Ayahs 36:1–41 تا 4۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکا ہے ‘ یہ سورة مکی ہے مکہ کے مشرک آنحضرت ﷺ کی نبوت کو نہیں مانتے تھے کبھی تو جادو گر بتلاتے تھے اور کبھی شاعر اور کاہن کہتے تھے اور کبھی فقط اتنا ہی کہہ دیتے کہ لست مرسلا جس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کے رسول نہیں ہو اس لیے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ ان مشرکوں کو یقین دلانے کے لیے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ذکر کیا ہے ان آیتوں میں قریش کی بات کا جواب تھا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے خاندان قریش کا ذکر لتنذ رقوما ما آنذر آباء ھم سے فرمایا ورنہ آنحضرت ﷺ کی نبوت تمام مخلوقات کے لیے عام ہے چناچہ اور آیتوں میں ہے وقل للذین اوتوا الکتاب والا میبن اور لا نذرکم بد ومن بلغ اور صحیح حدیثوں میں آپ نے فرمایا ہے کہ میری نبوت عام ہے چناچہ صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت 2 ؎ میں آپ ﷺ نے فرمایا (2 ؎ مشکوۃ ص 12 کتاب الایمان) کہ جو یہودی یا نصرانی میری نبوت پر ایمان نہ لائے گا وہ دوزخی ٹھہرے گا اور علاوہ تمام مخلوقات انسانی کے آپ کا جنات کی ہدایت کے لیے جنگل میں جانا اور جنات کا آپ کے پاس احکام شریعت سیکھنے کے لیے آنا یہ بھی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے ‘ چناچہ صحیح مسلم کی عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت 1 ؎ میں آنحضرت ﷺ کا جنات کی ہدایت کے لیے جانے اور ان کو قرآن شریف سنانے کا تفصیل سے ذکر ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 164 ج 4) جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم بہ کہتے ہیں اور جس بات کی صداقت کے لیے قسم کھائی جاتی ہے اس کو مقسم علیہ کہتے ہیں ‘ یہاں مقسم بہ قرآن ہے اور مقسم علیہ آنحضرت ﷺ کی نبوت ہے قرآن شریف میں مقسم بہ اکثر ظاہر چیزیں ہیں جیسے آسمان چاند سورج وغیرہ اگرچہ مشرکین مکہ کے نزدیک قرآن شریف کا کلام الٰہی ہونا ایسا ظاہر نہ تھا جس طرح چاند سورج کو ظاہر میں وہ آنکھوں سے دیکھتے تھے لیکن اللہ کے رسول کا ان پڑھ ہونا اور قرآن شریف میں ایسی باتوں کا پایا جانا ان پڑھ شخص تو درکنار کوئی پڑھا لکھا شخص بھی ایسی باتیں بغیر غیبی مدد کے نہیں کہہ سکتا اس لیے قرآن کی قسم کھا کر مشرکین مکہ کو اللہ تعالیٰ نے یہ بات جتلائی کہ جس طرح چاند سورج ظاہر چیزیں ہیں اسی طرح یہ بھی ایک ظاہر بات ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور جن پر یہ اللہ کا کلام اترا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں اور جس راہ پر وہ لوگوں کو لگاتے ہیں وہ سید ہا راستہ نجات کا ہے۔
صراط مستقیم اور بدعتی فرقے
معتبر سند سے مسند امام احمد نسائی دارمی اور مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فضل دوسری مع تنقیح الرواۃ ص 40 ج 1) جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے ایک خط کھینچ کر فرمایا کہ یہ راستہ اللہ کا ہے اور پھر اس خط کے دائیں بائیں اور خط کھینچ کر فرمایا ان سب راستوں میں شیطان کا دخل ہے ترمذی ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ اور فقط ترمذی میں عبداللہ بن عمروبن العاص سے 3 ؎ جو روایتیں ہیں (3 ؎ ایضا مع تنقیح الرواۃ ص 41 جلد اول) ان میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اختلاف کے سے سبب بنی اسرائیل میں بہتر فرقے ہوگئے ہیں اور میری امت میں تہتر فرقے ہوجائیں گے جن میں ایک فرقہ جنتی اور سیدھی راہ پر ہوگا اور یہ وہی فرقہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ ؓ کے طریقہ پر ہوگا ‘ یہ حدیثیں صراط مستقیم کی گویا تفسیر ہیں “ ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو ترمذی نے صحیح اور عبداللہ بن عمر وبن العاص کی حدیث کو حسن کہا ہے عبداللہ بن عمر وبن العاص کی سند کے ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد افریقی کو اگرچہ دار قطنی نے ضعیف کہا ہے لیکن یحییٰ بن سعید القطان نے عبدالرحمن بن زیاد کو ثقہ قرار دیا ہے 4 ؎ یحییٰ بن سعید رادیوں کی جانچ کے باب میں امام مشہور ہیں (4 ؎ ایضا تنقیح الرواۃ) اور راویوں کی جانچ میں ان کے قول کا بڑا اعتبار ہے یہ یحییٰ امام احمد (رح) کے استادوں میں شمار کئے جاتے ہیں فلسفہ یونانی اسلام میں آن کر اہل قبلہ میں طرح طرح کے فرقے جو پیدا ہوگئے ان حدیثوں میں اس کی پیشین گوئی کے موافق آنحضرت ﷺ کی حدیثوں اوراقوال صحابہ ؓ کو اصول فلسفہ کی طرف کھینچنا اور سلف کے طریقہ کو چھوڑنا شروع ہوا۔ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کی عظمت جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ہر ایک چیز کی قسم کھائی ہے لیکن مسلمان آدمی کو سوا اللہ تعالیٰ کے نام کے اور چیزوں کی قسم کھانے کی مناہی ہے چناچہ صححو بخاری وغیرہ کی عبداللہ بن عمر ؓ کی روایتوں میں اس کا ذکر تفصیل سے آیا 5 ؎ ہے (5 ؎ مشکوۃ ص 296 باب الایمان والنذور)
Ayahs 36:5–115 تا 11۔ اوپر قرآن شریف کی قسم کھا کر یہ اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ جس قرآن کی قسم کھائی ہے وہ قرآن ایسے اللہ کا اتارا ہوا ہے جو قرآن کے جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں بڑا زبردست اور قرآن کے ماننے والوں کے حق میں بڑا صاحب رحم ہے پھر قرآن کے نازل کرنے کا سبب بیان فرمایا کہ قرآن ایسے لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرانے کے لیے اتارا گیا ہے کہ جن میں بہت مدت سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا اس واسطے ان میں موروثی غفلت چلی آتی ہے پھر فرمایا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے جو لوگ اللہ کے علم میں نافرمان ٹھہر چکے ہیں وہ اس قرآن کو نہیں مانیں گے اس لیے اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں کے حال پر تم کو کچھ افسوس نہ کرنا چاہئے اب آگے ان نافرمان لوگوں کی مثال بیان فرمائی کہ ان لوگوں کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کسی کی گردن میں طوق ڈال دیا گیا ہو اور اس کا سر آسمان کی طرف اونچا ہو کر رہ جائے اور اس کو زمین پر کی کوئی چیز نظر نہ آوے ‘ گر دن میں طوق اس طرح ڈالا جاتا ہے کہ اس میں دونوں ہاتھ بھی جکڑدئے جاتے ہیں اس لیے جب طوق مع دونوں ہاتھوں کے ٹھوڑی تک ہوا تو ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے پھنس کر گردن اونچی ہوگئی اور آنکھیں آسمان کو لگ گئیں ‘ اس مطلب کو مقمحون کے لفط سے ادا فرمایا گیا ہے اقماح کے معنے سر اونچا کردینے کے ہیں اونٹ جب پانی پر جا کر گردن اونچی کرلیتا ہے اور بانی نہیں پیتا تو ایسے موقع پر عرب لوگ بعیر قامح بولتے ہیں ‘ ایسے لوگوں کی دوسری مثال یہ بیان فرمائی کہ ان کے آگے پیچھے دیوار اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اس لیے یہ لوگ آگے پیچھے کی چیز تو درکنار دیوار پر کی چیز کو ہی نہیں دیکھ سکتے پھر فرمایا کہ ان لوگوں کی گمراہی کا جب یہ حال ہے تو قرآن کی آیتوں میں ان کے بھلے برے کو جو جتلایا گیا ہے اس کو یہ لوگ کسی طرح ماننے والے نہیں اس لیے ان کو عذاب آخرت سے ڈرانا اور نہ ڈرانا یکساں ہے ‘ معتبر سند سے ترمذی اور نسائی کے حوالہ 1 ؎ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ مشکوۃ باب الاستغفار والتوبۃ مع تنیقح الرواۃ ص 82 ج 2) کہ گناہوں کی کثرت سے آدمی کے دل پر سیاہی چھا جاتی ہے جس کے سبب سے اس کے دل پر نیک بات کا اثر نہیں ہوتا ‘ اس حدیث سے وسواء علیھمء انذر تھم ام لم تنذرھم لایومنون کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈرانا اور نہ ڈرانا یکساں ہے علم الٰہی میں جن لوگوں کا راہ راست پر آنا قرار یا چکا ہے اب ان کا حال بیان فرمایا کہ اگرچہ انہوں نے بھی عذاب آخرت کو آنکھوں سے نہیں دیکھا (2 ؎ مشکوۃ باب الاستغفار والتوبہ فصل اول) لیکن اللہ کے کلام کا یقین ان کے دل میں ایسا جم گیا ہے کہ بن دیکھے عذاب کا خوف بھی ان کو نافرمانی کے کاموں سے روکتا ہے اب اس خوف کا نتیجہ بیان فرمایا کہ ایسے لوگوں کے حق میں گناہوں کی معافی کا اور تھوڑی سی نیکی کے بڑے اجر کا اللہ کا وعدہ ہے اے رسول اللہ کے تم اللہ کا یہ وعدہ خوشخبری کے طور پر ایسے لوگوں کو سنا دو 1 ؎ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ کی ایک بڑی حدیث قدسی ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 65‘ 566 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 260 ج 5) جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا توبہ استغفار کرنے والے لوگوں کے گناہ معاف کرنے کو اللہ تعالیٰ ہر وقت موجود ہی صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی اوپر گزر چکی ہے کہ نیک لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں وہ نعمتیں رکھی ہیں جو نہ کسی نے دنیا میں آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ‘ یہ حدیثیں فبشرہ بمغفرۃ واجر کریم کی گویا تفسیر ہیں۔
Ayah 36:1212۔ صحیح مسلم میں جابر بن عبداللہ ؓ سے 1 ؎ ترمذی اور حاکم میں ابوسعید خدری ؓ کی روایت 1 ؎ سے اور طبرانی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 65‘ 566 ج 3 وتفسی الدد المنثور ص 260 ج 5) اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک قبیلہ بنی سلمہ کے مکانات مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے دور سے نماز کے لیے مسجد نبوی میں آنے کے قوت ان لوگوں کو ذرا تکلیف ہوتی تھی اس واسطے انہوں نے چاہا کہ مسجد نبوی کے پاس اپنے نماز کے لیے مسجد نبوی میں آنے کے وقت ان لوگوں کو ذرا تکلیف ہوتی تھی اس واسطے انہوں نے چاہا کہ مسجد نبوی کے پاس اپنے مکانات بنالیویں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور آنحضرت ﷺ نے ان کو اس آیت کا مطلب سمجھا کر فرمایا کہ دور سے نماز کے لیے تمہارے ایک ایک قدم کا ثواب لکھا جاتا ہے اس واسطے تم اپنے مکانوں کو دور ہی رکھو حافظ ابن کثیر اور بعضے مفسروں نے اس شان نزول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ سورة بالا تفاق مکی سورتوں میں سے مدنی آیتوں کو ایک گیا ہے انہوں نے سورة یسٰین میں سے اس آیت اور آیت واذاقیل لہم انفقوا کو مدنی قرار دیا ہے غرض جن علماء نے اس شان نزول کو بغیر اعتراض کے قائم رکھا ہے انہوں نے لفظ آثار کی تفسیر نقش قدم سے کی ہے۔
صدقہ جاریہ
اور جن علماء نے اس شان نزول پر اعتراض کیا ہے انہوں نے آثار کی تفسیر صدقہ جاریہ سے کی ہے صدقہ جار یہ وہ نیک کام ہے جو آدمی کے مرجانے کے بعد دنیا میں باقی رہے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 565 ج 3) جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب وقت کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے نیک عمل بند ہوجاتے ہیں مگر کوئی صدقہ جاریہ وہ چھوڑ جاوے تو اس کا ثواب باقی رہتا ہے جس طرح مثلاً کوئی مسجد یا کنواں بنا کر چھوڑ جاوے کوئی علم دین کی ایسی کتاب چھوڑ جاوے جس سے لوگوں کو نفع پہنچے یا ایسی نیک اولاد چھوڑ جاوے جو اس کے حق میں دعا خیر کرے اس آیت کی تفسیر میں علماء کے یہ دو قول ہیں اس واسطے فارسی 3 ؎ اور اردو ترجمہ میں بھی اختلاف ہے (3 ؎ یعنی شاہ ولی اللہ نے فتح الرحمن میں نقش اقدام ایشان “ ترجمہ کیا ہے (ع ‘ ح) فارسی ترجمہ میں پہلا قول لیا گیا ہے اور دونوں اردو ترجموں میں پچھلا قول ہے۔ مجاہد کے قول کے موافق امام مبین کے معنے لوح محفوظ کے ہیں جس کی پیروی کی جائے اس کو امام کہتے ہیں۔ لوح محفوظ کے نوشتہ کی پیروی کے طور پر اللہ کے فرشتے سب کام چلاتے ہیں اس لیے لوح محفوظ کو امام مبین فرمایا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ جینا ایک نیک و بد عمل اور ان کی جزا و سزا دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے یہ سب کچھ علم الٰہی کے موافق لوح محفوظ میں لکھا جاچکا ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ 1 ؎ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس 50 ہزار برس پہلے اپنے علم الٰہی کے نتجیہ کے طور پر تمام مخلوقات کا حال اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ‘ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ میت میں سب چیزوں کو لوح محفوظ میں لکھے جانے کا جو ذکر ہے وہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے لکھا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی تو قدیمی ہے لیکن اس قدیمی علم کا نتیجہ دنیا کے پیدا ہونے سے بچ اس ہزار برس پہلے لوح محفوظ میں لکھا گیا ہے۔
Ayahs 36:13–1913۔ تا 19۔ اوپر ذکر تھا کہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جو علم الٰہی میں نیک قرار پا چکے ہیں جو لوگ علم الٰہی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کے دل پر کسی نصیحت کا کچھ اثر نہیں ہوتا اس قصے میں ایک شخص نیک کا اور بستی کے تمام سرکشوں کا حال بیان کر کے اوپر کی بات کی مثال سمجھائی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک بستی میں دو رسول بھیجے جب بستی کے لوگوں نے ان دونوں رسولوں کو جھٹلایا تو تیسرے رسول کو ان دونوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا لیکن بستی کے لوگوں نے ان تینوں رسولوں کو جھٹلایا اور تمام گمراہ قوموں کی طرح یہ کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے اس لیے تم تینوں جھوٹے ہو۔ اللہ کے رسولوں نے جواب دیا کہ جس اللہ نے ہم کو رسول بنا کر بھیجا ہے اس کو خوب معلوم ہے کہ ہم اس کے رسول ہیں کیوں کہ اگر ہم اس کا پیغام پہنچانے میں جھوٹ بولتے تو اللہ تعالیٰ ہم کو جھوٹ کی سزا میں پکڑ لیتا تفسیر مقاتل میں ہے کہ جب بستی کے لوگوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تو اس کو سزا کے طور پر اس بستی میں قحط پڑا اسی واسطے بستی کے لوگوں نے اللہ کے رسولوں سے کہا کہ اسی بستی میں تمہارا آنا منحوس ہوا جس سے یہ قحط پڑا اب بھی تم اگر ہمارے ٹھاکروں کی مذمت سے باز نہ آؤگے تو ہم تم کو طرح طرح سے صدمہ پہنچائیں گے اللہ کے رسولوں نے جواب دیا کہ یہ قحط تمہاری ناشکری اور بداعمالی کے سبب سے پڑا ہے جس اللہ نے تم کو تمہاری ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا ہم تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کے شکریہ میں تم خالص اس کی تعظیم کرو اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ ٹھہراؤایسی سیدھی باتوں پر تم جو ہم کو منحوس بتاتے ہو یہ تمہاری حد سے زیادہ گمراہی ہے تمہارے بتوں میں اگر کچھ قدرت ہے تو ان کی مدد سے اللہ کے بھیجے ہوئے قحط کو ٹال دو ورنہ یہ خوب سمجھ لو کہ اللہ کے خلاف مرضی کاموں کے سبب سے ہمیشہ تم پر ایسی آفتیں آتی رہیں گی ‘ اللہ کے رسولوں کی یہ پیشین گوئی سچی ہوئی کہ آخر کو یہ بستی ایک سخت چنگھاڑ کے عذاب سے ہلاک ہوگئی چناچہ اس کا ذکر آگے آتا ہے اس بستی کے لوگوں نے یہ جو کہا کہ اللہ کے رسول انسان نہیں ہوسکتے نوح (علیہ السلام) سے لے کر قریش تک سب گمراہ قوموں نے یہی بات اللہ کے رسولوں سے کہی ہے اور اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے وہ سورة الانعام میں گزر چکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس لیے انتظام الٰہی یہی قرار پایا ہے کہ نبی آدم کی ہدایت کے لیے جو رسول اللہ کی طرف سے آوے گا وہ ضرور انسان ہوگا ‘ صحیح بخاری مسلم 1 ؎ میں جبرئیل (علیہ السلام) کا دحیہ کلبی صحابی کی صورت میں وحی لے کر آنے کا جو قصہ ہے اس میں حضرت ام سلمہ ؓ قسم کھا کر فرماتی ہیں (1 ؎ الاصابہ ص 472 جلد اول) کہ میں جبرئیل (علیہ السلام) کو دحیہ کلبی سمجھا کرتی تھی ‘ یہ وحیہ کلبی نہایت خوبصورت شخص تھے یہ وہی صحبی وحیہ بن خلیفہ کلبی ہیں جن کے ہاتھ اللہ کے رسول نے ہرقل بادشاہ روم کے پاس خط بھجا تھا اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ تمام بنی آدم تو درکنار اللہ کے رسول کے دیکھنے والے اعلیٰ مرتبہ کہ نبی آدم بھی جبرئیل (علیہ السلام) کو اصلی صورت میں نہیں دیکھ سکتے تھے اس واسطے جبرئیل (علیہ السلام) وحیہ کلبی صحابی کی صورت بن کر وحی لایا کرتے تھے اس بستی کا کیا نام تھا اور تینوں رسول کس زمانہ میں تھے اس کا ذکر آگے آوے گا۔
Ayahs 36:20–2520 تا 25۔ جس بستی کا اوپر ذکر تھا اسی بستی کے پرے سرے سے یہ نیک شخص دوڑتا ہوا آیا شاہ (عبدالقادر) صاحب اپنے فائدہ 2 ؎ جس طرح لکھا ہے (2 ؎ یہ شہر تھا انطاکیہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے دو یار وہاں پہنچے ‘ شہروالوں نے ٹال دیا ‘ پھر تیسرے یار بھی پہنچے یہ تیسرے بڑے یار تھے (موضح القرآن) اسی طرح ابن اسحاق کی روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اور کعب احبار اور وہب بن منبہ اور عکرمہ وقتاوہ اور زہری وغیرہ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ان آیتوں میں جس شہر کا ذکر ہے وہ شہر انطاکیہ تھا اور جن رسولوں کا ذکر ہے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تین حواری تھے مگر حافظ عماد الدین ابن کثیر 3 ؎ نے اس تفسیر پر یہ اعتراض کیا ہے (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 569 ج 3) امام بخاری (رح) کا انداز یہی بتاتا ہے ‘ یہ قصہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سے تو بہرحال پہلے کا ہے (فتح الباری کتاب الانبیا ( علیہ السلام) ئ) (ع ‘ ح) کہ وہ شہر انطاکیہ اس سبب سے نہیں ہوسکتا کہ اکثر اہل اسلام اور اہل کتاب کی تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ انطاکیہ اور اسکندریہ ان شہروں میں سے ہیں جن کے لوگ سب سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہیں پھر انطاکیہ ان شہروں میں کیوں کر ہوسکتا ہے جس کے رہنے والوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور وہ رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری اس سبب سے نہیں ہوسکتے کہ یہ شہر قرآن کے مضمون کے موافق ایسا شہر ہے جس کے رہنے والے رسولوں کے جھٹلانے اور حبیب نجار کے شہید کر ڈالنے کے سبب سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی چنگھاڑ سے ہلاک ہوئے ہیں حالانکہ مستدرک حاکم مسند بزار تفسر ابن ابی حاتم اور تفسیر ابن مرودیہ میں حضرت ابوسعید خدری ؓ کی روایت سے مرفوع اور موقوف روایتیں 1 ؎ ہیں (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 39 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 129 ج 5) جن میں سے مرفوع روایت کو حکم نے صحیح قرار دیا ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ سوا اس بنی اسرائیل کے فرقے کے جو مچھلیوں کے شکار میں نافرمانی کرنے سے بندر ہوگئے تو ریت کے نازل ہونے کے بعد عام عذاب اور کسی قوم پر آسمان سے نہیں آیا پھر یہ حضرت جبرئیل کے چنگھاڑ کے عذاب کا قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں تو ریت کے نازل ہونے کے بعد کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے ‘ سورة قصص کی آیت ولقدآتینا موسیٰ الکتاب من بعد ما اھلکنا القرون الاولیٰ سے ابو سعید خدری ؓ کی اوپر کی حدیث کی تائید ہوتی ہے کیوں کہ آیت اور حدیث کا مطلب قریب قریب ہے غرض اس اعتراض کے بعد حافظ ابن کثیر نے صحیح تفسیر یہی قراردی ہے کیونکہ تو ریت کے نازل ہونے سے پہلے تین نبیوں کا کسی شہر کا یہ قصہ ہے جن نبیوں اور شہر کے نام کی صراحت نہ آیت میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں ہے طبرانی میں اگرچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ایک حدیث ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورة یسین کا قصہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے کیوں کہ اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی امت میں جو رتبہ حضرت علی ؓ کا ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں وہی رتبہ اس شخص کا ہے جس کا ذکر سورة یسین میں ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا امت میں وہی رتبہ یوشع بن نون کا ہے لیکن اس حدیث کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن الاشقر کوفی ایسا ہے جس کو امام بخاری نسائی اور دار قطنی نے ضعیف ٹھہرایا ہے اور جوز جانی نے کہا ہے کہ یہ حسین بن حسن اس طرح کا غالی شیعہ تھا کہ اچھے لوگوں کو گالیاں دیا کرتا تھا یہ جوز جانی ابواسحاق ابراہیم بن یعقوب ومشقی علماء میں سے ہیں ان کی تالیفات میں کتاب الضعفاء مشہور ہے نسائی اور دارقطنی نے ان جوز جانی کو ثقہ کہا ہے ‘ اگر تنہا ابن حبان نے حسین بن حسن کو ثقہ لوگوں میں شمار کیا ہے لیکن اور علماء نے ابن حبان کی بات کو تسلیم نہیں کیا اس واسطے یہ روایت اس روایت مستدرک حاکم کے مقابلہ میں مقبول نہیں ہوسکتی جس کی صحت حاکم کے حوالہ سے اوپر گزر چکی بعضے مفسروں نے جو لکھا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی چنگھاڑ سے شائد اسی قدر لوگ انطاکیہ کے ہلاک ہوئے ہوں جنہوں نے حبیب نجار کو شہید کیا تھا اس صورت میں انطاکیہ کا عذاب جب کہ عام نہیں تھا تو اس شہر کے انطاکیہ ہونے پر کچھ اعتراض نہیں ہوسکتا یہ قول قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کے ذکر کے بعد کم اھلکنا من القرون فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اور بستیوں کی طرح اس شہر کا عذاب بھی عام تھا تفسیرابن جریر اور ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان نیک شخص کا نام حبیب نجار تھا حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب بستی کے لوگوں نے اللہ کے رسولوں کے شہید کر ڈالنے کا ارادہ کیا اور حبیب نجار نے یہ خبر سنی تو وہ گھبرا کرو دوڑتے ہوئے وہاں آئے جہاں اللہ کے رسول تھے اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ اے قوم کے لوگو جب یہ اللہ کے رسول اپنی نصیحت کا کچھ معاوضہ تم لوگوں سے نہیں چاہتے اور پکی پکی باتیں نصیحت کی کہتے ہیں تو و ضرور راہ راست پر معلوم ہوتے ہیں اس لیے تم لوگوں کو ان کا کہنا ماننا چاہئے قوم کے لوگوں نے حبیب نجار کی یہ نصیحت سن کر کہا کہ کیا تم نے اپنا قدیمی دین چھوڑ دیا جو تم ایسی باتیں کرتے ہو حبیب نجارنے قوم کے لوگوں کو جواب دیا کہ کیا مجھ کو اتنی بات سمجھ لینی کچھ مشکل ہے کہ جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے اور مجھے اور تمہیں سب کو ایک دن اسے منہ دکھانا ہے تو میں اس کی عبادت نہ کروں اور ایسے بتوں کی پوجا میں لگا رہوں کہ جو نہ خود اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی کسی مصیبت کو ٹال سکتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں میری کچھ سفارش کرسکتے ہیں تم بھی سمجھ لو کہ اگر میں ایسی بےاختیار چیز کو پوچھا میں لگا رہوں تو یہ کیسی موٹی عقل ہے پھر رسولوں کی طرف متوجہ ہو کر حبیب نجار نے یہ کہا تم گواہ رہو کہ میں تو تمہارے پروردگار کو اپنا معبود مان چکا آگے حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود کی روایتیں آتی ہیں کہ اس کے بعد قوم کے لوگوں نے حبیب نجار کو شہید کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حبیب کو جنت میں داخل ہونے کا حکم دیا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں داخل ہونے کا حکم دیا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں داخل ہونے کے قابل کام کرے گا اور کون دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ 2 ؎ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث بھی گزر چکی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان) کہ قریش نے جب بہت سرکشی شروع کی تو اللہ کے رسول ﷺ کی بد دعاء سے مکہ میں سخت قحط پڑا اور آخر اللہ کے رسول ﷺ کی دعاء سے مینہ برسا جس سے وہ قحط رفع ہوا ان حدیثوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے قحط کے وقت مشرکین مکہ کو اور اس بستی کے قحط کے وقت یہاں کے لوگوں کو اگرچہ بتوں کی بےاختیاری کا حال اچھی طرح سیکھ گیا تھا لیکن ان میں کے جو لوگ علم الٰہی کے موافق دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پائے تھے وہ مرتے دم تک ان بےمصرف مورتوں کی پوجا میں لگے رہے۔
Ayahs 36:26–3226 تا 32۔ جس طرح کی تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم کے حوالہ سے روایتیں اوپر گزریں اسی طرح حبیب بن شبیب نے اپنی تفسیر میں عکرمہ کی سند سے روایت 2 ؎ کی ہے (2 ؎ صحیح بخاری ص 714 ج 2 تفسیر سورة الدخان ‘) کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے یہ حبیب نجار، ساتھ یہ حبیب بن بشر ترمذی اور ابن ماجہ کے راوی ہیں اور ابن معین نے ان کو ثقہ تابعیوں میں شمار کیا ہے سیرت ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسی بستی کے لوگوں نے اللہ کے ان تینوں رسولوں سے جھگڑا کیا اور ان رسولوں کے شہید کرنے کا قصد کیا تو حبیب نجار دوڑ کر آئے تاکہ جہاں تک ہو سکے اللہ کے رسولوں کی مدد کریں یہ حبیب نجار بڑے نیک شخص تھے جو کچھ کماتے تھے آدھا خیرات کرتے تھے اور آدھا اپنے خرچ میں لاتے تھے قتادہ نے اپنی تفسیر میں لکھا 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 261 ج 5) کہ یہ حبیب پہاڑ کے ایک غار میں ہمیشہ اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے اور جذام کے مرض میں مبتلا تھے سیرۃ ابن اسحاق کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حبیب نجار نے اپنی قوم کے لوگوں کو نصیحت کرنی شروع کی تو قوم کے لوگوں نے حبیب پر حملہ کیا اور ان کو شہید کر ڈالا حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت جو سیرۃ ابن اسحاق میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قوم کے لوگوں نے حبیب نجار کو پیروں سے یہاں تک کچلا کہ حبیب نجار کی انتڑیاں پیٹ کے باہر نکل آئیں امام احمد اور ترمذی نے ان محمد بن اسحاق کی روایتوں کو معتبر قرار دیا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت جو سیرۃ ابن اسحاق میں ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قوم کے لوگوں نے حبیب نجار کو پیروں سے یہاں تک کچلا کہ حبیب نجار کی انتڑیاں پیٹ کے باہر نکل آئیں امام احمد اور ترمذی نے ان محمد بن اسحاق کی روایتوں کو معتبر قرار دیا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ حبیب نجار اپنی قوم کے خیر خواہ تھے جیتے جی قوم کے لوگوں کو نصیحت کرتے رہے اور باوجود اس کے کہ قوم کے لوگوں نے ان کو اس سختی اور بےرحمی سے شہید کیا اس پر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت نصیحت کی تو وہ وہاں بھی کے کہ قوم کے لوگوں نے ان کو اس سختی اور بےرحمی سے شہید کیا اس پر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو جنت نصیب کی تو وہ وہاں بھی قوم کے لوگوں کو یاد کر کے یہی آرزو کرتے رہے کہ قوم کے لوگ بھی نیک راہ پر آویں اور جنت میں ان کے شریک حال ہوں اکثر سلف کا قول ہے کہ جب حبیب نجار کی قوم نے حبیب نجار کو شہید کر ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو اس قوم کے ہلاک کرنے کا حکم دیا حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اس بستی کے دروازہ پر آن کر ایک چنگھاڑ ماری جس سے سب بستی کے آدمی کلیجے پھٹ کر فورا مرگئے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کے ہلاک کرنے کے لیے آسمان سے کسی فوج کے اتار نے کی ضرورت نہ تھی بلکہ ایک چنگھاڑ ان کے ہلاک کے لیے کافی تھی اس میں قریش کو تنبیہ فرمائی کہ قریش لوگ اللہ کے رسول کو جھٹلا کر عذاب الٰہی کی کیا جلدی کرتے ہیں عذاب الٰہی کے لیے کسی فوج اور لشکر کی ضرورت نہیں اس کا ایک ادنیٰ عذاب بڑے بڑے سرکشوں کے کافی ہے اب آگے اللہ تعالیٰ نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی والے لوگوں کے حال پر افسوس ظاہر فرمایا ہے کہ کیوں یہ لوگ اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کر کے دین و دنیا کے عذاب میں گرفتار ہوتے ہیں اگرچہ مفسرین نے یاحسرہ علی العباد کے اور معنے بھی بیان کئے ہیں لیکن یہ معنے جو اوپر بیان کئے گئے یہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اس قول کے موافق ہیں جو علی ابن ابی طلحہ کی روایت سے ہے اور اس تفسیر میں یہ بات کئی جگہ بیان کردی گئی ہے کہ اس کی سند کی روایت بہت صحیح ہوتی ہے اسی واسطے تینوں 2 ؎ ترجموں میں اس قول کو لیا ہے ‘ اسی قول کے موافق یہ آیت متشابہت 3 ؎ میں سے ہے کیونکہ مثلا اللہ کے غصے اور خوشی کے تفصیلی 4 ؎ معنے جس طرح ہم کو معلوم نہیں وہی حال اللہ تعالیٰ کے افسوس کا ہے ‘ (2 ؎ اے وائے بہ بندگاں (فتح الرحمان) اے ارمان اوپر بندوں کے “ ( شاہ رفیع الدین) ” کیا افسوس ہے بندوں پر موضح القران (ع ‘ ح) (3 ؎ یعنی کیفیت کے اعتبار سے ورنہ لغوی معنی تو معلوم ہے (ع۔ ح ‘) (4 ؎ یعنی اللہ تعالیٰ کے عضے ‘ خوشی اور افسوس کی کیفیت اس کی وہ ہے جو اس کی ذلت کے مناسب ہے البتہ لغت عربی کے لحاظ سے معنی معلوم ہیں۔ یہی سلف کا مذہب ہے (ع۔ ح۔ )
صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ 5 باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ کے رسول کی نصیحت کی مثال مینہ کی سی ہے اور لوگوں کی مثال زمین کی سی ہے اب زمین میں دو قسمیں ہیں ایک کھیت اور باغ کی زمین ہے کہ مینہ سے فیض اٹھا کر پھلتی پھولتی ہے دوسری شور زمین ہے کہ مینہ سے اس کو کچھ فیض نہیں اسی طرح بعضے لوگ اللہ کے رسول کی نصیحت سے فیض پاتے ہیں اور بعضے محروم ہیں یہ حدیث گویا اس آیت کی تفسیر ہے کیوں کہ جن لوگوں کی حالت پر اللہ تعالیٰ نے افسوس ظاہر کیا ہے ان لوگوں کا حال حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ وہ ہیں کہ باوجود اس کے کہ مینہ کی طرح اللہ کے رسول کی نصیحت کا فیض عام ہے لیکن وہ لوگ اس فیض عام سے سے محروم ہیں یہاں ایک یہ خیال گزرتا ہے کہ سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے پھر جس کو اس نے جیسا پیدا کیا ہے ویسا وہ ہے اللہ اور اللہ کے رسول کے افسوس کا کیا مطلب ہے اس کا جواب اوپر گزر چکا ہے کہ پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نیک وبدسب کی خصلت جان لی ہے پیدا ہونے سے پہلے جن لوگوں میں بری خصلت نظر آئی اسی خصلت پر وہ افسوس ہے اور مجبوری کا ایمان اللہ کی درگاہ میں مقبول نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اس کی خصلت پر چھوڑ دیا ہے ‘ اب آگے قریش کو تنبیہ فرمائی کہ رسولوں کی نافرمانی کے سبب سے کچھ یہ ایک ہی بستی نہیں اجڑی بلکہ ملک شام کے سفر میں ان کو اس طرح اجڑی ہوئی اور بستیاں دیکھنی چاہیں جو ایک دم میں طرح طرح کے عذابوں سے ایسے اجڑیں کہ ان میں سے کوئی بھی اپنے اجڑے ہوئے گھر بار مال متاع کی خبر گیری کو پھر دنیا میں نہ آیا پھر فرمایا ایسے لوگوں کی فقط یہی سزا نہیں ہے کہ ان پر دنیا کے طرح طرح کے عذاب آئے بلکہ عذاب آخرت کے فیصلہ کے لیے ان سب کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونا پڑے گا ترمذی مسند بزار اور طبرانی کے حوالہ 2 ؎ سے ابوبرزہ ؓ اور معاذ بن جبل ؓ کی صحیح روایتیں اوپر گزر چکی ہیں (2 ؎ الترغیب والترہیب ص 395‘ 396 ج 4 فصل فی ذکر الحساب وغیرہ۔ ) کہ چار باتوں کی جواب دہی کے لیے ہر شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو ضرور کھڑے رہنا پڑے گا۔ (1) تمام عمر کس کام میں گزاری (2) جوانی میں کیا کیا (3) روپیہ پسیہ کیوں کر کمایا اور کہا خرچ کیا (4) دین کی کوئی بات سنی تو اس پر کیا عمل کیا ‘ یہ روایتیں وان کل لماجیع لدینا محضرون کی گویا تفسیر ہیں کیوں کہ آیت کے اس ٹکڑے میں قیامت کے دن سب مخلوق کے اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونے کا جو ذکر ہے ان روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کے وہ حاضر ہونا کون سی جواب دہی کے لیے ہوگا۔
Ayahs 36:33–3633 تا 36۔ اوپر کی آیت انانحن نحی الوتی میں حشر کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی مثال بیان فرمائی کہ ہر سال حشر کا حال سمجھنے کے لیے وہ مردہ زمین کہ جس میں گھانس تک نہیں ہوتی منکریں حشر کے حق میں ایک نشانی ہے کہ جس وقت ہم نے اس پر مینہ برسایا تو وہ ملتی ابھرتی ہے اور ہر قسم کی چیزیں اگاتی ہے گویا بعد مرنے کے جی اٹھتی ہے اس واسطے فرمایا کہ زندہ کیا ہم نے اس کو اور نکالا ہم نے اس سے اناج جو کھاتے ہیں یہ بھی اور ان کے چوپائے بھی پھر فرمایا کہ بنائے ہم نے باغ کھجور اور انگور کے اور بہائے زمین میں چشمے اور ندیاں تاکہ کھائیں اس کے میووں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اناج کے پیدا کرنے کا احسان مخلوق پر رکھا اس کے بعد میووں کا اور پھلوں کا ذکر کیا۔ کیوں کہ انسان کو بہ نسبت میووں کے اناج کی ضرورت زیادہ پڑتی ہے اس لیے اناج کا پیدا کرنا ایک بڑی نعمت ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ مشکوۃ ص 481 باب النفح فی الصور) کہ دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر سے آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح قیامت تک کی سب مردہ مخلوقات کے پتلے اسی طرح تیار ہوجائیں گے جس طرح اب ہر سال کے مینہ کی تاثیر سے ہر طرح کا اناج اور میوہ پیدا ہوجاتا ہے قرآن شریف میں جگہ جگہ حشر گی حالت کے سمجھانے کے لیے حشر کے ذکر کے ساتھ اناج اور میووں کی پیدا وار کا جو ذکر فرمایا گیا ہے اس حدیث سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کس لیے کہ اب جو ہر سال مینہ کی تاثیر سے کام لیا جاتا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے بہت بڑا کام ہے کہ ایک اناج کے دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک میوہ کی گٹھلی سے ہزاروں میوے پیدا کئے جاتے ہیں حشر کے دن جو مینہ برسے گا اس کی تاثیر سے فقط اتنا ہی کام لیا جائے گا کہ ایک مردہ کی مٹی سے ایک پتلا تیار کردیا جائے گا پھر اب جس طرح ماں کے پیٹ میں پتلا تیار ہوجاتا ہے اور اس میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح حشر کے دن سب پتلوں میں روحیں پھونک دی جاویں گی۔ منکرین حشر کی یہ بڑی نادانی ہے کہ وہ باوجود سمجھانے کے کھیتی کی حالت سے حشر کی حالت کو نہیں سمجھتے ‘ جو فلسفی لوگ جسمانی حشر کے منکر ہیں انہوں نے بھی اس مثال کے سمجھنے میں غلطی کی ہے بعضے میوے ایسے قدرتی ہوتے ہیں کہ انسان کا کچھ دخل ان میں گٹھلی کے بونے یا پانی کے دینے کا نہیں ہوتا حضرت عبداللہ اللہ بن عباس ؓ نے ایسے ہی میووں کو وماعملتہ ایدیھم کی تفسیر قرار دیا ہے اس تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنے ہاتھ کے لگائے ہوئے اور پانی دئے ہوئے درختوں کے میوے کھاتے ہیں اور ایسے درختوں کے میوے بھی کھاتے ہیں جو ان کے ہاتھ کے لگائے ہوئے نہیں ہیں اور قدرتی ندیوں کے پانی سے ان درختوں کی پرورش ہوئی ہے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ قول تفسیر ابراہیم 2 ؎ بن المنذر میں ہے۔ (2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 263 ج 5) یہ ابراہیم ابن المنذر حاکم اور ابن ماجہ کے رتبہ کے قدیم مفسروں میں ہیں اور ابو حاتم رازی نے ان کو معتبر علماء میں شمار کیا ہے اس لیے یہی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے اسی خیال سے تینوں 1 ؎ ترجموں میں اسی تفسیر کے موافق ترجمہ کیا گیا ہے (1 ؎ شاہ ولی اللہ (رح) (فارسی شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر (اردو ‘ (ع۔ ح) آگے فرمایا جس نے انسان اور ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے وہ اللہ ان ناشکر مشرکوں کے شرک سے پاک اور دور ہے اور مما لایعلمون ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگل اور دریا میں بہت سے ایسے جانور ہیں جن کو لوگ نہیں جانتے۔
Ayah 36:3737۔ یہ ایک اور قدرت کی نشانی کا ذکر فرمایا کہ ایک نشانی ہماری قدرت کی ان کے واسطے رات ہے ادھیڑ لیتے ہیں ہم اس سے دن کو تو اس وقت وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں رات کا اندھیرا اور دن کا اجالا دونوں خدا کی قدرت کو ہر روز بتاتے ہیں ایک دوسرے کے پیچھے لگا رہتا ہے رات آتی ہے تو دن چلا جاتا ہے اور جب دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے رات کو انسان آرام پاتا ہے اور دن کو ہر طرح کام دھندہ کرتا ہے ‘ صحیح بخاری میں حذیفہ ؓ بن الہیمان سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوۃ ص 208 باب مایقول عند الصباح والماء رد المنام) جس میں آنحضرت ﷺ نے نیند کو موت اور سو کر اٹھنے کو دوبارہ جینا فرمایا ہے نیند میں آدمی کے ہوش و ہو اس جاتے رہتے ہیں اس لیے اللہ کے رسول نے نیند کو موت فرمایا اس آیت کو تفسیر میں اوپر کی حدیث کو یہ دخل ہے کہ رات کو سونا اور دن کو پھر جاگ اٹھنا حشر کا ایک نمونہ ہے اس مناسبت سے حشر کے ذکر بعد اللہ تعالیٰ نے رات دن کا ذکر فرمایا۔
Ayah 36:3838۔ حسن بصری (رح) اور سلف کے قول کے موافق سورج کہ تین سو ساٹھ مطلع اور چاند کی اٹھائیس منزلیں مقرر ہیں سورج کے مطلع پورے ہونے سے ایک سال اور چاند کی منزلیں پوری ہونے سے ایک مہینہ پورا ہوتا ہے اس آیت میں رات دن کے ذکر کی مناسبت سے سورج کے دورہ کا اور آگے کی آیت میں چاند کے دورہ کا ذکر ہے سورج کے دورہ کے علمائے مفسرین نے دو مطلب بیان کئے ہیں ایک تو یہ کہ ہر روز مشرق سے مغرب کی طرف جو سورج جاتا ہے تو کہاں جاتا ہے اس مطلب کی تفصیل اور تفسیر صحیح حدیثوں میں آئی ہے صحیح بخاری مسلم ترمذی نسائی مسند امام احمد 3 ؎ وغیرہ میں جو حدیثیں ہیں (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 571 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 263 ج 5) ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز حضرت ابوذر ؓ سے پوچھا کہ یہ سورج جو غروب ہوتا ہے تو تم کو معلوم ہے کہ یہ کہاں جاتا ہے انہوں نے کہا مجھ کو کچھ معلوم نہیں آپ نے فرمایا یہ عرش معلیٰ کے نیچے اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں سجدہ کرتا ہے ‘ اور معمول کے موافق مشرق سے نکلنے کی اس کو اجازت ملتی ہے جب قیامت آنے کو ہوگی تو مغرب کی طرف سے نکلنے کا اس کو حکم ہوجائے گا پھر کسی کا ایمان قبول نہ ہوگا یہ فرما کر پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اگرچہ سورج اور تمام مخلوقات ہر وقت عرش معلیٰ کے نیچے ہے کیوں کہ مستدرک حاکم اور بیہقی کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث میں جس حدیث کو حاکم نے صحیح قرار دیا 4 ؎ ہے یہ آچکا ہے (4 ؎ حوالہ کے سلاوہ دیکھئے تفسیر ثنائی پہلی جلد ص 98) کہ ساتوں آسمان بمقابلہ کرسی کے ایسے ہیں جس طرح بڑے جنگل میں ایک چھلا پڑا ہوا ہو اور جس قدر اس چھلے سے وہ جنگل بڑا ہے وہی حال عرش کا بمقابلہ کرسی کے ہے اب عرش معلیٰ کی بڑائی اس قدر ہونے کے سبب سے کسی وقت تمام مخلوقات میں کی کوئی شے عرش معلیٰ کے نیچے ہونے سے سرک تو نہیں سکتی لیکن خاص طور پر سورج کے سجدہ کرنے کے ذکر میں اس کے عرش کے نیچے ہونے کا ذکر حدیث میں آیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غروب کے قوت بھی سورج عرش معلیٰ کے نیچے ہی رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں سجدہ کرتا ہے دوسرا مطلب آفتاب کے دورہ کا یہ ہے کہ قیامت تک مشرق سے نکلنے اور مغرب میں غروب ہونے کا دورہ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے پیچھے لگا دیا ہے وہی اس کا دور ہے قیامت کے دن اس کی حرکت جاتی رہے گی اس مطلب کی تائید اس طرح کی صحیح حدیثوں سے نہیں ہوتی جس طرح پہلے مطلب کی تائید صحیح حدیثوں سے ہوتی ہے اس لیے آیت کی وہی تفسیر صحیح ہے جو اوپر بیان ہوئی غرض سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی شے کو ایک حال پر قیام نہیں اب سورج مشرق سے نکلتا ہے ایک دفعہ اس کو مغرب سے نکلنا پڑے گا اور اب بھی جاڑے کے موسم میں مشرق سے مغرب تک اس کو تھوڑا سا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس کے سبب سے جاڑے کے موسم کا دن چھوٹا ہوجاتا ہے اور گرمی کے موسم میں بہت فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس کے سبب سے گرمی کے موسم کا دن بڑا ہوجاتا ہے بعض روایتوں میں یہ جو ہے کہ سورج کے مغرب کی طرف سے نکلنے کے بعد دنیا ایک سوبیس برس تک قائم ہوگی اور جب لوگ سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا بھول جائیں گے تو ایمان اور توبہ پھر قبول ہونے لگ جاویں گے یہ بات صحیح حدیثوں کی مخالف ہے کیوں کہ صحیح حدیثوں میں آچکا ہے کہ سورج کے مغرب سے نکلتے ہی دابۃ الارض نکل آوے گا اور مسلمان اور کافر کو الگ الگ کر دیوے گا اور سورج کے مغرب سے نکلتے ہی اسلام اور توبہ پھر قیامت تک قبول نہ ہوں گے ‘ آخر کو فرمایا سورج کی چال کا یہ انداز ایسے زبردست صاحب علم کا ٹھہرایا ہوا ہے کہ اس میں کبھی فرق نہیں پڑسکتا (شاہ صاحب (رح) کے) ترجمہ میں ہندی کا جو لفظ سادھا ہے اس سے مطلب یہی اندازہ ہے۔
Ayahs 36:39–4039‘ 40۔ خطیب نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ کی ہے (1 ؎ مشکوۃ باب اعلامات میں یدی الساعۃ فصل اول) کہ اٹھائیس منزلیں ہیں جن کے اندر چاند ہر مہینے پر آتا ہے جب ان سب منزلوں کو چاند طے کر چکتا ہے تو پھر پرانی ٹہنی کی صورت میں اس طرح ہوجاتا ہے جس طرح اول مہینے میں تھا چاند کی اس چال سے مہینوں کا حساب سمجھا جاتا ہے اور پھر برسوں کا جس طرح کہ سورج سے رات اور دن کی پہچان ہوتی ہے۔ یہ خطیب بغدادی ابوبکر احمد بن علی ملک شام کے معتبر اور مشہور علماء میں ہیں ان کے وقت کے علماء ان کو دار قطنی ثانی کہا کرتے تھے ان کی وفات کے بعد اس وقت کے بعضے علماء نے خواب میں دیکھا کہ ان کی تصنیف کی بعض کتابیں آنحضرت ﷺ نے پڑ ھوا کر ان سے سنیں۔ پھر فرمایا کہ سورج کو نہیں لائق ہے کہ پکڑے چاند کو مطلب یہ ہے کہ چاند کی چال سے سورج کی چال کم ہے اس لیے سورج چاند کو پکڑ نہیں سکتا اور رات بھی دن سے آگے بڑھنے والی نہیں ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ دن تو آوے نہیں اور دوسری رات شروع ہوجاوے ان کے لیے یہی ایک حد اللہ نے ٹھہرا دی ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتے اور رات دن تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کی طلب میں مشغول ہے اور پیچھے لگا آتا ہے غرض کہ رات اور دن اور سورج اور چاند سب کے سب الگ گھیرے میں آسمان اور زمین کے بیچ میں دوڑتے ہوئے پھرتے ہیں معلوم ہوا کہ ستارے خود چلتے ہیں یہ بات نہیں ہے کہ وہ آسمان میں گڑے ہوئے ہیں اور فقط آسمان چلتا ہے جیسا کہ لفظ یسبحون سے جس کے معنے پھرنے کے ہیں سمجھا جاتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عکرمہ وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں کہ سب دور کرتے رہتے ہیں ایک گھیرے میں۔ صحیح مسلم میں نواس ؓ بن سمعان سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ مشکوۃ باب العلامات میں یدی الساعۃ فصل اول۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دجال زمین پر چالیس دن رہے گا جب میں ایک دن ایک برس کا ہوگا اور دوسرا ایک مہینہ کا اور تیسیرا ایک ہفتہ کا اور باقی کے دن معمولی ہوں گے یہ بات سن کر صحابہ ؓ نے پوچھا کہ ایک برس کے دن کی نمازیں اسی قدر کافی ہوں گی جو ایک دن میں کافی ہوسکتی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا نہیں حساب کر کے برس روز کی نماز اس دن پڑھنی چاہیں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ ان بڑے دن میں راتیں بھی شامل ہیں اس لیے رات دن کے اندازہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے برس دن کی نمازوں کا حکم اس ایک دن کے لیے فرمایا یہ نو اس بن سمعان شامی صحابہ میں ہیں اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورج اور چاند اور رات دن کے جس انتظام کا ان آیتوں میں ذکر ہے وہ انتظام دجال کے زمانہ میں تین دن کے لیے اللہ کے حکم سے پلٹ جاویگا کل فی فلک یسجون سے اہل ہیت کے اس قول کا ضعیف ہونا نکلتا ہے کہ سورج آسمان میں چڑھا ہوا ہے آسمان کے پھرنے سے وہ بھی پھرتا ہے خود نہیں پھرتا ‘ عرجون کھجور کی اس ٹہنی کو کہتے ہیں جس میں چھوٹی چھوٹی بھل دار شاخیں لگی ہوتی ہیں یہ ٹہنی پرانی ہو کر زرد اور خمدار ہوجاتا ہے اور چاند بھی آخر مہینہ پر ایسا ہی ہوجاتا ہے اس لیے آخر مہینہ کے چاند کو کھجور کی پرانی ٹہنی کے مشابہ فرمایا۔