Ayahs 26:176–191(176 تا 191) یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے شروع میں شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو جو نصیحت کی وہ انبیاء کے موافق ہے تفسیر عکرمہ تفسیر قتادہ اور تفسیر سدی میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اصحاب مدین اور اصحابہ الایکہ دو امتوں کا نبی قرار دیا ہے اس لیے قرآن شریف میں اصحاب مدین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی اس قوم کا بھائی فرمایا ہے اور اصحاب الا یکہ کے ساتھ بھائی نہیں فرمایا اور اصحاب مدین پر زلزلہ اور چنگھاڑ کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور اصحاب الایکہ پر آسمان سے انگارے برسنے کے عذاب کا نازل ہونا فرمایا ہے اور عذاب کی تین صورتیں زلزلہ اور چنگھاڑ اور انگاروں کا مینہ قرآن شریف میں دیکھ کر بعضے مفسروں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) تینوں امتوں کے نبی ہوئے ہیں۔ لیکن جمہور مفسرین اس بات پر قائم ہیں کہ اصحاب مدین اور اصحاب ایکہ ایک ہی امت ہے مدین کے باہر ہے اسی کو ایکہ فرمایا ہے یہ لوگ پیڑوں کو پوجتے تھے اس واسطے جہاں ان لوگوں کا نام پیڑوں کے پوجنے کا فرمایا ہے وہاں حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو ان کا بھائی نہیں فرمایا ابن عساکر نے حضرت عبد اللہ بن عمرو کی روایت سے ایک حدیث بھی نقل کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اہل مدین اور اہل ایکہ دو امتیں ہیں اور حضرت شعیب ان دونوں امتوں کے نبی مقرر ہوئے تھے حافظ عماد الدین ابن کثیر 1 ؎ (رح) نے اس حدیث کی سند پر اعتراض کیا ہے اور صحیح یہی بات قرار دی ہے کہ یہ حدیث نہیں ہے بلکہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کا قول ہے یہ حضرت شعیب کی امت کے لوگ پیڑوں کو پوجتے تھے کم تولتے تھے راستہ لوٹتے تھے حضرت شعیب ( علیہ السلام) ایک مدت تک ان لوگوں کو نصیحت کرتے رہے لیکن یہ لوگ باز نہ آئے پھر ان پر اس طرح عذاب نازل ہوا کہ پہلے زلزلہ آیا اور سخت آواز آئی جس کے سبب سے گھبرا کر یہ لوگ اپنے گھروں سے نکلے گھروں کے باہر سات روز تک ان پر ایسی گرمی غالب ہوئی کہ کہیں ان کو چین نہ تھا اتنے میں ایک ابر کا ٹکڑا نمودار ہوا پہلے ایک شخص ان میں کا اس ابر کے نیچے گیا اور اس نے اس ابر کے نیچے ٹھنڈک پاکر اس ٹھنڈک کی اوروں کو خبر دی جب سب قوم کے لوگ اس ابر کے نیچے جمع ہوگئے تو ابر میں سے انگارے برس کر سب ہلاک ہوگئے یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نابینا تھے ان کی تقریر بہت اچھی تھی اس لیے ان کو خطیب الانبیاء کہتے تھے جس امت میں جو کچھ عیب تھا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اس کو الگ الگ تفصیل سے بیان فرمایا ہے اہل مدین اور اہل ایکہ کے عیب جدا جدا کچھ بیان نہیں فرمائے اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں قومیں ایک ہی امت کے لوگ تھے اکثر مفسروں کے قول کے موافق یہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) وہی ہیں جن کے پاس مصر سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) گئے تھے اور جن کی ایک لڑکی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوا اکثر مفسروں کے اس مشہور قول پر حافظ ابن کثیر (رح) نے جو اعتراض کیا ہے اس کا ذکر سورة ہود میں گزر چکا 1 ؎ ہے۔ اس امت پر طرح طرح کا عذاب جو نازل ہوا اس کا سبب مفسرین نے لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے نبی سے طرح طرح کی بےادبیاں کی تھیں چناچہ یہ جو انہوں نے کہا تھا کہ اے شعیب ہم تم کو اور تمہارے ساتھ کے مسلمانوں کو بستی سے نکال دیں گے اس کی سزا میں زلزلہ کے سبب سے خود یہ لوگ بستی سے نکلے اور یہ جو کہا تھا کہ اے شعیب کیا تمہاری نماز ہم کو ہمارے معبودوں کی عبادت سے روکتی اور منع کرتی ہے اس بکواس کی سزا میں چنگاڑ کا عذاب آیا جس سے یہ لوگ دم بخود ہو کر پھر بات بھی منہ سے نہ نکال سکے اور یہ جو کہا تھا کہ اے شعیب اگر تم سچے نبی ہو تو عذاب کے طور پر آسمان کا ایک ٹکڑا ہم پر گرادو اس کی سزا میں وہ ابر آیا جس سے انگاروں کا مینہ برسا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث جو اوپر گزر چکی ہے قوم شعیب ( علیہ السلام) کی مہلت اور ہلاکت کی بھی وہی حدیث گویا تفسیر ہے ‘ ان سب قصوں سے جو قریش کو اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت سے باز نہیں آئے وہ بدر کی لڑائی کے وقت دنیا اور عقبیٰ کے عذاب میں پکڑے گئے۔ جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح بخاری ومسلم کی روایتوں کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکا ہے تفسیر ضحاک میں یوم الظلہ کی تفسیر عذاب والے ابر کے دن کی ہے لیکن وہ ابر قوم شعیب ( علیہ السلام) پر سائبان کی طرح چھا گیا تھا اس واسطے شاہ صاحب نے یوم الظلہ کا ترجمہ ” سائبان والا دن “ کیا ہے اس سے زیادہ تفصیل قوم شعیب کے قصہ کی سورة ہود میں گزر چکی ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 345 ج 3۔ )
(1 ؎ ملاحظہ فرمایے صفحہ 119 جلد 3 جس میں صحیح باب اسی کو قرار دیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے سسر کوئی دوسرے بزرگ تھے اور یہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) نے لکھا ہے (جامع الرسائل لابن تیمیہ ص 64 ج ا صحقیق محمد رشاد سلام ع۔ ح۔ )
Ayahs 26:192–203(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم الٰہی کو جھٹلایا اور اس کا خلاف کیا پھر فرمایا اتارا قرآن شریف کو عربی زبان میں جو نہایت فصیح ہے اور اس قرآن شریف کا ذکر پہلی کتابوں میں بھی موجود ہے پھر فرمایا مکہ کے کافروں کو کیا یہ گواہی کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے عالم اس قرآن شریف کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے ہیں جن کو وہ رات دن پڑھا کرتے ہیں پھر قریش کے سخت نافرمان ہونے کا ذکر فرمایا کہ اگر قرآن شریف کو ہم کسی ایسے آدمی پر نازل کرتے کہ جس کی زبان عربی نہ ہوتی اور وہ ان کے سامنے قرآن پڑھتا تو بھی یہ کافر مکہ اس پر ایمان نہ لاتے اب آگے فرمایا کہ اسی طرح کے جھٹلانے پر مجرموں کے دل مائل ہوگئے ہیں اس لیے یہ لوگ حق بات کو اس قوت تک نہیں مانتے جب تک دیکھیں عذاب دردناک اور جب دیکھیں گے عذاب تو اس وقت ان کا عذر کچھ فائدہ نہ دے گا بلکہ خدا کا عذاب ان پر اچانک آجائے گا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی پھر اس وقت کہیں گے کہ اگر تھوڑی سی بھی ہم کو مہلت دی جاوے تو ہم اللہ تعالیٰ کی فرما نبرداری اور بندگی کرلیں جیسا کہ سورة ابراہیم میں فرمایا وانذ دالناس یوم تایتھم العذاب فیقول الذین ظلمولولا اخد تنا الی اجل قریب نجب دعوتک ونتبع الرسل جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ہر کافر جب خدا کا عذاب دیکھے گا تو بہت پچھتاوے گا اور اس پچتاوے کے وقت حکم الٰہی کے موافق دنیا نیک وبد کے متحان کے لیے پیدا کی گئی ہے ایسی بےبسی کے وقت وہ امتحان کا موقع نہیں رہتا چناچہ سورة یونس میں گزر چکا ہے کہ ڈوبنے کے وقت فرعون نے راہ راست پر آنے کا اقرار کیا اور اس کا وہ اقرار بےمحل قرار بےمحل قرار پایا صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر شخص کو اس وقت تک نیک عمل کی کوشش کرنی چاہیے کہ موت بالکل سامنے نہ آجائے یا مثلا سورج مغرب سے نہ نکلے حاصل یہ ہے کہ سورة یونس کا فرعون کا قصہ اور حدیث بےبسی کے وقت نیک عمل کے قبول نہ ہونے کی تفسیر ہے جن کے حاصل یہ ہے کہ ایسی بےبسی کے وقت شریعت کا کوئی حکم انسان کے ذمہ باقی نہیں رہتا اس واسطے اس وقت کا کوئی نیک کام مقبول نہیں سورة بقر میں گزر چکا ہے کہ جو اوصاف دین محمدی کے قرآن میں ہیں وہی اوصاف پہلی کتابوں میں تفصیل سے تھے اس لیے اہل کتاب نبی آخرالزمان ﷺ کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے تھے غرض سورة بقر کی آیت الذین آیتنا ھم الکتاب یعر فونہ کما یعرفون ابناء ھم آیت وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِالْاَ وَّلِیْنَ کی گویا تفسیر ہے علمائے بنی اسرائیل سے مطلب عبد اللہ 1 بن سلام ابن یامین 2 ثعلبہ 3 اسد 4 اور راسید 5 ہیں 1 ؎ جنہوں نے قرآن کو کتاب آسمانی جانا اور اسلام اختیار کیا۔ صحیح بخاری ومسلم 2 ؎ میں یعلی ؓ بن امیہ کا جو قصہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ یعلی بن امیہ ؓ حضرت عمر ؓ سے کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ پر جس وقت وحی نازل ہوتی ہے اب وقت کی آپ ﷺ کی حالت کبھی مجھ کو دکھاؤ یعلی بن امیہ ؓ کی اس خواہش کے موافق سند میں جعرانہ مقام کی وحی کی حالت جو حضرت عمر ؓ نے یعلی بن امیہ ؓ کو دکھائی تو اللہ کے رسول ﷺ کے دل پر وحی کا ایسا اثر پڑا تھا کہ اس وقت آپ ﷺ کی حالت غش کی سی ہوگئی تھی حاصل کلام یہ ہے کہ وحی کے نازل ہونے کے وقت اللہ کے رسول ﷺ کے دل پر جو اثر پڑا کرتا تھا اس جتلانے کے لیے ان آیتوں میں علیٰ قلبک کا لفظ فرمایا ہے مشرکین مکہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ کی زبان بھی عربی ہے اور قرآن بھی عربی میں ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن محمد ﷺ خو دبنا لیتے ہیں اس کے جواب میں فرمایا کہ قرآن عربی زبان میں اس لیے اتارا گیا ہے کہ اس کا مطلب لوگوں کی سمجھ میں آجاوے لیکن جن لوگوں کے دل میں علم الٰہی کے موافق اصلی گمراہی لکھی ہوئی ہے وہ لوگ کسی دوسری زبان کا قرآن سن کر بھی راہ راست پر آنے والے نہیں چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ان ازلی گمراہوں کی آنکھوں کے سامنے آسمان سے فرشتے اتر آویں یا زمین کے مردے قبروں میں سے اٹھ کر ان کو سمجھاویں جب بھی یہ ازلی گمراہ راہ راست پر نہ آویں گے۔
(1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 95 ج 75 )
(2 ؎ صحیح بخاری ص 208 ج 1 باب غسل الخلوق ثلاث مرات من الثیاب )
Ayahs 26:204–207(204 تا 207) جس طرح اور امتوں کے لوگوں نے اپنے انبیاء سے یہ کہا تھا کہ اگر تم سچے نبی ہو تو ہم پر عذاب لے آؤاسی طرح قریش نے بھی اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ اگر یہ قرآن سچ ہو اور ہم اس پر ایمان نہ لانے ہوں تو ہم پر آسمان سے پتھر برسیں یا اور کوئی عذاب آجاوے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پچھلی امتوں کے سرکش لوگوں پر طرح طرح کے عذاب آجانے اور ان کے ہلاک ہوجانے کا ذکر فرما کر اس آیت میں قریش میں نضربن حارث اور ابوجہل کی عذاب کی دعا کا یہ جواب دیا ہے کہ اب تو دنیا کی فارغ البالی کے سبب سے اترا کے ان لوگوں کو یہ سرکشی سوجھی ہے کہ خواہشیں کر کے عذاب کے دعائیں مانگتے ہیں پہلی امتوں کی طرح دنیا میں ہی یا اگر دنیا میں ہی یا اگر دنیا چند روزہ گزر گئی تو آخرت میں جس وقت عذاب الٰہی کی مصیبت ان کے سر پر آن پڑے گی تو وہ ایسی مصیبت ہے کہ یہ دنیا کا چند روزہ عیش و آرام جس کے سبب سے آج یہ لوگ اترار ہے ہیں ان کو ذرا یاد بھی نہ رہے گا مصیبت ہی مصیبت پھر پکاریں گے مسلم کی روایت سے حضرت انس ؓ کی حدیث اوپر گذر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بڑے بڑے عیش و آرام میں دنیا بسر کرنے والوں کو دوزخ میں ڈالتے ہی جب ان سے فرشتے پوچھیں گے کہ کبھی دنیا میں تم نے کچھ راحت دیکھی تھی تو اس تکلیف کے آگے دنیا کی سب راحت بھول کردہ قسم کھا کر یہی جواب دیں گے کہ ہم نے کبھی راحت کی صورت بھی نہیں دیکھی یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اب تو دنیا کی فارغ البالی کے نشہ میں یہ لوگ عذاب کے خواہش کرتے ہیں لیکن جب عذاب میں گرفتار ہوجاویں گے تو دنیا کی یہ چند روزہ فارغ البالی ان کو یاد بھی نہ رہے گی۔
Ayahs 26:208–213(208 تا 213) یہ آیت مثل بنی اسرائیل کی آیت وَمَا کُنَّا مُعَذّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا کے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر رسول بھیجے اور سمجھائے خدا عذاب نہیں کرتا جیسا کہ سورة القصص میں فرمایا وما کان ربک مھلک القریٰ حتی یبعث فی امھا رسولا یتلو علیھم اثینا وما کنا مھل کی القریٰ الا واھلھا ظلمون جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہیں کھپاتے بستیوں کو مگر جب رسولوں کے بھیجنے کے بعد بستی والے ظلم کرتے ہیں غرض برے عمل عذاب کا سبب ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے پھر فرمایا قرآن شریف میں جو نیک باتیں ہیں وہ کام شیطان کا نہیں ہے اور شیاطین تو قرآن شریف اللہ کے ہاں سے معتبر فرشتہ کی معرفت اس بڑے انتظام کے ساتھ اترتا ہے اس کے بعد حکم کیا اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو کہ نہ پکار خدا کے ساتھ کسی دوسرے کو کیونکہ وہ اکیلا ہے وحدہ لاشریک کوئی اس کا ساجھی نہیں اگر کوئی خدا کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب کرے گا اگرچہ یہ آخری آیت کا ارشاد آنحضرت ﷺ کو ہے مگر اصل میں امت کے لوگوں کو اس میں شرک کی برائی جتلائی گئی ہے کہ بالفرض اگر کوئی رسول بھی شرک کر بیٹھے تو عذاب میں پکڑا جاوے پھر امت کے لوگ کس گنتی میں ہیں۔ صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو انجانی کے عذر کا رفع کردینا بہت پسند ہے اسی واسطے اس نے ہر ایک بستی میں رسول بھیجے یہ حدیث الا لھا منذرون کی گویا تفسیر ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر ٹھہرالیا ہے۔ یہ حدیث مَاکُنَّا ظَالِمِیْنَ کی گویا تفسیر ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث 1 ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے نازل ہونے کے زمانہ میں بہ نسبت پہلے کے آسمان پر حفاظت کا انتظام زیادہ ہوگیا تھا اس لیے جو جنات اس سے پہلے آسمان پر کی باتیں چوری سے سن آیا کرتے تھے اور کاہن لوگوں سے وہ باتیں کہہ کر انہیں اپنا معتقد بنایا کرتے تھے ان جنات کو اس لیے انتظام کی بڑی جستجو میں ان جنات کی ٹکڑیاں ہر طرف پھرتی تھیں ایک دفعہ ان کا ایک ٹکڑی نے مکہ اور ظائف کے درمیان میں آنحضرت ﷺ کی صبح کی نماز میں قرآن شریف پڑھتے ہوئے سنا اور سمجھ گئے کہ اس کلام کی حفاظت کے لیے مسلمان پر چو کسی زیادہ ہوتی ہے اور اس بات کے سمجھ جانے کے بعد وہ جنات دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے سورة جن میں اس کی تفصیل زیادہ آوے گی حاصل کلام یہ ہے کہ سورة جن کی آیتیں اور یہ حدیث انھم عن السمع لمعزولون کی گویا تفسیر ہے۔ ‘
(1 ؎ بحوالہ صحیح بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورة الجن۔ )
Ayah 26:214(214) موضح القرآن میں جو ذکر ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے اپنے کنبے والوں کو نام لے لے کر خاص طور سے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور قریش کو ایک قبیلہ کا نام لے کر ڈرایا یہ روایت صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے آئی ہے 1 ؎ اور بعضے مفسروں نے اس روایت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر آنحضرت ﷺ کے عذاب الٰہی سے ڈرانے کا قصہ ہجرت سے پہلے مکہ کا ایک قصہ ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ ہجرت کے بعد مدینہ میں اسلام لائے ہیں اسی طرح عبد اللہ بن عباس ؓ کو ہجرت کے بعد روایت کرنے کے قابل ہوش آیا ہے ہجرت سے پہلے وہ بالکل بچے تھے پھر یہ مکہ کے قصہ کی روایت حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے کیوں کر ہے حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں اس اعتراض کا جواب یوں دیا ہے کہ اور صحابیوں نے جو ہجرت سے پہلے روایت کرنے کے قابل تھے اس قصہ کو دیکھا ہے اور ان صحابیوں سے اس قصہ کو سن کر حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے مدینہ میں اسے روایت کے طور پر بیان کیا ہے اس طرح کی روایت کو محدثین ” مراسیل صحابہ ؓ “ کہتے ہیں جو روایت کا مقبول طریقہ ہے امام نووی (رح) نے شرح صحیح مسلم میں امام بخاری پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس آیت کی روایت میں ایک آیت کا ٹکڑا ومنھم المخلصین اور ہے جس کی تلاوت اب منسوخ ہے اور اس ٹکڑے کو امام بخاری نے روایت نہیں کیا اس کا جواب بھی خافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں دے دیا ہے کہ سورة تبت کی تفسیر میں امام بخاری (رح) نے ساری روایت 2 ؎ بیان کی ہے اس میں آیت کا ٹکڑا بھی موجود ہے اس سورة کی تفسیر میں امام بخاری (رح) نے اس آیت کے ٹکڑے کو جو چھوڑ دیا ہے اس کا سبب امام بخاری (رح) کی اس عادت کے موافق ہے کہ وہ ایک روایت کو کتاب بھر میں ایک جگہ پوری بیان کر کے پھر اور جگہ اس روایت کا فقط ایک ٹکڑا بیان کردیتے ہیں اس روایت کا بھی وہی حال ہے امام نووی (رح) نے ماید سورة تبت کو صحیح بخاری میں خیال نہیں کیا اس لیے انہوں نے شرح صحیح مسلم میں وہ اعتراض کیا ہے
(1 ؎ مشکوٰۃ باب الا نذار والتحدیر ‘ )
(2 ؎ صحیح بخاری ص 743 ج 2‘ )