Ayahs 36:41–4441 تا 44۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے مشحون کے معنے بوجھل کے بیان کئے ہیں اور قتادہ کا قول ہے کہ وہ کشتی نوح (علیہ السلام) کی ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے دریا کو بھی تمہارا تا بعدار بنا دیا کہ تم اس میں اسباب کی کشتیاں لیے پھرتے ہو اگر حضرت نوح (علیہ السلام) کی اول کشتی نہ ہوتی تو دنیا میں کشتی کا رواج نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے وہ کشتی بنوائی جس سے کشتی کا رواج بھی پڑا اور نبی آدم کی نسل بھی آگے کو چلی ورنہ ‘ طوفان میں سب ہلاک ہوجاتے پھر فرمایا بنا دی ہم نے ان کے لیے مثل کشتی کے اور سواریاں جن پر سوار ہوتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ من مثلہ سے مراداو نٹ ہیں وہ خشکی کی کشتیاں ہیں اس پر بوجھ بھی لادتے ہیں اور سوار بھی ہوتے ہیں مجاہد نے بھی ایسا ہی کہا ہے پھر فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو خشکی کشتیاں ہیں اس پر بوجھ بھی لادتے ہیں اور سوار بھی ہوتے ہیں مجاہد نے بھی ایسا ہی کہا ہے پھر فرمایا کہ اگر ہم چاہیں تو ڈبو دیں، اور کہ جو کشتیوں میں سوار ہیں پھر کوئی ان کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں جو ان کو اس مصیبت سے نجات دے مگر ہم اپنی رحمت سے دریا اور خشکی میں سفر کراتے ہیں۔ اور ایک وقت مقرر تک تم کو ہر ایک آفت سے بچاتے ہیں ‘ ذریۃ کے معنے نسل کے بھی آتے ہیں اور جن بڑے بوڑھوں سے نسل چلتی ہے ان کو بھی ذریۃ کہتے ہیں اسی واسطے مرادی ترجمہ میں پہلے معنے لیے گئے اور باقی کے دونوں 1 ؎ ترجموں میں دوسرے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے (1 ؎ یعنی شاہ ولی اللہ کا فارسی ترجمہ ” قوم بنی آدم را “ اور شاہ رفیع الدین (رح) کا اردو لفظی ترجمہ “ باپ ان کے کو “ (ع ‘ ح) کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ایک وقت مقروہ تک مہلت دیتا ہے جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ایسے کسی عذاب میں ان کو پکڑ لیتا ہے جس سے وہ پھر بچ نہیں سکتے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے نافرمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کے وعدہ کے موافق جنگل اور دریا کے سفروں میں وقت مقررہ تک ہر ایک آفت سے بچایا جب لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہ آئے تو بدر کے سفر میں ان پر ایسی آفت پہنچی کہ جس سے بچ کر پھر ان کو گھر آنا نصیب نہ ہوا چناچہ اس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے۔
Ayahs 36:45–4745 تا 47۔ مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ مشرکین مکہ کو جب پہلی قوموں کے حال ڈرنے کو کہا جاتا اور ان کی گمراہی کے آئندہ کے نتیجہ کو انہیں یاد دلایا جاتا تھا تو بجائے راہ راست پر آنے کے یہ لوگ قرآن کی ان نصیحتوں کو ٹال دیتے تھے اسی طرح جب ان لوگوں سے یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو خوشحال جو کیا ہے اس کے شکریہ میں غریب محتاج لوگوں کے ساتھ کچھ سلوک کیا کرو تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے تھے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ غریب و محتاج رکھنا چاہتا ہے ان کے ساتھ سلوک کرنے کا تقاضا نادانی سے خالی نہیں ‘ صحیح قول یہی ہے کہ ان انتم الافی ضلال مبین مشرکین مکہ کا قول ہے اور مطلب اس کا وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ غریب محتاجوں کے ساتھ سلوک کرنے کی نصیحت کو یہ لوگ نادانی ٹھہراتے تھے۔ ظاہر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیتوں میں واذاقیل لھم اتقوا کا کچھ جواب مشرکین کہ طرف سے نہیں ہے لیکن حقیقت میں واذاقیل لھم اتقوا اور ماتا تیھم من آیہ دونوں کے جواب کی جگہ الا کانو اعنھا معرضین کو رکھ کر یہ جتلایا گیا ہے کہ مشرکین کی حالت ہی گویا اس بات کا جواب ہے کہ جب ان کو کچھ نصیحت کی جاتی یا نصیحت کی کوئی نئی آیت اترتی تو وہ اس کو ٹال دیتے تھے اور کسی بات کا جواب دیتے تو الٹا دیتے تھے مثلا دنیا عالم اسباب میں خود تو تجارت کرتے تھے بیمار ہوتے تو علاج کرتے تھے اور مسلمانوں کو مسخر اپنے سے انہوں نے یہ جواب دیا کہ جن بھوکوں کی قسمت میں کھانا لکھا ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان کو کھانا کھلاے گا جس کو اللہ نے بھوکا رکھا ہم ان کو اپنا کھانا نہیں کھلا سکتے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی دوزخ میں جانے کے قابل کام کریں گے حدیث کے اس ٹکڑے کو آیتوں کی تفسیر میں دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کا ظہور ایسے لوگوں کی حالت سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جیسے لوگوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
Ayahs 36:48–5348 تا 52۔ جس طرح کوئی کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے اس طرح کافر لوگ قیامت کا حال سن کر مسخرا پن اور تعجب سے یہ بات مسلمانوں سے بات مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جو کچھ تم قیامت کا حال کہتے ہو کہ مر کر پھر جینا ہوگا اور وہاں آخرت میں ہم پر عذاب ہوگا اور تم بڑے عیش و آرام میں ہوجاؤگے اگر یہ تمہارا بیان سچ ہے تو آخر اس کا ظہور کب ہوگا اور قیامت کی ابتدا پہلے صور سے ہوگی جس کو نفخۃ الفزع کہتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے جواب میں فرمایا کہ جب یہ لوگ ایک منتظر آدمی کی طرح قیامت کے انتظار میں ہیں تو ان کو ایک سخت آواز کا انتظار کرنا چاہئے کہ لوگ اپنے دنیا کے کاروبار میں معمول کے موافق اسی طرح مصروف ہونگے جس طرح آج مصروف ہیں کہ یکایک ایک آواز سخت آن کر تمام دنیا فنا ہوجاوے گی صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ 1 ؎ کی اور صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ و بن عاص کی روایت سے جو تفسیر اس پہلے صور کی آئی ہے (1 ؎ مشکوۃ باب الملاحم فصل اول) اس کا حاصل یہ ہے کہ بازار میں کپڑے کے تھان دکاندار خریداروں کو کھول کھول دکھار ہے ہوں گے حوضوں اور نہروں کی مرمت کھیتیوں اور باغوں میں پانی پہنچانے کی غرض سے ہو رہی ہوگی اپنے جانوروں کا دودھ لوگ دو ہتے ہوں گے کچھ لوگ کھانا کھانے بیٹھے ہوں گے اتنے میں وہ کپڑے کا تھان کھلا کا کھلا رہ جائے گا ہاتھ کا نوالہ ہاتھ میں رہے گا اور منہ کا منہ میں دوھا ہوا دودھ اور مرمت کئے ہوے حوض اور نہریں یہ سب کچھ یوں یہی پڑا رہے گا کہ یکایک پہلے صور کی آواز سے سب مخلوق اس طرح فنا ہوجاوے گی کہ نہ کوئی اپنے مال کی کسی کو کچھ وصیت کرسکے گا نہ گھر کے باہر گیا ہوا شخص پھر کر گھر آسکے گا اس کے بعد چالیس برس تک تمام دنیا ویران پڑی رہے گی پھر دوسرا صور پھونکا جاوے گا جس کا ذکر آگے کی آیت میں ہے کہ اس دوسرے صور کی آواز سے سب جی اٹھیں گے اور اپنے رب کے روبرو حاضر ہونے کے لیے قبروں سے نکل کر چل نکلیں گے۔ اس دوسرے صور کا نام نفخۃ البعث ہے دونوں صور کے مابین کے چالیس برس کے زمانہ میں عذاب قبر موقوف ہوجاوے گا اور عذاب قبر والے لوگوں کو ایک غنودگی سی آجائے گی اسی واسطے جب یہ لوگ دوسرے صور کی آواز سے جاگ اٹھیں گے تو اپنی قبروں کو اپنی خوابگاہ قرار دے کر یہ کہویں گے کہ افسوس ہم کو ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھادیا نیدار لوگ جواب دیں گے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے جس وعدہ کو تم لوگ دنیا میں جھٹلایا کرتے تھے آج وہ اللہ کے وعدہ کا حشر کا دن ہے حساب و کتاب کے لیے سب لوگ قبروں سے اٹھائے گئے ہیں تفسیر عبدالرحمن بن زید میں ہے کہ پہلے کافر لوگ یہ کہیں گے کہ ہم کو ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھادیا پھر اپنی بات کا آپ ہی یہ جواب دیویں گے کہ شائد آج وہ دن ہے جس کو حشر کا دن اللہ کے رسول نے دنیا میں جتلایا تھا اور تفسیر حسن بصری (رح) میں ہے کہ کافروں کی بات کا یہ جواب فرشتے دیویں گے لیکن سورة روم میں خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وقال الذین اوتوا العلم والایمان لقد لبثتم فی کتاب اللہ قال یوم البعث فھذا یوم المعث جس کا حاصل مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا اور آگے بھی آتا ہے کہ منکرین حشر کی اس بات کا جواب دیندار لوگ دیویں گے اس واسطے یہی قول صحیح اور قرآن شریف کے مضمون کے موافق ہے کہ کافروں کی اس بات کا جواب دیندار لوگ دیویں گے پھر فرمایا کہ دوسرے صور کی فقط ایک ہی آواز ان لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونے کے لیے ایسا گہرا تقاضا ہے کہ اس آواز کے ساتھ ہی یہ سب اللہ تعالیٰ کے روبرو پکڑے ہوئے آجاویں گے۔
Ayahs 36:54–6454 تا 64۔ اوپر دوسرے صور کی آواز سن کر اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوجانے کا ذکر تھا اب اس کے نتیجے کا ذکر فرمایا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے اسی واسطے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کے ثواب میں کمی نہ ہوگی اور بدی کی سزا جرم کی حیثیت سے بڑھ کر نہ دی جاویگی اب آگے جنتیوں اور دوزخیوں کا ذکر فرمایا کیوں کہ دنیا کا پیدا ہونا اور حشر کا قائم ہونا سب اسی نتیجہ کے لیے تھا۔ جنتیوں کے حال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اور ان کی بیبیاں طرح طرح کی نعمتوں کے مشغلہ میں لگے ہوئے ہوں گے جنت کے مکانوں اور درختوں کے سایہ کی ٹھنڈک میں چھپر کھٹوں کے اندر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے اور طرح طرح کے میوے اور جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہ سب کچھ وہاں موجود ہوجاوے گا اللہ تعالیٰ کا سلام ان کو پہنچے گا جنتی جب جنت میں جانے لگیں گے تو دوزخیوں کو حکم ہوگا کہ تمہاری ٹکڑی الگ ہوجاوے اور پھر ان کو یوں قائل کیا جائے گا کہ کیا رسولوں کی زبانی تم کو شیطان کی فرمانبرداری سے منع نہیں کیا گیا تھا اس پر بھی ایک بڑی جماعت ناسمجھی سے شیطان کے بہکاوے میں آگئی تو ایسے لوگوں کا ٹھکانہ آج کے دن دوزخ ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جنتیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت میں جو نعمتیں پیدا کی ہیں وہ دنیا میں نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل پر ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک (رح) سے اور بخاری ترمذی اور مستدرک حاکم میں ابودرداء اور ابوذر ؓ سے جو روایتیں ؎ ہیں (؎ الترغیب والترہیب ص 264۔ 265 ج 4 )
آنحضرت ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا دوزخ کے عذاب کا جو حال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ میں پورا بیان کردوں تو لوگ ہنسنا چھوڑ کر ہیمشہ روتے رہو اور گھر بار چھوڑ کر جنگل کو نکل جاؤ ‘ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ اہل جنت کی نعمتوں اور اہل دوزخ کے عذابوں کی پوری تفسیر علمائے امت کی طاقت سے باہر ہے۔ سلام قولا من رب رحمیم کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول یہی ہے کہ اہل جنت سے اللہ تعالیٰ سلام علیکم فرمائے گا ابن ماجہ بیہقی وغیرہ میں جابر بن عبداللہ ؓ کی ایک روایت 1 ؎ بھی اس مضمون کی ہے جس سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے اگرچہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ (قاشی ضعیف ہے لیکن یہ حدیث چند طریقوں سے آئی ہے اس لیے بیہقی نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ یہ حدیث معتبر ہے۔
Ayah 36:6565۔ صحیح مسلم، ترمذی، نسائی، مسند امام احمد، مسند بزار، تفسیر ابن جریر، تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں جو چند روایتیں 2 ؎ اس آیت تفسیر میں حضرت انس ؓ وغیرہ کی روایت سے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ جس حالت کا ذکر اس آیت میں ہے وہ قیامت کے دن لوگوں کا حساب جس وقت ہوگا اس وقت کی حالت کا ذکر ہے جب نیک وبدسب طرح کے لوگ اللہ تعالیٰ کے روبر وکھڑے ہوں گے تو بعضے نیک گناہ گار لوگ ایسے ہوں گے کہ اپنے نامہ اعمال کو دیکھ کر جس قدر گناہ اس میں لکھے ہوں گے ان کا اقرار کریں گے ان کے اقرار پر اللہ تعالیٰ کو رحم آئے گا اس لیے اللہ تعالیٰ ان کے سب گناہ بخش دے گا اور بعضے کافر اور منافق ایسے ہوں گے کہ اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور کہیں گے کہ یا اللہ تیرے فرشتوں نے ہمارے نامہ اعمال میں وہ برے کام لکھ دئے ہیں جو ہم نے ہرگز دنیا میں نہیں کئے اور بعضے یہ بھی کہیں گے کہ یا اللہ کیا آج کے دن تجھ کو انصاف درکار نہیں ہے اللہ تعالیٰ فرمادے گا کہ ہاں مجھ کو ضرور آج کے دن انصاف درکار ہے اس پر وہ لوگ کہویں گے کہ آج کے دن ہم ایسا گواہ چاہتے ہیں کہ جس پر ہمارا بھروسہ ہو اس پر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے منہ پر اپنی قدرت سے خاموشی کی مہر لگا دیوے گا جس سے ان کی زبان بالکل بند ہوجاوے گی اور ان کے ہاتھ پیروں کو گویائی دیوے گا ان کے ہاتھ پیر ان کے سب گناہوں کا حال اس طرح بیان کر دیویں گے کہ جب ہاتھ گناہوں کا حال بیان کرے گا تو پیر اس کے بیان کے سچے ہونے کی گواہی دیوے گا اور جب پیر گناہوں کا حال بیان کرے گا تو ہاتھ گواہی دیوے گا اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے آیت میں باتیں کرنا اور گواہی دینا دو لفظ فرمائے ہیں جب یہ ہوچکے گا تو وہ کافر اور منافق لوگ اپنے ہاتھ پیروں پر خفا ہوں گے کہ تم نے ہمارے مخالف گواہی کیوں دی ہاتھ پیر جواب دیں گے کہ ہم نے جو کچھ کیا اللہ کے حکم سے کیا۔ تفسیر کرخی میں ہے کہ جس اللہ نے گوشت کے ایک ٹکڑے زبان کا گوشت اور اور سب گوشت یکساں ہے۔ تفسیر مقاتل میں ہے کہ جب یہ کافر اور منافق لوگ سچی بات کے کہتے کہنے سے زبان کو بند کریں گے تو اللہ تعالیٰ خود ان کے ہاتھ پیروں سے ان کو قائل کراوے گا مسند امام احمد مستدرک حاکم نسائی بیہقی تفسیر عبدالرزاق اور تفسیر ابن ابی حاتم میں معاویہ ؓ بن حیدہ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 363 ج) کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا شام کی سر زمین پر مخلوقات کا حشر ہوگا سوار پیدل اور منہ کے بل تین طرح کے لوگ قبروں سے میدان حشر تک جائیں گے اور اپنے برے اعمالوں سے لوگ منکر ہوں گے تو سب سے پہلے ہتھیلی اور ران کو قوت گویائی دی جائے گی اور زبان بند کردی جاوے گی حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے 2 ؎ (2 ؎ تفسیر الدرالمنثور ایضا) اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے فقط ہاتھ اور پاؤں کو گویائی دیے جانے کا ذکر فرمایا ہے اور حمٓ السجدہ میں آگے ذکر آئے گا وہاں کان آنکھ اور سارے جسم کا ذکر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن اعضا سے آدمی دنیا میں برا کام کرے گا وہ سب قیامت کے دن گواہی دیں گے امام فخر الدین رازی نے حم السجدہ کی تفسیر میں کان آنکھ اور جلد کا ذکر کر کے یہ بات ثابت کی ہے کہ باقی کے سب اعضاء اس ذکر میں داخل ہیں صحیح مسلم اور نسائی کی۔ روایت 3 ؎ میں یہ بھی ہے (3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 267 ج 5) کہ ایک روز آنحضرت ﷺ کو ہنسی آئی صحابہ ؓ نے آپ کی ہنسی کا سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ جس طرح خدا تعالیٰ سے جھگڑیں گے وہ ذکر یاد کر کے مجھ کو ہنسی آئی ہے پھر آپ نے لوگوں کے گناہوں سے انکار کرنے اور منہ پر مہر لگنے اور ہاتھ پاؤں کی گواہی دینے کا ذکر فرمایا قتادہ کا قول ہے کہ منہ پر سکوت کی مہر لگ جانے سے پہلے یہ لوگ طرح طرح کی حجتیں کریں گے جب ان کے منہ پر سکوت کی مہر لگ جاوے گی تو پھر زبان کے کھل جانے کے بعد بھی ان کو کوئی موقع ہاتھ پیروں کی گواہی کے جھٹلانے کا باقی نہ رہے گا قرآن شریف اور صحیح حدیثوں میں یہ جو ہے کہ دوزخی دوزخ میں طرح طرح سے فریاد کریں گے اس سے قتادہ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیوں کہ اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ دوزخ میں جانے سے پہلے ان لوگوں کی زبان کھل جاوے گی۔
Ayahs 36:66–6866 تا 68۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن ہاتھ پیر گواہی دیویں گے اس کے سمجھانے کے لیے فرمایا کہ دنیا میں جب کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ جس کو چاہے اندھا کرے اور جس کی صورت کو بدلنا چاہے تو بدل دیوے مثلا جس طرح آدمی کا بدن بگڑ کر یا اندھا ہو کر اس کی صورت بگڑ جاتی ہے تو وہ اس پر بھی قادر ہے کہ قیامت کے دن زبان کو گونگا کر دے اور زبان کا کام ہاتھ پیروں سے لیوے پھر فرمایا کہ ان کے اعضاء جس قدر اور جس طرح ہر وقت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں کہ اس کا حال یہ لوگ اپنے بچہ پننے، جوانی اور بوڑھاپے کی حالت سے نہیں سمجھ سکے کہ جوانی سے پہلے ان کی کمزوری کا کیا حال تھا جوانی میں وہ کمزوری کیسی قوت سے بدل گئی اور بوڑھاپا آتے ہی پھر وہی کمزوری کیوں کر پلٹ کر آگئی۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے (1 ؎ الرغیب والترہیب ص 251 ج 4۔ ) جس میں حضرت ﷺ نے فرمایا جوانی ایسی چیز ہے کہ بوڑھاپے سے پہلے آدمی کو اس کی قدر کرنی چاہئے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ بوڑھاپے میں آدمی کے اعضاء ایسے کمزور ہوجاتے ہیں کہ اس سے کچھ ہو نہیں سکتا اس لیے بوڑھاپے کے آنے سے پہلے آدمی کو چاہئے کہ جوانی کی قدر کر لیوے حاصل کلام یہ ہے کہ آیتوں میں بڑھاپے کے سبب سے انسان کے اعضاء کی کمزوری کا جو ذکر ہے جس کمزوری سے نیک عملوں میں کوتاہی ہوجاتی ہے اس کوتاہی کا علاج سکھانے میں یہ حدیث گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے۔
Ayahs 36:69–7669 تا 76۔ اوپر ذکر تھا کہ قیامت کے دن جو گناہ گار اپنے گناہوں سے انکار کریں گے ان کی زبان بند کی جا کر ان کے ہاتھ پاؤں سے گناہوں کا اقرار کرایا جاوے گا اسی مناسبت سے فرمایا کہ جو لوگ سرکشی سے یہ زبان درازی کرتے ہیں کہ قرآن کو شعر اور اللہ کے رسول کو شاعر کہتے ہیں جب ان کی زبان بند کی جاکر ان کے ہاتھ پیروں سے ان کی اس زبان درازی کا اقرار کرایا جاوے گا تو اس وقت ان کو اس جھوٹ کی حقیقت کھل جائے گی کہ اللہ کے رسول کو یہ جھوٹے لوگ شاعر کہتے ہیں حالانکہ اللہ کے رسول ان میں چھوٹے سے بڑے ہوئے ان لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو شعر کہنے کی عادت سے ہمیشہ بچایا کیوں کہ اللہ کے رسولوں کو شاعری زیبا نہیں ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے تو جو چیز رسول کو سکھائی ہے وہ قرآن ہے جس میں عقبیٰ کی بہبودی کی صاف نصیحت ہے تاکہ جو لوگ علم الٰہی میں دوزخ کے قابل نہیں ٹھہرے اور ازلی کفر کے زنگ سے ان کا دل مردہ نہیں ہوا ان کو عذاب آخرت سے ڈرایا جائے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جانے کے قابل۔ اس حدیث سے من کان حیا و یحق القول علی الکافرین کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جنت میں جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں وہ اس حساب سے زندہ دل ہیں کہ ان کے دل میں قرآن ہے اور وہ راہ راست پر آجاویں گے ہاں علم الٰہی کے موافق جن کا انجام دوزخ ٹھہر چکا ہے وہ مرتے دم تک جس حال پر ہیں اسی حال پر رہیں گے ‘ اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی بےگنتی نعمتوں میں سے مثال کے طور پر سواری کے گوشت، کھانے اور دودھ پینے اور بالوں اور کھالوں کے کپڑے بنانے کے، چو پائے کے پیدا کرنے کی نعمت کا ذکر فرما کر یہ فرمایا کہ ان لوگوں پر اللہ کے احسانات کا تو یہ حال اور ان کی ناشکری کا یہ حال کہ اللہ کی نعمتوں کو کام میں لا کر پتھر کی مورتوں کو اپنا معبود ٹھہراتے ہیں اس غلط امید کے بھروسہ پر ان پتھر کی مورتوں کو اپنی فوج بنا رکھا ہے کہ جس طرح فوج والے شخص کو فوج سے مدد پہنچتی ہے اسی طرح جن کی یہ مورتیں ہیں وہ مدد کے وقت ان کی کچھ مدد کریں گے حالانکہ خلاف مرضی الٰہی کے اللہ کے کار خانوں میں کسی کو کسی طرح کا مدد کا کچھ اختیار نہیں چناچہ دنیا میں تو مکہ کے قحط کے وقت ان لوگوں نے اس بات کو خوب آزمالیا کہ قحط کو رفع کردینے میں ان کے بتوں نے ان کی کچھ مدد نہیں کی آخرت میں ان کے جھوٹے معبود جس طرح ان لوگوں سے اپنی بیزاری ظاہر کریں گے وہ حال بھی ان کو قیامت کے دن معلوم ہوجائے گا اوپر کی مثال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین فرمائی کہ اے رسول اللہ کے جب اللہ کے ساتھ ان لوگوں کا یہ حال ہے جو اس مثال میں بیان کیا گیا تو تم کو یہ لوگ شاعر کہیں تو اس کا تم کچھ خیال نہ کرو ان کی زبانی بدگوئی ان کے ہاتھ پیروں کے برے کام ان کے دلوں کے برے خیال اللہ کو سب معلوم ہیں وقت مقررہ پر اس سب کا بدلہ ان کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا ‘ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے قوت اس وعدہ کا جو ظہور ہو صحیح بخری ومسلم کی انس بن مالک ؓ کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ اللہ کے رسول کے بڑے بڑے مخالف اس لڑائی میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کو اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پالیا۔
Ayahs 36:77–7977 تا 79۔ مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت 1 ؎ سے جس روایت کو حاکم نے صحیح قرار دیا ہے 2 ؎ جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن مثیر 581 ج 3) (2 ؎ الدر المنثور ص 269 ج 5) ۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص مشرک عاص بن وائل ایک روز ایک بوسیدہ ہڈی کو لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور اس ہڈی کو مل کر اس کی خاک ہوا میں اڑانے اور کہنے لگا اسی کو خدا پھر پیدا کرے گا آپ نے فرمایا ہاں یہی حالت تیری ہوجانے کے بعد اللہ تجھ کو پھر پیدا کرے گا اور پھر تجھ کو دوزخ میں دھکیل دے گا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی دوسری روایت تفسیر ابن ابی حاتم میں اور تفسیر سدی میں مجاہد اور عکرمہ وغیرہ سے جو ہے ‘ اس میں بجائے عاص بن وائل کے ابی بن خلف کا نام ہے لیکن حاکم نے پہلی روایت کی صحت بیان کی ہے اس لیے وہی روایت قوی معلوم ہوتی ہے اور تفسیر ابن جریر میں عبداللہ بن ابی کا نام جو لیا ہے اس پر حافظ عماد الدین ابن کثیر نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس مکی سورت میں عبداللہ بن ابی مدینہ کے منافق کا ذکر کیوں کر ہوسکتا ہے اس اعتراض کے بعد حافظ ابن کثیر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ خواہ کوئی بھی مشرک آنحضرت ﷺ کے پاس آیا ہو لیکن آیت کل حشر کے منکروں کے حق میں عام ہے۔ حشر کے منکر لوگوں کی بڑی غلطی سے ہے کہ وہ لوگ اللہ کی قدرت کو انسانی قدرت اور طاقت پر قیاس کرتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حشر کی باتیں باتیں جس طرح قدرت انسانی سے باہر ہیں اسی طرح قدرت الٰہی سے بھی وہ باتیں باہر ہوں گی اس غلط قیاس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ پانی جیسی پتلی اور بےجان چیز منی سے اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کردیا کیا یہ آدمی کی قدرت سے باہر نہیں ہے پھر جب اللہ تعالیٰ نے منی سے آدمی کو پیدا کردیا تو یہ لوگ قدرت انسانی پر اللہ کی قدرت کا غلط قیاس کیوں کرتے ہیں کیا اللہ کی قدرت یاد کرنے کے لیے اپنی پیدائش ان لوگوں کو یاد نہیں اگرچہ لاکھ ہا کروڑ ہا چیزیں اللہ کی قدرت سے پیدا ہو کر ایسے دنیا میں موجود ہیں جو قدرت انسانی سے بالکل باہر ہیں لیکن انسان ان سب کو چھوڑ کر اگر فقط اپنی ہی پیدائش پر غور کرے تو اس کو یقین ہوجاوے گا کہ اللہ کی قدرت کا قیاس انسانی قدرت پر کرنا بالکل غلط ہے ساری آیت کی تفسیر اور اسی غلط قیاس کی غلطی ثابت کرنے کی صراحت میں ناقابل اعتراض سند سے ابن ماجہ اور مسند امام احمد میں جو روایتیں 3 ؎ ہیں (3 ؎ تفسیر ابن کثیر ایضا) ان روایتوں کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک رواز اپنی ہتھیلی پر تھوکا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے کہ اس طرح کی پتلی چیز سے آدمی پیدا کیا گیا ہے اور باوجود اپنی پیدائش کے آنکھوں کے سامنے ہونے کے پھر آدمی خاک سے دوسری دفعہ پیدا کرنے کو اللہ کی قدرت سے باہر گنتا ہے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی بڑی روایت ہے اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان نے مجھ کو جھٹلایا اور اس کو یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ مجھ کو جھٹلاتا ہے اور اس کا لانا یہ ہے کہ ایک دفعہ میں نے انسان کو پیدا کردیا پھر وہ دوسری دفعہ پیدا کرنے سے انکار کرتا ہے اور مجھ کو جھٹلاتا ہے یہ نہیں جانتا کہ جیسا پہلی دفعہ اس کا پیدا کرنا ہے ویسا ہی دوسری دفعہ کا ہے جس طرح عاص بن وائل اور اس کے ساتھی مشرکین مکہ نے جسمانی حشر کو خلاف عقل کہا ہے یہی خیال یونانی فلسفی لوگوں کا ہے اگرچہ فلسفہ یونانی کی کتابیں خلفائے عباسیہ کی فرمایش سے عربی زبان میں ترجمہ کی گئی ہیں اس سے پہلے کتابی طور پر عرب کے لوگ علم فلسفہ سے نا آشنا تھے لیکن مشرکین مکہ پارسیوں سے ملتے جلتے رہتے تھے اسی میل جول میں انہوں نے پارسیول سے جسمانی حشر کا انکار سکھا ہے سورة الا نفال میں نضر بن حارث کا قصہ گزر چکا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ اور پارسیوں کا میل جول تھا اور یونانیوں کی طرح پارسیوں میں بھی علم فلسفہ کا بڑا زور تھا چناچہ بعض تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ جب سکندر رومی نے پارسیوں کے بادشاہ دارا پر غلبہ پایا تو اس وقت سکندر دارا کے کتب خانہ میں سے علم فلسفہ کی بہت سی کتابیں یونان لایا ‘ یہ سکندر وہ ذوالقرنین سکندر نہیں ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے کیوں کہ سکندر ذوالقرنین کا زمانہ اور ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ ایک تھا۔ یہ دوسرا سکندر رومی عیسیٰ (علیہ السلام) سے تین سو برس کے قریب پہلے تھا۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب یونانی لوگ بت پرستی چھوڑ کر عیسائی ہوگئے پھر رفتہ رفتہ عیسائیوں میں بھی علم فلسفہ آگیا۔ اس دوسرے سکندر کا وزیر ارسطالیس تھا ارسطالیس کے علم فلسفہ کی کتابیں یونان سے منگوائیں اور چند شخصوں سے ان کا ترجمہ زبان عربی میں کرایا لیکن ان ترجموں میں اختلاف تھا اسی واسطے 389 ھ میں خر اس ان کے امیر منصور بن نوح سامانی نے ابو نصر فارابی سے فرمایش کر کے ان ترجموں کو درست کرایا اسی سبب سے فارابی کو معلم ثانی کہتے ہیں۔ فارابی کی تالیفات مسودہ کی حالت میں رہیں پھیلی نہیں اس کے بعد محمود غزنوی کے بیٹے امبر مسعود بن محمود کی فرمائش سے 422 ھ میں ایمر مسعود کے وزیر شیخ ابوعلی سینا نے فارابی کے مسودہ سے مدد لے کر شفا ‘ اشارات ‘ عیون الحکمۃ وغیرہ کتابیں تالیف کیں جن کی باتیں اب تک پڑھائی جاتی ہیں۔ شیخ نے اپنی کتاب اشارات کے آخر میں لکھ دیا ہے کہ یہ فلسفہ کی کتابیں اسلامی نہیں ہیں بلکہ یونانی کتابوں کا ترجمہ ہے یہ تو ظاہر ہے کہ علم فلسفہ کا معلم اول ارسطو بت پرست تھا اسی کی تالیف کی بنا پر فارابی اور شیخ کی تالیفات ہیں اس واسطے جس طرح اوپر گزرا شیخ نے اپنی کتاب اشارات کے آخر میں لکھ دیا ہے کہ فلسفہ کی کتابیں اسلامی نہیں ہیں بلکہ یونانی کتابوں کا ترجمہ ہے نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ کے معتقدوں میں سے جو لوگ شریعت کے مسائل کو کلام شیخ کا تابع کرنا چاہتے ہیں وہ گویا تشرع کی باتوں کو بت پر ستوں کی بانوں کے تابع کرتے ہیں۔ فلسفہ کے معنے عقلی حکمت کی محبت پیدا کرنے والی باتیں ہیں عقلی حکمت میں منطق طبعیات ‘ ہندسہ ‘ ہیت چند علم ہیں جن کی تفصیلی کے بیان کی ضرورت نہیں لیکن اس عقلی حکمت میں ایک باب الٰہیات کا ہے جس میں یہ فلسفی لوگ اللہ کے صفات ‘ حشر ‘ جنت دوزخ وغیرہ ایسی شرعی باتوں میں عقلی بحث کرتے ہیں حالت کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں کی ہیں جو بذریعہ وحی کے انبیاء کو بتائی گئی ہیں محض عقل سے صحیح طور پر ان کو کوئی نہیں جان سکتا اس واسطے علمائے اسلام ن الہیات میں ارسطو کی بہت سی غلطیاں ثابت کی ہیں۔ اگرچہ علم فلفسہ کی کچھ کتابیں خالدبن یزید بن معاویہ کے زمانہ میں بھی یونان سے آئی ہیں جن کا ترجمہ عبداللہ بن مقفع وغیرہ نے عربی میں کیا ہے لیکن خالد بن یزید کا شمار خلفائے بنی امیہ میں نہیں ہے اس لیے مشہور یہی بات ہے کہ خلفائے عباسیہ میں سے مامون رشید کے زمانہ میں علم فلسفہ کی کتابوں کا ترجمہ عربی میں کیا گیا حاصل کلام یہ ہے کہ حافظ ابن کثیر کے قول کے موافق دہریہ مشرکین مکہ پارسی یونانی ان سب جسمانی حشر کے منکروں کے حق میں آیت عام ہے اور حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ ایک بوند پانی سے جس صاحب قدرت نے ان جسمانی حشر کے منکروں کو پیدا کردیا جس کا یہ لوگ کسی طرح انکار نہیں کرسکتے وہی صاحب قدرت بوسیدہ یڈیوں کی خاک سے آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی طرح ان کے پتلے بناوے گا اور جس طرح ماں کے پیٹ میں نطفہ کے ہر ایک پتلے میں روح پھونکی جاتی ہے اسی طرح بوسیدہ ہڈیوں کے ہر ایک پتلے میں روح پھونک دی جاوے گی اور اس کے بعد جب انکی تمام عمر کی نیکیوں بدیوں کا حساب ہوگا تو اس وقت ان کا جسمانی حشر کا یہ انکار ان کو بہت آفت میں ڈالے گا۔ ان لوگوں کو اپنی عقل پر بڑا بھروسہ ہے ان عقل کے بندوں کو اتنی بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب پہلی پیدائش کے دریافت میں عقل کے پر چلتے ہیں تو دوسری پیدائش کا حال معلوم کرنے میں عقل کی بلند پروازی کیا چل سکتی ہے۔ عاص بن وائل نے یہ جو کہا تھا من یحییٰ العظام کو فرمایا وضرب لنامثلا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کم عقل شخص اللہ کی قدرت کے آگے انسان کی قدرت کی مثال بیان کرتا ہے اور گویا یہ کہتا ہے کہ اس بوسیدہ ہڈی کو جب کوئی انسان زندگی کی حالت پر نہیں لاسکتا تو یہ کلام کیوں کر سچا ہوسکتا ہے کہ یہ بوسیدہ ہڈی پھر دوبارہ زندگی کی حالت میں آوے گی۔ اس عقلی حجت کا اللہ تعالیٰ نے یہ جواب کی جو قدرت اس کم عقل نے پہلی پیدایش میں آنکھوں سے دیکھ لی وہی قدرت الٰہی اس اس کو مرنے کے بعد دوسری پیدائش میں آنکھوں سے دیکھنی ہوگی۔ ترمٓذی ابوداؤد اور صحیح ابن حبان کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث صحیح گزر چکی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی کی اسی کی تاثیر سے بنی آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا کوئی نیک مزاج کوئی بدمزاج صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید خدری ؓ کی روایتیں بھی گزر چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کے خوف سے ایک شخص نے یہ وصیت کی تھی کہ اس کے مرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا کر آدھی مٹی ہوا میں اڑادی جاوے اور آدھی دریا میں بہا دی جاوے اس شخص کے مرنے کے بعد اس کی وصیت کے موافق عمل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے جنگل اور دریا کو اس کی مٹی کو حاضر کرنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق وہ مٹی حاضر ہوگئی اور حکم الٰہی کے موافق اس مٹی کا پتلا بنا اور اس پتلے میں روح پھونکی گئی اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس شخص سے پوچھا کہ تو نے ایسی وصیت کیوں کی تھی اس شخص نے جواب دیا اللہ تجھ کو خوب معلوم ہے کہ میں نے یہ کام تیرے خوف سے کیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مغفرت فرمائی ‘ ان حدیثوں کو و ھو بکل خلق علیم کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق تمام زمین کی مٹی سے پتلا بنایا کہ اس وقت اسی طرح کے پتلے کی ضرورت تھی اور حشر کی ضرورت کہ موافق ہر ایک مردہ کی مٹی کا پتلا بنے گا اور اس وصیت والے شخص کی میں کی طرح جنگل میں دریا میں غرض ہر ایک مردہ کی مٹی جہاں ہوں گی وہ ضرورت کے وقت حکم الٰہی سے فورا حاضر ہوجاوے گی۔