Ayahs 35:33–3533 تا 35۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کا وارث کیا یہ ان کا حال ہے کہ وہ قیامت کے دن اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہوں گے اور ان کو سونے اور موتی کے کنگن اور ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے اسی واسطے دنیا میں مردوں پر یہ دونوں چیزیں حرام ہیں چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد ابوداؤد نسائی اور ابن ماجہ میں حضرت علی ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ مشکوۃ ص 378 باب الخاتم فصل 2‘) جس میں آنحضرت ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ میں سونا اور دوسرے ہاتھ میں ریشمی کپڑے کر یہ فرمایا کہ میری امت کے مردوں پر دنیا میں دونوں چیزیں حرام ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت 4 ؎ ہے (4 ؎ مشکوۃ ص 373۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا میں ریشمی کپڑا پہنے گا اس کو جنت میں ریشمی لباس نہ ملے گا صحیح بخاری ومسلم میں اسی مضمون کی روایت انس بن مالک ؓ سے بھی ہے صحیح مسلم میں حضرت عمر ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ ص 374) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا چار انگل تک کے ریشمی کپڑے کی گوٹ وغیرہ مرد کو جائز ہے تار رشیم اور اون وغیرہ کو ملا کر جو کپڑا بنا جاوے اس کا استعمال صحابہ ؓ نے جائز رکھا ہے صحیح بخاری وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 871 ج 2 باب خرا تیہم الذہب) جس میں آنحضرت ﷺ نے سونے کی انگوٹھی کی مردوں کو ممانعت فرمائی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں حذیفہ ؓ سے روایت 3 ؎ ہے (3 ؎ ایضا ص 841 ج 2 باب الثب فی آیتہ الزہب) جس میں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے کی بھی اس لیے دنیا میں مناہی کی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوموسیٰ اشعری سے جو روایت 4 ؎ ہے (4 ؎ مشکوۃ ص 496 باب صفۃ الحنۃ۔ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں کھانے پینے کے برتن سونے چاندی کے ہوں گے ‘ دنیا میں آدمی کو معیشت کا جانی اور مالی نقصانات کا خاتمہ بخیر ہونے کا اور عبادت کے قبول ہونے کا اسی طرح طرح طرح کا فکر وغم تھا جنت میں داخل ہونے کے بعد یہ سب غم جاتے رہیں گے اس لیے جنتی لوگ اللہ تعالیٰ شکرادا کریں گے اور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ بڑا غفور رحیم ہے کہ اس نے ہمارے گناہ معاف کر دئے اور وہ بڑا قدرد ان ہے کہ اس نے ہماری تھوڑی سی عبادت کے بدلہ میں ہم کو جنت جیسا مقام عنایت فرمایا کہ جہاں بےمحنت اور مشقت کے ہم ہمیشہ رہیں گے ‘ صحیح بخاری مسلم ترمذی 5 ؎ وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید خدری ؓ کی روایتیں گزر چکی ہیں (5 ؎ ایضا باب صفۃ الجنۃ واہلہا۔ ) کہ جنتیوں کے جنت میں داخل ہونے ہی فرشتے پکار پکار کر یہ کہیں گے اے جنتیو اب تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی تم کو کوئی بیماری نہ ہوگی ہمیشہ زندہ رہوگے کبھی موت کو صورت نہ دیکھو گے کیوں کہ موت کو ذبح کردیا گیا ہمیشہ جو ان رہو گے کبھی بڈھے نہ ہوگے ہمیشہ خوش حال رہوگے کبھی کوئی رنج وغم پاس نہ آوے گا۔ فرشتوں سے یہ خوشی کی باتیں سن کر جنتی لوگ اللہ تعالیٰ کا وہ شکریہ ادا کریں گے جس کا ذکر آخر آیت میں ہے۔
Ayah 35:3636۔ فرما نبردار لوگوں کے انجام کے ذکر کے بعد یہ نافرمان لوگوں کے انجام کا ذکر فرمایا کہ ان کا انجام ہمیشہ کے لیے دوزخ کی آگ تو وہ آگ ہے جس میں دنیا کی آگ سے اونتہر حصے تیزی زیادہ ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس باب میں ایک جگہ گزر چیک ہے ‘ دنیا کی تکلیف سے دو طرح چھٹکارہ ہوتا ہے کہ یا تو آدمی تکلیف کی سختی سے مرجاتا ہے جس سے تکلیف کا خاتمہ ہوجاتا ہے یارفتہ رفتہ تکلیف کچھ کم ہوجاتی ہے دوزخ میں یہ دونوں باتیں نہ ہوں گی تکلیف تو ایسی ہوگی کہ چاروں طرف سے موت نظر آئے گی چناچہ اس کا ذکر سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے اور صحیح بخاری ومسلم وغیرہ کے حوالہ 1 ؎ سے ابوسعید ؓ خدری کی یہ حدیث بھی گزر چکی ہے (1 ؎ صحیح بخاری ص 691 ج 2 کتاب التفسیر۔ ) کہ موت کو وہاں ذبح کردیا جاوے گا اس لیے موت کے آنے کا موقع بھی باقی نہ رہے گا صحیح مسلم ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر ظلم کو حرام کرلیا ہے اس لیے فرمایا کہ ان لوگوں کو جو کچھ سزادی جائے گا وہ ان کے ان ناشکری کے جرم پر دی جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی سب ضرورت کے چیزوں کے پیدا کیا لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کچھ قدرنہ کی اور ناشکری سے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور عبادت میں اوروں کو شریک کیا ترمذی میں ابوداردائ ؓ سے اور مستدرک حکم و طبرانی میں عبداللہ بن عمر ؓ وبن العاص سے جو معتبر روایتیں 2 ؎ ہیں (2 ؎ الترغیب والترہیب ص 492 ج 4 فصل فی بکائہم وشہیقہم۔ ) ان کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ لوگ دوزخ سے نکالے جانے کی خواہش اور آئندہ نیک عمل کرنے کا اقرار کریں گے اور چلائیں گے تو مدت تک تو ان کو کچھ جواب نہ ملے گا پھر ایک مدت کے بعد ان کو کتے کی طرح دھتکار دیا جاوے گا کیوں کہ علم الٰہی کے موافق ان لوگوں کا وہ اقرار جھوٹا ٹھہرے گا اس لیے ان کو یہ خواہش منظور نہ ہوگی۔
Ayah 35:3737۔ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ آیت کے اس ٹکڑے میں عمر کی کس قدر مدت مقصود ہے جس مدت میں نصیحت پکڑنے والا آدمی نصیحت پکڑے سکے اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو یہ عذر پیش نہ کرے کہ دنیا میں اس کو کم عمر کے سبب سے نصیحت کے قبول کرنے کا موقع نہیں ملا یہ تو ایک ظاہر بات ہے کہ دنیا میں اللہ کے رسول محض اس غرض سے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر ایک طرح کا حکم جو مرضی الٰہی کے موافق ہو وہ لوگوں کو سمجھادیویں اسی واسطے جن مفسروں نے بغیر سند کلام رسول اللہ ﷺ کے اس آیت کی تفسیر کی ہے وہ تو کسی طرح مقبول ہونے کے قابل نہیں ہے کیوں کو قرآن شریف کی کسی آیت کا وہ مطلب صحیح نہیں ہوسکتا جس کی سند قرآن کا مطلب سمجھانے والے تک نہ پہنچنے اسی طرح جن مفسروں نے اپنے نزدیک کسی حدیث کے مضمون کے موافق اس آیت کی تفسیر کی ہے اور اس حدیث کی سند ضعیف ہے تو وہ تفسیر بھی قبول ہونے کے لائق نہیں کس واسطے کہ جس کلام کا سند صحیح سے کلام رسول ہونا نہ ثابت ہوجاوے اس کلام سے مراد الٰہی کیوں کر ثابت کی جاسکتی ہے اب چند حدیثوں کے مضمون کے موافق مفسروں کے چار قول ہیں پہلا قول یہ ہے کہ آیت میں ساٹھ برس کی عمر مراد الٰہی ہے یہی قول بہت صحیح ہے کیوں کہ اس قول کی تائید صحیح بخاری کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت 2 ؎ سے ہوتی ہے (2 ؎ الترغیب والترہیب ص 492 ج 4 فصل فی بکائہم وشہیقہم۔ ) جس روایت کا حاصل یہ ہے کہ ساٹھ برس کی عمر ہونے کے بعد کسی کا کم عمری جکا عذر خدا تعالیٰ کے روبرو قبول نہ ہوگا اگرچہ حافظ ابن جریرنے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ چالیس برس کی عمر کی روایت صحیح ہے ہے لیکن حافظ ابن کثیر نے لکھا 1 ؎ ہے کہ حافظ ابن جریر کا یہ قول صحح نہیں ہے کس لیے کہ صحیح بخاری کی کتاب الرقاق میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ساٹھ برس کی جب کہ موجود ہے تو صحیح بخاری سے بڑھ کر کون سی صحیح روایت کی پھر ضرورت باقی ہے دوسرا قول چھیالیس برس کی عمر کا ہے اس کی روایت تفسیر ابن مردو یہ میں حضرت عبدللہ بن عباس ؓ سے ہے مگر اس میں ایک راوی ابن خثیم ضعیف ہے تیسرا قول ستر برس کا تفسیر ابن مردویہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ہے اس میں بھی ایک راوی یحییٰ بن میمون ضعیف ہے چوتھا قول چالیس برس کی عمر کی تفسیر ابن جریر وغیرہ میں ہے یہ روایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ہے لیکن دوسری روایت حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ساٹھ برس کی بھی تفسیر سفیان ثوری وغیرہ میں موجود ہے اور یہی دوسری روایت عبداللہ بن عباس ؓ کی ابوہریرہ ؓ کی صحیح بخاری کی حدیث کہ موافق ہے اس واسطے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اسی روایت کو حافظ ابن کثیر اور اور مفسروں نے صحیح قرار دیا ہے اس قدر عمر خدا کے پہچاننے اور دین کی باتیں سمججھنے اور نیک عمل کرنے کے لیے کافیھی اس واسطے امت محمد ﷺ یہ کی عمر ساٹھ اور 70 ستر برس کے مابین میں قرار پائی ہے شاذونادر آدمی ہیں جن کی عمر اس سے زیادہ ہوتی ہے چناچہ معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت کے لوگوں کی عمر ساٹھ اور ستربرس کے مابین میں ہے بہت کم لوگ ہیں جن کی عمر اس سے زیادہ ہوگی اسی واسطے علماء نے لکھا ہے کہ جو شخص دنیا میں ساٹھ 60 برس کی عمر کو پہنچ کر بھی توبہ و استغفار اور عبادت الٰہی میں مضروف نہ ہوا اس کے حال پر بڑا افسوس ہے کیوں کہ ایسے شخص کو قیامت کے روز خدا کے روبرو کسی عذر کا موقع بھی باقی نہیں ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ جب نافرمان لوگ دوزخ سے نکالے جانے کی خواہش اور آئندہ کے لیے نیک عملوں کا اقرار کریں گے تو ان کو کتوں کی طرح دھتکارا جاکر یہ جواب دیا جاوے گا کہ تم کو راہ راست پر آنے کے لیے کافی عمر دی گئی اللہ کی مرض یکے کام سمجھانے اور آج کے دن کی آفت سے ڈرانے کے لیے آسمانی کتابیں دے کر رسول بھیجے گئے مگر تم یہی کہتے رہے کہ اول تو مر کر پھر جینا نہیں اور اگر ایسا ہوا بھی تو جن فرشتوں اور نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچالیں گے اب یہ تم نے دیکھ لیا کہ وہ فرشتے اور نیک لوگ تم سے بیزار ہوگئے اس لیے اب تم یہ سزا اپنے جرموں کی بھگتوں اور کسی مددگار کی مدد کا امید نہ رکھو۔
Ayahs 35:38–4038 تا 40۔ اوپر فرما نبردار اور نافرمان لوگوں کا قیامت کے دن کا انجام کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا اللہ تعالیٰ غیب د ان ہے اس لیے اس نے اپنے علم غیب کے موافق ابھی سے لوگوں کو قیامت کے انجام سے ہو شیار کردیا اور اس کو دلوں کی بھید تک معلوم ہے اس واسطے جزا وسزا کے وقت اس سے دل کا اعتقاد یا ہاتھ پیر کا کام یا منہ کی بھلی بری بات کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں رو سکتی پھر فرمایا پہلے کے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کر کے ان لوگوں کو ان کی جگہ پر پیدا کیا اس لیے پہلے کے لوگوں کی اجڑی ہوئی بستیاں دیکھ کر ان لوگوں کو سمجھنا چاہئے کہ شرک سے اللہ تعالیٰ کس قدر نیرار ہے اور شرک کے سبب سے پہلے کے مشرکوں کو کیا نقصان پہنچ چکا ہے ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے پوچھو تو سہی کہ ان کے تبوں نے ان کو یا ان کی ضرورت کسی کسی چیز کو پیدا کیا ہے یا اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ہیں ان کے بتوں کی کچھ شراکت ہے یا اللہ تعالیٰ نے تبوں کی پوجا کی ان مشرکوں کے پاس کوئی سند بھیجی ہے جس ان باتوں میں سے کسی بات کو یہ لوگ ثابت نہیں کرسکتے تو ان کے بہکانے والوں نے ان کی سفارش کا وعدہ جو کر رکھا ہے وہ ایک دھوکے کی ٹٹی ہے جس کا حال ان کو قیامت کے دن معلوم ہوجاوے گا پھر فرمایا یہ شرک ایسی چیز ہے جس کے خوف سے آسمان و زمین اپنی جگہ سے ہل جاویں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بردباری سے ان کو تھام رکھا ہے شریک کے وبال سے آسمان و زمین کے پھٹ جانے اور پہاڑوں کے ہل جانے کا ذکر سورة مریم میں گزر چکا ہے ان آیتوں کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل وہی ہے جو بیان کیا گیا ’ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ مشکوۃ باب الظلم۔ ) کہ اللہ تعالیٰ اپنی بردباری سے نافرمان لوگوں کو پہلے تو مہلت دیتا ہے اور مہلت کے زمانہ میں جب یہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو سخت عذاب میں پکڑا لیتا ہے ‘ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مہلت کے زمانہ میں عقبیٰ کے انجام سے پہلے بتوں کی بےاختیاری سے شرک سے ڈر کر آسمان و زمین کے کا نپنے سے شرک کے وبال سے پچھلی قوموں کے بر باد ہوجانے کی غرض سے ہر طرح قریش میں کے سرکش لوگوں کو سمجھایا جب یہ لوگ سمجھانے سے باز نہ آئے تو بدر کی بڑائی کے وقت ان کے سب سرکشی خاک میں مل گئی دینا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عقبے کے عذاب میں گرفتار ہوگئے چناچہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک ؓ کی حدیث کے حوالہ سے ان کا قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے۔
Ayah 35:4141۔ یہاں ابوہریرہ ؓ یک روایت سے بعضی تفسیروں 1 ؎ میں ایک حدیث نقل کی ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 254 ج 5) کہ حضرت موسیٰ کے دل میں ایک دفعہ یہ خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ بھی کبھی سوتا ہے یا نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے دو آئینے حضرت موسیٰ اپنے ہاتھ میں رکھیں پھر حضرت موسیٰ کے اونگھ جانے سے وہ ایک آئینہ دوسرے پر گرا اور دونوں آئینے ٹوٹ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یوں کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ سوتا تو زمین و آسمان کیوں کر قائم رہتے حافظ ابن کثیر 2 ؎ اور اور مفسروں نے اس اثر کی صحت پر اعتراض کیا ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 561 ج 3۔ ) اور اس کو بنی اسرائیل کی روایت قرار دیا ہے لیکن ابویعلی موصلی نے اپنی مسند میں اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اور دار قطنی اور بیہقی نے اسمآء وصات میں اور خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں چند سند سے موقوف اور مرفوع طور پر اس حدیث کو روایت کیا ہے جس سے اس کی اصل پانی جاتی ہے اسی واسطے بیہقی نے لکھا ہے کہ اس قصہ کی روایت معتبر معلوم ہوتی 3 ؎ ہے (3 ؎ امام بیہقی نے ایک قول ذکر کیا ہے جس میں ہے کہ یہ سوال اسرائیلیوں نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کیا تھا اس کے بعد ” بیہق لکھتے ہیں ھذا اشبہ ان کون ھوالمحفوظ “ (تفسیر الدر المنثور ص 255 ج 5) آیت کی اس ٹکڑے میں بھی مشرکین مکہ کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ ان لوگوں کے شرک کے سبب سے اگر اللہ تعالیٰ ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیوے یا زمین میں ان کو دھنسادیوے تو مکہ کے قحط میں انہوں نے اپنے بتوں کی جو بےاختیاری دیکھی ہے ان کی وہی بےاختیاری ہر حال میں موجود ہے لیکن یہ اللہ کی بردباری ہے کہ اس نے باوجود ان لوگوں کے شرک کے دنیا کے ہر طرح کے انتظام کو قائم رکھا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث ایک 4 ؎ جگہ گزر چیک ہے (4 ؎ مشکوۃ ص 13 کتاب الایمان۔ (ع ‘ ح) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی بردباری ہے کہ لوگ شرک کرتے ہیں اور وہ ان کے صحت کے اور رزق کے انتظام میں کچھ خلل ڈالنا نہیں چاہتا ‘ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔
Ayahs 35:42–4342۔ 43۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں قتادہ کا قول ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے کے پہلے سے یہود ونصاریٰ کو اہل کتاب دیکھ کر حرص کرتے تھے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر ہماری قوم میں اللہ تعالیٰ کسی شخص کو نبی کر کے بھیجے تو ہم خوب راہ راست پر آئیں اور اللہ کے رسول کی پوری فرما نبرداری کریں جب آنحضرت ﷺ نبی ہوئے اور قریش نے آپ سے طرح طرح کی مخالفت کرنی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے قریش کے قائل کرنے کو اس مضمون کی چند آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ پہلے تو یہ لوگ قوم عرب میں اللہ کے رسول کے آنے کی آرزو کرتے تھے اور اللہ سے وعدہ کرتے تھے کہ اللہ کا رسول ان کی قوم میں اگر پیدا ہوگا تو یہ لوگ اللہ کی مرضی کے موافق کام کریں گے جب اللہ تعالیٰ نے ان کی آرزو پوری کی تو اللہ کے رسول سے انہوں نے مخالفت نکالی کیا ان کو معلوم نہیں کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے کتنی قومیں ان سے پہلے ہلاک ہوچکی ہیں اگر یہ لوگ اللہ کے رسولوں کی نافرمانی سے باز نہ آویں گے تو ایک دن ویہ انجام ان کا ہو نیوالا ہے ہے کیونکہ یہ عادت الٰہی ہمیشہ سے جاری ہے کہ حضرت نوح سے لے کر اب تک جن پچھلی امتوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرماین کی ہے ایک دم میں اللہ تعالیٰ نے ان کو نیست ونا بود کردیا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی روایت 1 ؎ اوپر گزر چکی ہے (1 ؎ ابھی قریب ہی حوالہ گزرا۔ ) کہ بدر کی لڑائی کے وقت اللہ کے رسول ﷺ کے بڑے بڑے مخالفت دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچاپا لیا اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے کیوں کہ اس حدیث سے اس وعدہ الٰہی کا پورا ظہور سمجھ میں آسکتا ہے جو وعدہ ان آیتوں میں فرمایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا دستور بدلنے اور ٹلنے والا نہیں اگر قریش میں کے سرکشی لوگ اپنی سرکشی اور اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت کے داؤپیچ سے باز نہ آویں گے تو ان کے سب داؤں پیچ ایک دن انہی پر الٹ پڑیں گے اور دستور الٰہی کے موافق پہلے کے نافرمان لوگوں کی طرح ان کی ساری سرکشی خاک میں مل جاوے گی قتادہ کی روایت سے آیت کی جو شان نزول اوپر بیان کی گئی تفسیر ابن ابی 2 ؎ حاتم میں یہ روایت ابوہلال سے بھی ہے (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 255 ج 5۔ ) ان ابوہلال کا نام محمد بن سلیم ہے تابعیوں میں ان کا رتبہ اگرچہ قتادہ سے کم ہے لیکن ان کی روایتیں میں قتادہ سے ہوا کرتی ہیں اس لیے شان نزول کے ان کی روایت بھی صحیح ہے۔
تفسیر صحابہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے :۔
شان نزول کے باب میں صحابہ کا قول جو حدیث نبوی کے برابر گناہ جاتا ہے اس کا سبب یہی ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے وقت صحابہ موجود تھے اس لیے شان نزول کے قصوں سے وہ واقف تھے شان نزول کے قصوں میں عقل کو دخل نہیں ہے اس واسطے اس باب میں وہ جو کچھ کہتے ہیں آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا حال دیکھ کر کہتے ہیں حاصل کلام یہ ہے کہ شان نزول اور نقیے ابواب تفسیر میں صحابہ ؓ کے قول کو حدیث نبوی کے برابر شمار کرنے کا مسئلہ ایسا ہے کہ جس پر سلف کا اتفاق ہے اسی سبب سے حسن بصری قتادہ اور ان کے زمانہ تک کی اور تفسیریں بہت معتبر کہلاتی ہیں کیوں کہ یہ لوگ تابعی ہیں اور ان کی تفسیروں کا دارومدار صحابہ کے قول پر ہے ‘ یہ زمانہ سنہ ڈیڑھ سو ہجری تک کا ہے اس کے بعد سفیان بن عیینہ شعبہ کے زمانہ کی تفسیریں ہیں جن میں تابعیوں کے قول بھی ہیں یہ زمانہ دو سو ہجری کے قریب تک کا ہے پھر اس کے بعد ابن ماجہ ‘ حاکم ‘ ابن جریر کے زمانہ کی تفسیریں ہیں جن میں تابعی تبع تابعیوں تک کے قول ہیں لیکن اس زمانہ تک حدیث کی کتابوں کی طرح تفسیر کی کتابوں میں راویوں کے نام کے حوالہ سے پوری سند تفسیروں میں لکھی جاتی تھی جس کے سبب سے سلسلہ روایت کا حال معلوم ہوسکتا تھا اس نظر سے اس زمانہ تک کی تفسیریں بھی معتبر کہلاتی ہیں یہ زمانہ تین سو ہجری کے قریب تک کا ہے ‘ اس کے بعد بغیر سلسلہ سند کے تفسیروں کی تالیف کا طریقہ شروع ہوا جس سے صحیح ضعیف قول کا پتہ لگنا دشوار ہوگیا ‘ یہ تفسیر اگرچہ اردو کی ایک مختصر تفسیر ہے لیکن اس میں معتبر زمانہ کے قولوں کے لینے کی پوری پابندی کی گئی ہے ‘ اس قسم کے اصول کی تفسیر کی ضروری باتیں اس تفسیر کے مقدمہ میں بیان کردی گئی ہیں۔
لیکونن اھدے من احدنے الامم اس کا مطلب یہ ہے کہ راہ راست پر آنے کے حساب سے سب امتوں میں جو امت یکتائے زمانہ ہوتی وہ ہمارا ہی گروہ ہوتا یہ بات قریش اس لیے کہتے تھے کہ وہ اور قوموں سے اپنے آپ کو زیادہ عقلمند گنتے تھے اس واسطے وہ یہ کہتے تھے کہ اگر ہم میں کوئی نبی آیا تو ہم اپنی عقلمندی کو کام میں لاکر اور قوموں سے زیادہ راہ راست پر آویں گے۔
Ayahs 35:44–4544‘ 45۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ کا دستور بدلنے اور ٹلنے والا نہیں اگر یہ لوگ پہلے کے سرکشوں کے قدم بقدم چلیں گے تو وہی انجام ان کا ہوگا جو ان سے پہلے کے سرکشوں کا ہوا ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ تجارت پیشہ ہیں اکثر شام کے ملک کا سفر کرتے رہتے ہیں کیا ان کو اس راستہ میں پہلے کے سرکشوں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آئیں جو ان سے قوت میں مال واولاد میں ہر طرح بڑھ کر تھے لکنس ان کی سرکشی کے سبب سے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کرنا چاہا تو اللہ کی قدرت کے آگے ان کو قوت مالداری کوئی چیز بھی ان کو آفت سے نہ بچاسکی پھر فرمایا باوجود طرح طرح کی سرکشی کے یہ لوگ آفت سے اب تک اس واسطے بچے ہوئے ہیں کہ عادت الٰہی میں ایسے لوگوں کی پکڑ جلدی نہیں ہے کیوں کہ وہ ہر ایک بداعمالی پر لوگوں کو جلدی پکڑے تو زمین پر کوئی جاندار ہلاکت سے نہ بچ سکے کس لیے کہ علم اس کا وسیع ہے جس سے فرما نبردار اور سرکش نافرمان سب بندے اس کا نگاہ میں ہیں سب کے دلوں تک کا حال اس کو خوب معلوم ہے قدرت اس کی زبردست ہے کہ پہلے کے بڑی بڑی سرکش قوموں کو کو جس عذاب سے اس نے چاہا ایک دم میں ہلاک کردیا لیکن اس کے انتظام میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اور عادت الٰہی یہ ہے کہ وقت مقررہ سے پہلے وہ نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے تاکہ ان نافرمان لوگوں کو مہلت کے زمانہ میں راہ راست پر آنے کو پورا موقع ملے جو سرکش لوگ مہلت کے زمانہ میں اپنی سرکشی لوگ مہلت کے زمانہ میں اپنی سرکشی اور نافرمانی سے باز نہیں آتے تو وقت مقررہ پر ان کو ایسے سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے جس سے وہ بالکل ہلاک ہوجاتے ہیں
صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے نافرمانی لوگوں کو مہلت دیتا ہے اگر مہلت کے زمانہ میں وہ اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے تو پھر ان کو بالکل ہلاک کردیتا ہے ‘ یہ حدیث آخری آیت کی گویا تفسیر ہے کیوں کہ آیت اور حدیث کے ملانے سے آیت کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎ سے انس بن مالک ؓ کی روایت گزر چکی ہے (1 ؎ قریب ہی یہ حوالہ بھی گزر چکا ہے۔ ) کہ بدر کی لڑائی کے وقت مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سرکش دنیا میں نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پالیا ‘ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ قریش میں کے سرکشوں کو اللہ تعالیٰ نے بارہ تیرہ برس کی مہلت دی اور اس مہلت کے زمانہ میں قرآن کی بہت سی آیتیں ان کی فہمائش کے لیے نازل فرمائیں پہلے سرکشوں کے اجڑ جانے کی حالت انہیں یاد دلائی لیکن جب یہ لوگ کسی طرح اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو آخر دونوں جہاں کی ذلت اٹھائی۔