33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 33:1–3

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللّٰهَ وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۙ Open ayah 33:1 in the Quran reader

اے پیغمبر خدا سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا بیشک خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے

وَّ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاۙ Open ayah 33:2 in the Quran reader

اور جو (کتاب) تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اسی کی پیروی کئے جانا بیشک خدا تمہارے سب عملوں سے خبردار ہے

وَّ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:3 in the Quran reader

اور خدا پر بھروسہ رکھنا اور خدا ہی کارساز کافی ہے

1 تا 3۔ ان آیتوں میں اللہ کے رسول اور امت کے لوگوں کو تقویٰ کا کافروں اور رمنا فقوں کے مشورہ کے نہ ماننے کا اور ہر کام میں اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم ہے تقویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر آدمی نافرمانی کو چھوڑدے اور ثواب کی امید پر اس کی عبادت کرے پھر فرمایا اللہ ہی اس کا مستحق ہے کہ اس کے حکموں کو مانو اور اس کی تابعداری کرو اور ہر کام میں اللہ ہی پر بھروسہ کرو کہ وہی بندوں کے سب کام بنانے والا انجام کار سے خبردار صاحب حکمت ہے ‘ مشرکین مکہ ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد مدینہ کے منافق جو بات کہتے تھے وہ اسلام کے برخلاف ہوتی تھی مثلا سورة الانعام میں گزر چکا ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی اور مدینہ کے منافقوں کی بات نہ ماننے کی جو نصیحت فرمائی ہے اس کی تفسیر ان قصص سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے اللہ پر بھروسہ رکھنے کی نصیحت جو ان آیتوں میں ہے اس پر عمل کرنے والے مسلمانوں کا دنیوں نتیجہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے عباس یہ تک کی خلافت ہے اور ایسے لوگوں کا آخرت کا نتیجہ صحیح بخاری کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ میں ہے (1 ؎ مشکوۃ باب التوکل والصبر فصل اول) کہ اس طرح کے ستر ہزار آدمیوں کی جماعت قیامت کے دن بغیر حساب و کتاب کے جنت میں جاویں گے۔ “
Ayahs 33:4–5

مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓئِیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ Open ayah 33:4 in the Quran reader

خدا نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری عورتوں کو جن کو تم ماں کہہ بیٹھتے ہو تمہاری ماں بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا یہ سب تمہارے مونہوں کی باتیں ہیں اور خدا تو سچی بات فرماتا ہے اور وہی سیدھا راستہ دکھاتا ہے

اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآئِهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْ١ؕ وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖ١ۙ وَ لٰكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:5 in the Quran reader

(مومنو ! ) لے پالکوں کو ان کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے اگر تم کو ان کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

4‘ 5۔ یہ آیتیں زید بن حارثہ ؓ کے باب میں اتری ہیں وہ حضرت ﷺ کے لیے پالک تھے حضرت ﷺ نے ان کو متبنیّٰ کرلیا تھا نبوت سے پہلے کے رواج کے موافق لوگ ان کو زید بن محمد ﷺ کے نام سے پکارتے تھے اللہ تعالیٰ کو یہ بات ناپسند معلوم ہوئی اس واسطے اس مصنوعی طریقہ کے توڑنے کا ارادہ فرما کر فرمایا کہ خدا نے تمہارے منہ بولوں کو تمہارا حقیقی بیٹا نہیں بنایا مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبدللہ بن عباس ؓ سے معتبر روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 466 ج 3۔ ) جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز پیغمبر ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور نماز میں آپ کو کوئی وسوسہ پیدا ہوا تو جو منافق آپ کے ساتھ نماز پڑ رہے تھے کہنے لگے ان کے دو دل ہیں ایک منافقوں کے ساتھ اور ایک ایمان والوں کے ساتھ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کہ کسی آدمی کے جسم میں اللہ تعالیٰ نے دو دل نہیں بنائے پھر فرمایا پکارو ان لے پالوں کو ان کے باپ کے نام سے کہ یہ انصاف کی بات ہے اللہ کے نزدیک پھر اگر تم نہ جانتے ہو ان کے باپوں کو تو وہ تمہارے بھائی ہیں دین میں امام بخاری اور مسلم رحمتہ اللہ علاہمد نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ زیدبن حارثہ کو ہم زید بن محمد… پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن شریف میں یہ آیت اتری اور اس حدیث کو ترمذی نسائی نے بھی کئی طریقہ 2 ؎ سے روایت کر کے کہا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ منہ بولے بیٹوں سے حقیقی بیٹوں کا سا برتاؤ کرتے تھے صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے بھی ایک روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ الدرالمنثور ص 181 ج 5) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لے پالک کا طریقہ زمانہ شرک کا ایک طریقہ ہے پہلے کی کسی شریعت میں اس کا کوئی حکم نہیں ہے پھر فرمایا اگر تم کسی کی نسبت میں چوک جاؤ اور انجانی سے ایک کے بیٹے کو دوسرے کا بیٹا کہہ دو تو تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں ہے گناہ تو اسی پر ہے جو جان بوجھ کر گناہ کا کام کرے رہی بھول چوک وہ معاف ہے ‘ مشرکین مکہ میں جس طرح لے پالک کہے پالنے گناہ تو اسی پر ہے جو جان بوجھ کر گناہ کا کام کرے رہی بھول چوک وہ معاف ہے ‘ مشرکین مکہ میں جس طرح لے پالک کہے پالنے کی رسم تھی جس رسم کے موافق آنحضرت ﷺ نے زیدبن حارثہ کو اپنالے پالک بیٹا بنایا تھا اسی طرح شرک کے زمانہ میں یہ بھی ایک رسم تھی کہ مشرک لوگ اپنی بی بی کو اپنی ماں کو پشت کے ساتھ تشبیہ دے کر انت علی کظھرامی کہا کرتے تھے اور اس عورت کو ہمیشہ کے لیے اپنے اوپر حرام ٹھہرالیا کرتے تھے قد سمع اللہ میں اس رسم کے موقوف ہوجانے کا ذکر تفصیل سے آوے گا یہاں مختصر طور پر اتنا ہی ذکر ہے کہ جس طرح آدمی کے جسم میں دو دل نہیں ہوتے اسی طرح نہ ماں کے کہنے سے بی بی ماں ہوسکتی ہے نہ لے پالک اجنبی باپ کا بیٹا ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں سعد بن ابی وقاص سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوٰۃ باب اللعان۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اجنبی شخص کو جان بوجھ کر باپ ٹھہرانا اتنا بڑا گناہ ہے جس سبب سے جنت سے آدمی محروم ہوجاتا ہے۔ لے پالک کی رسم کی ممانعت کے بعد شریعت کے بعد شریف میں اس ممانعت کی جس قدر تاکید ہے اس کی تاکید کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
Ayah 33:6

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِكُمْ مَّعْرُوْفًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 33:6 in the Quran reader

پیغمبر مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں ان سب کی مائیں ہیں اور رشتہ دار آپس میں کتاب اللہ کی رو سے مسلمانوں اور مہاجرین سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو (تو اور بات ہے) یہ حکم کتاب (یعنی قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے

6۔ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوٰۃ ص 12 کتاب الایمان ‘) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو اسی کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی ایمان والا نہیں بنے گا یہاں تکہ میں اس کی جان اور اس کے مال اور اولاد اور تمام لوگوں سے اس کے نزدیک زیادہ عزیز نہ ہوجاؤحضرت عمر ؓ نے عرض کیا 3 ؎ اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول آپ مجھ کو ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں (3 ؎ تفسیر ابن کثیرص 467 ج 3۔ ) یہاں تک کہ میری جان سے بھی آپ نے جواب دیا اے عمر ؓ ایمان اسی کو کہتے ہیں صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی اسی مضمون کی روایت 4 ؎ ہے (4 ؎ تفسیر فتح البیان ص 591 ج 3۔ ) جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اوپر کی حدیثوں کا مضمون بیان فرما کر آیت کے ٹکڑے النبی اولی بالمؤمنین من کی راحت کے لیے آدمی کبھی ایسے کام کر بیٹھتا ہے جو آدمی کو دین ودنیا کے وبال میں پھنسا دیتے ہیں اور اللہ کے رسول ہمیشہ وبال کے بھی زیادہ عزیز رکھے وازواجہ امھاتھم اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بیویاں اللہ کے رسول ﷺ کے نکاح میں آچکیں امت میں کے کسی مسلمان کو ان سے نکاح کرنا اسی طرح جائز نہیں ہے جس طرح سگی ماں سے نکاح کرنا حرام ہے ہاں سوا نکاح کے اور باتوں میں سگی ماں کا حکم الگ ہے مثلا سگی ماں اور بیٹے میں پر وہ کا حکم نہیں ہے یہاں باوجود نکاح کے حرام ہونے کے امت میں کے اجنبی مسلمانوں سے اللہ کے رسول کی بیویوں کو پردہ کا حکم ہے سگی ماں کے بہن سے نکاح حرام ہے یہاں وہ حکم نہیں ہے صحیح بخاری 5 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے (5 ؎ ص 999 ج 2 باب ذوی الارحام۔ ) کہ فتح مکہ سے پہلے مہاجرین کہ رشتہ دار جب تک مدینہ کو نہیں آئے تھے تو اللہ کے رسول ﷺ نے مہاجرین اور انصار میں دینی بھائی بندی کرادی تھی جس کے سبب سے مہاجرین وانصار میں وراثت بھی قائم ہوگئی تھی پھر جبمہاجرین کے رشتہ دار مدینہ میں آگئے تو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق آیت کے آخری ٹکڑے کی تفسیر یہ ہے کہ رشتہ داروں کے حصے وراثت کے طور پر سورة النساء میں ٹھہر چکے ہیں اس لیے عام مسلمانوں اور مہاجرین کی نسبت رشتہ دار زیادہ مستحق ہیں وراثت تو ان ہی کی قائم کی جائے اور دنبی بھائی بندی کے خیال سے ثلث مال تک کی وصیت اگر کوئی کرے تو اس کی مناہی نہیں ہے اونوالارحام کے ایک ایک معنے تو عام رشتہ داروں کے ہیں اور دوسرے معنے خاص ان رشتہ داروں کے ہیں جن کے رشتہ میں عورت کا واسطہ ہے مثلا جیسے نانا یا نواسہ آخری معنے کے اولوالارحام کی وراثت میں سلف کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے۔
Ayahs 33:7–8

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَهُمْ وَ مِنْكَ وَ مِنْ نُّوْحٍ وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١۪ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًاۙ Open ayah 33:7 in the Quran reader

اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے اور عہد بھی ان سے پکا لیا

لِّیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِهِمْ١ۚ وَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 33:8 in the Quran reader

تاکہ سچ کہنے والوں سے انکی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

7‘ 8۔ اس آیت میں انبیاء کے عہد کا جو ذکر ہے اس کی تفسیر سورة آل عمران میں گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم رواح میں ہر ایک پہلے نبی سے مابعد میں آنے والے نبی کے باب میں یہ عہد لیا ہے کہ پہلا نبی مابعد میں آنے والے نبی کا زمانہ پاوے تو اس مابعد کی شریعت پر ایمان لاوے اور اگر اس زمانہ کے پانے کی امید نہ ہو تو اپنی امت کو اس کے موافق وصیت کر جا وے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے زمانہ میں نماز روزے کے احکام بدلتے رہے ہیں ورنہ توحید الٰہی اور احکام الٰہی کی فرمانبرداری میں سب شریعتیں ایک ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ‘ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ ؓ سے روایتیں ہیں جن کا ذکر سورة البقر میں گزر چکا 1 ؎ ہے (1 ؎ ص 127۔ 128۔ جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد ﷺ یہ کے اور متیں اپنے نبیوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلاویں گے اور کہیں گے یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا حکم نہیں پہنچایا اس پر امت محمد ﷺ یہ کے نیک لوگ قرآن کے حوالہ سے ان نبیوں نے تیرے سب احکام اپی امتوں کو پہنچائے اسی گواہی پر فیصلہ ہو کر وہ نبیوں کے جھٹلانے والی امتیں دوزخ میں جاویں گی ان حدیثوں کو آیت کی تفسی میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ توحید الٰہی کی تاکید سلسلہ بہ سلسلہ جاری رہنے کے لیے انبیاء سے وہ عہد لیا گیا ہے جس کا ذکر آیت میں ہے اور آخر آیت میں جس سچی بات کی بابت سوال کئے جانے کا ذکر ہے وہ وہی سچ ہے جس پر امت محمد ﷺ یہ کی گواہی گزرے گی اور جن منکروں کا ذکر آخر آیت میں ہے وہی لوگ ہیں جو اپنے نبیوں کو دنیا میں جھٹلاتے رہے اور قیامت کے دن بھی جھٹلاویں گے حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا میں انبیاء کوشش سے اپنا کام کریں اور عقبیٰ میں اللہ تعالیٰ کے روبرو اپنے کام کی سچی حقیقت ظاہر کردیں اس واسطے انبیاء سے یہ عہد لیا گیا ہے اوپر ذکر تھا کہ رشتہ داروں کے حق دار ہونے کا حال لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے اس ذکر کو پورا کرنے کے لیے فرمایا کہ جس طرح رشتہ داروں کا حق دار ہونا لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے اسی طرح انبیاء ( علیہ السلام) کا عہد بھی لکھا گیا ہے۔
Ayahs 33:9–17

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

مومنو ! خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جو (اس نے) تم پر (اس وقت کی) جب فوجیں تم پر حملہ کرنے کو) آئیں تو ہم نے ان پر ہوا بھیجی اور ایسے لشکر (نازل) کئے جن کو تم دیکھ نہیں سکتے تھے اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان کو دیکھ رہا ہے

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

وہاں مومن آزمائے گئے اور سخت طور پر ہلائے گئے

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

اور جب منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہنے لگے کہ خدا اور اس کے رسول نے تو ہم سے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت کہتی تھی کہ اے اہل مدینہ (یہاں) تمہارے لئے (ٹھہرنے کا) مقام نہیں تو لوٹ چلو اور ایک گروہ ان میں سے پیغمبر سے اجازت مانگنے اور کہنے لگا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں حالانکہ وہ کھلے نہیں تھے وہ تو صرف بھاگنا چاہتے تھے

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اور اگر (فوجیں) اطراف مدینہ سے ان پر آ داخل ہوں پھر ان سے خانہ جنگی کے لئے کہا جائے تو (فوراً ) کرنے لگیں اور اس کے لئے بہت کم توقف کریں

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

حالانکہ پہلے خدا سے اقرار کرچکے تھے کہ پیٹھ نہیں پھیریں گے اور خدا سے (جو) اقرار (کیا جاتا ہے اس) کی ضرور پرسش ہوگی

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر تم مرنے یا مارے جانے سے بھاگتے ہو تو بھاگنا تم کو فائدہ نہیں دے گا اور اس وقت تم بہت ہی کم فائدہ اٹھاؤ گے

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا تمہارے ساتھ برائی کا ارادہ کرے تو کون تم کو اس سے بچا سکتا ہے یا اگر تم پر مہربانی کرنی چاہے (تو کون اس کو ہٹا سکتا ہے ؟ ) اور یہ لوگ خدا کے سوا کسی کو اپنا نہ دوست پائیں گے اور نہ مددگار

9 تا 17۔ یہ خندق کی لڑائی کا قصہ ہے جو لڑائی 5 ہجری میں ہوئی اس میں کافر قریب دس ہزار کے چڑھ آئے تھے ابوسفیان اس کا سپہ سالار تھا اسی وقت پیغمبر ﷺ نے مسلمانوں کو خندق کے کھودنے کا حکم کیا مسلمانوں نے بڑی محنت کی اور پیغمبر ﷺ بھی خندق سے مٹی نکالنے میں اور کھودنے میں صحابہ ؓ کے ساتھ شامل رہے ایک مہینہ دشمن مدینہ کو گھیرے پڑے رہے پھر ایک رات اللہ تعالیٰ نے پروا ہوا بھیجی جس کے سبب سے کافروں کا تمام لشکر تباہ ہوگیا کافرنا چار ہو کر الٹے چلے گئے اس لڑائی کو جنگ اجزاب بھی کہتے ہیں اسی کو اللہ فرماتا ہے کہ اے ایمان والو یاد کرو تم نعمت اور احسان اللہ تعالیٰ کا جب آئے تمہاری بستی پر لشکر کافروں کے اور بھیجا ہم نے ان پر ہوا کو اور لشکر فرشتوں کا جس کو تم نے نہیں دیکھا اور دشمنوں کے دلو پر ڈر اور خوف ڈال دیا یہ اجزاب کا قصہ سورة البقرہ میں بھی گزر چکا ہے ‘ وکان اللہ بما تعملون یصیرا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نظر میں ہیں پھر فرمایا مدینہ کے مشرق کی جانب اونچی بستیاں جو ہیں اوہر سے قبیلہ غطفان بنی قریظہ وغیرہ کی فوج آنکھیں ڈگنے لگیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے غرض اس وقت ایمان والوں کا امتحان لیا گیا اور ان کو بہت ہی جھڑ جھڑایا یہانتک کہ گمان کرنے لگے تم کہ اس مرتبہ ہم نہیں بچیں گے اور کہنے لگے منافق کہ جو وعدہ کیا فتح کا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے وہ دھو کے کا وعدہ تھا بعضے منافقوں نے یہ بھی کہا اے میدنہ والوں نہیں متہارے لیے ٹھکانہ سو پھر چلو مدینہ کو مطلب یہ ہے کہ مدینہ کے باہر لشکر میں ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے اپنے اپنے گھر کو چلو اور ایک فریق ان میں سے رخصت مانگنے لگا کہ ہمارے گھر خالی پڑے ہیں اس کہنے سے ان کی غرض گھروں کو بھاگنے کی تھی پھر فرمایا یہ ہانہ کرن والے لوگ اس حالت میں ہیں کہ اگر مدٓنیہ کے ہر طرف سے دشمن آجاویں اور ان کو گھیرلیں پھر ان سے شرک میں داخل ہونے کا سوال کریں تو ضرور یہ لوگ مشرک بنجاویں ڈر کے سبب سے ایمان کو چھوڑ دیں اور پہلے وہ اللہ سے عہد کرچکے تھے کہ لڑائی سے پیٹھ نہ پھیریں گے اس مد عہد کے وبال کا ان کو کچھ خوف نہیں ان سے کہہ دیا جائے کہ فائدہ نہ دے گا تم کو موت سے بھاگنا کیوں کہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اگر اس چند روزہ زندگی میں اللہ تم پر کوئی آفت ڈالے تو وہ کون ہے کہ بچاوے تم کو اللہ کی آفت سے بلکہ اس وقت نہ پاویں گے یہ لوگ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ مدد کرنے والا اور اللہ تعالیٰ ان پر نظر رحمت رکھے تو کوئی ان کو کسی طرح کی آفت میں نہیں ڈال سکتا اگرچہ امام بخاری (رح) کے کلام سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ خندق کی لڑائی 4 ہجری میں ہوئی ہے لن کی حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری 1 ؎ میں یہ فیصلہ کردیا ہے (1 ؎ صفحہ 58 ج 4 طبع دہلی۔ ) کہ چار برس کے اوپر جو مہینے ہیں ان کو حب اس میں لگانے سے معتبر قول یہی ہے کہ یہ لڑائی 5 ہجری میں ہوئی ہے ‘ اصل بات یہ ہے کہ ہجری سنہ تو عمر ؓ کی خلافت میں شروع ہوا ہے اس لیے اس سے پہلے کا سنہ ہجری کا جو حوالہ ہے وہ اندازہ کے طور پر ہے ‘ صحیح بخاری میں سلیمان ؓ بن صرو خزاعی سے اور مسند بزار میں معتبر سند کی جابر ؓ سے جو روایتیں 2 ؎ ہیں (2 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری مع فتح الباری ص 64 ج 4 باب غزوۃ الخندق الخ) ان کا حاصل یہ ہے کہ اس خندق کی چڑھائی کے بعد اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ سے فرمایا اس چڑھائی کے بعد مخالف لوگ کبھی تم پر چڑھ کر نہ آویں گے بلکہ تم ہی ان پر چڑھ کر جاؤگے ‘ اس حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ کے سچے رسول ہونے کا بڑا ثبوت ہے کیونکہ اس لڑائی کے ایک سال کے بعد حدیبیہ کی صلح ہوئی اور قریش نے اس صلح میں فتور ڈالا اس لیے 8؁ ہجری میں مکہ پر چڑھائی ہو کر مکہ فتح ہوگیا۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ خندق کی لڑائی کہ وقت کچھ تھوڑے سے جو جوش کرلیے جاتے تھے اور اس میں کچھ زیتون کا تیل ڈال کر سب وہی کھاتے اور بھوک کے سبب سے تکلیف میں رہتے تھے اس لڑائی میں مسلمانوں پر کھانے پینے کی جو کشش تھی اس کی تفصیل اس حدیث سے معلوم ہوستی ہے اس واسطے اس لڑائی کے آیتوں کی تفسیر میں اس حدیث کو بڑا دخل ہے اس خندق کے کھودنے کے وقت اللہ کے رسول ﷺ سے دو معجزے جو ظہر میں مئے ان کا ذکر سورة البقر میں گذر چکا ہے۔ خندق کی زمین میں نکر کے نکلنے اور اس کو پھاوڑے سے توڑنے کی ررایت مختصر طور پر جابر ؓ سے صحیح بخاری میں اور معتبر سند سے مسند امام احمد اور نسائی میں براء بن عازب ؓ 2 ؎ سے ہے ‘ اور تھوڑے سے کھانے میں مسلمانوں کے تمام لشکر کا پیٹ پھرجانے کی روایت صحیح بخاری میں جابر ؓ سے ہے ‘ بدر کی لڑائی میں کچھ لوگ شرک نہیں ہو سکے اور پھر اس لڑائی کا نتیجہ اچھا دیکھ کر انہوں نے عہد کیا تھا کہ اب ہم سب لڑائیوں میں شریک ہو کر پوری تندھی کریں گے اسی طرح احد کی لڑائی میں بعضے لوگوں نے میدان جنگ سے واپسی کا ارادہ کر کے پھر اسی ارادہ کو بدلا اور عہد کیا کہ آئندہ ہر ایک لڑائی میں ثابت قدم رہیں گے اس عہد کے بعد جن لوگوں نے گھروں کی واپسی کی اجازت چاہی ان کو پہلے کا ان کا عہد یاد دلایا صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ روایت 3 ؎ کہ مدینہ کا نام یثرب تھا اللہ کے رسول ﷺ نے وہ نام دل کر مدینہ نام رکھا۔
Ayahs 33:18–21

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

خدا تم میں سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو (لوگوں کو) منع کرتے ہیں اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر کم

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

(یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں پھر جب ڈر (کا وقت) آئے تو تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں (اور) انکی آنکھیں (اسی طرح) پھر رہی ہیں جیسے کسی کو موت سے غشی آرہی ہو پھر جب خوف جاتا رہے تو تیز زبانوں کے ساتھ تمہارے بارے میں زبان درازی کریں اور مال میں بخل کریں یہ لوگ (حقیقت میں) ایمان لائے ہی نہ تھے تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دئیے اور یہ خدا کو آسان تھا

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

(خوف کے سبب سے) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں رہیں (اور) تمہاری خبریں پوچھا کریں اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی امید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو

18 تا 22۔ اوپر ذکر تھا کہ جنگ اجزاب کے قوت جب مسلمانوں کا مقام مدینہ منورہ کے باہر تھا مسلمان اس وقت بڑی تکلیف میں تھے جاڑے کا موسم ٹھنڈی ہوا میں میدان کا رہنا خندق کا کھودنا بھوک کی جدا تکلیف ایسی حالت میں یہودنے تو بڑے خیر خواہ بن کر عبداللہ بن ابی اور اسکے ساتھی ان منافقوں نے جو ظاہر میں مسلمان اور آنحضرت کے لشکر میں تھے ورپردہ یہ پیغام کہلا بھیجا کہ تم آنحضرت کے ساتھ ہو کر ہرگز نہ لڑوان تھوڑے سے مسلمانوں کی کسی طرح یہ قدرت نہیں ہے کہ ابوسفیان قریش کے سردار کا مقابلہ کرسکیں اور منافقوں نے بڑے خیر خواہ بن کر اس طرح بہکانے کی باتیں مسلمانوں سے خفیہ کہنی شروع کردیں کہ لشکر میں رہنے کا اب موقع نہیں چلو اپنے اپنے گھروں کو پلٹ چلیں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کا حال اپنے رسول اور مسلمانوں کو ظاہر کردیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے اپنی جان اپنا مال بچانے کے لیے یہ لوگ تھوڑی سی دیر کے لیے لڑائی میں شریک ہوئے ہیں اس لیے یہ خود بھی لشکر اسلام کے ساتھ دینے میں دریغ کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی طرح طرح سے بہکار ہے ہیں اور رسول کا ساتھ دینے سے ان کی ہمت پست کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اس کو یہ سب حال معلوم ہے پھر مسلمانوں کی منافقوں کی نشانی بتلادی کہ جو لڑائی کے وقت ایسی نامردی کی باتیں کریں کہ ان کے چہروں پر مرونی چاگئی ہے ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی پتھر اکررہ گئیں اور پھر تکلیف کے جانے کے بعد لوٹ کا ما تقسیم ہونے کے وقت بہت بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے اور اپنی بہادری جتلاتے ہیں وہی منافق ہیں کیوں کہ جو لوگ خالص مسلمان ہیں اور محض آخرت کے اجر کی غرض سے لڑتے ہیں نہ وہ دشمن کے غلبہ کے وقت گھبرا کر اس طرح نامردی کی باتیں کرتے ہیں نہ ان کو لوٹ کے مال کی کچھ پر واہ ہے نہ وہ دنیا میں کسی کو اپنی بہادری جتلانا چاہتے ہیں ان کا تو جو معاملہ ہے خالص اللہ کے ساتھ ہے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ آخرت میں اجردے گا یہ اوپری دل سے جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ ہیں ان کو اللہ کی درگاہ سے اجر کی توقع نہیں رکھنا چاہیے ایسے اوپرے دل کے سب کام اللہ تعالیٰ کے ہاں اکارت ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کے دلوں کا حال معلوم ہے اس لیے اوپرے دل کے عملوں کا حال جان لینا اور ان کو بلا اجر ٹھہا دینا اس کے نزدیک کچھ مشکل نہیں البتہ انسان کے نزدیک یہ بات مشکل اور اس کے اختیار سے خارج ہے پھر آجائیں گی پھر فرمایا کہ اگر وہ فوجیں پھر کر آجائیں تو یہ لوگ آرزو کرتے کہ ہم اس وقت مسلمانوں کے لشکر میں نہ ہوتے بلکہ کہیں اور پر پرے گاؤں میں ہوتے اور دور سے ہی اس لڑائی کی خبر سن لیتے تو اچھا ہوتا پھر فرمایا اگر فوجیں پھر کر آجاویں اور لڑائی کا موقع پیش آجائے تو لشکر اسلام کو ایسے لوگوں کے موجود ہونے کے کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا کیوں کہ ان لوگوں کے دل میں عقبی کے اجر کا یقین نہیں ہے اس واسطے یہ لوگ برائے نام لشکر اسلام کا کچھ ساتھ دے کر لڑائی میں زیادہ دیر تک ہرگز نہ ٹھہر سکتے جو لوگ اس لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے بلکہ مدینہ میں رو گئے تھے اب آگے ان کو نصیحت فرمائی کہ جن لوگوں کو عقبیٰ کے اجر کی توقع ہے انہیں ہر حال میں اللہ کے رسول کا ساتھ دنیا اور اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہیے آگے کی آیت میں مسلمانوں کی ثابت قدمی اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا جاننے کا جو ذکر ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق یہ وعدہ وہی ہے جو سورة بقرہ کی آیت ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولمایاتکم مثل الذین خلو من قبلکم میں گزرا کہ کس قدر آزمائش کے بعد ثابت قدم مسلمانوں کا انجام دونوں جہان میں اچھا ہوگا دنیا میں ان کو مدد الٰہی سے فتح مندی حاصل ہوگی اور آزمائش کے وقت صبر کرنے کے اجرم میں انہیں عقبیٰ میں جنت ملے گی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اس قول کے موافق اس آیت کی تفسیر کا حال یہ ہے کہ ایماندار لوگ نوجوں کو دیکھ کر کچھ گھبرائے نہیں بلکہ انہیں نے یہی کہا کہ اللہ کے وعدہ میں جس آزمائش کا ذکر تھا یہ وہی آزمائش ہے یہ کہہ کر انہوں نے اپنے انجام کو اللہ پر سونپ دیا اور آخر کار فتح اسلام کے وعدہ پر ان کا یقین اور بڑھ گیا اور وہ سمجھ گئے کہ وعدہ کے ایک ٹکڑے کا جب ظہور ہوگیا تو اب دوسرے ٹکڑے کا ظہور بھی ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اس آیت کے تین برس کہ بعد مکہ فتح ہوگا اور وہ قریش جو مکہ سے مدینہ پر چڑھ کر آئے ہے خود مکہ میں بھی اسلام کے فرمانبرداربن گئے وہ ابوسفیان جو جنگ اجزاب میں مشرکوں کے لشکر کا سردار تھا فتح مکہ پر اسلام لاتے ہی پھر ان کا گھر وارالامن ٹھہر گیا کہ عام امن سے پہلے جو کوئی ان کے گھر میں چلا گیا اس کو امن مل گیا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل کام کری گے اور کتنے جب میں داخل ہونے کے قا ابل اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ علم الٰہی میں بد ٹھہر چکے تھے اس لڑائی میں ان سے مرضی الٰہی کے مخالف کام ظہر میں آئے اور جو لوگ علم الٰہی میں نیک قرار پاچکے تھے ان سے مرضی الٰہی کے موافق کام ظہر میں آئے اشحۃ علیکم اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ لشکر اسلام کی مدد میں خود بھی تنگدل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی سکھاتے ہیں اشحۃ علی الخیر اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے مستحق کو لوٹ کے مال میں سے حصہ دیا جاوے تو اپنی تنگ دل دلی سے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ سارا مال یہی سمیٹ لیویں اور کسی کو کچھ نہ دیا جاوے ‘ شاہ صاحب نے ” ہے پڑتے ہیں مال پر “ جو ترجمہ کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے۔
Ayahs 33:22–24

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

مومنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار انہوں نے خدا سے کیا تھا اسکو سچ کر دکھایا تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر سے فارغ ہوگئے اور بعض ایسے ہیں کہ انتظار کر رہے ہیں اور انہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

تاکہ خدا سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا (چاہے) تو ان پر مہربانی کرے بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

22‘ 23۔ مسلمانوں کا دل بڑھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختصر طور پر حضرت انس بن نضر کے قصہ کا ذکر فرمایا ہے جنگ احد کے ذکر میں اس قصہ کا تذکرہ گزر چکا ہے صحیح بخاری کی انس بن مالک ؓ سے جو اس قصہ کی روایت سورة آل عمران میں گزر چکی ہے 1 ؎ اس کا حاصل یہ ہے (1 ؎ تیز دیکھئے تفسیر ابن کثیر زیر تفسیر ہذا) کہ انس بن مالک ؓ کے چچا انس ؓ بن نضر کسی ضرورت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوسکتے تھے اس واسطے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ اگر بدر کی لڑائی کے بعد پھر آنحضرت ﷺ کو کسی لڑائی کا موقع پیش آوے گا تو یہ بڑی جانبازی سے خوب دل کھول کر لڑیں گے جنگ بدر کے بعد جب احد کی لڑائی کا موقع پیش آیا تو انس بن نضر ؓ مسلمانوں کے لشکر میں موجود تھے اور مسلمانوں کی شکست کے وقت اللہ تعالیٰ سے انہوں نے سب مسلمانوں کی طرف سے عذر خواہی کی اور اپنا عہد پورا کرنے کو تلوارے کر دشمن کے لشکر کی طرف بڑھے اور سعد بن معاذ ؓ ان کو راستہ میں ملے تو انہوں نے سعد ؓ سے کہا کہ احد پہاڑ کی جانب سے مجھ کو جنت کی خوشبو آتی ہے اور نہایت جو انمردی کر کے دشمنوں سے لڑے اور کچھ اوپر اسی 80 زخم کھا کر شہید ہوئے اس قصہ کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے یاد دلایا ہے کہ سب مسلمانوں نے جس طرح اللہ کے رسول سے دین کی لڑائی میں جان بازی کرنے کا عہد کیا ہے انس بن نضر ؓ کی طرح ان کو اس اپنے عہد پر قائم رہنا چاہئے اور منافقوں کے بہکانے میں ہرگز نہیں آنا چاہئے مجاہد کے قول کے موافق حب کے معنے عہد کے ہیں ‘ جو لوگ انس بن نضر کی طرح احد کی لڑائی میں شہید تو نہیں ہوئے مگر اس خندق کی لڑائی میں ثابت قدم رہے ان کی یہ تفریف فرمائی کہ وہ بھی اپنی جانبازی کے عہد پر قائم اور عد کے پورا کرنے کے منتظر تھے اس لیے اس لڑائی میں انہوں نے منافقوں کی طرح اپنے عہد کو نہیں بدلا آخر آیت میں عہد کو سچا کرنے والوں کا اور بدعہدی کرنے والوں کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ عہد کو سچا کرنے والوں کے لیے عقبیٰ میں اجر ہے اور بدعہدی کرنے والوں کے لیے عذاب ‘ بدعہدی کرنے والوں میں بعضے لوگ اللہ کے علم میں توبہ کرنے والے بھی تھے اس لیے فرمایا ان میں سے جن کو اللہ چاہے گا آیندہ بدعہدی سے توبہ کرنے کی ان کو تو فقر دے گا اور یہ بھی فرمایا کہ توبہ سے پہلے کے گناہوں کے معاف کردینے میں اللہ بڑا مہربان ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا کہ غفور رحیمی کی صفت اللہ تعالیٰ کو ایسی پیاری ہے کہ اگر دنیا کے موجودہ لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ بجائے ان کے اور ایسے لوگوں کو پیدا کرتا کہ وہ گناہ کر کے توبہ استغفار کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو بخشش دیتا۔ یہ حدیث ان اللہ کان غفورا رحم یا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر یہ منافق آیندہ اپنی عادتوں سے توبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے پچھلے گناہوں کو ضرور معاف کر دے گا۔
Ayahs 33:25–27

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اور جو کافر تھے ان کو خدا نے پھیر دیا وہ اپنے غصے میں (بھرے ہوئے تھے) کچھ بھلائی حاصل نہ کرسکے اور خدا مومنوں کو لڑائی کے بارے میں کافی ہوا اور خدا طاقتور (اور) زبردست ہے

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے جنہوں نے ان کی مدد کی تھی ان کو انکے قلعوں سے اتار دیا اور انکے دلوں میں دہشت ڈال دی تو کتنوں کو تم قتل کردیتے تھے اور کتنوں کو قید کرلیتے تھے

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اور انکی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے مال کا اور اس زمین کا جس میں تم نے پاؤں بھی نہیں رکھا تھا تم کو وارث بنادیا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

25 تا 27۔ پہلی آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا زبردست ہے کہ اپنے مخالفوں کے اتنے بڑے لشکر کو فقط ہوا سے پریشان کر کے ان کے غصہ میں اس طرح انہیں الٹا پھرایا کہ نہ پہنچے وہ کسی بھلائی کو اس کا مطلب یہ ہے کہ فتح مال غنیمت وغیرہ کچھ ان کے ہاتھ نہ لگا اور کافی ہوا اللہ ایمان والوں کو لڑائی سے مطلب یہ کہ مسلمانوں کو دشمنوں کے ساتھ لڑنے کی ضرورت نہیں پڑی فقط اللہ ہی کافی ہوا جو اس نے کافروں پر ہوا بھیج کر ان کو پریشان کردیا پھر فرمایا “ اتارا ان لوگوں کو جنہوں نے مشرکین مکہ کو مدد دی تھی ان کی گڑھیوں سے اور ڈال ان کے دلوں میں دہشت ایک فریق کو تم نے قتل کیا اور ایک کو قید “ کتاب والے اس لیے فرمایا کہ یہ لوگ یہودی تھے نبو قریظہ مدینہ کے پاس رہتے تھے پیغمبر ﷺ کے ساتھ صلح رکھتے تھے جنگ خندق کے وقت وہ بھی پھرگئے تھے صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ صفحہ 590۔ 2 باب مرجع النبی ﷺ من الاجزاب ومخرجہ الی نبی قریظہ الخ۔ ) جس کا حاصل یہ ہے کہ جب حضرت ﷺ جنگ خندق سے فارے ہوئے تو جبرئیل حکم لائے اور لشکر اسلام نے نبی قریظہ کو جاگھیرا بنو قریظہ مدینہ سے چند میل کے فاصلہ پر رہتے تھے ‘ صحیح بخاری میں عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ؎ ہے (؎ تفسیر ابن کثیر ص 477 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ ظہر کی نماز کے بعد آنحضرت ﷺ نے چڑھائی کا حکم اس طرح پر دیا کہ تم لوگ عصر کی نماز نبو قریظہ ہی میں جاپڑھو صحابہ ؓ کو نماز کا وقت راستہ میں ہوگیا بعض نے راستے میں نماز پڑھی اور کہا آنحضرت ﷺ کے غرض اس حکم سے سفر میں جلدی کرنے کے سوا اور کچھ نہ تھی اور بعض نے کہا کہ ہم تو نبو قریظہ میں پہنچ کر نماز پڑھیں گے یہ حال سن کر دونوں طریق میں سے کسی کو اللہ کے رسول نے برا نہیں کہا اور خود پیغمبر ﷺ ان کے پیچھے روانہ ہوے 2 ؎ مدینہ پر (2 ؎ تفسیر معالم التنزیل للبغوی زیر تفسیر آیت ہذا۔ ) عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کو خلیفہ 3 ؎ کر کے حضرت علی ؓ کو نشان مرحمت کیا (3 ؎ سیرت ابن ہشام ص 234 ج 3 طبع جدید 1375 ھ 1955 ء (القاہرہ) پھر آنحضرت ﷺ نے نبی قریظہ کو پچیس روز تک گھیرے رکھا 4 ؎ اس کے بعد وہ لوگ سعد بن معاذ ؓ کے فیصلہ پر رضامند ہوئے (4 ؎ تفسیر معالم حوالہ مذکو والدر المنثور) اس وقت پیغمبر ﷺ نے سعد ؓ کو مدینہ منورہ سے بلا بھیجا سعد ؓ نے یہ فیصلہ کیا کہ نبو فزیظہ میں سے وہ آدمی مارے جائیں جو لڑڑائی کرسکتے ہیں اور ان کی اولا دقید کی جاوے اور ان کا مال لوٹا جاوے وقت پیغمبر صلع نے فرمایا جو حکم خدا تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر سے دیا تھا تم نے بھی اسی کے مطابق فیصلہ کیا پھر حضرت ﷺ نے گھاٹیاں کھودنے کا حکم دیا سے روایت 5 ؎ ہے (5 ؎ فتح الباری ص 69 ج 4 طبع دہلی۔ ) کہ ان میں لڑنے کے قابل چار سو تھے غرضے جو لڑنے کے قابل تھے وہ قتل کئے گئے اور باقی عورتوں کے ساتھ قید کئے گئے اور ان کے مال لوٹ لیے گئے پھر فرمایا وارث کیا اللہ تعالیٰ نے تم کو ان کی زمین اور گھر اور مال کا اور اس زمین کا کہ جس پر تم نے قدم نہیں رکھے تھے اس زمین میں سلف کا اختلاف ہے کہ جس زمین پر نبی قریظہ کے قصہ تک اللہ کے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ ؓ نے فتح کے طور پر عمل دخل نہیں کیا تھا وہ کونسی زمین ہے ‘ حافظ ابو جعفر ابن 1 ؎ جریر (رح) (1 ؎ تفسیر ابن جریر 155 ج 21۔ ) نے اس اختلاف کا یہ فیصلہ کیا ہے کہ نبو قریظہ کے قصہ کے بعد مکہ خیبر یمن فارس روم جتنے مقامات اللہ کے رسول ﷺ اور امت کے زمانہ میں فتح ہوئے وہ سب اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ میں داخل ہیں ‘ مسند امام احمد اور نسائی کے حوالہ سے براء بن عازب ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں خندق کھودتے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے ان مقامات کے فتح ہونے کی خوشخبری صحابہ کو سنائی جو مقامات اللہ کے رسول ﷺ کے بعد فتح ہوئے اس حدیث سے حافظ ابو جعفرابن جریر کے فیصلہ کی پوری تائید ہوتی ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت اوپر گزری اس میں تو یہی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ ؓ کو یہ حکم دیا کہ عصر کی نماز نبی قریظہ کے مقام پر پہنچ کر پڑھیں لیکن صیحو مسلم کی روایت میں بجائے عصر کے ظہر کا نام ہے حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں صحیح بخاری کی روایت کو ترجیح دی ہے 2 ؎ (2 ؎ فتح الباری ص 67 ج 4۔ ) جو اصول حدیث کے قاعدہ کے موافق ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ صحت روایت کے لحاظ سے صحیح بخاری صحیح مسلم پر مقدم ہے حافظ ابن قیم (رح) نے اس نماز کے باب میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن صحابہ ؓ نے نبی قریظہ کے راستہ میں وقت پر نماز پڑھی اور پھر جلدی سے نبی قریظہ کے مقام پر پہنچ گئے ان کو نماز پڑھ لینے کا اجر زیادہ ملے گا کیوں کہ انہوں نے وقت پر نماز پڑھنے کے حکم اور نبی قریظہ کے مقام پر جلد پہنچنے کے حکم ان دونوں حکموں کی تعمیل کے ‘ وکان اللہ علیٰ کل شیء قدیرا اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی قریظہ پر فتح دینے کے علاوہ اور بہت سی فتوحات بھی اللہ کی قدرت سے باہر نہیں ہیں ‘ مسند امام احمد اور نسائی کے حوالہ سے براء بن عازب ؓ کی معتبر حدیث جو اوپر گذر چکی ‘ وہ آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے کیوں کہ اس حدیث سے آیت کے اس وعدہ کا ظہور اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
Ayahs 33:28–32

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے پیغمبر اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواستگار ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح رخصت کردوں

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر اور عاقبت کے گھر (یعنی بہشت) کی طلبگار ہو تو تم میں جو نیکوکاری کرنے والی ہیں ان کے لئے خدا نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

اے پیغمبر کی بیویو ! تم میں سے جو کوئی صریح ناشائستہ (الفاظ کہہ کر رسول اللہ کو ایذا دینے کی) حرکت کرے گی اس کو دونی سزا دی جائے گی اور یہ بات خدا کو آسان ہے

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور جو تم میں سے خدا اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے گی اور عمل نیک کرے گی اس کو ہم دونا ثواب دیں گے اور اسکے لئے ہم نے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ Open ayah 33:32 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ کی بیویو ! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو (کسی اجنبی شخص سے) نرم نرم باتیں نہ کرو تاکہ وہ شخص جس کے دل میں کسی طرح کا مرض ہے کوئی امید (نہ) پیدا کرے اور دستور کے مطابق بات کیا کرو

28 تا 32۔ بنو قریظہ کے قصہ کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کا ذکر اس سبب سے آیا کہ بنو قریظہ کا اکثر مال اللہ کے رسول ﷺ نے مہاجرین کو دے دیا تھا جس کے سبب سے مہاجرین کو کسی قدر آسودگی ہوگئی تھی۔ مہرجرین کی یہ آسودگی دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ کی بی بیوں کو بھی آسودگی کا خیال ہوا اور انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے نان نفقہ کی مقدار میں کچھ زیادتی کردینے کی خواہش پیش کی اللہ کے رسول ﷺ نے اس خواہش کے پورا کردینے کو اپنے اختیار سے باہر دیکھا اس لیے ان کی خواہش کو سن کر آپ کو ایک طرح کا رنج ہوا اسی رنج کے سبب سے آپ نے مہینہ بھر تک گھر میں نہ آنے کی قسم کھائی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے اس رنج کے فیصلہ کے طور پر یہ آیتیں نازل فرمائی ‘ یہ شان نزول جابربن عبداللہ ؓ کی روایت سے صحیح مسلم 3 ؎ میں ہے (3 ؎ مشکوۃ ص 281 باب عشرۃ النسائ ‘ الخ) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بی بیوں کے نان نفقہ کے معاملہ میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ قسم کھائی تھی کہ مہینہ بھر تک آپ گھر میں نہ آویں گے صحیح بخاری 1 ؎ ومسلم میں حضرت عمر ؓ کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو جو روایت ہے (1 ؎ صفحہ 781 ج 2 باب موعظۃ الرجل ابنتہ لحال زوجہا۔ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حفصہ ؓ کے معاملہ میں اللہ کے رسول ﷺ نے وہ قسم کھائی تھی کہ مہینہ بھر تک آپ گھر میں نہ آویں گے اور اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اس بات میں تو ان دونوں حدیثوں کا مضمون ایک ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے جو قسم کھائی تھی اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں مگر قسم کھانے کا سبب دونوں روایتوں میں الگ الگ ہے حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری 2 ؎ میں اس اختلاف کے بیان کو یوں رفع کردیا ہے (2 ؎ صفحہ 299 ج 4 طبع دہلی۔ ) کہ دونوں سببوں کے مجموعہ پر اللہ کے رسول ﷺ نے وہ قسم کھائی اور آپ کی قسم کے فیصلہ کے طور پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکا ہے کہ چند باتوں کے مجموعہ پر اکثر آتیں نالز ہوئی ہیں حضرت حفصہ ؓ کے قصہ کی پوری تفصیل تو سورة التحریم میں آوے گی مگر صحیح بخاری ومسلم کی حضرت عائشہ ؓ کی روایت 3 ؎ کے موافق اس قصہ کا حاصل یہ ہے (3 ؎ مشکوۃ ص 283 باب الخلع والطلاق۔ ) کہ آنحضرت ﷺ اکثر حضرت زنیب ؓ کے حجرہ میں جا کر بیٹھا کرتے تھے اور بار ہا حضرت زنیب آنحضتر ﷺ کی خاطر داری کے طور پر شہد آپ ﷺ کے سامنے رکھا کرتی تھیں اور آپ وہ شہد چاٹا کرتے تھے حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کو یہ امرنا گوار ہوا اس لیے ان دونوں نے مپس میں صلاح کر کے آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ آپ ﷺ کے منہ میں سے اوپری بو آتی ہے یہ بات سن کر آپ ﷺ نے حضرت زنیب ؓ کے حجرہ میں زیادہ بیٹھنے اور شہد کے چاٹنے کی قسم کھائی اور حضرت حفصہ ؓ کو منع کیا کہ اس قسم کے کھانے کا تذکرہ کسی سے نہ کرنا اس ممانعت سے آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اس کا چرچہ ہو کر حضرت زنیب ؓ کو اس کا رنج ہوگا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کے حجرہ میں زیادہ بیٹھنا چھوڑ دیا حضرت عمر ؓ کے حوالہ سے ضحرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث جو اوپر گزری اس میں یہ ہے کہ حضرت حفصہ ؓ نے اس ممانعت کی پابندی نہیں کی اور اسی پر خفا ہو کر مہینہ بھرتک گھر میں نہ آنے کی قسم اللہ بی بیوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی رونق چاہتی ہو تو آؤفائدہ دوں میں تم کو اور رخصت کرو تم کو رخصت کرنا اچھا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی رونق کی خواہش رسول کے گھر میں پوری نہیں ہوسکتی اس لیے آؤتم کو کچھ دے کر طلاق دے دی جاوے پھر فرمایا اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو اور آخرت کی بہبودی کو چاہتی ہو تو اللہ تعالیٰ نے رکھ چھوڑا ہے واسطے نیکی کرنے والیوں کی تم میں سے اجر بڑا ان دونوں امر میں سے حضرت ﷺ کی ازواج مطہرات نے اللہ کو اور اس کے رسول کی رضا مندی کو اختیار کیا اور دنیا کی زندگی پر آخرت کے گھر کو ترجیح دی بعد اس کے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دنیا کی خوبی اور آخرت کے ثواب کو جمع کردیا صحیح بخاری 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے (1 ؎ صفحہ 791 جلد 2 باب من خیر لنساء الخ۔ ) جس کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلعم کو ازواج مطہرات کے دنیا یا آخرت کو پسند کرنے کا اختیار دیا تو اللہ کے رسول پہلے پہل میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں مگر تم اپنے ماں باپ کے مشورہ بغیر اس کے جواب میں جلدی نہ کرنا اس کے بعد حضرت ﷺ نے ان آیات کو مجھے سنایا میں نے عرض کیا میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں دوسری روایت 2 ؎ میں بخاری (رح) نے اس قدر اور زیادہ بیان کیا ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 480 ج 3۔ ) کہ اس کے بعد آپ کی سب ازواج نے ایسا ہی کیا جیسے میں نے کیا پھر فرمایا (رح) اے نبی کو عورتوں جو لاوے تم میں سے کوئی بےحیائی ظاہر دوچند ہو اس کو عذاب اور ہے یہ اللہ پر آسان اور جو کوئی تم میں سے اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے اور کام بھی اچھے کرے دیں ہم اس کو اجر دو بار اور تیار کی ہم نے اس کے واسطے روزی عزت کی “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی ازواج کو جنہوں نے خدا اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کیا خاص حکم فرمایا وہ یہ ہی ہے کہ ان میں سے جو کھیلی بےحیائی کرے گی اس کے واسطے دوچند عذاب ہے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا قول 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیرص 481 ج 3) کہ یہاں بیحیائی سے مرادنا فرمانی 4 ؎ ہے (4 ؎ یعنی آنحضرت ﷺ کی بحیثیت خاوند ‘ عدم اطاعت (ع ‘ ح) غرض کہ جب آنحضرت ﷺ کی بی بیاں بڑے مرتبہ والیا تھیں تو بھی مناسب تھا کہ ان کے قصور کو بھی سخت ٹھہرایا جاوے کیوں کہ ان کی حفاظت اسی میں ہے مجاہد (رح) کا قول ہے کہ دوچند عذاب سے مقصود دنیا اور آخرت کا عذاب ہے اب آگے فرمایا اے نبی کی بی بیو اگر تم اللہ سے ڈر کر نیک کام کرتی ر ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارا مرتبہ امت کی نیک عورتوں سے دنیا اور عقبیٰ میں بڑھ کر ہے کیوں کہ دنیا میں درجہ میں تمہارا مقام ہوگا اور جب امت کے ہر مرد کو حکم ہے کہ وہ اپنی ماں کے برابر تمہاری عزت کرے کسی بدکار مرد سے تم ایسی دبی ہوئی عورتوں کی سی بات نہ کرو جس سے اس بدکار شخص کے دل میں کوئی برا خیال پیدا ہو اور اسلام سے پہلے جس طرح عورتیں اپنا بناؤسنگار اجنبی مردوں کو دکھاتی پھرتی تھیں اس طرح کی عادت بھی تم میں نہیں ہونی چاہئے بلکہ تم تو اپنے گھروں میں بیٹھ کر نماز زکوۃ اور اسی طرح کے اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کے کاموں میں لگی رہو۔ سورة النساء میں گزر چکا ہے کہ اللہ کے بندوں میں سب سے بڑا مرتبہ انبیاء کا ہے ان کے بعد صدیقوں کا ان کے بعد شہیدوں کا اور پھر عام نیک لوگوں کا۔ صدیق وہ ہیں جن میں وحی کی صداقت کا مادہ زیادہ ہو صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی وہ حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے۔ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ کو اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء پر فضیلت دی ہے سورة النور میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اچھے لوگوں کے نکاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے اچھی عورتوں کو منتخب کیا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ کہ جب انبیاء سب بندوں میں اور خاتم النبیین ﷺ سب انبیاء میں افضل ہیں تو جن بی بیوں کو اللہ تعالیٰ نے افضل الانبیاء کے نکاح کے لیے منتخب کیا ہے ان کی فضیلت کا کیا ٹھکانا ہے اسی واسطے فرمایا ان کی فضیلت کے موافق ان کا اجر بھی دوگنا ہے اور اس فضیلت میں بوٹا لگانے کی صورت میں سزا بھی دوگنی ہے اور اللہ کی قدرت کے آگے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیولوں کی طرح کسی نبی کی نافرمان بیوی کو سزا میں پکڑلینا کچھ مشکل نہیں وقلن قولا معر وفاط اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مرد سے بات کرنے میں شریعت کی پابندی کا لحاظ رکھو وقرن فی بیوتکن میں بعضے سلف نے قرن کو وقار سے لیا ہے اور بعضوں نے قرار سے پہلی صورت میں یہ معنے ہیں کہ اے نبی کی بیویو تم اپنے گھروں میں عزت اور وقار سے بیٹھی رہو کوئی بات اپنے رتبہ کے برخلاف نہ کرو دوسری صورت میں یہ معنے ہیں کہ بلا ضرورت گھروں کے باہر نہ نکلو ‘ اس سورة میں آگے پر دہ کا حکم ہے اس لیے آیت میں یہ ٹکڑا گویا پردہ کی پیش بندی ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے جو روایتیں 1 ؎ ہیں (1 ؎ مشکوۃ ص 481 باب لاتقوم الساعۃ الاعلی شرار الناس۔ ) ان کا حاصل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے جس طرح بت پرستی دنیا میں پھیلی ہوئی تھی قیامت کے قریب دنیا میں وہی حال پھر ہوجاویگا اسلام سے پہلے کی حالت کو الجاھلیۃ الاولیٰ جو فرمایا اس کا مطلب ان روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے قریب دوسری دفعہ نادانی کا زمانہ پھر آنے والا ہے۔
Ayahs 33:33–34

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ Open ayah 33:33 in the Quran reader

اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح (پہلے) جاہلیت (کے دنوں) میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ اور نماز پڑھتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتی رہو اے (پیغمبر کے) اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی (کا میل کچیل) دور کر دے اور تمہیں بالکل پاک صاف کر دے

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠ Open ayah 33:34 in the Quran reader

اور تمہارے گھروں میں جو خدا کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور حکمت (کی باتیں سنائی جاتی ہیں) ان کو یاد رکھو بیشک خدا باریک بین اور باخبر ہے

33‘ 34۔ اوپر سے ازواج مطہرات ؓ کا ذکر چلا آتا ہے اس واسطے بعضے علماء نے تو یہ کہا ہے کہ یہ آیت خاص کر ازواج کی ہی شان میں نازل ہوئی اور اکثر 2 ؎ حدیثوں میں یہ جو آیات ہے (2 ؎ تفسیر فتح البیان ص 616 ج 3 (طبع بھوپال) میں یہ روایات مذکور ہیں۔ ) کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت امام حسن ؓ امام حسین ؓ کو ایک کپڑے کی آڑ اور اوجھل میں کیا اور یہ دعا مانگی کہ یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان کو پاک فرمادے ان حدیثوں کے سبب سے بعضے علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت خاص کر حضرت علی ؓ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسین ؓ کی ہی شان میں ہے ازواج مطہراب اس آیت کے حکم میں داخل نہیں ہیں لیکن جب کہ قرآن شریف کی عبادت کا ڈھنگ ایسا ہے کہ اوپر سے ازواج مہطرات کا ذکر چلا آتا ہے اور اس آیت کے بعد بھی ازواج مطہرات کا ذکر ہی اور جس وقت آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ؓ حضرت فاطمہ ؓ حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ کو کپڑے کی آڑ میں لیا تو ترمذی کی ام سلمہ کی معتبر روایت 1 ؎ میں یہ بھی صراحب آچکی ہے (1 ؎ فتح البیان) کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کہ کیا حضرت میں آپ کے اہل بیت میں داخل نہیں ہوں اس پر آپ نے کچھ انکار نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا کہ تم اللہ کے رسول کی بی بی ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول کی بی بی کی شان میں تو یہ آیتیں نازل ہی ہوئی ہیں پھر باوجود اس کے یہ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ ازواج مطہرات اس آیت کے حکم میں داخل نہ ہوں اسی طرح جب بہت سی صاف وصریح روایتوں میں آنحضرت ﷺ کا حضرت علی ؓ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت حسن ؓ اور حضرت حسین ؓ ایک جہ کرنا اور ان کو کپڑا اوڑھنا اور خاص کر ان کے لیے اس آیت کے صادق آنے کی دعا فرمانا آچکا ہے تو یہ بھی نہیں ہو کیا ہے کہ آیت کے حکم میں ازواج اور آنحضرت کے گھروالے دونوں شریک ہیں یہی فیصلہ ٹھیک ہے کیوں کہ یہ فیصلہ صحیح مسلم کی زیدین ارقم ؓ کی روایت 2 ؎ کے موافق ہے (2 ؎ ایضا ص 617 ج 3۔ ) جس روایت کا حاصل یہ ہے کہ زیدبن ارقم ؓ سے کسی شخص نے اہل بیت کے معنے پوچھے تو انہوں نے کہا اہل بیت میں اللہ کے رسول ﷺ کی بیویاں اور گھر والے سب داخل ہیں صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے اور معتبر سند سے مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں واثلہ بن الاسقع سے جو روایتیں ہیں کہ اس آیت کے نازل کپڑے کی آڑ میں لیا اور یہ کہا کہ یا اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں مطلب یہ ہے کہ ازواج مطہرات ؓ یک طرح یہ بھی میرے اہل بیت 3 ؎ ہیں (3 ؎ فتح البیان ص 617 ج 3 (نیزان روایات کی تفصیل تفسیر ابن کثیر ص 482۔ 486 ج 3 میں ملاحظہ کی جاشکتی ہے۔ (ع ‘ ح) حاصل یہ ہے کہ اس آیت کے موافق ان روتیوں کے مضمون میں اللہ کے رسول ﷺ کی بیویاں بھی داخل ہیں یہ زیدبن ارقم انصاری (رح) قبیلہ خزرج میں کے وہی مشہور صحابی ہیں جن کے سچے ہونے کے صدراقت خود اللہ تعالیٰ نے سورة منافقون میں نازل فرمائی ہے جس کا قصہ ترمذی اور مستدرک حاکم کی صحیح روایتوں میں ہے اس قصہ کی تفصیل سورة منافقون میں آوے گا حاصل کلام یہ ہے جس طرح کہ سورة توبہ کا آیت کا ٹکڑا لمسجد اسس علیٰ لتقوے مسجد نبوی اور مسجد قبا دونوں مسجدوں کے باب میں ہے اسی طرح یہ آیت ازواج مطہرات حضرت علی ؓ حضرت فاطمہ ؓ حضرت حسن ؓ حسین ؓ سب کے باب میں ہے۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کے گھروالوں کو بےشرع باتوں سے پاک صاف رکھنا چاہتا ہے اس لیے نبی کی ببی بیوں کو چاہئے کہ دنبی نصیحت کی آیتیں جو ان کے گھروں میں نازل ہوا کرتی ہیں اس نصیحت کو دل سے یاد رکھیں اور یہ شخص لیں کہ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید کو خوب جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ قرآن کی نصیحت کے مواقف جو کام کیا جاوے وہ دل کے ارادہ سے ہونا چاہئے اوپری دل کا کوئی کام درگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہے۔
Ayah 33:35

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیْنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِ١ۙ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:35 in the Quran reader

(جو لوگ خدا کے آگے سر اطاعت خم کرنے والے ہیں یعنی) مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں کچھ شک نہیں کہ انکے لئے خدا نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے

35۔ مسند امام احمد نسائی اور طبرانی میں امامومنین ام سلمہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 487 ج 3۔ ) کہ انہوں نے پیغمبر ﷺ کے خدمت میں عرض کیا حضرت (e) کیا سبب ہے کہ میں قرآن شریف میں مردوں کا ذکر سنتی ہوں اور عورتوں کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اسی مضمون کی ایک حدیث ترمذی 2 ؎ میں ام عمارہ ؓ انصار یہ کی روایت سے بھی ہے (2 ؎ تفسیر الدرا لمنثور ص 200 ج 5‘) جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے اسی طرح معتبر سند سے طبرانی میں 2 ؎ حضرت عبداللہ اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عورتوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والے مردوں کو تو قرآن زبان سے آدمی دین کی باتوں کا اقرار کرے اگر اس کے دل میں بھی ان باتوں کو پوری صدقت اسی طرح ہے تو ایسے شخص کو باتوں پر پورا قائم نہیں رہتا تو اس کو مسلمان کہتے ہیں اسی واسطے مسلمان اور ایماندار دو لفظ فرمائے۔ صحیح بخاری اور مسلم میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مشکوٰۃ ص 352 باب قسمتہ الفنائم والمظول فیہا فصل تیسری) جس کا حاصل یہ ہے کہ صدقہ و خیرات کا مال کی تقسیم کے وقت سعد بن ابی وقاص ؓ نے ایک شخص کو ایماندار کہا اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس شخص کو مسلمان کہا اور یہ بھی فرمایا کہ بعضے لوگوں کو یہ مال میں اس لیے دینا ہوں کہ اگر ان کے کچھ نہ دیا جاوے تو وہ ظاہری اسلام کو چھوڑ کر دوزخیوں کے کام کرنے لگیں مسلمان اور ایماندار کا قنوت کہتے ہیں جیسا کہ اور کئی آیتوں میں قانت کا لفظ عبادت کے معنوں میں آتا ہے پھر فرمایا کہ سچے مرد اور سچی عورتوں میں چاہئے کیوں کہ وہ نیکی کا رہنما ہے اور نیکی جنت کا رستہ بتاتی ہے اور جھوٹ بدکاری کار ہبر ہے اور بد کاری کا ثمرہ دوزخ ہے سچی بولنے والا خدا کے نزدیک صدیق لکھا جاتا ہے اور جھوٹا کذاب جیسا کہ صحیح حدیثوں 4 ؎ میں اس کا ذکر تفصیل سے آیا ہے (4 ؎ مشکوۃ ص 412 باب حفظ اللسان الخ۔ ) جو انسان سچ بولتا ہے تو لوگ اس کے مخالف ہو کر درپے ایذا ہوتے ہیں اس واسطے فرمایا کہ تکلیف کے وقت صبر کر نیوالے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں ‘ لیکن صبر لائق اعتباری وہی ہے جو پہلے ہی صدمہ پر کیا جاوے پھر تو صبر آسمان ہوجاتا ہے بعد صبر کے خشوع کا مرتبہ پیدا ہوجاتا ہے جس میں طبیعت پر خدا کا خوف چھا جاتا ہے اس وقت اس کا سامنے حال کچھ حقیقت نہیں رکھتا اس لیے وہ اللہ کی رواہ میں ضعیف مسکینوں کو خیر خیرات کرتا ہے اس واسطے فرمایا کہ خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں خیرات اور روزہ کی فضیلت میں بہت صحیح حدیثیں آئی ہیں جب کہ روزہ خواہش نفسانی سے روکنے ہیں بڑا مددگار ہے جیسا کہ حدیث 1 ؎ میں ہے (1 ؎ مشکوۃ کتاب النکاح۔ ) اے جو انو تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھتا ہے اس کو نکاح کرلینا چاہئے اس لیے کہ نکاح حرام چیزوں کے دیکھنے سے آنکھوں کو روکنے والا اور شرمگاہ کا نگہبان ہے اور جس کو نکاح کی طاقت نہ ہو تو اسے اپنے آپ پر روزہ لازم کرنا چاہئے ‘ پھر فرمایا کہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور بہت یاد ان اوصاف کے مرد اور عورتوں کا انجام یہ ہے کہ تیار کر رکھی ہے اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور رکھا ہے ثواب بڑا مطلب یہ ہے کہ جو باتیں اس آیت میں ذکر کی کہ وہ ہمیشہ کے لے غ جنت ہیں رہ کر طرح طرح کی راحت پاویں گے حاصل صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہی ؓ کی روایت کی حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت کی نعمتوں کو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھا نہ کانون سے سنانہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزر سکتا ہے اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جس اجر کو اللہ تعالیٰ نے بڑا فرمایا ہے وہ جنت کی ایسی نعمتیں ہیں جن کی تفسیر انسان کی طاقت سے باہر ہے کیوں کہ جو چیز ایسی ہے کہ نہ انسان آنکھوں سے اس کو دیکھ سکتا ہے نہ کانوں سے سن سکتا ہے نہ دل میں اس کا تصور گزر سکتا ہے تو ایسی چیز کی تفسیر انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔