27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 27:32–43

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(خط سنا کر) کہنے لگی کہ اہل دربار میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو جب تک تم حاضر نہ ہو (اور اصلاح نہ دو ) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم بڑے زور آور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے تو جو حکم کیجیے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجئے گا

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسکو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں عزت والوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں انکی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہو گے

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

اس کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی انکو طاقت نہ ہوگی اور انکو وہاں سے بےعزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

(سلیمان) نے کہا کہ اے دربار والو ! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اسکے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اسکے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اسکو پاس لا حاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

جب وہ آپہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت و شان کا) علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی (سلیمان نے) اسکو منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

(32 تا 43) جس وقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط بلقیس نے پڑھا تو اس کو یہ تردد ہوا کہ اب کیا کیا جاوے آیا جس طرح اس خط میں لکھا ہے وہی کیا جاوے کہ اپنی حکومت کو چھوڑ کر اور اپنے دین سے ہاتھ اٹھا کر حضرت سلیمان کا دین اور ان کی اطاعت قبول کی جائے یا حضرت سلیمان سے مقابلہ کیا جاوے اسی تردد کے رفع کی شکل نکالنے کے لیے اس نے اپنے مشیروں اور فوج کے افسروں سے صلاح کی تفسیر سدی وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ صلاح مشورہ کے بعد بلقیس نے اپنی ریاست کے لوگوں سے یہ کہا کہ میں اس خط کے جواب میں حضرت سلیمان کے پاس کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اگر انہوں نے وہ تحفہ قبول کرلیا تو جان لینا کہ دنیا کے بادشاہوں میں سے وہ بھی ایک بادشاہ ہیں اس صورت میں ان کا مقابلہ کرنا کچھ بڑی بات نہیں ہے اور اگر انہوں نے وہ تحفہ نہ لیا تو جان لینا وہ اللہ کے نبی ہیں اس صورت میں ان سے مقابلہ ممکن نہیں ہے اب یہاں مفسرین نے اس تحفہ کی تفصیل بہت کچھ بیان کی ہے جو بلقیس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھیجا تھا اور اس تفصیل میں بہت اختلاف بھی کیا ہے لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس تحفہ کی تفصیل کسی صحیح روایت میں نہیں ہے جو کچھ روایتیں اس تحفہ کی تفصیل میں ہیں بنی اسرائیلی روایتیں ہیں قابل اعتبار اس قدر بات ہے ایلچی سے تحفہ واپس کر کے یہ فرما دیا کہ اب ایسے لشکر سے تم لوگوں پر چڑھائی کی جاتی ہے جس لشکر کی ٹکر سنبھالنی تمہیں مشکل ہے بلقیس کے کلام میں وکذلک یفعلون اللہ تعالیٰ نے بلقیس کے کلام کی تصدیق کے طور پر بڑھایا ہے سیرۃ ابن اسحاق میں یزید بن رومان سے روایت ہے کہ جب ایلچی حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے پیغام کہلا بھیجا کہ میں اپنے چند سرداروں کو لے کر آپ کی خدمت میں آتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ آپ کا دین کیا ہے جس دین کو آپ اوروں کے لیے بھی پسند فرماتے ہیں اور اس پیغام کے بعد اپنی روانگی کا انتظام کیا اور اپنی بادشاہت کے تخت کو جس کا ذکر ہد ہد نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے کیا تھا بڑے احتیاط کے ساتھ قافلوں کے اندر رکھوایا اور دس ہزار سردار اور بہت بڑی فوج لے کر خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے ملنے کو روانہ ہوئی ابن اسحاق کی روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ تخت بہت بیش قیمت تھا اور بڑے بڑے قیمتی جواہرات اور موتی اس میں جڑے ہوئے تھے اب اس تخت کو بلقیس کے پہنچے سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جو اپنے پاس منگوالیا اور اس کے جواہرات کو جگہ بدل کر سفید کی جگہ سرخ کو اور سرخ کی جگہ سفید کو جڑوا دیا اور بلقیس کے آنے کے بعد سلمان ( علیہ السلام) نے اپنا معجزہ ظاہر کرنے کی غرض سے بلقیس سے پوچھا کہ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے اور بلقیس نے اس معجزہ کو دیکھ کر فورا اسلام قبول کیا اس کا ذکر آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے فرمایا ہے۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں (سلیمان نے کہا) یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں

44۔ جب ابلیس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں اپنے آنے کا یہ پیغام کہلا بھیجا تو بلقیس کے آنے سے پہلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی قدرت اور اپنا معجزہ دکھلانے کو دو کام کئے ایک تو بلقیس کا تخت جس کو وہ سات قفلوں میں بند کر کے اور کنجیاں اپنے ساتھ لے کر آئی تھی منگوالیا اور اس کے جواہرات کو جگہ بدل کر جڑوا دیا دوسرے پانی کے اوپر یہ شیشہ کا محل بنوایا اور اس محل کے بیچوں بیچ میں اپنا تخت بچھوایا بعض تفسیروں میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کی دعا سے یہ تخت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آیا تھا اصل میں یہ قول عبداللہ ؓ بن لہیعہ قاضی مصر کا ہے اور اس عبد اللہ کو ابن معین اور نسائی وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے اکثر مفسروں کا قول یہی ہے کہ وہ تخت آصف بن برخیا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وزیر کی دعا سے دو مہینہ کے راستہ سے آنکھ جھپکانے میں اس طرح آیا کہ بلقیس کے ساتوں قفل قائم رہے اور جس مکان میں وہ تخت رکھا تھا اس مکان کی زمین پھٹ کر وہ تخت زمین میں سما گیا اور زمین کے اندر ہی اندر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس یوں آگیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت کے پاس ایک چوکی رکھی رہتی تھی جس پر پیر رکھ کر حضرت سلیمان اپنے تخت پر چڑھا کرتے تھے ایک دفعہ ہی اس چوکی کے پاس کی زمین پھٹ کر وہ تخت نمودار ہوا یہ بات جو مشہور ہے کہ شیشہ کا محل حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے اس واسطے بنوایا تھا کہ بلقیس کی پنڈلیوں پر بالوں کے ہونے کا حال جو انہوں نے سنا تھا وہ حال اس شیشے کے محل میں آتے وقت بلقیس کی پنڈلیاں کھلنے سے معلوم ہوجاوے گا کیونکہ اس محل کے صحن کا پانی کا پاٹ جان کر بلقیس اپنے پائینچے ضرور اونچے کرے گی اس قصہ کی روایت کو ابوبکر بن ابی شیبہ نے اگرچہ روایت کیا ہے لیکن اس روایت میں ایک راوی عطاء بن السائب ہے جس کے حافظہ میں فتور ہے دوسری روایت یزیدبن رومان کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ نادر محل اپنا معجزہ بلقیس کو دکھلانے کے لیے بنایا تھا گو کہ عطا بن السائب اور یزیدبن رومان ایک طبقے کے تابعی ہیں مگر یزیدبن رومان بہ نسبت عطا بن السائب کے زیادہ ثقہ راوی ہیں صدھا ما کانت تعبد من دون اللہ کے ایک معنی تو مفسرین نے یہی بیان کئے ہیں جس کی صراحت شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ (رح) نے اپنے فارسی ترجمہ میں کی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنا معجزہ دکھا کر بلقیس کو مسلمان کیا جس سے انہوں نے آیندہ اس کی آفتاب پرستی چھڑوا دی اور ایک معنے یہ ہیں کہ بلقیس آفتاب پرستی جو کرتی تھی اس آفتاب پرستی نے اس کو خدا کی فرما نبرداری اور اسلام سے آج تک باز رکھا لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر (رح) نے پہلے معنوں پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ آیت بلقیس کے شیشہ کے محل میں داخل ہونے سے پہلے حالت کے بیان میں ہے اور قرآن شریف کے طرز بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیشہ کے محل کا معجزہ دیکھنے کے بعد تھا اس اعتراض کے سبب سے حافظ ابن کثیر (رح) نے دوسرے معنوں کو پسند کیا ہے اوپر بیان ہوچکا ہے کہ مجاہد کے قول کا تفسیر کے باب میں بڑا اعتبار ہے اس لیے حافظ ابن کثیر (رح) نے جو معنے پسند کئے ہیں وہی قوی معلوم ہوتے ہیں۔
Ayahs 27:45–59

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

(صالح نے) کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو ؟ (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہو (صالح نے) کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ یم رات کو اس پر اور اسکے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور وہ ایک چال چلے اور ہم بھی ایک چال چلے اور انکو کچھ خبر نہ ہوئی

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا ؟ ہم نے ان کو ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں جو لوگ دانش رکھتے ہیں ان کے لئے ان میں نشانی ہے

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت (حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ احمق لوگ ہو

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اسکے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو شہر سے نکال دو یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے انکو انکے گھر والوں کو نجات دی

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

مگر ان کی بیوی کہ اسکی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی) اور ہم نے ان پر مینہ برسایا سو (جو) مینہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا برا تھا

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے اور اسکے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ اسکا شریک ٹھہراتے ہیں

45 تا 59۔ سورة اعراف میں یہ قصہ پورا گزر چکا ہے حضرت سلیمان اور بلقیس کے قصہ کے بعد مختصر طور پر اللہ تعالیٰ حضرت صالح اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کا قصہ اس تنبیہ کے لیے ذکر فرمایا ہے کہ قریش کو ذرا عبرت ہوجاوے کہ نبی وقت کی اطاعت کا انجام تو یہ ہوتا ہے جو بلقیس کا ہوا کہ دنیا کی بادشاہت بھی قائم رہی اور عاقبت بھی سدھر گئی اور جو لوگ رسول سے مخالفت کریں جس طرح مخالفت پر قریش آمادہ ہیں ایسے لوگوں کا انجام آخر وہی ہونے والا ہے جو ثمود اور قوم لوط کا ہوا ملک شام کے سفر میں قوم لوط اور قوم ثمود کی اجڑی ہوئی بستیاں اہل مکہ کو نظر آیا کرتی تھیں علاوہ اس کے صالح (علیہ السلام) اہل عرب کے انبیاء میں سے شمار کئے جاتے ہیں اور یہاں خاص کر قریش کی تنبیہ مقصود تھی اس لیے حضرت صالح کے قصہ سے یہاں کلام کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے شروع فرمایا اور سورة اعراف میں عام انبیاء ( علیہ السلام) صاحب شریعت کا ذکر ہے اس واسطے وہاں حضرت نوح ( علیہ السلام) سے سلسلہ کلام کا شروع فرمایا ہے کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) سب سے پہلے صاحب شریعت نبی ہیں اور ان کے بعد حضرت ہود ( علیہ السلام) ہیں اور ان کے بعد حضرت صالح ( علیہ السلام) ہیں حضرت صالح ( علیہ السلام) کی امت نے جب حضرت صالح ( علیہ السلام) سے اونٹنی کا معجزہ چاہا اور ان کی خواہش کے موافق وہ اونٹنی پیدا ہوگئی تو سورة اعراف اور سورة ہود میں یہ گزر چکا ہے کہ حضرت صالح ( علیہ السلام) نے اپنی امت کے لوگوں سے یہ فرما دیا تھا کہ تم لوگ جس روز اس اونٹنی کو کسی طرح کی ایذا پہنچاؤ گے تو تم پر اللہ کا عذاب آجاوے گا پھر جب اس قوم کے سرداروں کی اولاد میں سے نو شخصوں نے صلاح مشورہ کر کے اس اونٹنی کو مار ڈالا تو حضرت صالح ( علیہ السلام) کو تنگ کرنے کے لیے حضرت صالح ( علیہ السلام) سے یہ کہنے لگے کہ وائتنا بما تعدنا جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ تم نے تو کہا تھا کہ اونٹنی کی ایذا سے اللہ کا عذاب آوے گا اب ہم نے تو اس اونٹنی کو مار ڈالا پھر اگر تم اللہ کے سچے نبی ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب کیوں نہیں لاتے ان کے اس بات کا جواب حضرت صالح نے یہ دیا ہے جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے کہ اللہ سے توبہ استغفار کرو عذاب کی خواہش اور عذاب کی جلدی کیوں کرتے ہو اس نصیحت سے حضرت صالح کی مراد یہ تھی کہ اونٹنی کے مار ڈالنے کے بعد بھی اگر ان کی توبہ استغفار سے اس عذاب کا ٹل جانا علم الٰہی میں قرار پاچکا ہو تو ان کے سر سے یہ بلا رفع ہوجاوے جب ان لوگوں نے عذاب کی خواہش سے حضرت صالح ( علیہ السلام) کو بہت تنگ کیا تو حضرت صالح ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق آخر کو فرمایا کہ تین روز کے اندر تم پر عذاب آوے گا پھر اس پر ان نوشریر لوگوں نے یہ قصد کیا کہ رات کو جب اپنی مسجد میں حضرت صالح ( علیہ السلام) اکیلے نماز کو جاویں تو تین دن سے پہلے ہی ان کو شہید کر ڈالیں اور اپنے اس ارادہ کے پورا کرنے کے خیال سے مسجد کے پاس ایک غار تھا اس میں تلواریں لے کر چھپے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے ان پر اسی غار کے پتھر ایسے برسائے کہ ان کے سر کچلے گئے اور انہی پتھروں کے نیچے دب کر رہ گئے اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے نبی سے فریب کرنا چاہا تھا مگر اللہ کے حکم کے آگے ان کا فریب کچھ چل نہ سکایہ تو قوم صالح کے ان نو شریر شخصوں کا حال ہوا جن کی صلاح سے اونٹنی ہلاک کی گئی تھی باقی قوم کے سرکش لوگوں پر زلزلہ اور چنگھاڑ کا عذاب آیا جس کا ذکر سورة اعراف اور سورة شعرا میں گذر چکا ہے غرض ثمود میں کے حضرت صالح کے مخالف لوگ دو طرح کے تھے ایک تو سرداروں کی اولاد میں کے نو شخص شریر تھے دوسرے یہ نو شخص سرگروہ تھے اور عام لوگ ساتھی تھے اور الگ الگ ان دونوں فریقوں کی ہلاکت ہوئی اس لیے اللہ نے ان آیتوں میں یہ فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو ہلاک کر ڈالا جس سے مطلب یہ ہے کہ وہ نوشخص سرگروہ اور قوم بھر میں جو ان کے ساتھ تھے وہ سب ہلاک ہوگئے صرف اللہ کے نبی حضرت صالح اور چار ہزار کے قریب لوگ جو حضرت صالح پر ایمان لائے تھے وہی عذاب الٰہی سے بچ گئے قوم لوط کا قصہ سورة الا عراف سورة ہود اور سورة الشعرا میں گزر چکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ اس قوم نے عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت دنیا میں نئی نکالی تھی ان سے پہلے کسی قوم میں یہ عادت نہ تھی۔ لوط (علیہ السلام) نے ایک عرصہ تک ان لوگوں کو سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا آخر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کی بستی کو جبرئیل (علیہ السلام) نے الٹ دیا اور ان پر پتھروں کا مینہ بھی بر سا۔ قوم ثمود کے قصہ میں صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت گزر چکی ہے ہے کہ قوم لوط نے عذاب سے پہلے لوط (علیہ السلام) کو یہاں تک تنگ کیا کہ لوط (علیہ السلام) اپنی تنہائی پر بہت افسوس کرتے تھے۔ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا اصل وطن ملک عراق ہے حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنے وطن سے ہجرت کرکے ملک شام کو آئے تھے اور ملک شام کی الٹی ہوئی بستی سدوم میں بالکل تنہا تھے اسی واسطے قوم کی زیادتی کے وقت اپنی تنہائی پر افسوس کرتے تھے ان قصوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ تم مخالفوں کی ہلاکت اور رسول کی آمد پر اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرو اور مکہ کے مشرکوں سے پوچھو کہ اس اللہ کی عبادت بہتر ہے جس کو اپنے نافرمانوں کو برباد کرنے اور فرما نبرداروں کو بچانے کی قدرت ہے یا ان پتھر کی مورتوں کی تعظیم بہتر ہے جن میں کسی طرح کی کوئی قدرت نہیں۔ “
Ayahs 27:60–69

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ؟ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اگائے تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ یہ لوگ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اسکے بیچ میں نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی ؟ (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون بےقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اسکی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) مگر تم غور بہت کم کرتے ہو

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے ؟ (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہر گز نہیں) یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر قبروں سے نکالے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اٹھنا اور کیسی قیامت ؟ ) یہ صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہے

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو دیکھو کہ گنہگاروں کا کیا انجام ہوا ہے ؟

60 تا 69:۔ آسمان زمین آسمان میں سورج چاند تارے آسمان سے مینہ کا بر سنا زمین میں ندیاں نالے اور بڑے بڑے دریا انسان اور طرح طرح کے جانور چرند پرند باغ کھیتی کے لیے اور پانی یہ سب کچھ جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور یہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ سوا اللہ تعالیٰ کے نہ کسی کو اس طرح کے آسمان کے پیدا کرنے کی قدرت ہے نہ زمین کے پیدا کرنے کی بارش کے لیے جو وقت مقرر ہے اگر اس وقت مقررہ پر مینہ نہ برسے تو سارے دنیا کے بارشاہ امیر غریب سب جمع ہوں تو پانی کا ایک قطرہ برسانے کی کسی میں قدرت نہیں چناچہ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکین مکہ کو اس کا پورا تجربہ ہوچکا ہے۔ انسان یا حیوانات میں سے مرتے کو سوا خدا کے نہ کوئی جلاسکتا ہے نہ بیمار کو بےمرضی الٰہی کوئی تندرست کرسکتا ہے یہ روز کی آنکھوں کے سامنے کی بات ہے اللہ کی مرضی جب نہیں ہوتی تو نہ دعا میں اثر باقی رہتا ہے نہ دوا میں حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا اور اس قدرت سے دنیا جو کچھ پیدا کیا ہے اس کا ذکر فرمایا دو مقصد اس ذکر سے نکالے ہیں ایک تو اللہ کی وحدانیت دوسرے حشر کا یقین چناچہ ان آیتوں میں اپنی قدرت سے پیدا کی ہوئی چند چیزوں کا ذکر فرما کر پھر فرمایا ہے یہ چیزیں خالص اللہ کی پیدا کی ہوئی دیکھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ سوائے اللہ کے اور کوئی معبود دوسرا ہے پھر یہ فرمایا ہے کہ ایک دفعہ سب کچھ آنکھوں کے سامنے پیدا ہوا دیکھ کر اور خود اپنے آپ کو پیدا ہوا اپنی آنکھوں سے دیکھ کر جو لوگ اس طرح کے دوسری دفع کے پیدا ہونے سے انکار کرتے ہیں یا دوسری دفع پیدا ہونے میں شک کرتے ہیں وہ آنکھوں کے اندھے ہیں کیونکہ آنکھوں والا آنکھوں کی دیکھی ہوئی چیز کا انکار یا اس میں شک نہیں کرتا سورة نحل میں اپنی قدرت سے پیدا کی ہوئی چند چیزیں ذکر کر کے فرمایا ہے امن یخلق کمن لا یخلق اور سورة روم میں فرمایا ہے وھو الذی بیدا الخلق ثم یعیدہٗ وھو اھون علیہ حاصل ان آیتوں کا یہ ہے کہ جب ان مشرک لوگوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ ان کو ان کی ہر طرح کی ضرورت کی چیزوں کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے تو پھر خدا کے ساتھ یہ لوگ اوروں کو کیوں اور کس استحقاق سے شریک ٹھہراتے ہیں علیٰ ہذا القیاس دنیا میں ہر شخص کا تجربہ ہے کہ جو شخص ایک دفعہ ایک کام کو کر چکتا ہے تو پھر دوسری دفع اس کو اس کام کا کرنا آسمان ہوجاتا ہے باوجود اس تجربے کے ایک دفعہ تمام دنیا کی آنکھوں سے دیکھ کر اسی طرح کے دوبارہ پیدا ہونے سے یہ لوگ کس سند سے انکار کرتے ہیں اور جب ان کا وہ شرک و انکار خود ان کے تجربے کے موافق ٹھیک نہیں ہے تو پھر رسول وقت کو سچا جاننے میں ان کو کیا تردد ہے رسول وقت اور کیا کہتے ہیں یہی تو کہتے ہیں کہ خدا کو ایک مانو آخرت کو حق جانو۔ ماکان لکم ان تنبتوا شجرھا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آسمان سے مینہ نہ برساوے تو باغ کھیتی سے نفع اٹھانا انسان کی قدرت سے باہر ہے بین البحرین حاجزا اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کے نیچے دو طرح کا پانی ہے مگر میٹھا پانی کھاری پانی سے مل نہیں سکتا اسی طرح سے سمندر کا پانی میٹھے ندیوں کے پانی کو کھاری نہیں کرسکتا ویجعلکم خلفاء الارض اس کا مطلب یہ ہے کہ باغ کھیتی اور زمین کی سب چیزیں ایک زمانہ کے لوگوں کے قبضے سے نکال کر دوسرے زمانے کے لوگوں کے قبضے میں دے دیتا ہے مثلا خلافت بنی امیہ کے قبضے سے نکل کر عباسیہ کے قبضے میں آگئی جنگل میں پہاڑوں کی اور دریا میں تاروں کی علامتوں سے مسافروں کو راستہ کا پتہ جو لگ جاتا ہے یہ بھی قدرت الٰہی کا ایک نمونہ ہے تعالیٰ اللہ عما یشرکون اس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر جن چیزوں کا ذکر ہوا جب وہ سب اللہ کے اختیار میں ہیں تو کوئی دوسرا اس کی تعظیم میں شریک نہیں قرار پاسکتا اسی مطلب کی تاکید کے لیے آگے فرمایا کہ اس کے سوا مشرکوں کا کچھ اور دعویٰ ہے تو وہ اس کی سند پیش کریں مشرکین مکہ قیامت کے منکر تھے اس واسطے مسخراپن کے طور پر آنحضرت ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ جب دن کے حساب و کتاب اور سزا وجزا سے ہم کو ڈرایا جاتا ہے آخر وہ دن کب آوے گا اس کا کچھ وقت بھی مقرر ہے اسی کے جواب میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان قیامت کے منکروں سے کہہ دو کہ مثلا انسان کی موت کب آوے گی قیامت کب ہوگی یہ ایسی غیب کی باتیں ہیں کہ سوا اللہ تعالیٰ کے آسمان زمین میں اور کسی کون کا وقت معلوم نہیں پھر میں تم لوگوں کے مسخراپن کے جواب میں قیامت کے آنے کا ٹھیک وقت کیوں کر بتلا سکتا ہوں ہاں بغیر وقت کے ٹھہرانے کے قیامت سے جو میں تم کو ڈراتا ہوں اس کی ہر سمجھ دار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ بغیر نیکی وبدی کی جزا وسزا کے دنیا کا پیدا کرتا بےفائدہ ٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے سورة طہ میں گزر چکا ہے کہ قیامت کا وقت اللہ تعالیٰ نے اس لیے پوشیدہ رکھا ہے کہ اچانک وقت پر آنے والی چیز کا خوف ہر زمانے کے لوگوں کے دل میں رہے ورنہ وقت سے پہلے لوگ قیامت سے بالکل بےفکر ہوجاتے وما یشعرون ایان یبعثون کا یہی مطلب ہے۔ اِدّٓارَکَ عِلْمُھُمْ میں ادارک کا لفظ اصل میں تدارک ہے ت کو دال میں ادغام کر کے اول میں ہمزہ لگا دینے سے اِوَّارَک ہوگیا ہے جس کے معنیٰ کسی چیز کے پورے ہوجانے کے ہیں۔ حشر کے منکر لوگوں کی دریافت امور آخرت میں پوری ہوگئی اس کے دو مطلب ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے ایک قول کے موافق پہلا مطلب تو یہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ دنیا میں اندھے شخص کی طرح امور آخرت میں اس سبب سے شک میں پڑے ہوئے ہیں کہ وحی کے ذریعہ سے آخرت کی جو باتیں ان کو سمجھائی گئی ہیں ان کے تو یہ لوگ منکر ہیں اور فقط عقل سے وہ باتیں معلوم نہیں ہوسکتی ہیں ہاں آخرت میں جب وہ باتیں ان کے سامنے آجاویں گی تو اس بات میں ان کا علم ان کی دریافت سب کچھ پورا ہوجاوے گا دوسرا مطلب حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے دوسرے قول موافق یہ ہے کہ وحی کے انکار اور عقل کے کار آمد نہ ہونے کے سبب سے امور آخرت کی دریافت میں ان کے علم کا خاتمہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات میں ان لوگوں کے علم کے سب ذریعے بند اور ان کا علم اس باب میں تھکا ہوا ہے شاہ صاحب نے آیت کا ترجمہ جو کیا ہے بلکہ ہارگئی ان کی دریافت آخرت میں یہ ترجمہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے دوسرے قول کے موافق ہے لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا پہلا قول سورة قاف کی آیت لقدکنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک عظاء کہ فبصرک الیوم حدید کے بالکل مطابق ہے کیونکہ جو مطلب حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پہلے قول کا اوپر بیان کیا گیا ہے وہی مطلب سورة قاف کی اس آیت کا ہے اس لیے حافظ ابو جعفرابن جریر (رح) نے اپنی تفسیر میں اسی قوی قرار دیا ہے پچھلے انبیاء کے قصوں میں اور آنحضرت ﷺ کے حال کی نصیحت میں حشر کا حال سن کر مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ حشر کا ڈراوا تو وہی پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ان سے ہم کیا ڈرتے ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے کہہ دو کہ ملک شام اور یمن کے سفر میں ان اجڑی ہوئی بستیوں کو دیکھو جن کے تباہ ہونے کا۔ “ پچھلے انبیاء ( علیہ السلام) کے قصوں میں ان لوگوں کو سنایا گیا ہے تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ حشر کے قائم ہونے کی نصیحت کہانیاں نہیں بلکہ ایسی سچی باتیں ہیں جن کے جھٹلانے والے طرح طرح کے عذابوں میں گرفتار ہو کر تباہ اور برباد ہوچکے ہیں اس پر بھی اگر یہ نہ مانیں گے تو وہی انجام ان کا ہوگا جو ان سے پہلوں کا ہوا۔ اللہ سچا ہے اور اللہ کا کلام سچا ہے مشرکین مکہ میں حشر کے بڑے بڑے جھٹلانے والوں کا جو انجام بدر کی لڑائی میں ہوا اس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک (رح) کی روایتوں کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکا ہے کہ دنیا میں بڑی ذلت سے یہ لوگ مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتانے کی غرض سے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پالیا۔