26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 26:141–159

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

اور قوم ثمود نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جب ان کو ان کے بھائی صالح نے کہا تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

اور میں اس کا تم سے بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا جو چیزیں (تمہیں یہاں میسر) ہیں ان میں تم بےخوف چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

(یعنی) باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف و نازک ہوتے ہیں

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تکلف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو خدا سے ڈرو اور میرے کہے پر چلو

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تم اور کچھ نہیں ہماری ہی طرح کے آدمی ہو اگر سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

(صالح نے) کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معین روز تمہاری باری

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آپکڑے گا

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر نادم ہوئے

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

سو ان کو عذاب نے آپکڑا بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

(141 تا 159) حضرت نوح (علیہ السلام) سے سلسلہ شروع ہو کر یہ تیسرے پیغمبر حضرت صالح ہیں جو حضرت ہود ( علیہ السلام) کے بعد نبی ہوئے قوم ثمود ان کی امت کا نام ہے شروع میں صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو وہی نصیحت کی ہے جو نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اپنی امت کو کی تھی مکان اینٹ اور پتھر کے بناتے تھے یہ لوگ پہاڑوں میں مکان تراش ثراش کر ان مکانوں میں رہتے تھے۔ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے سورة ہود میں روایتیں گزر چکی ہیں 1 ؎ کہ تبوک کی لڑائی کے وقت آنحضرت ﷺ اپنی اس قوم کے اجڑے ہوئے مکانات پر سے ہو کر گزرے تھے اور آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو ان لوگوں کے مکانات کے اندر جانے سے منع فرمایا تھا ‘ اور سوائے اونٹنی والے کنوئیں کے اور کسی پانی سے جن صحابہ ؓ نے آٹا گوندھا تھا یا کھانا پکایا تھا وہ آٹا اور کھانا آپ ﷺ نے پھنکوا دیا تھا اور فرمایا تھا کہ اس عذاب میں گرفتار ہوئی قوم کے مکانات کو دیکھ کر خدا سے ڈرنا چاہیے خدا سے کیا دور ہے کہ وہ اوروں کو بھی اسی طرح اپنے عذاب میں پکڑ لیوے جب صالح (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو عیش و آرام کی غفلت اور سرکش لوگوں کی عادتوں سے منع کیا تو ان لوگوں نے صالح (علیہ السلام) پر جادو کا اثر بتلایا اور ان سے کسی معجزے کے دکھانے کی خواہش کی اور صالح (علیہ السلام) نے اونٹنی کا معجزہ دکھایا جس کا پورا قصہ سورة ہود میں گزر چکا ہے لیکن اس قوم کے لوگوں نے اونٹنی کا معجزہ دیکھ کر بھی حضرت صالح کی فرمانبرداری قبول نہیں کی اور سرکشی سے اس اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا تو ان لوگوں پر اس طرح عذاب آیا کہ آسمان سے ایک سخت آواز آئی اور زمین میں زلزلہ آیا اس صدمے سے ان لوگوں کے کلیجے پھٹ گئے اور مرگئے قرآن شریف میں اس قوم کے عذاب کے ذکر میں اس واسطے کہیں فقط زلزلہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور کہیں سخت آواز کا ابو جعفرابن جریر (رح) اور معتبر مفسر علماء نے اس بات کی صراحت اچھی طرح کردی ہے کہ اس قوم کا عذاب دونوں چیزیں مل کر تھا اس قوم میں سے چار ہزار آدمیوں کے قریب لوگ مسلمان بھی ہوئے باقی کے سرکش لوگ مسلمانوں سے جھگڑتے رہے اور حضرت صالح ( علیہ السلام) سے کہا کہ اگر تم سچے نبی ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔ اس پر وہ عذاب آیا مسند امام احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت جابر ؓ سے 2 ؎ معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تبوک کی لڑائی کے وقت جب آنحضرت ﷺ ثمود کی بستی حجر سے گذرے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگوں انبیاء ( علیہ السلام) سے معجزہ چاہنا اچھا نہیں ہے اس قوم ثمود نے اللہ کے نبی صالح سے معجزہ کی خواہش کی اور اونٹنی کا معجزہ دیکھ کر بھی سرکشی سے باز نہ آئے آخر ہلاک ہوگئے حاصل کلام یہ ہے کہ یہ دونوں قومیں قوم عاد اور قوم ثمود جس طرح دنیا کی آرائش کی چیزیں باغ پختہ مکانات کے شوق اور حرص میں اپنی عمر گزارتی تھیں اس طرح کی آرائش دنیا کو آنحضرت ﷺ نے اپنی امت کے حق میں ناپسند فرمایا ہے معتبر سند سے ترمذی میں حضرت علی ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہجرت کے بعد مصعب بن عمیر صحابی ؓ ایک روز مدینہ منورہ کی مسجد میں آپ کو اس حال میں نظر پڑے کہ ان کی چادر میں چمڑے کا پیوند لگا ہوا تھا مصعب بن عمیر ؓ کا یہ حال دیکھ کر آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور آپ نے فرمایا کہ دیکھو مکہ میں مصعب ؓ کس طرح راحت سے رہتے تھے اور اب ان کا کیا حال ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کے لوگوں کا اس وقت کیا حال ہوگا کہ جب وہ دن میں کئی کئی پوشاکیں بدلیں گے اور طرح طرح کے کھانے کھاویں گے اور مکانوں کو بیت اللہ کی طرح آراستہ کریں گے صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضرت جب ہم لوگوں کو خوش حالی ہوجاوے گی تو ہم کو اللہ کی عبادت کا اور حقداروں کے حق ادا کرنے کا اچھا موقع ملے گا آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تم اس حالت سے اس حالت تنگی میں بہتر ہو یہ مصعب بن عمیر ؓ مہاجرین میں ہجرت سے پہلے مکہ میں بہت خوشحالی سے رہتے تھے ہجرت کے بعد تنگ حال ہوگئے کیونکہ ان کا سب مال واسباب مکہ میں رہ گیا۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی امت کے لوگوں کو عیش و آرام کی غفلت سے پچنے کی جو نصیحت کی اس کا حاصل یہ ہے کہ اے لوگو دنیا ناپا ئیدار ہے اس لیے یہ باغ پانی کے چشمے کھیتیاں پکی ہوئی کھجوروں کے درخت پہاڑوں میں کے تراشے ہوئے تکلف کے مکان دنیا میں رہنے والی چیزیں نہیں ہیں۔ سورة النمل میں آوے گا کہ ان لوگوں کا ایک گروہ بڑا سرکش تھا اسی گروہ میں کے ایک شخص قدار بن سائف نے معجزہ کی اونٹنی کو ہلاک کیا اسی واسطے صالح (علیہ السلام) نے اپنی اس نصیحت میں امت کے باقی لوگوں کو اس سرکش گروہ کی عادتوں سے منع کیا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث جو اوپر گزر چکی ہے قوم ثمود کی مہلت اور ہلاکت کی وہی حدیث گویا تفسیر ہے اور حاصل اس تفسیر کا بھی وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ (1 ؎ تفسیر ہذاص 273 ص 109 ج 3‘ ) (2 ؎ صتح الباری ص 227 ج 3 باب قول اللہ تعالیٰ والی ثمود اخاھم صالحا۔ الخ ) (1 ؎ الرغیب والترہیب ص 209 ج 4 فصل باب الترغیب فی الزھد )
Ayahs 26:160–175

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

(اور قوم) لوط نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جب ان سے ان کے بھائی لوط نے کہا کہ تم کیوں نہیں ڈرتے ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تو تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں تم سے اس (کام) کا بدلہ نہیں مانگتا میرا بدلہ (خدائے) رب العالمین کے ذمے ہے

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم اہل عالم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو ؟

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لئے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں انکو چھوڑ دیتے ہو ؟

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ لوط اگر تم باز نہ آؤ گے تو شہر بدر کر دئیے جاؤ گے

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط نے کہا میں تمہارے کام کا سخت بیزار ہوں

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے پروردگار مجھ کو اور میرے گھر والوں کو انکے کاموں (کے وبال سے) نجات دے

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

سو ہم نے انکو اور ان کے سب گھر والوں کو نجات دی

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

مگر ایک بڑھیا پیچھے رہ گئی

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان پر مینہ برسایا سو جو مینہ ان (لوگوں) پر (برسا) جو ڈرائے گئے تھے وہ برا تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو غالب (اور) مہربان ہے

(160 تا 175) یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) اور ان کی امت کا قصہ ہے سورة ہود میں اس قصے کی تفصیل گزر چکی ہے حاصل قصہ کا یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے شام کے ملک کی طرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب ہجرت کی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ انہوں نے بھی ہجرت کی سدوم ایک بستی شام کے نواح میں ہے وہاں کے یہ نبی ہوئے وہاں کے لوگوں نے یہ گناہ ایجاد کیا تھا کہ عورتوں کو چھوڑ کر لڑکوں سے بدفعلی کیا کرتے تھے مدت تک حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لوگوں کو نصیحت کی مگر کچھ اثر نہ ہوا اور ایک شخص بھی ان میں سے راہ راست پر نہ آیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل اور میکائیل اور اسرافیل کو انسان کی صورت میں ان کے عذاب کے لیے بھیجا پہلے یہ تینوں فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو نہیں پہچانا اور مہمان سمجھ کر ان کے لیے کھانا لے آئے جب انہوں نے کھانا نہیں کھایا تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو تعجب ہوا اس پر انہوں نے جتلایا کہ ہم اللہ کے فرشتے ہیں اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی اور لوط ( علیہ السلام) کی امت پر عذاب نازل ہونے کا حال بھی بیان کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس عذاب کے ٹل جانے کی سفارش کے ان فرشتوں نے جواب دیا کہ اللہ کا حکم نہیں ٹل سکتا پھر یہ فرشتے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے رخصت ہو کر سدوم گئے اور وہاں خوبصورت لڑکوں کی صورت بن گئے اور حضرت لوط کے گھر میں مہمان بن کر اترے حضرت لوط ( علیہ السلام) کی بیوی نے قوم کے لوگوں کو ان خوبصورت نو عمر مہمانوں کی خبر دی اور وہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کے گھر پر چڑھ کر آئے جب اللہ کے فرشتوں نے حضرت لوط ( علیہ السلام) کو جتلایا کہ ہم خوبصورت لڑکوں کی صورت میں اللہ کے فرشتے ہیں تمہاری امت پر اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں تھوڑی رات رہے تم اس بستی سے نکل کر چلے جانا پیچھے پھر کر ہرگز نہ دیکھنا صبح کو ان لوگوں پر عذاب آوے گا اور تمہاری بی بی بھی ان لوگوں میں ملی ہوئی ہے اس واسطے وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوگی صبح کو اللہ کے حکم سے اس بستی پر پتھروں کا مینہ برسا اور حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) (علیہ السلام) نے اس بستی کے زمین کے ٹکڑے کو اٹھا کر الٹ دیا اب وہاں کا پانی بھی استعمال کے قابل نہیں رہا خوبصورت لڑکوں کی خبر سن کر جب قوم کے لوگ حضرت لوط ( علیہ السلام) کے گھر پر چڑھ کر آئے اسی وقت حضرت لوط ( علیہ السلام) نے اپنی تنہائی پر افسوس کر کے یہ کہا تھا کہ کاش میرے رشتہ کے لوگ میرے ساتھ ہوتے تو میں ان کی مدد سے امت کے لوگوں سے لڑتا حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جدا ہو کر اکیلے سدوم میں نبی ہو کر گئے تھے اور تنہا وہاں رہتے تھے اس واسطے انہوں نے اپنی تنہائی پر افسوس کیا معتبر سند سے مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے جو روایت 1 ؎ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے بغیر کنبے کے لوگوں کی مدد کے کسی نبی کو اکیلا کسی بستی میں نہیں بھیجا۔ تفسیر ابن مردویہ میں اس روایت کے بعد اتنا اور زیادہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ اس روایت کے ثبوت میں حضرت شعیب کے قصہ کی یہ آیت پڑھا کرتے تھے (ولو لا رھطک لرجمناک) مختصر طور سے ابوہریرہ ؓ کی یہ روایت صحیح بخاری 2 ؎ میں بھی ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قصہ کا حاصل مطلب یہ ہے کہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی امت میں حضرت شعیب ( علیہ السلام) کے جو مخالف لوگ تھے وہ حضرت شعیب ( علیہ السلام) سے یوں کہا کرتے تھے کہ تمہارے کنبے کے لوگ نہ ہوتے تو اے شعیب ہم تم کو قتل کر ڈالتے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث جو اوپر گزر چکی قوم لوط کی مہلت اور ہلاکت کی وہی حدیث گویا تفسیر ہے۔ (1 ؎ دیکھئے فتح الباری ص 224 ج 3 باب ولوطا اذا قال لقومہ الآیہ ) (2 ؎ کتاب الانبیآء )