31. Surah Luqman

لقمانLuqman · 34 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 31:1–5

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 31:2 in the Quran reader

یہ حکمت کی (بھری ہوئی) کتاب کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 31:3 in the Quran reader

نیکو کاروں کے لئے ہدایت اور رحمت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 31:4 in the Quran reader

جو نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ دیتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 31:5 in the Quran reader

یہی اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

1 تا 5۔ حروف مقطعات کا بیان اور اس سورة کی شروع کی آیتوں کی یہ تفسیر سورة بقرہ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کو نیک کام کرنے والوں کی ہدایت کے لیے اتارا ہے یہ قرآن ان کے حق میں رحمت ہے نیک کام کرنے والے محسنین وہ لوگ ہیں جو شریعت کے تابع ہو کر اچھے عمل کرتے ہیں مثلا نماز کو اس کے وقتوں پر فرض ہوں یا سنت سب کو اچھی طرح ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی زکوٰۃ کو جو اس کے مستحق ہیں ان کو دیتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں اور آخرت کی جزا وسزا کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ سے آخرت کے ثواب کی امید رکھتے ہیں دنیا کے دکھاوے کو کسی نیک عمل میں ریا کاری نہیں کرتے نہ بدعت کے طور پر اپنی طرف سے شریعت میں کوئی ایجاد نکالتے ہیں غرض یہ نیک کام شریعت کے مطابق خالص عقبیٰ کے اجر کی نیت سے جو لوگ کرتے ہیں انہی کو فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں راہ راست پر ہیں جس کے سبب سے آخرت میں ان ہی کا بھلا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی وہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے۔ ان حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں نیک ٹھہر چکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی ہی فائدہ مند ہوتی ہے جس طرح اچھی زمین میں مینہ کا پانی فائدہ مند ہوتا ہے اس لیے یہ وہ لوگ اس نصیحت کے اثر سے ایسے کام کرتے ہیں جن کاموں کا ذکر ان آیتوں میں ہے اس طرح سے جو لوگ علم الٰہی میں برے اور بد قرار پاچکے ہیں ان کے حق میں قرآن کی نصیحت ایسی رائگاں ہے جیسے بری زمین میں مینہ کا پانی رائگاں جاتا ہے اس لیے یہ لوگ ایسے کام کرتے ہیں جن کاموں کا ذکر آگے کی آیتوں میں ہے کچھ تفسیر ان آیتوں کی آگے کی آیتوں کی تفسیر میں بھی آتی ہے۔
Ayah 31:6

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 31:6 in the Quran reader

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بےہودہ حکایتیں خریدتا ہے تاکہ (لوگوں کو) بےسمجھے خدا کے راستے سے گمراہ کرے اور اس سے استہزا کرے یہی لوگ ہیں جن کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا تھا جو قرآن شریف کی نصیحت کی آیتیں سن کر ایمان لائے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسول کے سچے ہونے پر جم گئے اس لیے انہوں نے دنیا میں جو کچھ نیک وبد کیا قیامت کے دن اس کے حساب و کتاب وجزا وسزا کے سچ ہونے کا پورا یقین کیا اور اس یقین کے سبب سے نماز زکوٰۃ اس طرح کے نیک کاموں میں لگے رہے اب اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو خود بھی نصیحت کی بات نہیں سنتے اور لوگوں کو بھی کھیل تماشے کی باتوں میں لگا کہ نیک کام سے اور قرآن شریف روز مرہ کی نصیحت کی باتیں جو نازل ہوتی تھیں ان کے سننے سے روکتے ہیں تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے لیکن جو یبر کے حوالہ سے ہے تفسیر ابن جریر اس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے مشرکوں میں ایک شخص نصرین ابن حارث تھا وہ عراق کی طرف سوداگری کو جایا کرتا تو کبھی تو گانے والی لونڈیاں خرید لاتا اور کبھی رستم اور اسفند یار کے قصہ کی کتابیں خرید لاتا اور مکہ کے لوگوں کو وہ قصہ سنا کر اور گانا سنوا کر قرآن شریف کی نصیحت کی باتیں سننے سے باز رکھتا تھا اس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مختصر طور پر یہی شان نزول مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے بھی ہے جس کو حاکم میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے بھی ہے جس کو حاکم نے صحیح کہا 2 ؎ ہے۔ نیک کاموں میں سے اوپر کی آیتوں میں فقط نماز اور زکوٰۃ کا ذکر اس واسطے فرمایا کہ یہ سورت ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی ہے روزے اور حج کے فرض ہونے کا حکم اس وقت تک نہیں آیا تھا ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں روزے اور حج کے فرض ہونے کا حکم آیا ہے زکوۃ کے حکم میں بھی اگرچہ علماء نے یہ اختلاف کیا ہے کہ ہجرت سے پہلے مکہ میں زکوۃ کا حکم نازل ہوا ہے مگر صحیح ابن خزیمہ میں حافظ ابن خزیمہ نے اسی بات کو قوی ٹھہرایا ہے کہ زکوٰۃ کا حکم ہجرت سے پہلے مکہ میں نازل ہوا 3 ؎ ہے اور زکوۃ کے وصول کا انتظام ہجرت کے بعد مدینہ میں قائم ہوا ہے اکثر مکی آیتوں میں جو زکوۃ کا ذکر ہے اس سے حافظ ابن خزیمہ کے اس قول کی پوری تائید بھی ہوتی ہے کسی کے ساتھ کوئی نیکی کرے تو جس طرح اس کو احسان کہتے ہیں اس طرح نماز روزہ حج زکوۃ ان کاموں کے اچھی طرح ادا کرنے کو بھی احسان کہتے ہیں جب یہ نیک عمل دل سے ادا کئے جاویں یا ان کے ادا کرنے میں ریا کاری کا کچھ دخل ہو تو ان کے ادا کرنے کو احسان نہیں کہتے بلکہ جب یہ عمل بالکل خالص نیت سے خاص اللہ کے واسطے ادا کئے جاویں تو اس طرح کے ادا کرنے کو شرع میں احسان کہتے ہیں چناچہ صحیحین وغیرہ کی حضرت عمر ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی وہ مشہور حدیث 1 ؎ جس میں ایک سائل کی صورت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) صحابہ کو دین کی باتیں سکھانے آئے تھے اس حدیث میں جب حضرت جبرئیل نے آنحضرت ﷺ سے احسان کے معنے پوچھے تو آپ نے فرمایا کہ احسان کا اول درجہ تو یہ ہے کہ آدمی اس طرح دل لگا کر خالص دل سے عبادت کرے کہ گویا خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اگر یہ درجہ نصیب نہ ہو تو عبادت کے وقت اتنا تو ضرور دل میں خیال رکھے کہ خدا تعالیٰ اس بندہ کو دیکھ رہا ہے اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے محسنین کا لفظ جو فرمایا ہے اس کے معنے بھی ہیں کہ جو لوگ خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ان کے لیے عقبیٰ میں بڑا اجر ہے۔ اور ان نیک لوگوں کے بر خلاف وہی لوگ ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جس طرح کے لوگوں کا ذکر اس آیت میں ہے وہ خود بھی گمراہ میں اور دوسرے لوگوں کو بھی بہکا کر گمراہی کا راستہ سکھاتے ہیں قیامت کے دن ایسے لوگوں پر دوہرا عذاب ہوگا ذاتی گمراہی کا جدا اور لوگوں کو بہکانے کا جدا۔ یہ حدیث عذاب مھین کی گویا تفسیر ہے کیونکہ یہ نسبت اکہرے عذاب کے دوہرے عذاب میں جو ذلت کی زیادتی ہے وہ ظاہر ہے۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 159 ج 5 (ص 60 ج 21) میں یہ شان نزول مذکور نہیں (ع ‘ ح) (2 ؎ ایضا۔ ) (3 ؎ فتح الباری ص 11 ج 2۔ ) (1 ؎ مشکوٰہ کتاب الایمان حدیث اول۔ )
Ayahs 31:7–10

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 31:7 in the Quran reader

اور جب اسکو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اکڑ کر منہ پھیر لیتا ہے گویا اس کو سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ثقل ہے تو اس کو درد دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ Open ayah 31:8 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کے لئے نعمت کے باغ ہیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 31:9 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے خدا کا وعدہ سچا ہے اور وہ غالب حکمت والا ہے

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١ؕ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 31:10 in the Quran reader

اسی نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اور زمین پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دئیے تاکہ تم کو ہلا نہ دے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دئیے اور ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر (اس سے) اس میں ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائیں

7 تا 10۔ اوپر کی آیت میں جن لوگوں کا ذکر تھا انہی کو فرمایا کہ ایسے لوگوں کے روبر وجب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ اپنی مالداری کے غرور میں پیٹھ موڑ کر اس طرح ٹل جاتے ہیں کہ گویا وہ بہرے ہیں اس واسطے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ایسے ہر شخص کو کچھ دینے والے اس عذاب کی خبر سنا دو جو قیامت کے دن اس پر کیا جاوے گا حاصل یہ ہے کہ جس طرح وہ اللہ کی کتاب سے اور اس کی آیتوں سے گستاخی کر کے اللہ کے رسول کو ایذا دیتا تھا اسی طرح اللہ اس کو قیامت کے روز دکھ دینے والے عذاب میں ڈالے گا یہاں تک تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا بیان کیا جو قرآن شریف کی آیتوں کے سننے سے پہلو تہی کرتے ہیں اور ان کو ہنسی میں اڑاتے ہیں اور آپ سے بہرے بن جاتے ہیں اب آگے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کو بڑی رغبت اور توجہ کے سات سنتے ہیں اور ان سے بڑے بڑے فائدہ اور نفع حاصل کرتے ہیں چناچہ فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر ایمان لائے اور تمام پیغمبروں کے رسول ہونے کی تصدیق کی اور شریعت کے مطیع ہو کر اچھے عمل کئے ان کے واسطے نعمتوں کے باغ ہیں جن میں انواع اقسام کی لذتیں اور طرح طرح کی خوشبوئیں ہیں ان کے اندر ہمیشہ ہمیشہ چین اور مزے اڑایا کریں گے عمدہ عمدہ لطیف کھانے اور پینے کی چیزیں اور پوشاک و لباس قسم قسم کے پھنسیں گے اور بڑے بڑے عالیشان مکان میں رہیں گے اور نایاب سواریوں پر چڑ ہیں گے اور پاکیزہ بیبیاں ان کی ہم نشینی کے لیے موجود ہوں گی ہمیشہ رہنے کا یہ مطلب کہ یہ نعمتیں ان سے کبھی جدا نہ ہوں گی اور نہ وہ بدلنے کی خواستگار ہوں گے وعدہ اللہ کا حق ہے کیونکہ وہ اپنے وعدہ کا خلاف کبھی نہیں کرے گا اس لیے کہ اس کی ذات بڑی کریم اور رحیم ہے اور وہ بڑی عزت والا اور حکمت والا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے معاذبن جبل ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اب اس حق کے پورا ہوجانے کے بعد بطور حق کے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی مغفرت فرمائے گا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں بڑا دخل ہے جس جس کا حاصل یہ ہے کہ جس اللہ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا ہے جو لوگ اس پر بھی دوسروں کو اس کے برابر ٹھہراتے ہیں اور اپنے خالق کے احکام کے سننے سے جان بوجھ کر بہرے بن جاتے ہیں انہوں نے اللہ کے حق کو کچھ نہیں سمجھا اس لیے اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گنہگار نہیں اور عقبیٰ میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اسی طرح جن لوگوں کو احکام الٰہی کا پورا یقین ہے جس کے سبب سے وہ عقبیٰ کی بھلائی کے کاموں میں لگے رہتے ہیں انہوں نے اللہ کے حق کو پھچانا اور ادا کیا اس واسطے اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی نعمتوں کی تفصیل بیان سے باہر ہے چناچہ صحیح بخاری مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث قدسی اس باب میں کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنت کی نعمتیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھی نہ کانوں سے سنی نہ ان کا تصور کسی کے دل میں گزر سکتا ہے پھر فرمایا کہ اس خدائے حکیم نے آسمان بغیر ستون کے پیدا حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ آسمان کے لیے کوئی ایسا بھی ستون نہیں جو نظر آوے اور ایسا بھی نہیں جو دیکھائی نہ دے زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی سورة رعد میں مفصل ہوچکی 1 ؎ ہے پھر فرمایا ڈالے اللہ نے زمین پر بوجھ پہاڑروں کے تاکہ بوجھل ہوجاوے اور تم کو لے کر نہ جھک جاوے اور پھیلائے اللہ تعالیٰ نے زمین کے اندر طرح طرح کے حیوانات جن کی تعداد سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا اس سے اللہ سبحانہ نے اپنا خالق ہونا ثابت فرمایا اب رازق ہونے پر آگاہ کرتا ہے کہ اتارا ہم نے آسمان سے پانی پھر اگائے ہم نے زمین میں اس کے سبب سے ہر قسم کے جوڑے خوشنما اور عمدہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام اور فضل ہے۔ (1 ؎ صفحہ 212 جلد سوم )
Ayah 31:11

هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠ Open ayah 31:11 in the Quran reader

یہ تو خدا کی پیدائش ہے تو مجھے دکھاؤ کہ خدا کے سوا جو لوگ ہیں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ظالم صریح گمراہی میں ہیں

11۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آسمان زمین پہاڑ اور تمام مخلوقات کی پیدائش کا ذکر فرما کر اس آیت میں مشرکوں کو یوں قائل کیا ہے کہ اللہ کی قدرت سے تو یہ سب کچھ پیدا ہوا ہے اسی واسطے اللہ کے رسول ﷺ یہ پیغام پہنچاتے ہیں کہ سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں ہے کیوں کہ معبود تو وہ ہے جس میں قدرت ہے وہ اپنی قدرت کے سبب سے اپنے عبادت کرنے والوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے تم جو اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتے ہو اور اللہ کی عبادت میں بتوں کو شریک کرتے ہو اور قرآن کی نصیحت کے سننے سے جان بوجھ کر بہرے بنتے ہو تو بتلاؤ تمہارے جھوٹے معبودوں نے ان چیزوں میں سے کیا چیز پیدا کی ہے اور جب تم اپنے جھوٹے معبودوں کی پیدا کی ہوئی چیز ایسی نہیں بتلا سکتے جس سے تم کو آخرت میں یا دنیا میں کسی طرح کا فائدہ پہنچے تو تمہارے معبودوں کو کہاں سے یہ حق حاصل ہوگیا کہ تم ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اس پر بھی گروہ انسان میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں ان سے بڑھ کردیتا میں کوئی گنہگار نہیں۔ یہ حدیث ضلال مبین کی گویا تفسیر ہے کیونکہ اپنے خالق کو چھوڑ کر جو کوئی مخلوقات کو اپنا معبود ٹھہرادے نہ اس سے بڑھ کر کوئی گمراہ ہوسکتا ہے نہ خالق اور مخلوق کو یکساں سمجھنے کی برابر دنیا میں کوئی گناہ ہوسکتا ہے۔
Ayahs 31:12–13

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا لُقْمٰنَ الْحِكْمَةَ اَنِ اشْكُرْ لِلّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّشْكُرْ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 31:12 in the Quran reader

اور ہم نے لقمان کو دانائی بخشی کہ خدا کا شکر کرو اور جو شخص شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو خدا بھی بےپروا اور سزاوار حمد (وثنا) ہے

وَ اِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لِابْنِهٖ وَ هُوَ یَعِظُهٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِكْ بِاللّٰهِ١ؔؕ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ Open ayah 31:13 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بیٹا خدا کے ساتھ شرک نہ کرنا شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے

12‘ 13۔ اوپر کی آیتوں میں شرک کی مذمت تھی اور لقمان ؓ کی نصیحت میں بھی شرک کی مذمت ہے اس مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں کے ساتھ لقمان ( علیہ السلام) کی نصیحت کا ذکر فرمایا حضرت داؤد (علیہ السلام) اور لقمان (علیہ السلام) کا زمانہ ایک ہے سوا عکرمہ کے سلف میں اور کوئی لقمان ( علیہ السلام) کے نبی ہونے کا قائل نہیں ہے تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں عکرمہ کی ایک روایت 1 ؎ بیان کی گئی ہے جس سے لقمان ( علیہ السلام) کا نبی ہونا ثابت ہوتا ہے یہ عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پر ور دہ ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عکرمہ کے دونوں پاؤں کاٹھ میں ٹھوک دیا کرتے تھے اور عکرمہ کو قرآن شریف کی تفسیر سکھایا کرتے تھے چناچہ عکرمہ سے روایت ہے کہ میں نے چالیس برس تک حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے علم سیکھا ہے آخر کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے روبرو میں نے فتوے دینے شروع کردیے تھے چناچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے گھر کے در وازہ پر بیٹھ کر میں فتوے دیا کرتا تھا اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ گھر کے اندر ہوا کرتے تھے اسماء الرجال کی کتابوں میں جہاں یہ سب کچھ عکرمہ کا حال لکھا ہے وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ عکرمہ کے مزاج میں آخر کو کچھ خارجی پن آگیا تھا اس واسطے امام مالک اور امام احمد اور اور محدثین عکرمہ کی روایت سے پرہیز کرتے تھے علاوہ اس کے تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم کی سند میں جابر بن یزید جعفی ہے جس کی روایت کو ابوداؤد ونسائی اور اور محدثین (رح) نے ضعیف ٹھہرایا ہے غرض ان سببوں سے جمہور مفسرین کے مقابلہ میں حافظ ابن کثیر اور اور مفسروں نے عکرمہ کی اس روایت کو قابل اعتبار نہیں شمار کیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد مجاہد وغیرہ بھی عکرمہ کی اس روایت کے مخالف ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ حکمت عطا فرماوے اور وہ اس کے موافق اور لوگوں کو تعلیم دیوے تو ایسے شخص کا سا مرتبہ حاصل کرنے کی باقی کے لوگوں کو حرص کرنی چاہیے صحیح بخاری ومسلم میں اسامہ بن زید ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ان علما کو سخت عذاب کا مستحق فرمایا ہے جو لوگوں کو علم دین کی باتیں سکھا دیں اور خود اس کے موافق عمل نہ کریں ان صحیح حدیثوں کو حکمت کے لفظ کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ علم دین کے سیکھنے کو اور اس کے موافق تعلیم وفتوے دینے اور عمل کرنے کو حکمت کہتے ہیں فقط تعلیم اور فتوے ہو اور عمل نہ ہو تو ایسا علم دین حکمت نہیں بلکہ وبال ہے سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے حکمت کو بڑی خوبی فرمایا ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے کی معتبر روایت 2 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص احسان کرنے والے کے احسان کو ہر وقت یاد رکھے گا اور اس کا ذکر کرتا رہے گا اس نے اس احسان کا گویا شکر ادا کرلیا یہ حدیث ان اشکر لی و لوالدیک کی گویا تفسیر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ دین کی باتو کی سمجھ کو نعمت عطا کرنے تو اس شخص کو چاہیے کہ پڑھنے پڑھانے اور عمل کرنے سے اس تعمت کی یاد میں مصروف رہے کہ یہی اس نعمت کی شکر گزاری ہے۔ حافظ ابو جعفرابن جریر نے شکر کو حکمت کی تفسیر میں جو ٹھہرایا ہے اس کا مطلب بھی وہی ہے جو حضرت عائشہ ؓ کی حدیث کے موافق اوپر بیان کیا گیا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ سارا جہان نیک ہوجاوے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں کچھ بڑھ نہ جاوے گا اور اگر سارا جہان بد ہوجاوے تو اس کی بادشاہت میں سے کچھ گھٹ نہ جاوے گا یہ حدیث فان اللہ غنی حمید کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شکر گزاروں کے شکر اور ناشکری سے ان خوبیوں پر کچھ اثر نہیں پڑ سکتا۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر یہ احسان کیا کہ اس کو پیدا کیا اس کے اس احسان کو بھول کر جو لوگ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرتے ہیں دنیا میں ان سے بڑھ کر کوئی گنہگار نہیں یہ حدیث ان الشرک لظلم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرک شخص بغیر توبہ کے مرجائے گا تو اس کی مغفرت کسی طرح سے نہ ہوگی کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مشرک پر جنت حرام ہے ہاں سوا شرک کے اور گناہوں کا گنہگار بغیر توبہ کے اگر مرجاوے گا تو اس کی مغفرت اللہ کے اختیار میں ہے چاہے وہ بلا کسی مواخذہ کے ایسے شخص کو جنت میں داخل کرے چاہے کسی قدر مواخذہ کے بعد اس سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں۔ سقراط ‘ بقراط ‘ افلاطوں ‘ جالینوس وغیرہ اگرچہ یہ لوگ بھی صاحب حکمت مشہور ہیں لیکن یہ لوگ فقط عقلی باتوں کی سمجھ کو حکمت جانتے ہیں حالانکہ فقط عقل کی رسائی سے حشر جنت دوزخ ایسی غیب کی باتوں کے سمجھنے میں بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں مثلا یہ لوگ جسمانی حشر کے قائل نہیں جنت اور دوزخ کی ظاہری ہستی کے منکر ہیں دنیا کی قدیم کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو دنیا کی روز مرہ کی باتوں کا علم نہیں بتلاتے۔ اس طرح کی ان لوگوں کی اور باتیں بھی آسمانی کتابوں کے بر خلاف ہیں شرعی حکمت کے صاحب حکمت علماء نے اپنی کتابوں میں ان غلط باتوں کو آسمانی کتابوں کے حوالہ سے اچھی طرح بےاصل ٹھہرایا ہے لیکن ان لوگوں کو اپنی عقل باتوں کے صحیح ہونے کا ایسا یقین ہے کہ ان باتوں کے آگے یہ لوگ نبوت کی وحی کو کچھ نہیں گنتے چناچہ سقراط نے جب موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا حال سنا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جانے سے انکار کیا اور صاف کہہ دیا کہ ہمارا علم ہم کو کافی ہے ہمیں کسی نبی کی تعلیم درکار نہیں ہے جن عقلی صاحب حکمت لوگوں کا ذکر اوپر گزرا یہ ان میں کے متقدمین کہلاتے ہیں ان کے زمانہ تک دنیا کے قدیم ہونے کا اعتقاد نہیں تھا یہ اعتقاد ان لوگوں کے بعدا ارسطو کے زمانہ میں پیدا ہوا ہے یہ ارسطو بت پرست مشرک شخص تھا علم منطق اسی کی ایجاد سے اس واسطے اس کو معلم اول کہتے ہیں پھر ابو نصر فارابی نے ارسطو کی باتوں کی شرح بیان کی ہے اس لیے ابونصر معلم ثانی مشہور ہے آخر شیخ ابو علی بن سینا کا زمانہ ہے ابو علی بن سینا نے اگرچہ پہلی عقلی باتوں کو اسلام کے مطابق کردینے کو کوشش کی ہے لیکن ابو علی بن سینا کی بہت سی باتیں قواعد اسلام کے برخلاف ہیں چناچہ اس ابوعلیٰ بن سینا کا یہ اعتقاد کہ نہ اللہ تعالیٰ غیب کی باتوں کو جانتا ہے نہ وہ متکلم بالذات ہے بلکہ وہ کسی چیز میں کلام کی صفت پیدا کردیتا ہے اسی کو اللہ کا کلام کہتے ہیں اسی طرح ابو علی کی اور باتیں بھی قواعد اسلام کے بر خلاف اس کی کتابوں میں ہیں۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 443 جلد 3 ) (2 ؎ مشکوۃ کتاب العلم فصل اول) (1 ؎ مشکوۃ ص 436 باب الامربا لمروف) (2 ؎ الترغیب والترہیب ص 78 ج 2 عنوان ” الترغیب فی شکر المعروف الخ )
Ayah 31:14

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ١ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ١ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ Open ayah 31:14 in the Quran reader

اور ہم نے انسان کو جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کے آنا ہے

14۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے لقمان ( علیہ السلام) کی اس نصیحت کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی انہوں نے اول اس کو اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے منع کیا اور کہا کہ شرک بڑا ظلم ہے لقمان (علیہ السلام) کی نصیحت ماں باپ کے حق سے خالی تھی اس واسطے اللہ تعالیٰ نے لقمان کی نصیحت میں اتنی بات اور بڑھا دی کہ ماں باپ کا حق بھی مانو جس سے معلوم ہوا کہ اول حق اللہ تعالیٰ کا ہے اور بعد اس کے ماں باپ کا حق ہے پھر ماں کا حق جدا جتلانے کے لیے فرمایا کہ ماں نے بچہ کو پیٹ میں رکھ کر بوجھ اٹھایا پھر دو برس تک دودھ پلا کر تکلیف اٹھائی اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ماں کی محنت و مشقت کا اس لیے ذکر کیا کہ بچہ ماں کے احسانوں کو نہ بھولے ماں کا حق جتلانے کے بعد انسان کو فرمایا کہ اللہ کا اور اپنے ماں باپ کا شکر کر تجھ کر میرے پاس دوبارہ زندہ ہو کر آنا ہے اس وقت میں تجھ کو پورا بدلہ شکر کرنے کا امہ وھنا علی وھن فرمایا ہے اور سورة الاحقاف میں حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا فرمایا دونوں آیتوں کے ملانے سے حاصل یہ ہوا کہ حمل کے زمانہ سے لے کر دودھ چھوڑانے کے زمانہ تک بچہ کے سبب سے ماں کو ایسی تکلیفیں رہتی ہیں جن کے سبب سے عورتوں کی سب قوت تھک جاتی ہے چناچہ یہ بات سب کی آنکھوں کہ سامنے کی ہے کہ دو تین بچے پیدا ہوجانے کے بعد بہ نسبت مردوں کے جلدی سے عورتیں بوڑھی ہوجاتی ہے۔ سورة البقر میں اور یہاں دودھ پلانے کی مدت دو برس کی فرمائی ہے اور سورة الاحقاف میں حمل اور دودھ پلانے کی مدت کو تیس مہینے کی مدت فرمایا ہے امام مالک ‘ شافعی ‘ امام احمد ‘ ابویوسف اور امام محمد کے نزدیک اس تیس مہینے میں کم سے کم حمل کی مدت چھ مہینے ہیں اور زیادہ سے زیادہ مدت دودھ پلانے کی دو برس ہیں 1 ؎۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک سورة احقاف کی آیت کی تفسیر یہ ہے کہ اس میں دودھ پلانے کے تیس مہینے کا ذکر ہے اور حمل کی مدت کے تیس مہینے کا ذکر محذوف ہے جو اسی تیس مہینے سے سمجھا جاتا ہے اس لیے ان کے نزدیک زیادہ سے زیادہ مدت حمل کی تیس مہینے ہے اور یہی مدت زیادہ سے زیادہ دودھ پلانے کی ہے زیادہ تفصیل اس مسئلے کی فقہ کی کتابوں میں ہے۔ دارقطنی میں معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت 2 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے دودھ پلانے کی زیادہ سے زیادہ مدت کو دو برس ٹھہرایا ہے اس سے امام محمد صاحب (رح) اور امام ابو یوسف (رح) کا قول آیت کی تفسیر میں قوی معلوم ہوتا ہے اس واسطے طحاوی نے اسی قول کو ترجیح دی 3 ؎ ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے معاذبن جبل ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرنا بندوں پر یہی اللہ کا حق ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت 4 ؎ ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کونسا نیک عمل زیادہ پسند ہے آپ نے فرمایا وقت پر نماز کا پڑھنا اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ ان حدیثوں سے اللہ تعالیٰ کے حق اور ماں باپ کے حق کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ان کاموں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں اسی واسطے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کا ذکر فرمایا ہے۔ “
Ayah 31:15

وَ اِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰۤى اَنْ تُشْرِكَ بِیْ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ۙ فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا١٘ وَّ اتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 31:15 in the Quran reader

اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع لائے اس کے راستے پر چلنا پھر تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا

15۔ اوپر ماں باپ کے حق کے ماننے کا ذکر تھا اور یہ بھی ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ کا حق ماں باپ کے حق پر مقدم ہے اس لیے فرمایا کہ اگر ماں باپ تجھ سے شرک کرنے پر جھگڑیں تو ان کا کہا ہرگز نہ مان کیونکہ شرک ایسی بےسند چیز ہے جس کا پتہ دنیا میں کسی کو معلوم نہیں اس لیے اس باب میں ماں باپ کی پیروی مت کر ہاں معاملات دنیا میں تو ان کا ساتھی رہ اور ان کے ساتھ سلوک کرتا رہ دین میں ان لوگوں کی پیروی کر جو شرک سے بیزار اور ایمان والے ولوگ ہیں آخر تم سب اللہ کے پاس جزا و سزا کے لیے آنا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت عبداللہ بن حذافہ کے قصہ کی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس بات میں آدمی اللہ کا گنہگار ٹھہرتا ہو تو مخلوقات کی خاطر داری سے کوئی ایماندار شخص ایسی بات کو ہرگز نہ کرے۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ماں باپ ہوں خواہ کوئی اور مخلوقات میں سے ہو انسان کو مخلوقات کی فرما نبرداری وہاں تک جائز ہے کہ وہ فرما نبرداری حکم الٰہی کے برخلاف نہ ہو “
Ayahs 31:16–19

یٰبُنَیَّ اِنَّهَاۤ اِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِیْ صَخْرَةٍ اَوْ فِی السَّمٰوٰتِ اَوْ فِی الْاَرْضِ یَاْتِ بِهَا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ Open ayah 31:16 in the Quran reader

(لقمان نے یہ بھی کہا کہ) بیٹا اگر کوئی عمل (بالفرض) رائی کے دانے کے برابر بھی (چھوٹا) ہو اور ہو بھی کسی پتھر کے اندر یا آسمانوں میں (مخفی ہو) یا زمین میں خدا اس کو (قیامت کے دن) لا موجود کرے گا کچھ شک نہیں کہ خدا باریک بین (اور) خبردار ہے

یٰبُنَیَّ اَقِمِ الصَّلٰوةَ وَ اْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ انْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ اصْبِرْ عَلٰى مَاۤ اَصَابَكَ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِۚ Open ayah 31:17 in the Quran reader

بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں

وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍۚ Open ayah 31:18 in the Quran reader

اور (ازراہ غرور) لوگوں سے گال نہ پھلانا اور زمین میں اکڑ کر نہ چلنا کہ خدا کسی اترانے والے خود پسند کو پسند نہیں کرتا

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ وَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ١ؕ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۠ Open ayah 31:19 in the Quran reader

اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بری آواز گدھوں کی ہے

16 تا 19۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے لقمان (علیہ السلام) کے باقی کے اس کلام کو جو انہوں نے بیٹے سے بطور نصیحت کے کہا تھا پورا کیا لقمان (علیہ السلام) اپنے بیٹے سے کہتے ہیں کہ اے میرے بیٹے اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو اور ہو وہ پتھر میں آسمان یا زمین میں کہیں ہو جزا و سزا کے وقت اللہ تعالیٰ اس کو حاضر کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ناقابل اعتراض سند سے مسند امام احمد میں ابوسعید خدری ؓ 1 ؎ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ٹھوس پتھر میں گھس کر عمل کرے تو بھی اس کا عمل ظاہر ہوجائے گا خواہ کیسا ہی عمل ہو یہ حدیث لطیف خبیر کی گویا تفسیر ہے اسی طرح مسند بزار اور بیہقی کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی معتبر روایت گزر چکی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم سے بعضے ایسے عمل لوگوں کے اعمال ناموں میں سے خارج کردیے جاویں گے جن کی خرابی کا حال اعمال ناموں کے لکھنے والے فرشتوں کو بھی معلوم نہ ہوگا اس حدیث کو بھی لطیف خبیر کی تفسیر میں بڑا دخل ہے پھر فرمایا کہ لقمان ( علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو یہ وصیت کی کہ نماز کو اس کے ارکان و اوقات کے ساتھ قائم رکھ اور لوگوں کو نصیحت کر موافق شرع کے اور منع کر خلاف شرع سے اور اس نصیحت کے کرنے میں کچھ تکلیف لوگوں کی طرف سے پہنچے تو صبر کر کیونکہ صبر بڑی ہمت کی چیز ہے۔ و لا تصعر خدک کی تفسیر میں علی بن طلحہ (رح) نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ ہی نقل کیا ہے کہ تو تکبر نہ کر اور بڑائی نہ مار اور ایسا مت کر کہ خدا کے بندوں کو حقیر سمجھے اور جب وہ تجھ سے بات کریں تو تو ان سے منہ پھیرلے پھر فرمایا مت چل زمین پر اترا کر خود پسندی سے ورنہ خدا تعالیٰ تجھ کو حقیر رکھے گا کیونکہ وہ کسی کی خود پسند بڑائی مارنے والے کو پسند نہیں کرتا مطلب یہ ہے کہ بیچ کی چال چل نہ بہت آہستہ نہ بہت تیز اور بلکہ ان دونوں کے درمیان میں چل اور پست کر آواز اپنی گفتگو کرنے میں بےفائدہ ناحق آواز کو بلند مت کر بیشک بری سے بری آواز گدھے کی آواز ہے مجاہد اور اور مفسرین نے کہا ہے کہ کل آوازوں سے مکروہ اور ناپسند گدھے کی آواز ہے جو پکار کر بات کرے اس کی آواز گدھے کی آواز سے مشابہ ہے صحیح بخاری مسلم نسائی وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب تم مرغ کی آواز سنو تو اپنے حق میں بہتری کی دعا مانگو کیونکہ وہ اللہ کے فرشتوں کو دیکھ کر بولتا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو اللہ سے پناہ مانگو کس لیے کہ گدھا شیطان کو دیکھ کر چلاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرغ کی آواز سن کر جو کوئی دعا کرے گا تو فرشتے جو مرغ کے نظر آئے ہیں وہ آمین کہیں کے اور انکی آمین کی برکت سے عجب نہیں کہ وہ دعا قبول ہوجاوے اور گدھے کی آواز سن کر جو کوئی اللہ سے پناہ مانگے گا تو اس ذکر الٰہی سے شیطان بھاگ جاوے گا اور یہ اللہ سے پناہ مانگنے والا شخص شیطان کے بہکانے سے محفوظ رہے گا حاصل کلام یہ ہے کہ بہت چیخ کر بات چیت کا کرنا گدھے کی آواز سے مشابہ ہے اور گدھا شیطان کو دیکھ کر بےتحاشا چلاتا ہے اس لیے لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اس مشابہت سے منع کیا۔ سورة الحجرات میں چلا کر بات چیت کرنے کی مذمت تفصیل سے آوے گی۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 446 ج 3 ‘) (2 ؎ مشکوۃ 213 باب الدعوات فی الاوقات و تفسیر ابن کثیر ص 446 ج 3)
Ayah 31:20

اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَسْبَغَ عَلَیْكُمْ نِعَمَهٗ ظَاهِرَةً وَّ بَاطِنَةً١ؕ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍ Open ayah 31:20 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو خدا نے تمہارے قابو میں کردیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں پوری کردی ہیں ؟ اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں نہ علم رکھتے ہیں اور نہ ہدایت اور نہ کتاب روشن

20۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ظاہر اور باطن نعمتوں کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بہت سے قول لکھے ہیں اور اس مقام پر جس قدر کثرت سے قول علماء مفسرین نے لکھے ہیں وہ بجا بھی ہیں کیونکہ انسان پر اللہ کی جو نعمتیں ہیں انکا کچھ حد و حساب ہی نہیں پھر جس طرح بےحدو حساب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں اسی طرح بےحد و حساب ان نعمتوں کی تفسیر بھی ہے اسی واسطے جو اللہ تعالیٰ نے سورة ابراہیم ( علیہ السلام) میں اپنی نعمتوں کی یہ تفسیر فرمائی ہے کہ وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا جس کے حاصل معنے یہ ہیں کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا تو درکنار انسان اگر اللہ کی نعمتوں کی فقط گنتی بھی کرے تو نہیں ہوسکتی جب خود اللہ تعالیٰ کی تفسیر کی رو سے اللہ کی نعمتوں کی تفصیل اور تفسیر انسان کی قدرت سے باہر ہے تو مفسرین نے دس بارہ قول جو اس آیت کی تفسیر میں لکھے ہیں ان سے اللہ کی نعمتوں کی کیا تفسیر ہوسکتی ہے لیکن بیہقی اور دیلمی وغیرہ نے امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا ایک صحیح قول جو اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے وہ ذکر کردیا جاتا ہے تاکہ آیت کی کسی قدر تفسیر ہوجائے وہ قول یہ ہے کہ عطاء بن رباح جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے مشہور شاگردوں میں ہیں اور تابعین میں سید التابعین علماء نے ان کو لکھا ہے وہ کہتے 1 ؎ ہیں ایک روز میں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ خود میں نے بھی اس آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ سے پوچھی تھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ ظاہری نعمتوں سے اللہ کی مثلا ایک یہی کتنی بڑی نعمت ہے کہ ہاتھ پیر آنکھوں ناک سب اعضا اللہ تعالیٰ نے تیرے صحیح سالم پیدا کئے اور تندرستی عطا کی اور باطن کی نعمتوں میں یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ تیرے ایسے برے کام اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے چھپائے کہ اگر آج وہ سب لوگوں پر ظاہر ہوجاویں تو خود تیرے گھر والے تیرے دشمن ہوجاویں غیروں کا تو کیا ٹھکانا حاصل کلام یہ ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے سمجھانے کی غرض سے ایک نعمت ظاہری اور ایک نعمت باطنی اللہ تعالیٰ کی ظاہری اور باطنی بےگنتی نعمتوں میں سے مثال کے طور پر بیان فرما دی اس طرح قرآن اور حدیث سے نکال کر ہزاروں لاکھوں کروڑوں نعمتیں اللہ کی بیان کی جاویں تو ممکن ہیں مگر اس ہزاروں لاکھوں کروڑوں کی گنتی سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ کی گنتی پوری ہوگئی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فرمانے کے موافق یہ بات انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی گنتی پوری کی جاوے اس لیے مفسروں نے اپنی اپنی تفسیر میں جو کچھ اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے وہ سب مثال کے طور پر خیال کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر انسان کو کم ہے اس واسطے آنحضرت ﷺ نے اس بات میں طرح طرح کی نصیحت بھی فرمائی ہے مثلا ابوہریرہ ؓ کی صحیح مسلم کی روایت 1 ؎ میں فرمایا ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ تندرستی اور خوشحالی میں جو کم درجہ ہو ایسے شخص پر نظر ڈالے جو شخص اپنے سے بڑھتی درجہ میں ہو اس پر کبھی نظر نہ ڈالے تاکہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری لازم نہ آوے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں مثلا سورج چاند مینہ زمین میں کھیتی باغ انسان کی یہ سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں اس پر بھی بعضے ناشکر لوگ نادانی سے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں بغیر کسی کے طرح طرح کی حجتیں نکالتے ہیں۔ “ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 127 ج 5‘ تفسیر فتح البیان ص 560 ج 3۔ ) (1 ؎ مشکوٰۃ ص 447 باب فضل الفقراء الخ۔ )
Ayahs 31:21–26

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ الشَّیْطٰنُ یَدْعُوْهُمْ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 31:21 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی ؟ )

وَ مَنْ یُّسْلِمْ وَجْهَهٗۤ اِلَى اللّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 31:22 in the Quran reader

اور جو شخص اپنے تئیں خدا کا فرمانبردار کر دے اور نیکو کار بھی ہو تو اس نے مضبوط دستاویز ہاتھ میں لے لی اور (سب) کاموں کا انجام خدا ہی کی طرف ہے

وَ مَنْ كَفَرَ فَلَا یَحْزُنْكَ كُفْرُهٗ١ؕ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ فَنُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 31:23 in the Quran reader

اور جو کفر کرے تو اس کا کفر تمہیں غمناک نہ کر دے ان کو ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے پھر جو کام وہ کیا کرتے تھے ہم ان کو جتائیں گے بیشک خدا دلوں کی بات سے واقف ہے

نُمَتِّعُهُمْ قَلِیْلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ اِلٰى عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 31:24 in the Quran reader

ہم ان کو تھوڑا سا فائدہ پہنچائیں گے پھر عذاب شدید کی طرف مجبور کر کے لے جائیں گے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 31:25 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو بول اٹھیں گے کہ خدا نے کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 31:26 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) خدا ہی کا ہے بیشک خدا بےپرواہ اور سزاوار حمد (و ثنا) ہے

21 تا 26۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سب ضرورت کی چیزیں پیدا کیں اس پر بعضے ناشکر لوگ نادانی سے اللہ تعالیٰ کے وحدہ لاشریک ہونے میں بغیر سند کے جھگڑتے ہیں ان آیتوں میں اس بےسند جھگڑنے کا ذکر فرمایا کہ ان مشرکوں سے جب اللہ کے حکم پر چلنے کو کہا جاتا ہے تو یہ نادان کہتے ہیں کہ جن تبوں کو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے ہم بھی انہیں کو پوجیں گے اور ان کا ہی طریقہ اختیار کریں گے اسکا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ کیا یہ لوگ باپ دادا کی چال چلیں گے اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو مطلب یہ ہے کہ ان کہ باپ دادا شیطان کے پیرو اور گمراہ ہوں تو کیا جب بھی یہ ان کا طریقہ اختیار کریں گے ؟ یہ عقل سے بہت بعید ہے پھر فرمایا جو لوگ اللہ کے حکم پر چلتے ہیں ان لوگوں نے بڑی مضبوط دستاویز کو پکڑا ہے وہ دستاویز اللہ کا وعدہ ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا۔ کیونکہ دنیا کے کاموں میں اگر یہ لوگ اپنے بڑوں کا طریقہ غلط پاتے ہیں تو چھوڑ دیتے ہیں پھر دین کے طریقہ میں بڑوں کے حق پر ہونے کی جب کوئی سندان لوگوں کے پاس نہیں ہے تو ایسے بےسند طریقہ کو یہ لوگ شیطانی بہکاوا کیوں نہیں خیال کرتے پھر فرمایا جو شخص اللہ کے حکم پر نہ چلے تو اے رسول اللہ اس کا تم کچھ غم نہ کرو ان کو ہمارے پاس آنا ہے اس وقت ہم ان کو ان کے عملوں کو جتلاویں گے اور سزا دیں گے بیشک اللہ تعالیٰ دل کی باتوں کو خوب جانتا ہے اس پر کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔ پھر فرمایا ہم تھوڑے دنوں دنیا کی چیزوں سے فائدہ اٹھانے کے بعد قیامت کے روزان کو مجبور و نا چار کر کے پکڑ لاویں گے اور ان کے عملوں کی ان کو پوری سزا دیویں گے۔ اب آگے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے اگر تم ان مشرکوں سے پوچھو گے کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے مطلب یہ کہ وہ مشرک اس بات کو جانتے ہیں کہ سب کا پیدا کرنے والا خدا تعالیٰ ہے کوئی اس کا شریک نہیں پھر باوجود اس کے عبادت میں اللہ کے ساتھ ایسوں کو شریک کرتے ہیں جن کو خدا کی مخلوق کہتے ہیں پھر فرمایا سب تعریف اللہ کو زیبا ہے مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے، اللہ کا شکر کرو کہ خدا کی حجت کے پورے ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی کیونکہ خود مشرکوں کے اقرار سے ان پر الزام ثابت ہوگیا پھر ایسے جاہل ہیں کہ شرک کئے جاتے ہیں پھر فرمایا جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے وہ سب اللہ کی ملک ہے بیشک اللہ ہی بےپر واہ اور خوبیوں والا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکا ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جانے کے قابل اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی وہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی بیان فرمائی ہے ان حدیثوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ سے پہلے مشرکین مکہ میں کے جو لوگ علم الٰہی میں دوزخ کے قابل ٹھہر چکے تھے وہ اگرچہ اللہ کو اپنا خالق و رازق جانتے تھے لیکن ازلی گمراہی کے سبب سے پھر بھی شرک کو نہیں چھوڑتے تھے اور رات دن کی قرآن کی نصیحت ان کے حق میں ایسی ہی رائگاں تھی جس طرح بری زمین میں مہینہ کا پانی رائگاں جاتا ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا اس وقت کے لوگوں کو بڑا رنج تھا شیطان نے موقع پاکر ان لوگوں کے جی میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی شکل کے بت بنا کر رکھ لیے جاویں کہ ان بتوں کو دیکھ لینے سے ان نیک لوگوں کی جدائی کا رنج کی ہوجاوے گا۔ اس وسوسہ کے موافق وہ بت بنا کر رکھ لیے جاویں کہ ان بتوں کو دیکھ لینے سے ان نیک لوگوں کی جدائی کا رنج کم ہوجاوے گا۔ اس وسوسہ کے موافق وہ بت بنائے گئے اور پھر رفتہ رفتہ ان بتوں کی پوجا ہونے لگی۔ اس حدیث کو آیت کان الشیطان ید عوھم الی عذاب السعیر کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی عداوت کے سبب سے جہاں تک ہو سکے اولاد آدم کو شیطان دوزخ میں گھسیٹ کرلے جانا چاہتا ہے اس لیے اس نے اپنے اس مقصد کو پورا کرنے کا حیلہ بت پرستی کو ٹھہرایا ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بت پرستی کا طریقہ ایسا ناپسند ہے کہ قوم سے لے کر فرعون تک لاکھوں آدمیوں کو دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اسی بت پرستی کی سزا کے طور پر طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اور عقبیٰ میں ایسے لوگوں کے لیے سخت عذاب کا وعدہ فرمایا ہے اب ان مشرکین مکہ کو یہ یاد رہے کہ اگر یہ لوگ اپنے بڑوں کو پیشوا ٹھہرا کر بت پرستی سے باز نہ آویں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا جوان سے پہلے لوگوں کا ہوا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کے بدر کے قصہ کی روایت جو اوپر گزر چکی ہے اس سے اس وعدہ کا ظہور اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ العروۃ الوثقی کے معنے مضبوط دست آوبز کے بھی ہیں مضبوط رسی کے بھی ہیں اور فقط لفظ عروہ کے معنے جز اور بنیاد کے بھی ہیں اس واسطے تفسیروں اور جموں میں العروۃ الوثقی کے مختلف معنے جو نظر آتے ہیں وہ سب صحیح ہیں بعضے مرادی ترجموں کے قرآن میں عروہ کا ترجمہ۔۔۔ کیا گیا ہے اس سے مطلب وہی جڑ اور بنیاد ہے صحیح بخاری مسلم وغیرہ 1 ؎ میں عبداللہ بن سلام ؓ کے خواب کی ایک بڑی حدیث ہے جس میں عبداللہ بن سلام نے ایک لوہے کی سلاخ خواب میں دیکھی ہے اور پھر اس سلاخ پر چڑھ کر میدان حسر اور اہل جنت اور دوزخ کو دیکھا ہے اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اس سلاخ کے سرے پر ایک سونے کا کڑا جڑا ہوا تھا اسی کڑے کو پکڑ کر عبداللہ بن سلام اس سلاخ پر چڑھے ہیں اور خواب کی تعبیر میں آنحضرت ﷺ نے اس کڑے کو العروۃ الوثقی اور اس سلاخ کو اسلام فرمایا ہے اسی مناسبت سے بعضے ترجموں میں عروہ کے معنے کڑے کے کیے ہیں جو بالکل صحیح ہیں۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سب معنے مثال کے طور پر ہیں اصل مقصد یہ ہے کہ جس شخص نے اسلام کو مرتے دم تک مضبوط پکڑا اس نے گویا نجات کی دست آویز حاصل کی۔ (1 ؎ تفسیر مظہری ص 323 جلد اول) (2 ؎ تفسیر مظہری ص 323 جلداول وسنن دار قطنی ص 498۔ ) (3 ؎ مشکوۃ کتاب الصلواۃ فصل اول ) (4 ؎ ایضا ) (1 ؎ مشکوۃ ص 575 باب جامع المناقب ‘ )
Ayah 31:27

وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 31:27 in the Quran reader

اگر یوں ہو کہ زمین میں جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم ہوں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو (اور) اسکے بعد سات سمندر اور (سیاہی ہوجائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اس کی صفتیں) ختم نہ ہوں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

27۔ تفسیر ابن جریر تفسیر ابن ابی حاتم اور مغازی ابن اسحاق وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے جو شان نزول آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب آیت وما اوتیتم من العلم الا قلیلا نازل ہوئی تو یہود نے آنحضرت ﷺ سے یہ بحث اور تکرار کی کہ جن کو کم علم اللہ کی طرف سے دیا گیا ہے وہ کون لوگ ہیں اگر وہ قریش ہیں تو خیر مضائقہ نہیں اگر ہم یہود لوگوں کو تم کم علم بتلاتے ہو تو تم جس کلام کو قرآن اور کلام الٰہی کہتے ہو اس میں تو رات کی یہ صفت تم ہی بیان کرتے ہو کہ توراۃ میں ہر طرح کا علم ہے اور یہ تم کو معلوم ہے کہ توراۃ کا علم ہم لوگوں میں ہے پھر ہم کم علم ہم لوگوں میں ہے پھر ہم کم علم کیوں کر ہوئے اس کا جواب آنحضرت ﷺ نے یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں دنیا بھر کا سب علم تھوڑا ہے آنحضرت ﷺ کے اس جواب کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی علماء نے لکھا ہے کہ یہود نے یہ بحث اور تکرار آنحضرت ﷺ سے محض عداوت کے سبب سے کی تھی ورنہ جب سے موسیٰ (علیہ السلام) حضرت خضر (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں بیٹھے تھے اور ایک چڑیا نے ایک بوند پانی دریا میں سے پیا تھا اور حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ سے نصیحت کے طور پر کہا تھا کہ تورات کے علم کو اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں اتنا ہی سمجھنا چاہیے جس طرح اتنے بڑے دریا میں سے اس جڑیا نے پانی پیا ہے اسوقت سے یہود کو یہ مسئلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فرمانے سے معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں توراۃ کا علم بالکل تھوڑا ہے صحیح بخاری وسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے حضرت موسیٰ اور خضر (علیہ السلام) کا جو قصہ 1 ؎ ہے اس میں یہ چڑیا کے پانی کا ذکر تفصیل سے ہے چڑیا کے پانی پینے کے قصہ کی یہ نصیحت حضرت خضر ( علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو اس واسطے کی تھی کہ حضرت موسیٰ نے توراۃ کے علم کو بڑا علم جان کر اپنے آپ کو بڑا عالم خیال کیا تھا چناچہ یہ ذکر بھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اسی صحیح بخاری و مسلم کی روایت میں ہے حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہود سے اور آنحضرت ﷺ سے تو ہجرت کے بعد واسطہ پڑا ہے پھر اس مکی آیت کی شان نزول یہ یہود کا قصہ کیوں کر قرار پاسکتا ہے جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ سورة بنی اسرائیل میں مسند امام احمد کی روایت کے حوالہ سے یہ بات گزر چکی ہے کہ قریش نے مکہ سے کچھ آدمی ہجرت سے پہلے یہود کے پاس مدینہ میں اس غرض سے بھیجے تھے کہ یہود سے کوئی ایسا مشکل سوال پوچھ کر لاؤ جس کو آنحضرت ﷺ سے امتحان کے طور پر پوچھا جائے اس پر یہود نے روح کا حال پوچھنے کی صلاح دی تھی اور جب قریش نے یہود کی صلاح کے موافق آنحضرت ﷺ سے روح کا حال پوچھا تو سورة بنی اسرائیل میں روح کے ذکر کی آیت نازل ہوئی اور اسی آیت میں وما اوتیتم من العلم الا قلیلا کا ٹکڑا بھی نازل ہوا جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو یہود نے اس مکی آیت کے ٹکڑے کے باب میں بحث اور تکرار کی اور اس بحث اور تکرار کا جو جواب آنحضرت ﷺ نے دیا تھا اس جواب کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی غرض اس بحث و تکرار کی ابتدا ایک مکی آیت کے ٹکڑے سے ہے اس لیے اس بحث و تکرار کے جواب کی آیت کو بھی علماء نے مکی قرار دیا ہے کیونکہ یہ آیت اگرچہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے لیکن اس میں ذکر ایسے قصہ کا ہے جس کا ابتدا مکہ سے تھی چناچہ اس طرح کی اور بھی آیتیں ہیں جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور ذکر ان میں اہل مکہ کا ہے اور اس ذکر کے سبب سے وہ آیتیں مکی کہتے ہیں خواہ آیتیں مکہ میں نازل ہوئی ہوں یا یا مدینہ میں۔ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا زبردست حکمت والا ہے اور اس کے علم ازلی میں حکمت کی وہ وہ باتیں ہیں کہ اگر دنیا کے سارے درخت قلم اور سات سمندر سیاہی بن جاویں اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کی باتیں لکھی جاویں جب بھی وہ باتیں پوری نہ ہوں اسی واسطے یہود کا یہ اعتقاد کہ اللہ تعالیٰ کا علم توراۃ میں ختم ہوگیا بالکل ایک غلط اعتقاد ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے فقط یہی خیال کیا تھا کہ توراۃ کا علم بڑا علم ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) اپنے زمانہ کے بڑے عالم ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) کے پاس جانے کا حکم ہوا اور وہاں توراۃ کے علاوہ چند باتیں علم الٰہی کی ظاہر ہوئیں اس قصہ کو جان بوجھ کر اے رسول اللہ کے، یہ یہود لوگ تم سے بحث تکرار جو کرتے ہیں یہ ان لوگوں کی ہٹ دھرمی ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابی بن کعب ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحمت کرے اگر وہ خضر (علیہ السلام) کے پاس زیادہ ورہتے تو اور نئی نئی باتیں معلوم ہوجاتیں اس حدیث کو اس آیت کی پر رحمت کرے اگر وہ خضر (علیہ السلام) کے پاس زیادہ رہتے تو اور نئی نئی باتیں معلوم ہوجاتیں اس حدیث کو اس آیت کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم کچھ توراۃ پر منحصر نہیں بلکہ توراۃ کے علم سے بڑھ کر جن باتوں کا ذکر سورة الکہف میں گزرا ان کے علاوہ اور بہت سی باتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق خضر (علیہ السلام) کو بتلائی تھیں۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس کی رویت کا ذکر جو اوپر گزرا اس میں یہ بھی ہے کہ خضر (علیہ السلام) نے اپنے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے علم کو ملا کر یہ کہا کہ میرا اور تمہارا علم دونوں اللہ کے علم کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے دریا کے مقابلہ میں ایک قطرہ اس روایت کو بھی اس آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کی کچھ انتہا نہیں۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 451 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 167 ج 5۔ ) (1 ؎ صحیح بخاری ص 23 ج 1 باب ما مستحب للعالم اذاسئل ای النس اس اعلم الخ) (2 ؎ ایضا صحیح بخاری حوالہ مذکور)
Ayahs 31:28–32

مَا خَلْقُكُمْ وَ لَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 31:28 in the Quran reader

(خدا کو) تمہارا پیدا کرنا اور جلا اٹھانا ایک شخص (کے پیدا کرنے اور جلا اٹھانے) کی طرح ہے بیشک خدا سننے والا دیکھنے والا ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١٘ كُلٌّ یَّجْرِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّ اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 31:29 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو (تمہارے) زیر فرمان کر رکھا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے اور یہ کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الْبَاطِلُ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ۠ Open ayah 31:30 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ Open ayah 31:31 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں تاکہ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں

وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ Open ayah 31:32 in the Quran reader

اور جب ان پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں

28 تا 32۔ مطلب یہ ہے کہ ساری مخلوقات کا پیدا کرنا اور بعد مرنے کے پھر اس کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت کے سامنے کچھ مشکل نہیں ہے بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسا کہ ایک جان پیدا کرنا اور جلانا ہے کس لیے کہ سب کا موجود کرنا فقط کن کے کہنے سے ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا انما امرہٗ اذا اراد شیئا ان یقول لہ کن فیکون جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ قادر مطلق جب ارادہ کرتا ہے کسی شے کا تو فرماتا ہے ہوجا وہ ہوجاتی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سننے والا ہے سب کے قولوں کا اور دیکھنے والا ہے سب کے عملوں کا مطلب یہ ہے کہ یہ حشر کے منکر جو باتیں کرتے ہیں اور حشر کو جھٹلا کر جس طرح کے کاموں میں مصروف ہیں ان سب کی اللہ کو خبر ہے حاصل کلام یہ ہے کہ جب ایک کلمہ کن کے ساتھ ہی یہ حشر کے جھٹلانے والے دوبارہ زندہ ہوجاویں گے اور ان کی گستاخی کی زبانی باتیں اور ہاتھ پیروں کے بداعمال سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا تو اس وقت ان کو حشر کے جھٹلانے کی حقیقت کھل جاوے گی اب آگے اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت سے آگاہ فرماتا ہے کہ اللہ بڑھا دیتا ہے رات کو دن میں اس طرح کچھ کچھ حصہ رات کا دن میں داخل کرتا ہے جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے یہ گرمیوں کے موسم کا حکم ہے پھر دن کم ہوجاتا ہے اور رات لمبی ہوتی جاتی ہے یہ بعد جاڑے کے بڑا ہوجاتا ہے اور رات چھوٹی ہوجاتی ہے یہ گرمی کے موسم کا حال ہے پھر دن کم ہوجاتا ہے اور رات لمبی ہوتی جاتی ہے یہ بات جاڑے کے موسم میں ہوتی ہے پھر فرمایا کام میں لگا رکھا ہے سورج اور چاند کو کہ ہر ایک چلتا ہے ایک وعدہ مقرر تک اجل مسمی سے قیامت کا روز مراد ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوذر ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ سورج غروب ہونے کے وقت عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتا ہے پھر اپنے پروردگار سے اذن چاہتا ہے کبھی یہ وقت بھی آنے والا ہے کہ سورج سے کہا جاوے گا کہ جدہر سے آیا ہے اودہر ہی جا معتبر سند سے تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ سورج دن کو آسمان میں چھوٹی نہر کی طرح چلتا ہے اور رات اس آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ دنیا کا کل انتظام ایک وقت مقرہ تک کا ہے ہمیشہ کے لیے نہیں جو لوگ دنیا کی اس ناپائدار زندگی پر غش ہیں وہ بڑے دھو کے میں ہیں پھر فرمایا کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے خبردار ہے مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سب کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ سب چیزوں کو جانتا ہے پھر فرمایا کہ جب وہ ایسا صاحب قدرت ہے تو وہی معلوم برحق ہے اور اس کے سوائے تم جس چیز کو پوجتے ہو وہ ناحق ہے وہ ایسی ذات برتر و بلند ہے کہ کوئی چیز اس سے اوپر نہیں ہے اور وہ ایسا بڑا ہے کہ سب چیزیں اس کے روبرو عاجزی کرنے والی ہیں پھر فرمایا کہ جہاز چلتے ہیں دریا میں تاکہ دکھاوے تم کو اپنی قدرت کی نشانی کہ دریا کو تمہارا تا بعدار بنا دیا ہے یہ اس کی مہربانی ہے اگر اللہ تعالیٰ پانی میں یہ طاقت پیدا نہ کرتا کہ کشتیوں کو اٹھا لے تو کبھی پانی پر کشتیاں نہ چلتیں پھر فرمایا اس میں بڑے بڑے نشان ہیں ہر صبر کرنے والے شکر کرنے والے کے واسطے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ان نعمتوں کے شکریہ کے طور پر خالص اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس عبادت میں مثلا جاڑہ کے وضو اور گرمی کے روزہ کی پیاس کی تکلیف پر صبر کو کام میں لاتے ہیں ایسے پکے مسلمانوں کے لیے اللہ کی قدرت کی باتوں میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں جن نشانیوں سے انہوں نے اللہ کو پہچانا ہے پھر فرمایا جب ڈھانک لے ان کو دریا کی موج بدلیوں کے مانند تو اس قوقت پکارنے لگیں نرے اللہ کو خالص کر کے اور جب خدا تعالیٰ ان کو اس مصیبت سے بچا لیتا ہے تو پھر اس کے ساتھ شرک کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ ان کو چاہئے تھا کہ خدا کے اس احسان کے مقابلہ میں اس کا شکر کرتے اور کسی کو اس کی عبادت میں شریک نہ ٹھہراتے فرمایا کہ ہماری ان کھلی کھلی قدرت کی نشانیوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو بےوفا ہیں اور جن کو اپنے عہد و پیمان کا کچھ پاس ولحاظ ہے وہ خشکی میں آجانے کے بعد دریا کے خوف کی حالت کے عہد کو پورا تو نہیں مگر کسی قدر یاد رکھتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ دریا کی مصیبت سے نجات پانے کے بعد دریا میں کے عہد کو پورا کرنے والے اور راحب کی حالت میں خوف الٰہی کی حالت پر قائم رہنے والے تو بہت کم ہیں ہاں یہ دو قسمیں اکثر ہیں کہ بعضے تو اس عہد کو کسی قدر یاد رکھ کر درمیانی حالت پر رہتے ہیں اور بعضے بدعہد اپنے اس عہد کو بالکل بھول جاتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے وہ نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے اگر وہ لوگ مہلت کے زمانہ میں راہ راست پر نہیں آتے تو ان کو ایسے عذاب میں پکڑ لیتا ہے جس سے وہ کسی طرح بچ نہیں سکتے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ان بدعہد ناشکر لوگوں کو اپنی قدرت کی طرح طرح کی کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے ان بدعہد ناشکر لوگوں کو اپنی قدرت کی طرح طرح کی نشانیاں یاد دلا کر سمجھایا لیکن جب یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہ آئے تو بدر کی لڑائی کے وقت ان کی گرفت کا زمانہ آگیا جس سے ان میں کے بڑے بڑے بدعہد ناشکر دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عقبیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کے لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچاپا لیا چناچہ یہ قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک (رح) کی روایت کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ 472 باب العلامات بین یدی الساعۃ الخ) (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 452 ج 3۔ )