30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 30:1–7

غُلِبَتِ الرُّوْمُۙ Open ayah 30:2 in the Quran reader

(اہل) روم مغلوب ہوگئے

فِیْۤ اَدْنَى الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَۙ Open ayah 30:3 in the Quran reader

نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوجائیں گے

فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ١ؕ۬ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْۢ بَعْدُ١ؕ وَ یَوْمَئِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 30:4 in the Quran reader

(یعنی) چند ہی سال میں پہلے بھی اور پیچھے بھی خدا ہی کا حکم ہے اور اس روز مومن خوش ہوجائیں گے

بِنَصْرِ اللّٰهِ١ؕ یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 30:5 in the Quran reader

(یعنی) خدا کی مدد سے وہ جسے چاہتا ہے مدد دیتا ہے اور وہ غالب (اور) مہربان ہے

وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:6 in the Quran reader

(یہ) خدا کا وعدہ (ہے) خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ Open ayah 30:7 in the Quran reader

یہ تو دنیا کہ ظاہری زندگی ہی کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے غافل ہیں

1 تا 7 صحیح سند سے ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا اور معتبر تاریخ کی کتابوں کی روایتوں 1 ؎ کا حاصل یہ ہے۔ ؎(لگتے ملک میں) یعنی ساتھ ملتے ملک میں سے مراد شام ہے جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی اور جو حجاز کے قریب ہے (ع ‘ ح) کہ روم میں بادشاہت پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی تھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے باردشاہ رہے اور ان کا ہی لقب قیصر ہوتا تھا پھر ان میں کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا نصرانی ہوگیا اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا اور بارہ ہزار کے قریب گرجے بنائے اور بہت سے قانون جاری کئے اور اسی کے زمانہ میں دین عیسائی کی بہت باتوں میں ردوبدل ہوگیا غرض اس کے زمانہ سے روم کے ملک میں نصرانی بادشاہت شروع ہوئی اس سلسلہ کا جب ہرقل بادشاہ تھا اس سے اور ملک فارس کے بادشاہ سے جس کا لقب کسرٰے تھا لڑائی ہوئی اور کسریٰ کی فوج ہرقل کی فوج پر غالب آئی یہ وہ زمانہ تھا کہ جس وقت آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے اور ابھی کچھ تھوڑے لوگ مسلمان ہوئے تھے کسریٰ کی فتح سن کر مکہ کے مشرک لوگوں نے مسلمانوں سے یہ ہا کہ جس طرح تم اپنے آپ کو آسمانی کتاب کا پیرو اور پابند بتلاتے ہو اسی طرح ملک روم کے لوگ نصرانی می ہیں اور جس طرح ہم لوگوں کو تم مشرک تبتلاتے ہو پارسی لوگ بھی ویسے ہی ہیں آخر ان کا ہی دین غالب رہا اور وہی رومیوں پر غالب آئے اسی طرح ہم بھی تم پر آخر کو غالب آویں گے یہ خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے آنحضرت ﷺ سے ذکر کیا کہ مشرک لوگ یوں کہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ نودس برس کے بعد پھر رومی لوگ پارسیوں پر غالب آویں گے اور آپ کے کلام کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مکہ کے گلی کوچہ میں اس آیت کے مضمون کا شہرہ کردیا اور ابی بن خلف اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے شرط ہوئی آخر نو برس کے بعد رومی پارسیوں پر غالب آئے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ وہ شرط جیت گئے اس آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ جس دن رومی پارسیوں پر غالب آویں گے اس دن مسلمان اللہ کے مدد سے خوش ہوں گے معتبر سند سے ابوسعید خدری ؓ کی روایت 1 ؎ سے ترمذی تفسیر سفیان ثوری اور تفسیر سدی میں اس کی تفسیر یوں ہے کہ جس زمانہ میں رومی پارسیوں پر غالب آئے اسی زمانہ میں اللہ کی طرف سے فرشتوں کی مدد آن کر بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو مشرکین مکہ پر فتح حاصل ہوئی اگرچہ بعضے مفسروں کا یہ قول ہے کہ جس زمانہ میں رومی پارسیوں پر غالب آئے وہ زمانہ صلح حدیبیہ کا تھا لیکن ترمذی کی صحیح روایت سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے جو اوپر بیان کیا گیا یہ آیت آنحضرت ﷺ کے سچے نبی ہونے اور قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کی بڑی دلیل ہے کیوں کہ نو برس پہلے جو کچھ آپ نے فرمایا تھا اور آیت میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرمانے کی تصدیق فرمائی تھی آخر کو وہی ہوا اکثر مفسروں نے لکھا ہے کہ اس آیت کا مطلب ظہور میں آجانے کے بعد بہت سے مشرک مسلمان ہوئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ابی بن خلف میں شرط جو دونوں طرف سے ہوئی تھی اس سے امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد ؓ نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اس طرح کی دونوں طرف کی شرط جائز ہے لیکن ترمذی کی یساربن مکرم کی روایت 2 ؎ میں یہ صراحب آچکی ہے کہ یہ قصہ اس طرح کی شرط کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے اس لیے اور مفسروں نے اس مسئلہ کو تسلیم نہیں کیا یہی ہرقل روم کا بادشاہ ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے خط لکھا تھا اور ابو سفیان سے اس خط پر اس نے آنحضرت ﷺ کے کچھ حالات دریافت کئے تھے جس کا قصہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ہے اس ملک کسریٰ اور قیصر کا وہی حال ہے جو مسند امام احمد اور نسائی کا براء بن عازب ؓ کی معتبر روایتوں میں آنحضرت ﷺ نے معجزہ کے طور پر فرمایا تھا کہ یہ دونوں ملک فتح ہوں گے اور ان کے خزانے مسلمانوں کے صرف میں آویں گے تاریخ کی کتابوں میں اس کی صراحت ہے کہ کس طرح کی لڑائی کے بعد حضرت عمر ؓ کی خلافت میں کسریٰ کا ملک اور سلطان محمد ثانی کی بادشاہت میں قسطنطنیہ مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔ یہ سلطان محمد ثانی سلاطین عثمانیہ میں کے ایک سلطان ہیں 857 ہجری میں بڑے محاصرہ کے بعد انہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا۔ دولت عثمانیہ میں قانون کی بنا بھی ان ہی سلطان کے زمانہ میں ہوئی سلاطین عثمانیہ کے بڑے بوڑھوں کی اصل بودو باش نواح بلخ کی ہے تاتا ریوں نے ساتویں صدی میں جب بلخ اور اس کے نواح کے شہروں کو تاراج کیا تو سلاطین عثمانیہ کے بڑے بوڑھوں میں سے سلیمان شاہ ملک روم کے ارادہ سے نکلے یہ زمانہ وہ تھا کہ جس میں ادھر ایک ملک میں سلجوقیوں کی سلطنت تھی۔ سلیمان شاہ نے تو نہر فرات میں غرق ہو کر وفات پائی لیکن ان کے بیٹے ارل طغرل ملک روم میں پہنچ گئے اور سلطان علاوالدین سلجوقی کے حکم سے اس ملک میں فوجی کام کرتے رہے اور 687 ھ میں ان کا انتقال ہوگیا ان کے بعد ان کے بیٹے امیر عثمان کو علاء الدین سلجوقی نے سلطان کا خطاب دیا اور سلطان عثمان کی چند پشت کا مستقر تو اور مقامات پر رہا پھر سلطان محمد ثانی کے عہد سے سلاطین عثمانیہ کا مستقر قسطنطنیہ قرار پایا۔ حروف مقطعات کی تفسیر تو سورة بقر میں گزر چکی ہے باقی کی آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ملک عرب کے قریب کی بستی اور عات کے میدان میں رومی اور پارسیوں کی لڑائی ہو کر اب تو پارسی رومیوں پر غالب آگئے ہیں لیکن دس برس کے اندر پھر رومی پارسیوں پر غالب آویں گے اللہ تعالیٰ غیب دان ہے اس کے پہلے کی اور آیندہ کی فتح شکست کا سب حال معلوم ہے پھر فرمایا جب رومیوں کا غلبہ پارسیوں پر ہوگا تو بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کا غلبہ بھی مشرکین مکہ پر ہوگا اس لیے مسلمانوں کو اس دن دہری خوشی ہوگی پھر فرمایا فتح ظاہری اسباب پر آنحضرت نہیں ہے بلکہ فتح اللہ کے ہاتھ ہے وہ جس کو چاہتا ہے فتح یاب کرتا ہے وہ فرما نبرداروں کے حال پر رحم کرنے والا اور نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں زبر دست ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ جس بات کا وعدہ کرے وہ کبھی خلاف نہیں ہوتا لیکن جن لوگوں کا بھروسہ دنیا کے السباب ظاہری پر ہے وہ اللہ کے وعدہ پر بھروسہ رکھنا نہیں چاہتے کیوں کہ وہ لوگ تو دنیا کی زندگی پر گرویدہ اور آخرت کی جزا وسزا سے بالکل غافل ہیں ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس ؓ کی معتبر روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقل مندوہ شخص ہے جو دنیا کی زندگی میں کچھ آخرت کا سامان کرلے اور نادان وہ ہے و دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہو کر آخرت کو بھول جائے اور پھر آخرت میں اللہ سے بہبودی کی امید رکھے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس سے عقلمند اور نادان لوگوں کی یہ تفصیل اچھی طرح معلوم ہوسکتی ہے کہ شریعت کے حکم میں عقلمند کون لوگ ہیں اور نادان کون ہیں۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 422‘ 425 ج 3 (1 ؎ ایضا ص 426 ج 3 ) (2 ؎ جامع ترمذی مع تحفہ الا حوذی ص 161 ج 4 )
Ayahs 30:8–13

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ Open ayah 30:8 in the Quran reader

کیا انہوں نے اپنے دل میں غور کیا کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؕ Open ayah 30:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی ؟ (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا ؟ وہ ان سے زور و قوت میں کہیں زیادہ تھے اور انہوں نے زمین کو جوتا اور اسکو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو انہوں نے آباد کیا اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوا السُّوْٓاٰۤى اَنْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا بِهَا یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 30:10 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا اس لئے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور ان کی ہنسی اڑاتے رہے تھے

اَللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 30:11 in the Quran reader

خدا ہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر پیدا کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 30:12 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی گنہگار ناامید ہوجائیں گے

وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ مِّنْ شُرَكَآئِهِمْ شُفَعٰٓؤُا وَ كَانُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 30:13 in the Quran reader

اور ان کے (بنائے ہوئے) شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا اور وہ اپنے شریکوں سے نامعتقد ہوجائیں گے

8 تا 12۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے یہ بات فرمائی ہے کہ مشرک لوگ خدا تعالیٰ کی مخلوقات میں غور وفکر کریں کس لیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر دلیل ہے اور اس فکر کے کرنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ پروردگار مخلوقات کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے اس واسطے کوئی اس کے سوا عبادت کے لائق نہیں ہے اور نہ کوئی بجز اس کے مخلوقات اور رنگ برنگ کی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس پر یہ لوگ اگر غور کریں تو اچھی طرح جان لیں کہ یہ تمام مخلوق بےکار پیدا نہیں کی گئی ہے بلکہ نیک وبد کی جزا وسزا کے لیے پیدا کی گئی ہے اور ایک معین تک اس کی میعاد مقرر کی گئی ہے اور وہ قیامت کا روز ہے لیکن اکثر لوگ اپنے رب کے روبرو کھڑے ہونے کے منکر ہیں یہ نہیں ہیں جب یہ لوگ مثلا کھیتی کرتے ہیں تو اناج کے فائدہ کی نیت سے اور باغ لگاتے ہیں تو میوہ کھانے کے ارادہ سے پھر اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی مخلوقات کیا بغیر کسی نتیجہ کے پیدا کی ہے نہیں نہیں بلکہ نتیجہ اس کا وہی جزا وسزا ہے جس کے موافق اللہ کے رسول نصیحت کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے اس بات پر تنبیہ فرمائی کہ جو کچھ احکام ہمارے رسول لائے وہ حق ہیں جنہوں نے ان کو جھٹلایا خدا نے ان کو ہلاک کردیا اس واسطے فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ ان کو معلوم ہوجاتا کہ کیا حال ہوا ان پہلی امتوں کا جو ان سے زور اور قوت میں زیادہ تھیں اور بہ نسبت ان کے انہوں نے زمین کو بھی کھیتی اور عمارت سے زیادہ آباد کیا تھا باوجود اس کے جب ان کے پاس ان کے رسول معجزے لے کر پہنچے اور وہ اپنی دولت اور قوت کے گھمنڈ میں اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب میں پکڑلیا پھر خدا کے عذاب سے کوئی ان کو بجانے والا نہ ہوا اس عذاب کے نازل کرنے میں اللہ نے کچھ ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے احکام کو جھٹلاتے تھے اس لیے انجام کار ان لوگوں کا جنہوں نے بری کمائی کی تھی اچھا نہیں ہوا کہ دنیا میں وہ لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور آخرت کا عذاب جدا بھگتیں گے اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کہ اللہ نے پہلی بار مخلوقات کو کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور آخرت کا عذاب جدا بھگتیں گے اس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ نے پہلی بار مخلوقات کو جس طرح پیدا کیا ویسا ہی دوبارہ پیدا کرے گا اس کا مطلب یہ کہ جس طرح پہلی بار پیدا کرنے پیر وہ قدرت رکھتا ہے اسی طرح مرنے کے بعد پھر جلانے پر قادر ہے پھر قیامت کے روز تم سب اس کی طرف رجوع کئے جاؤ گے اس وقت ہر ایک اپنے عمل کا بدلا پاوے گا اور جس روز قیامت قائم ہوگی اس دن گنگار لوگ آس ٹوٹے رہ جاویں گے لفظ یبلس المجرمون کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ لوگ ناامید اور آس ٹوٹے رہ جاویں گے مطلب اس اس کا یہ ہے جس کو وہ لوگ خدا کے سوا پوجتے تھے وہ ان کی سفارش کچھ نہ کریں گے اور ایسی ضرورت کے وقت کہ جب وہ پوجنے والے ان کے سخت محتاج ہوں گے وہ جھوٹے معبود ان کے کچھ کام نہ آویں گے جب پوجنے والے ان کا عاجز ہونا دیکھیں گے تو وہ پوجنے والے ان کے سخت محتاج ہوں گے وہ جھوٹے معبود ان کے کچھ کام نہ آویں گے جب پوجھنے والے ان کا عاجز ہونا دیکھیں گے تو وہ ان کی سفارش سے ناامید ہوجاویں گے مسند امام احمد میں ابوہریرہ ؓ سے اور ترمذی میں انس بن مالک ؓ سے معتبر روایتیں 1 ؎ ہیں جن میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آخر زمانے میں دنیا کی عمر کی برکت ایسی کم ہوجاوے گی کہ ایک سال ایک مہینہ کی طرح اسی طرح سے ایک ہفتہ ایک دن کی طرح جلدی سے گزر جایا کرے گا۔ یہ حدیث واجل مسمیٰ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح ہر شخص کی عمر مقرر ہے اسی طرح تمام دنیا کی بھی عمر مقرر ہے اور جس طرح آخر وقت پر ہر شخص کا سانس جلدی جلدی چلنے لگتا ہے اور پھر اس کا دم نکل جاتا ہے اسی طرح آخر زمانہ میں دنیا کا ایک سال مہینہ کی طرح اور مہینہ ہفتہ کی طرح اور ہفتہ ایک دن کی طرح جلدی سے گزرنے لگے گا اور آخر کو دنیا ختم ہوجاوے گی صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کی اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ایک عرصہ تک مہلت دیتا ہے جب وہ لوگ مہلت کے زمانہ میں اپنی سرکشی کو نہیں چھوڑتے تو ان کو ہلاک کردیتا ہے ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح سے لے کر قریش کے سرکشوں تک جتنے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کیا کچھ ظلم کے طور پر ہلاک نہیں کیا کیوں کہ ظلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس لیے پہلے ایک عرصہ تک ان لوگوں کو مہلت دی گئی جب وہ لوگ مہلت کے زمانہ میں اپنی نافرمانی اور سرکشی سے باز نہ آئے تو طرح طرح کے عذاب میں پکڑے گئے۔ (1 ؎ فتح الباری ص 527 ج 6 شرح باب ظہور الفتن )
Ayahs 30:14–16

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ Open ayah 30:14 in the Quran reader

اور جس دن قیامت برپا ہوگی اس روز وہ الگ الگ فرقے ہوجائیں گے

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمْ فِیْ رَوْضَةٍ یُّحْبَرُوْنَ Open ayah 30:15 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے وہ (بہشت) کے باغ میں خوشحال ہوں گے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآئِ الْاٰخِرَةِ فَاُولٰٓئِكَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ Open ayah 30:16 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا وہ عذاب میں ڈالے جائیں گے

14 تا 16۔ جس طرح دنیا میں نیک و بدسب ایک جگہ مل کر رہتے ہیں اسی طرح حشر میں حساب و کتاب تک تو سب نیک و بد ایک ہی جگہ ہوں گے پھر بغیر حساب و کتاب کے ستر ہزار آدمی امت محمد ﷺ یہ میں کے جنت میں داخل ہوں گے جس کا ذکر صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے ہے اس کے بعد حساب و کتاب ہوگا اور حساب و کتاب کہ بعد جو لوگ جنت میں داخل ہونے کے قابل ہوں گے وہ جنت میں اور جو لوگ دوزخ میں جانے کے قابل ہوں گے وہ دوزخ میں چلے جاویں گے اس کے بعد وہ گنہگار لوگ جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان سے انبیاء اور ملائکہ اور نیک لوگوں کی شفاعت سے دوزخ میں سے نکالے جا کر جنت میں داخل کئے جاویں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ملائکہ اور انبیاء اور نیک مسلمان تو شفاعت کرچکے اب ارحم الراحمن کی باری ہے یہ فرما کر ایسے لوگوں کو جنہوں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا لپ بھر کر دوزخ سے نکالے گا اور جنت میں داخل فرماوے گا اس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کی ابو سعید خدری ؓ کی شفاعت کی حدیث میں ہے اب دوزخ میں وہ لوگ وہ جاویں گے جو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کے قابل ہیں پھر جنت اور دوزخ کے مابین میں موت کو ذبح کیا جا کر جنتیوں کو ہمیشہ جنت میں اور دوزخیوں کو ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا حکم سنا دیا جائے گا جس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کی ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے ایک جگہ گزر 2 ؎ چکا ہے غرض اس کے بعد جنتی اور دوزخی ایسے الگ الگ ہوجاویں گے کہ پھر کبھی ایک جگہ نہ ہوں گے ہر ایک فریق کے اسی وقت کے علیحدہ ہوجانے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ قیامت کے دن لوگ متفرق ہوجاویں گے پھر اس کا تفسیر فرمائی ہے کہ جنتیوں کی ٹکڑی حبت کے باغوں اور طرح طرح کی خوشی کے سامان میں ہوگی اور دوزخیوں کی ٹکڑی طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہوگی معتبر سند سے مستدرک حاکم میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے کہ جن لوگوں کی نیکیاں بدیوں سے زیادہ ہوں گی وہ بغیر حساب کے جنت میں چلے جاویں گے اور جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی ان کا حساب آسانی سے ہو کر وہ بھی جنت میں داخل ہوجاویں گے اور جن کی بدیاں نیکیوں سے زیادہ ہوں گی ان کا حساب سختی سے ہو کر وہ دوزخ میں جاویں گے اور پھر شفاعت کے بعد دوزخ سے نکل کر جنت میں جاویں گے اس حدیث سے بغیر حساب کے جنت میں جانے والوں کی اور آسانی سے حساب ہو کر جنت اور شفاعت کے بعد دوزخ سے نکل کر جنت میں جانے والوں کی تفصیل اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ (1 ؎ مشکٰوۃ ص 452 باب التوکل والصبر نیز دیکھئے فتح الباری ص 182 ج 6 باب ید خل الجنۃ سبعون الفاظ بغیر حساب۔ ) (2 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ ص 490 باب الحوض والشفاعۃ) (3 ؎ فتح الباری ص 169 ج 6 باب من نوقش الحساب ‘ عذب۔ )
Ayahs 30:17–26

فَسُبْحٰنَ اللّٰهِ حِیْنَ تُمْسُوْنَ وَ حِیْنَ تُصْبِحُوْنَ Open ayah 30:17 in the Quran reader

تو جس وقت تم کو شام ہو اور جس وقت صبح ہو خدا کی تسبیح کرو (یعنی نماز پڑھو)

وَ لَهُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ عَشِیًّا وَّ حِیْنَ تُظْهِرُوْنَ Open ayah 30:18 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں اسی کی تعریف ہے اور تیسرے پہر بھی اور جب دوپہر ہو (اس وقت بھی نماز پڑھا کرو)

یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ۠ Open ayah 30:19 in the Quran reader

وہی زندے کو مردے سے نکالتا اور (وہی) مردے کو زندے سے نکالتا ہے اور (وہی) زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم (دوبارہ زمین میں سے) نکالے جاؤ گے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ Open ayah 30:20 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم انسان ہو کر جابجا پھیل رہے ہو

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَیْهَا وَ جَعَلَ بَیْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 30:21 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ ان کی طرف (مائل ہو کر) آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی جو لوگ غور کرتے ہیں ان کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَ اَلْوَانِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ Open ayah 30:22 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا اہل دانش کے لئے ان (باتوں) میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 30:23 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے تمہارا رات میں اور دن میں سونا اور اس کے فضل کا تلاش کرنا جو لوگ سنتے ہیں ان کے لئے ان باتوں میں (بہت سی) نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَیُحْیٖ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:24 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ تم کو خوف اور امید دلانے کے لئے بجلی دکھاتا ہے اور آسمان سے مینہ برساتا ہے پھر زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ (و شاداب) کردیتا ہے عقل والوں کے لئے ان (باتوں) میں بہت سی نشانیاں ہیں

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ١ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً١ۖۗ مِّنَ الْاَرْضِ١ۖۗ اِذَاۤ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ Open ayah 30:25 in the Quran reader

اور اسی کے نشانات (اور تصرفات) میں سے ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تم کو زمین سے (نکلنے کے لئے) آواز دے گا تو تم جھٹ نکل پڑو گے

وَ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 30:26 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں (جتنے فرشتے اور انسان وغیرہ ہیں) اسی کے (مملوک) ہیں (اور) تمام اس کے فرمانبردار ہیں

17 تا 26۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ ہمارے نام کی تسبیح ایک تو شام کے قوقت اور صبح کے وقت کیا کرو پھر فرمایا کیوں کہ اسی کے لیے حمد اور تعریف ہے آسمانوں میں اور زمین میں مطلب یہ کہ آسمان اور زمین اور جو اور ان کے درمیان میں ہیں اس سب کے پیدا کرنے کی وجہ سے ان سب کی زبان سے خدا تعالیٰ حمد کرنے کا مستحق ہے پھر اللہ تعالیٰ نے عشا اور ظہر کے وقت تسبیح کرنے کو فرمایا عشا سخت اندہیرے کو اور ظہر بڑی روشنی کو کہتے ہیں ان دونوں وقتوں کی بڑائی کا ذکر قرآن میں کئی جگہ آیا ہے پھر فرمایا نکالتا ہے اللہ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے جس طرح انڈے کو مرغی سے اور مرغی کو انڈے سے آدمی کو نطفہ سے اور نطفہ کو آدمی سے پھر فرمایا اللہ زندہ کرتا زمین کے بعد مرنے کے پھر فرمایا کہ جس طرح تم زمین کا مرنا جینا دیکھتے ہو اسی طرح تم بعد مرنے کے زندہ کئے جاؤ گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا تسبیح کا لفظ جہاں قرآن میں ہے وہ نماز کے معنوں میں ہے اور یہ بھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ اس آیت میں سب نمازوں کے وقتوں کو جمع کرلیا ہے اس طرح پر کہ حین تمسون میں مغرب اور عشا آگئی اور حین تصبحون میں فجر اور عشا میں عصر اور حین تظھرون میں ظہر حاصلؔ مطلب آیت یخرج الحی من المنیت کا یہ ہے کہ جس میں زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے کی قدرت ہے اس کی قدرت میں پہلی بار پیدا کرنا اور پھر اس کا دوہرانا برابر ہے کچھ بھی فرق دونوں میں نہیں ہے اور اس خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر ناگہاں تم آدمی بن کر زمین میں پھیل پڑے اس سے سمجھ لو کہ اصل تماری اول مٹی سے ہے پھر ایک ناچیز پانی سے معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی ابوداؤد اور صحیح ابن حبان میں ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو ایک مٹھی مٹی سے جو ساری زمین سے لی گئی تھی پیدا کیا ہے اس لیے اولاد آدم میں کوئی گوارا ہے کوئی کالا کوئی بد کوئی نیک کوئی نرم کوئی سخت مزاج پھر فرمایا کہ خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے واسطے تمہاری قسم میں سے بیویاں پیدا کیں وہ تمہارا جوڑا اور بیبیاں ہوئیں تاکہ تم کو آرام اور چین ہو اگر بیبیاں غیر جنس سے ہوتیں تو بجائے محبت کے نفرت اور بجائے آرام کے تکلیف ہوتی ہے اسی واسطے تمہاری عورتیں تمہاری قسم سے بنائیں اور ان میں اور تم میں تمہاری محبت اور رحمت ڈال دی بیشک اس کے اندر بہت نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو دھیان کرتے ہیں پھر فرمایا اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا ہے آسمان کو کیسا بلند اور فراخ بنایا ستاروں سے اس کو رونق بخشی اور دنیا کی چھت اس کو قرار دیا زمین کو کیسا پست کیا اور اس کے اندر پہاڑ ‘ میدان دریا ‘ سمندر ‘ درخت غرض انسان کی ضرورت کی چیزیں پیدا کیں جس سے خدا کی قدرت ظاہر ہوتی ہے اور تمہاری زبانوں کا اختلاف ہر ہر ملک کی جدا جدا بولی ہے اسی طرح تمہارے رنگ صورتیں علیحدہ علیحدہ ہیں ایک کا چہرہ دوسرے کے چہرہ سے نہیں ملتا پھر بھی اس کی قدرت کی بڑی نشانی سمجھ داروں کے لیے ہے اور یہ بھی خدا کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ رات میں تمہارے لیے نیند کو بنا دیا جس کے سبب سے تم کو راحت ملتی ہے دن میں ادھر ادہر پھر کر معاش کے اسباب ڈھونڈتے ہوتے ہو اور دور دور کے دریا اور خشکی میں سفر کرتے ہو ان باتوں میں قرآن کی نصیحت کو جو دل سے سنتے ہیں انہیں بہت نشانیاں ہیں اور اس کی قدرت کی ایک نشانی یہ ہے کہ کہ وہ تم کو بجلی دکھلاتا ہے کہ کبھی تم ہیبت ناک بادل اور بجلی کی کڑک سے ڈر جاتے ہو اور کبھی بارش کی امید رکھتے ہو اور نازل کرتا ہے آسمان سے پانی۔ پھر جلاتا ہے بہ سبب اس کے زمین کو زمین کے مرنے سے مراد اس کا خشک ہوجانا ہے کہ گھاس تک اس میں نہ تھی جب اس پر مینہ بر ساتو لہٰذا لانے لگی اور ہر جنس کی چیز اس میں پیدا ہوئی یہی اس کا جینا ہے اس میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سمجھ رکھتے ہیں اور خدا کی قدرت کی ایک نشانی یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے کھڑے ہیں آسمان کو زمین پر گرنے سے خدا نے روک رکھا ہے بغیر اس کے حکم کے گر نہیں سکتا پھر فرمایا اب تو اللہ کی قدرت کی یہ سب نشانیاں دیکھ کر تم لوگ حشر کے منکر ہو لیکن جب تمہارے مرجانے کے بعد تمہارا پروردگار تم کی نیک وبد کے حساب کے لیے زندہ کرنا چاہے گا تو ناگہاں تم اسی وقت قبروں سے نکل پڑو گے پھر فرمایا کہ آسمان اور زمین میں جو کوئی ہے سب اسی کی ملک ہے اور سب اسی کے حکم کے فرما نبردار ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جب آسمان و زمین میں کوئی اس کے حکم کو ٹال نہیں سکتا تو ان منکرین حشر کی کیا طاقت ہے کہ یہ حشر کے حکم کو ٹال دیویں۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید خدری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی 1 ؎ ہے جس میں ایک شخص نے وصیت کی تھی کہ اس کے مرجانے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر آدھی مٹی دریا میں بہادی جائے اور آدھی ہوا میں اڑا دی جائے اس شخص کے مرجانے کے بعد اس کے وارثوں نے وصیت کے موافق عمل کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے جنگل اور دریا کو اس مٹی کے جمع کرنے کا حکم دیا اور جھٹ پٹ وہ مٹی جمع ہوگئی اور حکم الٰہی سے اس کا پتلہ بن کر تیار ہوگیا اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں جو بیان کی ہیں ان کو بھول کر اپنی نادانی سے منکرین حشر یہ کو کہتے ہیں کہ جب مردہ کی مٹی جنگل اور دریا میں رواں دواں ہوگئی تو پھر وہ مٹی کیوں کر جمع ہوگی اور اس کا پتلہ کیوں کر بنے گا ان لوگوں کو یہ یاد ہے کہ جنگل دریا کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں ہے جب وقت آوے گا یہ لوگ دیکھ لیویں گے کہ اس وصیت والے شخص کی طرح کیوں کر ان کی رواں دواں مٹی جمع ہوجاوے گی اور کس طرح سے اس کا پتلہ بن کر تیار ہوجاوے گا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مہینہ برسے گا جس سے سب پتلے بن کر تیار ہوجائیں گے یہ حدیث و کذالک تخرجون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اب مینہ کی تاثیر سے ہر ایک چیز زمین میں پیدا ہوتی ہے اسی طرح حشر کے دن جو مینھ برسے گا اس کی تاثیر سے تمہارے جسم بن کر تیار ہوجاویں گے اور ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی اور حشر قائم ہوجاوے گا۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 154 ج 5۔ ) (2 ؎ مشکوٰۃ مع تنقیح الرواۃ باب الایمان بالقدر فصل دوسری۔ ) (1 ؎ بحوالہ مشکوۃ ص 207 باب باب الاستغفار والتوبۃ)
Ayah 30:27

وَ هُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ هُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ١ؕ وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 30:27 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اسے بہت آسان ہے اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان نہایت بلند ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

27۔ معتبر سند سے ابن ابی حاتم میں عکرمہ کی رویت 2 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ مر کر پھر جینے کی آیتوں کے مضمون کو سن کر بڑا تعجب کرتے تھے اور مر کر مٹی ہوجانے کے بعد پھر جی اٹھنا کسی طرح ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کی سمجھ کے موافق ان کو سمجھایا کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کو نہ پہلی دفعہ انسان کا پیدا کرنا کچھ مشکل تھا نہ دوسری دفعہ کچھ مشکل ہے لیکن یہ لوگ اگر اپنی سمجھ کے موافق بھی غور اور فکر کریں تو ان کی سمجھ میں آجاوے گا کہ ایک شخص ایک دفعہ جب ایک کام کو کر چکتا ہے تو دوسری دفعہ اس کو وہ کام سہل ہوجاتا ہے پھر دنیا میں جب ان کو اس بات کا تجربہ ہے کہ یہ ایک دفعہ کے کرنے سے دوسری دفعہ وہ کام آسان ہوجاتا ہے اور پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو پیدا کیا ہے کہ نطفہ سے جو پانی کی طور کی ایک پتلی چیز ہے انسان کا پتلا بنا کر رحم جیسی تنگ جگہ میں روح پھنک دی دہ سب پیدائش تو رات دن ان کی آنکھوں کے سامنے ہے پھر جس نے پانی جیسی پتلی چیز کا پتلہ بنا کر رحم جیسی تنگ جگہ میں روح کو اس پتلے میں پھونک دیا اس کو مٹی جیسے سخت چیز کا پتلہ بنانا اور کھلے میدان میں روح کا اس پتلے میں پھونک دینا کیا مشکل ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح انسان کی پیدائش کا طریقہ دنیا میں اب جاری ہے وہ بھی لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور حشر میں جو کچھ ہوگا وہ وہی طریقہ ہے جس طرح حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے پھر اللہ کی قدرت کے آگے کیا چیز انو کھی ان کو نظر آتی ہے جو یہ لوگ حشر کا انکار کرتے ہیں صحیح بخاری کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی 1 ؎ اوپر گزر چکی ہے جس کا ٹکڑا یہ ہے کہ اللہ نے فرمایا دنیا کی پیدایش کو آنکھوں سے دیکھ کر انسان کو لازم نہیں جو حشر کا انکار کرے اور اللہ کی قدرت کو جھٹلاوے اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ انسان کی عقل سے باہر اوپر کی آیتوں میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں جو جتلائی گئی ہیں ان کو دیکھ کر ان منکرین حشر کو لازم ہے کہ اللہ کو پہچانیں اور مخلوقات کی حالت پر اللہ کی قدرت کا قیاس کر کے حشر کے جھٹلانے میں عقلی باتوں کو دخل نہ دیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور قدرت میں ایسا زبردمست اور بےمثل ہے کہ آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات میں کوئی اس کا ثانی نہیں پھر اس کی حکمت اور قدرت کا قیاس مخلوقات کی باتوں پر کیوں کو صحیح ہوسکتا ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ کتاب الایمان۔ )
Ayahs 30:28–29

ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ١ؕ هَلْ لَّكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُرَكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ فَاَنْتُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 30:28 in the Quran reader

وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں ؟ اور کیا تم اس میں (ان کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو ؟ (اور کیا) تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو ؟ اسی طرح ہم عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۚ فَمَنْ یَّهْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 30:29 in the Quran reader

مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے ؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں

28‘ 29۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے سمجھانے کو یہ مثال بیان فرمائی ہے کہ جو تمہارے لونڈی غلام ہیں کیا وہ ہماری دی ہوئی روزی میں تمہارے ساجھی ہیں یا تم ان سے ایسا ڈرتے ہو جیسا کہ اپنے بھائی بندوں سے ڈرتے ہو مطلب یہ ہے کہ وہ غلام لونڈی تمہارے مال میں شریک نہیں نہ تم کو ان سے مال کے بانٹ لینے کا ڈر ہے نہ غلام کو یہ اختیار ہے کہ تم سے مال بٹائے ایسا ہی خدا کا کوئی شریک نہیں کیونکہ سب اللہ کے لونڈی غلام ہیں حاصل یہ ہے کہ جب تم کو غلاموں کا شریک ہونا نہیں بھاتا تو خدا کے ساتھ کیوں شریک ٹھہراتے ہو پھر فرمایا ہم قرآن کی آیتوں کو اس طرح سے کھول کر سمجھ دار لوگوں کو سمجھاتے ہیں لیکن ان ظالم مشرکوں نے بغیر سمجھے بوجھے بتوں کے پوجنے میں اپنی خواہش نفس کی پیروی کی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ جس کا خدا گمراہ کر دے اس کو کون ہدایت کرسکتا ہے کیونکہ ہدایت خدا تعالیٰ کے علم ازلی کے موافق ہوتی ہے جو لوگ اللہ کے علم ازلی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں نہ وہ دنیا میں راہ راست پر آسکتے ہیں نہ قیامت کے دن ان کا کوئی ایسا مددگار ہے جو ان کو عذاب سے بچاوے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جانے کے قابل اب جس قابل لوگ پیدا ہوئے ویسے ہی وہ کام کرتے ہیں۔ صحیح بخاری وسملم کے حوالہ سے ابوسعید ؓ خدا ری کی وہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان قفرمائی ہے۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ آذر کی مدد کرنی چاہیں گے مگر اللہ کا حکم نہ ہوگا یہ حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ علم الٰہی میں جو لوگ شرک کی حالت میں مر کر ہمیشہ کے لیے دوزخی قرار پاچکے ہیں ان کے حق میں شرک کی مذمت کی مثالیں اور قرآن شریف کی سب نصیحت اسی طرح رائگاں ہے جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائگاں جاتا ہے اور یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو مشرک بغیر تو بہ کے مرجاوے گا اس کو مغفرت کسی طرح ممکن نہیں اس واسطے ابراہیم (علیہ السلام) قیامت کے دن اپنے باپ آزر کے مدد کے ارادہ میں جس طرح نا کامیاب رہیں گے اسی طرح کسی مشرک کی اور کوئی بھی کچھ مدد نہ کرسکے گا۔ “ (1 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص 231 ج 3 کتاب الانبیاء باب قول اللہ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا آلایۃ)
Ayahs 30:30–32

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ؕ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْهَا١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙۗ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۗۙ Open ayah 30:30 in the Quran reader

تو تم ایک طرف کے ہو کر دین (خدا کے راستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

مُنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 30:31 in the Quran reader

مومنو ! اسی (خدا) کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا

مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 30:32 in the Quran reader

(اور نہ) ان لوگوں میں (ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور خود فرقے فرقے ہوگئے سب فرقے اس سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہے

30 تا 32۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور عبادت کا حکم پیغمبر ﷺ کو دیا کہ تم اپنا منہ سیدھا رکھو دین پر ایک طرف ہو کر شرک کے ذکر کے بعد ان آیتوں میں یہ اللہ کی وحدانیت کی تاکید ہے اسی واسطے فرمایا لازم پکڑو اللہ کی فطرت کو جس پر اس نے پیدا کیا ہے اس سے مطلب توحید اور خدا کی معرفت ہے کہ اسی پر ساری خلقت پیدا کی گئی ہے جیسا کہ پہلی آیت الست بر بکم قالوا بلیٰ کی تفسیر میں بیان ہوچکا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مخلوق کو اسلام پر پیدا کیا ہے بعد میں بعضے بعضے لوگ یہودی نصرانی وغیرہ ہوگئے خدا کی بنائی ہوئی فطرت کو بدلنا نہیں چاہئے فطرت کے معنے اسلام کے ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کہ ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس حدیث کے معنے میں بہت حدیثیں ایک جماعت صحابہ سے روایت کی گئی ہیں اور بخاری نے لاتبدیل لخق اللہ کے معنے لدین اللہ لیے ہیں اور یہی معنی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد اور عکرمہ وقتادہ وغیرہ نے لخق اللہ کی تفسیر میں بیان کئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو بدلنا نہیں چاہئے کہ یہی سیدھا دین ہے لیکن کثر لوگ اس سے ناواقف ہیں منیبین الیہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی طرف رجوع کرنے والے رہو اور ڈرو اس سے اور نماز کو قائم رکھو کہ بڑی عبادت ہے اس ضائع نہ کرو اور نہ نبو مشرک بلکہ موحد نبو جو خلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اس کے بعد مشرکوں کا حال بیان کیا کہ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دین میں پھوٹ ڈالی کہ تغیر تبدل کر کے دین میں بعض باتوں کو مانا اور بعض کو نہ مانا فرقوا کی جگہ بعضے سلف فارقوا پڑھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے دین کو چھوڑ کر پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا ہے جیسے یہود نصاریٰ مجوسی اور بت پرست یہ ہر ایک فرقہ اپنے گھڑے ہوئے دین پر خوش خرم ہے اور اس کو حق سمجھ رہا ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے چناچہ معتبر سند سے ترمذی میں عبداللہ بن عمروبن ؓ العاص سے روایت 1 ؎ ہے کہ پیغمبر خدا ﷺ سے پوچھا گیا کہ ان بہتر فرقوں میں سے نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے تو آپ نے فرمایا کہ جس پر آج میں اور میرے اصحاب ؓ ہیں وہی حق پر ہیں باقی سب فرقے گمراہی پر ہیں ترمذی کی اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیادہ افریقی کو اگرچہ بعضے علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن امام بخاری نے اس کو ضعیف راویوں میں شمار نہیں کیا اور یحییٰ بن سعید القطان نے اس کا ثقہ کہا ہے اسی واسطے ترمذی نے اس حدیث کو معتبر کہا ہے 2 ؎ (2 ؎ مشکوۃ 21 باب الایمان بالقدر۔ ) (1 ؎ مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۔ ) (2 ؎ جامع ترمذی ص 368 ح 3 مع تحفۃ الاحوذی باب افتراق الامۃ )
Ayahs 30:33–38

وَ اِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُّنِیْبِیْنَ اِلَیْهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمْ مِّنْهُ رَحْمَةً اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 30:33 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں پھر جب وہ انکو اپنی رحمت کا مزا چکھاتا ہے تو ایک فرقہ ان میں سے اپنے پروردگار سے شرک کرنے لگتا ہے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:34 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے ان کو بخشا ہے اس کی ناشکری کریں سو (خیر) فائدے اٹھالو عنقریب تم کو (اسکا انجام) معلوم ہوجائے گا

اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ یَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ یُشْرِكُوْنَ Open ayah 30:35 in the Quran reader

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ ان کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے ؟

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ Open ayah 30:36 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان کے عملوں کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو ناامید ہو کر رہ جاتے ہیں

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 30:37 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جسکے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے ؟ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 30:38 in the Quran reader

تو اہل قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں

33 تا 38۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فطرت اسلامی کا یہ ثبوت بیان فرمایا کہ مشرک فطرت کے تقاضے سے ناچار ہونے کے وقت اللہ وحدہ لاشریک لہ کو پکارتے ہیں اور جب اللہ چکھائے ان کو کچھ مہر اور ان پر نعمت کے دروازے کھول دے کہ وہ آسودہ ہوجاویں تو خدا تعالیٰ کے ساتھ شرک اور بتوں کی پوجا کرنے لگتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کے منکر ہوجاتے ہیں اور آسود گی کو بتوں کی مدد کا نتیجہ خیال کرتے ہیں پھر فرمایا کہ فائدہ اٹھائیں چند روز کام چلالیں اب آگے عنقریب یہ لوگ معلوم کرلیں گے کہ ان کے عملوں کی شامت سے ان کو کیا بات پیش آئی اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی بیوقوفی کا ذکر فرمایا کہ کیا ہم نے ان کے اوپر کوئی سند آسمان سے اتاری ہے جو شرک کا اچھا بتانی ہے مطلب یہ ہے کہ جب یہ لوگ شرک کا اچھا بتاتے ہیں اور کوئی سند نہیں پیش کرسکتے تو ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا طریقہ بالکل بےسند اور ایجادی ہے پھر فرمایا جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس کے ساتھ خوش ہوجاتے ہیں اور اگر ان کو اپنے عملوں کے سبب سے کوئی تکلیف پہنچی تو یکایک بےآس ہوجاتے ہیں حاصل یہ ہے کہ انسان کی یہ جیلی خصلت ہے کہ عیش میں مارے خوشی کے پھولا نہیں سماتا اور اترانے لگتا ہے اور سختی میں ناامید ہوجاتا ہے یہ خیال کرلیتا ہے کہ مجھ کو بھلائی اور بہتری کبھی حاصل نہ ہوگی ہاں جو بندے عیش میں شکر کرتے ہیں اور سختی میں صبر کرتے ہیں دو ہر حالت میں ثواب حال کرتے ہیں صحیح مسلم کی صہیب ؓ رومی کی حدیث 1 ؎ میں ہے کہ مومن کی عجب حالت ہے کہ اگر اس کو خوشی ہوتی ہے تو شکر کرتا ہے جو اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اگر اس کو مصیبت پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے اب فرمایا کہ کیا دیکھا نہیں انہوں نے کہ اللہ تعالیٰ فراخ کرتا ہے روزی جس پر چا ہے اور تنگ کرتا ہے جس پر چاہے اب فرمایا کہ کیا دیکھا نہیں انہوں نے کہ اللہ تعالیٰ فراخ کرتا ہے روزی جس پر چاہے اور تنگ کرتا ہے جس پر چاہے ہر چیز میں اس کا تصرف ہے سب کام حکمت سے کرتا ہے بیشک اس کے اندر بڑے نشان ہیں ایمان والوں کے لئے اب آگے قرابتدار مسکن محتاج اور مسافر کے حسن سلوک کا ذکر فرما کر فرمایا یہ کام بہتر ہیں ان کو جو قیامت کے روز اللہ کا دیدار چاہتے ہیں اور یہ اعلیٰ مقصود اور بڑی مراد ہے اور وہی لوگ دنیا اور آخری میں فلاح پانے والے ہیں جو اس حکم کے موافق دنیا میں عمل کرتے ہیں سورة العنکبوت میں فلما نجا ھم الی البر اذا ھم یشرکون فرمایا تھا اور یہاں اذا فریق منھم بربہم یشرکون فرمایا سب اس کا یہی ہے کہ وہاں خاص مشرکوں کی راحت کی حالت کا ذکر تھا یہاں عام طور پر انسان کی راحت کی حالت کا ذکر ہے کہ گردہ انسانی میں سے یہ مشرک لوگ تو اپنی غرض کے وقت خالص اللہ سے اپنا مطلب چاہتے ہیں پھر جب ان کا مطلب پورا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کو بالکل بھول جاتے ہیں اور بتوں کی مدد سے مطلب کا پورا ہوجانا ان کے اعتقاد میں جم جاتا ہے اور گردہ انسانی میں بعضے لوگ ناشکر ہیں جو راحت کے وقت اترا جاتے ہیں غرض راحت اور خوشخالی اور بھلائی کو پہنچنے والے وہی شکر گزار ایمان دار لوگ ہیں جو اللہ کا دیا ہوا مال اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس خرچ کا بدلہ بارگاہ الٰہی سے ایک دن انہیں مع نفع کے ملنے والا ہے ایسے لوگوں کو اگر تنگ دستی آن گھیرے تو صبر اور قناعت سے کام لیتے ہیں کیونکہ ایک تو انہیں صبر کے اجر کی توقع ہے دوسرے ان کو دنیا کی تنگی وفراخی میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ ایک نشانی بھی نظر آئی ہے کہ دنیا کا انتظام چلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی کو خوشحال کیا ہے اور کسی کو تنگدست تاکہ خوشحال لوگوں کو تنگدست لوگوں کے کام کاج کی اور تنگدست لوگوں کو خوشحال لوگوں سے محنت مزدوری پانے کی ضرورت پڑے اور اس ضرورت کے سبب سے دنیا کا انتظام اچھی طرح چلے سورة الزخرف میں دنیا کے اس انتظام کا ذکر تفصیل سے آوے گا حاصل کلام یہ ہے کہ حدیث گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایماندار شخص خوشحالی اور تنگدستی دونوں حالتوں میں اچھا رہتا ہے ورنہ گروہ انسانی میں سے مشرک لوگوں اور اترانے والے لوگوں کے حق میں دونوں حالتیں وبال ہیں۔ (1 ؎ مشکوۃ باب التوکل والصبر۔ )
Ayah 30:39

وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاۡ فِیْۤ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ Open ayah 30:39 in the Quran reader

اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰۃ دیتے ہو اور اس سے خدا کی رضامندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجب برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں

39۔ اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا کہ رشتہ داروں اور فقیر یا مسافر کو جو کوئی اللہ کے واسطے کچھ دیوے گا تو ایسے دینے والے کا عاقبت میں بھلا ہوگا اس اوپر کی آیت کی مناسبت کے سبب سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاہد ؓ ‘ عکرمہ (رح) ‘ ضحاک (رح) شبعی (رح) اور قتادہ (رح) وغیرہ 1 ؎ مفسرین متقدمین نے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ جس تحفہ میں ثواب کی نیت نہ ہو بلکہ یہ نیت ہو کہ آج ہم کسی کو کچھ تحفہ دیویں گے کل ہم کو وہ شخص بڑھا کر دیوے گا تو ایسے دینے کا کچھ اجر اللہ کے نزدیک نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو اسی دینے کا اجر ہے اور وہی دنیا اللہ کے نزدیک بڑھتا اور دوچند ہوتا ہے جس میں خالص ثواب کی نیت ہو نہ دوسرے پر کچھ احسان رکھنے کی نیت ہو نہ کچھ بڑھ کر بدلا آنے کی نیت ہو اس تفسیر کی تائید حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی صحیح بخاری ومسلم کی اس روایت 2 ؎ سے ہوتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی بی بی بچوں کو روٹی کپڑا ثواب کی نیت سے دے تو اس کو بھی صدقہ کا اجر ملے گا اور مفسرین متقدمین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی لکھا ہے کہ امت کے لوگوں کو اس طرح بدلے کی نیت سے کسی کو ہدیہ دنیا جائز ہے فقط ثواب اس طرح کے دینے والے کو نہیں ملنے کا اور آنحضرت ﷺ کو اس طرح ہدیہ کسی کو دنیا آیت و لا تمنن تستکثر کی رو سے جائز بھی نہیں تھا متاخرین مفسرین کا یہ قول ہے کہ یہ آیت سود اور بیاج کے بیان میں ہے لیکن قرآن شریف کی آیتوں کی مناسبت کے سبب سے اور صحیح حدیث کی تائید کی رو سے پہلا قول قوی معلوم ہوتا ہے متاخرین مفسرین کے قول پر معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جو کوئی سودکھانے کی نیت سے کسی کو قرض دے گا تو سود کا پیسہ اگرچہ ظاہر میں بڑھتا ہے مگر اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا بلکہ اللہ تعالیٰ دنیا میں سود کے پیسہ کو گھٹا دیتا ہے اور عاقبت میں سود کھانے والا طرح طرح کے عذابوں میں پکڑا جائے گا صدقہ دینے سے ظاہر میں اگرچہ مال گھٹا ہوا معلوم ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بڑھتا ہے کیونکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ ایسے مال میں برکت دے گا اور عقبیٰ میں ایک روپیہ خرچ کرنے کا اجر دس سے لے کر سات سو تک کے خرچ کرنے کے ملے گا ایک روپیہ سے سات سو روپیہ سود میں بھلا کون کما سکتا ہے اب آگے مشرکوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کو اور ان کی ضرورت کی سب چیزوں کو پیدا کیا اور وہی وقت مقررہ کے آنے پر ان کو دنیا سے اٹھائے گا اور پھر سزا اور جزا کے لیے انہیں دوبارہ پیدا کرے گا باجود اس کے یہ اللہ کی تعظیم میں دوسروں کو جو شریک کرتے ہیں اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے بتوں کا حصہ ٹھہراتے ہیں یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 434 ج 3۔ ) (2 ؎ مشکوٰۃ افضل الصدقہ میں بروایت حضرت ابومسعود ؓ ہے)