32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 32:1–4

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 32:2 in the Quran reader

اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ۚ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 32:3 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو ازخود بنا لیا ہے ؟ (نہیں) بلکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تاکہ تم ان لوگوں کو ہدایت کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ راستے پر چلیں

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا شَفِیْعٍ١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 32:4 in the Quran reader

خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا اس کے سوا تمہارا نہ کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ؟

1 تا 4۔ آلمہ۔ حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کا ذکر سورة بقر میں گزر چکا ہے۔ دیب شک کو کہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے رب العالمین کی طرف سے اترنے میں کچھ شک نہیں ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے مشرک لوگوں کا حال بیان فرمایا کہ شرک یہ جو کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے اس قرآن شریف کو آپ بنالیا ہے۔ یہ ان کا گمان بالکل غلط ہے بلکہ وہ حق ہے پروردگار کی طرف سے اترا ہے تاکہ تو ڈراوے ان لوگوں کو کہے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرسنانے والا نہیں آیا شاید وہ ہدایت پاویں الور حق کی پیرویکریں پھر کہا اللہ وہ ہے کہ جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان میں ہے چھ 6 روز میں پھر عرش پر قائم ہوا اس کے متعلق مفصل بیان سورة الا عراف میں گزر 1 ؎ چکا ہے (1 ؎ صفحہ 262 جلد دوم) پھر فرمایا کہ اس خدا کے سوا تمہارا کوئی کام بنانے والا نہیں اور بغیر رضا مندی اس کی کے کوئی مہارا سفارشی ہے بلکہ وہی پروردگار تمام کاموں کا مالک اور ہر چیز کا تدبیر کرنے والا ہے اس کے سوا اس کی مخلوق کا کوئی کام بنانے والا اور سفارش کرنے والا نہیں اس کی ذات سب سے برتر اور پاکیزہ ہے کوئی اس کا مثل اور ساجھی اور اس کے مرتبہ کے برابر نہیں ہے صحیح مسلم اور مسند امام احمد میں ابوہریرہ ؓ کی جو ایک روایت ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ کون سی چیز کس دن پیدا کی گئی۔ سورة اعراف میں گزر 2 ؎ چکا ہے (2 ؎ ص 262 جلد دوسری طبع ہذا۔ ) کہ وہ حدیث نبوی نہیں ہے بلکہ کعب بن احبار کا قول ہے اور اس قول کے موافق سب چیزوں کی پیدایش سات روز میں ٹھہرتی ہے اس واسطے امام بخاری وغیرہ نے اس قول کو آیت کے مخالف اور قابل اعتراض قرار دیا ہے۔ سورة الا عراف میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی استویٰ علی العرش کی صفت ایک آیت آیات متشابہات میں سے ہے 3 ؎ اور صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی وہ حدیث بھی گزر چکی ہے (3 ؎ لغوی اور شرعی معنی کے اعتبار نہیں بلکہ اپنی اپنی سمجھ کے اعتبار سے کیونکہ لغۃ اور شرعا استویٰ عیی کے معنی علا (یعنی اوپر ہوا) کے ہیں (ع ‘ ح) جس میں آنحضرت ﷺ نے متشابہ آیتوں کی تاویل سے منع فرمایا ہے اس واسطے سلف (رح) کے نزدیک استویٰ علی العرش کے معنے یہی ہیں کہ جس طرح سے عرش پر ہونا اللہ تعالیٰ کے شان کے مناسب ہے اسی طرح سے بلامشا بہت دنیا کی کسی چیز کے اللہ تعالیٰ عرش پر ہے جس کا تفصیل اور کیفیت اسی کو معلوم ہے حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں اہل مکہ کو یہ تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ جب تم لوگ قرآن کے موافق کچھ آیتیں ایسی بنا کر نہیں پیش کرسکتے جس میں قرآن کی سی فصاحت اور غیب کی سچی خیریں ہوں تو آخر محمد ﷺ بیی تم جیسے بشر ہیں تم لوگوں کو اتنا سوچنا چاہئے کہ بغیر تائید غیبی کے وہ یہ قرآن کیوں کو بنا سکتے ہیں اس لیے اس قرآن میں آسمان و زمین کی غیب کی خبروں کا پایا جانا یہ اسی کے کلام کی شان ہے دوسرے کی کیا طاقت ہے کہ وہ ایسا کلام بنا سکتا ہے اور جس وقت سے تمہارے بڑوں نے ملت ابراہیمی کا بگاڑ کر بت پرستی کو اپنا دین ٹھہرالیا ہے اس وقت سے کوئی رسول کتاب آسمانی لے کر اس بت پرستی کے وبال سے ڈرانے کے لیے تمہارے پاس نہیں آیا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے تمہاری انجانی کو رفع کرنے اور بت پرستی کے وبال سے تمہیں ڈرانے کے لیے یہ قرآن نازل فرمایا ہے یہ بھی تم کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح پر پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو لائق عبادت بھی وہی وحدہ لاشریک ہے پھر جو کوئی اس کے سوا کسی غیر کی عبادت کرے گا تو وہ عذاب الٰہی میں پکڑا جائے گا اور عذاب الٰہی سے بچانے والی کوئی حمایتی ایسے شخص کو آسمان و زمین میں نظر نہ آوے گا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو انجانی کے عذر کا رفع کردینا بہت پسند ہے اسی واسطے اس نے آسمانی کتابیں دے کر رسولوں کو بھیجا ان روایتوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک مدت سے مکہ میں بت پرستی پھیل کر شرک کی خرابی کو اہل مکہ نہیں جانتے تھے اس لیے ان کے انجانی کے عذر کو رفع کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے آخر الزمان کو رسول کر کے بھیجا اور ان پر قرآن نازل فرمایا۔
Ayah 32:5

یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 32:5 in the Quran reader

وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے پھر وہ ایک روز جس کا مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا

5۔ بعضے مفرسروں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس آیت میں ہزار برس کا عرصہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے اور سورة معارج پچاس ہزار برس کا عرصہ ذکر فرمایا ہے ان دونوں آیتوں میں موافقت کی کیا صورت ہے پھر اس اعتراض کا کئی طرح سے جواب 1 ؎ دیا ہے (1 ؎ یہ پورا مبحث فتح البیان ص 571 ج 3 (طبع ہند) میں ہے (ع ‘ ح) لیکن اوپر گزر چکا ہے کہ تفسیر کے باب میں حضرت عبداللہ اللہ بن عباس ؓ کے ش اگر دمجاہد کے قول کا بڑا اعتبار یہ اس لیے مجاہد کا قول ذکر کیا جاتا ہے مجاہد جو موافقت اندونوں آیتوں کی بتائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دنیا کے انتظام کے لیے طرح طرح کے حکم ہوتے ہیں عرش معلیٰ سے آسمان بہ آسمان وہ حکم دنیا کے آسمان تک آن کر دنیا کے آسمان کے فرشتے زمین پر اس حکم کے موافق تعمیل کردیتے ہیں اور تعمیل کی اطلاح کے لیے پھر فورا اول آسمان پر چڑھ جاتے ہیں اور اسی طرح وہ اطلاع عرش معلیٰ تک پہنچ جاتی ہے اس طرح سب سے اول دنیا کے آسمان کے فرشتے زمین سے آسمان تک آنے جانے میں ہزار برس کے فاصلہ کو طے کرتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ پچاس ہزار کا فاصلہ عرش معلیٰ تک طے ہوتا ہے اور یہ سب کچھ دن کے دن ہوجاتا ہے جس کی گنتی ایک حساب سے ہزار برس کی ہے اور ایک حساب سے بچ اس ہزار برس کی غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمین سے دنیا کے مسلمان تک کی مدت ذکر فرمائی ہے اور سورة معارج میں عرش معلیٰ تک کی مدت کا ذکر فرمایا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر ؓ وبن العاص کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے بچ اس ہزار برس پہلے دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا اپنے علم ازلی کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ لوح محفوظ میں لکھولیا ہے معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ لوح محفوظ کے نوشتہ میں سے ہر شب قدر کو سال بھر کے امور انتظامی کے نقل فرشتوں کو مل جاتی ہے اس کے موافق اللہ کے فرشتے سال بھر کے امور انتظامی کی نقل فرشتوں کو مل جاتی ہے اس کے موافق اللہ کے فرشتے سال بھر کا نتظام چلاتے ہیں 1 ؎ (1 ؎ یہ پورا مبحث فتح البیان ص 571 573 ج 3 (طبع ہند) میں ہے (ع ‘ ح) صحیح مسلم کے حوال سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ لوگوں کے دن کے تمام عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے فرشتے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش کردیتے ہیں۔ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے موافق ہر کام آسمان پر جو لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے اس میں کا سال بھر کا انتظام فرشتوں کی معرفت ہر سال زمین پر روز انہ آتا ہے اور اس کے موافق تعمیل ہو کر دن کے عملوں کا نتیجہ رات سے پہلے اور رات کے عملوں کا نتیجہ دن سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوجاتا ہے حالانکہ یہ فاصلہ آسمان دنیا تک ہزار برس کا اور عرش معلیٰ تک پچاس ہزار برس کا ہے۔ اس آیت میں مشرکین مکہ کو یہ سمجھایا گان ہے کہ جس طرح دنیا کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے اسی طرح دنیا کے تمام انتظام میں بھی اس کا کوئی یریک نہیں ہے باوجود اس کے جو لوگ غیروں کو اس کی تعظیم میں شریک کرتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں۔
Ayahs 32:6–11

ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُۙ Open ayah 32:6 in the Quran reader

یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب (اور) رحم والا (خدا) ہے

الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍۚ Open ayah 32:7 in the Quran reader

جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا

ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍۚ Open ayah 32:8 in the Quran reader

پھر اسکی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی

ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 32:9 in the Quran reader

پھر اسکو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم بہت کم شکر کرتے ہو

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 32:10 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ جب ہم زمین میں ملیا میٹ ہوجائیں گے تو کیا ازسر نو پیدا ہوں گے حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جانے ہی کے قائل نہیں

قُلْ یَتَوَفّٰىكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 32:11 in the Quran reader

کہہ دو کہ موت کا فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے پھر تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے

6 تا 11۔ دنیا کے بادشاہوں کے انتظام میں اس واسطے خامی رہ جاتی ہے کہ ان کو آئندہ کا غیب کا حال معلوم نہیں ہوتا برخلاف اس کے دنیا کے پیدا کرنے اور دنیا کی تدبیر کا انتظام الٰہی اس لیے پختہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے غیب اور ظاہر کا اور ایسا زبردست ہے کہ اس نے تمام چیزوں کو زیر کر رکھا ہے اور وہ انے ایمان والے بندوں پر مہربان ہے پھر فرمایا اللہ وہ ہے جس نے ہر چیز کی پیدائش کو اچھا بنایا اور پیدائش آسمان اور زمین کے بعد آدمی کی پیدائش کا اللہ نے ذکر اس طرح فرمایا کہ انسان کی پیدائش مٹی سے ہے مراد انسان سے حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں جو سب آدمیوں کے باپ ہیں ان کو اول اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی نسل کو نچوڑے ہوئے ناچیز پانی سے پیدا کیا جو پانی مرد کی پشت اور عورت کے سینہ سے نکلتا ہے پھر اس کو برابر سیدھے قد والا بنایا اور اس میں روح پھونکی اور کان اور آنکھیں اور دل سب کچھ دیا لیکن تم لوگ اللہ تعالیٰ کا تھوڑا شکر کرتے ہو مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے بدلہ میں تم تھوڑا شکر ادا کرتے ہو اب اللہ تعالیٰ اہل شرک کے آخرت کے جھٹلانے کے باب میں ارشاد فرماتا ہے کہ یہ مشرک لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم خاک میں مل جاویں گے تو کیا ہم نئی پیدائش سے پھر جلائے جائیں گے یہ بات عقل سے بعید ہے یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ بات ان کی کم زور طاقت کی نسبت تو بعید ہے لیکن خدا کی قدرت سے یہ بات ہرگز بعید نہیں کیوں کہ جب اس صاحب اور ان میں روح پھونک دنیا کیا مشکل ہے اس کی قدرت تو ایسی ہے کہ وہ جس چیز کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس کہ یہ حکم کرتا ہے کہ ہوجا پھر وہ چیز ہوجاتی ہے پھر فرمایا یہ مشرک اپنے پروردگار کے روبرو کھڑے ہونے سے جب منکر ہوں تو ان سے کہہ دیا جائے کہ ملک املوت تمہاری جان کو قبض کرے گا جو کہ تمہارے اوپر تعینات کیا گیا ہے پھر فرمایا تم دوبارہ جلائے جاؤگے اور اپنے پروردگار کے روبرو بعد نئی پیدایش کے اپنے عملوں کی جزاو سزا کے لیے حاضر کئے جاؤگے۔ ترمذی ابوداؤد اور صحیح ابن حبان کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی اللہ تعالیٰ نے تمام زمین سے لئے ہے اسی اثر سے اولاد آدم میں کوئی گوارا ہے کوئی کالا کوئی نیک مراج ہے کوئی بدمزاج۔ یہ حدیث وبداخلق الا نسان من طین کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ منکرین حشر تو بغیر ملونی کے خالص مصی کے پتلوں کے بن جانے اور ان میں روح کے پھونکے جانے کے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں لیکن اللہ کی قدرت تو وہ ہے کہ اس نے ایک ہی پتلا ایسا بنا دیا جو قیامت تک کے پتلوں کا نمونہ تھا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں ٹھہر کر جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر اس خون کو گوشت بن جاتا ہے اور ہڈیاں اس گوشت سے بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑہا دیا جاتا ہے غرض چار ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر پتلا تیار ہوجاتا ہے اور پھر اس میں اللہ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے۔ ان آیتوں میں اولادآدم کی پیدائش کا جو ذکر ہے۔ یہ حدیث گویا اس کے تفسیر ہے جس سے منکرین حشر سمجھ سکتے ہیں کہ جس صاحب قدرت کی قدرت کہ آگے انسان کی یہ مشکل پیدایش کچھ چیز نہ تھی اس کے قدرت کے آگے حشر کے دن مٹی کے پیتے بنا کر ان میں روح کا پھونک دنیا کیا مشکل ہے۔ مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گذر چکی 1 ؎ ہے (1 ؎ بحوالہ مشکوۃ کتاب الجنائز) کہ منکر نکیر کے سوال جواب کے بعد نیک آدمی کو اس کا جنت میں ٹھکانہ دکھا کر اللہ کے فرشتے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں رہنے کے لیے تجھ کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا اسی طرح بد آدمی کو دوزخ کا ٹھکانہ دکھا کر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ قیامت کے دن تجھ کو اس ٹھکانہ میں جانا پڑھ گے اور پھر ایسے شخص پر عذاب قبر شروع ہوجاتا ہے۔ اس حدیث سے تم الی ربکم ترجعون کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ منکریں حشر کو اللہ تعالیٰ کے روبرو تو قیامت کے دن کھڑا ہونا پڑے گا چناچہ ابوہریرہ ؓ کی معتبر روایت ترمذی کے حوالہ سے اور معاذبن جبل ؓ کی معتبر روایت مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے اس باب میں ایک جگہ از چکی ہے لیکن حشر کے پہلے بھی ان لوگوں کو مرنے کے ساتھ ہی حشر کا نتیجہ معلوم ہوجاتا ہے :
Ayahs 32:12–15

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ رَبَّنَاۤ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:12 in the Quran reader

اور (تم تعجب کرو) جب دیکھو کہ گنہگار اپنے پروردگار کے سامنے سر جھکائے ہوں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا تو ہم کو (دنیا میں) واپس بھیج دے کہ نیک عمل کریں بیشک ہم یقین کرنے والے ہیں

وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 32:13 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت دے دیتے لیکن میری طرف سے یہ بات قرار پاچکی ہے کہ میں دوزخ کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا

فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ۚ اِنَّا نَسِیْنٰكُمْ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:14 in the Quran reader

سو (اب آگ کے) مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا (آج) ہم بھی تمہیں بھلا دیں گے اور جو کام تم کرتے تھے انکی سزا میں ہمیشہ کے عذاب کے مزے چکھتے رہو

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں کہ جب ان کو ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور غرور نہیں کرتے

12 تا 15۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد ہے کہ اب تو منکرین حشر دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے سے منکر ہیں لیکن جب مرتے ہی ان کو حشر کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اور اس نتیجہ کے ظہور کے لیے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو ان کا اس وقت کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ وہ اپنے رب کے روبرو حقیرو ذلیل ہو کر کھڑے ہوں گے اور شرم کے مارے گردنوں کو نیچا کر کے زبان سے کہیں گے کہ اے پروردگار ہمارے ہم نے اور سنا اب ہم تیرے حکم کو مانتے ہیں دیکھا اور سنا کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا اور رسولوں کے بیان کی صداقت یا اللہ خود تیری زبان سے بالمشافہ سن لی پھر کہیں گے بھیج دے دوبارہ اے پروردگار ہم کو دنیا میں ہم نیک عمل کریں گے کیونکہ اب ہم کو یقین ہوگیا تیرا وعدہ سچا اور برحق ہے لیکن خدا تعالیٰ کو معلوم ہے اگر ان کو پھر دنیا میں بھیج دیا جائے تو وہ پہلے کی طرح پھر کفر کریں گے خدا کی آیتوں اور رسولوں کو جھٹلادیں گے جیسا کہ سورة انعام میں گزر چکا ہے ولو ترا اذ وقفوا علی النار فقالوا یالیتنا نردو ولانکذب بایات ربنا ونکون من المؤمنین بل بدا لھم ما کانوا یخفون من قبل ولوردوا لعادوا لمانھوعنہ وانھم لکاذبون جس کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اگر تم دیکھوں ان لوگوں کو جبکہ وہ کھڑے کئے جاویں گے دوزخ پر تو کہیں گے (اے کاش) ہم بھیج دئے جاویں دنیا کی طرف تاکہ ہم ایمان لانے والوں میں سے ہوجاویں یہ بات وہ لوگ اس لیے کہیں گے کہ ان کو ظاہر ہوجاوے گا کہ دنیا جس سے روکے گئے ہیں کیونکہ دوزخ کو دیکھ کر یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں پھر فرمایا اگر ہم چاہتے تو ہر ایک شخص کو ہدایت دیتے جاوے گا اور جب انہیں دوزخ میں جھونکا جاوے گا تو تبنیہ کے طور پر اہل دوزخ سے کہا جاوے گا یہ چکھو عذاب بسبب اس کے کہ بھول گئے تم اس دن کو اور بعید جانتے تھے اس کو اس لیے ہم نے بھی بھلا دیا تم کے مطلب یہ کہ ہم بھی وہ معاملہ تمہارے ساتھ کریں گے جو بھلا دینے والے سے ہوتا ہے پھر فرمایا چکھو عذاب ہمیشہ کا بہ سبب اس کے کہ تھے تم دنیا میں برے گر پڑتے ہیں مطلب یہ کہ وہ قرآن کی آیتوں کو کان لگا کہ سنتے ہیں اور ہر ایک امر میں اس کی تابعداری کرتے ہیں وسجو ابحمد ربھم وھم لایستکبرون اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکی بیان کرتے ہیں اپنے پروردگار کی اس کی خوبیوں کے ساتھ اور تکبر اور بڑانی نہیں کرتے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے جس دانسان جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کریں گے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی وہ حدیث بھی گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے جنات اور انسان علم الٰہی میں دوزخ کے قابل قرار پاچکے ہیں دنیا کی زندگی بھر قرآن کی نصیحت ان کے حق میں ایسی رائگاں ہے جیسے برڑ زمین میں مہنے کا پانی رائگاں جاتا ہے جس سے مرتے دم تک وہ راہ راست پر نہ آویں گے اور مجبور کر کے انہیں راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے اس لیے دوبارہ زندہ ہونے اور دوزخ کو آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد وہ اپنی اس حالت پر پچتاویں گے اور دنیا میں دوبارہ آن کر راہ راست پر زندگی بسر کرنے کے تمنا ظاہر کریں گے لیکن یہ بےوقت کی تمنا ان کے کچھ کام نہ آوئے گی اسی طرح علم الٰہی میں جو لوگ نیک قرار پاچکے ہیں وہ قرآن کی نصیحت کے موافق عمل کر کے قیامت کے دن جنت میں داخل ہوں گے ‘ معتبر سند سے تفسیر ابن منذر میں حضرت علی ؓ 1 ؎ سے اور مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ سے جو روایتیں ہیں (1 ؎ حضرت علی ؓ کا قول الدر المنثور ص 171 ج (5) میں بحوالہ ابن ابی شیبہ ہے) ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورة میں وھم لا یستکبرون پر سجدہ کرنا تاکیدی ہے ‘ تلاوت کے سب سجدے جمہور کے نزدیک سنت ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک واجب ہیں زیادہ تفصیل ہر ایک مذہب کی فقہ کی کتابوں میں ہے۔
Ayah 32:16

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور امید سے پکارتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

16۔ جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت تہجد کی نماز کی شان میں اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے اور اس قول کی تائید بھی حضرت معاذبن جبل کی اس روایت سے ہوتی ہے جس کو امام احمد ترمذی نسائی ابن ماجہ حاکم بیہقی نے روایت کیا ہے ترمذی اور حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 459 ج 3 و تفسیر الدر النثور ص 175 ج 5۔ ) حاصل اس روایت کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ؓ معاذ بن جبل سے چند نیک کاموں کا ذکر فرما کر پھر فرمایا کہ تہجد کی نماز تو ایسی چیز ہے جس کے ثواب کا بیان نہیں ہوسکتا اور پھر آپ نے یہ آیت پڑھی تفسیر ابن مردو یہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت بھی حضرت معاذبن جبل ؓ کی روایت کے موافق ہے ترمذی کی دوسری روایت جو انس بن مالک ؓ سے ہے اور مسند بزار کی حضرت بلال کی روایت جن دونوں روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ عشا کی نماز کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ان دونوں روایتوں کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تہجد کی نماز اکثر لوگوں پر شاق ہے اسی طرح کچھ لوگوں پر تہکان اور نیند کے سبب سے عشا کی نماز بھی شاق ہے اس لیے عشا کی نماز کی شان میں بھی اس آیت کا مطلب پایا جاتا ہے اوپر یہ بیان ہوچکا ہے کہ ایک آیت کا مطلب جہاں جہاں صادق آتا تھا تو صحابہ ؓ کا یہ دستور تھا کہ ان سب حالتوں اور شکلوں کو اس آیت کی شان نزول قرار دیا کرتے تھے حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی صحیح روایت کی وجہ سے قوی شان نزول تودہی ہے جو جمہور مفسرین نے بیان کیا ہے باقی روایتوں اوراقوال مفسرین کا مطلب یہ ہے کہ اور نمازوں پر بھی آیت کا مضمون صادق آتا ہے۔ اوپر جن ایماندار لوگوں کا ذکر تھا کہ وہ قرآن کی نصیحت کا کان لگا کر سننے ہیں اور احکام الٰہی کے تابع ہیں یہ انہی کا ذکر فرمایا کہ جب اور لوگ آرام سے سوتے ہیں تو یہ لوگ اپنے چھونے کو خالی چھوڑ کر غذاب عقبیٰ کے حوف اور راحت عقبیٰ کی امید سے تہجد کی نماز پڑھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنی مغفرت کی دعا مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ان کو دیا ہے اس میں سے صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں۔
Ayah 32:17

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے کیسی آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ ہے جو وہ کرتے تھے

17۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 1 ؎ فرمایا کرتے تھے (1 ؎ تفسیر معالم التنزیل زیر تفسیر آیت ہذا۔ ) کہ یہ آیت قرآن شریف میں ایسی ہے جس کی تفسیر انسان سے نہیں ہوسکتی اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی تائید اس صحیح حدیث قدسی سے ہوتی ہے جس کو امام بخاری ومسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ کیا ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر (ص 460 ج 3) وغیرہ) جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے اپنے بعضے نیک بندوں کے لیے جنت وہ وہ نعمتیں رکھی ہیں جو کسی نے نہ آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل میں ان کا تصور گزر سکتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ جب یہ حدیث آنحضرت ﷺ سے روایت کیا کرتے تھے تو ساتھ اس کے اس آیت کو بھی پڑھا کرتے تھے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہ حدیث آیت کی تفسیر ہے اب جو بات آدمی نے نہ آنکھوں سے دیکھی ہو نہ کانون سے سنی ہو نہدل میں اس کا تصور گزر سکتا ہو تو ایسی بات کو انسان قلم یا زبان سے کیوں کر ادا کرسکتا ہے اسی واسطے امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس نے یہ فرمایا کہ اس آیت کی تفسیر انسان کے اختیار سے باہر ہے کیوں کہ خود صاحب وحی ﷺ نے حدیث قدسی میں یہ فرمایا ہے کہ اس آیت کی تفسیر کا سمجھنا انسان کے و کی منصوبہ سے باہر ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جن ایماندار لوگوں کے نیک عملوں کا اوپر کی آیتوں میں ذکر تھا اس آیت میں ان عملوں کی جزا کا یہ ذکر ہے اور اوپر کی حدیث قدسی اس جزا کی تفسیر ہے۔
Ayahs 32:18–20

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا جو مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو نافرمان ہو ؟ دونوں برابر نہیں ہوسکتے

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے (رہنے کے) لئے باغ ہیں یہ مہمانی ان کاموں کی جزا ہے جو وہ کرتے تھے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کے رہنے کے لئے دوزخ ہے جب چاہیں گے کہ اس میں سے نکل جائیں تو اس میں لوٹا دئیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ دوزخ کے عذاب کو تم جھوٹ سمجھتے تھے اس کے مزے چکھو

18 تا۔ 20۔ اس آیت شریف میں اللہ تعالیٰ اپنے عدل اور انصارف سے آگاہ فرماتا ہے کہ کیا وہ شخص جو خدا کی آیتوں کی تصدیق اور رسولوں کی فرمانبرداری کرتا ہے قیامت کے روز مانند اس شخص کے ہے جو کہ خدا کا نافرمان ہے ہرگز دونوں برابر نہیں ہوسکتے کیوں کہ جنہوں نے اچھے کام کئے ان کے لیے باغ رہنے کے لیے ہیں جن میں بالا خانے ہیں بہ سبب کہ اس کا بدلہ ہے وہ دنیا میں نیک عمل کرتے تھے اسی طرح جن لوگوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے پھر جب وہ اس آگ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے تو اسی کے اندر پھر ڈال دئے جاویں گے ‘ اور ان سے کہا جائے گا کہ وہی آگ ہے جس کو تم دنیا میں جھٹلاتے تھے اس لیے اب اسی اس کا مز چکھو ‘ معتبر سند سے مسند امام احمد اور مسند بزار میں بابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کم سے کم دوزخ کا عذاب جس بھی 1 ؎ ہے (1 ؎ الترغیب والترہیب ص 487 ج 4۔ فصل فی قفاد تہم فی العذاب وذکر اہو نہم عذابا۔ ) اور معتبر سند سے اسی مضمون کو ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت طبرانی میں بھی ہے صحیح مسلم اور مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایتیں 2 ؎ ہیں (2 ؎ ایضا فصل فیمالا دنی اہل الجنۃ فیہاص 501‘ 506 ج 4) جن میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ادنیٰ اہل جنت کو تمام دنیا سے دس گنا لساز و سامان دے دیا جائے گا ان حدیثوں سے اہل دوزخ اور اہل جنت کے برابر نہ ہونے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
Ayahs 32:21–22

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کو (قیامت کے) بڑے عذاب کے سوا عذاب دنیا کا بھی مزہ چکھائیں گے شاید (ہماری طرف) لوٹ آئیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس کو اس کے پروردگار کی آیتوں سے نصیحت کی جائے تو وہ ان سے منہ پھیر لے ہم گنہگاروں سے ضرور بدلہ لینے والے ہیں

21‘ 22 تفسیر سدی تفسیر عطاء بن یسار اور تاریخ ابن عسا کر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس سے جو شان نزول ان ہوگئی ولید نے حضرت علی ؓ سے کہا تم میرے آگے کے بچے ہو میں تم کو کیا سمجھتا ہوں حضرت علی ؓ نے ولید کو جواب دیا تو خدا کا منکر کافر ہے میں تجھ کو کیا سمجھتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتیں نازل فرما کر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک کافر اور ایماندار لوگ برابر نہیں ہوسکتے ایمانداروں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ وہ نعمتیں رکھی ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا کہ نہ کی آنکھوں نے دیکھیں نہ کانوں نے سنی اسی ذکر میں اب یہ فرمایا کافروں کے لیے دنیا میں بھی دیکھ بیماری تنگی قحط سالی یہ طرح طرح کے عذاب ہیں تاکہ وہ پنے کفر سے باز آویں اس پر نہ ان کو موت ہے نہ کہیں بھاگنے کا موقع ہے کس لیے کہ ان ظالموں کو اب اللہ کے کلام سے اللہ کے رسول نصیحت کی باتیں سناتے ہیں تو یہ لوگ مکڑائیاں کرتے ہیں مرنے کے بعد ان کی مکڑا ئیوں کا بدلہ ان کو اچھی طرح مل جاوے گا۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گر چکی ہے کہ جب مشرکین مکہ نے قرآن کی نصیحت کے سننے سے بہت مکڑائی کی تو اللہ کے رسول ﷺ نے نے ان پر قحط کی بلا نازل ہونے کی بددعا کی اور آپ کی بدعاء سے مکہ ایسا قحط پڑا کہ مکہ کے لوگ مردہ جانوروں کی ہڈیاں تک کھاگئے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے کہ بد کی لڑائی میں جب کا اللہ تعالیٰ کا وعدہ تم لوگوں نے سچاپا لیا قرآن شریف کی نصیحت کے سننے سے مکڑائی کرنے والوں سے دنیا اور عقبیٰ کے عذاب کا وعدہ جو ان آیتوں میں تھا اس وعدہ کے ظہور کی یہ حدیثیں گویا تفسیر ہیں۔
Ayahs 32:23–25

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تو تم اس کے ملنے سے شک میں نہ ہونا اور ہم نے اس (کتاب) کو (یا موسیٰ کو) بنی اسرائیل کے لئے (ذریعہ) ہدایت بنایا

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

اور ان میں سے ہم نے پیشوا بنائے تھے جو ہمارے حکم سے ہدایت کیا کرتے تھے جب وہ صبر کرتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا پروردگار ان میں جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے تھے قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا

23 تا 24۔ اگرچہ آنحضرت ﷺ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مابین کہ زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رسول ہوئے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نہیں مانتے اور حضرت موسیٰ اور تو راہ کو نصاریٰ لوگ مانتے ہیں اور یہود سے اور قریش سے بڑی دوستی تھی اور قریش یہود کو مانتے تھے اس واسطے بہ نسبت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر قرآن شریف میں زیادہ ہے تاکہ یہود نصاریٰ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر ہو یہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا ہے کہ قریش تینوں قوموں کے اوپر قرآن شریف کی نصیحت کا اثر یہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا ہے کہ قریش اس قصہ میں سے اس بات کو سمجھیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے نبی اور بادشاہ بنی اسرائیل میں ہوئے اب اب نبوت تو نبی آخرالز ماں کے بعد نہیں ہوسکتی لیکن قریش بھی اگر نبی آخرالز ماں کی فرما نبرداری اختیار کریں گے تو دین اور دنیا کی دولت پاویں گے اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے جو لوگ قریش میں سے اسلام لائے اور اللہ کے رسول کے فرمانبردار بن گئے جس طرح بارشاہت دنیا میں ان کو ملی اس سے تاریخ کی کتابیں بھری ہوئی ہیں اور جو مرتبہ ان کو عقبے میں ملے گا اس کے حال کے دو سچے گواہ دنیا میں پیدا ہوسکتیں ہے اب بھی جس کسی کو دین اور دنیا کی خوبی درکار ہو وہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی فرمانبرداری اختیار کرے پھر اللہ کے وعدہ کا ظہور جیسا جب تھا وہ اب بھی موجود ہے۔ صحیح مسلم میں (علیہ السلام) کو نماز بڑھتے ہونے دیکھا۔ صحیح بخاری ومسلم میں مالک بن صعصعہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوٰۃ باب فی المعراج فصل اول۔ ) کہ اللہ کے رسول ﷺ معراج کی رات چھٹے آسمان پر موسیٰ (علیہ السلام) سے ملے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے مشورہ کے موافق آپ نے پچاس نمازوں میں سے 45 نمازوں کی تخفیف کی اللہ تعالیٰ سے التجا کی اور آپ کو وہ التجا منظور ہو کر پچاس نمازوں کی جگہ پانچ نمازیں رہ گئیں جواب لوگ پڑھتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو موسیٰ (علیہ السلام) کی ملاقات میں یہ شبہ پڑا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تھوڑی دیر پہلے تو بیت المقدس کے راستہ میں نظر آئے تھے پھر ایسے جلدی مجھ سے پہلے وہ چھٹے آسمان پر کیوں کر پہنچ گئے۔ فلاتکن فی مریۃ من یقائہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے اسی شبہ کو رفع فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ظاہر کرنے کے لیے ایسی جلدی موسیٰ (علیہ السلام) کو ملک شام سے چھٹے آسمان پر پہنچا دیا اس لیے اے مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں سے بعضے لوگ اچھے ہوئے اور بعضے نہیں ہوئے جیسے مثلا نبی آخرالزمان ! تمہارے زمانہ کے بنی اسرائیل ہیں کہ انہوں نے آسمانی کتابوں کو بدل کر طرح طرح کا اختلاف دنیا میں پھیلا دیا پھر دیا پھر فرمایا کہ ان لوگوں کے اختلاف کا اور مشرکین مکہ نے ملت ابراہیمی میں جو اختلاف ڈال رکھا ہے اس کا قیامت کے دن پورا فیصلہ ہوجائے گا۔
Ayahs 32:26–28

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا ان کو اس (امر) سے ہدایت نہ ہوئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو جن کے مقامات سکونت میں یہ چلتے پھرتے ہیں ہلاک کردیا بیشک اس میں نشانیاں ہیں تو یہ سنتے کیوں نہیں ؟

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ بھی (کھاتے ہیں) تو یہ دیکھتے کیوں نہیں ؟

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا ؟

26 تا 28۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ یہ مشرک اللہ کے رسول کو جھٹلانے والے اتنا نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے جرم میں ان سے پہلے کتنی قو میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں ملک شام اور یمن کے سفر میں جن کی اجڑی ہوئی بستیاں یہ لوگ دیکھ چکے ہیں جس میں ان کے لیے ان رسولوں کے جھٹلانے والوں کے ہلاک ہونے اور ایمان والوں کے نجات پانے میں بہت سی نشانیاں اور نصیحتیں ہیں کیا یہ لوگ ان اجڑی ہوئی قوموں کا انجام نہیں سنتے اور عبرت نہیں پکڑتے پھر فرمایا کیا یہ نہیں دیکھا ان لوگوں نے کہ ہم ہانک لے جاتے ہیں پانی کی خشک زمین پر اور نکالتے ہیں بہ سبب اس پانی کے چارا اور غلہ اور پھل کہ ان کے جانور اور یہ خود کھاتے ہیں تو کیا وہ ان نعمتوں کا شکر نہیں کرتے اور اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہیں کرتے کیوں کہ وہ پروردگار ان سب چیزوں کے پیدا کرنے میں اکیلا ہے کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں ہے اس لیے اس کی عبادت میں بھی شریک ٹھہرانے کسی کو حق نہیں ہے پھر فرمایا کہ وہ مشرک مسلمانوں سے کہتے ہیں کب ہے یہ فتح تم کو ہم پر سچے ہو تو بتلاؤ۔ اس فتح سے مقصد قیامت کا دن ہے چناچہ اس کا ذکر آگے آتا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ شرک اور حشر کا انکار اللہ کے رسول کو جھٹلانا غرض جو جو عادتیں اہل مکہ میں تھیں قوم نوح سے لے کر قوم فرعون تک ان ہی عادتوں کی وہ قومیں گزری ہیں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئیں اس لیے قرآن شریف میں ان اجڑی ہوئی قوموں کے قصے جگہ جگہ ذکر کئے گئے ہیں تاکہ اللہ مکہ کو عبرہو اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت ان مشرکوں میں کے بڑے بڑے سرکشوں پر دنیا اور دین کے عذاب کی مفت جو آئی اس کا قصہ انس بن مالک ؓ کی صحیح بخاری اور مسلم کی حدیث کے حوالہ سے اور مکہ کے قحط کا قصہ صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث کے حوالہ سے سے یہ بھی گزر چکا ہے کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مہینہ برسے گا جس سے سب مرے ہوئے لوگوں کے جسم تیار ہوجاویں گے پھر ان میں روحیں پھونک دی جاویں گی اور حشر قائم ہوجاوے گا۔ قرآن شریف میں کھیتی کی مثال سے ایک تو مشرکوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت جتلائی گئی ہے جس کا ذکر اوپر گذرا دوسرے ان کے حشر کے انکار کو بےاصل ٹھہرایا گیا ہے کہ جس طرح اب مینہ کے پانی کے اثر سے ہر سال طرح طرح کی پیدا وار زمین سے نکل آتی ہے اسی طرح ایک مینہ کے پانی کے اثر سے ان منکرین حشر کے جسم زمین میں سے حشر کے دن نکل آویں گے اور ان میں روحیں پھونک دی جاویں گی خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح زمین میں سے ہر ایک طرح کی پیدا وار کے نکلنے میں انسان کی عقل کو کچھ دخل نہیں ہے یہی حال حشر کا ہے پھر زمین کی پیدا وار کا حال آنکھوں سے دیکھ کر حشر کا انکار کرنا اور اس میں عقلی حجتوں کو دخل دنیا بڑی نادانی ہے :
Ayahs 32:29–30

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو ان سے منہ پھیر لو اور انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

29‘ 30۔ تفسیر ابن جریر اور تفسیر سدی وغیرہ میں قتادہ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 179 ج 5۔ ) اس کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ ؓ آنحضرت ﷺ سے سن کر مشرک لوگوں سے کبھی کبھی بات چیت کے وقت کہا کرتے تھے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہوگا اور شرک سے مکہ بالکل پاک ہوجائے گا اور مسلمانوں کو مشرکوں کے شرک کا کھٹکا بالکل اور اس دوبارہ زندگی میں مسلمان عزت سے رہیں گے اور مشرک ذلت و خواری سے مشرک لوگ مسلمانوں کے جواب دیا کرتے تھے کہ آخر بتلاؤتو سہی کہ یہ کب اور کون سے دن ہوگا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی بعضے مفسروں نے اس فتح سے فتح بدر مرادلی ہے اور بعضوں نے فتح مکہ لیکن حافظ عماوالدین ابن کثیر اور اور مفسرین نے اس قول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ قرآن شریف کی اس آیت کے مضمون سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس فتح کا وقت اس طرح کا وقت ہوگا جس میں کا فرلوگوں کا ایمان مقبول نہ ہوگا فتح بدر اور فتح مکہ کے بعد تو ہزا رہا آدمیوں کا ایمان مقبول ہوا اس صورت میں صحیح تفسیر آیت کی وہی ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے مشہور شاگرد مجاہد (رح) نے کی ہے کہ اس فتح کے دن سے قیامت کا دن مراد ہے کہ اس دن اہل اسلام کی مغفرت ہوگی ان کی شفاعت قبول ہوگی ان کو جنت کی نعمتیں ملیں گی اور مشرک اس دن طرح طرح سے خوار ہوں گے اپنے کوئی ندامت کام آوے گی نہ ان کا اسلام لانے کا وعدہ قبول ہوگا اب آگے فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان منکرین حشر کی عقلی حجتوں کا کچھ خیال نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے موافق تم بھی اس دن کا انتظار کرو اور ان لوگوں کو بھی اس کا انتظار کرنا چاہیے وقت مقرہ پردہ دن سب کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی معتبر روایت اوپر گزر چکی ہے کہ منکر نکیر کے وسال جواب کے بعد ہر آدمی کو دوزخ کا ٹھکانہ دکھا کر اللہ کے فرشتے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں جانے اور رہنے کے لیے تجھ کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ مسند امام احمد اور صحیح بان حبان 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ سے معتبر روایت ہے (1 ؎ الرغیب والترہیب ص 382۔ ج 3 باب فی التفخ فی الصور و قیام الساعۃ۔ ) جس ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہوں گے کہ ایک دفعہ ہی صور ٹھونکا جاکر تمام دنیا کی عمر بھی مقرر ہے لیکن یہ بات تو علم الٰہی میں ٹھہر چکی تھی کہ مکہ کے ان منکرین قیامت میں سے کوئی شخص صور کے پھونکے جانے اور اصل قیامت کے قائم ہونے تک زندہ نہ رہے گا اس واسطے ان لوگوں کو قیامت کے انتظار کی تنبیہ جو آیت میں فرمائی گئی ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ جس طرح ان کے بڑے بوڑھے ان کی آنکھوں کے سامنے مرگئے اسی طرح یہ لوگ اپنی مت کا انتظار کریں دم نکلتے ہی ان کو معلوم ہوجائے گا کہ قیامت کے دن ان کا کام انجام ہونے والا ہے صحیح بخاری ومسلم کی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی جس کا حاصل یہ ہے کہ جب لوگ اللہ کے رسول ﷺ سے قیامت کا حال پوچھا کرتے تو آپ ایک نو عمر لڑکے کی طرف نظر ڈال کر یہ فرما دیا کرتے کہ اگر یہ لڑکا جیتا رہا تو یہ بوڑھا نہ ہونے پائے گا کہ اتنے میں تم لوگوں کی قیامت قائم ہوجائے گی۔ اس حدیث کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا جس کا حاصل یہ ہے کہ ان قیامت کا حال پوچھنے والوں کو آپ یہ جواب دیا کرتے تھے اس لڑکے کے بوڑھا ہونے سے پہلے موجودہ لوگوں میں سے اکثر لوگ مرجاویں گے اور مرتے کے ساتھ ہی ان میں سے ہر ایک کو اپنا قیامت کا انجام معلوم ہوجاوے گا۔ سورة سجدہ ختم ہوئی۔