Ayah 31:3333۔ قیامت کے دن کا معاملہ بڑا سخت ہے صحیح حدیثوں 1 ؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ میں سے ادنی عذاب والا شخص بھی ماں باپ مال اولاد جو کچھ تمام دنیا کا سامان و اسباب ہے سب اپنی نجات کے معاوضہ میں دینے کو تیار ہوجائے گا خیر یہ تو جنت اور دوزخ میں ہوجانے کے بعد کا ذکر ہے اس سے پہلے پل صراط سے گزرنے کے بعد دوزخ اور جنت کے مابین میں ایک بلند مقام پر سب لوگ ظلم و زیادتی کا بدلہ دلائے جانے کے لیے روکے جاویں گے چناچہ صحیح بخاری 2 ؎ کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آنحضرت ﷺ نے اس ظلم و زیادتی کے بدلہ کا ذکر جو فرمایا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ وہاں کسی کے پاس کچھ روپیہ پیسہ تو ہے نہیں کہ ظالم مظلوم کو روپیہ پیسہ دے کر اپنی نجات کی صورت نکال لے اس لیے وہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ کسی ظالم نے جس قدر ظلم کسی مظلوم پر کیا ہے اس ظلم کے حساب سے کچھ ثواب اس ظالم کی نیکیوں کا مظلوم کو دلا دیا جائے گا اور اگر اس طرح کے معاوضہ میں نیکیاں اور نیکیوں کا ثواب کچھ کم پڑجائے گا تو ظلم کے حساب سے مظلوم کے گناہوں کے عذاب ظالم کو بھگتنا پڑے گا اس ظلم و زیادتی کے معاوضہ اور بدلہ کو باپ بیٹے اور بیٹا باپ کی شکل سے گھبراوے گا کہ کہیں باپ کی بیٹے پر یا بیٹے کی باپ پر کچھ زیادتی نہ نکل آوے اور اس زیادتی کے بدلہ میں ایک کی نکیاں دوسرے کے پاس نہ چلی جاویں نامہ اعمال کے دائیں یا بائیں ہاتھ میں دیئے جانے کے وقت عملوں کے تولنے پل صراط کے گزرنے کے وقت بہت سے موقع قیامت کے دن ایسے ہیں کہ وہاں نہ باپ بیٹے کے کام آسکتا ہے نہ بیٹا باپ کے حاصل کلام یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو آیت میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ کلمہ گو ظالموں کا جب اس دن یہ حال ہوگا تو جو لوگ سب سے بڑے ظلم شرک میں گرفتار رہ کر بغیر توبہ کہ مرجاویں گے ان کو اس دن کی بےکسی سے ڈرنا اور اس لبے کسی کا کچھ انتظام کرلینا چاہئے کیوں کہ اس دن کوئی کسی کے کام نہ آوے گا بلکہ اس دن تو جو شخص اللہ کی وحدانیت میں پورا اترا اور اس کا خالص نیت کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو اس کی یہ سب مشکلیں اللہ تعالیٰ آسان کر دے گا اپنے اپنے خالص عمل کے موافق کوئی ایسا ہوگا کہ جس کا ایک کلمہ توحید کے ثواب کا بوجھ سب بدیوں پر غالب آجاوے گا پل صراط پر سے کوئی بجلی کی چمک کی طرح گزرے گا کوئی ہوا کی طرح کوئی تیز گھوڑے کی طرح کسی خالص توبہ کا اثر یہ ہوگا کہ اس کے گناہ نیکیوں سے بدل دیئے جائیں گے حساب آسانی سے ہوجاوے گا ہر بات کی کرید نہ نکالی جاوے گی الغرض آخرت میں ہر طرح سے اللہ کی وحدانیت اور نیک عمل کا سودا ہے مشرکین مکہ میں سے جو لوگ اس سے غافل ہیں ان کو قبر میں دفن ہونے کے وقت سے حسرت اور ندامت شروع ہوگی اور قیامت تک وہی حسرت اور ندامت باقی رہے گی صحیح بخاری ابوداؤد اور ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قبر میں دفن عمل کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو اس عذاب سے بچا دیا اور بدعمل شخص کو جنت دکھا کر یہ کہتے ہیں کہ تیری بدعملی کے سبب سے یہ راحب کا مقام تیرے ہاتھ سے جاتا رہا اس وقت بدعمل شخص کو بڑی حسرت ہوتی ہے ترمذی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر شخص آخرت میں ایک طرح کی ندامت بھگتے گا بدعمل شخص کو یہ ندامت ہوگی کہ وہ بدعملی نہیں کئے جو زیادہ بڑا درجہ ملتا اس حدیث کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبد اللہ ؓ کو اگرچہ بعضضے علماء نے ضعیف قرار احمد (رح) کے استاد ہیں اور راویوں کے باب میں ان کے قول کا بڑا اعتبار ہے۔ علی بن مدینی ان کی اس باب میں بڑی تعریف فرمایا کرتے تھے یہ ابوسعید القطان امام شافعی (رح) کے مرتبہ کے ثقہ تبع ستابعین ہیں اپنے وقت کے امام ہیں اور حدیث کی سب کتابوں لیکن اگر تا بہ مقدور آدمی عمل کر کے اللہ کی رحمت کا امیدوار ہے تو اس امید واری کا مضائقہ نہیں نہ یہ کہ تمام عمر اللہ تعالیٰ کے خلاف مرضی ہمیشہ کام کرے اور اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی بہبودی کی امیدیں رکھے اس کی عقل ٹھکانے نہیں ہے آگے فرمایا جس دن کے آنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں سے کیا ہے شیطان کے بہکانے سے دنیا کی زندگی کے بھروسہ پر اس دن کو بھول جانا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے کیوں کہ معمولی عقل کا آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد نیک وبد کی جزو سزا کے لیے ایک دن مقرر نہ ہوتا تو دنیا کا اتنا بڑا انتظام بےٹھکانہ قرار پاتا اور اس طرح کا بےٹھکانہ کام اللہ تعالیٰ کی شان سے بہت بعید ہے۔ غین کے زبر سے غرور اس چیز کو کہتے ہیں جو آدمی کو بہکادے سب سے بڑا بہکانے والا انسان کا شیطان ہے اس لیے اکثر سلف نے یہاں غرور کے معنے شیطان کے کئے ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تتعالیٰ فرمایا انسان کی عقل کے برخلاف میں نے اس کو ایک قطرہ پانی سے پیدا کیا پھر شیطان کے بہکانے سے دنیا کی زندگی کے نشہ میں انسان اپنی خلاف عقل پیدائش کو بھول کر حشر کے قائم ہونے میں عقلی حجتیں جو نکالتا ہے یہ اس کی بڑی نادانی ہے۔ یہ حدیث آیت کے اس آخری ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔
(1 ؎ مثلا دیکھئے مشکوٰۃ ص 502 باب صفۃ النار و اہلہا بروایت حضرت انس ؓ
Ayah 31:3434۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں مجاہد کی روایت 4 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص دیہاتی آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ میری بی بی حاملہ ہے بتلاؤ لڑکا پیدا ہوگا یا لڑکی اس گاؤں میں میں رہتا ہوں وہاں مینہ کم برستا ہے بتلاؤ وہاں مینہ کب برسے گا اور یہ بتلاؤ کہ میں کب تک جیوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی صحیح بخاری مسند امام 1 ؎ احمد وغیرہ میں جو حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جن پانچ چیزوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ غیب کی کنجیاں ہیں سوائے اللہ اللہ تعالیٰ کے ان پانچ چیزوں کو اور کوئی نہیں جانتا مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور عبداللہ بن عمر ؓ سے روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اللہ روایت سے ہوتی ہے جس میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ایک سائل کی صورت بن کر آنحضرت ﷺ سے دین کے کی چند نشانیاں بتلا کر یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ جس سے یہ بات پوچھی جاتی ہے اور جو یہ بات پوچھتا ہے وہ دونوں اس بات کے جواب میں یکساں انجان ہیں غرض اس آیت میں جو پانچ باتیں ہیں وہ ایسی باتیں ہیں مثلا جب تک مینہ برسنے یا ماں کے پیٹ میں لڑکا یا لڑکی قرار پانے کا وقت نہیں آتا اور اللہ کا حکم نہیں ہوتا کسی کو کچھ حال معلوم نہیں ہوتا کہ مینہ کس وقت برسے گا یا بچہ کب پیدا ہوگا سورة الجن میں آوے گا کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے کچھ غیب کا حال بتلا دیتا ہے حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ سوا ان پانچ باتوں کے اور غیب کی باتوں سے اللہ تعالیٰ رسولوں کو بذریعہ وحی کے اور اولیا کو بذریعہ الہام اور خواب کے واقف کار کردیتا ہے جس طرح گزشتہ زمانہ کے علم غیب کے طور پر حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک کا حال اور آیندہ زمانہ کے علم غیب کے طور پر دنیا کا قیامت تک کا حال اور عذاب قبر دوزخ جنت حساب و کتاب بتلایا اسی طرح امت میں کے بعضے ولیوں کو الہام اور خواب کے طور پر کچھ غیب کا حال کبھی معلوم ہوجاتا ہے لیکن جس طرح وحی کی حفاظت شیطان کے مغالطہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے کی جاتی ہے جس کا ذکر سورة جن میں آوے گا اس طرح کی حفاظت الہام اور خواب ظاہر شریعت کے مخالف ہو وہ ظاہر شریعت میں صحیح نہیں قرار دیا جاتا ہے اور مجتہد کے اجتہاد کا بھی یہی حال ہے اجتہاد میں غلطی کا گمان موجود ہے اسی واسطے جن شرائل کی پابندی عرف شرع میں مجتہد کے لیے قرار دی گئی ہے اور ان میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ مجتہد احکام شریعت اور ناسخ منسوخ سے خوب ماہر ہوتا کہ اس کا کوئی مسئلہ قیاسی کسی ظاہر حکم شریعت کے مخالف پڑے زیادہ تفصیل علم غیب کی انشاء اللہ سورة جن میں آوے گی اس آیت کے متعلق اسی قدر صراحت کافی ہے کہ جو غیب کی بات رسول ﷺ صاحب وحی کی وحی کے ذریعہ سے یا ولی کو الہام یا خواب کے ذریعہ سے یا مجتہد کو اجتہاد کے ذریعہ سے معلوم ہوتی ہے وہ ان پانچ باتوں کے ماسوا ہے جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ صاحب کشاف اور معتزلی فرقہ کے اور لوگوں نے سورة الجن کے آیت کے ٹکڑے الامن ارتضی من رسول سے یہ مطلب نکالا ہے کہ ولی لوگ رسول نہیں ہیں اس واسطے غیب کی کوئی خبر کسی ولی کو الہام کے طور پر نہیں معلوم ہوسکتی اس بات کو غلط ٹھہرانے کے لیے حافظ ابن حجر (رح) نے اہل سنت کے مذہب کے موافق آیت کی تفسیر میں اولیاء اللہ کے اہلام کا ذکر بھی کیا ہے کیوں کہ صحیح حدیثوں میں اولیاء اللہ کے الہام کا ذکر آیا ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ روایت 1 ؎ میں آنحضرت ﷺ نے پہلی امتوں کے صاحب الہام لوگوں کا اور حضرت عمر ؓ کا بھی ان میں سے ہونے کا ذکر فرمایا ہے حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت سے لوگوں کو بہت ڈرنا چاہئے کیوں کہ وہ بیخبر ی میں رات کو دن کو کسی کو ملعوم نہیں کہ کب آجاوے اور یہ قیامت کے آنے کی گھڑی کی بیخبر ی ایسی ہے جیسے ان لوگوں کہ آنکھوں کے سامنے کی بات ہے کر مینہ کے برسنے کا پیٹ کے بچے کے لڑکا یا لڑکی کے ہونے کا کل کیا ہوگا اس کا وطن یا سفر کی اپنی موت کا کچھ حال سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔
(4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 455 ج 3)
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 455 ج 3۔ )