجب کیا یہ قصہ سورة ہود میں اور حجر میں پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خوش خبری مل چکی اور ان کو یہ معلوم ہوا کہ یہ فرشتے ہیں اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کو ہلاک کرنے کو بھیجے گئے ہیں تو عذاب کے دور کرنے کے باب میں فرشتوں سے بات چیت کرنے لگے کہ اس بستی میں تو لوط بھی ہے فرشتوں نے کہا کہ ہم سب کو جانتے ہیں لوط اور اس کے لوگوں کو ہم نجات دیں گے مگر اس کی بیوی نافرمان لوگوں کے ساتھ ہلاک ہوگی غرض کہ وہ فرشتے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے رخصت ہو کر حضرت لوط ( علیہ السلام) کے پاس خوبصورت لڑکوں کی شکل میں جب پہنچے تو حضرت لوط ( علیہ السلام) ان کو دیکھ کر دل میں تنگ ہوئے کیونکہ قوم کی بدفعلی سے اندیشہ ناک تھے حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو پہچانا نہ تھا یہ کہ فرشتے ہیں اس لیے فرشتوں نے ان سے کہا کہ تم نہ ڈرو اور غم نہ کھاؤ ہم تم کو اور تمہارے اہل کو عذاب سے بچا لیں گے مگر تمہاری بیوی انہیں کے ساتھ ہلاک ہوگی پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کی بستیوں کو زمین کی جڑ سے اکھاڑ اکھاڑ کر الٹ دیا اور ان کے اوپر پتھروں کا مینہ برسایا اور ان کو قیامت کے روز تک اوروں کے لیے عبرت کا نمونہ قرار دیا اسی واسطے فرمایا ہم نے چھوڑ رکھا نشان کھلا ہوا عقل والوں کو کیونکہ صبح وشام تم وہاں سے آتے جاتے ہو اور ان کے مکانوں کے نشان دیکھتے ہو مجاہد کا قول ہے کہ نشان نظر آنے سے یہ مراد ہے کہ ان لوگوں کی زمین میں سیاہ پانی باقی ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا۔ کہ انہوں نے اپنی قوم مدین کے باشندوں کو یہ حکم دیا کہ تم اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ کی عبادت کرو اور آخرت کے دن کی جزا کی توقع رکھو اور دین بین میں لوگوں کے ساتھ دغازبازی نہ کرو یہ لوگ تولنے میں دغابازی کرتے تھے اور راستہ بھی لوٹتے تھے اور اللہ اور رسول کو جھٹلاتے تھے اس لیے ان کو ایک بھونچال نے پکڑا اور پھر ایک سخت آواز نے جس سے وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے مردہ پڑے ہوئے تھے۔ پورا قصہ ان کا سورة اعراف میں اور سورة ہود میں اور سورة شعراء میں بیان ہوچکا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک بڑی سخت آواز کی اسی کے سبب سے بھونچال آیا جس سے ان لوگوں کے دل دھل گئے اور ان کے سب مکان گر پڑے تفسیر عبدالرزاق تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں زیدبن اسلم سے روایت ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو نمرود اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا اس ہدایت پر جب یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو ان پر مچھروں کا عذاب نازل ہوا یہ مچھر اور لوگوں کا تو سب خون پی گئے گوشت اور چربی سب کھاگئے خالی ہڈایاں زمین پر گر پڑیں مگر نمرود کے دماغ میں ایک مچھر چڑھ گیا جس کے سبب سے اس کے سر پر ایک مدت تک طرح طرح کی مار پڑتی رہی اس ذلت کے بعد پھر وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ امام بخاری نے عبدالرزاق کی تصنیفات کو صحیح ٹھہرا کر یہ کہا ہے کہ عبدالرزاق کے نابینا ہوجانے کے بعد جن لوگوں نے ان سے زبانی روایتیں لی ہیں وہ البتہ ضعیف ہیں اسی طرح تفسیر ابن ابی حاتم کی صحت روایت کا تذکرہ بھی گزر چکا ہے اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ تفسیر عبدالرزاق اور تفسیر ابن ابی حاتم کی روایتوں میں نمرود اور اس کی قوم کی ہلاکت کا جو قصہ ہے ‘ وہ صحیح ہے اس واسطے بعض معتبر تفسیروں میں اس قصہ کو آیت وارادوا بہ کید افجعلنا ھم الاخسرین کی تفسیر قرار دیا ہے سورة انبیآء میں ابراہیم (علیہ السلام) کا جو قصہ ہے مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ قوم ابراہیم نے اگرچہ ابراہیم (علیہ السلام) کی جان کا نقصان چاہا تھا لیکن آخر کار انہی لوگوں کو نقصان پہنچا یہ زیدبن اسلم ثقہ تابعی اور مشہور مفسروں میں ہیں ان کے بیٹے عبدالرحمن بن زید بھی قدیم مفسروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ تفسیر کے باب میں یہ عبدالرحمن اپنے باپ زیدبن اسلم سے روایت کیا کرتے ہیں۔ امام مالک (رح) نے ان زید سے اکثر روایتیں لی ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے فسادی قوموں کو مہلت دیتا ہے اور پھر جب پکڑ لیتا ہے تو بالکل تباہ کردیتا ہے قوم ابراہیم قوم لوط اور قوم شعیب کی مہلت اور تباہی کی حدیث گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 29:38–4038 تا 40۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان امتوں کا احوال مشرکین مکہ کو جتلایا جن امتوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیّٰ نے ان کو کس کس طرح کا عذاب کرکے ہلاک کیا قوم عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کے امت ہے اور ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے عرب کے لوگ ان کے مکانوں کو خوب جانتے تھے اور رات دن عرب کے لوگوں کا ان پر گزر ہوتا تھا قارون بڑے خزانوں والا تھا اور فرعون شہر مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا وزیر ہامان تھا اللہ تعالیٰ نے بسبب کفر کے ہر ایک کو اس کے گناہ کے مناسب عذاب میں پکڑا قوم عادنے دعویٰ کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر میں پکڑا قوم عادنے دعویٰ کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر ان کو مارتی اور اڑا کر آسمان سے سر کے بل پٹخ دیتی کہ جس کے صدمہ سے دھڑ سے سر جدا ہو کر دھڑ کھجور کے تنے کی طرح زمین پر گر پڑتا اور کسی کو سخت آواز سے مار ڈالا جیسے قوم ثمود کہ ان کی درخواست کے موافق ایک اونٹنی پتھر سے پیدا ہوئی پھر بھی وہ یقین نہ لائے کفر پر اڑے رہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کو ڈراتے کہ ہم تم کو بستی سے نکالدیں گے سنگسار کریں گے خدا تعالیٰ نے ان کو ایک چنگھاڑ سے ہلاک کردیا اور کسی کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں دھنسا دیا جیسے قارون کو کہ وہ اپنے آپ کو سب سے بہتر جانتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے مکانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا قیامت تک وہ دھنستا چلا جائے گا۔ اور فرعون اور ہامان اس کے وزیر کو مع اس کے لشکر کے ایک تھوڑی سی دیر میں دریا میں ڈبو دیا کوئی خبر دینے والا بھی باقی نہ بچا پھر فرمایا یہ اللہ تعالیٰ نے کچھ ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ ان کے عملوں کے موافق ان کو سزادی دہی اپنی جانوں پر آپ ظلم کرتے تھے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت کے واسطے ان کے پاس پیغمبروں کو بھیج دیا تھا اور کتابیں بھی نازل فرمائیں غرض کہ کوئی دقیقہ ان کے سمجھانے کا باقی نہیں رکھا مگر وہ کم بخت اپنے کفر اور جھٹلانے پر اڑے رہے اور گناہوں اور نافرمانیوں سے اپنی شرارت کے سبب سے باز نہ آئے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ من ارسلنا علیہ حاصبا سے مراد قوم لوط ہے اور من اخذتہ الصیحۃ سے مراد قوم ثمود اور مدین والے اور زمین میں دھنسا دیا “ سے مراد قارون اور اس کے اصحاب ہیں اور غرق سے قوم نوح اور فرعون مراد ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ 1 ؎ سے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کے کچھ لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا صدمہ قوم کے لوگوں کو بہت تھا شیطان نے ان لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ قوم کے لوگ ان نیک شخصوں کی مورتیں بنا کر اپنی آنکھوں کے روبرو رکھ لیویں تو ان نیک لوگوں کی جدائی کا صدمہ کم ہوجائے گا قوم کے لوگوں نے اس وسوسہ کے موافق عمل کیا اور کچھ مدت تک تو وہ مورتیں ویسی ہی رہیں پھر رفتہ رفتہ ان کی پوجا ہونے لگی۔ جس کے سبب سے شرک دنیا میں پھیل کر توحید اٹھ گئی یہ حدیث وزین لھم الشیطان اعمالھم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان دھوکے سے اس طرح ناحق بات کو حق بات کی صورت میں لوگوں کو دکھا دیتا ہے کہ دنیا کے کاموں میں جو بڑے ہو شیار کہلاتے ہیں وہ اس کے دھو کے میں آجاتے ہیں اور حق بات کو چھوڑ کر ناحق بات کو ایک حق بات کی صورت میں پہلے پہل رواج دیا اور پھر رفتہ رفتہ اپنا کام نکال لیا کہ بت پرستی دنیا میں پھیلا کر توحید سے لوگوں کو روک دیا اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کر قاروں تک جو لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اللہ تعالیٰ نے ظلم کے طور پر بےقصور ان کو ہلاک نہیں کیا کیوں کہ ظلم کو اس نے اپنی ذات پاک پر ٹھہرا لیا ہے اس لیے ان لوگوں کی سرکشی ہلاکت کے درجہ کو پہنچ گئی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 410 ج 3۔ )
(1 ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة نوح ص 377 ج 4 مع فتح الباری طبع دہلی۔ )