Ayahs 33:59–6259 تا 62۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت سوردہ ؓ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں اور حضرت عمر ؓ نے ان کو دھمکایا اور آنحضرت ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ جس طرح پردہ کا حکم اترا ہے اسی طرح یہ حکم بھی دیا جائے کہ چادر اوڑھ کر بھی مستو راتیں گھر کے باہر نہ نکلا کریں طبقات ابن سعد میں محمد بن کعب حسن بصری اور ابو مالک کی روایتوں 1 ؎ سے حضرت عمر ؓ کے اس مشورہ کے دینے کا سبب یہ بتلایا ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 221 ج 5۔ ) کہ مسلمان عورتیں جب چادر اوڑھ کر باہر نکلا کرتی تھیں تو مدینہ میں بعضے منافق لوگ ایسے ناہموار تھے کہ عورتوں کو راست میں چھیڑا کرتے تھے اور جب ان ناہمواروں کو دھمکایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ شریف مسلمان عورتوں کو تم کیوں چھیڑا کرتے ہو تو کہتے تھے کہ ہم نے ان کو شریف جان کر نہیں چھیڑا بلکہ لونڈڑی جان کر چھیڑا تھا اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر دونوں باتوں کا حکم فرما دیا حضرت عمر ؓ کے مشورے کے باب میں تو یہ حکم ہوا کہ عورتوں کے لیے یپردہ جو حکم نازل ہوچکا ہے وہی کافی ہے جماعت کی نماز کے لیے یا اور کسی ضرورت سے چادر یا برقعوں میں منہ چھپا کر عورتوں کے باہر نلکنے میں کوئی حرج نہیں ہے دوسری بات کا یہ حکم ہو کہ بی بی اور باندی کی پواک میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرق کردیا ہے کہ شریف عورتیں باہر نکلتے وقت گھونگٹ کے طور پر چادر اوڑھا کریں ‘ پھر فرمایا اگر وہ ناہموار لوگ اس فرق کے بعد بھی باز نہ آویں گے تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سے لڑنے کا حکم اپنے رسول کو دے دیا ہے اسی طرح ان منافقوں کے قتل کا حکم دے د دیا جاوے گا قتادہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم شرط لگا کردیا تھا کہ اگر آئندہ منافق لوگ اپنی ناہمواری سے بازنہ آدیں گے تو ان کے قتل کا حکم دیا جاوے گا اس شرط کو سن کر اس آیت کے نازل ہونے کے بعد پھر ان منافقوں نے وہ اپنی ہمواری چھوڑ دی اس لیے قرآن شریف میں ان کے قتل کا حکم نازل نہیں ہوا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ہے کہ عادت الٰہی میں یہ بات دخل ہے کہ جو برا کام کرتا ہے وہی پکڑا جاتا ہے کسی برے کام کے کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کسی کو نہیں پکڑتا یہ ابومالک تابعین میں مشہور عالم ہیں شبعی کے بعد کوفہ کے قاضی بھی تھے نسائی وغیرہ نے ان کو ثقہ کہا ہے اور محمد بن کعب بھی ثقہ ہیں
محمد بن سعد (رح) اور ان کی کتاب طبقات
محمد بن سعد امام احمد (رح) کے ہم عصر بصرہ کے مشہور اور معتبر علماء میں ہیں صحابہ ؓ اور تابعین (رح) کے احوال میں ان طبقات کبیر طبقات صغیر اور تاریخ یہ کتابیں مشہور ہیں تقریب میں ان کو معتبر لکھا ہے صحابہ ؓ کے طبقوں میں پہلے خلفائے اربعہ ہیں پھر درجہ بدرجہ اور صحابہ ؓ ہیں اسی طرح سب بارہ طبقے ہیں آخر طبقہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے نو عمری میں اللہ کے رسول ﷺ کو دیکھا ہے یہی حال تابعین اور تبع تابعین کے طبقوں کا ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب ناہموار لوگ شریف عورتوں کو راستہ میں چھیڑتے ہیں اور دھمکانے کے وقت یہ کہتے ہیں کہ شریف عورتوں کے اور لونڈیوں کے لباس میں کچھ فرق نہیں تھا اس لیے لونڈیوں کے شبہ میں ہم نے ان شریف عورتوں کو چھیڑا تو ان ناہمواروں کو قائل کرنے کے لیے اے نبی تم اپنی بیویوں بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ باہر نکلنے کے وقت وہ معمولی دوپٹہ کے اوپر ایک چادر اوڑہ کر گونگھٹ نکاح لیا کریں تاکہ ان ناہمواروں کی پہلا عذر باقی نہ رہے پھر اس پر ھبی یہ نا ہموار اپنی ناہمواری سے باز نہ آویں گے تو ہمیشہ سے یہ عادت الٰہی جاری ہے کہ مہلت کے زمانہ میں جو نافرمان لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو پھر اپنے جرم کی سزا میں پکڑے جاتے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو پہلے مہلت دیتا ہے جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو ایسے سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے جس سے وہ ہلاک ہوجاتے ہیں ‘ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے ارجاف کے معنے جھوٹی خبریں اڑایا کرتے تھے ان ہی کو والمرجفون فی المدینہ فرمایا۔
Ayahs 33:63–7063 تا 71۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تمہیں سنا نے کو جو لوگ گھڑی گھڑ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی تم ان کو جواب دو کہ اس کا علم خدا کو ہے اور تم کو کیا خبر شائد قریب ہو جیسا اور جگہ فرمایا اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ نزدیک آیا لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ غفلت میں ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے کافروں کو اپنی رحمت سے اور پھینک دیا ہے اور تیار کر رکھا ہے ان کے لیے دھکتی آپ کو ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اس میں اور نہ پادیں گے کافر کسی کو اپنا دوست اور مددگار جو عذاب سے ان کو چھوڑادے پھر فرمایا جس دن وہ آگ میں اوندھے منہ چالے جاویں گے کہیں گے کاش ہم دنیا میں اللہ کی اور اللہ کے رسول کی تابعداری کرتے ‘ طاؤس کا قول ہے کہ سادتنا سے مراد اشراف لوگ ہیں اور کبرائنا سے علماء مراد ہیں ان کے پیرو لوگ کہیں گے اے پروردگار ہمارے ہم نے تابعداری کی اپنے امیروں اور برے علماء کی اور تیرے رسول کا کہا نہ مانا اس لیے دنیا میں ہم گمراہ رہے اے پروردگار دگنا عذاب اور لعنت کر ان کے حشر اور قیامت کے منکر لوگ مسخراپن کے طور پر قیامت کی جلدی جو کرتے تھے ان کو ڈرایا کہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کا یہ برا انجام ہوگا ‘ یہ طاؤس بن کیسان حسن بصر کے رتبے کے ثقہ تابعینوں میں ہیں اور حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایتیں ہیں۔
علی بن طلحہ حضرت بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ کرتے ہیں (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 522 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 224 ج 5) کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت میں امانت کا جو ذکر ہے اس سے مرادوہ باتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے انسان پر فرض کیا ہے جن کے ادا کرنے سے انسان کی نجات ہوسکتی ہے نہیں تو انسان کے لیے بڑی خرابی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صححت قول کے موافق امانت کے لفظ میں وہ سب حقوق داخل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ذمہ کئے ہیں مثلا توحید عبادت اور اس لفظ میں وہ حقوق بھی داخل ہیں جو ندوں پر شریعت نے لگائے ہیں مثلا امانت کی چیز یا مانیر ہوئی چیز کا نیک نیتی سے واپس کرنا ان سب حقوق کو امانت داری سے ادا کرنے کی امانت کو اللہ تعالیٰ نے آسمان زمین اور پہاڑوں کے روبرو پیش کیا تھا اور فرمایا تھا کہ اگر اس امانت کو تم پورے طور پر ادا کرو گے تو تم کو بڑا اجر ملے گا اور اگر تم اس امانت کو پورے طور پر ادا کرسکو گئے تو تم کو سخت عذاب بھگتنا پڑے گا اس طرح سے وہ ب ڈرے اور اس امانت کو انہوں نے قبول نہیں کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو حضرت آدم (علیہ السلام) کے روبرو پیش کیا انہوں نے اپنے لیے اپنی اولاد کے لیے اس امانت میں خیانت کرے گی اور اس امانت کو پوری طرح سے ادا نہ کرسکے گی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان بڑا نادان ہے بغیر انجام کے سوچے اتنا بڑا بوجھ اپنے سرپرلے لیا اور پھر انسان کی تسکین کے لی یہ بھی فرمادیا کہ جو شخص اس امانت میں کسی طرح کی خیانت کرنے کے بعد تو بہ استغفار کرے گا تو اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ہاں جو شخص مرتے دم تک اسی خیانت میں شرک اور نفاق کے سبب سے گرفتار رہے گا تو وہ بلاشک عذاب آخری میں پکڑا جاوے گا۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس ؓ کی معتبر روایت اوپر 2 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (2 ؎ بحوالہ مشکوۃ باب استحباب لمال والعمر للطاعۃ فصل دوسری۔ ) کہ جو شخص عمر پھر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کاموں میں لگا رہا ہے اور موت سے پہلے موت کے بعد کا کچھ سامان نہ کرے گا وہ بڑا نادان ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ دنیا کے انتظام کو دیکھ کر ہر صاحب عقل شخص سمجھ سکتا ہے کہ اتنا بڑا انتظام کھیل تماشے کے طور پر نہیں ہے بلکہ اس انتظام انجام وہی ہے جس کے سمجھانے کے لیے آسمانی کتابیں لے کر اللہ کے رسول دنیا میں آئے ہیں کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ پیدا ہونا اور نیک وبد کی جزا وسزا ضروری ہے تاکہ دنیا کا پیدا ہونا ٹھکانے سے لگ جائے جو شخص سمجھانے کے بعد بھی اس انجام کا منکر یا اس سے غافل ہے وہ بڑانادان ہے یہ حدیث ظلوماجھولا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اپنی پیدایش کے انجام سے بیخبر ہیں وہ بڑے نادان ہیں۔
Ayahs 33:71–7373۔ اس آیت سے پہلی آیت میں امانت کا ذکر تھا آیت کے پہلے ٹکڑے میں جس امانت کا ذکر تھا آیت کے اس مخری ٹکڑے میں اس مانت کا یہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو منافق اور مشرک لوگ اس امانت میں خیانت کریں گے ان پر عذاب ہوگا اور جو ایماندار لوگ اس امانت کی شرط کو پورا کریں گے وہ اللہ کی رحمت کے قابل ٹھہریں گے منافق وہ تھے جو ظاہر میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے اور باطن میں اسلام کے بدخواہ تھے مشرک وہ جو ظاہر اور باطن میں کھلم کھلا اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے پر اور اس کے رسول مقبول صلے ﷺ کی مخالفت کرنے پر ہر وقت آمادہ و تیار رہتے تھے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے معاذبن جبل ؓ کی حدیث 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ بحوالہ مشکوۃ کتاب الایمان فصل اول۔ ) جس میں اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں پھر اس حق کے ادا ہونے کے بعد بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہوگا کہ وہ اپنے ایسے بندوں کی مغفرت فرماوے ‘ حضرت عبداللہ اللہ بن عباس ؓ نے آیت میں کے لفظ امانت کی جو تفسیر فرمائی ہے اس صحیح حدیث سے اس تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ شرک اور نفاق کی خیانت سے بچنے کی جو شرط حق الٰہی کے ساتھ حدیث میں ہے وہی ہر طرح کی خیانت سے پچنے کی شرط امانت میں ہوا کرتی ہے اس حدیث اور آیت کو ملانے کے بعد پوری آیت کی تفسیر کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کا گیا کہ جو شخص بشریت کے تقاضے سے حق الٰہی کے ساتھ حدیث میں ہے وہی ہر طرح کی خیانت سے بچنے کی شرط امانت میں ہوا کرتی ہے اس حدیث اور آیت کو ملانے کے بعد پوری آیت کی تفسیر کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ جو شخص بشریت کے تقاضے سے حق الٰہی کی امانت میں کچھ خیانت کر بیٹے گا اور پھر خالص دل سے توبہ کر کے امانتداری کی حالت پر جم جاوے گا تو اللہ غفور رحیم ہے وہ اس کی مغفرت فرماوے گا ہاں جو شخص مرتے دم تک شرک ونفاق کی خیانت حق الٰہی میں کرے گا وہ آخرت کے عذاب میں پکڑا جاوے گا کس لیے کہ انتظام الٰہی کے موافق دنیا کے پیدا ہونے کی بنیاد اس جزا وسزا کے فیصلہ پر قائم ہوئی ہے یہی انتظام آسمان زمین اور پہاڑوں کو جتلایا گیا تھا جب انہوں نے ذمہ داری سے ڈر کر اس انتظام کو اپنے ذمہ نہیں لیا اور سب بنی آدم کے باپ آدم ( علیہ السلام) نے اس انتظام کو اپنے ذمہ لے لیا تو سب بنی آدم کو اس عہد پر قائم رہنا چاہئے کیوں کہ الست بربکم کے جواب میں سب بنی آدم ( علیہ السلام) نے بھی عہد کا اقرار کیا ہے جس کا ذکر سورة الاعراف میں گزر چکا۔