Ayahs 28:36–3736۔ 37 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس معجزات لے کر گئے تو انہوں نے سرکشی کی راہ سے ان معجزات کو یہ کہا کہ یہ جادو جوڑا ہوا ہے اور ہم نے اپنے باپ دادا سے کبھی یہ نہیں سنا کہ فرعون کے سوا اور کوئی خدا ہے اسی کی عبادت چاہیے ہم نے تو یہی بات ہیمشہ دیکھی کہ لوگ فرعون کو خدا جانتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرا پروردگار ایسے شخص کی عقبے کی بہتری کو خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا یہ یاد رہے کہ مشرک لوگ جو بڑے ظالم ہیں کبھی فلاح نہ پاویں گے میرے تمہارے درمیان میں پروردگار جلد فیصلہ کرے گا۔ یہ اوپر ایک جگہ گزچکا ہے کہ فرعون کے زمانہ میں جادو کا بڑا زور تھا اس لیے فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کو جادو ٹھہرایا ‘ سورة الشعرا میں گذر چکا ہے کہ فرعون اپنے کو خدا کہلواتا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ فرعون کے سوا کوئی دوسرا خدا تم قرار دوگے تو تم کو قید کردیا جائے گا اسی طرح آگے آتا ہے کہ فرعون نے اپنے دربار والوں سے کہا ما علمت لکم من اٰلہ غیری جس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون اپنے آپ کو خدا جانتا تھا اور اپنے دربار والوں سے اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا اسی واسطے ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی وحدانیت کی نصیحت کو سن کر اسے ایک اچنبھے کی بات قرار دیا۔ فرعون اتنی بات میں تو دہر یہ تھا کہ دہر یہ فرقہ کی طرح وہ خدا کی ہستی کا قائل نہیں تھا لیکن اس میں یہ بات دہر یہ فرقہ سے بڑھ کر تھی کہ وہ اپنے آپ کو خدا کہتا تھا۔ فرعون اور فرعونیوں کی گمراہی کی باتوں کا جو جو اب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا اس کا حاصل وہی ہے جو سورة نمل میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کے موافق ان لوگوں کی دلی حالت کو ظاہر کر کے ان کی گمراہی کی باتوں کا جواب دیا ہے کہ جادو گروں کے ہار جانے اور قحط وغیرہ آفتوں کے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ٹل جانے کے سبب سے ان لوگوں کے دلوں میں تو یہ بات جم گئی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی خلاف عادت باتیں نہ جادو ہیں نہ فرعون کو خدا کو خدائی میں دخل ہے لیکن اپنی ناانصافی اور سرکشی کے سبب سے یہ لوگ ایسی بتایں کرتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی مختصر طور پر یہی جواب دیا کہ دل میں جم جانے والی اور ناانصافی کی باتوں کا اللہ تعالیٰ کو خوب خیال معلوم ہے مگر یہ یاد رکھو کہ عادت الٰہی کے موافق بےانصاف لوگ کبھی بھلائی کو نہیں پہنچتے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے ہونے سے پہلے جو لوگ علم الٰہی میں گمراہ اور دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پاچکے ہیں وہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام کرتے ہیں اور وہی کام ان کو اچھے نظر آتے ہیں۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے متواتر معجزے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی ہستی اس کی قدرت اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیغمبری ان سب باتوں کا یقین تو فرعون اور ان کی ساتھیوں کے دلوں میں پیدا ہوگیا تھا لیکن یہ لوگ علم الٰہی میں گمراہ اور دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پاچکے تھے اس لیے اپنی گمراہی کی باتوں سے باز نہ آئے آخر اللہ کہ رسول کی پیشین گوئی کے موافق دونوں جہان میں بھلائی سے محروم رہے دینا میں نہایت بےکسی سے ڈوب کر ہلاک ہوئے اور عقبیٰ کا عذاب جدا بھگتنا پڑا۔
Ayahs 28:38–4038 تا 40۔ جن مفسروں نے اپنی تفسیریں عقلی طور پر لکھی ہیں انہوں نے ان آیتوں کی تفسیر میں طرح طرح کی باتیں لکھی ہیں زمخشری نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس قول سے فرعون کا مطلب یہ تھا کہ وہ خدا کا منکر تھا قاضی بیضاوی نے لکھا ہے کہ نہیں فرعون کا مطلب یہ تھا کہ کسی دلیل سے خدا کا موجود ہونا اب تک اس کو معلوم نہیں ہو تھا اسی واسطے خدا کے موجود ہونے کا علم حاصل کرنے کے لیے اس نے آسمان تک جانے کے لیے وہ اونچی مینار بنائی تھی اگو وہ خدا کا منکر ہوتا تو پھر مینار کیوں بنواتا اور اس طرح کی عقلی بحثیں اور تفسیروں میں بھی ہیں لیکن قرآن شریف سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون دہر یہ تھا۔ اور خدا کا منکر تھا اور اس میں یہ بات فرقہ دہر یہ سے بھی بڑھ کر تھی کہ وہ گمراہی کے سبب سے اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب خدا تعالیٰ کا ذکر کیا تو اس نے صاف کہ دیا کہ فرعون کے سوا کوئی دوسرا خدا تم قرار دوگے تو تم کو قید کردیا جاوے گا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملعون دہر یہ اس قدر خدا کا منکر تھا کہ خدا کے نام لینے کو بھی قید کے قابل جرم گنتا تھا اس لیے اس نے اپنی تمام قوم کو جمع کر کے ڈھنڈورہ پٹوا دیا تھا کہ فرعون ہی نعوذباللہ من ذالک ان سب کا خدا ہے چناچہ اس ڈھنڈورے کا ذکر سورة والنا زعات میں آوے گا۔ ناقابل اعتراض سند سے تفسیر ابن مردو یہ میں حضرت عبداللہ بن ؓ عباس سے روایت 1 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا فرعون نے یہ دو باتیں ہوتی تھیں ایک تو یہ کہ سوا اپنے اس کو کوئی اور خدا معلوم نہیں ہوتا دوسری یہ کہ اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا وہی ان کا خدا ہے یہ دوسری بات اس نے پہلی بات کے چالیس برس کے بعد کہی اس دوسری بات کے کہتے ہی خدا کے عذاب میں وہ گرفتار ہوگیا۔ معتبر سند سے تفسیر ابن حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی دوسری روایت 1 ؎ ہے جب کا حاصل یہ ہے کہ پہلی بات جب فرعون نے کہی تو جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ یا اللہ یہ شخص اب بہت گمراہ ہوگیا ہے اس کی ہلاکت کا حکم ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابھی اس کی ہلاکت کا وقت نہیں آیا ہے جب اس نے دوسری بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت حضرت جبرئیل سے فرمایا اب اس کا وقت قریب آگیا ہے غرض جس منار کا ذکر ان آیتوں مکیں ہے۔ وہ منار اس دہریہ نے اپنی قوم کو یہ دھوکہ دینے کے لیے بنوائی کہ وہ حضرت موسیٰ کو جھوٹا جانتا ہے اس بےمنار بنواتے وقت اس نے حضرت موسیٰ کے حق میں یہ بات کہی تھی وانی لا ظنہ من الکاذ بین جس سے صاف معلوم ہوتا کہ منار بنواتے وقت خدا کی ہستی کا اس کے دل میں خیال اور گمان نہیں تھا اور وہ ملعون موسیٰ کو فقط اس بات میں نہیں جھٹلاتا تھا کہ حضرت موسیٰ خدا کے رسول ہیں بلکہ وہ اس بات میں ان کو جھٹلاتا تھا کہ سوا اس کے اور کوئی خدا نہیں ہے پھر یہ کس خدا کا رسول اپنے آپ کو بتلاتے ہیں سورة یونس میں جہاں یہ ذکر ہے کہ غرق ہوتے وقت فرعون نے یہ کہا کہ میں بنی اسرائیل کے خدا پر ایمان لایا وہاں اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ فرعون نے ایسے وقت خدا کے موجود ہونے اور اس کے معبود ہونے کا اقرار کیا کہ اس وقت کا اقرار مفید نہیں اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سے پہلے کبھی فرعون کے دل میں خدا کے موجود ہونے کا خیال نہیں آیا تفسیر عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم میں قتادہ کا قول ہے کہ پہلے پہل پختہ اینٹوں کا بنانا فرعون نے نکالا ہے اہل تاریخ نے لکھا ہے کہ جب فرعون کے حکم کے موافق یہ اونچی منار اس کے وزیر ہامان نے بنائی تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اس کو اپنا پر مار کر گرا دیا جس سے بہت سے آدمی فرعون کے لشکر کے ہلاک ہوگئے۔ اب اس منار کا قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے لشکر کی سرکشی اور فرعون کے غرق ہونے کا ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ قریش کو عبرت ہوجائے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام یہ ہوتا ہے باوجود اس قدر لشکر کے رسول وقت کی مخالفت کے سبب سے جب ایک دم میں فرعون مع اپنے لشکر کے ہلاک ہوگیا تو قریش کے پاس تو نہ لشکر ہے نہ بادشاہت نہ فرعون کی سی حکومت پھر کس بھروسہ پر یہ لوگ اللہ کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں کیا اس ان کا ہلاک کرنا اللہ کے نزدیک فرعون کے ہلاک کرنے سے بھی زیادہ مشکل ہے دہر یہ لوگ خدا کی ہستی قائل نہیں اسی لیے یہ لوگ مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہونے اور حساب و کتاب کے واسطے اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونے کی بھی منکر ہیں اسی کو فرمایا وظننوا انھم الینا لایر جعون صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 2 ؎ سے ابوموسیٰ اشعری کی حدیث اور گذر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ تک چاہتا ہے نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب انہیں پکڑتا ہے تو بالکل برباد کردیتا ہے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو ایک مدت تک اللہ تعالیٰ نے مہلت دی جب وہ لوگ مہلت ملنے کے زمانہ میں اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو ان سب کو دریائے قلزم میں ڈبو کر ہلاک کردیا جس کا قصہ اوپر گزر چکا ہے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر قریش کو نافرمان لوگوں کے انجام سے ڈرایا ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر۔ )
(1 ؎ تفسیر المنثور ص 128 ج 5۔ )
Ayahs 28:41–4541 تا 46۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا دنیوی انجام اوپر ذکر فرما کر اب ان کا عقبیٰ کے انجام کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے دن ان لوگوں کے پیشوا ہوں گے جو ان کے بہکانے کے سبب سے گمراہ ہو کر دوزخ میں اس طرح جھونکے جاویں گے کہ بہکانے والوں کا بہکنے خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بہکانے کا دوسرا عذاب ہوگا تو ان کے پیرو کچھ ان کی مدد نہ کرسکیں گے اس دو ہرے عذاب کا ذکر سورة النمل میں گزر چکا ہے اور اسی ذکر میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے یہی قیامت کے دو ہرے عذاب کا ذکر وَیَوْمَ الْقِیَامَۃ ھم الَمْقُبوحْیِن کی گویا تفسیر ہے پھر فرمایا ” پیچھے رکھی ہم نے ان کے دنیا میں لعنت ایمانداروں کے زبان پر اور قیامت کے روز وہ برائی والوں میں سے ہونگے ‘ آگے اب اللہ تعالیٰ اپنے اس انعام کی خبر دیتا ہے جو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کیا وہ یہ کہ فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کیا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر کتاب تو ریت اتاری مطلب یہ ہے کہ تو ریت اتارنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی امت پر ہلاک کرنے کا عذاب عام طور پر نہیں اتارا بلکہ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ خدا کے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کریں ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ کی نبوت پر یہ دلیل قائم کی ہے کہ وہ گذشتہ حالات کی ایسی خبر دیتے ہیں کہ گویا اس وقت موجود تھے اور انہوں نے آنکھوں سے وہ حالات دیکھے ہیں حالانکہ وہ ان پڑھ تھے اور انہوں نے ایسے لوگوں پرورش پائی جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے حاصل یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے پہلی امتوں کی باتیں تم پر اس لیے اتاری ہیں کہ پہلے کے عذابوں سے تم اپنی قوم کو ڈراؤ تاکہ اللہ تعالیٰ جب ان کے کفر کے سبب سے ان پر عذاب نازل کرے تو کچھ عذر اس کا باقی نہ رہے اور وہ یہ نہ کہیں کہ ہمارے پاس تو کوئی سول ڈرسنانے والا نہیں آیا اس مضمون کی قرآن شریف میں اکثر آیتیں ہیں اور آگے کی آیتوں میں بھی یہ ذکر آتا ہے غرض انجانی کے عذر کو رفع کردیتا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اس لیے فرعون کے پاس اور فرعون سے پہلی قوموں کے پاس پچھلے رسولوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر اگرچہ ایسے زمانہ میں بھیجا کہ اے رسول اللہ کے اس زمانہ میں تم موجود نہیں تھے لیکن تمہاری ان پڑھ قوم کو ان پہلی قوموں کے قصے اس واسطے سنا دیئے گئے کہ تمہاری قوم کی بھی وہ نوبت نہ آوے کی جس طرح وہ پہلے لوگ دنیا کی زندگی کو پائدار سمجھ کر عقبیٰ سے بالکل غافل ہوگئے اور اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو جھٹلانے لگے آخر طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے اللہ سچا ہے اللہ کے وعدہ سچا ہے اہل مکہ میں کے جن سرکش مشکوں نے اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو سچا نہیں جانا صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک ؓ کی حدیث کے حوالہ سے ان کا انجام اوپر گزر چکا ہے کہ دنیا میں بدر کی لڑائی کے وقت یہ بڑے بڑے سرکش نہایت ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عقبیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوگئے اور اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اللہ کا وعدہ یا ددلایا اور یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو پچا پالیا۔
Ayahs 28:46–4746‘ 47۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرما کر اس قصے سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت قریش پر ظاہر کی ہے اور قریش کی قائل کیا ہے کیونکہ یہ تو قریش کو معلوم تھا کہ آنحضرت ﷺ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ میں پیدا نہیں ہوئے اور یہ بھی معلوم تھا کہ جب تک آپ مکہ میں تھے۔ کبھی اہل تو ریت سے اور آپ سے ایسا میل جول نہ تھا جس سے آپ حضرت موسیٰ کی پیدائش سے لے کر ان کے نبی ہونے تک کا قصہ سن لیتے پھر بغیر ان دونوں باتوں کے جبکہ آپ نے پورا قصہ حضرت موسیٰ کا اور سب انبیاء ( علیہ السلام) کے اسی طرح سب قصے جس طرح تو ریت میں تھے پورے پورے بیان فرما دیئے تو پھر آپ کی تائید غیبی اور نبوت میں کیا شک وشبہ باقی رہ گیا اور یہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ یہودو نصاریٰ کو اہل کتاب دیکھ کر آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے اور قرآن شریف کے نازل ہونے سے پہلے قریش یہ کہا کرتے تھے کہ کاش ہم میں بھی کوئی نبی ہوتا کہ اس کے ذریعہ سے ہم پر بھی اللہ کے حکم اترتے تو ہم ضرور ان دونوں فرقوں سے زیادہ راہ راست پر آجاتے اب آنحضرت ﷺ کی نبوت ثابت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قریش کو یوں قائل کیا ہے کہ جب ان لوگوں میں کوئی نبی نہیں تھا اور کوئی کتاب اللہ کی طرف ان پر نہیں اتری تھی تو یہود اور نصاریٰ کو اہل کتاب دیکھ کر یہ لوگ حرص کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی حرص پوری کردی کہ ان میں نبی آخر الزمان کو پیدا کردیا اور تو ریت وانجیل سے بھی زیادہ کامل کتاب ان نبی آخر الزمان پر نازل پر نازل فرمادی تو بجائے اس کے کہ یہ لوگ اپنی مراد کے پورا ہوجانے پر اللہ کے اس فضل کا شکر ادا کریں بڑے ناشکر لوگ ہیں کہ اللہ کی اس نعمت میں فذر نہیں کرتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اون کے اس پچتاوے کے دور کرنے کے لیے نبی آخر الزمان کو اللہ کی ہدایت کے لیے پیدا کیا ہے کہ گمراہی اور بےدینی کے سبب سے کل کو ان لوگوں پر کوئی مصیبت خدا کی طرح سے آجاوے تو ان کو اس بات کے پچتاوے کی گنجائش نہ رہے کہ ہماری ہدایت کے لیے اللہ کے کوئی رسول اور اللہ کا کوئی حکم آتا تو ہم ایسی گمراہی اور بےدینی میں کیوں گرفتار ہوتے جس گمراہی اور بےدینی کے سبب سے ہم پر خدا کی بلا اور مصیبت نازل ہوئی اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قریش کے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے وہ اعتراض یہ تھا کہ یہود کے سکھلانے سے قریش نے آنحضرت ﷺ سے یہ کہا تھا کہ عصا اور یدبیضا اور قلزم دریا کے بیچ میں سے سوکھے راستہ کا معجزہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ملا تھا اس طرح کا ظاہر میں نظر آتا ہوا کوئی معجزہ آپ کو بھی خدا کی طرف سے مل جاوے تو ہم ضرور آپ کو سچا نبی جان لیویں گے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ عصا اور یدبیضا کا معجزہ دیکھ کر فرعون اور اوس کے ساتھی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) پر کب ایمان لائے جو یہ لوگ ظاہری معجزہ دیکھ کر اے نبی آخر الزمان تم پر ضرور ایمان لاویں گے بلکہ فرعون اور اوس کی قوم تو وہ معجزہ دیکھ کر بھی موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) دونوں کو دو جادو گر بتلانے رہے اعتراض کے جواب کی یہ تفسیر حضرت سیعد بن جبیر اور مجاہد کی تفسیر ہے اور اکثر مفسروں نے اس تفیرض کو پسند کیا ہے اور اس تفسیر کی صورت میں قالو ساحران تظاہرا کی قرائت پڑھ جاوے گی اور معنے میت یہ ہوں گے کہ فرعون اور اوس کے قوم نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو کہا کہ دونوں جادوگر ایک دل ہوگئے ہیں اور ہم اون کے منکر ہیں دوسری قراءت سحران کی ہے جس کی روایت حضرت عبداللہ بن ؓ عباس سے بھی ہے اس صورت میں آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ قریش نے توریت اور قران شریف دونوں کا جادو بتلایا آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہو کہ تم لوگوں کو تو ریت اور قرآن سے بہتر کوئی کتاب معلوم ہو تو پیش کرو اس سے آخری قراءت قرآن کے مضمون سے بہت مطابقت رکھتی ہے۔ مصیبت کے معنے یہاں عذاب کے ہیں جیسے سرکش مشرکین مکہ پر بدر کی لڑائی کے وقت عذاب آیا جس کا ذکر صحیح بخاری مسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے اوپر گذر چکا ہے حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں پر یہ عذاب آنحضرت ﷺ کے رسول ہو کر آنے اور قرآن کے نازل سونے کے بعد ہوا اس لیے یہ لوگ اب انجانی کا عذر نہیں کرسکتے اس آخری قراءت کی صورت میں مثل ما اوتی سے ان مشرکین کا مطلب توراۃ ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح توراۃ تمام و کمال ایک ہی دفعہ موسیٰ پر اتری اسی طرح سے قرآن بھی تمام و کمال کیوں نہیں اترا جب اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ توراۃ ایک دفعہ اتری تو کیا ہوا آخر یہ لوگ توراۃ کے بھی تو پہلے سے منکر ہیں کہ ایک مدت سے بت پرستی کرتے ہیں بہلا بتلائیں کہ توراۃ میں بت پرستی کا کہا حکم ہے اس جواب کو سن کر مشرکین مکہ تورات اور قرآن دونوں کو جادو کہنے لگے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو انجانی کے عذروں کا رفع کو دینا بہت پسند ہے اس لیے اس نے کتاب آسمانی دے کر رسول بھیجے اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح قریش میں کے سرکش لوگوں کو انجانی کا عذر رفع کردینے کے بعد عذاب میں پکڑا یہی بر تاؤ اس نے پہلے سب قوموں کے ساتھ کئے کیونکہ اس کو انجانی کے عذر کا رفع کردینا بہت پسند ہے۔
Ayahs 28:48–4948‘ 49۔ یہ تو بیان اوپر کردیا گیا ہے کہ اوپر کی آیتوں میں سرن کا مطلب مشرکوں کے نزدیک تو رات اور قرآن ہے حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے کہا ہم تورات اور قرآن دونوں کو نہیں مانتے کہ یہ دونوں جادو ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہو کہ تم ہی لوگ کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو زیادہ ہدایت کرنے والی ہو تو ریت اور قرآن سے تاکہ میں اس کی پیروی کروں پھر اگر یہ لوگ کوئی ایسی کتاب نہ لاسکیں تو جان لو کہ وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اپنی خواہشوں پر چلے ایسے لوگ اللہ کے نزدیک ناانصاف ظالم ہیں اور اللہ ایسے لوگوں کو زبردستی راہ راست پر لانا نہیں چاہتا کیونکہ زبردستی کی فرمانبرداری اس کی بارگاہ میں قبول نہیں ہے صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب میں دوزخی ٹھہر چکے ہیں ان کو دنیا میں بری باتیں اچھی معلوم ہوتی ہیں اس حدیث سے یہ اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ قریش میں کے جو لوگ حالت کفر پر مرے وہ بری باتوں کو کیوں اچھا جانتے تھے۔
Ayahs 28:50–5350 تا 53۔ حضرت نوح جو سب سے پہلے صاحب شریعت نبی ہیں ان کے زمانہ سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک جس قدر پہلی امتیں اللہ کے رسولوں کی نافرمانی میں ہلاک ہوئیں ان کا ذکر قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اوس ذکر میں سے فرعون کے غرق ہونے کے تذکرہ کا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں ذکر فرما کر اس آیت میں رسول ﷺ کے نافرمان لوگوں کو ڈرا دیا ہے اور فرمایا ہے کہ پہلی امتوں کا پے درپے اس لیے ذکر کیا جاتا ہے کہ پہلے نافرمان لوگوں کا حال گھڑی گھڑی سن کر حال کے زمانہ کے نافرمان لوگوں کو ایک طرح کی عبرت اور نصیحت اس بات کی ہو کہ اگر یہ حال کے زمانہ کے لوگ رسول قوت کی نافرمانی سے باز ؓ آویں گے تو آخر وہی حال ان کا ہونے والا ہے جو پہلے نافرمان لوگوں کا ہوا اگرچہ مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں اختلاف کیا ہے بعضے کہتے ہیں قریش کی شان میں ہے بعضے کہتے ہیں اہل کتاب کی شان میں لیکن اصل بات یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالٍٰ نے ایسے لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو لوگ ہدایت الٰہی کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے موافق چلتے ہیں اب خواہ قریش ہوں یا اہل کتاب یا حال کے امت محمد ﷺ یہ کے بدعتی لوگ جو اپنی خواہش اور رسم کو حکم الٰہی اور فرما نبرداری رسول ﷺ پر مقدم رکھتے ہیں سب اس آیت کے حکم میں داخل ہیں اور سب کو اللہ تعالیٰ نے رسول وقت کی مخالفت سے ڈرایا ہے صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی وہ حدیث 1 ؎ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس زمانہ کے لوگوں میں سے خواہ یہودی خواہ نصرانی کوئی ہو جو میری مخالفت کرے گا وہ دوزخ میں جاوے گا یہ حدیث اس آیت کی پوری تفسیر اور پوری شان نزول ہے کیونکہ جب غیرامت کے لوگوں کو بھی آپ نے اپنی مخالفت سے ڈرایا ہے تو خود وہ لوگ جو آپ کی امت کھلاتے ہیں آپ کی مخالفت کے بعد کس طرح دوزخ سے امن پاسکتے ہیں اب اس عبرت دلانے کی آیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمان کی رغیب دلانے کے لیے ان اہل کتاب کا ذکر آگے کی آیتوں میں فرمایا ہے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی جو صفتیں اپنی کتاب میں پائی تھیں ان کو آنحضرت ﷺ میں پاکر ان کو سچا نبی اور قرآن شریف کو اللہ کی سچی کتاب تسلیم کرلیا یہ ذکر بھی عام ہے یہود ونصارے دونوں کو شامل ہے کیوں کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کی صحیح بخاری ومسلم کی حدیث میں آپ نے یہ جو خوشخبری اہل کتاب کو دی ہے کہ اہل کتاب میں سے جو شخص اپنی کتاب پر ایمان قائم رکھ کر قرآن پر بھی ایمان لاء لاوے اس کو اللہ تعالیٰ دوگنا اجردے گا وہ حدیث عام خوشخبری میں ہے نہ اس میں یہود کی کچھ خصوصیت ہے نہ نصاری کی وہی صحیح حدیث ان آیتوں کی تفسیر اور شان نزول کے لیے کافی ہے بعضے مفسرین نے یہ اختلاف جو کیا ہے کہ ایک فریق حبشہ کے نصاریٰ کی مدح اس آیت کو ٹھہراتے ہیں اور دوسرا فریق عبداللہ بن سلام وغیرہ کی مدح قرار دیتے ہیں اس اختلاف کی کوئی ضرورت پائی نہیں رہ جاتی کیونکہ یہ بات اس تفسیر میں ایک جگہ گزر چکی ہے کہ چند قصوں کا مجموعہ کبھی شان نزول ہوتا ہے اس لیے یہاں بھی حبشہ کے نصارے کے قصے اور عبد اللہ ؓ بن سلام کے قصہ سے ان دونوں قصوں کو آخر کی تینوں آتیوں کی شان نزول قرار دیا جائے۔ تو پھر کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا یہی حال پہلی آیت کا ہے کہ اس نے سے پہلے قل فاتو اب کتاب من عنداللہ فرما کر تو قریش کو مخاطب ٹھہرایا تھا پھر ومن اضل ممن اتبع ھواہ اس واسطے سنائے جاتے ہیں کو جو کوئی پہلی امتوں کی طرح نافرمانی کی چال چلے گا عذاب میں گرفتار ہوجائے گا فرق فقط اتنا ہی ہے کہ قریش نے یہ قصے پہلے پہل سنے ہیں اور اہل کتاب تو رات کے ذریعہ سے بھی ان قصوں کو سن چکے ہیں اور قرآن کے ذریعہ سے بھی تو رات کی تصدیق ہوگئی ہے اس پر بھی اگر یہ لوگ نہ مانیں گے تو وہ آسمانی کتابوں کے جھٹلانے کے وبال میں پکڑے جائیں گے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث جو اوپر گزری اس سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ دو شریعتوں کی پابندی کے سبب سے جس طرح اہل کتاب کو دوگنا اجرملے گا اسی طرح دو شریعتوں کے جھٹلانے والے اہل کتاب کو خمیازہ بھی دوگنا بھگتنا پڑے گا حبشہ کے نصاریٰ کا قصہ سورة مائدہ میں گزر چکا ہے کہ نجاشی کے پاس سے چند عیسائی میدنہ میں آئے اور قرآن شریف کی آیتیں سن کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے صحیح بخاری وغیرہ میں عبداللہ ؓ بن سلام کے اسلام کا قصہ 1 ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عبداللہ ؓ بن سلام یہود میں کے بڑے عالم تھے اس واسطے یہود پہلے تو ان کو بہت اچھا کہتے تھے مگر ان کے اسلام لانے کے بعد ان کو برا کہنے لگے عبداللہ ؓ بن سلام اور ان کے ساتھی یہود کے برابر کہنے کو در گزر سے ٹال دیتے تھے حبشہ کے نصاریٰ نے اسلام میں داخل ہوں کے بعد تنگ دست مہاجرین کی کچھ مالی امداد بھی کی تھی غرض اس سے درگزر اور اللہ کے نام پر خرچ کرنے کا ذکر ان آیتوں میں خاص بطور تعریف کے فرمایا ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 12 کتاب الایمان۔ )
(1 ؎ مشکوٰۃ باب فی المعجزات فصل اول ‘ )
Ayahs 28:54–5654 تا 56۔ اوپر کی آیتوں میں اہل کتاب کی یہ تعریف تھی کہ وہ قرآن شریف کو بھی مانتے ہیں اور جو کتاب ان کو پہلے مل چکی ہے اس کو بھی مانتے ہیں اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ہٹاتے ہیں اور ہماری دی روزی میں سے خرچ کرتے ہیں ایسے لوگوں کو دوہرا اجر ملی گا اب فرمایا وہ لوگ جب کوئی ناشائستہ بات سنتے ہیں تو اس سے درگزر کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے واسطے تمہارے عمل بس تمہیں رخصت کا سلام پہنچے ہم جاہلوں کی چال کو پسند نہیں کرتے حضرت ﷺ نے ابو طالب کے لیے کوشش کی کہ مرتے وقت تک کلمہ بڑھ لیں مگر ابوطالب نے اس کو منظور نہ کیا اس پر آیت انک لاتھدی اتری آگے ذکر ہے کہ مکہ والوں نے کہا ہم اگر السلام قبول کریں تو تمام عرب کے لوگ ہم سے عداوت کرنے لگیں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ لوگ اب کس کی پناہ میں ہیں یہ ہی حرم امن والا ہے جہاں ہم نے ان کو جگہ دے رکھی ہے اسلام کے بعد بھی ہم ہی پناہ دینے والے ہیں صحیح بخاری ومسلم میں مسیب بن جزن مخزومی سے اور فقط صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں 2 ؎ ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کی وفات کے وقت بہت کوشش کی کہ ابوطالب دائرہ اسلام میں داخل ہوجاویں مگر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کے بہکانے سے ابوطالب نے اسلام قبول نہیں کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یہ تسلی فرمائی کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے جنتی اور دوزخی اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے ہی قرار پا چکے ہیں اور علم الٰہی کا یہ نتیجہ لوح محفوظ میں لکھا بھی جا چکا ہے اس لیے ابو طالب کی طرح باوجود فہمایش اور کوشش کے جو شخص دائرہ اسلام میں داخل نہ ہو تو اس کا کچھ رنج نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ایسے لوگ علم الٰہی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں۔ اسلام قبول کرنے والے اہل کتاب کے ذکر کے بعد ابو طالب اور مشرکین مکہ کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاوے کہ خاص مکہ کے جو لوگ علم الٰہی میں گمراہ ٹھہر چکے تھے وہ اسلام سے محروم رہے اور باہر کے جو لوگ علم الٰہی میں نیک راہ قرار پاچکے تھے وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا میں پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں داخل ہونے کے قابل کام کریں گے اور کتنے دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل دائرہ اسلام میں داخل ہونے والوں اور اسلام سے محروم رہنے والوں کا ذکر جو اوپر گزر اس کا سبب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 394 ج 3 و تفسیر الدر المنثور ص 133 ج 5۔ )
Ayahs 28:57–6057 تا 60۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کا یہ قول بیان فرمایا تھا جس کو وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے عذر میں پیش کرتے تھے کہ ہم نبی آخر الزمان پر ایمان لاویں گے تو مکہ کے گردو نواح کی بستیوں کے لوگ مخالفت دینی اور مذہبی کے پیدا ہوجانے کے سبب سے بڑی مخالفت اور دشمنی سے ہمارے ساتھ پیش آنے لگیں گے جس سے ہماری راحت اور ہمارے امن میں بڑا فتور پڑجاوے گا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے اس عذر کا اوپر فرمایا تھا جس کا حاصل یہ تھا کہ ان لوگوں کی یہ نادانی ہے جو مکہ کے امن کو یہ لوگ اپنی تدبیر کا نتیجہ خیال کرتے ہیں ان کی تدبیر سے کچھ مکہ میں امن نہیں ہے بلکہ اللہ کے حکم سے آدمیوں اور جانوروں کو اللہ کے گھر میں امن حاصل ہوا ہے ان آیتوں میں اہل مکہ کی اس بات کا یہ دوسرا جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے گردونواح کی بستیوں کے لوگوں سے ڈر کر اگر یہ اہل مکہ ایمان نہ لاویں گے تو یہ خیال ان کا غلط ہے کہ پھر یہ امن سے بیٹھے رہیں گے بلکہ ان کے ایمان نہ لانے سے اللہ اور اللہ کے رسول کو ان سے مخالفت پیدا ہوجاوے گی اور ملک شام اور مدینہ کے راستہ میں بہت سی بستیاں انہوں نے اس طرح کے اللہ اور اللہ کہ رسولوں کے نافرمان لوگوں کی ویران پڑی ہوئی دیکھی ہیں یہ یاد رکھیں کہ ان کا بھی یہی آخر انجام ہونے والا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ وہ جو لوگ غارت ہوگئے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے ہلاک کرنے سے پہلے اپنے رسول بھیج کر سمجھا دیا تھا کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کریں گے تو ہلاک ہوجائیں گے اسی طرح ان اہل مکہ کے پاس بھی اللہ نے اپنا رسول بھیجا ہے اور ان پر طرح طرح کے احکام نازل کئے جاتے ہیں اور ہر طرح سے ان اہل مکہ کو سمجھا دیا جاتا ہے سمجھے کا وقت ابھی باقی ہے پھر اللہ کی نافرمانی کے سبب سے جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو دنیا کا یہ چند روزہ عیش و آرام جدا ہاتھ سے جاتا رہے گا اور ایسے عذاب آخرت میں جدا پکڑے جاویں گے جس عذاب کی سختی کے سبب سے یہ دنیا کا چند روزہ عیش و آرام ان کو یاد بھی نہ رہے گا پھر یوں سمجھایا ہے کہ جس دنیا کے عیش و آرام اور امن کے قائم رہنے کے لیے یہ لوگ گردونواح کی بستیوں کے لوگوں کو اپنا دشمن بنانا نہیں چاہتے اور اس عذر سے یہ لوگ رسول وقت پر ایمان نہیں لاتے تو کیا ان لوگوں کو اتنی سمجھ نہیں کہ بڑے بڑے عیش و آرام کے بندے جو ان سے پہلے تھے۔ وہ آخر کہاں گئے ؟ کیا ان میں کوئی ہمیشہ رہ کر عیش و آرام کرنے والا ہے پھر جو چیز آخر ہاتھ سے جانے والی ہے اس کی حفاظت کوئی کہاں تک کرے گا ایسی جانے والے چیز آج نہ گئی کل جاوے گی غرض ایسے ہاتھ سے جانے والے عیش و آرام کے پیچھے یہ لوگ اپنے اس ہمیشہ کے عیش و آرام کو جو خاک میں ملاتیں ہیں جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی فرماں برداروں کے لیے فرمایا ہے تو یہ بالکل ان کی نادانی اور کم عقلی کی بات ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں قریش کو سمجھایا ہے اسی کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے شداو ؓ بن اوس کی معتبر روایت میں فرمائی جس کو ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے یہ حدیث اوپر گذر چکی 1 ؎ ہے یہاں بھی اس حدیث کا حاصل مطلب بیان کیا جاتا ہے تاکہ قرآن شریف کی تفسیر صحیح حدیث سے ہوجاوے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں عقلمنددہ شخص ہے جو اپنے نفس کو خواہش دنیوی سے روکے اور کہ دنیا میں رہ کر ایسے کام کرے جو عاقبت میں اس کے کام آویں اور بیوقوف وہ شخص ہے جو دنیا میں عقبیٰ سے بیخبر اور غافل رہے اور پھر عاقبت میں بھلائی کی توقع رکھے صحیح مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی روایت ایک 2 ؎ جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا دوزخ کے پہلے جھونکے کے بعد اللہ کے فرشتے دنیا کے بڑے بڑے عیش و آرام والوں سے پوچھیں گے کہ جس عیش و آرام دنیوی کے غفلت میں تم اس عذاب سے بےفکر رہے اس عذاب کے آگے وہ عیش و آرام تم کو کچھ یاد ہے تو وہ قسمیں کھا کھا کر جواب دیویں گے کہ نہیں۔ اسی طرح جنت میں داخل ہوتے ہی جنتیوں سے پوچھیں گے کہ دنیا میں تنگ دستی کے صبر کے اجر میں تم نے جنت کا عیش و آرام پایا اس عیش و آرام کے آگے تم کو دنیا کی اس تنگ دستی کی تکلیف کچھ یاد ہے تو وہ بھی قسمیں کھا کھا کر کہویں گے کہ کہ نہیں اس حدیث کو ان آیتوں کو تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کی جس راحت کے جاتے رہنے کے خوف سے یہ لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کی مخالفت پر آمادہ ہیں اور مکہ کے گرد و نواح کے رہنے والے مشرکوں سے ڈر کر اس مخالفت کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور انہوں نے اپنے نزدیک اس مخالفت پر آمادہ رہنے کے سبب سے مکہ میں آرام سے بیٹھنے کی راحت جو پیدا کی ہے اوس راحت کی غفلت میں اسلام اور تنگ دست اہل اسلام کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں قیامت کے دن اس مخالفت کی سزا میں جب یہ لوگ پکڑے جاویں گے تو اس عقبیٰ کے عذاب کے آگے انکو یہ دنیا کی چند روزہ راحت یاد بھی نہ رہے گی اسی طرح اپنی راحت کے آگے یہ عیش کے بندے جن تنگ دست اہل اسلام کو حقیر جانتے ہیں جب ان تنگ دست اہل اسلام کو جنت کی ہمیشہ کی راحت ملے گی تو وہ اپنی دنیا کی تنگ دستی کی تکلیف کو بالکل بھول جاویں گے۔
(1 ؎ بحوالہ مشکوۃ 451 باب استحباب المال والعمر للطاعۃ۔ فصل دوسرا۔ )
(2 ؎ بحوالہ مشکوۃ باب صفہ النار واہلہا۔ )
Ayahs 28:61–6361 تا 63۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جاوے گا کہاں ہیں وہ اللہ کے شریک جن کا تم کو دنیا میں بڑا گھمنڈ تھا کیا وہ عذاب سے بچلانے میں تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں پھر فرمایا کہ بہکانے والے کہیں گے اس رب ہمارے یہ لوگ ہیں جن کا بہکا یا ہم نے جس طرح ہم بہکے پھر پوجا کرنے والوں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور کہیں گے کہ وہ ہم کو نہیں پوجتے تھے بہکانے والوں سے مطلب وہی شیاطین الانس والجن ہیں جن ذکر سورة الانعام کی آیت وان الشیطین لیوحون الی اولیائھم میں گزر چکا ہے اور قل اعوذ برب الناس کی تفسری میں بھی یہ ذکر آوے گا پھر قائل کرنے کے لیے مشرکوں سے دوبارہ کہا جائے گا کہ بلاؤ اپنے شریکوں کو کہ وہ تم کو اس عذاب سے بچاویں یہ مشرک ان کو پکاریں گے لیکن کچھ جواب نہ پاویں گے اور جب دیکھیں گے عذاب اس وقت یہ آرزو کریں گے کہ ہم بھی کاش دنیا میں ہدایت پانے والوں میں سے ہوتے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک گہ گذر چکی ہے
جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں لوگوں کو کو لیاں بھر بھر کر دوزخ کی آگ میں گر جانے سے روکتا ہوں مگر یہ لوگ اس آگ میں گر جانے کی ایسے جرأت کرتے ہیں جس طرح کیڑے پتنگے روشنی پر گرتے ہیں۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن جس عذاب کو دیکھ کر ان مشرکوں کے جھوٹے معبودان سے بیزار ہوجاویں گے اور جس عذاب کو دیکھ کر اوس دن یہ مشرک اپنے شرک پر پچتاویں گے اسی عذاب سے میں ان لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہوں مگر یہ لوگ میری نصیحت نہیں سنتے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنہ۔ )
Ayahs 28:64–7464 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو طرح طرح کی فہمائش کی ہے اسی طرح کی فہمایش ان آیتوں میں ہے حاصل اس فہمایش کا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر جو یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہزارہا نعمتوں میں سے مثلا ایک دن رات ہے ایک رات اگر اللہ کے حکم سے آفتاب نہ نکلے اور زمین کے اندر روکا ہی رہ جاوے یا جس طرح ہر روز شام کو اللہ کے حکم سے سورج غروب ہوتا ہے اسی طرح ایک رات کو غروب نہ ہو اور بجائے رات کے دن اور بجائے دن کے رات ہوجاوے اور ان لوگوں کے دن اور رات کے عادتی اور مقررہ کاموں میں ہرج پڑجاوے تو بھلا ان کے بتوں میں قدرت ہے کہ ان کے اس حرج کے رفع کرنے کے لیے اللہ کے انتظام کے موافق پھر رات اور دن کو قائم کردیں یہ تو ان کے بتوں اور شیاطینوں کی دنیا میں جو عاجزی ہے اس کا حال ہوا اب عقبیٰ میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے جن اور شیاطین وہاں ان کی اللہ سے سفارش کریں گے اللہ ان کو خبر دیتا ہے کہ قیامت کے ان کے یہ جھوٹے معبود بالکل ان سے بیزار ہوجائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قائل کرنے کے لیے قیامت کے دن جب ان لوگوں سے کہے گا کہ تم اپنے معبودوں کو بلاؤ تاکہ وہ تمہاری گے بلکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قائل کرنے کے لیے قیامت کے دن جب ان لوگوں کو قائل کرنے کے لیے قیامت کے دن جب ان لوگوں سے کہوے گا کہ تم اپنے معبودوں کو بلاؤ تاکہ وہ تمہاری سفارش کریں تو کبھی تو ان کو جواب تک نہیں دیویں گے اور کبھی جواب دیویں گے تو یہ الٹا جواب دیں گے کہ جیسے گمراہ یہ ویسے ہی ہم پھر ہم ان کی کیا سفارش کرسکتے ہیں پھر اب یہ ظاہر بات ہے کہ تعظیم تو اسی کی کوئی کیا کرتا ہے جس سے دین یا دنیا کا کسی طرح کا کام نکلے وہ بات اللہ ہی وحدہ لاشریک میں ہے اور ان کے بتوں میں کچھ بھی نہیں پھر یہ لوگ کس استحقاق سے بتوں کو اپنا معبود ٹھہراتے ہیں اور اللہ کے رسول اسی طرح کے جھوٹے معبودوں کی مذمت اور خالص اللہ کی عبادت کی ہدایت ان نادانوں کو جو کرتے ہیں تو یہ اللہ کے رسول کی مخالفت پر کیوں کمر باندھتے ہیں آج یہ لوگ اللہ کے رسول کی مخالفت کو ایک سر سری بات سمجھتے ہیں کل قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سامنے کھڑا کر کے ان سے پوچھے گا کہ بتلاؤ تم لوگوں نے اللہ کہ رسولوں کی کبا فرماں برداری کی تو ان کے ہوش اڑ جائیں گے اور ان کو جواب تک نہ آوے گا یہ توحید اور اطاعت رسول کا سوال گویا آخری سوال ہے جو میدان قیامت میں خاص اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اور یوں تو توحید اور اطاعت رسول کی پرسش آدمی کی قبر میں دفناتے ہی شروع ہوجاتی ہے چناچہ صحیح حدیثیں 1 ؎ اوپر گذر چکی ہیں کہ دفنانے والے لوگ ابھی قبرستان سے پلٹ کر بھی نہیں آتے کہ منکر نکیر دو فرشتے مردہ کے پاس آن کر اس سے توحید اور اطاعت رسول ﷺ کا سوال شروع کردیتے ہیں جو شخص توحید اور اطاعت رسول ﷺ پر ثابت قدم دنیا سے اٹھا ہے وہ ان کے سوال کا جواب پورا پورا دیتا ہے اور طرح طرح کی راحت ایسے شخص کے لیے اس وقت سے پیدا ہوجاتی ہے اور جو توحید اور طاعت رسول ﷺ میں کچا ہے وہ ان کے سوال کے جواب کے وقت ہائے ہائے کر کے رہ جاتا ہے اور اس وقت سے طرح طرح کے عذاب میں گرفتار ہوجاتا ہے غرض تھوڑے دنوں کی دنیا کی زیست ہے اور اس زیست میں کمائی کی چیز توحید اور اطاعت رسول ﷺ سے بڑھ کر کوئی نہیں اللہ سب کو اس کمائی کا شوق دیوے حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سب نبی اور امتیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبر کھڑے ہوں گے تو پہلے ہر ایک امت کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم کو تمہارے نبی نے اللہ کی وحدانیت اور شرک سے بچنے کی جو نصیحت کی تو تم لوگوں نے اس نصیحت پر کیا عمل کیا اس کا جواب نہ ہر ایک مشرک کو خود سوجھے گا نہ ایک کو دوسرا عزیز قریب کچھ مدد دے سکے گا غرض اس موقع پر جنھوں نے مرنے سے پہلے شرک کو چھوڑ کر کچھ نیک عمل دنیا میں کرلیے ان کو نجات کی امید ہوسکتی ہے ورنہ ایسے موقع پر مشرک کو اپنی نجات کی کچھ امید نہ رکھنی چاہیے مشرک کی نجات نہ پانے کا اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے اس کا ذکر سورة النسآء میں گذر چکا ہے پھر فرمایا کہ دنیا میں پیدا ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک شخص کی نیت اور عملوں کا سب حال اپنے علم ازلی کے موافق لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اسی کے موافق دنیا کا انتظام چل رہا ہے اس انتظام میں ان مشرکوں کی پسند کا کچھ دخل نہیں ہے جو یہ لوگ بجائے محمد ﷺ کے ولید بن مغیرہ یا عروہ بن مسعود کا نبی ہونا پسند کرتے ہیں اللہ ان مشرکوں کی ان باتوں سے الگ ہے اور ان مشرکوں کی بکواس سے کیا ہوتا ہے یہ لوگ اپنی ناسمجھی سے ایسی بکواس لگاتے ہیں ورنہ سمجھ دار لوگ اللہ کی حکمت اور نشانیاں دیکھ کر اسی کو اپنا معبود جانتے ہیں اور دنیا میں بھی اس کی قدرت اور اس کی حکمت کی تعریف کرتے ہیں اور عقبیٰ میں بھی کریں گے اور عقبیٰ کا جزاو سزا کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے اسی لیے اس فیصلہ کے وقت جب سب مخلوقات اس کے روبرو کھڑی ہوگی تو ان مشرکوں کو اپنی اس بکواس کا نتیجہ معلوم ہوجائے گا اب آگے رات دن کی نعمت کا احسان جتلایا تاکہ لوگ اس کے شکریہ میں خالص اللہ کی عبادت کریں مشرکوں کو شرک کی برائی دوبارہ جتلانے کے لیے فرمایا کہ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جاوے گا کہ کہاں ہیں وہ اللہ کے شریک جن کا تم کو دنیا میں بڑا گھمنڈ تھا کہ وہ تمہاری شفاعت کریں گے۔ مشرکین مکہ میں یہ دونوں شخص ولید اور عرہ ذراز وردار تھے اس لیے مشرکین مکہ کہتے تھے کہ بجائے محمد ﷺ کے ان دونوں شخصوں میں کوئی نبی ہوتا تو اچھا تھا اللہ تعالیٰ نے یہ اسی کا جواب ان آیتوں میں دیا ہے سورة زخرف میں مشرکین مکہ کے اس قول کی تفصیل زیادہ آوے گی صحیح بخاری شریف کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی حدیث 1 ؎ آگے کی آیت کی تفسیر میں جو آتی ہے وہی حدیث ان آیتوں کی بھی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل آگے کی آیت کی تفسیر سے سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے لوگ جب قیامت کے دن اپنے رسولوں کو جھٹلا کر اللہ تعالیٰ کے روبرو یہ کہویں گے کہ یا اللہ قرآن میں پچھلا سب حال ہے اس لیے ہم گواہی دیتے ہیں کہ قرآن سے پہلے کے سب انبیاء نے تیرا ہر ایک حکم اپنی امت سے لوگوں کو پہنچا دیا ہے اسی گواہی پر فیصلہ ہوگا۔
(1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ باب اثبات عذاب القبر۔ )
(1 ؎ بحوالہ مشکوٰۃ باب اخبات عذاب القبر۔ )
Ayah 28:7575۔ صحیح بخاری ماجہ اور مسند امام احمد میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ہے وہ حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہے حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب نبی اور ان کی امتیں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑی ہوں گی تو پہلے ہر ایک امت کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم کو تمہارے نبی نے اللہ کا حکم دنیا میں پہنچا دیا تھا پہلے تو مشرک لوگ اس سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کریں گے چناچہ اس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا پھر جو لوگ دنیا میں اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں وہ وہاں بھی اللہ کے رسول کی مخالفت میں جواب دیں گے اور اللہ سے یہ کہویں گے کہ یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا کوئی حکم نہیں پہنچایا اس پر اللہ تعالیٰ ہر ایک نبی سے دریافت فرمائے گا کہ کیوں تم نے ان لوگوں کو اللہ کا حکم پہنچا دیا تھا یا نہیں وہ عرض کریں گے ہاں ہم نے تو ان کو یا اللہ تیرا حکم ہر طرح پہنچا دیا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا بھلا تمہارا کوئی گواہ بھی ہے وہ کہویں گے نبی آخر الزماں محمد ﷺ اور ان کی امت ہماری گواہ ہیں پھر آنحضرت ﷺ کی امت کے نیک لوگ گواہی دے دیں گے یا اللہ ہر ایک نبی نے بیشک تیرا حکم اپنی امت کے لوگ کو پہنچا دیا اللہ تعالیٰ ان گواہی دینے والوں سے پوچھے گا کہ تم کو کیا خبر کہ ایک نبی نے اپنی امت کو اللہ کا حکم پہنچا دیا وہ جواب دیویں گے کہ دنیا میں ہمارے رسول نبی آخرالزماں محمد ﷺ نے قرآن کے موافق ہم کو یہ خبردی ہے کہ ہر ایک نبی نے اپنی امت کو اللہ کے حکم پہنچا دیا اس لیے ہم کو اپنے رسول کی ہر ایک بات پر پورا بھر وسا ہے اور ہمارے دل میں اس بات کا یقین ہے کہ رسول اللہ نے اپنی امت کو اللہ کے حکم پہنچا دیا اس لیے ہم کو اپنے رسول کی ہر ایک بات پر پورا بھروسا ہے اور ہمارے دل میں اس بات کا یقین ہے کہ ہر نبی نے اللہ کا ہر طرح کا حکم اپنی امت کو پہنچادیا حضرت نوح (علیہ السلام) سب سے پہلے صاحب شریعت نبی ہوئے ہیں اس لیے بعضی روایتوں میں فقط حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا ہی ذکر ہے لیکن سب روایتوں کے اور سورة اعراف کی آیت فلنسئل الذین ارسل الیھم وَلَنَسْئَلَنَّ المر سلین کے ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ان کی امت کی کچھ خصوصیت نہیں ہے سب نبی اور امتوں کے ساتھ یہ ہی معاملہ گزرے گا جس کا ذکر اس حدیث میں ہے فقط اسی سبب سے تنہا حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا ذکر بعض روایتوں میں آیا ہے کہ وہ سب سے اول صاحب شریعت نبی ہیں اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے گواہی شاہدی سے کسی چیز کو جاننے کی اس کو کچھ ضرورت نہیں لیکن اس حدیث میں جس گواہی کا ذکر ہے وہ گواہی قیامت کے دن فقط منکر لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ہوگی اس گواہی شاہدی سے یہ مطلب بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جزا سزا کا مدار اپنے علم غیب پر نہیں رکھا اس لیے قیامت کے دن اس گواہی شاہدی کے بعد جب اللہ تعالیٰ منکر لوگوں سے فرمادے گا کہ تمہارے پاس اور کوئی سند اس انکار کی تصدیق میں ہو تو پیش کرو اس پر بعضے منکر جو عذر کریں گے اس کا ذکر صحیح مسلم میں انس بن مالک کی روایت 1 ؎۔ ایک سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک روز ہنس کر فرمایا قیامت کے دن ایک شخص اس طرح کے سوال جوا اب میں اللہ تعالیٰ سے کہے گا کہ جس پر ہنس آتی ہے پھر فرمایا وہ شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گا یا اللہ کیا تیرا انصاف مجھ کو ظلم سے بچانے کا مقتضی نہیں ہے اللہ تعالیٰ فرمادے گا کہ ضرور میرا انصاف ظلم سے ہر ایک شخص کے مو نہہ پر مہر لگادے گا اور اس شخص کے ہاتھ پیروں کو گویائی عنایت فرماے گا اور ہاتھ پیر جو کچھ اس شخص نے دنیا میں کیا ہے وہ سب بیان کر دیویں گے اس ہاتھ پیروں کی گواہی کے بعد ایسے لوگ اپنے ہاتھ پیروں کو برا بھلا کہویں گے اور اپنے جھوٹے عذروں کو چھوڑ کر لاچار اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہوجاویں گے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی بڑی خوشی ہے کہ ان کی امت قیامت کے دن اللہ کے روبرو شہادت ادا کرے گی اور اللہ تعالیٰ ان کی گواہی کو قبول فرمادے گا چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ 2 ؎ میں صحیح روایتیں ہیں جن میں بڑی خوشی اور فخر سے آپ نے اس گواہی کا ذکر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ امت کے لوگوں کو یہ توفیق دیوے کہ وہ اپنی رسول ؓ کی پوری فرما نبرداری کرکے اپنے آپ کو اس گواہی کے قابل بنادیں۔