29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 29:41–43

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے سوا (اوروں کو) کارساز بنا رکھا ہے ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک (طرح کا) گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں سے کمزور مکڑی کا گھر ہے کاش یہ (اس بات کو) جانتے

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں (خواہ) وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے اور وہ غالب اور حکمت والا ہے

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

ہم یہ مثالیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے بیان کرتے ہیں اور اسے تو اہل دانش ہی سمجھتے ہیں

41 تا 43۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کہاوت بیان فرماتا ہے جو خدا کو جھوڑ کر اوروں کو معبود ٹھہراتے ہیں اور اپنی حاجتوں میں ان کو پکارتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے مکڑی کا گھر ہے جو نہایت بودا ہے اور گرمی جاڑے بارش کا اس میں کچھ بچاؤ نہیں اسی طرح ان جھوٹے معبودوں سے ان کے پوجنے والوں کو کچھ فائدہ نہیں ان کا دین مکڑی کے گھر کی طرح بودا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹے معبودوں کے پوجنے والوں کی مکڑی کے گھر سے مثال دی جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ آفت آجاوے گی تو ان کو اپنے جھوٹے معبودوں سے اسی طرح کچھ مدد نہ ملے گی جس طرح مکڑی کو اپنے گھر سے جاڑے گرمی میں کچھ بچاؤ کو مدد نہیں ملتی پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھونے معبودوں کے پوجنے والوں کو دھمکایا کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں جن کو تم ہمارے سوائے پکارتے ہو ہم تم سے سمجھ لیں گے ہم زبردست حکمت والے ہیں پھر فرمایا ان کہاو توں اور مثالوں کو جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں علم والے ہی سمجھتے ہیں نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کر قارون تک کے قصے کی آیتیں جو اوپر گزریں وہ سب آیتیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں جس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ یہ نافرمان لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کی مدد کے بھروسہ پر شک میں گرفتار رہے اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کی پکڑ ہوئی تو جس طرح جاڑے گرمی میں مکڑی کا گھر اس کے کچھ کام نہیں آتا اسی طرح ان مشرکوں کے جھوٹے معبود بھی ان کے کچھ کام نہ آئے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث جو گزر چکی ہے جس طرح وہ حدیث قوم ابراہیم قوم لوط اور قوم شعیب کی مہلت اور تباہی کی تفسیر ہے اسی طرح ان سب مکڑی کے گھر والوں کی مہلت اور تباہی کی بھی وہی حدیث گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ ان سب کو ان کے مکڑی کے گھروں کے بودے پنے سے واقف ہوجانے کے لیے مہلت دی گئی اور جب مہلت کے زمانہ میں یہ لوگ اپنی حالت سے باز نہ آئے تو طرح طرح کے عذابوں میں پکڑے گئے اور اس وقت ان کو اپنے مکڑی کے گھروں کا بودا پن اچھی طرح معلوم ہوگیا۔
Ayahs 29:44–49

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

خدا نے آسمانوں اور زمین کو حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے کچھ شک نہیں کہ ایمان والوں کے لئے اس میں نشانی ہے

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے محمد ! ﷺ یہ) کتاب جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اس کو پڑھا کرو اور نماز کے پابند رہو کچھ شک نہیں کہ نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے اور خدا کا ذکر بڑا (اچھا کام) ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے جانتا ہے

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور اہل کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریقے سے کہ نہایت اچھا ہو ہاں جو ان میں سے بےانصافی کریں (ان کے ساتھ اسی طرح کا مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہاری طرف کتاب اتاری ہے تو جن لوگوں کو ہم نے کتابیں دی تھیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض ان (مشرک) لوگوں میں سے بھی اس پر ایمان لے آتے ہیں اور ہماری آیتوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو کافر (ازلی) ہیں

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے ایسا ہوتا تو اہل باطل ضرور شک کرتے

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے ان کے سینوں میں (محفوظ) ہیں ہماری آیتوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں

44 تا 49۔ ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے برے کو برا اچھے کو اچھا اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہاں کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا پوجنے کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں کو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کو مد نظر ہوتا ہے مثلا کھیتی میں پیدا وار کا فائدہ تجارت میں نقدی کا فائدہ ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد اگر جزاو سزانہ ہو تو دنیا کا پیدا کرنا بالکل بےٹھکانے ٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلعم کو قرآن شریف کے پڑھنے کا اور نماز کے قائم کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا کہ نماز ایسی چیز ہے کہ سب بری باتوں سے روکتی ہے اور خدا کی یاد سب سے بڑی ہے معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابوہریرہ ؓ کی 1 ؎ حدیث ہے کہ آنحضرت ﷺ کے روبرو ایک چور شخص کے نمازی ہونیکا ذکر آیا آپ نے فرمایا نماز کی برکت سے اس کی چوری کی عادت چھوٹ جائے گی یہ حدیث ان الصلوت تنھیٰ عن الفحشاء والمنکو کی گویا تفسیر ہے عبداللہ ابن عون ثقہ تایغیوں میں ہیں صحح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے۔ کہ یہ شخص یاد الٰہی میں مصروف رہتا ہے تو تعریف کے طور پر اللہ تعالیٰ ایسے شخص کا ذکر فرشتوں کے روبرو کرتا ہے یہ حدیث ولذکر اللہ اکبر کی یہ گویا تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ وفا دار غلام تو اپنے آقا کو یاد کیا ہی کرتا ہے لیکن آقا کا غلام کو تعریف کے طور پر یاد کرنا بڑی بات ہے معتبر سند سے ابوداؤد اور نسائی کی ابوامامہ ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ بغیر خالص نیت کے کوئی عمل بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہے یہ حدیث واللہ یعلم ماتصنعون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خالص نیت کے عملوں کی اور دنیا کے دکھاوے کی عملوں کی سب خبر ہے اور دنیا کے دکھاوے کے عمل اس کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہیں شروع آیت میں اللہ تعالیٰ نے تلاوت قرآن اور نماز کا حکم اپنے رسول کو فرمایا اور پھر واللہ یعلم ماتصنعون فرما کر امت کو اس حکم میں شامل کردیا تاکہ معلوم ہو کہ اس حکم کی تعمیل سب پر یکساں ہے تلاوے قرآن کے وقت نماز روزہ حج زکوٰۃ سب باتوں کا حکم اگرچہ معلوم ہوسکتا ہے لیکن نماز کی تاکید شریعت میں بہت ہے اس لیے نماز کا ذکر خاص طور پر فرمایا پھر فرمایا اہل کتاب سے زیادہ نہ جھگڑو بلکہ ان سے اتنا ہی کہہ دو کہ قرآن شریف پر بھی ہم کو یقین ہے کہ وہ کلام الٰہی ہے اور پہلی کتابوں پر بھی کیونکہ ہمارا تمہارا معبود ایک ہے اور اسی کی سب کتابیں ہیں جس کی پیروی ہم پر لازم ہے مگر ان کتابوں میں ردو بدل ہوگیا ہے اس کی پیروی کا ہم کو حکم نہیں ہے قرآن شریف نے وہ ردو بدل کی باتیں ہم کو بتلادی ہیں اس لیے ہم اتنی ہی بات کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم پر اترا ہے اس پر ہمارا ایمان ہے ردو بدل کے شبہ کے سبب سے نہ تمہاری کسی خالص بات کو ہم مان سکتے ہیں نہ تمہاری ساری کتاب کو جھٹلا سکتے ہیں صحیح بخاری میں اہل کتاب کے باب میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے اس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا الذین ظلمون منھم اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اہل کتاب تم پر زیادتی کریں تو تم بھی ان سے ایسا ہی پیش آؤ مدینہ کے گردونواح میں یہود کے قبیلے نبی نضیر اور نبی قریظہ نے اہل اسلام کے مقابلہ اور مشرکین کی مدد پر کمر باندھی اس لیے آنحضرت ﷺ نے بنی نضیر کو تو جلا وطن کیا اور بنی قریظہ قتل کئے گئے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں یہ دونوں قصے مفصل ہیں جن قصوں کو الا الذین ظلموا کی تفسیر کہا جاسکتا ہے اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کیں اسی طرح تم پر بھی قرآن نازل کیا جس کو بعضے اہل کتاب اور بعضے اہل مکہ اللہ کا کلام مانتے ہیں اور جو نہیں مانتے وہ حق بات کے جان بوجھ کر منکر ہیں کیونکہ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ابنے رسول اللہ کے جب کچھ تم لکھے پڑھے نہیں تھے تو ان مشرکوں کے دل جانتے ہیں کہ ان پڑھ آدمی ایسی کتاب اپنے دل سے ہرگز نہیں بنا سکتا جب کا بنانا پڑھے لکھے لوگوں کی قدرت سے بھی باہر سے اور پہلی کتابوں میں تمہارے اوصاف ایسے تفصیل سے ہیں کہ اہل کتاب کے دل بھی خوب جانتے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو اور قرآن کلام الٰہی ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 415 ج 3‘ ) (2 ؎ مشکوٰۃ ص 196 باب ذکر اللہ والتقرب الیہ۔ )
Ayahs 29:50–59

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے لئے یہ کافی نہیں کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے کچھ شک نہیں کہ مومن لوگوں کے لئے اس میں رحمت اور نصیحت ہے

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اگر ایک وقت مقرر نہ (ہو چکا) ہوتا تو ان پر عذاب آ بھی گیا ہوتا اور وہ (کسی وقت میں) ان پر ضرور ناگہاں آ کر رہے گا اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

یہ تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور دوزخ تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن عذاب ان کو ان کے اوپر اور نیچے سے ڈھانک لے گا اور (خدا) فرمائے گا کہ جو کام تم کیا کرتے تھے (اب) ان کا مزہ چکھو

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین فراخ ہے تو میری ہی عبادت کرو

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر متنفس موت کا مزہ چکھنے والا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹ کر آؤ گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے (نیک) عمل کرنے والوں کا (یہ) خوب بدلا ہے

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جو صبر کرتے اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں

50 تا 59۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو کچھ نشانیاں کیوں نہیں دکھاتے اللہ فرماتا ہے تو کہہ دے نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں اگر اللہ جانتا نشانیاں دیکھ کر تم راہ پر آجاؤ گے تو وہ تم کو نشانیاں بھی دکھا دیتا اس پر کچھ مشکل نہ تھا مگر وہ جانتا ہے کہ تمہارا ارادہ مسخرا پن کا ہے اس لیے وہ تم کو نہیں دکھاتا اور میں تو فقط ڈرانے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کی وہ جہالت بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ جو پیغمبر صلعم کی سچائی پر نشانیاں مانگتے تھے حالانکہ قرآن شریف ایسا بڑا معجزہ ہے کہ جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصیح بلیغ عاجز آگئے اس کا مانند دس سورت کیا بلکہ ایک سورت بھی نہ بناسکے پھر رسول ﷺ کی صداقت میں کبا ایسی کتاب کافی اور بس نہیں ہے اس قرآن میں ایمان والوں کے لیے قرآن کی نصیحت پر عمل کرنے کا نتیجہ اللہ کی رحمت سے جنت ہے اور اس قرآن میں یہ بھی ہے جو اس کی نافرمانی کرے گا اس پر عذاب ہوگا تو کہہ دے میرے تمہارے درمیان خدا گواہ ہے جو سب جانتا ہے اگر میں جھوٹ کہتا ہونگا تو وہ مجھ سے بدلہ لے گا لیکن وہ تو دن بدن اسلام کو ترقی دے رہا ہے جس سے اسلام کا حق ہونا صاف ظاہر ہے اب اللہ تعالیٰ مشرکوں کی دوسری جہالت بیان کرتا ہے کہ وہ خدا کا عذاب جلد طلب کرتے ہیں ان سے کہہ دیا جائے کہ اگر عذاب کے لیے قیامت کا دن مقرر نہ ہوتا تو بہت جلدان کو عذاب پہنچتا اور البتہ آوے گا ان کو عذاب یکایک بیخبر ی میں اور دوزخ ان کی تاک میں ہے قیامت کے دن جب ان کو دوزخ کی آگ میں جھونک دیا جاوے گا تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ ثواب عذاب کی جلدی کرنے کا اور انپی اور بد اعمالی کا مزہ چکھواب آگے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ہجرت کا حکم فرماتا ہے کہ جس شہر میں آدمی دین پر پورا نہ چل سکے وہاں سے ہجرت کر کے دوسرے شہر میں چلا جاوے جہاں دین پر پورا چل سکے معتبر سند سے امام احمد نے زبیربن عوام ؓ سے روایت 1 ؎ کی ہے کہ پیغمبر صلعم نے فرمایا سب شہر اللہ کے شہر ہیں اور سب بندے اللہ کے بندے ہیں جہاں تو نیکی کرسکے وہاں قیام کر پہلے پہل بےوطن ہونے میں تنگی معاش کے اندیشہ سے لوگوں کو مکہ کے چھوڑنے میں پس وپیش تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ اللہ کی زمین فراخ اور اللہ ہر جگہ رزاق ہے۔ اور کمزور ایمان والوں کو مکہ میں ٹھہر نا مشکل ہوا تو انہوں نے حبشہ کو ہجرت کی تاکہ وہاں بےخوف اپنے دین پر چلیں وہاں کے بادشاہ بخاشی نے ان کو جگہ دی اور بڑی مدد کی معتبر سند سے مسند امام احمد میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو بہت تکلیف دینی شروع کی تو یہ حبشہ کی ہجرت آنحضرت ﷺ کے حکم سے ہوئی بعد اس کے پیغمبر صلعم اور سب اصحاب نے مدینہ منورہ کو ہجرت کی مدینہ کی ہجرت کا قصہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے 3 ؎ مفصل ہے پھر فرمایا ہر جی کے لیے موت ضرور ہے پھر تم ہمارے پاس آؤ گے اس واسطے تم کو چاہیے کہ اللہ کی بندگی میں رہو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کی جگہ بہشت میں اونچے محل اور نیچے ان کے نہریں ہیں ہمیشہ رہیں گی ان میں یہ اچھا بدلہ ان نیک عمل کرنے والوں کا ہے جنہوں نے دین کے کاموں کی تکلیف اور مخالفوں کی ایذا پر صبر کیا اور دین پر جمے رہے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا کہ پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ؓ اشعری کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ یہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اور معجزوں کے علاوہ مجھ کو قرآن کا معجزہ ایسا دیا گیا ہے جس کے سبب سے قیامت کے دن میری امت کے نیک لوگوں کی تعداد اور سب امتوں کے نیک لوگوں سے بڑھ کر ہوگی ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل مکہ میں جو لوگ علم الٰہی کے موافق دوزخ میں جھو کے جانے کے قابل ٹھہر چکے تھے ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی رائیگاں گئی جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائگاں جاتا ہے اور یہی لوگ مسخرا پن کے طور پر قرآن کے سوا اور معجزوں کی خواہش اور عذاب کی جلدی کرتے کرتے اسی گمراہی کی حالت میں دنیا سے اٹھ گئے اور قرآن شریف کی نصیحت کے سبب سے جو لوگ راہ راست پر آئے ان کی تعداد قیامت کے دن سب کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گی۔ صبر یا تو مناہی کی باتوں سے بچنے پر ہوتا ہے یا جن باتوں کے بجالانے کا شرع میں حکم ہے اس کے بجا لانے میں آدمی کو جو تکلیف ہو اس پر صبر ضروری ہے مثلا جیسے جاڑے کے وضو یا گرمی کے روزہ کی تکلیف یا صبر مصیبت کے وقت ہوتا ہے مثلا جیسے کمزور مسلمانوں کو مکہ میں مشرکوں کے ستانے کی مصیبت درپیش تھی ان آیتوں میں ہر طرح کے صبر کے اجر کا ذکر ہے صبر کے اجر کا پورا بھروسہ جب تک آدمی اللہ تعالیٰ پر نہ رکھے تو اس سے صبر نہیں ہوسکتا اسی واسطے صبر کے ساتھ تو کل کا ذکر فرمایا تو کل کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے ہر کام کو تقدیر الٰہی اور مرضی الٰہی پر اسی طرح چھوڑ دیوے کہ اسباب دنیاوی کو کام میں لاوے مگر انجام ہر ایک کا اللہ تعالیٰ کی مرضی پر رکھ کر تکلیف کے وقت صبر اور راحت کے وقت شکر کرے صحیح مسلم میں صہیب ؓ رومی سے روایت 1 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تقدیر الٰہی پر شاکر رہنے والے ایماندار شخص کی ہر طرح بہتری ہے تکلیف کے وقت صبر کا اجر ہے اور راحت کے وقت شکر گزاری کا بدلہ طبرانی کبیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جب صابر لوگوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا تو بےصبر لوگ آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کے جسم کی بوٹیاں کوئی قینچی سے کاٹتا اور وہ اس تکلیف پر صبر کرتے۔ یہ حدیث صبر کے اچھے اجر اور صبر کی ترغیب کی گویا تفسیر ہے اس حدیث کی سند میں ایک راوی مجاعتہ بن الزبیر ہے جب کو بعضے علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن امام احمد نے اس کو معتبر کہا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسی اشعری ؓ کی حدیث جو ابھی گزری جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کے اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے اس حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں اچھے ٹھہر چکے ہیں ان کو قرآن کی نصیحت نے ایسا ہی فائدہ دیا جیسے اچھی زمین میں مینہ کے پانی سے فائدہ ہوتا ہے اور اسی فائدہ کے سب سے قیامت کے دن وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قابل قرار پائے اس لیے فرمایا قرآن کے ماننے والوں کے حق میں یہ قرآن ایک رحمت ہے اسی طرح علم الٰہی میں جو لوگ بد قرار پاچکے تھے ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی رائیگاں گئی جس طرح بوری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے اسی واسطے وہ لوگ شق القمر جیسا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی مسخرا پن کے طور پر اور معجزوں کی فرمائش اور عذاب الٰہی کی جلدی کرتے کرتے بدر کی لڑائی میں ان میں کے بڑے بڑے سرکش دنیا سے اٹھ گئے اور مرتے ہی وہ عذاب ان کی آنکھوں کے سامنے آگیا جس کی جیتے جی یہ لوگ جلدی کرتے تھے چناچہ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا میں بڑی ذلت سے یہ لوگ مارے گئے اور پھر ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے عذاب الٰہی کا وعدہ سچا پا لیا ابن ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لیے ایک ٹھکانہ جنت میں اور ایک دوزخ میں پیدا کیا ہے یہ منکر حشر مشرک لوگ جب ہمیشہ کو دوزخ میں جا پڑیں گے تو ان کی جگہ جو جنت میں خالی رہ جائے گی وہ بھی جنتیوں کو مل جائے گی یہ حدیث اولائک ھم الخسرون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنا جنت کا ٹھکانہہ اپنے ہاتھ سے کھودیا اس واسطے یہ لوگ بڑے ٹوٹے میں ہیں۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 419 ج 3 الدر المنثور ص 149 ج 5 ) (2 ؎ فتح الباری ص 446 ج 3 باب ہجرۃ الجشتہ۔ ) (3 ؎ صحیح بخاری ص 552 ج 1 باب ہجرۃ النبی ﷺ و اصحابہ الی المدنیۃ) (1 ؎ مشکوٰۃ ص 452 باب التوکل والصبر فصل اول) (1 ؎ الترغیب والتر ہیب ص 282 ج 4 عنوان الترغیب فی الصبر الخ۔ )
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت سے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے خدا ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

مسند عبد بن حمید بیہقی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت 2 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک روز مدینہ منورہ کے ایک باغ میں تشریف لے گئے اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھے آنحضرت ﷺ نے پیڑوں کے نیچے کی کھجوریں چن کر کچھ کھائیں اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے فرمایا کہ تم بھی کھاؤ انہوں نے کہا کہ حضرت مجھ کو تو بھوک نہیں آپ نے فرمایا مجھ کو تو بھوک لگی ہے میں نے چار روز سے کچھ نہیں کھایا اور اگر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تو اللہ تعالیٰ مجھ کو شاہ ایران اور شاہ روم کی سی بادشاہت عنایت فرما دیوے اے عبداللہ بن عمر میرے بعد تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے کہ برس برس روز کا غلہ ذخیرہ کر کے رکھیں گے اللہ تعالیٰ کے رزاق ہونے پر بھروسہ ان لوگوں کو نہ ہوگا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ابہی ہم اس باغ میں ہی تھی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو دنیا کا خزانہ جمع کرنے سے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں کی رغبت سے منع فرمایا ہے اس لیے کل کے واسطے میں کوئی چیز کھانے کی نہیں رکھتا جلال الدین سیوطی نے اگرچہ اس روایت کی سند کو ضعیف بتلاتا ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی جراح بن منہال ابو العطوف کو اکثر علماء 1 ؎ نے ضعیف قرار دیا ہے (1 ؎ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں ہذا حدیث غریب وابو العطوف (جراح بن منہال) ضعیف (ع ‘ ح) لیکن ترمذی میں حضرت انس ؓ کی ناقابل اعتراض سند کی حدیث 2 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کوئی کھانے پینے کی چیز کل کے واسطے ذخیرہ کر کے نہیں رکھتے تھے اس شان نزول کے مواق ہے بعضے مفسروں نے یہ جو اعتراض کیا ہے کہ اس شان نزول کی روایت کا مضمون اور صحیح روایتوں کے مخالف ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ برس روز کا غلہ ازواج مطہرات کے گھروں میں آنحضرت ﷺ کی حیات کے وقت بھرا رہتا تھا اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح بیماری کی حالت میں علاج کرنے اور نہ کرنے کی دونوں روایتیں ہیں اور علماء ان دونوں روایتوں میں ایک روایت کو دوسری روایت کے مخالف نہیں کہتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ایک روایت اول درجہ کے توکل کے بیان میں ہے اور دوسری روایت اس حکم کے بیان میں ہے کہ شریعت میں ضرورت کے وقت بیماری کا علاج کرنا بھی منع نہیں ہے بلکہ جائز ہے اسی طرح کی یہ دونوں روایتیں ہیں ایک روایت دوسری کے مخالف نہیں ہیں تفسیر سفیان بن عیینہ ؓ 3 ؎ میں لکھا ہے کہ سوائے آدمی اور چو ہے اور چیونٹی کے اور جاندار چیزیں کل کے کھانے پینے کی چیز کا ذخیرہ بہت کم جمع کرتی ہیں غرض کھانے پینے کی چیز گرانی کے وقت اگر کوئی شخص بھرے اور گرانی کے انتظار میں اس کو روک کر بیچنے کے لیے رکھے تو اس طرح کا ذخیرہ منع ہے اور ارزانی کے موسم میں تجارت کے لیے یا کھانے پینے کے لیے غلہ کا ذخیرہ منع نہیں ہے یہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جو رازق ذخیرہ نہ رکھنے والوں کو ہر روز رزق پہنچاتا ہے ہجرت کے سبب سے اگر تمہارا کچھ ذخیرہ وطن میں رہ جائے گا تو وہی رازق اس حالت میں بھی تم رزق پہنچائے گا کیوں کہ وہ ہر شخص کی ضرورت جانتا ہے اور ہر شخص کی التجا کو سنتا ہے صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مال کے پیٹ میں جب بچہ کا پتلہ تیار ہوجاتا ہے تو اس میں روح پھونکنے سے پہلے اس کا رزق لکھ لیا جاتا ہے اس حدیث کو اس آیت کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ اس سے رزق کے باب میں جو انظام الٰہی ہے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 149 ج 5۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی کتاب الزھذ ‘ باب ما جآء فی معیشتہ النبی ﷺ واہلہ) (3 ؎ فتح البیان ص 514 ح 3 (طبع بھوپال ہند ) (1 ؎ مشکوٰۃ ص 20 باب الایمان بابقدر فصل اول۔ )
Ayahs 29:61–69

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اور سورج اور چاند کو کس نے (تمہارے) زیر فرمان کیا ؟ تو کہہ دیں گے خدا نے، تو پھر یہ کہاں الٹے جا رہے ہیں ؟

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

خدا ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور اگر ان سے پوچھو کہ آسمان سے پانی کس نے نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد (کس نے) زندہ کیا ؟ تو کہہ دیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں سمجھتے

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے کاش یہ لوگ سمجھتے

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خدا کو پکارتے (اور) خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں لیکن جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو جھٹ سے شرک کرنے لگ جاتے ہیں

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں اور فائدہ اٹھائیں (سو خیر) عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد و نواح سے اچک لئے جاتے ہیں کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جو خدا پر جھوٹ بہتان باندھے یا جب حق بات اس کے پاس آئے تو اس کی تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے اور خدا تو نیکوکاروں کے ساتھ ہے

61 تا 69۔ اللہ تعالیٰ ان آیتوں میں اپنا معبود ہونا بیان فرماتا ہے کہ اس کے سوائے کوئی لائق بندگی کے نہیں ہے کس واسطے کہ مشرک لوگ اگرچہ خدا کے سوا اوروں کو بھی پوجتے ہیں لیکن آسمان و زمین چاند سورج رات دن کا پیدا کرنے والا خدا ہی کو جانتے ہیں اور اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ بندوں کا روزی دینے والا اور مارنے والا بھی وہی اللہ ہے اور وہی کسی کو امیر اور کسی کو فقیر جیسا مناسب دیکھتا ہے اور جس کا جس کا مستحق جانتا ہے ویسا ہی کرتا ہے وہی سب کا خالق ہے یہ سب کچھ کہہ کر پھر بتوں کو اپنا معبود جانتے ہیں کی زندگی پر رکھا تھا اس لیے آگے کی آیت میں اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اور آخرت کی تعریف بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی نا پائیدار ہے جس کو بقا نہیں اور آخرت کا جینا ہمیشہ کا جینا ہے اگر یہ مشرک اس بات کو سمجھتے تو باقی کو فانی پر اختیار نہ کرتے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرک لوگ بےبسی کی حالت میں صرف خدا ہی کو پکارتے ہیں ہر وقت اس کو نہیں پکارتے یہ ان کی نادانی ہے سورة نبی اسرائیل میں فرمایا واذا مسکم فی البحر ضل من تدعون الا ایاہ فلما نجا کم الی البر اعرضتم جس مطلب یہ ہے کہ جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے بتوں کو بھول جاتے ہو اور ڈوبنے سے بچانے کی التجا خالص اللہ سے کرتے ہو پھر جب نجات دی تم کو خدا نے دریا سے طرف جنگل کی تو بچ گئے یہاں فرمایا کہ جب نجات دی تو لگے شرک کرنے دنیا کی زندگی کو لہو لعب اس واسطے فرمایا کہ جس طرح بچے کسی چیز سے دل بہلاتے ہیں اور کھیلتے ہیں اور پھر تتر بتر ہوجاتے ہیں ایسے ہی دنیا فانی ہے اور آخرت میں حیات دائمی ہے جس میں موت نہیں اور نہ کسی طرح کا غم اور بیماری ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ سمجھ رکھتے یا کچھ علم ان کو ہوتا تو دار فانیہ کو آخرت باقیہ پر پسند نہ کرتے ان کو ایمان سے روکنے والی دنیا کی زندگی ہے جب ان کو زندگی کی امید نہیں رہتی اور ڈوب جانے کا خوف ہوتا ہے تو فطرت کی طرف پھرتے ہیں سچی نیت سے اکیلے اللہ ہی کو پکارتے ہیں بتوں کو چھوڑ دیتے ہیں جانتے ہیں کہ اس شدت کے وقت اللہ کے سوا کوئی مصیبت کو دور کرنے والا نہیں جب وہ پروردگار ان کو ڈوبنے سے بچا دیتا ہے اور خشک زمین میں ان کو لے آتا ہے اور وہ بےخوف ہوجاتے ہیں تو اس وقت بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگتے ہیں اور غیر اللہ کو پکارنے لگتے ہیں فسوف یعلمون کا مطلب یہ ہے قریب معلوم کریں گے اپنے اس کام کے نتیجہ کو اب آگے اللہ تعالیٰ قریش پر احسان جتلاتا ہے کہ ان کو حرم میں اس طرح آباد کیا کہ جو اس میں آیا اس کو امن ملا مکہ والے امن تھے اور سارے ملک میں فساد تھا ایک کو ایک لوٹتا قتل کرتا اس نعمت کا شکریہ ان لوگوں نے یہ کیا کہ خدا کے ساتھ اوروں کو شریک ٹھہرایا اور بتوں کی بندگی کی اللہ کے احسان کے بدلے میں ناشکری کی ان کو چاہئے تھا کہ خالص اللہ کی بندگی کرتے اور کسی کو اس کا شریک نہ کرتے اور اس کے رسول کی تعظیم کرتے انہوں نے بجائے تعظیم کے اللہ کے رسول کو اپنے شہر سے نکال دیا خدا تعالیٰ نے بھی اپنی نعمتیں ان سے لے لیں اور بدر میں ان کو قتل کیا پھر غلبہ اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو ہوگیا مکہ فتح ہوا اور ان کو اللہ نے ذلیل و خوار کیا پھر فرمایا ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر یہ جھوٹ باندھے کہ اللہ نے مجھ پر وحی کی ہے اور اس پر کچھ وحق نہیں ہوئی یا جھٹلاوے دین حق کو جب اس کے پاس آوے کیا دوزخ میں منکروں کے رہنے کی جگہ نہیں ہے یہ بطور دھمکی اور ڈرانے کے فرمایا جب اللہ تعالیٰ مشرکوں کا احوال فرما چکا تو اب ان کے مقابل میں اپنے نیک بندوں کا حال بیان کرتا ہے کہ جن لوگوں نے ہماری رضامندی حاصل کرنے کے لیے محنت کی ان کو ہم اپنی ہی سوجھا دیں گے مطلب یہ ہے کہ ان کو نیک راستوں کی طرف زیادہ ہدایت کریں گے اور توفیق اچھی عطا کریں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر میں فرمایا کہ جنہوں نے ہماری طاعت میں کوشش کی ہم انکو اپنے ثواب کی راہیں بتلاویں گے وان اللہ لمع المحسنین اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے دنیا میں مدد سے اور آخرت میں مغفرت سے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہو وہ کبھی ذلیل و خوار نہ ہوگا۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ شیطان نے پہلے تو لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ وہ اپنے نیک بڑے بوڑھوں کی مورتیں فقط یادگاری کے لیے بناویں اور پھر کئی پشتوں کے بعد ان مورتوں کی پوجا کار واج لوگوں میں اس اعتقاد سے پھیلا دیا کہ جو کوئی ان نیک لوگوں کو مورتوں کو پوجے گا یہ نیک لوگ اللہ کے روبرو اس کی سفارش کریں گے اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر لوگوں کے دل میں شیطان یہ وسوسہ نہ ڈالتا کہ یہ لوگ اپنے ہات سے پتھر کی مورتیں بنادیں اور ان مورتوں کو یا اپنے نیک بڑے بوڑھوں کو تمام جہان کا خالق اور رازق سمجھیں تو وہ ملعون شرک کے پھیلانے میں کبھی کامیاب نہ ہوتا کیونکہ یہ وسوسہ ایسا کھلم کھلا غلط تھا کہ اس کو ہرگز کوئی نہ مانتا اس لیے اس ملعون نے شرک کے پھیلانے کا وسوسہ اس ہیر پھیر سے لوگوں کے دل میں ڈالا جس کا ذکر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث میں ہے اب اس ہیر پھیر کے وسوسہ کے بعد بھی یہ اعتبقاد مشرکوں کے دلوں میں فرما کر اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو یوں قائل کیا ہے کہ جو تمام جہاں کا خالق و رازق ہے تمام جہان کا معبود بھی وہی وحدہ لاشریک ہے اب رہا مشرکوں کا یہ اعتقاد کہ جو کوئی ان نیک لوگوں کو مورتوں کو پوجے گا تو یہ نیک لوگ اللہ کے روبرو اس کی سفارش کریں گے اس کا جواب سورة یونس میں گزر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ کہ ان نیک لوگوں نے اپنے جیتے جی کسی کو یہ اجازت نہیں دی کہ ان کے مرنے کے بعد لوگ ان کی مورتوں کی پوجا کیا کریں اور مرنے کے بعد دنیا کے احوال کی ان نیک لوگوں کو کچھ خیر نہیں اس لیے قیامت کے دن وہ نیک لوگ ان مشرکوں سے اپنی بڑی بیزاری ظاہر کریں گے اور اللہ تعالیٰ کو اپنی بیخبر ی اور برائت کا گواہ قرار دیویں گے۔ سورة الا نعام میں گزر چکا ہے کہ مسیلمہ کذاب کہتا تھا کہ اس پر بھی آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے اور مشرکین مکہ قرآن کے وحی ہونے کی منکر تھے ان ہی دونوں باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔