35. Surah Faatir

فاطرThe Originator · 45 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 35:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 35:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار ہے) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (اور) فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں وہ (اپنی) مخلوقات میں جو چاہتا ہے بڑھاتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

1۔ فاطر کے معنے حالق کے ہیں حاصل معنے یہ ہیں کہ سب تعریف اللہ کو ہے و پیدا کرنے والا ہے آسمان اور زمین کا مطلب اس سے یہ ہے کہ جو ایسی بڑی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے تو وہ دوسری بار بھی سب کچھ پیدا کرسکتا ہے خدا تعالیٰ نے جو اس صفت کے ساتھ اپنی ذات پاک کی تعریف کی ہے مقصود اس سے خالص اللہ کی تعظیم ہے اور بندوں کو یہ تعلیم بھی ہے کہ وہ اس طرح خدا کی ثنا کیا کریں اور اللہ کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں پھر فرمایا وہ اللہ جو ٹھہرانے والا ہے فرشتوں کو رسولوں کے پاس پیغام پہنچانے والا جن فرشتوں کے دو دو اور تین تین اور چار چار پر ہیں جن سے وہ اڑتے ہیں اور خدا کا حکم لے کر رسلولوں کے پاس جلد پہنچ جاتے ہیں ‘ موضح القرآن میں یہ جو لکھا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کے چھ سو پر ہیں حکم لے کر رسولوں کے پاس چلد پہنچ جاتے ہیں ‘ موضح القرآن میں یہ جو لکھا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کے چھ سو پر ہیں یہ حدیث صحیح خباری میں عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت 1 ؎ سے آئی ہے (1 ؎ مشکوۃ ص 501 باب رؤیۃ اللہ تعالیٰ ۔ ) اور یہی حدیث یزید فی الخلق مایشاء کی گویا تفسیر ہے طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 2 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جبرئیل (علیہ السلام) سے ان کے اور میکائیل (علیہ السلام) اور عزرائیل (علیہ السلام) کے تعیناتی کے کام پوچھے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے خواب دیا کہ میں ہوا اور لشکروں کے فتح شکست کے کام پر مامور ہوں اور میکائیل (علیہ السلام) مینہ اور زمین کی پیدا وار کے کام پر اور عز رائیل (علیہ السلام) قبض ارواح کے کام پر مامور ہیں۔ اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن 2 ؎ بن ابی لیلیٰ کو اگرچہ بعضے علماء نے ضعیف قرار دیا ہے (2 ؎ فتح الباری ص 193 ج 3 باب ذکر الملائکہ۔ ) لیکن اکثر علماء نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کو معتبر کہا ہے ‘ حاصل کلام ہے کہ مشرکین مکہ اس بات کے منکر تھے کہ قرآن شریف کلام الٰہی ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو پیغام کے طور پر اللہ کے رسول ﷺ کے پاس لاتے ہیں اس لیے آیت فرشتوں کے پیغام پہنچانے کا ذکر فرمایا لیکن حدیث سے آیت کی یہ تفسیر ہوسکتی ہے کہ سوراوحی کا پیغام لانے کے جبرئیل (علیہ السلام) کو زمین پر آنے کے اور کام بھی سپرد ہیں ‘ حضرت عبداللہ بن عباس کی اس روایت میں اسرافیل کا ذکر نہیں ہے لیکن طبرانی میں معتبر سند سے حضرت عائشہ کی حدیث ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوح محفوظ میں سے ہر طرح کے احکام کے نقل کرنے اور صور پھونکے جانے کی خدمت اسرافیل (علیہ السلام) کے سپرد ہے ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوٰۃ باب مایقال عنہ من حضرہ الموت فصل تیسری) کہ قبض روح کے وقت اللہ کے فرشتے اچھے لوگوں کو رحمت الٰہی کا اور برے لوگوں کو غضب الٰہی کا پیغام پہنچاتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ وحی کے پیغام کے علاوہ اور پیغام بھی اللہ کے فرشتوں کے سپرد ہیں اسی واسطے آیت میں پیغام لانے والوں کو جمع کے لفظوں میں فرمایا۔
Ayah 35:2

مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 35:2 in the Quran reader

خدا جو اپنی رحمت (کا دروازہ) کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے والا نہیں اور جو بند کر دے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے

2۔ صحیح سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے 2 ؎ (2 ؎ مشکوۃ باب التوکل وابصر فصل دوسری ‘) جس میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کو طرح طرح کی نصیحت فرمائی ہے اس حدیث کا ٹکڑا گویا اس آیت کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے فرمایا کہ اگر تمام روئے زمین کی مخلوقات جمع ہور تم کو کچھ فائدہ پہنچانا چاہے تو بدوں حکم خدا کے کوئی قفائدہ کسی طرح کا ہرگز تم کو نہ پہنچاسکیں گے۔ اسی طرح تمام دنیا کے لوگ ضرر پہنچانے پر آمادہ ہوجاویں تو بدوں حکم خدا کے کبھی کوئی شخص کچھ ضرر ہرگز تم کو نہ پہنچا سکے گا اس واسطے پنجگانہ نماز کے بعد آنحضرت ﷺ یہ دعاء مانگا کرتے تھے اللھم لا مانع نماا عطیت ولا عطے نمامنعت جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی کوئی چیز کوئی چھین نہیں سکتا اور بغیر حکم اللہ کے کوئی کسی کو کچھ دے نہیں سکتا صحیح مسلم میں مغیرہ ؓ بن شعبہ سے جو روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ ایضا باب الذکر بعد الصلوۃ فصل اول۔ ) اس میں اس دعاء کا ذکر ہے وھو العزیز الحکیم اس کا مطلب یہ ہے وہ ایسا زبردست ہے کہ اس کے حکم کوئی روک نہیں سکتا صاحب حکمت ایسا ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔
Ayahs 35:3–7

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 35:3 in the Quran reader

لوگو ! خدا کے جو تم پر احسانات ہیں ان کو یاد کرو کیا خدا کے سوا کوئی اور خالق (اور رزاق) ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دے اس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم کہاں بہکے پھرتے ہو ؟

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 35:4 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ اگر یہ لوگ تم کو جھٹلائیں تو تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے گئے ہیں اور (سب) کام خدا ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 35:5 in the Quran reader

لوگو ! خدا کا وعدہ سچا ہے تو تم کو دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈال دے اور نہ (شیطان) فریب دینے والا تمہیں فریب دے

اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ Open ayah 35:6 in the Quran reader

شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن ہی سمجھو وہ اپنے (پیروؤں کے) گروہ کو بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوں

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ Open ayah 35:7 in the Quran reader

جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے

3 تا 7۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جس طرح پیدا کرنا اور روزی کا دینا فقط اسی کا کام ہے نہ کسی اور کا ایسے ہی سوائے اس کے اور کسی کو پوجنا نہیں چاہئے مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرایا جاوئے اور جب اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو پھر تم بعد اس کے ان کھلی ہوئی باتوں سے کہاں سے الٹے جاتے ہو او بتوں کو پوجتے ہو اور اگر اے محمد ﷺ مشرک لوگ تم کو جھٹلادیں اور توحید کو نہ مانیں تو تمہیں پہلے رسولوں کی چال چلنی چاہئے کیوں کہ وہ بھی اپنی قوموں کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لائے تھے ‘ لیکن ان لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور مخالفت کی مطلب یہ کہ یہ کچھ نئی بات نہیں ہے اس لیے ان کے جھٹلانے پر اے محمد ﷺ صبر کرو جیسا کہ پہلے رسولوں نے صبر کیا پھر فرمایا کہ سب کام اللہ کی طرف رجوع ہوتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عنقریب ہر ایک کو موافق اس کے عمل کے پوری پوری سزا وجزادی جاوے گی پھر فرمایا اے لوگو وعدہ اللہ کا حق ہے وعدہ سے مراد آخرت ہے وہ ضرور ہوگی اور تم دوسری دفعہ جلائے جاؤگے اس واسطے تم کو یہ دنیا کا جینا دھوکا نہ دے مطلب یہ ہے کہ اس دنیائے فانی کے عیش میں جو بمقابلہ عیش آخرت کے کچھ حقیقت نہیں رکھتا مشغول ہو کر آخرت کے عیش کو نہ بھول جاؤ اور نہ دھو کے میں ڈالے تم کو خدا کی یاد سے وہ دھوکہ باز حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق لفظ غرور سے مراد یہاں شیطان ہے حاصل یہ ہے کہ شیطان کہیں تم کو سیدھے راستے سے نہ بہکادے کیوں کہ وہ بڑا دھو کے باز ہے پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان کی دشمنی اولاد آدم (علیہ السلام) سے بیان کی کہ وہ شیطان بیشک تمہارا کھلا دشمن ہے تم بھی اس کو دشمن سمجھو اور اس کا کہا نہ مانو وہ بلاتا ہے اپنی پیروی کرنے والوں کو اس لیے کہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوجاویں مطلب یہ کہ ان کو بہکا کر اپنے سات دوزخ میں لے جاوے۔ اب آگے شیطان کے بہکاوے میں آنے والوں اور اسبہ کا وے سے بچنے والوں کا نتیجہ بیان فرمایا کہ شیطانی گروہ کا ٹھکا نادوزخ ہے اور قرآن کی نصیحت ماننے والے گروہ کا ٹھکانا جنت شاطان نے اللہ تعالیٰ کے بیان فرمایا کہ شیطانی گروہ کا ٹھکانا دوزخ ہے اور قرآن کی نصیحت ماننے والے گروہ کا ٹھکانا جنت شیطان نے اللہ تعالیٰ کے روبرو نبی آدم کے بہکانے کی قسم جو کھائی ہے اس کا اور اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر شیطان کو جو جواب دیا ہے اس کا ذکر سورة الاعراف میں گزر چکا ہے سورة الا عراف کی وہ آیتیں اور ان آیتوں کی تفسیر میں جو حدیثیں نقل کی گئی ہیں وہ شیطان کی دشمنی کی تفسیر ہیں۔
Ayah 35:8

اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 35:8 in the Quran reader

بھلا جس شخص کو اس کے اعمال بد آراستہ کر کے دکھائے جائیں اور وہ ان کو عمدہ سمجھنے لگے تو (کیا وہ نیکو کار آدمی جیسا ہوسکتا ہے ؟ ) بیشک خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان لوگوں پر افسوس کر کے تمہارا دم نہ نکل جائے یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس سے واقف ہے

8۔ تفسیر ضحاک بن مزاحم میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ میں جب کہ اہل اسلام کم تھے اور مشرکوں کا زور تھا تو آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ٹانگی تھی کہ یا اللہ عمر بن خطاب یا ابوجہل بن ہشام ان دونوں میں سے کسی کے اسلام لانے سے اسلام نہ لانے سے آنحضرت ﷺ کو رنج ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل رفمائی اور فرمایا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا۔ اے نبی اللہ کے ایسی باتوں سے تم کو غمگین نہیں ہو چاہئے۔ تمہارا کام فقط اتنا ہے کہ تم یکساں سب کو خدا کا حکم پہنچا دو پھر ہدایت اللہ کے اختیار ہے جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار باچکے ہیں شیطان کے بہکانے سے ان کو برے کام اچھے نظر آتے ہیں لیکن اللہ کو ان کے سب کاموں کی خبر ہے وقت مقررہ پر وہ اپنے عملوں کی سزا پاویں گے بعضے 1 ؎ مفسروں نے جو یہ لکھا ہے (1 ؎ ایضا و تفسیر فتح البیان ص 704 ج 3۔ ) کہ یہ آیت بدعتیوں کی شان میں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ بدعتیوں کے حق میں یہی اس آیت کا مضمون صادق آتا ہے کہ جس طرح ابوجہل کفر کی گمراہی میں پھنسا ہوا تھا یہ لوگ بدعت کی گمراہی میں پھنسے ہوئے ہیں ورنہ صحیح شان نزول وہی ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے کیوں کہ لیث بن سلیم۔ ضحاک محمد بن سائب یہ اس قسم کے لوگ ہیں کہ اگرچہ حدیث میں ان کی روایت ضعیف ہے لیکن تفسیر میں ان لوگوں کی روایت مقبول ہے اور بعضے مفسروں نے ضحاک بن مزاحم کی تفسیر کی روایتوں پر یہ جو اعتراض کیا ہے کہ ضحاک بن مزاحم کی روایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقطع ہے کیوں کہ ضحاک بن مزاحم کی ملاقات حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نہیں ہوئی اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ ضحاک بن مزاحم نے تفسیر کی روایتیں حاصل کی ہیں اس لیے جس طرح علی بن طلحہ کی روایت تفسیر میں مقبول ہے اسی طرح ضحاک کی بھی روایت مقبول ہے کسی لیے کہ علی بن طلحہ کی بھی ملاقات حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے نہیں ہوئی جو کچھ تفسیر کی روایتیں علی بن طلحہ کو پہنچی ہیں وہ مجاہد اور سعید بن جبیر سے پہنچی ہیں اور حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں فیصلہ کردیا ہے کہ جب درمیان کا اوسط معلوم ہوگیا کہ ثقہ شخص کا واسطہ ہے تو روایت منقطع میں جو عیب تھا وہ جاتا رہا ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کی جدائی کا رنج قوم کے لوگوں کو بہت تھا شیطان نے قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان لوگوں کی موتیں بنا کر رکھ لی جاویں تاکہ ان مورتوں کے پیش نظر رہنے سے ان نیک لوگوں کی جدائی کا رنج کچھ ہلکا ہوجاو شیطان کے اس وسوسہ کے موافق وہ مورتی بنائی گئیں اور کئی پشت کے بعد پھر رفتہ رفتہ ان مورتیوں کی پوجا ہونے لگی ‘ آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ شیطان برائی کو زیب وزینت دے کر بھلائی کی صورت میں لوگوں کو دکھلاتا ہے اس کا مثال اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ بت پرستی جیسی برائی کو اس ملعون نے کس طرح بھلائی کا لباس پہنا یا اصل عبارت یوں تھی افمن زین لہ سوء عملہ فراہ حسنا ذھبت نفسک علیھم حسرات ‘ ذھبت نفسک علیھم حسرٰت کو فلا تذھب نفسک علیھم حسرات کے ذکر کرنے کے بعد ضروری نہیں سمجھا گیا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو لوگ علم اٰہی میں گمرہ ٹھہر چکے ہیں ان کی گمراہی کے افسوس میں اے رسول اللہ کے تم اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا چاہتے ہو ایسا نہ کرو اور ان لوگوں کا معاملہ اللہ پر سونپ دو اللہ کو ان لوگوں کے سب کا معلوم ہیں کہ یہ لوگ شیطان کے بہکانے سے برے کاموں کو کہا تک اچھا جان رہے ہیں۔
Ayah 35:9

وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ Open ayah 35:9 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جو ہوائیں چلاتا ہے اور وہ بادل کو ابھارتی ہیں پھر ہم انکو ایک بےجان شہر کی طرف چلاتے ہیں پھر اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کردیتے ہیں اسی طرح مردوں کو جی اٹھنا ہوگا

9۔ مشرکین مکہ کو حشر کا انکار تھا جس کے سبب سے عقبیٰ کی بہبودی کی باتیں ان لوگوں کے دل میں نہیں جمتی تھیں اور اسی سے اللہ کے رسول ﷺ کو رنج ہوتا تھا اس لیے اکثر جگہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے کھیتی کی مثال دے کر حشرکا حال ان لوگوں کو سمجھایا ہے کہ جس طرح زمین مردہ پڑی ہوتی ہے اس میں گھانس تک نہیں ہوتی پھر جس وقت اللہ تعالیٰ نے مینہ کی ہوا چلائی اور پانی کے بھرے ہوئے بادے بھیجے اور مینہ برسایا تو اس وقت زمین حرکت کر کے ابھرتی ہے اور اس میں ہر طرح کی چیز پیدا ہوجاتی ہے یہ ہی حال جسموں کا ہے جب اللہ ان کو دوبارہ اٹھانا چاہے گا تو عرش کے نیچے سے ایک ایسی بارش بھیجے گا کہ وہ تمام زمین کو پہنچے گی قبروں کے اندر تمام جسم اس طرح بن کر تیار ہوجائیں گے جس طرح اب زمین کی پیداوار کا حال ہے اس بارش کے باب میں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی 1 ؎ ہے (1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ باب النفخ فی الصور) پھر فرمایا کہ جو شخص دنیا اور آخری میں عزت حاصل کرنی چاہے تو اس کو چاہئے کہ اللہ کی بندگی کرے بیشک اس کا مقصد حاصل ہوجائے گا کس واسطے کہ دنیا میں آخرت میں عزت حاصل کرنی چاہے تو اس کو چاہئے کہ اللہ کی بندگی کرے بیشک اس کا مقصد حاصل ہوجائے گا کس واسطے کہ دنیا اور آخرت کا مالک خدا تعالیٰ ہے اور تمام عزت اسی کے اختیار میں ہے یہ لوگ اب تو کہتے ہیں اگر ہم مر کر دوبارہ زندہ ہوئے تو وہ فرشتے اور نیک لوگ جن کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں اللہ کی بارگاہ میں ہماری سفارش کر کے دوزخ کے عذاب کی ذلت سے ہم کو بچالیویں گے جس سے ہماری عزت میں کچھ فرق نہ آوے گا لیکن قیامت کے دن بجائے سفارش کے اللہ کے فرشتے اور نیک لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجاویں گے اور دوزخ کے عاب کی جو ذلت ان کے بھگتنی پڑے گی وہ اس دن اس طرح ان کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گی جس طرح مکہ کے قحط کے وقت ان لوگوں نے اپنے بتوں کی بےاختیاری کے سبب سے مردار چیزوں کے کھانے کی ذلت اٹھائی ‘ نیک لوگوں کی بیزاری کا حال سورة یونس میں اور فرشتوں کی بیزاری کا حال سورة سبا میں گزر چکا ہے مکہ کے قحط کی عب اللہ بن مسعود کی یہ روایت بھی صحیح بخاری (رح) کے حوالہ سے اوپر گزر چکی ہے کہ جب مشرکین مکہ نے بہت سرکشی پر کمر باندھی تو اللہ کے رسول ﷺ کی بددعاء سے مکہ میں سخت قحط پڑا جس میں مشرکین مکہ کو یہ ذلت اٹھانی پڑی کہ مصیبت کے وقت ان کے بت کچھ کام نہ آئے آخر اللہ کے رسول کی دعا سے مینہ برسا اسی واسطے فرمایا کہ عزت کا دینا اور ذلت سے بچانا اللہ کے ہاتھ ہے ان تبوں کے اختیار میں نہیں۔
Ayah 35:10

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ Open ayah 35:10 in the Quran reader

جو شخص عزت کا طلبگار ہے تو عزت تو سب خدا ہی کی ہے اسی کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتے ہیں اور جو لوگ برے برے مکر کرتے ہیں ان کے لئے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر نابود ہوجائے گا

10۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مجاہد عکرمہ اور مفسرین متقدمین نے جو اس آیت کے معنے بیان کئے ہیں اس کا حاصل یہ ہے کہ عمل نیک سے مراد وہ عمل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے جیسے نماز روزہ حج زکوۃ اور کلمات پاکیزہ سے مقصود نفلی ذکر الٰہی ہے جیسے تلاوت قرآن تسبیح تہلیل دعاء جو شخص فرض عبادت کے ادا کرنے کے بعد یہ نفلی ذکر الٰہی کرے گا اس کے فرض عمل اس کے نفل ذکر الٰہی کو اس رتبہ کو پہنچاویں گے کہ وہ نفلی ذکر آسمان پر چڑھ جاوے گا اور آسمان پر چڑھنے سے یہ مطلب ہے کہ وہ نفلی ذکر اللہ کی جناب میں قبول ہوجاوے گا اور و شخص بدون فرض عبادت ادا کرنے کے کوئی نفلی ذکر الٰہی کرے گا اس کا وہ نفلی ذکر ہرگز قبول نہ ہوگا طبرانی بیہقی اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس معنے کو روایت کیا ہے اور حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا 1 ؎ ہے اور علی ابن ابی طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہی معنے روایت 2 ؎ کئے ہیں (1 ؎ فتح البیان ص 706 ج 3۔ ) (2 ؎ تفسیر ابن کثرا ص 549 ج 3۔ ) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایتوں میں علی بن ابی طلحہ کی سند وہی قابل قدرسند ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ امام احمد فرمایا کرتے تھے مدینہ سے مصر تک کے سفر میں اس سند سے ایک روایت بھی جس شخص کے ہاتھ آوے تو گویا اس نے وہ روایت مفت پائی اور یہی سند ہے جس کو امام بخاری نے صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں جگہ جگہ اختیار کیا ہے حاصل یہ ہے کر بعضے مفسروں نے علاوہ اس معنے کے اور معنے جو اس آیت کے بیان کئے ہیں ان سب معنوں سے یہ معنے زیادہ صحیح ہیں اور نیک عمل کے آسمان پر چڑھنے کی کیفیت اور حالت اسی بیہق اور حاکم کی روایت 3 ؎ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے یوں بیان فرمائی ہے (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 245 ج 5‘) کہ سبحان اللہ یا اور کوئی نیک کلمہ آدمی کے منہ سے نکلے تو فورا وہ فرشتے جو نیک کلموں کے ثواب کے لکھنے پر مقرر ہیں ان کلموں کو آسمان پر لے جاتے ہیں اور جس آسمان کے فرشتے اس کو دیکھتے ہیں اس نیک شخص کے لیے مغفرت کی دعاء کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ کلمات نیک اور عمل نیک اللہ تعالیٰ کیدر کہ میں پہنچ جاتے ہیں معتبر سند سے مستدرک حاکم اور ابن ماجہ میں نعمان بن بشیر ؓ سے جو روایتیں 4 ؎ ہیں (4 ؎ الترغیب والترہیب ص 432 ج 2۔ باب الترغیب فی التسبیح والتہلیل والتحمید الخ۔ ) ان کا حاصل یہ ہے کہ جب وہ نیک کلمات اللہ تعالیٰ کی درگاہ تک پہنچتے ہیں تو عرش کے گرد پھرتے ہیں اور شہد کی مکھی کی طرح بھن بھناتے ہیں اور جس شخص کے منہ سے وہ کلمات نکلے ہیں اس کا ذکر خدا تعالیٰ کے دربار میں آتا ہے اس لیے ہر انسان کو شوق چاہئے کہ اس کا ذکر ہمیشہ خدا کے دربار میں آیا کرے یہ تو نیک کلموں اور نیک عملوں کا آسمان پر چڑھنے کا حال ہوا اب رہا ان کا ثواب اس کا حال ہوا اب رہا ان کا ثواب اس کا حال حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیحین کی حدیث میں گذر چکا ہے کہ جب آدمی دین میں خوب پکا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر نیکی کا ثواب دس گنہ سے لے کر سات کی حدیث میں گذر چکا ہے کہ جب آدمی دین میں خوب پکا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر نیک کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو تک لکھا جاتا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ رات کے لوگوں کے نیک عمل دن سے پہلے اور دن کے رات سے پہلے آسمان پر چرڑھ کر اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہوجاتے ہیں یہ حدیث آیت کے ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہمیشہ رات دن کے لوگوں کے عمل آسمان پر چڑھتے اور اللہ تعالیٰ کے روبرو دو وقت پیش ہوتے رہنے ہیں۔ ریأ کی قباحت مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ میکرون سے ریا کار آدمی مراد ہیں جو اپنے عملوں کے ادا کرنے میں یہ مکر کرتے ہیں کہ لوگوں پر تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کی عبادت کر رہے ہیں حالانکہ ریا کے سبب سے ان کے کام خدا کے نزدیک بہت ناپسند ہیں اس واسطے فرمایا کہ ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کا مکر عنقریب ظاہر ہوجائے گا کہ دنیا میں سمجھ والے ایماندار لوگوں پر ان کا فریب کھل جاوے گا اور اللہ تو عالم الغیب ہے دنیا اور آخرت میں کوئی چیز اس پر پوشیدہ نہیں ہے ‘ اس لیے اس کی بارگاہ میں بد نیتی کے ایسے کھوئے عملوں کا کچھ اجر نہیں ہے مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی صحیح روایت 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 110 ج 3 تفسیر آخری آیت سورة الکہف۔ ) کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بعضے ایسے نیک عملوں کو نامقبول فرما کر اعمال ناموں سے سے نکال ڈالنے کا حکم دے گا کہ جن عملوں میں نامہ اعمال کے لکھنے والے فرشتوں کو بھی بڑائی معلوم نہ ہوگی ‘ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ جن عملوں میں ظاہر کسی شرک یا بدعت کا میل ہوگا ان عملوں کی برائی نامہ اعمال کے لکھنے والے فرشتوں سے چھپی نہیں رہ سکیہ اس لیے ایسے عملوں کی برائی صاف صاف نامہ اعمال میں لکھی ہوگی اور ایسے عمل اس دن ضرور نامقبول ٹھہر کر اکارت جائیں گے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ لوگوں کے نیک عمل آسمان پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہوتے ہیں جس کا نتیجہ قیامت کے دن یہ ہوگا کہ جو عمل قواعد شرع کے موافق صحیح اور خالص نیت سے ہوں گے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اوپر کی حدیث کے موافق ان کا اجردس سے لے کر سات سودرجہ تک دیا جائے گا اور جو عمل ایسے نہ ہوں گے وہ بالکل رائگاں جائیں گے۔
Ayah 35:11

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 35:11 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تم کو جوڑا جوڑا بنادیا اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اسکے علم سے اور نہ کسی بڑی عمر والے کو عمر زیادہ دی جاتی ہے اور نہ اس کی عمر کم کی جاتی ہے مگر (سب کچھ) کتاب میں (لکھا ہوا) ہے بیشک یہ خدا کو آسان ہے

11۔ اس آیت میں آدم اور اولاد آدم کی پیدائش کا ذکر فرما کر منکرین حشر کو یوں قائل کیا گیا ہے کہ جو صاحب قدرت پانی جیسی پتلی چیز سے اولاد آدم کا پتلا بنادینے پر قادر ہے جس قدرت کو رات دن یہ لوگ آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں تو پھر حشر کے دن آدم کے پتلے کی طرح مٹی سے تمام اولاد آدم کے پتلے بنا دینا اور ان میں پیٹ کے بچوں کی طرح روحول کا پھونک دینا اس کی قدرت سے کیوں کر باہر ہوسکتا ہے الابوداؤد ترمذی صحیح ابن حبان کے حوالہ 2 ؎ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے (2 ؎ مشکوۃ باب الایمان بالقدر فصل دوسری مع تنیقح الرواۃ) کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے تمام زمین کی مٹی لی ہے اسی واسطے اولاد آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا ہے کوئی خوش مزاج کوئی بدمزاج ‘ اس حدیث کو واللہ خلقکم من تراب کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ اب اولاد آدم کی پیدائش نطفہ سے ہے لکن اس کی پیدائش میں مدم (علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی کا بھی میل ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث 3 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (3 ؎ ایضا فصل اول۔ ) کہ نطفہ عورت کے رحم میں جاکر چالیس روز تک نطفہ کی حالت میں رہتا ہے اور پھر جما ہوا خون اور پھر گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے یہ حدیث ثم من نطفۃ کی گویا تفسیر ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ ایضا باب عشرۃ النساء وما لکل واحد من الحقوق) کہ حوا (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پدیا ہوئی ہیں اس لیے پسلی کی ہڈی کی طرح ہر عورت کے مزاج میں ایک کجی ہے یہ حدیث ثم جعلک ازواج کی گویا تفسیر ہے جس سے آدم اور حوالہ جوڑے کی پیدائش کا حال اور پھر اس جوڑے سے اور سب جوڑوں کی پیدائش کا حال معلوم ہوتا ہے ‘ صحیح بخاری میں انس بن مالک ؓ 2 ؎ سے اور صحیح مسلم میں حذیفہ بن اسید ؓ 3 ؎ سے جو روایتیں وماتحمل من انئی ولا تضع الابعلمہ کی گویا تفسیر ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 669 ج اول طبع اصخ المطابع دہلی۔ ) (3 ؎ صحیح مسلم ص 332 ج 2 کتاب القدر ) ان کا حاصل یہ ہے کہ نطفہ کی حالت سے لے کر لڑکا یا لڑکی کے پتلا بن جانے کی حالت تک رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے وہ ہر حالت کو اللہ تعالیٰ سے پوچھتا ہے اور اللہ تالیٰ کا جیسا حکم ہوتا ہے اس کے موافق عمل کرتا ہے یہ حدیثیں وما تحمل من انئی ولا تضع الابعلمہ کی گویا تفسیر ہے صحیح بخاری ومسلم کی عبداللہ ؓ بن مسعود یک روایت 4 ؎ میں ہر لڑکے یا لڑکی کی عمر کے لکھے جانے کا بھی ذکر ہے جو ٹری چھوٹی عمر کی گویا تفسیر ہے آخر کو فرمایا کہ انسان کی عقل کے آگے یہ باتیں مشکل معلوم ہوتی ہیں لیکن اللہ کے علم اور قدرت کے مگے یہ سب باتیں آسمان میں ومایعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ اس کا یہ مطلب ہے کہ بعضے لوگوں کی عمر بڑی ہوتی ہے اور بعضوں کی چھوٹی اس کا حساب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جو کچھ ہوتا ہے اسی کے موافق ہوتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے میت کے اس ٹکڑے کی یہی تفسیر کی ہے جو بیان کی گئی۔
Ayah 35:12

وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 35:12 in the Quran reader

اور دونوں دریا مل کر یکساں نہیں ہوجاتے یہ تو میٹھا ہے پیاس بجھانے والا جس کا پانی خوشگوار ہے اور یہ کھاری ہے کڑوا اور سب سے تم تازہ گوشت کھاتے ہو اور زیور نکالتے ہو جسے پہنتے ہو اور تم دریا میں کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ (پانی کو) پھاڑتی چلی آتی ہے تاکہ تم اسکے فضل سے (معاش) تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو

12۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آدم اور ادلاد آدم کو کیوں کر پیدا کیا اس آیت میں قدرت کی یہ نشانی بیان فرمائی کہ زمین کے اوپر اللہ عتالیٰ نے دوسرح کے دریا پیدا کئے ہیں ایک دریا شیریں ہے پیاس کو بجھاتا ہے اور دوسرا دریا نہایت کھاری کڑوا ہے جو حلق کو جلا دیتا ہے اسی طرح زمین کے اندر کا حال ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکالتا ہے کہیں کھاری لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان دونوں کے بیچ میں آڑ رکھ دی ہے چناچہ اس کا ذکر سورة الفرقان میں گزرا پھر فرمایا کہ تم دونوں دریاؤں میں سے کھاتے ہوتا زہ گوشت اس سے مقصود مچھلی ہے اور نکالتے ہو زیور جیسے تم پہنتے ہو زیور سے مراد اس سے موتی اور مونگا ہے۔ صحیح خباری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 5 ؎ ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو لباس وغیرہ میں عورتوں کی مشابہت کو پسندبہت کو پسند کرتے ہیں اکثر علماء نے اس حدیث اور اس قسم کی اور حدیثوں کو آیت کے ٹکڑے وَتْسَخْرِجُوْنَ حِلْیَہً تلبسونھا کی تفسیر قرار دے کر یہ کہا ہے کہ مرد کو نرے جوا ہر کا پھننا وہیں تک جائز ہے جس میں عورتوں کی مشابہت نہ پیدا ہو اب آگے فرمایا کہ سمندر میں جہاز چلتے ہیں اور چھوٹے دریاؤں میں کشتیاں چلتی ہیں جس میں تجارت کا مال ادھر سے ادھر جاکر بکتا ہے جس کے سبب سے لوگوں کو بڑا فائدہ ہوتا ہے ‘ مجاہد کا قول ہے کہ اللہ کا فضل تلاش کرنے سے مطلب تجارت ہے دریا کے سفر میں اگرچہ سلف کا اختلاف ہے لیکن اس قسم کی آیتوں سے ام احرام کی صحیح بخاری کی حدیث سے اکثر سلف کے نزدیک مرد عورت سب کے لیے ضرورت کے وقت دریا کا سفر جائزہ ہے یہ ام حرام ؓ کی روایت 1 ؎ وہی ہے (1 ؎ صحیح بخاری ص 405 جلدی اول باب رکوب الج ‘) جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو خواب میں دریا کا سفر کرتے ہوئے دیکھا ہے ‘ تاریخ بخاری 2 ؎ میں معتبر سند سے بعضی روایتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے موسم میں دریا کا سفر خلاف احتیاط ہے امام مالک (رح) کے مذہب میں عورتوں کے لیے دریا کی سفر کی جو مناہی ہے اس کو اور علماء نے تسلیم نہیں کیا 2 ؎‘ اوپر گذر چکا ہے (2 ؎ فتح الباری ص 85 ج 3 باب رکوب الجر۔ ) کہ اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے مشرکین مکہ کا عمل اس کے برخلاف تھا اس واسطے آخر آیت میں شکر کا ذکر فرما کر مشرکین مکہ کو قائل کیا ہے کہ یہ لوگ بڑے ناشکر ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بتوں کو اپنا معبود ٹھہراتے ہیں۔
Ayahs 35:13–17

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ Open ayah 35:13 in the Quran reader

وہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور (وہی) دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا ہے ہر ایک ایک وقت مقرر تک چل رہا ہے یہی خدا تمہارا پروردگار ہے اسی کی بادشاہی ہے اور جن لوگوں کو تم اسکے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی تو (کسی چیز) کے مالک نہیں

اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ Open ayah 35:14 in the Quran reader

اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار نہ سنیں اور اگر سن بھی لیں تو تمہاری بات کو قبول نہ کرسکیں اور قیامت کے روز تمہارے شرک سے انکار کردیں گے اور (خدائے باخبر) کی طرح تم کو کوئی خبر نہیں دے گا

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 35:15 in the Quran reader

لوگو تم (سب) خدا کے محتاج ہو اور خدا بےپروا سزاوار (حمد و ثنا) ہے

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ Open ayah 35:16 in the Quran reader

اگر چاہے تو تم کو نابود کر دے اور نئی مخلوقات لا آباد کرے

وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 35:17 in the Quran reader

اور یہ خدا کو کچھ مشکل نہیں

13 تا 17۔ یہ ایک اور قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ گرمی کے موسم میں رات کا کچھ حصہ دن میں ملایا جا کر دن کو بڑا کردیا جاتا ہے اور جاڑے کے موسم میں اسی طرح رات کو بڑھا دیا جاتا ہے پھر فرمایا سورج اور چاند کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے نفع کے لیے کام میں لگا رکھا کہ ہر ایک چلتا ہے مقدار معین کے ساتھ مدت مقرر تک پھر فرمایا یہ ہے اللہ پروردگار ہے تمہارا جس نے یہ سارے کام کئے ہیں اسی کے واسطے بادشاہت ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور جن کو تم اس کے سوا پوجتے ہو وہ مالک نہیں ایک قطمیر کے ‘ قطمیر چھلکے کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد وغیرہ نے کہا ہے کہ قطمیر وہ چھلکا ہے جو کھجور کی کٹھلی پر ہوتا ہے پھر فرمایا کہ اگر تم ان کو پکارو تو نہ سنیں وہ تمہارا پکارنا اس لیے کہ وہ تو پتھر ہی جن میں جان نہیں ہے اور اگر سنیں تو جو کچھ تم ان سے مانگتے ہو وہ اس میں سے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے جو تم کو دیں ‘ قیامت کے دن وہ منکر ہوں گے تمہارے شریک ٹھہرانے کے اور تم سے بیزار ہوں گے جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ مشرک لوگ پوجتے ہیں ان فرشتوں اور نیک لوگوں کی قیامت کے دن کی بیزاری کا حال سورة یونس اور سورة سبا میں گزر چکا ہے ‘ یہ قیامت کے دن کا حال سوا اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اسی واسطے فرمایا کہ سوا اللہ کے اور کوئی اس حال کو نہیں بتلا سکتا ‘ اوپر طرح طرح کی قدرت کی نشانیوں کا ذکر فرمایا کر آگے فرمایا اے لوگو تم اپنی ضرورت کی ہر ایک چیز میں اللہ کے محتاج ہو اور اوپر جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ان کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک نہیں اس لیے تعریف کے قابل بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے پھر فرمایا اس فہمائش کے بعد بھی اگر تم لوگ نہ مانو گے تو اللہ کی قدرت سے یہ بات کچھ بعید نہیں کہ وہ تم کو ہلاک کرکے تمہاری جگہ کسی فرما نبرداری مخلوقات کو پیدا کر دیوے ‘ سورة تبت کی تفسیر میں آوے گا کہ ابو لہب کو اللہ تعالیٰ نے طاعون کی بلا میں پکڑ کر ہلاک کردیا کہ تین دن تک اس کی لاش بغیر دفن کے پڑی رہی ‘ بعد اس کے ابولہب کے دونوں بیٹوں عتبہ اور معتبہ کو احکام دین کا فرمانبر دار بنا دیا ‘ نافرما نبرداروں کو ہلاک کر کے ان کی جگو فرما نبرداروں کو پیدا کردینے کا ذکر جو آخر کی آیت میں ہے اس کا مطلب ابولہب اور اس کے دونوں بیٹوں کے حال سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ مشکوۃ باب الظلم فصل اول) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بردباری ہے کہ لوگ شرک کرتے ہیں اور وہ ان کی صحت اور خوشحالی کے انتظام کو قائم رکھتا ہے ‘ نافرمان لوگوں کے جلدی ہلاک نہ ہونے کی یہ گویا تفسیر ہے۔
Ayahs 35:18–23

وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 35:18 in the Quran reader

اور کوئی اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور کوئی بوجھ میں دبا ہوا اپنا بوجھ ہٹانے کو کسی کو بلائے تو کوئی اس میں سے کچھ نہ اٹھائے گا اگرچہ قرابت دار ہی ہو (اے پیغمبر ﷺ تم انہی لوگوں کو نصیحت کرسکتے ہو جو بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے اور نماز بالالتزام پڑھتے ہیں اور جو شخص پاک ہوتا ہے اپنے ہی لئے پاک ہوتا ہے اور (سب کو) خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ Open ayah 35:19 in the Quran reader

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں

وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ Open ayah 35:20 in the Quran reader

اور نہ اندھیرا اور روشنی

وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ Open ayah 35:21 in the Quran reader

اور نہ سایہ اور دھوپ

وَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 35:22 in the Quran reader

اور نہ زندے اور مردے برابر ہوسکتے ہیں خدا جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے

اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ Open ayah 35:23 in the Quran reader

تم تو صرف ہدایت کرنے والے ہو

18 تا 23۔ ترمذی ابوداؤد نسائی اور بیہقی وغیرہ میں ابی رمثہ کی حدیث 2 ؎ میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت کو جو تفسیر فرمائی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثورص 248 ج 5) حاصل اس کا یہ ہے کہ ابی رمثہ کہتے ہیں میں اپنے باپ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک روز گیا جب آنحضرت پر میری نظر پڑی تو آپ نے میرے باپ سے پوچھا کہ یہ لڑکا تمہارا بیٹا ہے میرے باپ نے جواب دیا کہ ہاں آپ نے فرمایا کہ باپ بیٹے کا تعلق دنیا ہی دنیا کا ہے آخرت میں نہ بیٹا باپ کے کچھ گناہ بٹا سکتا ہے نہ باپ بیٹے کے یہ فرما کر پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اسی طرح آپ کا وہ فرمانا مشہور ہے جو حجتہ الوداع میں آپ نے نصیحت کے طور پر فرمایا تھا جس کی روایت مسند امام احمد ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں عمر ؓ وبن احواص سے 3 ؎ ہے (3 ؎ ایضا) جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص گناہ کرے گا اس گناہ کا بال خود اسی کی جان پر ہے گناہوں کے بٹانے میں آل اولاد کوئی کام نہ آوے گا اس حدیث کو ترمذی نے صحیح کہا ہے اس حدیث سے ابورمثہ ؓ کی روایت کو بھی پوری تقویت ہوجاتی ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس آیت کی تفیرس میں فرمایا قیامت کے روز گناہ گار باپ جب گناہ گار بیٹے کو دیکھے گا تو اس سے کہے گا کہ کچھ بوجھ میرے گناہوں کا بٹا لے بیٹا جواب دے گا میرے ہی گناہوں کا بوجھ مجھ کو کافی ہے۔ ایک کا جواب :۔ بعضے مفسروں نے یہاں شبہ پیدا کیا ہے کہ صحیح حدیثوں کی رو سے رشتہ دار لوگ اپنے رشتہ داروں کی شفاعت قیامت کے دن کریں گے پھر ان حدیثوں میں اور ان حدیثوں میں مطابقت کیوں کر ہے حضرت ابوسعید خدری ؓ کی صحیحین کی شفاعت کی بہت بڑی حدیث 1 ؎ جو ہے اس شبہ کا جواب خود اس حدیث نفظوں میں موجود ہے کیوں کہ اس حدیث میں آپ نے فرمایا ہے کہ جب دیندار مسلمانوں کی نجات ہوجاوے گی اور وہ اپنے بھائی اور رشتہ کے مسلمان گناہ گاروں کی دوزخ میں دیکھیں گے تو ان گناہ گاروں کے نماز روزہ کی گواہی اللہ تعالیٰ کے روبروادا کر کے اللہ تعالیٰ سے ان گناہ گاروں کی شفاعت کریں گے اس سے معلوم ہوگیا کو کوئی گناہ گاروں کے نماز روزہ کو گواہی اللہ تعالیٰ کے روبروادا کر کے اللہ تعالیٰ سے ان گناہ گاروں کی شفاعت کریں گے اس سے معلوم ہوگیا کہ کوئی گناہ گار اپنی نجات سے پہلے کسی دوسرے کے کام نہ آوے گا اور یہی مطلب ان حدیثوں کا ہے جو اوپر بیان ہوئیں اس صورت میں دونوں قسم کی حدیثوں کا مطلب ایک ہے ایک دوسرے کے کچھ مخالف نہیں بعضے مفسروں نے آیت ولیحمل اثقا لھم اور حدیث من سن سنتہ سیئۃ فعلیہ وزرھا روزر من عمل بھا کو اس آیت کے مضمون کے مخالف ہونے کا شبہ کیا ہے کیوں کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن ایک کا بوجھ کوئی دوسرا نہ اٹھائے گا اور اس آیت اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعضے گناہ گاروں کو دوسروں کا بوجھ بھی اٹھانا پڑے گا اس شبہ کا جواب اوپر گزر چکا ہے کہ جن گناہ گاروں نے خود بھی گناہ کیا اور کوئی برا راستہ نکال کر دوسروں کو بھی گمراہ کیا تو ان دونوں گناہوں کا الگ الگ وبال ان پر پڑے گا اور یہ دونوں گناہ ان کے ذات کے ہیں کسی دوسرے کے نہیں اس واسطے دونوں آیتوں اور حدیث کا مطلب ایک ہے آپس میں کچھ مخالف نہیں۔ اب قیامت کا نفسانفسی اور قرابتداروں کا غیر ہوجانے کا حال ذکر فرما کر فرمایا ہے کہ بغیر دیکھے قیامت کی باتوں کا اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کا جن کو خوف ہے ان کو ہی اللہ کے رسول کی نصیحت کچھ کار گر ہوتی ہے دنیا کی محبت میں جو لوگ خدا کے سامنے جھڑے ہونے کو اور قیامت کے حساب و کتاب کو بالکل بھول گئے ہیں ان کے دل پر اس نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا پھر اندھے اور آنکھوں والے اور گرمی اور سردی دھوپ اور چھاؤں اور مردہ اور زندہ کی مثال یہ سمجھانے کو ذکر فرمائی ہے کہ جس طرح یہ چیزیں ایک سی نہیں ہیں اسی طرح اللہ اور رسول کے فرمانبردار اور نافرمان بردار ایک سے نہیں ہیں دنیا میں بھی دونوں فرقے الگ الگ ہیں اور آخرت میں الگ الگ دوزخ اور جنت میں ہوں گے عالم ارواح میں ہی اللہ تعالیٰ نے نیک وبد کو الگ الگ کردیا معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ ص 22 ببا الایمان بالقدر فصل دوسری ‘) جس کا حاصل یہ ہے کہ عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ نے جب مخلوقات کو پیدا کیا تو سب مخلوقات ایک اندھیرے میں تھی پھر اللہ تعالیٰ نے ایک نور پیدا کیا جس نے اس نور کے اثر کو جھیل لیا وہ دنیا میں نیک ہوا اور جس نے اس نور کو نہ جھیلا بد ہوا ‘ یہ حدیث انما انت ندیر کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے تمہارا کام فقط یہ ہے کہ ہر ایک کو عذاب الٰہی سے ڈراؤ پھر جو لوگ عالم ارواح میں نور ہدایت کا حصہ پاچکے ہیں وہ تمہارے ڈرانے سے راہ راست پر آجاویں گے اور جو لوگ وہاں اس نور سے بےبہرہ رہے ہیں وہ علم الٰہی میں بد قرار پاچکے ہیں ان کا راہ راست پر آجانا تمہارے اختیار سے باہر ہے۔
Ayahs 35:24–26

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ Open ayah 35:24 in the Quran reader

ہم نے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزر چکا ہے

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 35:25 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی تکذیب کرچکے ہیں ان کے پاس ان کے پیغمبر کی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے لے کر آتے رہے

ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ Open ayah 35:26 in the Quran reader

پھر میں نے کافروں کو پکڑ لیا سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب کیسا ہوا ؟

24 تا 26۔ آنحضرت ﷺ کے ذکر کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اور انبیاء کے ذکر میں فقط ڈرانیوالا اس واسطے فرمایا کہ صاحب شریعت انبیاء کی ابتدا حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت شعیب بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک ڈرانے کے طور پر جو کچھ انبیاء نے اپنی امتوں سے کہا تھا اسی کا ظہور زیادہ ہوتا رہا یہ سب عام امتیں عذاب الٰہی سے ہلاک ہوتی رہیں اور بہت تھوڑے لوگ ان میں سے راہ راست پر آئے آنحضرت ﷺ کی امت میں سے اکثر لوگ مسلمان ہوئے اور تھوڑے نافرمانی سے غارت ہوئے اس لیے آپ کے ذکر میں آپ کو دونوں صفتوں کا ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین فرمادی ہے کہ آپ کی امت کا انجام اور امتوں کی بہ نسبت اچھا ہے چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیحین کی حدیث 2 ؎ میں آپ نے خود فرمایا ہے (2 ؎ مشکوۃ ص 512 باب فضائل سید المرسلین ﷺ ۔ ) کہ مجھ کو اللہ کی ذات سے توقع ہے کہ بہ نسبت اور انبیاء کی امتوں کے میری امت کے فرما نبردار لوگوں کی تعداد قیامت کے دن زیادہ ہوگی اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ہر ایک زمانہ کی امت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نصیحت کرنے والا اور ڈرانیوالا نبی گزرا ہے اس میں بعضے مفسروں نے یہ شبہ پیدا کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ کے مابین یک زمانہ ایسا گزرا ہے جس میں کوئی نبی نہیں گزرا اس کا جواب اور مفسروں نے یہ دیا ہے کہ کچھ زمانہ تک تو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نصیحت کا اثر دنیا میں باقی رہا پھر جب لوگوں نے اس نصیحت میں فتور ڈالنا شروع کیا تو آنحضرت ﷺ خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی ہوگئے اور آپ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک رہے گا غرض حضرت نوح ( علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر قیامت تک کوئی زمانہ نبوت کے اثر سے خالی نہیں ہے اس جو اب پر پھر بعضے مفسروں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس صورت میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ کے مابین کے زمانہ کے لوگ قابل عذاب ٹھہرتے ہیں حالانکہ آیت وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا کی رو سے ایسے لوگ عذاب کے قابل نہیں ٹھہرتے اس کا جواب یہ ہے کہ مشرکین کی نابالغ اولاد اور مجنوں اور بہرہ شخص اور ایسے شخص کے باب میں جس کو رسول وقت کی نصیحت نہیں پہنچی بہت قدیم زمانہ سے علماء کا اختلاف ہے کہ اس طرح کے لوگوں کو نافرمائی شریعت کا عذاب ہوگا یا یہ لوگ عذاب سے بالکل برے ہیں صحیح مذہب اس اختلاف میں وہی ہے جس کو بیہقی نے کتاب الاعتقاد میں امتحان کا ہذہب ٹھہرا کر صحیح قرار دیا ہے 1 ؎ مسند امام احمد مسند بزار طبرانی 2 ؎ وغیرہ میں اس امتحان کی تفصیل چند روایتوں 3 ؎ میں جو آئی ہے (1 ؎ فتح الباری ج 2 باب ماقیل فی اولاد المشرکین ‘) (2 ؎ ایضا ‘) (3 ؎ مجمع الزوائد ص 214 ج 7 کتاب القدر ‘) اس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ امتحان کے طور پر ایک آگ میں کود پڑنے کا حکم دیوے گا جو لوگ اس آگ میں گر پڑیں گے وہ جنتی قرار پاویں گے اور اس آگ میں گرنے سے انکار کریں گے ان کو اللہ تعالیٰ فرمائیگا کہ اگر اللہ کے رسولوں کی نصیحت سنے گا موقع ان لوگوں کو ملتا بھی تو علم الٰہی ازلی کے موافق یہ لوگ ضرور نافرماتی کرتے یہ فرما کر ان لوگوں کو دوزخ میں ڈالنے کا حکم دے گا ان روایتوں میں اکثر روایتیں صحیح ہیں لیکن بعضے علمائے نے ان روایتوں پر یہ اعتراض کیا ہے کہ عقبے میں امتحان نہیں ہے اس سے پہلے حساب و کتاب پل صراط موحدوں اور منافقوں کو سجدہ کرنے کا حکم ہونا اور منافقوں کا سجدہ نہ کرسکنا یہ سب کچھ امتحان نہیں تو کیا ہے ‘ اب آگے اپنے رسول کی تسکین کے لیے فرمایا اے رسول اللہ کے اگر مشرکین مکہ میں کے کچھ لوگ تمہارے جھٹلانے سے باز نہ آویں تو یہ بات کچھ نہیں ہے ان سے پہلی امتیں بھی اپنے رسولوں کو جھٹلا کر طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوچکی ہیں اگر یہ لوگ ان کے قدم بقدم چلیں گے تو بھی انجام ان کا وہی ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے مشرکین مکہ کے بڑے بڑے جھٹلانے والوں کا جو انجام بدر کی لڑائی کے وقت ہوا صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت 5 ؎ کے حوالہ سے اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے (5 ؎ مشکوۃ ص 345 باب حکم الاسرائ۔ ) کہ دنیا میں بڑی ذلت سے یہ لوگ مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو تم لوگوں نے سچا پالیا۔
Ayahs 35:27–28

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ Open ayah 35:27 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا ؟ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں

وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ Open ayah 35:28 in the Quran reader

انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں بیشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے

27‘ 28۔ یہ ایک اور نشانی قدرت کی بیان فرمائی کہ ایک ہی پانی کے اثر سے سب میوے پیدا ہوت ہیں لیکن جس میو کا رنگ اللہ تعالیٰ نے شرخ ٹھہرا دیا ہے اس کو پانی اپنے اثر سے بسز نہیں کرسکتا اور سبز سرخ نہیں ہوسکتا اس طرح پہاڑوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے رنگ برنگ کا پیدا کیا ہے اور ان میں رنگ برنگ کی گھاٹیاں رکھی ہیں یہی حال انسان چار پایوں اور کیڑے پتنگوں کا ہے پھر فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی ان قدتوں کو دیکھ کر وہی گوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ جن میں یہ سب قدرتیں ہیں وہ نافرمان لوگوں کی گرفت کرلینے میں پڑا زبردست ہے اور فرما نبرداروں کے گناہوں کے بخش دینے میں بڑا غفور رحیم ہے۔ ایک رنگ کی چیز پر دوسرے رنگ کے کچھ خط پڑے ہوئے ہوں تو ان کو جدد کہنے ہیں اسی واسطے اکثر سلف نے جدد کے معنی پہاڑ کی گھاٹیوں کے کئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی قدرت سے پہاڑوں کا رنگ کچھ اور ہے اور گھاٹیوں کا رنگ کچھ اور ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں سے انسان اللہ تعالیٰ کو تو عقل سے پہچان سکتا ہے لیکن اس کی مرضی نامرضی کے کام بغیر شریف کے معلوم نہیں ہو کستے اسی واسطے قرآن شریف میں قدرت کی نشانیوں کا اور احکام شریعت کا ساتھ کے ساتھ تذکرہ فرمایا گیا ہے ‘ تبارک الذی میں آوے گا کہ جب قیامت کے دن لوگوں کی جماعتوں کی جماعتیں دوزخ میں ڈالی جاویں گی تو دوزخ کے داروغہ فرشتے ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ کیا اللہ کے رسولوں نے تم کو آج کے دن کی آفت سے نہیں ڈرایا وہ لوگ جواب دیں گے لوکنا نسمع ونعقل ماکنافی اصحاب السعیر اس کا مطلب یہی ہے کہ اگر ہم انبیاء کی نصیحت کو کانوں سے سنتے اور قدرت کی نشانیوں کے سمجھنے میں عقل سے کام لیتے تو آج اس آفت میں گرفتار نہ ہونے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ مشکوۃ ص 27۔ ) جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا میں بہ نسبت امت کے لوگوں کے اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرتا ہوں ‘ یہ حدیث انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انبیاء کا علم دین امت کے لوگوں سے بڑا ہوتا ہے اس لیے ان کے دل میں اللہ کا خوف بھی امت کے لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے اب امت کے لوگوں میں سے علم دین میں جیسا جس کا مرتبہ ہوگا اس کے دل میں اتنا ہی اللہ کا خوف ہوگا صحیح مسلم ترمذی وغیرہ میں زید ؓ بن ارقم سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ ص 216۔ 217 باب الاستعاذہ۔ ) جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے (1) وہ علم جس سے دین کا کچھ نفع نہ ہو (2) دل جس میں اللہ کا خوف نہ ہو (3) آدمی کے دل کی وہ حرص جو کبھی پوری نہ ہو (4) وہ دعاء جو قبول نہ ہو “ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس عالم کے دل میں اللہ کا خوف نہیں اسکا علم کسی کام کا نہیں۔
Ayahs 35:29–31

اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ Open ayah 35:29 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیداوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی

لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 35:30 in the Quran reader

کیونکہ خدا ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی دے گا وہ تو بخشنے والا (اور) قدردان ہے

وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 35:31 in the Quran reader

اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں بیشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے۔

29‘ 31۔ اوپر قرآن کے پابند علماء کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا وہ ایسے لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور جو کچھ اس میں ہے۔ اس پر ایمان لاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں نماز پڑتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس چیز میں سے کہ دی ہم نے ان کو چھپی اور کھلی امید رکھتے ہیں ایک سودا گری کی جو کبھی نہ ٹوٹے اور نہ ہلاک ہو مطلب یہ کہ ثواب کی امید رکھتے ہیں اللہ سے اور وہ ضرور ان کو ملے گا جیسا کہ فرمایا لیو فینھم اجورھم تاکہ پورا کر دے ان کو ثواب ان کے کاموں کا اور بڑھائے گا اللہ اس ثواب کو اپنے فضل سے بیشک وہ بخشنے والا ہے ان کے گناہ اور قدر دانی کرنے والا ہے ان کے تھوڑے عملوں کی پھر فرمایا یہ قرآن برحق کلام الٰہی ہے اسی واسطے یہ تصدیق کرتا ہے ان کتابوں کی جو آگے اس سے ہیں جیسے تو ریت اور انجیل وغیرہ اور یہ پہلی کتابوں کو صداقت قرآن میں ایسی ہی ہے جس طرح پہلی کتابوں قرآن کی بزر گی پر اور اس کے خدا کی طرف سے اتارے جانے پر گواہی دیتی ہیں بلاشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال کی خوب خبر رکھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کون مستحق فضیلت کا ہے تمام رسولوں کو اس نے سارے آدمیوں پر فضیلت دی ہے اور بعض نبیوں کو بعضوں پر فضیلت دی ہے اور نبی آخر الزمان ﷺ کا مرتبہ سب سے زیادہ کیا ہے پھر فرمایا پہلی کتابوں کی صداقت جب کہ اس قرآن میں ہے تو اس قرآن کے ذریعہ سے ان پہلے کتابوں کا ہم نے ان لوگوں کو وارث بنایا جن کو چن لیا ہم نے اپنے بندوں میں سے کہ وہ قثم رکھنے والے ہیں اس کے حکموں کو مراد ان سے یہ امت محمدی ہے ‘ قرآن شریف میں جو حکم پہلی کتابوں کے علاوہ ہیں وہ وراثت کے طور پر کسی پہلی امت کے امت محمد ﷺ یہ کہ نہیں پہنچے بلکہ پہلی کتابوں کے جم حکم قرآن شریف میں ہیں ان ہی کو یہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کے ذریعہ سے پہلی کتابوں کے یہ حکم امت محمد ﷺ یہ کو وراثت کے طور پر پہنچے ہیں اس واسطے حافظ ابوجعفرابن جریر (رح) نے ثم اور ثنا الکتاب کی اس تفسیر کو ترجیح دی ہے جو اوپر بیان کی گئی مثلا تورات کے حصہ احبار کے اٹھار دیں باب میں حکم ہے کہ ساتھ کے ساتھ دو بہنوں سے نکاح حرام ہے یہی حکم قرآن میں ہے چناچہ سورة النساء میں گزر چکا ‘ صحیح بخاری اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ باب سجود القرآن۔ ) جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سورة ص کا سجدہ کیا اور فرمایا کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنی توبہ کے قبول ہونے کے شکریہ میں یہ سجدہ کیا تھا اس لیے ہم بھی یہ سجدہ کیا تھا اس لیے ہم بھی یہ سجدہ کرتے ہیں۔ اسی قسم کے مسائل ہیں جو امت محمد ﷺ یہ میں پہلی شریعتوں سے وراثت کے طور پر قرآن شریف اور حدیث میں ہیں۔
Ayah 35:32

ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ Open ayah 35:32 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگزیدہ کیا تو کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں یہی بڑا فضل ہے

32۔ بعض مفسروں نے سورة واقعہ میں جو اہل محشر کی تقسیم ہے اس تقسیم کو اور اس آیت کی تقسیم کو ایک قرار دیا ہے اور اپنی جان پر ظلم کرنے والوں سے مراد کافر اور منافق لوگ لیے ہیں مگر یہ تفسیر قرآن شریف کی عبادت کے مخالف ہے کس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تینوں قسم کے لوگوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے ساتھ فرمایا ہے وہ لوگ کافر اور منافق کیوں کر قرار دئے جاسکتے ہیں اگرچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی ایک روایت اس تفسیر کی تائید میں بعضے مفسروں نے ذکر کی ہے لیکن وہ روایت اس روایت کے مخالف ہے جس کو علی بن طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور یہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جس قدر روایتیں تفسیر کے باب میں ہیں ان میں علی بن طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور یہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جس قدر روایتیں کے باب میں ہیں ان میں علی بن طلحہ کی سند سب سے بڑھ کر ہے امام بخاری (رح) نے صحیح بخاری کی کتاب التفسیر میں اس سند کو کئی جگہ اختیار کیا ہے پھر اور کوئی سند اس سند کے کیوں کر برابر ہوسکتی ہے صحیح بخاری کی حدیث اور تفسیر کی اور کتابوں پر اسی سبب سے مقدم ہے کہ صحیح بخاری کی سند اور کتابوں سے اچھی ہے یہی قاعدہ علی بن طلحہ کا اس روایت میں اور اور روایتوں میں برتا جاوے گا غرض علی بن طلحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو روایت کی ہے وہ یہی ہے کہ اپنی جان پر ظلم کرنے والوں سے وہ گناہ گار اہل اسلام مراد ہیں جو اپنے گناہوں کے سبب سے میدان حشر میں دیر تک رو کے جاویں گے پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرما کر ان کو جنت میں داخل کرے گا اور اسی مضمون کی اور حدیثیں بھی اس آیت کی تفسیر میں ہیں جس سے بڑی قوت اس تفسیر کو حاصل ہوتی ہے اسی واسطے براء بن عازب قسم کھا کر اس تفسیر کو بیان کیا کرتے تھے 2 ؎ (2 ؎ تفسیر فتح البیان ص 722 ج 3) اور اسی واسطے جمہور مفسربن نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے تفسیر ابن جریر وغیرہ کی روایتوں 3 ؎ سے معلوم ہوتا ہے (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 252 ج 5۔ ) کہ پہلے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو اس آیت کی تفسیر میں شبہ تھا اسی شبہ کے سبب سے انہوں نے اس آیت کی تفسیر ایک روز کعب سے پوچھی جب کعب احبار نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنی جان پر ظلم کرنے والا جن لوگوں کو فرمایا ہے ان لوگوں کے علاوہ اہل دوزخ کا ذکر جدا فرمایا ہے اس واسطے اس آیت میں جن لوگوں کو اپنی جان پر ظلم کرنے والا فرمایا ہے ضرور وہ گناہ گار اہل اسلام ہیں جو آخر کو جنت میں داخل ہوں گے یہ بات جب حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے کعب سے سنی تو پھر کعب سے زیادہ کچھ بحث نہیں کی اور کعب کی اس بات کو مان لیا اسی واسطے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے دو روایتوں سے زیادہ صحیح ہے اور حدیث نبوی سے بھی اس روایت کی تائید ہوتی ہے مسند امام احمد کی ابودار داء کی روایت میں یہ جو شبہ ہے کہ یہ روایت مرسل ہے کیوں کہ علی بن عبداللہ الازدی تابعی نے اس حدیث کو ابودردائو ؓ صحابی سے نہیں سنا ‘ یہ شبہ یوں رفع ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کو علی بن عبداللہ الازدی نے ایمن بن ثابت سے بھی روایت کیا ہے اور ابوثابت کا مسجد دمشق میں ابوداردائ ؓ صحابی سے ملنا اس اس حدیث کا سننا ابن جریر (رح) کی صحیح روایت سے ثابت ہوتا 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 555 ج 3 و تفسیر ابن جریر ص 137 ج 22۔ ) اس صورت میں یہ حدیث مرسل نہیں ہے کیوں کہ کسی حدیث کو تا بعی آنحضرت ﷺ سے روایت کرے تو وہ روایت مرسل کہلاتی ہے اس سلسلہ روایت میں جب کہ ابودارداء صحابی کا واسطہ موجود ہے تو پھر یہ روایت مرسل کیوں کر ہوسکتی ہے علاوہ اس کے مسند امام احمد ترمذی بیہقی وغیرہ میں معتبر سند 2 ؎ سے ابوسعید خدری ؓ کی اسی مضمون کی روایت موجود ہے (2 ؎ فتح البیان ص 620 ج 3 و تفسیر ابن کثیر ص 555 ج 4) جس سے علی بن عبداللہ کی مرسل روایت کو تقویت ہوجاتی ہے اور اس طرح کی تقویت کے سعد مرسل روایت کے مقبول ہونے میں علماء کا کچھ اختلاف باقی نہیں رہتا۔ ابودردائ ؓ کی حدیث کے موافق آیت کے اس ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ اس امت کے گنہگار لوگ دیر تک میدان محشر میں رو کے جاک پھر جنت میں جاویں گے بیچ کی چال والوں کا حساب جلدی سے ہو کر اور نیک کاموں میں سبقت اور چستی کرنے والے بلا حساب جنت میں چلے جائیں گے اسی کو بڑی بزرگی فرمایا ہیں۔