33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 33:36–40

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 33:36 in the Quran reader

اور کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب خدا اور اس کا رسول کوئی امر مقرر کردیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ صریح گمراہ ہوگیا

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اور جب تم اس شخص سے جس پر خدا نے احسان کیا اور تم نے بھی احسان کیا (یہ) کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو اور خدا سے ڈر اور تم اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ کرتے تھے جس کو خدا ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ خدا اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو پھر جب زید نے اس سے (کوئی) حاجت (متعلق) نہ رکھی (یعنی اس کو طلاق دے دی) تو ہم نے تم سے اس کا نکاح کردیا تاکہ مومنوں کے لئے انکے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے) میں جب وہ ان سے (اپنی) حاجت (متعلق) نہ رکھیں (یعنی طلاق دے دیں) کچھ تنگی نہ رہے اور خدا کا حکم واقع ہو کر رہنے والا تھا

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

پیغمبر ﷺ پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے انکے لئے مقرر کردیا اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے اور خدا کا حکم ٹھہر چکا تھا

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

(اور) جو خدا کے پیغام (جوں کے توں) پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور خدا کے سواء کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور خدا ہی حساب کرنے کو کافی ہے

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

36 تا 40۔ تفسیر سدی تفسیر ابن جریر اور تفسیر ابن مردو یہ وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 2037201 ج 5۔ ) اس کا حاصل وہی ہے جو شاہ صاحب نے موضح القران میں بیان کیا ہے کہ حضرت زنیب ؓ اور ان کے راضی نہیں تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مختصر طور پر یہ شان نزول صحیح بخاری 3 ؎ میں بھی انس بن مالک ؓ کی روایت سے ہے (3 ؎ صفحہ 706 ج 2 کتاب التفسیر۔ ) اب اس زنیب ؓ کے قصہ میں اللہ تعالیٰ نے خفگی سے آنحضرت ﷺ کو یہ جو فرمایا ہے کہ اے نبی جس چیز کو اللہ دنیا میں ظاہر کرنا چاہتا ہے اس کو تم اپنے دل ہی دل میں کیوں چھپاتے ہو اگرچہ مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے طرح طرح کے معنے بیان کئے ہیں اور کچھ آثار بھی اپنے معنوں کی تائید میں ذکر کئے ہیں مگر حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری 1 ؎ میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی روایت اور کوئی معنے صحیح نہیں ہیں جو تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں بیان کئے گئے ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت آنحضرت ﷺ نے زید ؓ اور حضرت زنیب ؓ کا نکاح کیا اسی وقت اللہ تعالیٰ نے وحی خفی کے طور پر آنحضرت ﷺ کے دل میں یہ بات ڈال دی تھی کہ زمانہ جاہلیت کی یہ رسم اب آئندہ قائم نہ ہونے گی کہ متبنبیٰ بیٹا اور اصلی بیٹا شریعت میں برابر گنا جاوے اور متبنی کی بیوی متبنی لینے والے کو حلال نہ ہو اور اس رسم کو اللہ تعالیٰ زید ؓ اور زنیب ؓ کے نکاح کے برس ہی دن کے بعد یوں موقوف فرما دیوے گا کہ زید ؓ اور زنیب ؓ کے تمہارے نکاح میں آویں گی لیکن یہ رسم عرب میں ایک بڑی قدیمی رسم تھی اس واسطے آنحضرت ﷺ نے اس وحق خفی کی بات کو صریح آیت کے نازل ہونے سے پہلے اس خیال سے لوگوں پر ظاہر نہیں فرمایا کہ ایک قدیم رسم کے ٹوٹنے سے لوگوں میں ایک کھل بلی مچ جاوے گی اسی پر اللہ تعالیٰ کی خفگی ہوئی اس کے سوا جو کچھ مفسروں نے لکھا ہے اس سب کو حافظ 2 ؎ ابن کثیر (رح) اور حافظ ابن حجر (رح) نے ضعیف 3 ؎ ٹھہرایا ہے اور خود قرآن شریف سے بھی اس تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ اے نبی ﷺ جو بات تمہارے دل میں ہے اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کرنے والا ہے پھر آگے اللہ تعالیٰ نے جو ظاہر فرمایا وہ یہی ہے کہ جاہلیت کی رسم موقوف اور متبنی کی بی بی کا نکاح متبنے لینے والے کو جائز ہے اگر اس کے سوا کوئی اور بات آنحضرت ﷺ کے دل میں ہوتی مثلا نکاح سے پہلے حضرت زنیب ؓ کے نکاح کی خواہش یا ان کی الفت یا ان کی خوبصورتی کی عظمت تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق ضرور اس کا ذکر قرآن شریف میں فرمایا ‘ زنیب ؓ کی ماں کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب اور زنیب ؓ کے بھائی کا نام عبداللہ بن حجش ہے جب اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں سے یہ درخواست کی کہ زنیب ؓ کا نکاح زید ؓ بن حارثہ سے کردیا جاوے تو ان لوگوں نے اس درخواست کے منظور کرنے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ پہلی آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ امیمہ ؓ بنت کسی کام کا کرنا ٹھہراویں تو یہ لوگ اس کام کے پورا ہونے میں خلل ڈالیں کیوں کہ یہ خلل گناہ ہے اور جو شخص ایسا رشتہ دار زنیب ؓ کا نکاح زید بن حادثہ ؓ کے ساتھ کردینے کو راضی ہوگئے اور نکاح ہوگیا اور پھر اس نکاح کے بعد زید ؓ اور زنیب ؓ کی جب موافقت نہ ہوئی اور زید ؓ نے زینب ؓ کی بد زبانی کی شکایت اللہ کے رسول ﷺ کے روبرو پیش کرکے زنیب ؓ کو چھوڑ دینا چاہا تو اللہ کے رسول نے یہ خیال سے آپ ﷺ نے زید ؓ کو وہ نصیحت کی جس کا ذکر آگے کی آیت میں ہے کہ اے رسول اللہ کے تم اپنا قدم درمیان میں ہونے کے کے طور پر جو بات اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل میں ڈال دی ہے اسی اندیشہ سے اس کو زبان پر نہیں لاتے کہ لے پالک منظور ہے جس طرح اس نے ساتھ کے ساتھ دو بہنوں کے نکاح میں رکھنے کی رسم کو مٹایا پھر فرمایا زید ؓ نے جب کہ زنیب ؓ کو چھوڑ دیا ہے اور عدت کی مدت بھی گزر چکی ہے تو اللہ تعالیٰ نے زنیب ؓ کو تمہارے نکاح میں اس لیے دیا کہ مسلمان ہو کر رہتا ہے اس کے ارادہ کو کوئی روک نہیں سکتا پھر فرمایا جو بات اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے ٹھہرادی اے نبی نہ کیا کرتے تھے پھر فرمایا نیکوں کے فرما نبرداری اور بدوں کی بدگوئی کے حساب و کتاب کے لیے اللہ کا علم کافی ہے ایک دن ان سب باتوں کا حساب و کتاب ہو کر جزاوسزا کا فیصلہ ہوجاوے گا پھر فرمایا لوگوں کے زید بن محمد کہنے سے محمد ﷺ کی اولاد کے باپ نہیں ہوسکتے وہ تو غیروں کے حق میں اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں پھر فرمایا اللہ کا علم نکاح پر بعضے عیسائیوں نے اور ان کے دیکھا دیکھی بعضے آریوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں طرح طرح کو بدگوئی جو کے ہے واللہ احق ان تخشاہ سے اس بدگوئی کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے یہ کردیا ہے کہ اے رسول اللہ نے یہ کردیا ہے کہ اے رسول اللہ کے تم کو لوگوں کی بدگوئی سے کچھ نہ ڈرنا چاہئے بلکہ تم اللہ سے ڈرو اور جس طرح اللہ کو منظور ہے کہ شرک کے زمانہ کے ایک رسم آئندہ قائم نہ رہے اس کے موافق تم کو بلاتا مل عمل کرنا چاہئے قصہ زید ؓ آریوں اور عیسائیوں کے جو بات ‘ اس فیصلہ قرآنی کے بعد اگرچہ مسلمانوں کو کسی بدگو کی بدگوئی کا کچھ اندیشہ نہیں لیکن مخالفوں کے قائل کرنے کے لیے بعضے مسلمانوں نے اس بدگوئی کا جو جواب دیا ہے اس کا خلاصہ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔ (1) ملت ابراہیمی میں ساتھ کے ساتھ دو بہنوں سے نکاح کر جائز تھا اس لیے یعقوب (علیہ السلام) کے نکاح میں لیا اور راحیل یہ دو بہنیں ساتھ کے ساتھ موجود تھیں جس کا ذکر تورات کے حصہ سفر التکوین باب 29 میں ہے ‘ شریعت موسوی میں ملت ابراہیمی کا یہ مسئلہ منسوخ ہوگیا جس کا ذکر توراۃ کے حصہ سفر الاحبار کے باب 18 میں ہے۔ (2) صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ لے پالک کو اصلی بیٹا قرار دینے کا طریقہ زمانہ شرک کا ایک طریقہ تھا پہلی کسی شریعت میں اس کا کوئی حکم نہیں ہے۔ (3) لے پالک کو اصلی بیٹا قرار دینے کا طریقہ اگر پہلے کی شریعت کے حکم سے ہوتا اور قرآن سے وہ حکم منسوخ ہوجاتا تو اس صورت میں بھی عیسائی لوگ اسلام پر کچھ اعتراض نہیں کرسکتے تھے کیوں کہ مسلمان لوگ عیسائیوں کو یوں قائل کردیتے کہ جس طرح تو رات نے ملت ابرہیمی کے ایک مسئلہ کو منسوخ کیا اسی طرح قرآن نے بھی پہلے کی شریعت کے ایک مسئلہ کو منسوخ کردیا یہاں تو عیسائی لوگوں کی یہ ہٹ دھرمی ہے کہ زمانہ شرک کی ایک رسم کو قرآن نے مٹایا ہے جس سے قرآن ان کے نزدیک قابل اعتراض ہے اگرچہ اس ہٹ دھرمی کے جواب میں مسلمانوں نے بارہا تحریری اور تقریری مناظرے کر کے عیسائیوں کو یہ جتلایا کہ اگر کسی آسمانی کتبا میں اس اعتراض کی تائید کا کوئی مسئلہ ہو تو پیش کیا جائے لیکن سوا قدیمی بدگوئی کے آج تک مسلمانوں کو کوئی جواب نہیں ملا جس نتیجہ یہ ہے کہ زمانہ شرک کی ایک رسم کے مٹا دینے کا الزام عیسائیوں کی طرف سے اگر نبی آخر الزمان اور قرآن پر قائم ہوسکتا ہے تو اس سے بڑھ کر یہ الزام مسلمانوں کی طرف سے حضرت موسیٰ اور تو رات پر قائم ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور تو رات نے ملت ابراہیمی کے ایک مسئلہ کو مٹا دیا۔ فرقہ آریہ کی بدگوئی کا جواب اہل اسلام نے دیا ہے اس کا خلاصہ بھی ذیل میں بیان کیا جاتا ہے۔ (1) جس طرح محمد ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق واوحی الی ھذا القرآن سے یہ جتلایا ہے کہ قرآن وہ الہامی کتاب ہے جو محمد ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور الہام کے نازل ہوئی ہے اس طرح رشیوں نے کسی وید میں یہ نہیں جتلایا کہ وید الہام کے ذریعہ رشیوں پر نازل ہوئے ہیں پھر جو فرقہ اپنی کتاب کو آسمانی کتاب نہیں ثابت کرسکتا اس کو اسمانی کتاب پر بدگوئی کا حق کیوں کر حاصل ہوسکتا ہے۔ (2) عیسائیوں سے تو آج تک یہ نہیں ہوسکا کہ وہ اپنی بدگوئی کی بنیاد پر کسی آسمانی کتاب سے کوئی سند قائم کرتے آریہ لوگ اس بدگوائی میں اگر عیسائیوں کے مددگار بنے ہیں تو جو کام عیسائیوں سے پورا نہ ہوسکا اس کو آریہ لوگ ہی پورا کر کے دکھا دیں۔ (3) اہل اسلام کی بعض ضعیف روایتوں کے بھروسہ پر یہ جو کہا جاتا ہے کہ نکاح سے پہلے محمد ﷺ نے زنیب ؓ کو دیکھا جس سے زنیب ؓ کی الفت محمد ﷺ کے دل میں پیدا ہوگئی اس لیے باطن میں تو محمد ﷺ یہ چاہتے تھے کہ زید ؓ زنیب ؓ کو طلاق دے دیویں تو خود زنیب ؓ سے نکاح کرلیں اور ظاہر میں زید ؓ کو ولی رادہ کے برخلاف نصیحت کرتے تھے حالانکہ دل میں کچھ اور زبان پر کچھ یہ بات نبوت کی شان سے بہت بعید ہے اس کا جواب اوپر گزر چکا کہ معتبر علماء اسلام کے نزدیک یہ روایتیں صحت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتی ہیں عیسائی فرقوں میں جس طرح مثلا پر ولسیٹنٹ فرقہ باقی عیسائیوں کی روایتوں کو ضعیف ٹھہرا کر نہیں مانتے اسی طرح باقی کے فرقوں کہ لوگ اس فرقہ کو نہیں مانتے یا مثلا آریہ دید کی تفسیروں میں سوائے دیا نند کی تفسیر کے اور قدیمی مفسروں کی تفسیروں کو نہیں ماننے اسی طرح اہل اسلام میں صحیح روایتوں کے پابند مسلمان ان ضعیف روایتوں کو نہیں مانتے پھر یہ کیا زبردستی ہے کہ یہ لوگ اپنے مذہبوں میں تو صحیح اور ضعیف روایتوں میں فرق پیدا کرتے ہیں اور مسلمانوں کو ضعیف روایتوں کے حوالہ سے قائل کرنا چاہتے ہیں ان لوگوں کو چاہئے کہ مسلمانوں کے قواعد کے موافق پہلے ان ضعیف روایتوں کی صحت کو ثابت کر کے یہ بحث کریں (4) یہ جو کہا جاتا ہے کہ بغیر شرائط نکاح کے زینب ؓ کا یہ نکاح شرعی نکاح کیوں کر ہوسکتا ہے اس کا جواب اہل اسلام نے یہ دیا ہے کہ آدم اور بنی آدم سب اللہ تعالیٰ کے لونڈی غلام ہیں اور شرعی محمدی کا یہ ایک مسئلہ ہے کہ عورت کے رشتہ داروں میں سے کوئی رشتہ دار کسی عورت کو یا لونڈی کے مالکوں میں سے کوئی مالک اپنی لونڈی کو زوجنا کھا کہہ کر کسی مرد کو سونپ سہل بن سعد کی حدیث کے موافق صحیح بخاری میں اس مسئلہ کا خاص ایک باب 1 ؎ ٹھہرا کر امام بخاری نے اس مسئلہ کا ذکر کیا ہے (1 ؎ باب اذا قال الخاطب للولی زوجنی فلاتۃ فقال قد زوجتک بکذاوکذ اجازا لنکاح الخ۔ ) حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا کے مالکھوں کی زبان سے جس لفظ کے نکلنے سے شرعی نکاح صحیح ہوجاتا ہے روبرو یہ آیت نازل ہوئی یا جتنے مسلمان اس نکاح کے ولیمہ میں شریک ہوئے جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح بخاری کو الزام دینے کے لیے شرع محمدی کے موافق تو کسی بحث کی گنجائش ہرگز باقی نے رہی اور عقلی بحث کا ہر مسلمان یہ جواب دے سکتا ہے کہ دینی بحث اگر محض عقل سے طے ہوسکتی ہے تو عیسائی لوگ تو رات وانجیل پر اور آریہ لوگ اپنے ویدوں پر اپنی مذہبی باتوں کا دارو مدار کیوں رکھتے ہیں۔ (5) یہ جو کہا جاتا ہے کہ اسلام میں اس بدگوئی کے قابل نکاح کی ضرورت ہی کیا تھی اس کا جواب اوپر گذر چکا ہے کہ جس طرح تو ریت انجیل قرآن شرک کی رسمیں مٹانے کی ضرورت سے نازل ہوئے اسی طرح زمانہ شرک کی ایک رسم مٹانے کے لیے یہ آیتیں نازل ہوئیں جس میں اس نکاح کی تاکید ہے جو عیسائی اس ضرورت کا قائل نہ ہوگا اس سے پوچھا جاوے گا کہ تو رات و انجیل کس ضرورت سے نازل ہوئیں اسی طرح فرقہ آریہ کے لوگ اگر مذہبی ضرورتوں کے قائل نہ ہوں گے تو ان کے وید بلا ضرورت قرار پاویں گے اگرچہ آریوں کے گرو سوا میں دیا نند نے سیتارتھ پر کاش میں لکھا ہے کہ خاندان کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے آریہ لوگ اپنی ذات والے کا لڑکا گود میں لے کرلے پالک بنا سکتے ہیں ‘ اب یہ تو ظاہر ہے کہ مثلا ایک فقیر اپنے آپکو بادشاہ کہوے تو قانون قدرت کے موافق وہ بادشاہ نہیں ہوسکتا اسی طرح قانون قدرت کے موافق خاندان کا سلسلہ تو اسی شخص کا جاری رہے گا جس کے نطفہ سے وہ لے پالک لڑکا پیدا ہوا ہے لیکن آریہ مذہب میں یہ لے پالک کا مسئلہ ایک خیالی مسئلہ ہے جو جاری ہے اور تعجب یہ ہے کہ باوجود اس خیالی مسئلہ کی پابندی کے اس آریہ فرقہ کا دعویٰ اکثر بحثوں میں یہ ہے کہ جو مسئلہ قانون قدرت کے خلاف ہو وہ غلط ہے ‘ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ جب بےاولاد آریوں کے خاندان کا سلسلہ لے پالک سے جاری رہ سکتا ہے تو پھر نیگ 1 ؎ کے مسئلہ کی کیا ضرورت ہے۔ نیوگ کے مسئلہ کا ذکر سورة طلاق آوے گا۔ (1 ؎ آریوں کا ایک مشہور مسئلہ (ع ‘ ح )
Ayahs 33:41–44

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے اہل ایمان خدا کا بہت ذکر کیا کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی پاکی بیان کرتے رہو

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اسکے فرشتے بھی تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور خدا مومنوں پر مہربان ہے

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ اس سے ملیں گے انکا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے

41 تا 43۔ اس آیت کے اوپر کے ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ کی یاد کثرت سے کرنے کا اور تسبیح و تہلیل کا ذکر تھا اس لیے اس کے ساتھ ہی آیت کے دوسرے ٹکڑے میں یاد الٰہی کے فائدہ کا ذکر فرمایا بڑا فائدہ ذکر الٰہی کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فاذکرونی اذکرکم صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 2 ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اس آیت کی تفسیر یوں آئی ہے (2 ؎ مشکوۃ 196 باب ذکر اللہ عزوجل والتقرب الیہ۔ ) جو شخص مجھ کو تنہائی میں یاد کرے گا تو میں بھی اس کو تنہائی میں یاد کروں گا اور جو شخص مجھ کو آدمیوں کی جماعت میں یاد کرے گا تو میں اس کو فرشتوں کی جماعت میں یاد کروں گا جو آدمیوں کی جماعت سے بہتر ہے اسی طرح یاد الٰہی کی فضیلت میں اور بہت سی حدیثیں آئی ہیں علما نے اسلا نے یاد الٰہی کی فضیلت کو اور یاد الٰہی کے روایتوں کو ایک جگہ کرنے کی غرض سے اس باب میں خاص کتابیں تصنیف کی ہیں شیخ محی الدین بھی بن شرف نووی کی ایک تاب جس کا نام ” اذکار “ ہے اس باب میں بہت لاجواب اور بےمثل ہے۔ اب آقا کے اپنے غلام کو یاد رکھنا یہی ہے کہ آقا کی نظر عنایب غلام پر رہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آیت کے اس ٹکڑے میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی یاد میں لگے رہتے ہیں ان پر اللہ کی رحمت اترتی ہے اور قاعدہ کی بات ہے کہ آقا کی نظر عنایت غلام پر رہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آیت کے اس ٹکڑے میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی یاد میں لگے رہتے ہیں ان پر اللہ کی رحمت اترتی ہے اور قاعدہ کی بات ہے کہ جس غلام پر خود بادشاہ مہربان ہوتا ہے اس پر بادشاہ کے سب دربار کے لوگ بھی مہربان ہوجاتے ہیں اسی واسطے فرمایا ہے کہ یاد الٰہی میں مصروف رہنے والے لوگوں پر اللہ کی مہربانی کی نگاہ دیکھ کر فرشتے بھی ایسے لوگوں کی مغفرت کی دعا مانگتے رہتے ہیں جس طرح فرشتوں کو رات دن سوا ذکر اللہ اور یاد الٰہی کے اور کچھ کام نہیں ہے اسی طرح انسانوں میں سے جو لوگ ہر وقت یاد الٰہی میں مصروف رہتے ہیں ان کو بھی فرشتوں کے ساتھ ایک طرح کی مناسبت پیدا ہوجاتی ہے اس لیے فرشتے ایسے لوگوں کے حق میں دعا خیر کرتے رہتے ہیں جس دعا کا پورا مضمون ؎ حٓمٓ عٓسٓقٓ میں آوے گا مسند امام احمد ترمذی ترمذی اور ابن ماجہ میں ابودردلو سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوٰۃ) جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس شخص کو یاد الٰہی کا مشغلہ ہے وہ صرقہ دینے والوں اور جہاد کرنے والوں سب سے افضل مشغلہ میں ہے صحیح بخاری میں حضرت عمر ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوٰۃ ص 207 باب (سعۃ رحمتہ اللہ تعالیٰ ) فصل اول و تفسیر ابن کثیر) جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی لڑائی میں کچھ قیدی آئے تھے ان میں ایک عورت بھی تھی اس عورت کا بچہ اس سے بچھڑ گیا تھا کچھ دیر کے بعد اس عورت نے اپنے بچہ کو دیکھ لیا۔ دیکھتے ہی اس بچہ کو اس عورت نے بہت پیار کیا اور دودھ پلایا یہ معاملہ دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ کیا یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں ڈالنے پر راضی ہوگی صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا جس قدر یہ عورت اپنے بچہ سے مہربانی اور الفت سے پیش آئی ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے اس حدیث کے موافق جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس قدر مہربان ہے تو جن لوگوں سے خاص ور پر اللہ تعالیٰ نے مہربانی اور رحمت کا وعدہ فرمایا ہے اس کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کس سلوک سے پیش آئے گا حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے ایماندار لوگو ! دل سے زبان سے ہاتھ پیروں سے ذکر الٰہی لگے رہو اور نمازوں میں سے صبح اور عصر کی نماز کا بڑا خیال رکھو کہ صبح کی نماز کا وقت غفلت کا یہ ہے اور عصر کی نماز کا وقت کام کاج کا و سجود بکوۃ واصیلا کی تفسیر قتادہ نے یہی کی ہے جو بیان کی گئی کہ آیت کا ٹکڑا صبح اور عصر کی نماز کی تاکید میں ہے ‘ صحیح بخاری و میں ابوموسیٰ اشعری ؓ سے اور فقط مسلم میں عمارہ بن رویبہ سے جو صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت کی 3 ؎ روایتیں ہیں (3 ؎ مشکوٰۃ ص 62 باب فضائل الصلوٰۃ۔ ) ان سے قتادہ ؓ کی تفسیر کی پوری تائید ہوتی ہے اب آگے فرمایا کہ جو لوگ ذکر الٰہی اور نماز صبح اور عصر کے پابند ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فرشتوں کی دعاء خیر کی برکت سے وہ گمراہی کے اندھیروں سے راہ راست کے اجالے میں رہیں گے کیوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر مہربان ہے وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو دنیا میں راہ راست پر رکھے گا اور عقبے میں اس کے اجر میں ان کو جنت میں داخل کرے گا جہاں یہ لوگ خوشی سے آپس میں سلا علیک کریں گے جس سلام علیک کا مطلب گویا یہ مبارک باد ہوگی کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دوزخ کے عذاب سے بچا کر امن امان سے جنت میں داخل کیا۔ ابن ماجہ مسند بزار تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ الترغیب ص 553 ج بروایت ابن ماجہ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کا سلام بھی پہنچا کرے گا ‘ اس حدیث کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی کو اگرچہ اکثر علماء نے صنعیف قرار دیا ہے لیکن سورة یٰسین میں آوے گا سلام قولا من رب رحیم جس سے اس روایت کی پوری تائید ہوتی ہے علاوہ اس کے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ ص 573 باب مناقب ازواج النبی ﷺ جس میں یہ ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) حضرت خدیجہ ؓ کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچایا کرتے تھے اس حدیث سے بھی جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت کی تائید ہوتی ہے کیونکہ جن لوگوں کا دنیا میں یہ رتبہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچتا ہے تو جنت میں ان کا رتبہ وہی رہے گا اسی واسطے امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول بھی جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت کے موافق ہے۔
Ayahs 33:45–50

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے پیغمبر ہم نے تم کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور خدا کی طرف بلانے والا اور چراغ روشن

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مومنوں کو خوشخبری سنا دو کہ ان کے لئے خدا کی طرف سے بڑا فضل ہے

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا اور نہ ان کے تکلیف دینے پر نظر کرنا اور خدا پر بھروسہ رکھنا اور خدا ہی کارساز کافی ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

مومنو ! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کر کے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے انکے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے) بطور مال غنیمت دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہارے خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہیں لیکن) یہ اجازت (اے محمد ﷺ خاص تم کو ہی ہے سب مسلمانوں کو نہیں ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

45 تا 50۔ مسند اما احمد اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 496 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صفتیں نبی آخر الزمان ﷺ کی اس پہلی آیت میں ہیں وہی صفتیں آپ کی تورات میں ہیں مسند امام احمد صحیح بخاری ترمذی وغیرہ کی روایتوں سے سورة بقرہ میں گزر چکا 4 ؎ ہے (4 ؎ صفحہ 128 جلد اول تفسیر ہذا۔ ) کہ سوائے امت محمد ﷺ یہ کے اور نبیوں کی امتیں اپنے انبیاء کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جھٹلادیں گے اور یہ کہویں گے کہ ہم کو کسی نبی نے اللہ کا حکم نہیں پہنچایا آخر قرآن کے حوالہ سے نبی آخرالزمان ﷺ کی امت کی اور محمد ﷺ کی گواہی پر یہ معاملہ طے ہوگا اور سب اللہ کے روسل سچے ٹھہریں گے اسی کو فرمایا کہ اے نبی تم کو اللہ نے دنیا میں گواہ بنا کر بھیجا ہے مبشر اونذیرا کے معنے فرما نبرداروں کو جنت کی خوشخبری سنانا اور نافرمانوں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرانا اور جو ڈر کر راہ راست پر مجاویں ان کو اللہ کے فضل اور مہربانی کا امید دار کرنا ‘ پھر فرمایا جو کافر اور منافق تمہارے رسالت کے کام میں فتور ڈالیں تو اے رسول اللہ کے ان کا کہنا نہ سنو اور ان کی جہالت کی باتوں پر صبر کر کے اپنے کام کے پورا کرنے میں اللہ پر بھروسہ رکھو اللہ تمہارا کام بنانے والا ہے داعیا الی اللہ باذنہ کا یہ مطلب ہے کہ تم اللہ کے حکم سے لوگوں کو نیک راستہ سکھاتے ہو ‘ سراجا منیرا کا یہ مطلب ہے کہ جو تمہاری نصیحت پر عمل کرے گا اس کا دل نور ایمان سے روشن ہوجاوے گا ‘ پھر فرمایا اے ایمان والو ! جب تم نکاح کرو ایمان والیوں کو پھر طلاق دو ان کو پہلے اس سے کہ تم ان سے دل نور ایمان سے روشن ہوجاوے گا پھر فرمایا اے ایمان والو ! جب تم نکاح کرو ایمان والیوں کو پھر طلاق دو ان کو پہلے اس سے کہ تم ان سے دل نور ایمان سے روشن ہوجاوے گا پھر فرمایا اے ایمان والو ! جب تم نکاح کر وامیان والیوں کو پھر طلاق دو ان کو پہلے اس سے کہ تم ان سے صحبت کرو تو ان پر تمہارا کچھ حق عدب کے پورا کرنے کا نہیں ہے ان کو فائدہ پہنچا کر اچھی طرح رخصت کرو مطلب یہ ہے کہ صحبت سے پیشتر جب تم طلاق دو تو پھر عورتوں کو عدت میں بٹھانے کا کچھ حق نہیں کہ تم ان سے عدت کے دنوں کو گنتی پوری کر اؤیہ مسئلہ اتفاقی ہے کسی کا اس میں خلاف نہیں کہ صحبت سے پیشتر طلاق دی جاوے تو عورت کو اختیار ہے کہ فی الفور جس سے چاہے نکاح کر لیوے ایسی عورت کو کچھ فائدہ اپنی حیثیت کے موافق دے کر اچھی طرح رخصت کر دو صحیح بخاری 1 ؎ میں ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 498 ج 3‘) کہ پیغمبر صلعم نے امیمہ نبت شراحیل سے نکاح کیا جب آپ ﷺ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھا یا تو اس کو یہ بات ناپسند ہوئی اس پر حضرت ﷺ نے ابو اسید سے فرمایا کہ اس کو کچھ کپڑے دے دوعلی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اگر عورت کا مہر دے چکے ہو وہ اللہ نے تم پر حلال کردیں ہیں حضرت ﷺ کی بی بیوں کا مہر پانچ سودر ہم تھا مگر اس حکم سے تین بی بیاں مستثنیٰ ہیں ایک تو ام حبیبہ ؓ کہ ان کا مہر نجاشی بادشاہ حبشہ نے چار سو دینا دیا دوسری صفیہ ؓ کہ ان کو پیغمبر ﷺ نے خیبر کے قیدیوں میں سے پسند کر کے ان کا مہر انہیں آزاد کرنے کو ٹھہرایا ‘ تیسری جو یر یہ بنت حارث ؓ کہ حضرت نے ان کو کچھ مال دے کر ان سے عقد کرلیا 2 ؎ پھر فرمایا اے نبی اللہ نے تم کو وہ عورتیں بھی جائز کردیں ہیں (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 399 ج 3۔ ) جو تم نے غنیمت کے مال سے لی ہیں اور چچا اور پھوپھیاں اور خالہ اور ماموں کی بیٹیاں جنہوں نے ہجرت کی وہ بھی حلال کردیں نصاریٰ حب تک عورت مرد کے درمیان سات پشت یا زیادہ کا فاصلہ نہ ہوتا تو نکاح درست نہ جانتے تھے اور یہود بھانیل بھتیجی کو بھی حلال سمجھتے تھے اس شریعت محمد ﷺ یہ میں یہ بات قائم نہ رہی پھر فرمایا اے رسول ﷺ اگر کوئی ایماندار عورت اپنے آپ کو تمہیں بخشش دیوے اور تم چاہتے (رح) ہو اس سے نکاح کرنا تو تم کو اس سے بغیر مہر کے نکاح کرنا درست ہے یہ بات خاص تمہارے لیے ہے اور ایمان والوں کے لیے نہیں ہے امام احمد امام بخاری مسلم ترمذی نسائی اور ابوداؤ (نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک عورت نے عرض کیا کہ میں نے اپنی جان آپ کو بخش دی پھر دیر تک کھڑی رہی اس کے بعد ایک شخص نے اٹھ کر عرض کیا یارسول اللہ اگر آپ کو اس کی حاجت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس مہر کے واسطے کوئی چیز ہے اس نے عرض کیا میرے پاس تو یہی تہ بند ہے آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو نے اس کو اپنی چادر دے دی تو تو بےچادر بیٹھا رہے گا گا کوئی چیز تلاش کر کے لیے آ اس نے عرض کیا مجھے کچھ بھی نہیں ملتا آپ نے فرمایا کچھ ڈھونڈ کرلے آ اور کچھ نہیں تو لو ہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی پھر اس نے ڈھونڈا مگر اسے کچھ بھی نہیں ملا تو حضرت ﷺ نے اور سے دریافت کیا کہ تجھے کچھ قرآن بھی یاد ہے اس نے کئی سورتیں بتائی یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس قدر تجھے قرآن یاد ہے اس کے بدلے میں نے اس عورت کا نکاح تجھ سے کردیا یہ حدیث خالصۃ لک من دون المومنین کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنے آپ کو اللہ کے رسول ﷺ کے حوالہ میں سونپ کر بغیر مہر کے نکاح پر راضی ہو اور اللہ کے رسول اس عورت کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کرنا چاہیں تو اس نکاح میں مہر کی ضرورت ہے ‘ قرآن کی آیتوں کو مہر ٹھہرا کر اللہ کے رسول ﷺ نے جو یہ نکاح پڑھایا اس میں ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کا اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ہے ‘ اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے تمہارے نکاح کے حکموں کے علاوہ امت کے مسلمانوں کے نکاحوں کے احکام جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں وہ بھی اللہ کے علم کے موافق ہیں کہ کسی مسلمان کو چار عورتیں سے زیادہ نکاح میں رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور ان کے ہر ایک نکاح میں عورت کے وارث کی اجازت اور گواہوں کی گواہی ضرور ہے اور لونڈیوں کو صحبت میں رکھنے کی ان کو اجازت ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ نکاح کے احکام اس واسطے تفصیل وار نازل فرمائے ہیں کہ اے نبی تم کو اور تمہاری امت کے مسلمان لوگوں کو اس باب میں کچھ تنگی نہ رہے اور ان احکام کے نازل ہونے سے پہلے یہ لوگ جو بےاحتیاطی کرچکے اس کو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔
Ayah 33:51

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

(اور تم کو بھی یہ اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو اسے لے کر سب خوش رہیں اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے

51۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین کے تین قول ہیں پہلا یہ کہ اس آیت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو یہ اجازت دی ہے کہ ازواج مطہرات میں سے جس کو چاہیں حسب دستور اپنے نکاح رکھیں جس کو چاہیں طلاق دے دیں دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں فقط اس بات کی اجازت ہے کہ ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری برابر یا کمتی بڑھتی جس طرح ہیں یا رشتہ داروں میں جن عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی ہے یہ آیت ان عورتوں کے حکم میں ہے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر آنحضرت ﷺ کو یہ اجازت دی ہے کہ ان میں سے جس عورت کو آپ چاہیں اپنی خدمت میں کی ہیں ان سے فقط دوسرے اور تیسرے قول کو تائید ہوتی ہے چناچہ حضرت عائشہ ؓ کی پہلی روایت کا حاصل یہ ہے کہ جو عورتیں اپنے آپ کو نذر کے طور پیش کیا کرتی تھیں اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے مجھ کو ان عورتوں کے حال پر کچھ غیرت اور شرم آیا کرتی تھی جب یہ آیت نازل ہوئی تو مجھ کو معلوم ہوا کہ یہ بات اللہ کی مرضی کے موافق ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر طرح کی خاطرداری ‘ آنحضرت ﷺ کی منظور ہے دوسری روایت کی حاصل یہ ہے کہ کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ ایسا بھی کیا کرتے تھے کہ آپ کی بی بیوں میں سے جس کسی کی باری ہو اس بی بی سے اجازت لے کر دوسری بی بی کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے حافظ ابوجعفرابن جریر (رح) نے ان دونوں قولوں میں آیت کی شان نزول کی شامل اور عام ٹھہرایا ہے اور حافظ ابن حجر (رح) نے بھی فتح الباری میں اس شان نزول کی ترجیح دی ہے 3 ؎ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے (3 ؎ فتح الباری ص 301 ج 4) کہ اے رسول اللہ کے اللہ تعالیٰ نے تم کو اختیار دیا ہے کہ تم اپنی بیویوں میں باری کی قید رکھویا نہ رکھو اسی طرح آیندہ جن عورتوں سے نکاح کرنے کی تم کو اجازت دی گئی ہے ان سے تم نکاح کرو یا نہ کرو اسی طرح بیویوں کو باری میں پیچھے رکھ دیا یا جن عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت تھی ان سے نکاح نہیں کیا تو اس کے ررو بدل میں بھی گناہ نہیں پھر فرمایا کہ جب تمہاری بیویاں یہ حال جان لیس گی کہ اللہ کی طرف سے تم پر باری کی قید نہیں رہی اس کے بعد بھی باری میں جو رعایت رکھی جاتی ہے وہ تمہاری طرف سے ہے تو پھر ان کو کچھ شکایت باری کی نہ رہے گی اور تھوڑے نان نقصہ میں بھی یہ رضامندی رہیں گی حاصل کلام یہ ہے کہ کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے بیویوں کی بایباری اللہ کے رسول پر واجب تھی اس آیت کہ بعد واجب نہیں رہی پھر فرمایا چند بیویوں میں سے مرد کے دل میں جن بیویوں کی محبت زیادہ ہوتی ہے یہ حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے موافق یہ حکم دیا ہے تاکہ باری کے نباہنے کی شکایت اٹھ جاوے اور اللہ تعالیٰ بردبار ہے اس واسطے بعض بیویوں کی محبت دل میں زیادہ رکھنے پر اس نے کچھ مواخذہ نہیں کیا
Ayah 33:52

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے

52۔ اس آیت کی تفسیر میں صحابہ ؓ اور تابعین (رح) کے دو قول ہیں ایک تو یہ کہ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جن عورتوں کی تفصیل بتلائی ہے کہ یا قریشی عورت مہاجر ہو تو مہر کے بعد اس سے نکاح حلال ہے یا نذر کے طور پر جو عورت اپنے آپ کو پیش کرے تو بلا مہر اس سے نکاح حلال ہے اب اس آیت کی رو سے سوائے ان دو قسموں کے اور کسی قسم کی عورت سے نکاح کسی عورت سے آنحضرت ﷺ کو نکاح کرنا جائز نہیں پہلے قول کی روایت ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے صحیح ہوچکی 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر ابن کیرو ص 502 ج 3۔ ) اور تفسیر کے باب میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول مقدم گنا جاتا ہے اس لیے یہی تفسیر صحیح ہے اور اس تفسیر کے صحیح ہوجانے کے بعد دوسرے قول کے لحاظ سے بعضے مفسروں نے اس آیت سے عورتوں کی تفصیل والی آیت کو منسوخ جو کہا ہے اس کی بھی ضرورت نہیں رہی اور آیت ترجی من تشاء سے اس آیت کو بعضے مفسروں نے منسوخ جو کہا ہے وہ قول بھی ضعیف ہے غرض ان تینوں آیتوں میں سے کوئی میت منسوخ نہیں ہے بلکہ آیت لایحل لک النساء آیت یا آیھا النبی انا احللنالک کے بیان میں ہے اور صحیح بخاری کی حضرت عائشہ ؓ کی ایک روایت جو گزر چکی جس میں ترجی من تشاء کی تفسیر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت لایحل لک النساء اور آیت ترجی من تشاء میں کچھ باہمی مخالفت نہیں ہے کیوں کہ توجی من تشاء میں یا باری کا حکم ہے یا جن عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازی دی گئی ہے اس اجازت کے عمل کو آنحضرت ﷺ کے اختیار پر چھوڑا ہے پھر اس طرح کی آیت سے دوسری آیت کو منسوخ کیوں کر کہا جاسکتا ہے اور شاہ ولی اللہ علیہ الرحمتہ نے اگر اپنے فارسی کے فائدہ میں اس آیت کو ناسخ اور پہلی آیت کو منسوخ قرار دیا ہے لیکن الفوزا لکبیر میں بڑی بحث کے بعد میں سے جن علماء نے آیت کا یہ مطلب ٹھہرایا ہے کہ بیویوں کے سوائے اور عورتوں سے نکاح کرنا آیت سے حرام ہوا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ موجود بیویوں کے سوا میت یا آیھا النبی انا احللنالک میں جن عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت تھی اس آیت لایحل سے وہ منسوخ ہوگئی اور جن علماء نے اس آیت کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ آیت انا احللنالک میں عورتوں کی جو تفصیل بتلائی گئی ہے اس تفصیل کے باہر کی کسی عورت سے نکاح جائز نہیں ہے وہ علما اس آیت لایحل کو انا الحلنالک کا بیان کہتے ہیں۔ حافظ ابو کہا جاسکتا ‘ اس صورت میں معنے آیت کے یہی ہیں کہ آیت انا احللنالک میں جن عورتوں کی تفصیل بتلائی گئی ہے اس تفصیل کے علاوہ کسی عورت سے نکاح جائز نہیں خواہ یہ نکاح پہلی بیوی کو طلاق دے کر ہو یا یوں ہی نئی عورت کی خوبصورتی کے خیال سے ہاں لونڈیاں اس حکم سے علیحدہ ہیں ‘ پھر فرمایا جو حکم اللہ تعالیٰ نے دیا اس کی نگہبانی پر وہ قادر ہے کیوں کہ کوئی چیز اس کی نگہبانی سے باہر نہیں ہے ‘ حضرت عائشہ ؓ کی یہ روایت جس کا حوالہ شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں لکھا ہے یہ صحیح سند سے مسند امام احمد ترمذی نسائی اور مستدرک حاکم 1 ؎ میں ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 212 ج 5) جب کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات سے پہلے آیت ترجی من تشمء سے لایحل لک اللنساء کا حکم منسوخ ہوگیا ‘ حضرت علی ؓ ام سلمہ ؓ اور بعضے سلف کا یہی قول ہے لیکن صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی دوروایتیں جو اوپر ترجی من تشا آء کی تفسیر میں گزر چکی ہیں ان سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ترجی من تشاء یا تو ان عورتوں کے باب میں ہے جو نذر کے طور پر اللہ کے رسول کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کیا کرتی تھیں یا آنحضرت ﷺ کی بیویوں کی باری کے باب میں ہے اس صورت میں ان صحیح روایتوں کے موافق آیت ترجی من تشاء میں ایسا کوئی عام حکم کہاں ہے جس سے انا احللنالک کی تفصیل اور اس تفصلا کی پابندی کی وہ تاکید جو لایحل لک النسآء میں ہے ان دونوں کو منسوخ ٹھہرایا جاوے اسی واسطے امام المفسریں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول یہی ہے کہ انا احللنالک کی تفصیل اور لایحل لک النسآء یک تاکید یہ دونوں منسوخ نہیں ہیں غرض اصول حدیث کے موافق حاصل کلام یہی ٹھہرتا ہے کہ صحیح بخاری کی حضرت عائشہ ؓ کی روایتوں کی ترمذی نسائی وغیرہ کی روایتوں پر ترجیح دی جاکر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کو صحیح ٹھہرایا جاوے اور آیت ترجی من تشانہء سے کسی آیت کو منسوخ نہ کہا جاوے بعضے مفسروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حدیث سے آیت لایحل لک النسآء منسوخ ہے لیکن اول تو ان مفسروں نے اس حدیث کو معین طور پر نہیں بتلایا جس سے آیت کو منسوخ کہا جاوے دوسرے اس مسئلہ پر بھی علمائے امت کا اتفاق نہیں ہے کہ حدیث سے قرآن کی کوئی آیت منسوخ ہوسکتی ہے اور یہ اوپر گزر چکا ہے کہ ایسی اختلافی حالت میں کسی آیت کو منسوخ نہیں کہا جاسکتا۔ حدیث سے کسی آیت کے منسوخ ہونے کا مطلب حدیث سے آیت کے منسوخ ہونے نہ ہونے میں جو اختلاف ہے اس کا سبب یہ ہے کہ علمائے متقدمین نے ناسخ منسوخ میں لغت کے معنوں کو اختیار کیا ہے اس لیے ان کے نزدیک ناسخ منسوخ کی یہ ایک ہی صورت ہے کہ ایک حکم سے دوسرا حکم بالکل اٹھ جاوے جیس مثلا سورة بقر کی آیت کتب علم کہ اذاحضر احد کم الموت میں بیمار شخص کو وارثوں کے حق میں وصیت کرنے کا حکم تھا پھر جب سورة النسآ کی آیت یوصیکم اللہ میں وارثوں کے حصے ٹھہر گئے تو وہ وصیت کا حکم بالکل اٹھ گیا اب علماء متقدمین کے نزدیک تمام صحیح حدیثوں میں کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے کہ جس سے قرآن کی کسی آیت کا حکم بالکل اٹھ جاوے اس واسطے وہ حدیث سے قرآن کی آیت کے منسوخ ہونے کے قائل نہیں ہیں اس لیے ان کے نزدیک کسی حدیث سے انا احللنالک کا حکم منسوخ نہیں ہوسکتا۔ علمائے متاخرین نے ایک اصلاح ٹھہرا کرنا سخ منسوخ کی بحث کی ہے اس لیے ان کے نزدیک ناسخ منسوخ کی بہت سی صوریتیں ہیں جن کی تفصیل اصول فقہ کی کتابوں میں ہے ‘ نتیجہ اس اختلاف کا یہ ہے کہ مثلا آیت کا اصلی حکم باقی رہ کر حدیث سے اس اصلی حکم میں کچھ زیادتی ہوجاوے تو اصلی حکم کے باقی رہنے کے سبب سے متقدمین اس صورت کو ناسخ منسوخ نہیں کہتے اور متاخرین کی اصطلاحی صورتوں میں یہ صورت ناسخ منسوخ کہلاتی ہے مثال اس کی بیہ ہے کہ سورة النساء کی آیت حرمت علیکم امھاتکم میں عورت اور اس کی پھوپھی کے ساتھ نکاح کرنے کی مناہی نہیں تھی ابوہریرہ ؓ کی صحیح بخاری ومسلم کی حدیث سے آیت کے اصلی حکم میں یہ مناہی اور بڑھ گئی تو متقدمین کے نزدیک یہ صورت ناسخ منسوخ کی نہیں ہے اور متاخرین کے نزدیک یہ صورت ناسخ منسوخ کی صورتوں میں داخل ہے۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مومنو ! پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے تھے (اور کہتے نہیں تھے) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا اور جب پیغمبر کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر سے مانگو یہ تمہارے اور انکے (دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے) اور تم کو یہ شایان نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ انکی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو بیشک یہ خدا کے نزدیک بڑا گناہ (کا کام) ہے

53۔ یہ آیت پردہ کی ہے اور اس کے انھدر کئی حکم اور آداب ہیں اور یہ آیت بھی ان آیتوں میں سے ہے جو حضرت عمر ؓ کے مشورہ کے موافق نازل ہوئی ہیں صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 503 ج 3) جس میں حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں خدا تعالیٰ کے ساتھ تین باتوں میں موافق ہوا ایک یہ کہ میں نے پیغمبر ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کاش ابراہیم (علیہ السلام) کے مقام کو آپ مصلیٰ بنادیں تو اللہ نے آیت واتخذ وامن مقام ابراہیم مصلیٰ اتاری دوسرے پردہ کے بارے میں میں نے عرض کیا اللہ نے آیت حجاب بھیجی تیسرے جب نان نفقہ کی زیادتی کی خواہش میں سب بی بیاں آپ کے پاس اکٹھی ہوئیں تو میں نے ان سے کہا غ سے ربہ ان طلققکن ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن پھر قرآن شریف میں بھی اسی طرح کا حکم ترا اور مسلم کی روایت میں بدر کے قیدیوں کا بھی ذکر ہے کہ ان کو فدیہ لے کر نہ چھوڑا جاوے پھر اسی کے موافق حکم نازل ہوا حضرت عمر ؓ کی رائے اور قرآن کی موافقت کنا یہ چوھتا مقام ہے امام بخاری نے انس ؓ سے 1 ؎ روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ میں نے پیغمبر ﷺ کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ آپ کے پاس اچھے برے لوگ سب آتے جاتے ہیں کیا اچھا ہو اگر آپ ازواج مظہرات کو پردہ کا حکم دیں اس پر اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیت تاری ام المؤمنین حضرت زنیب ؓ بنت حجش ؓ کی شادی کے روز آیت حجاب خدا نے نازل فرمائی امام بخاری و ولیمہ کی دعوت کی اور وہ کھانا کھا کر باتوں میں لگے بڑٹھے رہے پھر آنحضرت ﷺ اٹھنے لگے لیکن وہ لوگ نہ اٹھے جب آپ اٹھ کھڑے ہوئے تو اٹھنے والے چلے گئے تین آدمی بیٹھے رہے پھر آنضحرت ﷺ اندر تشریف لے گئے تو ابھی وہ تینوں شخص بیٹے تھے آپ ﷺ الٹے پھرگئے جب وہ چلے گئے تو میں نے یا شاید کسی اور شخص نے ان تینوں شخصوں کے چلے جانے کی آنحضرت ﷺ کو خبردی یہ خبر سن کر آپ اندر آئے اور میں بھی اندر جانے لگا ‘ آپ نے میرے اور اپنے درمیان میں پردہ ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی نسائی 1 ؎ بھی اس حدیث کو کئی طریقہ سے نقل کیا ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 503 ج 3۔ ) یہ جو روایت ہے کہ حضرت ام سلیم ؓ نے حضرت انس ؓ کے ہاتھ تھوڑا مالیدہ بھیجا تھا حضرت ﷺ نے دعوت کردی قریب تین سو آدمی کے کھانا کھاگئے اور وہ مالیدہ آنحضرت ﷺ کی دعا اور ہاتھ کے رکھنے کے سبب سے اتنے کا اتنا ہی تھا کچھ کم نہیں ہوا یہ انس بن مالک ؓ کی روایت صحیح مسلم ترمذی اور نسائی میں ہے 1 ؎ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے ایماندار لوگوں بغیر کھانے کی دعوت کے تم اللہ کے رسول ﷺ کے گھر میں نہ جایا کرو اور کھانے کی دعوت کے وقت بھی کھانا پک جانے کے انتظار میں پہلے سے نہ جا بیٹھا کرو بلکہ کھانا پک جانے کے بعد جب اللہ کے رسول ﷺ کھانا کھانے کے لیے تم کو بلاویں تو جایا کرو اور کھانا کھاتے ہی اپنے گھر کو چلے آیا کرو کھانے کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کے گھر میں بیٹھ کر ادھر ادہر کی باتوں میں نہ لگ جایا کرو کہ اس سے اللہ کے رسول ﷺ کی ضرورتوں میں حرج ہو کر اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ لحاظ کے سبب سے کچھ کہہ نہیں سکتے مگر حق بات کی نصیحت میں اللہ تعالیٰ کو کسی کے لحاظ کی کچھ ضرورت نہیں ‘ غیر ناظرین اتاہ کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے کھانا پکنے کے انتظار کی فرمائی ہے۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

اگر تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا اس کو مخفی رکھو تو (یاد رکھو) کہ خدا ہر چیز سے باخبر ہے

54۔ حضرت عمر ؓ کی یہ حدیث جو اوپر گزری کی مقام ابراہیم کے مصلیٰ ٹھہرانے کی آیت اور یہ پردہ کی آیت اور چند آیتیں حضرت عمر ؓ کی رائے کے موافق نازل ہوئی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ کو پہلے پردہ کی صلاح دی تھی پھر حضرت زنیب ؓ کے ولیمہ والے دن یہ آیت نازل ہوئی اور صحیح بخاری وغیرہ کی حضرت عائشہ ؓ کی یہ حدیث جو مشہور ہے کہ حضرت سودہ ؓ ایک رات چادر اوڑھ کر حاجت بشری کے لیے گھر سے باہر نکلیں اور حضرت عمر ؓ نے ان کو دھمکایا یہ قصہ پردہ کی آیت کے بعد کا ہے 2 ؎ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 505 ج 3۔ ) اور حضرت عمر ؓ کی اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہوئی چناچہ اس کی صراحب صحیح بخاری کی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے یہ جو ایک شبہ مشہور ہے کہ بعض رویتواں میں یہ ہے کہ حضرت زنیب کا ولیمہ روٹی سالن کا ہوا اور بعض روایتوں میں مالیدہ کا ذکر ہے حافظ ابن حجر (رح) نے اس شبہ کو فتح الباری میں رفع کردیا ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے روٹی سالن اس ولمیہ میں پکوایا تھا اور حضرت ام سلیم ؓ نے مالیدہ بنا کر اس ولیمہ کے لیے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا اس لیے بعض روایتوں میں ایک چیز کا ذکر ہے اور بعض روایتوں میں دوسری چیز کا۔ ام سلیم ؓ انس بن مالک ؓ کی ماں کی کنیت ہے ان کا نام سہلہ ہے یہ مشہور صحابیات میں سے تھیں حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں ان کا انتقال ہوا۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد ترمذی نسائی اور صحیح ابن حبان میں ام سلمہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ ص 469 باب النظر الی المخطوبۃ وبیان العورات) جس کا حاصل یہ ہے کہ اس پردہ کی آیت کے نازل ہونے کے بعد ایک دن عبداللہ بن ام مکتوم حضرت کی بیوی ام سلمہ ؓ کے گھر میں آئی اس وقت حضرت ﷺ بھی وہاں موجود تھے آپ نے ام سلمہ ؓ کو عبداللہ ؓ سے پردہ کرنے کا حکم دیا اس ام سلمہ ؓ نے کہا کہ حضرت عبداللہ تو نابینا ہیں یہ سن آپ نے فرمایا کہ وہ نابینا ہیں تو آخر تمہاری تو آنکھیں ہیں مسند امام احمد ابوداؤد ونسائی اور مختصر طور پر صحیح مسلم میں فاطمہ بنت قیس ؓ کی بڑی روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ 288 باب العدۃ) جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فاطمہ ؓ نبت قیس کو انہیں عبداللہ بن ام مکتوم کے گھر میں عدت کے دن گزرا نے کا حکم دیا ہے ‘ ابو داؤد منذری (رح) ‘ حافظ ابن حجر (رح) اور اور علمانے اس قسم کی مختلف حدیثوں کی مطابقت میں وہی بات بان کی ہے جو بات شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں لکھی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بیویوں پر یہپردہ کا حکم واجب تھا اور مسلمانوں کی عورتوں پر مستحب ہے مستحب شریعت میں وہ چیز ہے جس کا کرنا بہتر ہو اور نہ کرنے میں کچھ گناہ نہ ہو جیسے مثلا جمعہ کے دن اچھے کپڑوں کا پہننا مستحب کے عمل سے ممانعت کے کام میں پڑجانے کا خوف ہو تو خدا سے ڈرنے والے مر عورت کو ایسے مستحب پر عمل کرنا جائز نہیں ہے چناچہ معتبر سند سے ترمذی میں عطیہ ؓ سعدی سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مشکوٰۃ ص 242 باب الکسب وطلب الحلال) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کوئی شخص متقی نہیں ہوسکتا جب تک وہ جائز چیز کو ناجائز نتیجہ کا خوف نہیں تھا تو صحابہ ؓ کا اس مسئلہ پر اتفاق تھا جب یہ بات باقی نہیں ریہ تو صحابہ (رح) میں اختلاف پیدا ہوگیا چناچہ صحیح بخاری ومسلم 4 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ کا قول ہے (4 ؎ صحیح بخاری باب خروج النساء الی المساجد وباللیل) کہ جس طرح اب عورتیں اچھے کپڑے پہن کر اور عطرمل کر مسجد میں نماز کو جاتی ہیں آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں یہ اس طرح جاتیں تو ان کو مسجد میں جانے کی کبھی اجازت نہ ہوتی۔ حضرت عائشہ ؓ کے اس قومل کا مطلب یہ ہے کہ جن رواتیوں میں عورتوں کے مسجد میں جانے کی اجازت ہے ان میں سے بعض روایتوں 5 ؎ میں یہ بھی ہے (5 ؎ دیکھئے مشکوۃ باب الجماعۃ وفصل فصل اول وثانی۔ ) کہ خوشبولگا کر کوئی عورت مسجد میں نہ آوے اب عورتوں نے اس اجازت کو تو پکڑلیا ہے اور اس کی شرطوں کو چھوڑ دیا ہے جس سے ناجائز نتیجوں کا اندیشہ ہے اس لیے اگر یہ حالت اللہ کے رسول ﷺ کے زمانہ میں عورتوں کی ہوجاتی تو یہ اجازت ہرگز قائم نہ رہتی اب بھی مانہ کا ڈھنک دیکھ کر جو نیک لوگ عورتوں کے پردہ کے باب میں سخت رائے رکھتے ہیں وہ بالکل حضرت عائشہ ؓ کے ہم قول ہیں اور عطیہ سعد کی روایت ان کی تائید کے لیے کافی ہے ‘ سمند بزار اور طبرانی میں حضرت علی ؓ سے صحیح روایت 1 ؎ کہ (1 ؎ نیل الاوطار ص 241 ج 2 نیز دیکھئے مشکوٰۃ باب النظرالی المخطوبو الخ بروایت حضرت عمر ؓ دار المنثورص 214 ج 5‘) اجنبی مرد اور عورت جہاں ایک جاہ ہوں تو ان کے بہکانے کے لیے وہاں ان دونوں میں تیسرا شیطان آن موجود ہوتا ہے۔ یہ حدیث ذلکم اطھر تعلوبکم وقلوبھن کی گویا تفسیر ہے سنن بہقی تیر سدی تفسیر ابن اب حاتم وغیرہ میں آیت کے آگے کے ٹکڑے کی شان نزول حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت 2 ؎ سے جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب پردہ کا حکم نازل ہوا اور اس عمل جا کی ہوگیا تو صحابیوں میں سے ایک شخص طلحہ بن عبید اللہ ؓ کو یہ ایک نئی بات معلوم ہوئی اس واسطے طلحہ ؓ نے یہ کہا کہ اب تو یہ حکم ہے لیکن اگر محمد ﷺ کی وفات میرے سامنے ہوئی تو عائشہ یا ام سلمہ ؓ سے میں ضرور نکاح کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کا یہ ٹکڑا نازل فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب رسول ﷺ کی بیویوں کو امت کے لوگوں کو ماں ٹھہرادیا تو اللہ کے رسول ﷺ کی کسی بیوی سے مت میں کا کوئی شخص کبھی نکاح نہیں کرسکتا پھر یہ لوگ ایسی باتیں منہ سے کیوں نکالتے ہیں جن کے سننے سے اللہ کے رسول کو رنج ہوتا ہے اور اس رنج سے ایذا پہنچتی ہے تمہارے نزدیک اس طرح کی بات ایک معلولی بات ہے لیکن اللہ کے نزدیک اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانے کی بات بڑے وبال کی چیز ہے پھر فرمایا ایسی باتیں تم لوگ زبان پر لاؤیادل میں رکھو یہ سب اللہ کو خوب معلوم ہیں کیونکہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اس لیے ایسی باتوں کے دل میں خیال رکھنے اور زبان پر لانے سے بچنا چاہئے۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے اور نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے اور (اے عورتو ! ) خدا سے ڈرتی رہو بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے

55۔ جب اللہ نے اجنبی آدمیوں سے پردہ کا حکم کردیا تو فرمایا کہ ان رشتہ داروں سے پردہ وہ واجب نہیں ہے جس طرح سورة نور میں گزر چکا حاصل یہ ہے کہ عورتوں کو اپنے باپ بیٹے بھائی بھتیجے بھانجے مسلمانوں کی عورتوں اور غلام سے پردہ نہیں ہے سورة نور میں پردہ کی تفصیل زیادہ ہے پھر فرمایا اللہ کے رسول کی بیویوں کو ان حکموں کی پابندی میں ظاہر اور باطن میں اللہ سے ڈرنا چاہئے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو ظاہر اور باطن کا سب حال معلوم ہے ‘ ابوداؤد بیہقی اور تفسیر ابن مردویہ میں انس بن مالک ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ نیل الاو طار ص 245 ج 6 نبز دیکھئے مشکوۃ باب النظرالی المخطوبہ وبیان العورات فصل دوسری۔ ) جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک غلام حضرت فاطمہ ؓ کہ ہبہ کیا تھا جب اللہ کے رسول ﷺ اس غلام کو حضرت فاطمہ ؓ کے پاس لائے تو حضرت فاطمہ اس سبب سے شرمانے لگیں کہ ان کے اوڑھنے کی چادر چھوٹی تھی اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت یہاں تمہارے باپ یا غلام دوہی شخص ہیں شرمانے کی کوئی بات نہیں ہے اس حدیث کی سند میں ایک راوی ابوجمع سالم بن دنیاء ہے جن کو بعضے علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن معین سالم بن دنیار کو ثقہ قرار دیا ہے ‘ یحییٰ بن معین (رح) امام احمد (رح) بخاری (رح) مسلم (رح) اور ابوداؤد (رح) کے استاد ہیں راویوں کے باب میں بڑا اعتبار ہے اس واسطے یہ روایت معتبر ہے اس حدیث اور اسی مضمون کی اور حدیثوں کے موافق حضرت عائشہ ؓ سعید بن مسیب امام شافع اور ایک قول میں امام احمد (رح) کا یہ مذہب ہے کہ غلام سے پردہ نہیں ہے لیکن اکثر سلف غلام سے پردہ کرنے کے قائم ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ جن حدیثوں میں غلاموں سے پردہ نہ کرنے کا ذکر ہے وہ چھوٹی عمر کے غلام تھے بالغ نہیں تھے ان لوگوں کے نزدیک ماملکت ایمانکم کی تفسیر میں بھی وہی چھوٹی عمر کے غلام لیے گئے ہیں زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی بڑی کتابوں میں ہے۔
Ayah 33:56

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں مومنو ! تم بھی پیغمبر پر درود اور سلام بھیجا کرو

56۔ صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان کے بعد نماز کے قعدہ آخری میں اور جنازہ کی نماز میں درود شریف پڑھنے کی بڑی تاکید ہے یہاں تک کہ امام شافعی علیہ الرحمۃ کے نزدیک قعد آخری میں درود شریف کا پڑھنا فرض 2 ؎ ہے (2 ؎ سیل السلام ص 264 جلد اول طبع منیر یہ مصر) اور اس کے کے علاوہ بھی درود شریف پڑھنے کی بڑی فضیلت صحیح حدیثوں میں آئی ہے چناچہ مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ الترغیب والترہیب ص 494 ج 2‘) جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو کوئی مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے اللہ اس شخص پر دس دفعہ رحمت بھیجتا ہے ترمذی مسند امام احمد وغیرہ میں روایتیں 4 ؎ ہیں (4 ؎ ترغیب ص 409‘ 410 ج 2 باب الترہیب من ان یجلس الانسان نجلسأ الخ۔ ) جن کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو لوگ درود پڑھنے سے غافل ہیں قیامت کے دن درود پڑھنے والوں کا ثواب دیکھ کر ان غافل لوگوں کی بڑی حسرت میں یہ بھی آیا ہے کہ جو شخص درود شریف پڑھنا بھول گیا وہ گویا جنت کا رستہ بھول گیا صحیح بخاری مسلم وغیرہ میں کعب ؓ بن عجرہ سے روایت 7 ؎ ہے (7 ؎ مشکوٰۃ باب الصلوۃ علی النبی ﷺ جس کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ ہم لوگ آپ پر کن لفظوں سے درود اور سلام بھیجا کریں تو آق نے وہی لفظ فرمائے جو سب لوگ التحیات میں پڑھتے ہیں۔ اگرچہ دوسری حدیثوں میں درود کے بہت سے لفظ آئے ہیں لیکن اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لفظ اکثر مرد عورت کی زبان پر ہیں ان کے پڑھ لینے سے اللہ کے حکم کی تعمیل ہوسکتی ہے۔
Ayahs 33:57–58

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اسکے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لئے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت سے) جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا

57‘ 58۔ یہ آیتیں ان لوگوں کے حق میں اتری ہیں جو پیٹھ پیچھے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کو برا کہتے تھے اور جنہوں نے اللہ کے رسول کی بی بی حضرت عائشہ ؓ پر طوفان لگایا جس کا قصہ سورة تور میں گزر چکا ہے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ ؓ کی روایت 1 ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیس نے فرمایا لوگ زمانہ کو برا کہہ کر مجھ کو ایذادیتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے زمانہ کا برا ہو کہ ہمارے ساتھ اس نے ایسا اور ایسا کیا اس میں یہ لوگ دنیا کے کاموں کو زمانہ کی طرف نسبت کر کے اس کو برا کہتے تھے اور حقیقت میں ان کاموں کا کرنے والا اللہ ہے اس لیے وہ ناسمجھی سے گویا اللہ کو برا کرہتے تھے ‘ اگرچہ سارا جہان اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے عاجز اور لاچار ہے کسی کی کیا طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچا سکے لیکن سورة الزمر میں آوے گا کہ نافرمانی کے کام اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے عاجز اور لاچار ہے کسی کی کیا طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ایذا پہنچاسکے لیکن سورة الزمر میں آوے گا کہ نلا فرمانی کے کام اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اسی ناپسند نہیں اسی ناپسندی کو ان آیتوں اور حدیث قدسی میں ایذا فرمایا ہے تاکہ لوگ کو معلوم ہوجاوے کہ اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا گویا اللہ تعالیٰ کی اذا کے برابر ہے معتبر سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں عبداللہ ؓ بن معقل سے روایت 2 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے میرے صحابہ ؓ کو ایذادی اس نے مجھ کو ایذدی اور جس نے مجھ کو ایذادی اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو ایذادی ‘ اوپر کی حدیث قدسی اور اس حدیث کو ملا کر ان آیتوں کی تفسیر کا حاصل یہ ٹھہرا کہ جس کسی نے ناسمجھی سے اللہ تعالیٰ کی ناپسندی کو کوئی بات منہ سے نکالی یا اللہ کے رسول یا آپ ﷺ کے صحابہ ؓ کے ایذا کی کوئی بات کی یا مسلمانوں پر کوئی جھوٹا بہتان لگا یا تو ایسا شخص اللہ کی رحمت سے دور قرار پا کر بڑا گناہ گار اور سخت عذاب میں گرفتار ہوگا۔ صحیح مسلم ابوداؤد ترمذی اور نسائی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مشکوۃ باب حفظ اللسان ذایفبتہ والشتم فصل اول ‘) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص میں کوئی بات پائی جاوے تو پیٹھ پیچھے ایسی بات کی مذمت کو غیبت کہتے ہیں اور اگر اس شخص میں وہ بات نہ پائی جاوے تو اس کو بہتان کہتے ہیں 7 ان آیتوں میں بہتان کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔