Ayahs 26:69–8569 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات کا اقرار نکلتا ہے اس لیے ان لوگوں نے گویا یہ اقرار کیا کہ ان بتوں کے پوجنے پر ہمارے پاس کوئی دلیل سوائے باپ دادا کی پیروی کے نہیں ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اب دیکھو تم جن کو تم اور تمہارے باپ دادا اللہ کے سوا پوجتے ہیں وہ میرے دشمن ہیں اور میں ان کا دشمن ہوں یہ آیت مثل اس کے ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے قول کی خبر دی ہے کہ جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا ‘ (یا قوم ان کان کبر علیکم مقامی وتذکیری بایت اللہ فعلی اللہ توکلت فاجمعوا امرکم وشرکاء کم ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ ثم اقضوا الی ولا تنظرون) جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر میرے سمجھانے سے اے قوم کے لوگو تم برا مانتے ہو تو جو کچھ تم کرسکو میرا کرو اسی طرح اپراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ میں تمہارے بتوں کا دشمن ہوں تم سے اور تمہارے بتوں سے میرے ساتھ جو بدسلوکی ہو سکے وہ کرو۔ فرعون کے قصہ سے قریش کو ڈرا کر اب ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ سے ان میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو تمہارے پیشوا ہیں باپ دادا کی راہ کو غلط دیکھ کر ترک کردیا اسی طرح تم کو باپ دادا کی راہ غلط کو چھوڑنا چاہیے پھر آگے کی آیتوں میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے کہ اس نے مجھ کو پیدا کیا وہی مجھے ہدایت کرتا ہے اور کھلاتا پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے ‘ اور وہی مجھ کو مارے گا اور جلاوے گا اور اسی سے مجھ کو امید ہے کہ بخشے گا قیامت کے دن میرے قصور غرض حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ان اوصاف کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ میں نہیں پوجتا مگر اس ذات پاک کو کہ جو یہ تمام باتیں کرنے والا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی کہ اے میرے رب دے مجھ کو نبوت اور ملا نیکوں میں اور کر میرا بول سچا پچھلوں میں مطلب یہ ہے کہ میرے خاندان میں آخری زمانہ میں نبی پیدا ہوں اور میرا دین قائم رکھیں اور میری پیروی کریں جیسا کہ فرمایا (وترکنا علیہ فی الاخرین سلام علی ابراھیم کذالک نجزی المحسنین) مجاہد وقتادہ بھی یہ کہتے ہیں کہ لسان صدق سے مراد اچھی تعریف ہے اور یہ آیت مثل اس قول کے ہے نجزی المحسنین مجاہد وقتادہ بھی یہ کہتے ہیں کہ لسان صدق سے مراد اچھی تعریف ہے اور یہ آیت مثل اس قول کے ہے وآتیناہ فی الدنیا حسنہ سدی نے کہا کہ مراد حکم سے نبوت ہے اور یہ جو فرمایا کہ ملا مجھ کو نیکوں میں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ دنیا اور آخرت میں نیکوں کے ساتھ رکھ جس طرح پیغمبر خدا ﷺ نے آخر وقت یہ دعا تین بار پڑھی اَللّٰھُمَّ فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی۔
صحیح بخاری کی حضرت عائشہ ؓ کی بعض روایتوں میں فیِ الرَّفِیْقِ الْاَ عْلٰی کے بعد مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین بھی آیا 1 ؎ ہے جس سے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ کا دعا کا یہ مطلب ہے کہ یا اللہ مجھ کو وفات کے بعد انبیاء کے گروہ میں ملا کر جنت کے وارثوں میں کر اور دنیا میں ذکر خیر باقی رکھ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 2 ؎ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر باوجود اس کے جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی بندگی کرتے ہیں ان سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مجرم نہیں اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف اور بتوں کی مذمت کا ذکر کر کے اپنے باپ اور اپنی قوم کو یہ جتلایا ہے کہ جب ان بتوں میں کوئی صفت اللہ تعالیٰ کی نہیں پائی جاتی اور اس پر بھی تم لوگ اپنے بڑوں کو رسم کے پابند ہو کر ان مورتوں کی پوجا کرتے ہو تو دنیا میں تم سے بڑھ کر کوئی مجرم نہیں ابراہیم (علیہ السلام) نے موقع پاکر ان بت پرستوں کے بتوں کو جو توڑ ڈالا تھا اس کا قصہ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے ان آیتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ جو کہا کہ بت میرے دشمن ہیں اور میں ان کا دشمن ہوں سورة انبیاء کا وہ قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کی گویا تفسیر ہے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ بابٌ بعد باب الکرامات )
(2 ؎ مشکوٰۃ باب الکبائر الخ )
Ayahs 26:86–8986 تا 89:۔ سورة توبہ اور سورة مریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کی تفسیر گزر چکی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے باپ آزر کی بت پرستی سے بےزار ہو کر باپ سے جدا ہونے لگے تو باپ کے حق میں دعائے خیر کرنے کا وعدہ انہوں نے باپ سے کیا تھا اس وعدہ کو پورا کرنے کے لیے اس وقت تک باپ کے لیے مغفرت کی دعا مانگا کرتے تھے جب تک باپ کے کفر کی حالت پر مرنے کا یقین ان کو نہیں ہوا تھا جب یہ معلوم ہوگیا کہ باپ کا خاتمہ کفر پر ہوا تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کے لیے دعا مانگنی چھوڑ دی تھی اب یہی حکم شریعت محمدی میں سورة توبہ اور سورة ممتحنہ کے نازل ہونے کے بعد سے قائم ہے کیونکہ سورة توبہ اور سورة ممتحنہ میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے رشتہ داروں کے لیے دعائے مغفرت کرنے کو منع فرمایا ہے جب کہ کفر کی حالت پر مرنا معلوم ہوجائے ہاں سورة توبہ کے نازل ہونے سے پہلے آنحضرت ﷺ نے ابو طالب اور اپنے ماں باپ کے لیے مغفرت کی دعا مانگنے کا ارادہ کیا تھا اور بعضے صحابہ ؓ بھی اپنے مشرک ماں باپ کے لیے مغفرت کی دعا مانگا کرتے تھے اسی پر اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ کی آیت ما کان للنبی والذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین نازل فرمائی صحیح بخاری کی حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث 1 ؎ کا حاصل یہ ہے کہ آزر کو ایک جانور کی صورت بنا کر جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اللہ سے اپنے باپ آزر کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جھگڑیں گے اور اللہ تعالیٰ یہ فرمائے گا کہ آزر کفر کی حالت میں مرے ہیں اور جنت کافروں پر حرام ہے اس حدیث کو بعضے مفسروں نے اس آیت کی تفسیر میں نقل کر کے یہ اعتراض کیا ہے کہ آزر کی حالت کفر پر مرنے کا یقین ہوجانے کے بعد جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دنیا میں ہی اپنے باپ آزر کے لیے دعائے مغفرت چھوڑ دی تھی تو پھر قیامت کے دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا آزر کی مغفرت کے باب میں اللہ تعالیٰ سے جھگڑنے کا کیا سبب ہے اس کا جواب حافظ ابن حجر نے فتح الباری 2 ؎ شرح صحیح بخاری میں دیدیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح روایت جو تفسیر ابن جریر میں ہے اس سے تو یہ ثابت ہوچکا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دنیا میں ہی اپنے باپ آزر کے لیے دعائے مغفرت چھوڑ دی تھی لیکن قیامت کے دن جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ آزر کو دیکھیں گے تو بشریت کے تقاضے اور ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ آزر کی صورت کے دیکھنے سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو محبت فرزندی کا جوش جو تھا وہ بھی باقی نہ رہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث 3 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک اولاد کی دعا سے مرجانے کے بعد آدمی کو فائدہ پہنچتا ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی دوسری 4 ؎ حدیث ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا آدمی نے اپنی زندگی میں جو کھا پہن لیا وہ تو گیا ہاں جو کچھ اللہ کے نام پر دیا اس کا اجر ملے گا صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا نیک عملوں کے قبول کرنے میں اللہ تعالیٰ کی نظر ہمیشہ آدمی کے دل پر لگی رہتی ہے کہ اس کا اعتقاد شرک ونفاق اور ریا کاری سے کہاں تک پاک صاف ہے ان حدیثوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی باقی کی دعا کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ قیامت کے دن کی رسوائی سے بچائیو کیونکہ وہ دن ایسا ہے کہ اس میں شرک وریا کاری سے جب تک دل صاف وپاک نہ ہوگا تو مال واولاد جیسے کام آنے والی چیز بھی کسی کے کچھ کام نہ آوے گی۔ شاہ صاحب 5 ؎ نے قلب سلیم کا ترجمہ دل چنگا جو کیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ اس دن شرک ریا کاری اور نفاق کے مرض سے دل کو صاف اور بھلا چنگا ہونا چاہیے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ض 339 ج 3۔ )
(2 ؎ فتح الباری ص 288 ج 4 طبع دہلی )
(3 ؎ مشکوٰۃ کتاب العلم )
(4 ؎ مشکوٰۃ کتاب الرقاق فصل اول )
(5 ؎ شاہ عبد القادر ہلوی (رح) صاحب موضح القرآن۔ )
Ayahs 26:90–101(90 تا 101) دنیا میں جن لوگوں نے جنت میں داخل ہونے کے لائق کام کئے جنت کو سنوار کر ان پرہیز گاروں کے روبرو لایا جائے گا اور دوزخ کو گمراہوں کے سامنے کیا جائے گا اور نکلے گی دوزخ میں سے ایک گردن پھر اس طرح چیخے گی کہ دل ہل جاویں گے یہ جھڑکی کے طور پر دوزخیوں سے وہ آگ کی گردن کہے گی کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے اللہ کو چھوڑ کر پھر اوندھے ڈالے جاویں گے دوزخ میں سب گمراہ اور تمام لشکر شیطان کا جب وہ اس دوزخ میں جھگڑیں گے تو بہکنے والے بہکانے والوں سے کہیں گے قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جبکہ برابر کرتے تھے ہم تم کو رب العالمین کے ساتھ اور کہیں گے نہیں بہکایا ہم کو راہ نیک سے مگر انہیں مجرموں نے اب کوئی نہیں ہماری سفارش کرنے والا اور نہیں کوئی دوست ہمارا محبت کرنے والا۔ حیم سے مطلب قریب کا رشتہ دار ہے پل صراط اس پل کا نام ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان میں ہے جو کوئی جنت میں داخل ہوگا اس کو اس پل پر سے گزرنا پڑے گا صحیح مسلم میں حذیفہ ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے جو 1 ؎ روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اپنے اپنے اعمال کے موافق نیک لوگ اس پل پر سے گزریں گے کچھ لوگ بجلی کی طرح اور کچھ ہوا کی طرح اور کچھ کی پرواز جانوروں کی طرح۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں جنت کو پرہیزگاروں کے پاس لائے جانے کا جو ذکر ہے یہ روایتیں گویا اس کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ پل صراط پر جیسے جس کی چال ہوگی ویسی اس کو جنت پاس معلوم ہوگی صحیح مسلم کے حوالہ 2 ؎ عبد اللہ مسعود ؓ کی ایک حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو میدان حشر میں لایا جائے گا۔ ان آیتوں میں دوزخ کے سامنے لائے جانے کا جو ذکر ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے دوزخ کی گردن کے نکلنے کا ذکر ترمذی میں ابوہریرہ ؓ کی معتبر حدیث میں آیا ہے۔
(1 ؎ الترغیب والترہیب ص 427 ج باب الحوض والمیزان والصراط ‘ )
(2 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی صفۃ اہل النار )
Ayahs 26:102–104102 تا 104:۔ اوپر کی آیتوں کے موافق جب کہ جنت طرح طرح کی نعمتوں سے آراستہ کی جاوے گی جس آراستگی کا ذکر آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت 4 ؎ میں مختصر طور پر یوں فرمایا ہے کہ ایک کمان کی لکڑی کی لمبائی برابر جگہ بھی جنت میں تمام دنیا اور تمام دنیا کی نعمتوں سے بہتر ہے اور اسی طرح دوزخ میں طرح طرح کے عذاب مہیا کئے جاویں گے جس کا ذکر آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی ترمذی 5 ؎ کی صحیح روایت میں اس طرح فرمایا ہے کہ دوزخ کے تھور کے دودھ کا ایک قطرہ بھی دنیا میں آن پڑے تو تمام اہل دنیا کی زیست دشوار ہوجائے اس جنت کی نعمتوں اور دوزخ کے عذابوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مختصر طور پر اوپر کی آیتوں میں فرما کر اب یہ فرمایا ہے کہ دنیا میں تو عاقبت کے منکر لوگ دوزخ کے عذاب سے نڈر ہیں میدان حشر میں جب وہ عذاب دیکھیں گے۔ تو یہ خواہش کریں گے۔ کہ کاش وہ پھر دنیا میں پیدا کئے جاویں اور نیک کام کر کے جس طرح نیک کام کرنے والوں کو اس عذاب سے نجات مل گئی ہے اسی طرح ان کو بھی اس عذاب سے نجات مل جاوے مگر یہ خواہش ان کی اللہ تعالیٰ کے علم میں جھوٹی ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے سورة انعام میں فرما دیا ہے کہ اگر ان لوگوں کو دوبارہ دنیا میں پیدا کیا جاوے تو پھر یہ ایسے ہی میرے مخالف کام کریں گے جیسے اب کر رہے ہیں غرض یہ تو حشر کے وقت کا حال ہوا اب حساب کتاب کے بعد لوگ جب دوزخ میں منہ کے بل ڈالے جاویں گے اس وقت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں فرمایا ہے کہ کبھی تو یہ بدلوگ قسمیں کھا کھا کر اپنی گمراہی پر افسوس کریں گے اور کبھی یہ بد لوگ شیطان یا گمراہ کرنے والے دوست جنہوں نے بہکایا ہے ان کو برا بھلا کہیں گے اور کبھی چھوٹے گناہ گاروں کو انبیاء اور ملائکہ اور نیک لوگوں کی شفاعت سے نجات پاتے دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ کوئی دوست ان کا بھی ایسا پیدا ہوجاوے کہ ان کی شفاعت کرے اور ان کو اس عذاب سے نجات دلوادے مگر آخرت تو ایسا ایک مقام ہے کہ سوا توحید کے اور کوئی چیز وہاں کام نہیں آسکتی اس واسطے ان مشرکوں کو کوئی آرزو کام نہ آوے گی اور فرشتے ان کو عذاب میں مبتلا دیکھ کر اوپر کی آیتوں کے موافق یہ طعنے دیویں گے کہ اللہ کے سوا جو تم لوگوں نے دنیا میں اپنے معبود ٹھہرا رکھے تھے وہ تمہارے معبود آج کہا ہیں وہ معبود ایسے برے وقت میں آن کر تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے حاصل کلام یہ ہے کہ انسان کی عقلمندی اس میں ہے کہ دنیا میں کچھ نیک عمل کر کے عاقبت کے لیے تھوڑا بہت ذخیرہ کرلے اور پھر اللہ کی رحمت سے عاقبت میں نجات کی توقع رکھے جو لوگ دنیا میں تمام عمر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں اور عاقبت میں اپنی بہبودی کی توقع اللہ سے رکھتے ہیں وہ لوگ بالکل عقل سے بےبہرہ ہیں اور وقت پر کوئی توقع ان کی پوری ہونے والی نہیں معتبر سند سے ترمذی اور ابن ماجہ میں شداد بن اوس 1 ؎ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو دنیا میں عاقبت کے نجات کے کام کرے اور عقل سے بےبہرہ وہ شخص ہے جو دنیا میں جو اس کا جی چاہے وہ کرتا ہے اور عاقبت میں اللہ تعالیٰ کی جناب سے طرح طرح کی اپنی امیدیں اور خواہش پوری ہونے کی ہوش دل میں رکھتا ہے آخر فرمایا کہ دنیا میں عقبیٰ کا انجام جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جتلا دیا ہے یہ اس کی قدرت کی ایک نشانی ہے لیکن جو لوگ علم الٰہی میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں وہ کسی نشانی سے راہ راست پر نہیں آنے والے یہ اللہ کی ایک رحمت ہے جو اس نے ایسے لوگوں کو مہلت دے رکھی ہے اگر مہلت کے زمانہ میں بھی یہ لوگ نہ راہ راست پر آئے تو اللہ کی پکڑ بھی ایسی زبردست ہے کہ جب وہ پکڑتا ہے تو وہ بالکل برباد کردیتا ہے چناچہ اس کے بعد چند نافرمان قوموں کے قصے ان لوگوں کو سنائے جاتے ہیں جن قصوں سے ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کافران قوموں کو پہلے مہلت دی گئی اور پھر مہلت کے بعد ان کا انجام کیا ہوا۔
(4 ؎ مشکوٰۃ باب صفۃ الجنۃ واہلہا۔ )
(5 ؎ مشکوۃ النار واہلہا فصل دوسری۔ )
(1 ؎ مشکوٰۃ باب استحباب المال والعمر للطاعۃ فصل دوسری۔ )