30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 30:40–51

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِكُمْ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 30:40 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا پھر تمہیں مارے گا پھر زندہ کرے گا بھلا تمہارے (بنائے ہوئے) شریکوں میں بھی کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کچھ کرسکے ؟ وہ پاک ہے اور (اس کی شان) ان کے شرک سے بلند ہے

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا انکو انکے بعض عملوں کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا انجام کیسا ہوا ہے ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آ کر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے راستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جس شخص نے کفر کیا تو اسکے کفر کا ضرر اسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو ایسے لوگ اپنے ہی لئے آرام گاہ درست کرتے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا اپنے فضل سے بدلا دے گا بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ خوشخبری دیتی ہیں تاکہ تم کو اپنی رحمت کے مزے چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) طلب کرو اور عجب نہیں تم شکر کرو

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر ان کی قوم کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے سو جو لوگ نافرمانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلا لیکر چھوڑا اور مومنوں کی مدد ہم پر لازم تھی

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر خدا اس کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا اور تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے بیچ میں سے مینہ نکلنے لگتا ہے پھر جب وہ اپنے بندوں میں جن پر چاہتا ہے اسے برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور پیشتر تو وہ مینہ کے اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

تو (اے دیکھنے والے) خدا کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اسکے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اسکے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں

40 تا 51۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پہلی دفعہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کو پیدا کیا پھر عمر پوری ہونے کے بعد ہر ایک جاندار کی موت اللہ کے حکم سے آتی ہے کسی کو اس میں کچھ دخل نہیں ہے یہ سب کچھ تو ان مکہ کے مشرکوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ان مشرکوں کے رزق کی سبب جو آسمان سے پانی کا برستا ہے وہ بھی اللہ کے ہی اختیار میں ہے ان کے بتوں کو اس میں کچھ دخل نہیں اور جب ایک دفعہ یہ تمام عالم پیدا ہوچکا تو ان مشرکوں کے روز مرہ کے تجربہ کو گواہی سے دوسری دفعہ انسان کا پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا کا ہونا بالکل سہل ہے حاصل یہ ہے کہ جب یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے تو ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا ہے کہ ان مشرکوں سے دریافت کیا جائے کہ انکا جینا ان کا مرنا جیتے جی انکا رزق کون سی چیز ان کے بتوں کے اختیار میں ہے اور جب آنکھوں دیکھتے ان کے بتوں کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے تو عبادت کے وقت ان بتوں کو یہ لوگ جو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ذرا ان کو نادم ہونا چاہئے کہ ایسی بےاختیار اور عاجز چیز کو جو خود دوسرے کے اختیار اور قابو میں ہو معبود ہونے کا کونسا حق حاصل ہے ان آیتوں کی شان نزول طبرانی 1 ؎ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو بیان کی ہے اس کی حاصل یہ ہے کہ تمام ملت ابراہیمی کو مشرکین مکہ نے بگاڑ کر فقط ایک حج کو عبادت کے نام سے باقی رکھا تھا اس میں طواف کے وقت اللہ کے نام کے ساتھ بتوں کے نام لے لے کر چلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو اس شرک سے نادم ہونے کے لیے یہ شرک کی مذمت کی آیتیں جگہ جگہ قرآن شریف میں نازل فرمائی ہیں اب مشرکوں کو شرک کا الزام دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ زمین میں قحط وبا اور دریا میں جہازوں کشتیوں کے ڈوبنے کے وبال جو آتے ہیں وہ لوگوں کے اسی طرح کے گناہوں کے سبب سے آتے ہیں جس طرح قریش جان بوجھ کر شرک کرتے تھے پھر قریش کو پچھلی امتوں کا حال یاد دلا کر یہ ڈرایا ہے کہ اگر شرک سے باز نہ آؤ گے تو پچھلی امتوں کی طرح غارت ہوجاؤ گے پھر آنحضرت ﷺ سے یہ خطاب کر کے فرمایا ہے جس خطاب میں امت بھی داخل ہے کہ دین پر قائم رہتا چاہیے تاکہ اللہ کے دین میں فتور نہ پڑے اور اس فتور کے سبب سے وبال نہ آجاوے پھر ہوا کا ذکر اور ہوا کے سبب سے بادل جو آتے ہیں ان کا ذکر اور بادلوں کے سبب سے مینہ جو برستا ہے اس کا ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ جس طرح ہر سال برسات کے موسم میں زمین کی مری ہوئی مٹی زندہ ہوجاتی ہے اور اس میں ہر طرح کے اناج کے پیدا ہونے کی قوت آجاتی ہے اسی طرح حشر کے دن اللہ تعالیٰ ہر ایک مرے ہوئے شخص کے جسم کو پھر تیار کر کے ان جسموں میں پھر روح بھونکے گا صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ دوسرے صور سے پہلے شبنم کی طرح ایک مینہ برسے گا جس سے زمین میں کے سب مرے ہوئے لوگوں کے پتلے بنکر تیار ہوجاویں گے پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا جس سے ان پتلوں میں روح پھونک دی جاوے گی حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح اب مینہ سے دریا میں موتی کا اور زمین میں طرح طرح کی پیدا وار کا جسم پیدا ہوجاتا ہے اسی طرح حشر کے دن کے ایک مینہ سے انسان کا جسم پیدا ہوگا اسی مشابہت کے سب سے اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ قرآن شریف میں زمین کی پیدا وار سے حشر کی تشبیہ بیان فرمائی ہے مینہ اور ہوا کے ذکر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ تسلی بھی فرمائی کہ اے رسول اللہ کے اگر یہ مشرک لوگ اللہ کی قدرت کی نشانیوں پر دھیان نہ کریں گے تو اس طرح کی قدرت کے منکر پہلی آیتوں کا جو انجام ہوچکا وہی ان کا ہوگا تاکہ دشمنوں کی ہلاکت سے دینداروں کو ایک طرح کی مدد مل جاوے کیوں کہ اس طرح کی مدد ہمیشہ سے اللہ نے اپنے ذمہ لی ہے آخر کو فرمایا منہ کے برسنے اور پیدا وار کے زور پکڑ جانے کے بعد اگر اللہ کی قدرت سے کوئی ایسی مخالف ہوا چل جاوے جس سے کھیتی خراب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کے مینہ برسانے کے احسان کو بھول کر ایسی ناشکری کرنے لگتے ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کبھی کوئی احسان ہی نہیں کیا :۔ (1 ؎ تفسیر الدرالمنثور ص 155 ج 5)
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

تو تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں آواز سنا سکتے ہو

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو تم تو انھیں لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں

52، 53۔ آنحضرت ﷺ جس قدر توحید کی باتیں کفار مکہ کو سناتے اور سمجھانے کی کوشش کرتے اسی قدر لوگ سن کر مچلے بنتے جاتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ مردے اور بہرے کے مانند ہیں اور بہرہ بھی وہ جسکی پیٹھ پھری ہوئی کیوں کہ اگر بہرے آدمی کا منہ کسی بات کرنے والے شخص کی طرف ہو تو ہونٹوں کی جنبش یا اشارہ سے بھی کچھ سمجھ سکے ان لوگوں میں وہ بات بھی نہیں یہ ایسے بہرے ہیں کہ ان کا منہ بھی بات کرنے والے شخص کی طرف نہیں بلکہ پیٹھ پھری ہوئی ہے اس طرح کی آیتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مردے کچھ نہیں سنتے ایسی ہی عالم حکم کی آیتوں سے حضرت عئاشہ ؓ ‘ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی اس روایت کا انکار کیا کرتی تھیں 1 ؎ جو کفار جنگ بدر کے مردوں کے حال میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان مردوں کے نام لے لیکر پکار اور فرمایا کہ ہم نے تو خدا کا وعدہ سچایا لیا تم لوگوں کو بھی خدا کے فرمانے کا ظہور معلوم ہوگیا اور اب تو تم کو معلوم ہوگیا کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی فرمانبرداری کرتے تو یہ دن آج نہ دیکھتے اور حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ کیا حضرت آپ بےجان مردوں سے باتیں کرتے ہیں اور آپ ﷺ نے فرمایا تم زندوں سے زیادہ یہ مردے میری اس بات کو سنتے ہیں جو میں ان سے کہہ رہا 2 ؎ ہوں سوا حضرت عائشہ ؓ کے جمہور صحابہ اور تابعین کا قول یہ ہے کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے وقت سب مردے بات سنتے ہیں جس کا ذکر صحیح روایتوں میں آیا ہے اور خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے مردوں میں آنحضرت ﷺ کی بات سننے کی قوت دی تھی اس لیے انہوں نے بھی آنحضرت ﷺ کا فرمانا سنا حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت میں مطابقت حافظ ابن حجر نے فتح الباری 3 ؎ میں یوں بیان کی ہے (3 ؎ صفحہ 704 ج اول باب ماجاء فی عذاب القبر) کہ حضرت عائشہ ؓ کے انکار کے یہ معنے ہیں کہ منکر نکیر کے سوال جواب کے وقت کے سوا کوئی مردہ کسی وقت نہیں سنتا اور منکر نکیر کے سوال و جواب کے وقت مردہ کو مردہ نہیں کہنا چاہئے کیونکہ براء بن عازب ؓ کی صحیح حدیث 4 ؎ سے یہ ثابت ہوچکا ہے (4 ؎ ایضا ص 703) اس وقت مردہ میں روح پھونک دی جاتی ہے پھر وہ مردہ کا سننا نہیں ہوا بلکہ ایک روح والے جسم کا سننا ہوا اسی طرح جس وقت آنحضرت ﷺ نے جنگ بدر کے مردوں سے باتیں کی تھیں اس قوت بھی ان مردوں کے جسم میں اللہ کے حکم سے روح پھونک دی گئی تھی چناچہ امام بخاری نے صحیح بخاری 1 ؎ (1 ؎ فتح الباری صفحہ 12 جلد 4 باب قتل ابی جہل از صحیح بخاری) میں قتادہ ؓ کے قول کے حوالہ سے اس کی تصریح بھی کردی ہے غرض مردے کے جس سننے کا ذکر براء بن عازب ؓ یا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث میں ہے اس کا انکار حضرت عائشہ ؓ کو نہیں ہے اور جس سننے کا انکار حضرت عائشہ ؓ کو ہے اس کا ذکر ان حدیثوں میں نہیں ہے اس صورت میں حضرت عائشہ کی روایت اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت میں کچھ مخالفت نہیں ہے اسی واسطے جس طرح حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے جنگ بدر کے مردوں سے آنحضرت ﷺ کے باتیں کرنے کی روایت ہے اسی طرح یہ روایت حضرت عائشہ ؓ سے بھی آئی ہے جس روایت کو امام احمد نے اپنی مسند میں معتبر سند سے روایت 2 ؎ کیا ہے (2 ؎ ایضا صفحہ 13۔ ) حاصل کلام یہ ہے کہ سوا اس معجزے کے جو جنگ بدر کے وقت آنحضرت ﷺ سے ظاہر ہوا اور سوا منکر نکیر کے سوال و جواب کے وقت کے بالا تفاق سب صحابہ کا قول بھی یہی ہے کہ مردہ نہیں سنتا۔ اب آگے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے علم ازلی میں راہ ہدایت پر نظر آنے سے اندھے قرار پا چکے ہیں ان پر بھی قرآن کی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ قرآن کی نصیحت کا اثر تو ان لوگوں پر ہی ہوگا جو علم الٰہی میں ایماندار اور فرمانبرداری ٹھہر چکے ہیں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی حدیث گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں نیک ٹھہر چکے ہیں قرآن کی نصیحت ان کے حق میں ایسا ہی فائدہ دیتی ہے جس طرح اچھی زمین مینہ کا پانی فائدہ دیتا ہے اور جو لوگ علم الٰہی میں برے قرار پا چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت اسی طرح رائگاں ہے جس طرح بری زمن میں مینہ کا پانی یا مردوں اور بہروں کے آگے بات چیت کا کرنا یا اندھے کو کسی چیز کا دکھانا رائگاں ہے۔ (1 ؎ فتح البیان ص 545 ج 3 بحوالہ صحیحین۔ و تفسیر ابن کثیر ص 438 ج 3) (2 ؎ فتح الباری ص 12 جلد 4 باب قتل ابی جہل)
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے

54۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کے حالات میں جو تغیر تبدل اول سے بڑھاپے تک ہے وہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اول مٹی سے پھر پانی جیسی پیلح چیز کی بوند سے پھر جمے خون سے پھر بوٹی سے انسان کو پیدا کیا اس کے بعد پھر ہڈیاں پھر ان پر گوشت چڑھایا اور پھر ماں اور روح پھونکنے، پھر ماں کے پیٹ سے بچہ کمزور پیدا ہو کر پھر رفتہ رفتہ کچھ کچھ زور پکڑتا گیا غرضیکہ جوانی تک کم زور بچہ کہلاتا ہے پھر بلوغ کے قریب ہوتا ہے پھر جوان ہوتا ہے یہ نہایت قوت کا زمانہ ہے اس کے بعد پھر نقصان کا زمانہ شروع ہوتا ہے طاقت کم ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ نہایت بڈھا ہوجاتا ہے اور یہ قوت کی کمزوری کا زمانہ ہے جس میں بال سفید ہوجاتے ہیں ہمت پست ہوجاتی ہے غرض اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے اپنے بندوں میں اپنی قدرت کے موافق تصرف کرتا ہے اور وہ کمال علم اور قدرت والا ہے سب کچھ جانتا ہے اور کرسکتا ہے ترمذی ابوداؤد اور صحیح ابن حبان کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی مٹی تمام زمین سے لی تھی اسی تاثیر سے مختلف رنگ اور مختلف مزاج کے لگ اولاد آدم میں قیامت تک پیدا ہوں گے حاصل یہ ہے کہ اب ظاہر میں اگرچہ آدمی کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن اس میں مٹی کا اثر بھی چلا آتا ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت بھی گزر چکی ہے کہ نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خوان ہوجاتا ہے پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے ان حدیثوں سے انسان کی نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خون و جاتا ہے پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے ان حدیثوں سے انسان کی پیدائش کی ابتدا اور اس میں اللہ تعالیٰ کے قدرت کی جو نشانی ہے اس کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے اس بات کی زیادہ تفصیل قدافلحی میں گزر چکی ہے حاصل کلام یہ ہے کے اس قسم کی آیتوں سے منکرین حشر کو قائل کیا گیا ہے کہ جس صاحب قدرت نے انسان کو اس طرح کی عقل کی رسائی سے باہر طریقہ سے پیدا کیا ہے اس کی قدرت کے آگے آدم (علیہ السلام) کی طرح ان منکرین حشر کے مٹی کے پتلے بنا کر ان میں روحیں پھونک دینا کچھ مشکل نہیں ہے۔
Ayahs 30:55–59

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس روز قیامت برپا ہوگی گنہگار قسمیں کھائیں گے کہ وہ (دنیا میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے اسی طرح وہ (راستہ سے) الٹے جاتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا تھا وہ کہیں گے کہ خدا کی کتاب کے مطابق تم قیامت تک رہے ہو اور یہ قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم کو اس کا یقین ہی نہیں تھا

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

تو اس روز ظالم لوگوں کو ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا اور نہ ان سے توبہ قبول کی جائے گی

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی ہے اور اگر تم ان کے سامنے کوئی نشانی پیش کرو تو کافر کہہ دیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

اسی طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے مہر لگا دیتا ہے

55 تا 59۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ انسان کی حالت کو ذرا بھی قیام نہیں ہے کبھی بالکل نادان بچہ ہوتا ہے کبھی جوانی کے نشہ میں اپنے آپ کو بھول جاتا ہے پھر تھوڑے دنوں میں دیکھوں تو بڑھاپا آ کر وہ جوانی کا نشہ جاتا رہتا ہے نہ جوانی کا سا کھانا پینا ہے نہ وہ تندرستی ہے دانتوں نے الگ جواب دے دیا نگاہ جدا کمزور ہوگئی ہاتھ پیروں میں بالکل وہ سکت اور بوتا باقی نہیں رہا یہ سب کچھ ہو کر ایک سانس باقی تھا تھوڑے دنوں میں وہ بھی نہیں اور سینکڑوں ایسے دنیا سے اٹھ گئے کہ گویا کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے لیکن باوجود اس ناپائیدار زیست کے غافل لوگ دنیا کو ہیمشہ رہنے کا ٹھکانہ جانتے تھے اور عقبیٰ کی باتوں کو دنیا کی آسودگی میں ایک خواب و خیال کی سی باتیں سمجھتے تھے اللہ کے رسول ﷺ نے ہرچند دنیا کی حرص وہوس سے صحیح حدیثوں میں طرح سے روکا کبھی فرمایا کہ دنیا کی حرص وہوا عاقبت کی بہبودی کے لیے ایسی مضر ہے جس طرح بھیڑیے اور بکریوں کا ایک جگہ ہونا بکریوں کے حق میں مضر ہے کبھی فرمایا کہ دنیا میں سوا ذکر الٰہی کے جو کچھ ہے وہ سب ہیچ ہے کبھی فرمایا کہ آدمی کو دنیا میں مسافروں کی طرح رہنا چاہیے اور مرنے سے پہلے اپنے آپ کو مرا ہوا شمار کرنا چاہئے کبھی بڑی اور چھوٹی لکیریں کھینچ کر سمجھایا کہ چھوٹی لکیر آدمی کی چند روز عمر ہے اور بڑی لکیر آدمی کی حرص وہوا ایک دن ایسا ہوگا کہ حرص وہوا اپنے حال پر رہ جاوے گی اور آدمی دنیا سے اٹھ جاوے گا کبھی فرمایا کہ دنیا کی قدر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے غرض اسی طرح جو سمجھانے کا حق تھا وہ سب کچھ سمجھایا مگر دنیا کی الفت کے سامنے ان غافلوں نے ایک نہ سنی آخران غافلوں کے عندیہ کے موافق یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ دنیا ہمیشہ رہے یا یہ غافل دنیا میں ہمیشہ رہیں جب دنیا اجڑے گی اور اللہ اور اللہ کے رسول کے فرمانے کے موافق قیامت قائم ہوگی تو اس دن کا حال اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ وہ غافل دنیا کے فریفتہ لوگ جو دنیا کو اپنی غفلت سے اپنا ہمیشہ کا ٹھکانہ جانتے تھے جب قیامت کے دن لاکھوں کروڑوں برس کا عذاب دیکھیں گے تو قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ اس لاکھوں برس کے عذاب کے حساس سے تو گویا ہم دنیا اور قبروں میں گھڑی دو گھڑی رہے آگے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ عذر ان لوگوں کے کچھ کام نہ آوے گا اس کے معنے اکثر مفسروں نے یہ بیان کئے ہیں کہ دنیا میں گھڑی دو گھڑی یہ غافل لوگ اس عذر کے طور پر بتلا دیں گے کہ گویا دنیا میں زیادہ رہنے اور اللہ کے رسول کی نصیحت سننے کا موقع ان کو نہیں ملا اسی واسطے ملائکہ اور انبیا ( علیہ السلام) اور عام مسلمان قسم کھا کر غافلوں کے اس عذاب کا جواب دیں گے کہ جس قدر اس کہ وعدہ کے موافق دنیا میں ہم رہے اسی قدر تم بھی رہے مگر تمہاری نادانی نے آج تم کو خراب کیا کہ اللہ کے رسول کی نصیحت کے موافق جس ڈھنگ سے دنیا میں رہنا چاہئے تھا اس ڈھنگ سے تم نہیں رہے بلکہ دنیا کے جینے کو ہی اپنے پیدا ہونے کا مدار سمجھتے رہے اور آج کے دن کے منکر رہے اور جب تک رہے ماھی الاحیاتنا الدنیا وما نحن بمبعوتین کہتے رہے آج وہی دن آگے آیا جس کا تمہیں انکار تھا اور جس سے تم بےفکر تھے اب عذر کا وقت ہاتھ سے جاتا رہا بےوقت اب عذر کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ترمذی اور ابن ماجہ کی شداد بن اوس ؓ کی معتبر حدیث اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا بھر کا عقل مند وہی شخص ہے جو دنیا میں رہ کر اپنی عقبیٰ کو سنبھالنے کا کچھ کام کرے ورنہ پھر عقبیٰ میں بڑی خرابی پیدا ہوگی اب آگے فرمایا قیامت کے دن ان لوگوں کا کے موافق ان کے دلوں پر کفر اور شرک کا رنگ مہر کی طرح چھا گیا تھا کہ تمام عمر یہ لوگ اس انجام کو جھٹلاتے رہے اور اس انجام سے اپنے آپ کو انجان بنالیا آخر آج وہ انجام ان کے روبرو آیا۔
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

پس تم صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے اور (دیکھو) جو لوگ یقین نہیں رکھتے وہ تمہیں اوچھا نہ بنادیں

60۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی کے طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ تم ان کی مخالفت اور دشمنی پر صبر کرو بیشک خدا تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے اور تمہارے ساتھ والوں سے غلبہ کا اور مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اللہ اپنے اس وعدہ کو ضرور ضرور پورا کرے گا اس وعدہ میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں ہے اور ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ جو اللہ پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور نہ اس کے رسولوں کو سچا چانتے ہیں اور نہ خدا کی کتابوں پر اور بعد مرنے کے جی اٹھنے پر ایمان لانے ہیں تمہیں آیندہ کی نصحیت سے بےدل کردیں اس لیے تم کو چاہئے کہ جس طریقہ پر تم کو خدا تعالیٰ نے رسول کرکے بھیجا ہے اسی پر ثابت قدم رہو اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت اور فتح مکہ کے وقت اس وعدہ کا ظہور ہو ہوا کہ بدر کی لڑائی میں بڑے بڑے مخالف دین مارے گئے جس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت کے حوالہ سے اوپر کئی جگہ گزر چکا ہے اور جن بتوں کو کی صحیح بخاری کی روایت کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے اس لیے آیت میں جو وعدہ تھا اس کے ظہور کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔