Ayahs 34:24–3224 تا 30۔ اوپر گزرا کہ اہل مکہ کی سرکشی کے سبب سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور اس قحط کی بلا کے دفع کرنے میں اہل مکہ کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ تعالیٰ نے ہی جب اپنے فضل سے مینہ بر سایا تو وہ قحط کی بلادفع ہوگئی اسی واسطے ان مشرکوں کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے سرول اللہ کے تم ان بت پرستوں سے یہ تو پوچھ کر آسمان سے مینہ برسا کر اور زمین میں ہر طرح کی پیدا وار کی تاثیر پیدا کرکے تم لوگوں کے رزق کا سامان کون کرتا ہے مکہ کے فحط کے تجربہ کے بعد اس سوال کا جواب یہی ہوسکتا ہے کہ یہ کام اللہ کا ہے اس جواب کے بعد ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دیا جاوے کہ مکہ کے قحط کے تجریہ سے یہ سمجھ لو کہ ہم میں اور تم میں حق پر کون ہے قل لا تسئلون الایہ اس میت کا مطلب یہ ہے کہ ہم تو کو خدا کی توحید کی طرف یبلاتے ہیں کہ فقط اللہ کی عبادت کرو اگر تم اس کو مانو تم ہمارے اور ہم تمہارے نہیں تو تمہارے عمل تمہارے ساتھ اور ہمارے عمل ہمارے ساتھ پھر فرمایا ان سے کہہ دیا جاوے جو نصیحت تم کو کی جاتی ہے اگر تم لوگ اس کو نہ مانو گے تو ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ ہمیں تھیں سب کو اللہ کے روبرو کھڑا ہونا پڑے گا اس دن حق ونا حق سب کھل جائے گا کیوں کہ حق ونا حق اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے اور وہ اپنے علم غیب کے موافق بڑے انصاف سے فیصلہ کرنے والا ہے پھر فرمایا مکہ کے قحط سے اللہ کی شان لوتو ان لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لی اس پر بھی جن بتوں کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ان میں اللہ کی قدرت جیسی کوئی بات یہ لوگ دکھا سکتے ہوں تو دکھلاویں لیکن اللہ کی قدرت اور حکمت ایسی زبردست ہے کہ اس کی قدرت اور حکمت جیسی کوئی بات مخلوق میں ہرگز نہیں پائی جاسکتی اب آگے اپنے رسول کی تسکین کے یے فرمایا اے رسول اللہ کے یہ تمہاری قوم کے لوگ تمہاری نصیحت کو نہیں مانتے تو اس کا کچھ رنج نہ کرنا چاہئے کیوں کہ اور رسولوں کی طرح تم کو اللہ نے کسی خاص قوم کا رسول بنا کر نہیں بھیجا ہے تمہاری نبوت ایسی عام ہے کہ تمہارے قوم کے نیک لوگوں کے موافق قوموں کے بہت سے لوگ تمہارے پیرو ہوجائیں گے جن کا مقابلہ اہل مکہ کو مشکل ہوگا اور آخر کو مکہ فتح ہوجاوے گا لیکن تمہاری قوم کے اکثر لوگ اس سے بیخبر ہیں اس لیے سرکشی کی باتیں کرتے ہیں اور اسی سرکشی کے سبب سے قیامت کی باتیں جن کو یہ لوگ بنو کہتے ہیں کہ آخران باتوں کا ظہور کب ہوگا اس کے جواب میں ان لوگوں سے کہہ دیا جاوے کہ جب ان باتوں کے ظہور کا وقت آگیا تو پھر گھڑی بھر کی بھی دیر سویر نہ ہوگی ‘ مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی صحیح حدیث 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ الترغیب والترہیب ص 365 ج 4 فصل من کتاب الجنائز) کہ قبر میں دفن کئے جانے اور منکر نکیر کے سوال و جواب ہوجانے کے بعد نیک شخص کو اس کا جنت کا ٹھکانا اور بد شخص کو اس کا دوزخ کا ٹھکانا اللہ کے فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ٹھکانوں میں جانے اور رہنے کے لیے تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘ اس حدیث کا ظہور قیامت کے دن یوں ہوگا کہ جنت میں جانے والوں کے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے اور دوزخ میں جانے والوں کے بائیں ہاتھ میں ‘ اس کی زیادہ تفصیل سورة الواقعہ اور سورة الحاقہ میں آئے گی ‘ اس حدیث اور واقعہ اور الحاقہ کی آیتوں کے موافق لاتستأخرون ساعۃ والا تستقد مون کی تفسیر کی حاصل یہ ہے کہ جنت و دوزخ کا ٹھکانا دکھانے اور جنت دوزخ میں جانے کا جب وقت آجائے گا تو پھر اس میں گھڑی بھر کی دیر سویر نہ ہوگی صحیح بخاری ومسلم میں جابر بن عبد اللہ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ باب فضائل سید المرسلین ﷺ جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھ سے پہلے نبی ‘ خاص اپنی قوم کی ہدایت کے لیے آئے اور مجھ کو اللہ تعالیٰ نے سب قوموں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے یہ حدیث وما ارسلناک الاکانۃ لیناس کی گویا تفسیر ہے۔
Ayah 34:3333۔ اوپر مشرکین مکہ کی اس سرکشی کا ذکر تھا کہ وہ قیامت کے آنے کا وقت گھڑ ی کھڑی سرکشی اور مسخراپن سے پوچھتے تھے ان آیتوں میں ذکر ہے کہ جب ان مشرکوں کو یہ جواب دیا گیا کہ وہ وقت آجاوے گا تو گھڑی بھر کی دیر سویر نہ ہوگی تو ان سرکشوں نے یہ کہا کہ قرآن پاک یا اس سے پہلے کی جن کتابوں میں قیامت کا ذکر ہے ان میں سے ایک کتاب کو بھی ہم نہیں مانتے پھر فرمایا اب تو اپنی سرداری کے گھمنڈ سے یہ سردار لوگ اور عام لوگ ان سرداروں کے بہکانے کے سب سے یہ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں لیکن قیامت کے دن جب اس سرکشی کی سزا کا موقع آوے گا تو ان میں سے ہر ایک دوسرے کا دشمن ہوجائے گا سردار لوگ اپنے تابع لوگوں کو گمراہ ہونے کا اور تابع لوگ سرداروں کو رات دن کے بہکانے کا الزام لگائیں گے ‘ پھر فرمایا اللہ کی درگاہ میں انصاف ہے وہاں بےقصور کسی کو سزا نہیں دی جاتی اس لیے سرداروں اور ان کے پیدوں میں سے جیسا جس کا قصور ہوگا ویسی اس کو سزادی جاوے گی ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا میں جو شخص کسی کو بہکادے گا اس کو دوہری سزادی جائے گی خود بہکنے کی جدا اور دوسروں کو بہکانے کی جدا ‘ صحیح مسلم وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی بھی گئی جگہ گزر چکی ہے کہ ظلم اور ناانصافی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذاب پاک پر حرام کرلیا ہے اس واسطے یہ نہیں ہوسکتا کہ بہکانے والوں اور بہکنے والوں کی سز میں کچھ فرق نہ کیا جاوے بلکہ بہکانے والوں کو ان کے جرم کے موافق دوہری سزادی جاوے گی اور بہکنے والوں کو ان کے جرم کے موافق اکہریٔ ھل یجزون الا ما کانوا یعملون فرما کر اسی مطلب کوا دا کیا گیا۔
Ayahs 34:34–3934 تا 39۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کے سرکش دولتمندوں کا ذکر فرمایا تھا کہ وہ قرآن اور قرآن سے پہلے کسی کسی کتاب آسمانی کو نہیں مانتے اور پھر ان مشرکوں کو ڈرایا تھا کہ اب دنیا میں تو یہ لوگ سرکشی کر رہے ہیں میدان حشر میں پچتاویں گے اور ایک دوسرے کو ملامت کریں گے اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسکین کے لیے فرمایا ہے کہ قریش پر کچھ موقوف نہیں ہے دولتمند ہمیشہ سے اسی طرح عاقبت سے غافل اور اللہ کے رسولوں کے منکر رہے ہیں مصنف ابن ابی شیبہ تفسیر ابراہیم ابن منذر تفسیر سفیان ثوری اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی عبدالرحمن بن زید اور عبداللہ ابور زین کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 540 ج 3 و تفسیر الدرالمنثور ص 238 ج 5۔ ) اس کا حاصل یہ ہے کہ دو شخص تجارت پیشہ سا جھے میں مل کر تجارت کرتے تھے ان میں سے ایک شخص ملک شام کے سفر کو گیا ہوا تھا وہاں اس نے جب آنحضرت ﷺ کا حال سنا تو اپنے ساجھی کو خط لکھ کر آپ کا تفصیلی حال دریافت کیا اس کے ساجھی نے جواب لکھا کہ کچھ غریب تنگ دست لوگ ان رسول کے دین میں آئے ہیں اور سب دولتمند قریش ابیھ ان رسول کے منکر ہیں اس شخص نے اس خط کے پڑھتے ہی تجارت چھوڑ دی اور آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آن کر مسلمان ہوگیا آنحضرت ﷺ نے اس شخص سے پوچھا کہ تجھ کو میرا رسول ہونا کیوں کر معلوم ہوا اس نے کہا پچھلے رسولوں کے فرما نبردار ہمیشہ سے غریب لوگ ہو آتے ہیں اور آپ کے فرما نبردار لوگ بھی غریب نظر آتے ہیں اس لیے مجھ کو یقین ہوگیا کہ بلاشک آپ سچے رسول ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی جب آیت اتری تو آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے کلام کے تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی ہے یہ عبداللہ ابور زین سفیان ثوری کے ہم رتبہ تابعی ہیں اور ابن حبان نے ان کو ثقہ لوگوں میں لکھا ہے حدیث کی روایت میں اگرچہ ان عبدالرحمن کو ضعیف شمار کیا جاتا ہے لیکن تفسیر کے باب میں ان عبدالرحمن بن زید بن اسلم کو متقدمین مفسروں میں اس لے ہ شمار کیا جاتا ہے کہ تفسیر کی روایت یہ اپنے باپ زید بن اسلم سے کرتے ہیں علاوہ اس کے عبداللو ابور زین کی روایت سے یہاں ان عبدالرحمن کی روایت کو تقویت بھی حاصل ہوگئی ہے اس واسطے اس شان نزول کو صحیح کہا جاسکتا ہے عمر وبن عوف انصاری ؓ کی حدیث 1 ؎ صحیحین کی روایت سے اوپر گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نیف رمایا مجھ کو اپنی امت کے فقر وفاقہ کا اتنا اندیشہ نہیں ہے جتنا اندیشہ اس بات کا ہے کہ ان کو فارے البالی ہو کر پچھلی امتوں کی طرح کہیں یہ خرابی میں نہ پڑجائیں مسند امام احمد میں محمودبن لبید ؓ کی روایت 2 ؎ کا ایک ٹکڑا ہے جس کا حاصل یہ ہے (2 ؎ مشکوۃ باب فضل الفقراء وما کان من عیش النبی ﷺ فصل دوسری) کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ لوگ تنگ دستی سے گھبراتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ جس شخص کے پاس دنیا میں مال کم ہے اس کو قیامت کے دن حساب بھی کم دنیا پڑے گا اگرچہ امام مسلم نے ان محمود بن لبید ؓ کو تا بعیوں میں شمار کیا ہے لیکن امام بخاری نے ان محمود کو صحابہ میں شمار کیا ہے اور ابن عبداللہ نے کہا ہے کہ بہ نسبت مسلم کے امام بخاری کا قول زیادہ صحیح ہے مسند امام احمد میں یہ محمود بن لبید کی حدیث دوسندوں سے آئی ہے جن میں ایک سند صحیح ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ جو دولتمندی دین کے کاموں سے آدمی کو غافل کرے اس کی قرآن شریف اور حدیث میں جگہ جگہ مذمت آئی ہے ہاں جو دولتمندی اس طرح کی ہو کہ حلال طریقہ سے آدمی کمائے اور شریعت کے حکم کے موافق اس کو خرچ کرے تو یہ بڑے رتبہ کی بات ہے چناچہ ابی کبشہ انماری ؓ کی ترمذی 3 ؎ میں ایک بڑی حدیث ہے (3 ؎ مشکوۃ باب استحباب المال والعمر للطاعۃ فصل دوسری۔ )
جس کو ترمذی نے صحیح حدیث قرار دیا ہے اس حدیث کا ایک ٹکڑا یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال اور علم دونوں چیزیں دیوے اور وہ مال کو شریعت کے موافق خرچ کرے اور علم کے موافق عمل کرے تو ایس شخص کا بڑا رتیہ ہے جس طرح مشرکون نے وہ غلط خیال اپنے دل میں جمار کہا تھا جس کا ذکر اوپر کی میتوں میں گزرا کہ قیامت کے دن اللہ کے فرشتے اور نیک لوگ ان مشرکوں کی شفاعت کر کے ان کو عذاب سے چھوڑ الیویں گے اسی طرح ایک غلط خیال یہ بھی انہوں نے اپنے دل میں جمار کہا تھا کہ جب خدا نے دنیا میں ان کو مال اور اولاد سے خوش وآسودہ حال رکھا ہے اور اکثر مسلمان تنگ حال نظر آتے ہیں تو معلوم ہوا کہ بہ نسبت مسلمانوں کے ان مشرکوں پر خدا کی مہربانی اور نظر رحمت زیادہ ہے پھر اگر قیامت قائم ہوئی تو اپنی ایسی مخلوق کو جس پر اس کی نظر عنایت زیادہ ہے خدا تعالیٰ عذاب نہیں کرے گا ان کے اس غلط خیال کا جواب اللہ تعالیٰ نے یوں دیا ہے کہ مال اور اولاد اللہ کے نزدیک کوئی قابل قدر چیز نہیں ہے تاکہ دنیا میں مال اور اولاد اللہ تعالیٰ اسی کو دیوے جس پر اس کی نظر عنایت ہو ان مشرکوں سے پہلے کے لوگوں کو جو کچھ مال اور اولاد کی آسودہ حالی تھی اس کا دسواں حصہ بھی آسودہ حال ان کو نہیں ہے ان کی آسودہ حالی اگر خدا کی نظر عنایت کے سبب سے ہوتی تو ان پر اس طرح عذاب الٰہی کیوں آتا جس عذاب کا حال انہوں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے اور ان کی اجڑی وئی بستیاں خود آنکھوں سے دیکھی ہیں بلکہ اللہ کی نظر عنایت کی چیز دنیا میں ہے تو یہی ہے کہ آدمی خدا کو ایک جانے خدا کے رسول کی فرما نبراداری کرے جن کاموں سے اللہ خوش ہوتا ہے وہ کام اللہ کے رسول سے سیکھے اور رات دن ان کاموں میں لگا رہے کس لیے کہ عاقبت کی آسودہ حالی دنیا کی طرح نہیں ہے کہ نیک وبد سب کو حاصل ہوجاوے بلکہ عقبیٰ کی آسودہ حالی تو دنیا کے نیک کاموں کا بدلا ہے جو کرے گا سو پانے گا یہ امر اللہ کے انصاف کے بالکل بر خلاف ہے کہ جو لوگ دنیا میں اللہ کی مرضی کے موافق کام کرتے ہیں وہ اور جو خلاف مرضی کام کتے ہیں وہ جزا اور سزا کے وقت دونوں کا ایک حال رکھے رہی دنیا کی خوشحالی اس کی مصلحت ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے بکیھ اللہ تعالیٰاپنے نیک بندوں کو دنیا کی تنگ دستی دیتا ہے تاکہ وہ صبر کریں اور اس صبر کے اجر میں ان کا رتبہ بڑھے عاقبت کے حساب و کتاب کا ان کا بوجھ ہلکا ہوجاوے بکیھ ایسے بد لوگوں کو دی دنیا کیا خوشحالی دیتا ہے جو بالکل عاقبت سے غافل ہیں تاکہ وہ اپنی آسودہ حالی میں کوئی دونوں غرق رہیں پھر اپنے کئے کو بھگتیں سورة زخرف میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ گویا اس آیت کی تفسیر ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ دنیا کی تنگ دستی اور خوشحالی کچھ اس سبب سے نہیں ہے کہ خوش حال لوگوں کی اللہ کے نزدیک کچھ عزت اور تو قیر تھی اس عزت اور توقیر کے سبب سے دنیا میں ان کو خوشحالی دی گئی یا تنگ دست لوگوں پر اللہ کی نظر عنایت نہیں تھی اس سبب نے ان کو تنگ دستی دی گئی بلکہ دنیا کی تنگدستی اور خوشحالی محض دنیا کا چند روزہ انتظام چلانے کے لیے ہے کہ روپے پیشہ کا کام تنگ دست کا خوشحال سے چل جاوے اور خوشحال لوگوں کی محنت اور مزدوری کی ضرورت تنگ دست لوگوں سے رفع ہوجاوے سب انسان ایک حالت میں ہوتے تو یہ انتظام کیوں کر چل سکتا اور بدلوگوں کی خوشحالی دیکھ کر نیک لوگوں کے بہک جانے اندیشہ نہ ہوتا تو اللہ عتالیٰ بدلوگوں کو اتنا کچھ دیتا کہ و اپنے گھروں کی چھتیں اور زینہ کی سیڑھیاں اور دروازوں کے کو اڑتک چاندی کے بنالیتے پھر فرمایا یہ سب کچھ ہوتا بھی تو کیا ہوتا آخر نہ دنیا رہنے والی ہے نہ دنیا کی خوشحالی رہنے والی ہے رہنے والی تو وہی خوشحالی ہے جو اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو عقبیٰ میں دے گا یہ سب مضمون سورة زخرف کی آیتوں کا ہے ‘ ایک نیکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک اور کچھ نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ جو ملے گا اس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث قدسی کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے وہی حدیث فاؤلئک لھم جزاء الضعف بماعملوا کی گویا تفسیر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے حدیث قدسی ہے (1 ؎ مشکوۃ باب الانفاق وکر اہیتہ الامساک۔ ) جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص نیک راہ میں اپنا مال خرچ کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اور دے گا یہ حدیث وما انفقتم من شیء فھویخلفہ کی گویا تفسیر ہے انتظام دنیا میں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے بعضے لوگوں کا رزق بعضوں کے ذمہ کردیا ہے لیکن رزق کے سارے اسباب اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں اس لیے وھو خیرالرازقین فرمایا
Ayahs 34:40–4240 تا 42۔ اوپر گزر چکا ہے کہ مکہ کے مشرک لوگوں میں کا ایک گروہ فرشتوں کی مورتوں کی پوجا اس اعتقاد سے کیا کرتا تھا کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ فرشت اپنی پوجا کرنے والوں کی شفاعت بارگاہ الٰہی میں کر کے انہیں عذاب دوزخ سے بچالیں گے اس کے جواب میں فرمایا کہ جس دن ان فرشتہ پر ستوں کو سب مخلوقات کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو ان کے قائل کرنے کے لیے فرشتوں سے خفگی کے طور پر اللہ تعالیٰ یہ دریافت فرمائے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری مورتوں کی دنیا میں پوجا کیا کرتے تھے اللہ کے فرشتے یہ بات سن کر عرض کریں گے یا اللہ تو اس سے پاک ہے کہ تیرے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہو تو ہمارا کارساز ہے اور ہم تیرے بندے ہیں تو خوب جانتا ہے کہ ان لوگوں کے دل میں شیطان نے ہمارے نزدیک کو پوجنے کا وسوسہ ڈال دیا تھا ہماری مرضی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہے ‘ فرشتوں کے اس سچے جواب کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان فرشتہ پرستوں کو فرتوں کی شفاعت سے ناامید کرنے کے لیے فرمائے گا کہ آج کے دن کا نفع نقصان عذاب وثواب سب اسی کے ہاتھ ہے اس کے سوا کوئی کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچا سکتا اس ارشاد کے بعد سزاو جزا کے جھٹلانے والوں کو دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھنے کا حکم ہوجائے گا ‘ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ باب الحب فی اللہ ومن اللہ فصل اول۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک کاموں کے سبب سے جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت ہوتی ہی تو اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) سب آسمانوں کے فرشتوں کو اس کی خبر کردیتے ہیں جس سے آسمان کے فرشتے ایسے لوگوں کی محبت کا دم بھرنے لگتے ہیں اور ان کے لیے دعا خیر کیا کرتے ہیں یہ حدیث صحیح مسلم 1 ؎ میں بھی ہے اس میں یہ بات زیادہ ہے کہ برے کاموں کے سبب سے جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے غصہ کی نظر ہوتی ہے اس کی اطلاع بھی سب فرشتوں کو ہوجاتی ہے جس سے سب فرشت ایسے لوگوں سے بیزار رہتے ہیں ‘ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ قیامت کے دن جس سوال و جواب کا ذکر آیتوں میں ہے اگرچہ اس سوال و جواب سے پہلے اللہ کے فرشتے ان فرشتہ پرست لوگوں سے بیزار اور ان کو برا جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کی بھی فرشتوں کی یہ بیزاری خوب معلوم تھی لیکن فقط اس فرشتہ پرست فرتے کے ذلیل کرنے کے لیے یہ سوال و جواب اس دن ہوگا تا کہ اس فرشتہ پرست فرقہ کو معلوم ہوجائے کہ جن فرشتوں کی مورتوں کو یہ لوگ پوجا کرتے وہ فرشتے اللہ کو اپنا کار ساز اور اپنے آپ کو اللہ کا بندہ جانتے اور اس شرک سے نہایت درجہ بیزار تھے یہ سوال و جواب ایسا ہی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ اس دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پو (رح) چھے گا کہ کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ وہ تم کو اور تمہاری ماں کو معبود ٹھہراویں اور حضرت اس سوال کا وہ جواب دیں گے جس کا ذکر سورة مائدہ میں گزرا۔
Ayahs 34:43–4543 تا 45۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف سے پہلے نہ کوئی کتاب عرب پر اتاری اور نہ آنحضرت ﷺ سے پیشتر کوئی رسول ان کی طرف بھیجا گیا عرب کے لوگ پہلے بہت چاہتے تھے اور کہتے تھے اگر کوئی ڈرانے والا ہمارے پاس آتا یا کوئی کتاب ہم پر نازل کی جاتی تو ہم اور قوموں کی بہ نسبت زیادہ ہدایت پر ہوتے پھر جب خدا تعالیٰ نے رسول بھیجا اور کتاب بھیجی تو بغیر کسی سند کے اللہ کے رسول کو جھوٹا کہنا اور کتاب آسمانی کو جادو بتلانا ان لوگوں کی نادانی ہے پھر فرمایا ان سے پہلے ایسی قوموں نے رسولوں کو جھٹلایا ہے کہ دولت اور قوت کے حساب سے یہ لوگ ان پہلی قوموں کے دسویں حصہ کو بھی نہیں پہنچے جب اللہ نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کی دولت وقوت نے ان کو کچھ نفع نہ دیا تو یہ لوگ جو کہ ان سے ہر بات میں کم ہیں رسول کے جھٹلانے کے بعد عذاب الٰہی سے کیوں کر بچ سکتے ہیں ‘ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ پہلی قوموں کے قدم بقدم چلیں گے تو یہی انجام انکا ہوگا جو ان کا ہوا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے قریش میں کے بڑے بڑے قرآن اور اللہ کے رسول کے جھٹلانے والوں کا جو انجام بدر کی لڑائی میں ہوا صحیح بخاری ومسلم کی انس ؓ بن مالک کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ دنیا میں بڑی ذلت سے یہ لوگ مارے گئے اور مرتے ہی عقبیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچاپا لیا۔
Ayah 34:4646۔ اوپر کی آیتوں میں یہ ذکر تھا کہ مشرکین مکہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر کبھی یہ کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ کلام اپنی طرف سے بنالیا ہے اللہ کا کلام یہ نہیں ہے اور یہ بھی کہتے کہ غرض ان کی اس کلام کے بنانے سے یہ ہے کہ ہمارے باپ دادا کے دین سے ہم کو روکنا چاہتے ہیں اور کبین یہ لوگ آنحضرت ﷺ کا معجزہ دیکھ کر جادو بتلاتے تھے اور کبھی حشر کی باتیں اور قیامت کی باتیں آپ سے سن کر آپ کو دیوانہ بتلاتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب بیہودہ باتوں کا دوسرح جواب دیا ایک تو یہ قیامت کی باتیں آپ سے سن کر آپ کو دیوانہ بتلاتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان سب بیہودہ باتوں کا دو طرح جواب دیا ایک تو یہ کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے بنی اسماعیل میں نہ کوئی نبی آیا نہ کوئی آمانی کتاب اتری پھر جب ان کی یہ بیہودہ باتیں کسی نبی کے بیان اور کتاب آسمانی کی سند سے نہیں ہیں تو یہ الوگ جو کچھ کہتے ہیں وہ گویا محض ان کی عقل اور تجربہ کی رو سے ہے اس کا کا جواب یہ ہے کہ نبوت سے پہلے ان میں یہ بات مشہور تھی کہ ان میں کے چھوٹے بڑے ان اللہ کے رسول کو سچا جانتے اس کا جواب یہ ہے کہ نبوت سے پہلے ان میں یہ بات مشہور تھی کہ ان میں کے چھوٹے بڑے ان اللہ کے رسول کو سچا جانتے تھے نبوت کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے معجزوں سے بھی اپنے رسول کی تائید کی تو پھر کسی عقل اور کون سے تجربہ سے یہ لوگ اللہ کے رسول کو جھٹلاتے ہیں اے اللہ کے رسول تم ان سے کہہ دو کہ بہت سے آدمیوں کے ہجوم میں بات اچھی طرح سمجھ میں نہیں آتی ان میں کے ایک ایک دو دو شخص اللہ کی راہ کو سوچنے کے لیے مستعد اور قائم ہوجاویں گے تو خود بخودان کی سمجھ میں آجاوے گا کہ ان کا تجربہ پہلے سے اللہ کے رسول کے باب میں کیا تھا اور اب یہ لوگ اپنے تجربہ کے خلاف اللہ کے رسول کی شان میں کیا کہہ رہے ہیں صحیح بخاری 1 ؎ وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی وہ حدیث جو مشہور ہے (1 ؎ صحیح بخاری باب بدء الوحی۔ ) جس میں ہرقل باشادہ اور ابوسفیان کی باتوں کا ذکر ہے اس میں یہ بھی ہے کہ قہر قل نے ابوسفیان سے پوچھا جو شخص اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہتے ہیں کیا رسول ہونے کا دعویٰ کرنے سے پہلے کبھی تم لوگوں نے ان کو جھوٹ بولتے ہوئے بھی سنا ہے ابوسفیان نے جواب دیا کہ نہیں اس پر ہرقل نے کہا کہ جو شخص لوگوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ سے کیوں کر یہ جھوٹ بولے گا کہ بغیر اللہ کے رسول ہونے کے کہہ دے گا کہ میں اللہ کا رسول ہوں غرض اس صحیح وایت اور اور صحیح روایتوں سے یہ بات ثابت ہے کہ نبوت سے پہل تمام مکہ کی مشرک آنحضرت ﷺ کے سچے کو مانتے تھے ای واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان لوگوں کو الزام دیا ہے کہ جب ان لوگوں کے پاس کسی پہلے نبی کا مقولہ نہیں کوئی کتاب آسمانی نہیں خود انکا تجربہ ان کے قول کے مخالف موجود ہے تو پھر اس طرح کی بیہودہ اور بےٹھکانے باتیں یہ لوگ کیوں زبان پر لاتے ہیں اور اوپر کی آیتوں میں یہ ڈراوا بھی دیا تھا کہ اگر یہ لوگ ہر طرح کی فہمائش کے بعد بھی اللہ کے سرلو کے جھٹلانے سے باز نہ آویں گے تو ان سے پہلے اللہ کے رسولوں کے جھٹلانے والی امتوں کا جو حال ہوچکا ہے وہی حال ان کا ہوگا ‘ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اہل مکہ کے بڑے بڑے سرکشوں کے حق میں بدر کی لڑائی کے وقت جو کچھ اس وعدہ کا ظہور ہوا اس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم کے انس بن مالک ؓ کی روایت کے حوالہ سے اوپر گزر چکا ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے روایت 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ مشکوہ باب صفۃ النار واہلہا فصل اول۔ ) کہ کم سے کم دوزخ کا عذاب یہ ہوگا کہ دوزخی شخص کو آگ کی جوتیاں پہنادی جائیں گی جس سے اس کا بھیجا کھول جائے گا ‘ اس آیت میں ذوزخ کے جس عذاب کو اللہ تعالیٰ نے بڑی آفت فرمایا ہے اس کی تفسیر بیان سے باہر ہے۔
Ayahs 34:47–4947 تا 49۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ مشرکوں سے اس طرح کہیں کہ میں جو تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور خدا کی عبادت کا تم کو حکم کرتا ہوں اس کے اوپر میں تم سے کچھ اجرت نہیں طلب کرتا نہ کچھ انعام چاہتا ہوں تم اپنا بھی اور تمہاری کو بھی سب چیز اس کے سامنے ہے کچھ اس سے پوشیدہ نہیں اسے خوب معلوم ہے کہ میں تم سے کچھ اجر نہیں چاہتا قرآن یہ بھی فرمایا کہ قرآن اللہ غیب دان کا کلام ہے اس واسطے اس میں غیب کی خبریں ہیں فرمایا اس قرآن کے ذریعہ سے اب وہ دین حق آگیا جس کے سبب سے نہ آیندہ شرک کی نئی رسمیں پیدا ہوسکتی ہیں نہ مٹی ہوئی رسمیں پھر رواج پکڑ سکتی ہیں مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ فتح مکہ کے وقت شیطان یہ کہہ کر بہت رویا کہ آج سے شرک کی جڑامت محمد ﷺ یہ میں سے اٹھ گئی یہ حدیث ومایبدی الباطل وما یعید کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت کے اس ٹکڑے میں شرک مٹ جانے کی جو پیشین گوئی تھی اس کا ظہور فتح مکہ کے وقت ایسا ہوا کہ جزیرہ عرب میں سے شرک کی قدیم اور جدید رسموں کے مٹ جانے پر شیطان کو رونا آگیا ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے جابر بن عبداللہ کی حدیث 2 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (2 ؎ مشکوۃ باب فی الوسوسہ فصل اول۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جزیرہ عرب کی بت پرستی سے اب شیطان ناامید ہوگیا ‘ اس حدیث سے حضرت عبداللہ عباس ؓ کی روایت کو پوری تقویت ہوجاتی ہے۔
Ayahs 34:50–5450۔ سعد بن ابی وقاص کے بیٹے عمر بن سعد ؓ کہا کرتے تھے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا ہے جو مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ کی شان میں کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ نے خود بھی اپنے باپ دادا کا دین چھوڑا نا چاہتے ہیں اوپر کی آیتوں میں مشریکن مکہ کا یہ قول جو گذرا کہ ما ھذا الارجل یرید ان یصد کم عماکان یعبد آیا ثمکم اس سے عمر بن سعد کے اس قول کی تصدیق بھی ہوتی ہے ‘ یہ عمر بن سعدثقہ تابعیوں میں ہیں لیکن یزید کی طرف سے جو لشکر حضرت حسین ؓ نے کوفہ پر لڑا اس لشکر کے یہ عمر بن سعد سردار تھے اس واسطے اسماء الرجال اور تاریخ کی کتابوں میں ان عمر بن سعد ؓ پر لوگ طعن کرتے ہیں لیکن ان کی روایت میں کچھ طعن نہیں ہے اسماء الرجال کی بعض کتابوں میں ان عمر بن سعد کو صحابیوں میں جو شریک کردیا ہے وہ غلط ہے کیوں کہ ابن معین (رح) نے اس بات کی صراحت کردی ہے کہ ان عمر بن سعد کی پیدائش اور حضرت عمر ؓ کی وفات ایک ہی دن ہے پھر عمر بن سعد صحابی کیوں کر ہوسکتے ہیں ‘ غرض اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مشرکین مکہ کے جس قول کا جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ تم لوگوں کے کہنے کے موافق باپ دادا کا دین اگر حق تھا جس کے چھوڑ دینے سے میں بےراہ ہوگیا ہوں تو اس کا وبال خدا مجھ پر ڈالے گا اور اگر جس طرح میں کہتا ہوں کہ میری جو کچھ نصیحت ہے وہ اللہ کے حکم کے موافق ہے اور تم لوگ اس نصیحت کی مخالفت کرتے ہو تو اس مخالفت کا سخت عذاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے تم کو بھگتنا پڑے گا اللہ تعالیٰ میرے اور تمہارے قول دفعل سنتا اور دیکھتا ہے جس طرح کا قول دفعل جس کسی کا ہوگا اسی طرح کا بدلہ اللہ تعالیٰ اس کو دے گا اب آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں جس دن ان کے قول وفعل کا وبال ان لوگوں پر پڑے گا اس دن ان لوگوں کی پریشانی کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ اپنے قول وفعل پر جس دن ان کے قول وفعل کا وبال ان لوگوں پر پڑے گا اس دن ان لوگوں کی پریشانی کا حال دیکھنے کے قابل ہوگا کہ اپنے قول دفعل پر پچتاویں گے اور دنیا میں پھر آنے اور نیک کام کرنے اور اس طرح قول وفعل سے باز آنے کا اقرار کریں گے مگر جب وقت ہاتھ سے نکل جائے گا تو پھر پچتانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مکشوۃ باب صفۃ ال نار واہلہا فصل اول۔ ) میں آنحضرت ﷺ سے ہی عذاب کی سختی شروع ہوجاتی ہے ‘ یہ حدیث واخذ وامن مکان قریب کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نسبت عقبیٰ کے دناہ جو انسان کے لیے قریب کی جگہ ہے اپنے بداعمالوں کے سبب سے یہ لوگ وہیں سے عذاب میں پکڑے آئے ہیں پھر اب عقبیٰ میں ان کی کیا نجات ہوسکتی ہے۔ وانی لھم التناوش من مکان بعید اس کا مطلب یہ ہے کہ عقبیٰ میں… پہنچ جانے کے بعد دنیا انسان کے لیے ایک دور جگہ ہے پھر جو آرزو دنیا میں آن کر آرز واتنے دور بیٹھے بیٹھے کیونکر پوری ہوسکتی ہے ویقذقون بالغیب من مکان بعید اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح دور سے ایک شخص دوسرے شخص کو اوپر کے اٹکل سے کوئی چیز پھینکتا ہے اسی طرح قرآن اور اللہ کے رسول کی شان میں یہ لوگ اٹکل سے باتیں بناتے رہیں صحیح 1 ؎ مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ مشکوۃ کتاب الجہاد فصل اول ‘) کہ شہید لوگ دنیا میں دوبارہ آنے اور شہید ہونے کی آرزو کریں گے لیکن ان کی وہ آرزو منظور نہ ہوگی اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جب شہدائے بدر جیسے فرما نبردار بندوں کی دنیا میں دوبارہ آنے کی آرزو منظور نہیں ہوئی تو ان نافرمان لوگوں کی یہ آرزو کیوں کر منظور ہوسکتی تھی کیوں کہ یہ بات علم الٰہی میں ٹھہر چکی تھی کہ یہ لوا دنیا میں دوبارہ آن کر اسی نافرمانی میں اپنی عمر گزراتے جس طرح پہلی دفعہ گزاری چناچہ اس کا ذکر سورة الانعام میں گزر چکا ہے ‘ مریب کے معنے شک میں ڈالنے والی چیز کے ہیں مطلب ہے کہ ان لوگوں کے اعتقاد میں مرتے دم تک کفرو شرک کی باتیں اس طرح جم رہی ہیں جن باتوں نے ان کے دل کو قرآن کی نصیحت کی طرف مائل نہیں ہونے دیا جس سے تمام عمر یہ لوگ عقبیٰ کی باتوں میں شک کرتے رہے شاہ صاحب نے شک صریب کا ترجمہ چین نہ لینے والے دھوکے کا جو کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے ‘ حدیث کی سب کتابوں میں ابوہریرہ ؓ سے یہ جو روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ باب فی الوسوسہ فصل اول۔ ) کہ اللہ تعالیٰ نے دل کے وسوسہ کو معاف کردیا ہے یہ ان لوگوں کی شان میں ہے جو اسلامی اعتقاد اور عملوں میں تو پکے ہیں مگر کبھی کبھی ان کے میں وسوسہ ڈال دیتا ہے اور ان کا اعتقاد اس وسوسہ پر نہیں جمتا اس لیے وہ فورا اس وسوسہ کو رفع دفع کردیتے ہیں اور اس وسوسہ پر عمل نہیں کرتے ان آیتوں میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو عمر پھر اس طرح کے شیطانی وسوسوں میں گرفتار رہے کہ ان وسو سوں کے مقابلہ میں شریعت الٰہی کو جھٹلاتے اور ان وسوسوں کو اپنا اعتقاد ٹھہرا کر مرتے دم تک اس اعتقاد کے موافق کفر اور شرک کی باتوں پر عمل کرتے رہے اس تفسیر سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکیف ہے کہ آیت اور حدیث میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔