Ayahs 34:1–21‘ 2۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ دنیا اور آخرت میں سب تعریف اللہ ہی کو زیبا ہے کیوں کہ انعام کرنے والا دنیا اور آخرت کے لوگوں پر وہی ہے اور وہی سب کا مالک ہے اور سب کے اوپر اسی کا حکم جاری ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد کیا وھواللہ لا الہ الاھو الحمد فی الاولیٰ والآخرۃ ولہ الحکم والیہ ترجعون جس کا حاصل یہ ہے کہ سوائے اللہ کے اور کوئی معبود نہیں اس لیے اسی کے لیے تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم پھیرے جاؤگے ‘ پھر فرمایا وہی اپنے ہر کام میں بڑی حکمت والا ہے اور بڑا خبردار ہے جس پر کوئی چیز چھپی نہیں رہتی ہے پھر فرمایا پانی کی بوندیں جس قدر زمنر میں جانے والی ہیں اور جس قدر دانے زمین کے اندر بوئے ہوئے اور چھپے ہوئے ہیں ان سب کی گنتی وہ جانتا ہے اور جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اس کی کیفیت اور شمار کو بھی جانتا ہے اور اسی طرح جس قدر قطرے اور روزی آسمان سے اترتی ہے اور جو نیک عمل اور روحین آسمان پر چڑھتے ہیں ان سب کو بھی خوب جانتا ہے اور وہی اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے جو ان کی نافرمانیوں کے سبب سے ان پر جلدی عذاب نہیں بھیجتا اور جو اس کے بندے اس کی طرف رجوع ہوتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں ان کی خطاؤں سے بڑا درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے ان آیتوں میں مشرکوں کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ جب انسان اور آسمان و زمین میں سب انسان کی ضرورت کی چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اور اس کے اختیار اور علم میں ہیں نہ ان مشرکوں کو بتوں نے ان میں سے کوئی چیز پیدا کی نہ کسی چیز پر ان کا کچھ اختیار چلتا ہے نہ ان بتوں کو کسی ضرورت کی چیز کا کچھ حال معلوم ہے کہ کون سی چیز کی اس وقت ضرورت ہے تو پھر ان بتوں کو اللہ کی تعظیم میں شریک ٹھہرانے کا کیا حق ہے اب تو دنیا میں شیطان کے بہکانے سے یہ مشرک لوگ اپنے بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں مگر مرنے کے بعد ان کو معلوم ہوجاوے گا کہ دنیا میں یہ لوگ غلطی پر تھے دونوں جہان کی تعظیم اور تعریف اللہ کو ہی زیبا ہے شرک سے توبہ کرکے اللہ کی وحدانیت کا جو شخص قائل ہوجائے تو اس کے زمانہ شرک کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ عمر وبن العاض ؓ کی روایت 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ بحوالہ مشکوۃ کتاب الایمان فصل اول۔ ) کہ شرک سے توبہ کرتے ہی زمانہ شرک کے سب گناہوں کی جڑ بنیاد بالکل ڈھے جاتی ہے اسی مطلب کے ادا کرنے کے لیے ان آیتوں کو وھوالرحیم الغفور پر ختم فرمایا تاکہ مشرکوں کے دل میں شرک سے توبہ کرنے کی ایک طرح کی رغبت پیدا ہوجاوے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر 1 ؎ چکی ہے (1 ؎ بحوالہ مشکوۃ باب الایمان بالقدر فصل اول) کہ لوگوں کے رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پہنچ جاتے ہیں ‘ مسند امام احمد اور ابوداؤد کے حوالہ سے براء بن عازب ؓ صحیح حدیث بھی کئی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قبض روح کے بعد نیک لوگوں کی روحوں کو فرشتے اللہ تعالیٰ کے روبرولے جاتے ہیں ان حدیثوں سے عملوں کا اور نیک روحوں کا آسمان پر چڑھنا معلوم ہوتا ہے اس لیے ان حدیثوں کو وما یعرج فیہا کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔
Ayahs 34:3–43‘ 4۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے جگہ جگہ قیامت کے آن پر قسم کھانے کو فرمایا ہے چناچہ سورة یونس میں فرمایا قل ای وربی اور یہاں اس سورة میں فرمایا قل بلیٰ وربی اور سورة تغابن میں فرمایا قل بلیٰ وربی لتبعثن جگہ جگہ اس تاکید سے قیامت کا ذکر فرمانے سے ایک تو بڑی تاکید سے ان منکر لوگوں کا جواب دنیا مضود ہے جو قیامت کے منکر تھے اور آنحضرت ﷺ جب قیامت کا ذکر فرماتے تھے تو یہ لوگ لڑا تعجب کرتے تھے اور اللہ کے رسول کو دیوانہ بتلاتے تھے دوسرا مقصود یہ ہے کہ قیامت کے ساتھ اس دن حساب و کتاب عملوں کا تو لنا جنت اور دوزخ میں داخل ہونا جن جن باتوں کا ذکر ہے ان باتوں پر مسلمانوں کا ایمان خوب مضبوط ہوجاوے کیوں کہ جب تک ان باتوں پر ایمان مضبوط نہ ہوگا تو ثواب آخرت کی نیت سے نیک کام نہ کیا جائے گا اور دنیا کے دکھاوے گا کام شریعت میں مقبول نہیں ہے قرآن شریف اور حدیث شریف میں قیامت کا نام یوم آخر جو آیا ہے اس کا سبب علماء نے بھی لکھا ہے کہ پہلا دن تو ہر انسان کے لیے وہ ہے جس دن وہ بالکل نسیت سے ہست ہو کر دنیا میں پیدا ہوا اور دوسرا دن وہ ہوگا کہ دنیا فنا ہو کر پھر دوبارہ انسان نیست سے ہست ہوجاوے گا غرض پہلی دفعہ کی نیستی اور ہستی میں اور دوسری دفعہ کی نیستی اور ہستی میں کچھ فرق نہیں ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آگے افلم یروا الی مابین ایدھم وما خلفھم من السمآء والارض فرمایا آسمان اور زمین اور تمام مخلوقات کو پیدا کرنا یاد دلا کر منکروں کو قائل کیا ہے کہ جس طرح پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ نے یہ سبب کچھ بالکل نیست سے ہست کیا ہے اسی طرح قیامت کے دن ہوگا اور جس طرح پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ کے علم اور حکمت سے کوئی چیز باہر نہ تھی دوسری دفعہ بھی باہر نہیں ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر ؓ وبن العاص کی حدیث کئی 3 ؎ جگہ گزر چکی ہے (3 ؎ بحوالہ مشکوۃ باب الایمان بالقدر فصل اول) کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے وہ سب لوح محفوظ میں اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لکھ لیا ہے ‘ آیت میں ہر ایک چھوٹی بڑی چیز کے کتاب مبیں میں لکھے جانے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس سے یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ کتاب مبین سے مقصود لوح محفوظ ہے جس میں ہر ایک چھوٹی بڑی چیز دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے لکھی جاچکی ہے یہ منکر قیامت جو اس کو جھٹلاتے ہیں تو ان کے چھٹلانے سے نہ اللہ تعالیٰ کا علم غیب بدل سکتا ہے نہ لوح محفوظ کا لکھا ان کے منکر ہونے کے سبب سے مٹ سکتا ہے ‘ جہاں لوح محفوظ میں اور سب کچھ لکھا گیا ہے وہاں یہ بھی ہے کہ دنیا کا اتنا بڑا کار خانہ بےفائدہ اور بےٹھکانہ نہیں پیدا کیا گیا بلکہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد دوسرا جہان قائم ہوگا اور نیک وبد کا فیصلہ کیا جاوے گا یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر بتلاتے ہیں اور ان کو اتنی بھی خبر نہیں کہ قیامت کی صداقت کی تاکید جس طرح اس آخری شریعت میں ہے اسی طرح ملت ابراہیمی میں ہے اس واسطے ان لوگوں کے پاس کوئی نقلی سند تو ایسی نہیں ہے جس کو اپنے انکار کی تائید میں یہ لوگ پیش کرسکتیں رہی ان کی یہ عقلی حجت کہ مرنے کے بعد جب ان کی خاک رواں دواں ہوجاوے گی تو پھر وہ خاک کیوں کر جمع ہوجاوے گی اس کا جواب بھی ان کو سمجھا دیا گیا ہے کہ ان کی خاک رواں دواں ہو کر جہاں ہیں جاوے گی تو پھر وہ خاک کیوں کر جمع ہوجاوے گی اس کا جواب بھی ان کو سمجھا دیا گیا ہے کہ ان کی خاک رواں دواں ہو کر جہاں کہیں جاوے گی اس کا پتہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اس پتے کے موافق وہ خاک جمع کی جاوے گی اور اس کا پتلا بنایا جاکر اس پتلے میں روح پھونک دی جاوے گی جس سے یہ دوبارہ زندہ ہوجاویں گے صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے حدیث قدسی ہے (1 ؎ نیز مشکوۃ باب 3 باب الاستغفار والتوبۃ فصل اول) جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر ایک نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا بدلہ اس سے بھی زیادہ قیامت کے دن ایماندار لوگوں کو دیا جائے گا ‘ یہ حدیث سیجزی الذین امنو وعملو الصالحات کی گویا تفسیر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ باب صفۃ الجنۃ واہلہا فصل اول۔ ) جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں جو نعمتیں ایماندار جنتی لوگوں کو ملیں گی وہ نہ کسی نے آنکھ سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ‘ یہ حدیث وزق کریم کی گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 34:5–65‘ 6۔ اوپر نیک لوگوں کا اور ان کی نیکیوں کی جزا کا ذکر فرمایا کر اب بدلوگوں کا اور ان کی سزا کا ذکر فرمایا کہ لوح محفوظ میں جس طرح نیکیوں کی جزا کا حال لکھا ہوا ہے اسی طرح یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے کی کوشش کی اور ان کو شعر اور جادو کہا تاکہ ان آیتوں سے لوگوں کو روکیں اور اسی طرح رسول کو شاعر اور جادو گر کہہ کر جھٹلایا ان بدبختوں کے واسطے بلا کی مار ہے دکھ دینے والی رجز کے معنی بری طرح کے عذاب کے ہیں ‘ اب آگے فرمایا لوح محفوظ میں قیامت کا آنا جہاں لکھا ہے اور نیک وبد کی جزا وسزا کا حال لکھا ہے وہاں قیامت کے آنے کا یہ فائدہ بھی لکھا ہے کہ علم الٰہی کے موافق جن لوگوں نے قرآن کی نصیحت سے عقبے کی بہبودی کی سمجھ حاصل کرلی ہے وہ اس قرآن کی نصیحت سے روکنے والوں کا کہنا نہیں مانیں گے جس کا نتیجہ ان کے حق میں یہ ہوگا کہ قیامت کے دن وہ قرآن کی ہدایت اور جزا وسزا کی صداقت کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور دنیا میں قرآن کی نصیحت پر جو انہوں نے عمل کیا تھا وہاں عقبے میں وہ لوگ اس کی قدر کریں گے ‘ حاصل کلام یہ ہے ‘ کہ جو لوگ دنیا میں قرآن کی نصیحت پر چلنے سے روکنے والوں کے کہنے میں نہیں آئے تو وہ اپنی ثابت قدمی کا نتجیہ قیامت کے دن آنکھوں سے دیکھ لیں گے ‘ سورة والصفت میں آوے گا کہ بعضے جنتی نپے دنیا کے بہکانے والوں کو دوزخ میں دیکھ کر اپنی دنیا کی ثابت قدمی اور بہکانے والوں کہ بہکانے میں نہ آنے پر اللہ کا شکر ادا کریں گے والصافات کی وہ آیتیں گویا اس آخری آیت کی تفسیر ہیں ‘ سورة حم سجدہ میں آوے گا کہ مشرکین مکہ قرآن کی نصیحت کے وقت پکار پکار کر باتیں کرتے تھے اور کبھی شعر خوانی شروع کردیتے تھے تاکہ قرآن کی نصیحت نہ سنیں اس قصہ سے معاجزین کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے گمان میں قرآن کی نصیحت کے پھیلانے میں پورا خلل ڈالتے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون دوزخ میں جانے کے قابل اسی طرح صحیح بخاری کے حوالہ سے عمران بن حصین ؓ کی حدیث کئی 1 ؎ جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر۔ ) جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق جو شخص دوزخ میں جانے کے قابل ہے وہ اپنی نافرمانی سے کسی طرح بازنہ آوے گا ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ تفسیر قرار پائی کہ اللہ سچا ہے اللہ کا علم غیب سچا ہے دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق جو نیک وبد کا نتیجہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھا تھا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق جو نیک وبد کا نتیجہ اللہ تعالیٰ نے بوح محفوظ میں لکھا تھا دنیا کے پیدا ہونے کے بعد اس کا ظہور ہو رہا ہے کہ کوئی بہکانے والوں کے بہکانے سے نہیں بہکتا اور کوئی خود بھی بہکا ہوا ہے اور دوسروں کے بہکانے میں بھی کوشش کرتا ہے اب اس طرح قیامت کے دن کا ہر شخص کا انجام بھی علم الٰہی کے موافق سب کی آنکھوں کے سامنے آجاویگا العزیز الیدا ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ایسے معبود کی وحدانیت کا راستہ بتلاتا ہے جو نافرمانوں سے بدلا لینے میں زبردست اور فرمانبرداروں کے ساتھ احسان کرنے میں لائق تعریف ہے۔
Ayahs 34:7–87‘ 8۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے آنے کا حق ہونا قسم کھا کر فرمایا تھا اور عقلی طور پر منکرین قیامت کو یہ بھی سمجھایا تھا کہ جس طرح دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ نے پانی قدرت سے سب کچھ پیدا کردیا جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اسی طرح دنیا کی نابودی کے بعد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے سب کچھ پیدا کردے گا ان منکرین حشر کی عقل نے دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے کی نابودی اور دنیا کے فنا ہونے کی بعد کی نابودی میں کیا فرق نکالا ہے جس فرق کے سبب سے ان کو حشر کا انکار ہے اور حشر کو یہ لوگ اللہ کی قدرت سے باہر گنتے ہیں اس آیت میں منکرین حشر کو نادانی بیان فرمائی ہے کہ ان نادانوں کے پاس اور کوئی دلیل عقلی تو حشر کے ناممکن ہونے کی نہیں ہے فقط یہی ایک نادانی کا تعجب ان کے دل میں بسا ہوا ہے کہ ان کو گوشت پوست ہڈیاں سب کچھ گل گھل کر جب خاک ہوجاوے گا تو پھر یہ دوبارہ کیوں کر پیدا ہوں گے اور منکرین حشر کی اس نادانی کا جواب اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ قرآن شریف میں بھی دیا ہے کہ آخران کا گوشت پوست ہڈیاں گل گھل کر ایسی ہی خاک ہوجاویں گی جس طرح دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے کی خاک تھی خاک سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کا وہ پتلابنایا جس پتلے سے سلسلہ بہ سلسلہ کروڑہا پتلے پیدا ہوتے چلے آتے ہیں پھر ایسے قادر مطلق کو اسی خاک سے دوبارہ ہر ایک پتلا کو علیحدہ علیحدہ بنا دینا کیا مشکل ہے معتبر سند سے بیہقی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ کی ہے جس کا حاصل یہ ہے (1 ؎ سورة یسین کی تفسیر میں آرہی ہے انشاء اللہ) عاص بن وائل ایک شخص مشرک ایک روز ایک بوسیدہ ہڈی آنحضرت ﷺ کے پاس لایا اور اس ہڈی کی راکھ کو مل مل کر ہوا میں اوڑاتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کیا یہی راجھ پھر دوبارہ زندہ ہوگی اللہ تعالیٰ نے سورة یسین میں اس کا بھی جواب دیا جو ان آیتوں میں دیا ہے کہ جس اللہ نے پہلی دفعہ خاک سے انسان کو بنایا ہے وہی ذوسری دفعہ بھی بناوے گا ‘ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ مشرکین مکہ کے نزدیک مر کر دوبارہ زندہ ہونا ایک تعجب کی بات تھی اس لیے یہ لوگ جب اللہ کے رسول ﷺ کو دیکھتے تھے تو آپس میں ہی باتیں کرتے تھے کہ جس شخص کو ہم دیکھ رہے ہیں یہ وہی ہیں جو مرنے اور ہڈیوں کے بوسیدہ ہوجانے کہ بعد پھر دوبارہ زندہ ہونے کی خبر سناتے ہیں پھر یہ بھی کہتے تھے کہ یا تو اس شخص نے اللہ کے حکم کے نام سے ایک جھوٹی بات بنائی ہے یا اس شخص کو سودا ہوگیا ہے جو ایسی خلاف عقل بات منہ سے نکالتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں بلکہ علم الٰہی میں یہ لوگ گمراہ اور عقبے کے عذاب کے قابل ٹھہر چکے ہیں اس واسطے ایسی باتیں کرتے ہیں ورنہ جو کام ایک دفعہ ہوچکا پھر دوبارہ اس کام کا ہونا کسی عقلمند کے نزدیک خلاف عقل نہیں ہوسکتا صحیح بخاری کے حوالہ سے عمران ؓ بن حصین کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق جو لوگ دوزخ میں جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ انپی گمراہی کی باتوں سے کبھی باز نہ آویں گے ‘ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب کے موافق دوزخ میں جانے کے قابل ٹھہر چکے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جیسی باتوں کرتے ہیں جیسی باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے
Ayah 34:99۔ اس آیت میں انہی قیامت کے منکر لوگوں کو یوں سمجھایا گیا ہے کہ یہ لوگ کیا آنکھوں سے دیکھتے نہیں کہ ان کے آگے اور پیچھے آسمان اور زمین ہے کہ جہاں کہیں آتے جاتے ہیں آسمان اور کے سروں پر ہے اور نہ میں ان کے پیچھے ویہ دکھائی دیتے ہیں کیا وہ اندھے ہوگئے ہیں جو اتنا نہیں دیکھتے کہ یہ دونوں اللہ کی قدرت کی کتنی بڑی نشانیاں ہیں جب ان کے پیدا کرنے کی ہم میں پہلی دفعہ کی قدرت دیکھتے ہیں تو کیا ہم ان کو دوسری بار پیدا نہیں کرسکتے یا یہ سبب ان کے کفر اور جھٹلانے کے ان کے اوپر عذاب نازل نہیں کرسکتے اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھسادیں یا گزری کریں ان پر آسمان سے ایک ٹکڑا لیکن ہم نے پانی بربادی کے سب سے ان کو مہلت دے رکھی ہے صیحھ بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی 1 ؎ جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ بحوالہ مشکوۃ باب الظلم فصل اول ‘) کہ اللہ تعالیٰ سرکش لوگوں کو جب تک چاہتا ہے مہلت دیتا ہے مہلت کے زمانہ میں اگر وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو پھر ان کو بالکل ہلاک کردیتا ہے اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ مکہ کے بڑے بڑے سرکش لوگوں کو بدر کی لڑائی کے زمانہ تک مہلت دی گئی تھی اس مہلت میں جب یہ لوگ اپنی سرکشی سے بازنہ آئے تو آخر ہلاک ہوگئے صحیح بخاری و مسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت سے بدر کی لڑائی کا قصہ اوپر گزر چکا 2 ؎ ہے ‘(2 ؎ ملاحظہ ہو صفحہ 352 ج 2 تفسیر سورة الانفال ‘) منیب کے معنے اللہ کی طرف رجوع ہونے والا مطلب یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے قصے جوان لوگوں کو سنائے گئے ہیں ان میں سرکشی سے باز آنے والے اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والے کے لیے عبرت پکڑنے کی بڑی نشانی ہے۔
Ayahs 34:10–1110‘ 11۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس انعام اور فضل کا حال بیان فرمایا ہے جو اس نے حضرت واؤد (علیہ السلام) پر کیا کہ نبوت اور سلطنت نن کو دی اور بہت سالشکر اور سامان دیا اور اس طرح کی آوازان کو عطا کی کہ جب وہ تسبیح کرتے تو ان کے ساتھ اونچے اونچے پہاڑ بھی تسبیح کرتے اور پر ندے اڑنے والے بھی ٹھہر جاتے اور طرح طرح کی آوازوں سے ان کا ساتھ دیتے معتبر سند سے طبرانی میں سلحہ بن قیس کوفی سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 526 ج 3 بحوالہ صحیح بخاری باب حسن الصوت بالقرائۃ بروایت ابوہریرہ ؓ جس کا حاصل یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی آواز سنی جب کہ وہ رات کے وقت قرآن پڑھتے تھے تو پیغمبر ﷺ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی آواز کو واؤد (علیہ السلام) کی آواز سے تشبیہ دی مسند امام احاد بن ماجہ مسند ابویعلی وغیرہ میں اس مضمون کی اور بھی روایتیں 4 ؎ ہیں (4 ؎ فتح الباری ص 20 ج 5 باب حسن الصوت بالقرائت۔ )
حاصل کلام یہ ہے کہ خوش آوازی میں داؤد (علیہ السلام) مشہور ہیں اوبی معہ کے معنے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد کے قول کے موافق سجی معہ کے ہیں مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حکم دیا تھا کہ وہ داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کریں والنالہ الحدید کی تفسیر میں حسن بصر ؓ اور قتادہ کا قول ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو آگ میں لوہا تپانے کی ضرورت نہ ہوتی تھی نہ ہتوڑے کی بلکہ وہ تو اس کو تا گے کی طرح ہاتھ سے بٹتے تھے ان اعمل سابغات وقدر فی السرد کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے کہ سب سے پہلے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے کڑیوں سے زرہیں بنائی ہیں ان سے پہلے چوڑے چوڑے پترے لوہے کے بدن پر لگاتے تھے مطلب یہ ہے کہ قد آدم اچھی فراخ زرہ بنائی جاوے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سرد سے مراد حلقے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ زرہ کی کیلوں کو اس کے حلقوں میں اس طرح مضبوطی سے ٹھوکا جاوے کہ زرہ خوب ٹھوکی ہوئی مضبوط بنے ڈھیلی نہ رہے وعملوا صالحا یہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور ان کے گھر والوں کو حکم کیا کہ جیسا کہ فرمایا اعملوا آل داؤد شکرا شکر کرو داؤد کے گھر والو حق مان کر کہ یہ نعمتیں ہم نے تم کو دیں انی بماتعملون بصیر اس کا مطلب یہ ہے کہ بیشک میں تمہارے عملوں کو دیکھتا ہوں مجھ پر کوئی کام تمہارا چھپا نہیں ہے ‘ صحیح سند سے مسند امام احمد ترمذی مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ مع تنیقح الرواۃ باب الایمان بالقدر ‘) جس کا حاصل یہ ہے کہ عالم ارواح میں جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے روحوں کو نکالا تو آدم (علیہ السلام) نے ایک روح کی پیشانی کو نورانی دیکھ کر پوچھا یا اللہ یہ کون ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ داؤد ( علیہ السلام) ہیں اس کے بعد اس حدیث میں وہی مشہور قصہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے اپنی عمر میں سے چالیس برس داؤد (علیہ السلام) کو دئے اور پھر بھول گئے ‘ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل میں طرح طرح کی نافرمانی پھیل گئی تو اس کی سزا میں ملک شام کے اکثر شہر قوم عمائقہ کے بادشاہ جالوت نے بنی اسرائیل سے چھین لیے اس کے بعد بنی اسرائیل کے پیغمبر شمویل (علیہ السلام) نے طالوت کو بنی اسرائیل کا بادشاہ مقر کیا اور جالوت اور طالوت کی لڑائی میں داؤد (علیہ السلام) نے جالوت کی قتل کیا اور حضرت شمویل کی وفات کے بعد نبوت اور طالوت کی وفات کے بعد بادشاہیت یہ کچھ داؤد (علیہ السلام) کے خاندان میں آگیا ‘ ابوہریرہ ؓ کی اوپر کی اس حدیث اور سورة بقر کے اس قصہ کو ولقد آتینا داؤد منا فضلا کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیوں کہ اس حدیث اور فصہ سے داؤد (علیہ السلام) کی عالم ارواح میں اور دنیوی فضیلت اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ باب بدعہ الخلق و ذکرالانبیآء (علیہم السلام) فصل اول )
جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا داؤد (علیہ السلام) اپنی دستکاری کی آدنی سے گزر کرتے تھے۔ صیح بخاری میں عبداللہ بن عمر وبن العاص سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مشکوۃ باب صیام التطوع فصل اول) کہ داؤد (علیہ السلام) ایک دن بیچ دے کر روزہ رکھا کرتے تھے ‘ اس حدیث سے بھی داؤد (علیہ السلام) کی فضیلت سمجھ میں آسکتی ہے کہ باوجود بادشاہ ہونے کے ایک دن کھانا کھاتے تھے اور دوسرے دن روزہ رکھتے تھے۔
Ayah 34:1212۔ اللہ تعالیٰ نے جو انعام حضرت داؤد (علیہ السلام) پر کیا تھا اس کے ذکر کے بعد اب اس انعام کا ذکر فرمایا جو ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر کیا وہ یہ کہ تابع کردیا جس سے صبح کی منزل میں ایک مہینہ کی راہ اور شام کی منزل میں ایک مہینہ کی راہ اسی طرح ایک روز میں دو مہینہ کا راستہ طے ہوجاتا تھا مو ضح القرآن میں ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ایک تخت تھا جس پر سب لشکر چلتا تھا ہوا اس کو لیے چلتی تھی ملک شام سے یمن اور یمن سے شام ایک اور پگھلے ہوئے تابنے کا چشمہ اللہ نے نکالا تھا جنات اس کو سانچوں میں ڈھال کر باسن بناتے بہت بڑے لشکر کے موافق ان میں کھانا پکتا اور بٹتا ‘ موضح القرآن کی یہ روایت تفسیر ابن جریر میں بعداللہ الرحمن بن زید کے حوالہ سے ہے ان عبدالرحمن بن زید کو اگرچہ بعضے علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن سورة صٓ کی تفسیر میں اور روایتیں بھی اسی مضمون کی آویں گی اس واسطے اس روایت کو بےاصل نہیں کہا جاسکتا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد اور عکرمہ وغیرہ نے کہا کہ قطر تابنے کو کہتے ہیں قتادہ نے کہا کہ وہ تابنے کا چشمہ یمن میں تھا۔ ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کی طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے جن بھی مسخر اور تابعدار کردیئے تھے ہر طرح کا کام کرتے تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تابعداری میں جنات اس طرح بےبسی سے جو رہا کرتے تھے یہ سلیمان (علیہ السلام) کا ایک معجزہ تھا چناچہ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ باب مالا یجوزمن العمل لا صلوہ وما یباح مند) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایک سرکش جن رات کو میری نماز میں خلل ڈالنا چاہتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس پر غالب کردیا یہاں تک کہ میں نے اس کو پکڑ لیا اور یہ چاہا کہ اس کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دوں تاکہصبح کو لوگ اسے دیکھیں مگر مجھ کو سلیمان (علیہ السلام) کی دعاء یاد آگئی اس لیے میں نے اس کو چھوڑ دیا سلیمان (علیہ السلام) کی جس دعاء کا ذکر اس حدیث میں ہے وہ دعاء سورة صٓ میں آوے گی جس کا حاصل یہ ہے کہ معجزہ کے طور پر ایک زبردست بادشاہت کے عطا ہونے کی دعاء سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کہ جناب میں کی تھی اور ان کی وہ دعاء اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کر ہوا اور سرکش جنات کو معجزہ کے طور پر سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کردیا دہی ذکر آیت کے اس ٹکڑے میں ہے اور ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث آیت کے ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس حاصل یہ ہے کہ ہوا اور جنات کا بےبیا سے سلیمان (علیہ السلام) کی تابعداری میں رہنے کا ذکر جو آیت کے ٹکڑے میں ہے وہ سلیمان (علیہ السلام) کا معجزہ تھا جو ان کی دعاء سے خاص طور پر انہیں عطا ہوا تھا اسی خیال سے نبی آخر الزمان ﷺ نے اس سرکش جن کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ کر ایک نبی کی خصوصیت میں دخل دینا مناسب نہ سمجھا۔
اگرچہ تفسیر سدی میں اس آیت کی تفسیریوں کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فرما نبرداری کا حکم دیا تھا اور ایک فرشتہ اس لیے مقرر کیا تھا کہ جو جس کسی طرح کی نافرمانی کرتا تھا تو وہ فرشتہ ایک آگ کا کوڑا اس جن کے مارتا تھا جس سے وہ جن جل کر بالکل خاک ہوجاتا تھا لیکن یہ روایت اہل کتاب کی معلوم ہوتی ہے کیونکہ کسی حدیث سے اس قصہ کی تائید نہیں نکل سکتی اسی واسطے اکثر مفسروں نے یہی کہا ہے کہ جس عذاب کا ذکر آیت میں ہے اس عذاب سے مراد عذاب دوزخ ہے
جنوں کے متعلق اہل سنت کا عقیدہ
اکثر فلسفی اور زندیق اور قدریہ لوگوں نے جنات کے دنیا میں موجود ہونے کا انکار کیا ہے لیکن اہل سنت نے بہت سی آیات قرآن اور حدیثوں سے جنات کا دنیا میں موجود ہونا اور پابند شریعت ہونا ثابت کیا ہے سورة جن کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت جو صحیح بخاری میں ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد ابلیس میں دو قسمیں ہیں ایک منکر شریعت اور کافر گروہ ہے اور کو شیاطین کہتے ہیں اور دوسرا گروہ پابند شریعت ہے اس کو جن کہتے ہیں ناقابل اعتراض سند سے مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ فتح الباری ص 211 ج 3 وحجمع الزواد ص 104 ج 8 ومسند ام احمد ص 175 ج 4 طبع المعارف مصر۔ )
جس کا حاصل یہ ہے کہ فتح خیبر کے بعد ایک شخص خیبر سے چل کر مدینہ کو آرہا تھا راستہ میں دو شخص اس کے پیچھے لگے اور ان دو شخصوں کے پیچھے ایک شخص اور تھا جو ان دونوں شخصوں سے کہہ رہا تھا کہ الٹے پھر جاؤآخر جب وہ دونوں شخص الٹے پھرگئے تو پھر تیسرا شخص اس خیبر سے سفر کرنے والے صحابی سے آن کر ملا اور کہا جن دونوں شخص کو میں نے الٹا پھیر دیا یہ دونوں شیاطین تھے اور یہ بھی کہا کہ آنحضرت ﷺ سے میرا سلام کہنا اور یہ عرض کرنا کہ ہم لوگ زکوۃ کا مال جمع کر رہے ہیں جب یہ زکوۃ کا مال بھیج دینے قابل جمع ہوجاوے گا تو آپ کی خدمت میں روانہ کریں گے مدینہ میں آن کر جب اس شخص نے آنحضرت ﷺ سے یہ قصہ بیان کیا تو آپ نے اکیلے سفر کرنے سے لوگوں کو منع فرمایا اس حدیث سے بھی جنات کی دو قسمیں معلوم ہوتی ہیں کیوں کہ وہ دو شیاطین تھے اور ایک جن مسلمان تھا جس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں سلام اور پیغام کہا بھیجا اس بات پر علما اسلام کا اتفاق ہے کہ شرع محمدی کی توحید اور ارکان اسلام کے مسائل جس طرح انسانوں میں جاری ہیں اسی طرح جنات میں بھی جاری ہیں صرف کھانے پینے کی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو خاص جنات کی خوراک ہیں چناچہ صحیح بخاری کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں بعضی موقوف روایتیں 2 ؎ ہیں (2 ؎ فتح الباری ص 212 ج 3۔ ) جن کا حاصل یہ ہے کہ جب اہل جنت انسان جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو مسلمان جنات کو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم خاک ہوجاؤنیک جن جنت میں نہیں جائیں گے مگر آیت لم یطمشھن انس قبلھم ولا جان کے مضمون کے موافق باقی علماء کا مذہب یہ ہے کہ نیک جن جنت میں جاویں گے بعضے لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ جنات تو آتشی ہیں ان کو دوزخ کی آگ سے کیا صدمہ پہنچے گا حافظ ابن حجر نے فتح الباری 2 ؎ میں اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جس طرح انسان خاکی کہلاتا ہے اور مٹی کی دیوار کے نیچے دب جانے سے صدمہ اٹھاتا ہے اسی طرح جنات دوزخ کی آگ سے صدمہ اٹھائیں گے اس سے زیادہ جنات کے متعلق کچھ تفصیل سورة جن میں آوے گی۔
Ayah 34:1313۔ مطلب یہ ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کے حکم سے عمدہ عمدہ کمکان اور مسجدیں اور تصویریں اور لگن مانند تالاب کے نہیں تھی وہ جنات یہ سب چیزیں بناتے تھے اعملوا آل داؤد شکرا اس کا مطلب یہ ہے کہ اے داؤد کی اولاد جو نعمتیں اللہ نے تم کو دی ہیں ان کا شکرادا کرو صیحی بخاری ومسلم میں عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مشکوۃ باب التحریض علی قیام اللیل فصل اول۔ ) کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ پیار نماز اللہ تعالیٰ کو داؤد کی ہے نصف رات سوتے تھے اور تہائی رات نماز پڑھتے تھے اور پھر چھٹا حصہ رات کا سوتے تھے ‘ اس حدیث کا ایک ٹکڑا اوپر گزر چکا ہے کہ داؤد (علیہ السلام) ایک دن بیچ کر کے روزہ کھا کرتے تھے سورة صٓ میں آیتیں آویں گی جن میں اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کی عبادت کی تفریف فرمائی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت میں شکر گزاری کا جو حکم تھا داؤد میں آسکتا ہے۔ صحیح بخاری مسلم وغیرہ میں حضرت عائشہ ؓ مغیرہ بن شعبہ اور ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں 1 ؎ ہیں (1 ؎ مشکوۃ ایضا۔ )
ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ تہجد کی نماز میں اس قدر کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے تھے یہ حال دیکھ کر بعضے صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضرت آپ کے اگلے پچھلے گناہ تو اللہ تعالیٰ نے سب معاف کروئے ہیں پھر آپ عبادت میں اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں آپ نے جواب دیا کہ کیا میں اپنے آپ کو اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنا ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اللہ کی عبادت میں لگے رہنا یہی اللہ کی نعمتوں کی شکرگزاری ہے لیکن بہت سے صاحب نعمت لوگوں میں یہ حالت پائی نہیں جاتی اسی واسطے فرمایا کہ اللہ کے شکر گزار بندے دنیا میں تھوڑے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ کتاب الرقاق فصل اول۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تندرستی اور فارغ البالی یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمتیں ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی جگہ اکثر لوگ نقصان اٹھاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ مثلا جو شخص فقط تندرست ہو اور وہ اس نعمت کی شکر گزاری کے طور پر عبادت الٰہی میں کوتاہی کرے تو ایسا شخص فکر معاش سے فرصت نہ ملنے کا عذر کرسکتا ہے اسی طرح جو شخص فارغ البال اور بیمار ہو تو وہ بیماری کا عذر پیش کرسکتا ہے لیکن جس شخص میں یہ دونوں نعمتیں جمع ہوں وہ کاہلی سے عبادت الٰہی میں کوتاہی کرے اور دس سے لے کر سات سو تک اور بعض عبادتوں کا اس سے بھی زیادہ ثواب نہ کماوے تو وہ قیامت کے دن اجر کے حساب سے بڑے ٹوٹے میں رہے گا حاصل کلام یہ ہے کہ آیت میں قلیل کا لفظ اور حدیث کثیر کا لفظ جو فرمایا گیا ہے اس سے یہ حدیث گویا آیت کو تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بہت سے تندرت فارغ البال لوگ ان دونوں نعمتوں کی شکر گزاری کے طور پر عبادت الٰہی کی پروا نہیں کرتے اس لیے کے شکر گزار بندوں کی تعداد دناک میں گھٹی ہوئی ہے۔
Ayah 34:1414۔ اس آیت میں سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کا حاصل ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے زمانہ میں جنات اور انسان ملے رہتے تھے اس ملنے جلنے میں جنات نے اکثر لوگوں کے دل میں یہ بات جمارکھی تھی کہ جنات کو غیب کی خبریں معلوم ہوتی رہتیں ہیں اس خیال کے غلط ٹھہرانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سلیمان (علیہ السلام) کے دنیا سے اٹھنے کی یہ صورت نکاح کہ ایک سال کے قریب وفات کے بعد بھی سلیمان (علیہ السلام) اپنے عبادت خانہ میں اپنا عصاٹیکے ہوئے کھڑے رہے اور جنات سلیمان (علیہ السلام) کو زندہ سمجھ کر اپنے کاموں میں لگے رہے پھر جب گھن کا کڑسا اس عصا کو کھا گیا تو وہ عصا اور سلیمان (علیہ السلام) دونوں زمین پر گر پڑے جس سے سب لوگوں کو معلوم ہوجایا کر تیں تو برس دن تک وہ سلیمان (علیہ السلام) کی وفات سے بیخبر رہ کر سخت سخت کاموں میں کیوں گمے رہتے یہ مضمون ایک حدیث نبوی میں بھی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 529 ج 3‘) معتبر سند سے ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثور سورة الجن ص 273 ج 1) کہ آنحضرت ﷺ نے نبی ہونے سے پہلے جنات آسمان پر کچھ خبریں چوری سے سن آیا کرتے تھے جب نزدل قرآن کا زمانہ آیا تو آسمان کی خبروں کے روکنے کا انتظام زیادہ ہوگیا جنات کا یہ جو خیال تھا کہ ان کو غیب کی خبریں کچھ معلوم ہوتی رہتی ہیں اس کا سبب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
Ayahs 34:15–1715‘ 16۔ قوم سبابلقیس کی قوم کا نام ہے اس قوم کے بارشاہ جو تبع کہلاتے تھے وہ اپنے وطن کو خوب آباد کر گئے تھے جس سے سبا کے لوگ بڑی نعمت اور عیش و آرام میں تے کیونکہ اس ملک زراعت اور میوے بہت تھے بہت مزے سے گزارہ ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول بیجھے کہ ان کو ہدایت کریں کہ خدا کا دیا ہوا رزق کھائیں اور اس کی بندگی کرکے اس کا شکر کریں جب ان لوگوں نے نافرمانی کی ان کو اس طرح عذاب کیا گیا ان پر پانی کا نالہ بھیج دیا گیا جس کے سبب سے وہ قوم برباد ہو کر جدا جدا شہروں میں چلی گئی انصار کے قبیلے اس اور خزرج بھی اسی بربادی کے وقت یمن سے نکا کر مدینہ میں آباد ہوئے تھے وہ عذاب کا پانی سرخ تھا جس زمین پر پھر گیا وہ نکمی ہوگئی باغ خشک ہوگئے قریش کی عبزت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا کہ قوم سبا کے لیے ان کو بستی میں یہ نشانی اللہ کی قدرت کی تھی کہ وہ دو باغ داہنے اور باہنے طرف رکھتے تھے یہ باغ ایس سر سبز تھے اور اس قدر کثرت سے ان میں میوے کی پیدا وار تھی کہ کوئی عورت ٹوکراسر کے اوپر رکجھ کر درختوں کے نیچے سے گزرتی تو خود بخود وہ ٹوکر امیوے سے بھرجاتا اس لیے فرمایا کلوامن رزق ربکم واشکر والہ دکھاؤ اپنے رب کی روزی سے اور حق مانو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے اللہ کی نصیحت کو نہ مانا اور بت پرستی نہ چھوڑی تو ان پر یہ آفت آئی کہ قوم سبا کے بادشاہوں نے دو پہاڑوں کہ بیچ میں ایک بڑا مضبوط بند جو بنادیا تھا پہاڑوں کا اور جنگلوں کا اور مینہ کا پانی جہا جمع ہوا کرتا تھا ان پہاڑوں کے کنارے درخت لگادئے تھے وہ بہت سر سبز اور میوے دار ہوئے بند کی مضبوطی کے سبب سے ان کی خاطر جمع تھی لیکن ان لوگوں کی نافرمانی کی سزا میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے گھونس نے اس بند میں سوراخ کر کے اس کو توڑ ڈالا اور اس کثرت سے پانی آیا جس نے سب میوے کے درختوں کو کھیتی اور بستی کے مکانات کو برباد کردیا اور ان میوہ دار دو باغوں کی جگہ پر کچھ جھاؤپیلو اور بیری کے درخت پیدا ہوگئے ‘ صحیح مسلم وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم کے طور پر کسی قوم کو برباد کردینا اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرار کھا ہے۔
Ayahs 34:18–2018 تا 20۔ ان آیتوں میں قوم سبا کی باقی کی حالت کا ذکر ہے کہ یہ لوگ یمن سے ملک شام کو اکثر جایا کرتے تھے اس راستہ میں گاؤں ایسے پاس پاس تھے کہ مسافر کو کھانا پینا اور سفر کا سامان لادنے کی حاجت نہیں ہوتی تھی جس جگہ کا ارادہ کیا بےتکلیف وہاں چل دیا جہاں ٹھہرا پانی اور میوہ تیار پایا ایک گاؤں میں دوپہر کو سوتا دوسرے گاؤں میں رات کو جارہتا لیکن جب وہ لوگ بہت نعمت کے سبب سے اترا گئے تو انہوں نے اس نعمت کی قدرنہ کی اور شکر کے بدے ناشکری کی اور کہنے لگے اے رب ہمارے دوری کردے ہمارے سفروں میں غرض انہوں نے ایسے جنگل اور بیا بان کو سند کیا جن کے طے کرنے میں سواری اور کھانے پینے کی ضرورت ہو اور گرم ہوا لگے اور خوفناک مقاموں میں سفر کرنے کی ہوس ان لوگوں کے دل میں یہاں تک اور کھانے پینے کی ضرورت ہو اور گرم ہوا لگے اور خوفناک مقاموں میں سفر کرنے ہوس ان لوگوں کے دل میں یہاں تک پیدا ہوئی کہ انہوں نے اس آرام کے ملک کے سفر کو برا جان کر اپنے حق میں برا کیا کہ سختی کے سفر کیا اللہ سے دعاء کی جو حقیقت میں ایک بددعاء تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بددعاء قبول کرلی اور پانی کے ریلہ کا عذاب بھیج کر ملک یمن سے ان کو بالکل اجاز دیا جس سے ان میں کے کچھ لوگ ملک شام کو کچھ مدینہ اور عمان وغیرہ کو چلے گئے اور ملک یمن کی راحت پھر ان کو خواب میں بھی نظر نہ آئی اور ان کی یمن کی راحت کی حالت اور اس راحت کے بعد تکلیف کی حالت اس وقت کے لوگوں میں ایک کہانی کی طرح مشہور ہوگئی ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابہریرہ ؓ کی حدیث ایک گہ گزر چکی ہے کہ مصیبت کے وقت صبر اور راحت کے وقت شکر کرنا ایمانداروں کا کام ہے اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ ایسے قصے مصیبت کے وقت صبر اور راحت کے وقت شکر کرنے ولاوں کے حق میں عبرت کی نشانیاں ہیں اور یہ عبرت ایمان کی نشانی ہے اس لیے تھوڑے سے ایمانداروں کے سوا اکثر لوگ مصیبت کے وقت گھبرا کر اور راحت کے وقت اترا کر بےصبری اور ناشکری میں شیطان کے پیرو بن جاتے ہیں اور شیطان نے آسمان سے نکالے جانے کے وقت یہ جو کہا تھا کہ نبی آدم کو ہر طرح سے بہکاؤں گا اس کو سچا کردیتے ہیں شیطان کا یہ قول سورة الاعراف میں گزر چکا ہے سورة الاعراف کی آیتوں کو اس سورت کی ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ شیطان نے نبی آدم کے دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے جو کچھ اٹکل سے کہا تھا بنی آدم نے دنیا میں پیدا ہونے کے بعد شیطان کی اس اٹکل کو سچا کر کے دکھا دیا۔
Ayah 34:2121۔ دنیا کے پیدا ہونے سے اور دنیا میں نیک وبد کے پیدن ہونے سے اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں کوئی نئی بات نہیں پیدا ہوتی دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اور نیک وبد کے پیدا ہونے سے پہلے جو کچھ دنیا کے پیدا ہونے کے وقت سے اب تک ہوا اور جو کچھ قیامت تک ہوگا وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے لیکن اللہ عتالیٰ کی درگاہ میں انصاف ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس علم ازلی پر جزا اور سزا کی بنیادذ نہیں رکھی ہے بلکہ دنیا میں اللہ کے اس علم ازلی کے موافق جو ظہور قیامت تک ہوگا اسی کے موافق قیامت کے دن جزا اور سزا ہوگی اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ شیطان کا وسوسہ انسان کے پیچھے لگانا اس لیے ہے کہ اللہ کے علم ازلی میں یہ بات قرار پاچکی ہے کہ خواہش نفسانی اور اس خواہش نفسانی کا ابھارنے والا شیطان دنیا میں انسان کے ساتھ پیدا ہوگا تو کچھ انسان شیطان کے بہکاوے میں آن کر اپنی عمر برے کا کاموں میں گزرا دیں گے اور کچھ انسان اللہ کے رسول کی نصیحت مان کر شیطان کے بہکاوے میں نہ آویں گے بلکہ شیطان کے وسوسہ سے ان کو اور یہ فائدہ ہوگا جب شیطان ان کے دل میں کسی برے کام کا وسوسہ ڈالے گا اور وہ خوف عقبیٰ سے اس وسوسہ کو ٹال دیں گے اور اس وسوسے کے موافق را کام کرنے کی جرأت نہ کریں گے تو اس برے خیال کو چھوڑنے کے عوض میں ایک نیکی ان کے نامہ اعمال میں لکھی جاوے گی صحیحین وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کی حدیث 1 ؎ قدسی اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کی اور روایتیں 1 ؎ ہیں (1 ؎ ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر ص 339 جلد اول بحوالہ صحیحین وغیرہ) جن کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جب لوح محفوظ میں جزا سزا کا حال لکھا تو یہ بھی لکھ لیا ہے کہ جس شخص کے دل میں برے کام کا وسوسہ گزرے اور خدا کے خوف سے وہ شخص اس برے کام کو نہ کرے تو پوری ایک نیکی ایسی شخص کی لکھی جاوے گی اور جو کوئی شخص نیکی کا فقط ارادہ کرے تو ایک نیکی نیک ارادہ کے عوض میں لکھی جاوے گی اور جب اس نیک ارادہ کے موافق وہ شخص نیک کا بھی کرے گا تو ایک نیکی کا دس حصہ سے لے کر سات سو حصہ تک اور کبھی اس سے بھی زیادہ جس قدر خالص نیت ہوگی اسی قدر ثواب ملے گا اوپر صحیح مسلم کی حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت 1 ؎ سے یہ بھی گزر چکا ہے (1 ؎ مشکوۃ باب فی الوسوسہ۔ ) کہ جس طرح وسوسہ ڈالنے کے لیے ہر ایک شخص کے ساتھ ایک شیطان لگا ہوا ہے اسی طرح ہر ایک شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ نیک کام کی صلاح ہر وقت دینے کو مقرر کردیا ہے اور توبہ کی بحث میں صحیح مسلم کی روایت سے یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دنیا میں توبہ اور استغفار ایسی پیاری چیز ہے کہ جو مخلوق دنیا میں ہے اگر یہ لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی صفت ظاہر کرنے کے لیے ایسی محلوقات کو دنیا میں پیدا کرتا جو لوگ گناہ کر کے توبہ استغفار کرتے اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتا غرض خواہش نفسانی اور شیطان کو اللہ تعالیٰ نے خاص اس حکمت کے لیے دنیا میں پیدا کیا ہے کہ خواہش نفسانی کو روک کر شیطان کے بہکاوے سے بچ کر جو کوئی نیک کام کرے تو اس کا رتبہ اللہ کے نزدیک بڑا ہے اور اس حکمت کے ساتھ ہی یہ حکمت ہے کہ جہاں شیطان کا بہکاوا ہے وہاں ایک فرشتہ بھی اس بہکاوے کو روکنے کے لیے موجود ہے پھر اگر شیطان کے بہکاوے سے سالہا سال برے کام کسی نے کئے تو ایک دم کی خالص توبہ و استغفار میں بالکل سب نیست و نابود ہوگئے اسی واسطے اس آیت میں فرمایا ہے کہ اس قدر انتظام الٰہی کے بعد کسی طرح کا شیطان کا غلبہ انسان پر باقی نہیں رہا ہے جو کوئی اس انتظام سے غافل رہے گا وہ عقبے کا منکر اور قابل سزا قرار پاوے گا جو کوئی شیطان کے پھندے سے بچنے کے انتظام الٰہی کو کام میں لاوے گا اس کے لیے ایک نیکی کا سات سو تک یا اس سے بھی زیادہ بدلا ہے اور شیطان ایسے لوگوں کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا کروں کہ ایسے لوگوں کی نگہبانی اللہ کے ہاتھ ہے اور اس کی نگہبانی ہر چیز کے لیے کافی ہے۔
Ayah 34:2222۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبرداری بندوں داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) پر طرح طرح کے احسانات کئے اور نافرمانی کے سبب سے قوم سبا کو اجاڑ دیا ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ قریش نے جب اللہ کے رسول سے بہت مخالفت شروع کیا تو آپ ﷺ نے قریش کے حق میں بددعاء کی اور آپ ﷺ کی بددعاء کے اثر سے مکہ میں سخت قحط پڑا۔ اس قحط کے زمانہ میں مشرکین مکہ نے اپنے بتوں سے مینہ برسنے کی بہت کچھ التجاء کی لیکن ایک بوند پانی کی نہیں پڑی آخر اللہ کے رسول ﷺ سے ابوسفیان نے مینہ برسنے کی دعاء کی التجا کی اور آپ کی دعاء سے منیہ برسا۔ اسی طرح کی بےاختیاری جتلانے کے لیے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) اور قوم سبا کا قصہ ذکر کر کے فرمایا اے رسول اللہ ﷺ کے ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ کی قدرت کے مقابلہ کے پیدا کرنے میں ان کا کچھ ساجھا ہے نہ کسی چیز کے پیدا کرنے میں اللہ نے ان سے کچھ مدد چاہی ہے اس لیے نہ داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) جیسی بادشاہت یہ بت کسی کو دے سکتے ہیں نہ قوم سباجیسی کسی قوم کو یہ اجاڑ سکتے ہیں ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ مشرکین مکہ جس طرح دنیا میں اپنے بتوں سے نفع کی امید رکھتے تھے جس امید کے غلط ہونے کا حال مکہ کے قحط کے وقت ان کو اچھی طرح کھل گیا اسی طرح شیطان کے بہکانے سے ان لوگوں کا یہ اعتقاد بھی تھا کہ جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ عقبیٰ میں ہماری شفاعت کر کے دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچالیں گے نیک لوگوں کی شفاعت کا حال تو سورة یونس میں گزر چکا کہ بجائے شفاعت کے وہ نیک لوگ اپنی مورتوں کی پوجا کرنے والوں سے دور بھاگیں گے اور اللہ تعالیٰ کو گواہ قرار دے کر یہ کہہ دیں گے کہ ہم ان لوگوں کے شرک سے بالکل بیخبر تھے فرشتوں کی شفاعت کا حال اسی سورة میں آگے آتا ہے کہ قیامت کے دنجب اللہ عتالیٰ فرتوں سے خفگی کے طور پر یہ دریافت فرمادے گا کہ کیا یہ لوگ تمہارے مورتوں کی دنیا میں پوجا کرتے تھے تو اللہ کے فرشتے بہت ڈریں گے اور صاف کہیں گے کہ شیطان کے بہکانے سے یہ لوگ شیطان کی پوجا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے دل میں شیطان نے ہمارے نام کی مورتوں کی پوجا کا وسوسہ ڈال دیا تھا ہماری مرضی کا اس میں ہرگز کچھ دخل نہیں تھا زیادہ تفصیل اس شفاعت کی آگے کی آیت میں آتی ہے۔
Ayah 34:2323۔ مکہ کے مشرکوں نے ملت ابراہیمی ( علیہ السلام) کو بدل کر جس طرح اور باتیں اپنے دل سے ٹھہرائی تھیں اسی طرح یہ بھی ایک بات انہوں نے ٹھہرالی تھی کہ بتوں کی پرستش کرتے تھے اور آنحضرت ﷺ جب ان کو بت پرستی سے منع کرتے اور آخرت کے عذاب سے ڈراتے تو کہتے تھے کہ اول تو ہم مر کر جینے کے نہیں اور اگر جئے اور حساب و کتاب اور عذاب کا موقع پیش آیا تو وہ فرشتے اور نیک لوگ جن کی مورتوں کی ہم پرستش کرتے ہیں اللہ کی درگاہ میں ضرور ہماری شفاعت کر کے ہم کو عذاب سے نجات دلوادیں گے چناچہ سورة یونس کی آیت ویقولون ھؤلاء شفعاؤنا عنداللہ کی تفسیر میں یہ ذکر گزر چکا ہے قوم نوح کے زمانہ سے نیک لوگوں کی مورتوں کا پوجنا جس طرح شروع ہوا صحیح بخاری کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ یک روایت کے حوالہ سے اس کا قصہ ایک جگہ گزر چکا ہے اور سورة نوح کی تفسیر میں اس کی تفصیل زیادہ آوے گی فرشتوں کے پوجا کی نسبت امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ مشرکین مکہ میں ایک بڑا گر وہ ایسا تھا جو فرشتوں کی مورتوں کی پرستش کرتا تھا اور ان فرشتوں کو پانا شفاعت کرنے والا جانتا تھا قرآن شریف سے بھی امام فخرالدین رازی کے سا قول کی تصدیق ہوتی ہے چناچہ اس سورة میں آگے آتا ہے ثم یقول لملا ئکۃ اھؤلاء ایاکم کانوا یعبدون غرض اوپر کی آیت کو اور اس سورة یونس کی آیتو نکو ملا کر حاصل مطلب یہ ہے کہ جن مورتوں کو یہ پوجتے ہیں نہ خدا کی خدائی میں ان کو کچھ اختیار ہے کہ اپنے اختیار سے وہ اپنے عبادت کرنے والوں کو عذاب سے بچاسکتے ہیں نہ بغیر مرضی خدا کے اس کا درگاہ میں زبردستی ان کی شفاعت کا کچھ اثر ہوسکتا ہے کیونکہ اپنے نزدیک بڑا صاحب اختیار سمجھ کر جن فرشتوں کی مورتیں ان مشرک لوگوں نے پرستش کے لیے بنا رکھی ہیں اور بغیر مرضی اللہ تعالیٰ کے ان کی شفاعت پر ان لوگوں کا بھروسہ ہے ان فرشتوں کا تو خدا کے خوف کے سبب سے یہ حال ہے کہ جس وقت خدا کی درگاہ سے کسی طرح کا کوئی حکم ہوتا ہے تو وہ مارے خوف کے بدحو اس ہوجاتے ہیں جب تک وہ یہ نہیں سن لیتے کہ اللہ کا کوئی حکم ہوتا ہے تو وہ مارے خوف کے بدحو اس ہوجاتے ہیں جب تک وہ یہ نہیں سن لیتے کہ اللہ کا کوئی خفگی کا حکم نہیں ہے بلکہ معمولی انتظام دنیا میں کے حکموں کا ایک حکم اب بھی ہوا ہے اس وقت تک ان کے سن لیتے کہ اللہ کا کوئی خفگی کا حکم نہیں ہے بلکہ معمولی انتظام دنیا میں کے حکموں کا ایک حکم اب بھی ہوا ہے اس وقت تک ان کے ہوش ٹھکانے نہیں آتے پھر ان کی کیا طاقت ہے کہ بےمرضی اللہ کے ان مشرکوں کی وہ سفارش کریں گے بلکہ قیامت کے دن جب فرشتوں سے اور نیک لوگوں سے اس شرک کا حال خفگی کے طور پر پوچھا جاوے گا تو وہ اس شرک سے اپنی نہایت درجہ کی بیزاری ظاہر کریں گے جس کا ذکر اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزر چکا متا خرین مفسروں نے اگرچہ اس آیت کے اور کچھ معنے بیان کئے ہیں لیکن صحیح بخاری مسلم ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور چند صحابہ ؓ سے جو روایتیں 1 ؎ ہیں ان کی رو سے یہی معنے صحیح ہیں جو اوپر بیان کئے گئے۔
شفاعت دو طرح ہوگی
اور یہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ شفاعت دوسرح کی ہوگی ایک محشر کے میدان میں گرمی اور پسینے سے تمام اہل محشر گھبرا کر جب اس بات کی شفاعت چاہیں گے کہ ان کا حساب و کتاب جلدی سے شروع ہوجاوے اور اس شفاعت کے لیے اہل محشر حضرت آدم ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیاء کے پاس جویں گے مگر سوائے آنحضرت ﷺ کے اس شفاعت پر کوئی نبی مستعدنہ ہوگا اسی واسطے یہ شفاعت خاص آنحضرت ﷺ کی ذات کے ساتھ محصوص ہے اور اہل قبلہ میں سے کوئی فرقہ اس شفاعت کا منکر نہیں ہے دوسری شفاعت گنہگاروں کو دوزخ میں سے نکال کر جنت میں داخل کرانے کی ہوگی اس شفاعت میں ملائکہ اور سب انبیاء اور صلحاء شریک ہیں جس طرح کی یہ آیت ہے اسی طرح کی آیتوں کا مطلب سمجھ نے میں غلطی کر کے فرقہ خار جیہ اور فرقہ معتزلہ نے اسی دوسری قسم کی شفاعت کا انکار کیا ہے اور اہل سنت نے بہت سی آیتوں اور حدیثوں سے اس شفاعت کو ثابت کیا ہے اور فرقہ خارجیہ اور معتزلہ کے انکار کا جواب دیا ہے کہ انکار شفاعت کی آیتیں مشرک لوگوں کے حق میں ہیں کلمہ گو لوگوں کے حق میں نہیں ‘ اہل محشر کے حساب و کتاب کی شفاعت کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ میں ہے اور گنہگاروں کی دوزخ سے نکالنے کی شفاعت کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کی ابوسعید 2 ؎ خدری کی روایت میں تفصیل سے ہے (1 ؎ دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص 537‘ ج 3‘) (2 ؎ ملاحظہ فرمائیے مشکوۃ باب الحوض والشفاعۃ۔ )