24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsاحسن التفاسیر

Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف و شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (بڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے

35۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے صحیح 1 ؎ قول کے موافق اَللّٰہُ نُوْرُا لسَّمٰوٰتِ وَالْاَ رْضِ کی تفسیر یہ ہے کہ آسمان پر فرشتے اور زمین پر نیک لوگ اللہ تعالیٰ کے نور ہدایت سے راہ راست پر آئے ہیں اور صحح مسلم کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی 2 ؎ ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں ‘ ترمذی ‘ ابوداود وغیرہ کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی صحیح حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے 3 ؎ کہ آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام زمین کی مٹی لی ہے ‘ اسی واسطے اولاد آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا ‘ کوئی سخت مزاج ہے کوئی نرم مزاج ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث 4 ؎ بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ ساڑھے چار مہینہ کے عرصہ میں جب نطفہ سے بچہ کا پتلا ماں کے پیٹ میں تیار ہوجاتا ہے تو پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں داخل ہونے کے قابل کام کرے گا اور کون دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ‘ مسند امام احمد ‘ ترمذی وغیرہ کے حوالہ سے عبداللہ اللہ بن عمرو بن العاص کی صحیح 5 ؎ حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ نے جب سب روحوں کو پیدا کیا تو ان روحوں پر گناہوں کا اندھیرا چھایا ہوا تھا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان روحوں پر اپنی قدرت سے ایک نور چھڑکا اور اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد جنت میں داخل ہونے کے قابل کام کرنے والے تھے ‘ ان کی روحوں پر اجالا چھا گیا اور باقی کے لوگ اندھیرے کے اندھیرے ہی میں رہے ‘ ان آیتوں کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول اور اوپر کی حدیثوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ فرشتوں کی پیدائش نور سے ہے اس لیے ان پر کسی اور نور ہدایت کے چھڑکنے کی ضرورت نہیں ہوئی بلکہ فرشتے اپنے پیدائش نور کے اثر سے اس طرح راہ راست پر ہیں کہ ان میں گناہ کا کوئی مادہ تک نہیں ہے ‘ ہاں انسان کی پیدائش پہلے آدم (علیہ السلام) کی مٹی کے اثر سے اور پھر نطفہ سے ہونے والی تھی ‘ جس کے سبب سے اولاد آدم کی روحوں پر عالم ارواح میں گناہوں کا اندھیرا چھایا ہوا تھا اور اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے عالم ارواح میں سب روحوں پر اپنی قدرت سے ایک نور چھڑکا ‘ لیکن اس نور سے فائدہ فقط ان لوگوں کی روحوں ہی کو ہوا جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دنیا میں پیدا ہونے کے بعد راہ راست پر آنے والے تھے ‘ ایماندار شخص کے دل میں یہ نور ہدایت جس طرح چمکتا ہے ‘ آگے اس کی مثال یہ بیان فرمائی کہ ایماندار کا سینہ مشکوٰۃ کی مانند ہے اور اس کا دل ایک چمکدار شیشے کی قندیل ہے ‘ جس قندیل میں نور ایمانی چراغ کی طرح روشن ہے ‘ جس چراغ میں ایسا آبدار زیتون کا تیل جلتا ہے جو آگ کے شعلے کی طرح چمکتا ہے ‘ کیونکہ وہ زیتون نہ تو باغ کے شرقی کونے کا ہے جس کو سہ پہر کی دھوپ نہ پہنچ سکے اور نہ غربی کونے کا ہے جس کو دوپہر سے پہلے کی دھوپ نہ پہنچ سکے ‘ بلکہ ہر وقت کی دھوپ کھا کر وہ زیتون خوب پختہ اور اس کا پھل نہایت عمدہ ہے ‘ آگے فرمایا اللہ کی قدرت کی اگرچہ یہ چند روشنیاں جمع ہیں لیکن ان روشنیوں سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو اللہ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں ‘ پھر فرمایا ‘ قرآن میں جو مثالیں بیان کی گئی ہیں ‘ وہ لوگوں کے سمجھانے کے لیے بیان کی گئی ہیں لیکن ان مثالوں کو سمجھ کر جو لوگ راہ راست پر آنے والے اور مرتے دم تک جو گمراہ رہنے والے ہیں ‘ ان کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کیونکہ کوئی چیز اس کے علم غیب سے باہر نہیں ہے۔ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْم سے اسی مطلب کو ادا فرمایا گیا ہے ‘ حاصل یہ ہے کہ عالم ارواح میں جن لوگوں کی روحوں نے نور ہدایت کا حصہ پایا ہے ‘ آیت میں ان ہی کی یہ مثال بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کے سینے میں ان کا دل تارے جیسے چمکدار قندیل کی طرح ہے جس میں نور ایمان کا چراغ روشن ہے ‘ ترمذی اور مسند امام احمد میں ابوہریرہ ؓ سے صحیح روایت ہے اس میں بھی عالم ارواح کے نور کا ذکر ہے ‘ اس حدیث کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان کی پشت سے قیامت تک کی اولاد آدم کی روحیں نکالیں تو ہر ایک انسان کی پیشانی پر ایک طرح کا نور تھا۔ یہ نور فطرت اسلام کا نور ہے جس کا ذکر صحیح بخاری ومسلم میں ان ہی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت میں جس نور ہدایت کا ذکر ہے وہ نور جدا ہے اور ابوہریرہ ؓ کی روایت میں جس فطرت اسلام کے نور کا ذکر ہے وہ نور جدا ہے ‘ جو بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے وہ فطرت اسلام کے نور پر پیدا ہوتا ہے اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث کے موافق بچہ کی زبان کے کھلنے تک اس نور کا اثر باقی رہتا ہے اس کے بعد وہ ماں باپ جیسا ہوجاتا ہے ‘ نور ہدایت کا اثر مرتے دم تک رہتا ہے ‘ یہ تو ان دونوں نوروں کا دنیاوی فرق ہوا ‘ عالم ارواح میں آدم (علیہ السلام) کے فطرت اسلامی کے سبب سے ہر ایک انسان کی پیشانی پر ایک طرح کا نور پایا جانا جس کا ذکر ترمذی کی ابوہریرہ ؓ کی اوپر کی صحیح روایت میں ہے اور نور ہدایت کے سبب سے بعضوں کو نورانی شکل اور بعضوں کا چہرہ سیاہ پایا جس کا ذکر مسندامام احمد میں ابودرداء کی معتبر روایت سے ہے ‘ عرب لوگ اپنے گھروں کی دیوار میں چراغ رکھنے کا ایک طاق بنا لیتے تھے ‘ اسی کو مشکوٰۃ کہتے ہیں۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 289 ج 3 ) (2 ؎ مثلا ص 80 جلد اول تفسیر ہذا ) (3 ؎ دیکھئے ص 291 ) (4 ؎ مشکوٰۃ ص 20 ) (5 ؎ ایضا مشکوٰۃ ص 62۔ )
Ayahs 24:36–38

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کیے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح و شام اسکی تسبیح کرتے رہیں

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خریدو فروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے اور جس کو چاہتا ہے خدا بیشمار رزق دیتا ہے

36۔ 38:۔ عمرو بن میمون کوفی ثقہ تابعیوں میں ہیں ‘ حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایت ہے ‘ یہ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ اکثر صحابہ ؓ بیت کی تفسیر مساجد کی بیان کیا کرتے تھے ‘ صحابہ ؓ کی اس تفسیر کے موافق حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ عالم ارواح کے نور ہدایت کی جو روشنی ہر ایک ایماندار شخص کے دل میں ہے ‘ اس کا حال تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے کیونکہ آدمی کے دل کا حال سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا ‘ ہاں جو لوگ قیامت کے دن کی آفتوں سے ڈر کر مسجدوں میں نماز کے لیے اس طرح وقت پر حاضر ہوتے ہیں کہ دنیا کی کوئی سوداگری ان کو اس حاضری سے باز نہیں رکھ سکتی اور زکوٰۃ کے وقت شریعت کے حکم کے موافق یہ لوگ زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان لوگوں کے دل میں عالم ارواح کے نور ہدایت کی پوری روشنی باقی ہے ‘ پھر فرمایا یہ لوگ جو نیک کام کرتے ہیں وہ کسی کے دکھاوے کے لیے نہیں کرتے بلکہ ان کا ہر ایک نیک کام اس نیت سے ہوتا ہے کہ بارگاہ الٰہی سے قیامت کے دن اس نیک کام کا اچھا بدلہ عطا ہو اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور کچھ زیادہ بھی ان کو دیوے جو نیک عمل کی جزا سے بڑھ کر ہو ‘ دس گنے سے لے کر سات سو تک اور بعضی نیکیوں کی اس سے بھی زیادہ بدلہ کی صحیح روایتیں جو کئی جگہ گزر چکی ہیں ‘ وہ روایتیں اَحْسَنَ مَاعَمِلُوْا کی گویا تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ نیت کے خالص ہونے کے حساب سے جس قدر بہتر عمل ہوگا ‘ اس سے بہتر بدلہ ملے گا ‘ ان نیک لوگوں کی امید کو پورا کرنے کے لیے آخری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ایسا ہی بڑا ہے کہ قیامت کے دن وہ جس کو چاہے گا نیک عملوں کی جزا سے بڑھ کر نعمتیں عطا فرماوے گا ‘ صحیح مسلم ‘ مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ اور بریدۃ ؓ سے جو روایتیں 1 ؎ ہیں ‘ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا جو شخص ایسا دکھائی دیوے ‘ جو مسجد میں آوازیں دے کر اپنے بھاگے ہوئے اونٹ کو بلا رہا ہو تو اس کے حق میں یہ بددعا کرنی چاہیے ‘ خدا کرے کہ ان کا اونٹ ہمیشہ بھاگا ہوا رہے اور یہ بددعا اس لیے کی جاوے ‘ کہ مسجدیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں ‘ دنیا کے کاموں کے لیے نہیں بنائی گئیں ‘ آیت میں مسجدوں کو عالم ارواح کے نور ہدایت کے ظاہر ہونے کی جگہ جو فرمایا ‘ اس کا مطلب ان روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ مسجدیں ایسے ہی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جو عالم ارواح کے نور ہدایت کے موافق ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب جنتیوں کو سب طرح کی نعمتیں جنت میں مل چکیں گی اور جنتی ان نعمتوں سے خوش ہوجاویں گے تو اللہ فرمائے گا ‘ نیک عملوں کو جزا سے بڑھ کر تمہارے حق میں اللہ تعالیٰ کا ایک یہ فضل ہے کہ اب اللہ تعالیٰ ہمیشہ تم سے راضی اور خوش رہے گا ‘ کبھی ناخوش نہ ہوگا ‘ غلام کے لیے ہمیشہ کی آقا کی طرف سے خوشنودی کی خوشخبری ایک بےبدل نعمت ہے ‘ اس لیے یہ نعمت تمام نیک عملوں کی جزا سے بڑھ کر ایک نعمت شمار کی جاوے گی ‘ آیت میں نیک عملوں کی جزا سے بڑھ کر اللہ کے فضل کا جو ذکر ہے ‘ یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے۔ (1 ؎ ابن کثیر ص 292 ج 3 ) (2 ؎ مشکوٰۃ ص 497 باب صنقہ الجنۃ وہلہا۔ )
Ayahs 24:39–40

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال (کی مثال ایسی ہے) جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اسکے پاس آئے تو اسے کچھ نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اس کا حساب پورا پورا چکا دے اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چلی آتی ہو اور اسکے اوپر اور لہر (آ رہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکا لے تو کچھ دیکھ نہ سکے اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی )

39۔ 40:۔ عالم ارواح میں جن لوگوں نے نور ہدایت کا حصہ پایا ‘ اوپر ان کے نیک عملوں کا ذکر تھا کہ قیامت کے دن ان کے نیک عملوں کا اچھا بدلہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے لوگوں کو کچھ زیادہ بھی دیوے گا جو نیک عملوں کی جزا سے بڑھ کر ہوگا اب ان آیتوں میں ان لوگوں کے عملوں کی دو مثالیں بیان فرمائی جو عالم ارواح میں نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہے ‘ پہلی مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی پیاسا مسافر دوپہر کی دھوپ میں جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کو دور سے پانی کی ندی خیال کرتا ہے ‘ اور جب اس ریت کے پاس پہنچتا ہے تو وہاں پانی کا پتہ بھی نہیں ہوتا ‘ آخر وہ پیاسا مرجاتا ہے ‘ اسی طرح یہ مشرک لوگ جن اچھے لوگوں کی مورتوں کی پوجا کر کے یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر قیامت قائم ہوئی تو وہ اچھے لوگ اپنے پوجا کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کر کے ان کو عذاب دوزخ سے بچالیں گے ‘ لیکن قیامت کے دن جب وہ اچھے لوگ ان مشرکوں کی صورت سے بیزار ہوجاویں گے تو وقت پر یہ ایسا ہی پچھتاویں گے جس طرح وہ پیاسا مسافر جنگل کی چمکتی ہوئی ریت کے پاس پہنچ کر پچھتاتا ہے اور جس طرح پچھتانا اس کے کچھ کام نہ آیا ‘ وہی حال قیامت کے دن ان لوگوں کا ہوگا ‘ کیونکہ ادھر تو سوائے اللہ تعالیٰ کے جن کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ان سے بیزار ہوجائیں گے اور ادھر اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہو کر شرک کا پورا حساب دینا پڑے گا اور دنیا کی جس زندگی کے نشہ میں یہ لوگ حساب و کتاب کے دن کو جھٹلاتے تھے ‘ جب وہ دن ان کی آنکھوں کے سامنے آجاوے گا تو دنیا کی زندگی کو ایک دن یا پہر دو پہر کی زندگی خیال کریں گے اور پھر بےوقت یہ بات ان کی سمجھ میں اچھی طرح آجاوے گی کہ جس حساب کتاب کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت فرمایا تھا ‘ دنیا کی ناپائیدار زندگی کے حساب سے بہت ہی جلد گویا ایک دن یا پہر دو پہر میں اس وعدہ کا ظہور سر پر آگیا ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے اس حدیث وَاللّٰہُ سَرِیْعَ الِحْسَابِ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے آگے دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جب تمام دنیا کے حساب و کتاب کا لوح محفوظ میں لکھا جانا کچھ دیر طلب کام نہیں تھا تو دنیا کے پیدا ہوجانے اور ہر ایک کام کے ظہور کے بعد دنیا بھر کے نیک وبد کا حساب و کتاب اس کے علم غیب کے آگے کونسا دیر طلب کام ہوسکتا ہے ‘ دوسری مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی کشتی کا مسافر گہرے دریا کی گہرائی کے اندھیرے میں علاوہ موجوں اور گہرے ابر کے ایسے اندھیرے میں پھنس جاوے کہ اندھیرے کے مارے اس کو اپنا ہاتھ تک نہ سوجھے، اسی طرح یہ مشرک لوگ عالم ارواح میں نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہے ‘ اسی سبب سے دنیا میں شرک کی جہالت کا اندھیرا ان کے دل پر زندگی بھر چھایا رہا۔ پھر مرنے کے بعد دوزخ کے اندھیرے میں جا پڑیں گے ‘ حاصل یہ ہے کہ ہر حال میں ایسے لوگوں پر اندھیرے کے بادل چھائے ہوئے ہیں ‘ آخر کو فرمایا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق نور ہدایت سے محروم ہیں ان کا انجام بھی اندھیرے کے بادل میں ‘ عالم ارواح میں ایسے لوگوں کا اندھیرے میں رہ جانے کا حال تو صحیح روایتوں کے حوالہ سے ابھی اوپر گذر چکا ہے ‘ ترمذی ‘ نسائی وغیرہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرنے سے آدمی کے دل پر زنگ کی طرح کا اندھیرا چھا جاتا ہے ‘ دوزخ کی آگ کے سیاہ ہونے کے حال میں ترمذی مستدرک حاکم وغیرہ کی انس بن مالک کی صحیح 1 ؎ روایت کئی جگہ گزر چکی ہے ‘ ان روایتوں کو ظُلُمٰتٌ بَعْضُھَا فَوْقَ بَعْضٍ کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ایسے لوگ نور ہدایت کے حصہ سے محروم رہ کر عالم ارواح کے اندھیرے میں رہے اور پھر بغیر توبہ کے شرک کا اندھیرا ان کے دل پر زندگی بھر چھایا رہا اور مرنے کے بعد دوزخ کی سیاہ آگ کے اندھیرے میں جا پڑے۔ (1 ؎ نیز دیکھئے الترغیب والترہیب ص 264 ج 4 )
Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی اور اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کے لئے ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

41۔ 42:۔ مجاہد کے قول کے موافق نماز کا حکم انسان کے حق میں ہے اور حسب حال یاد الٰہی کا حکم باقی کی مخلوقات کے حق میں ہے ‘ قرآن شریف میں تسبیح کا ذکر بعضے جگہ تسبیح کا لفظ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی کل چیزیں اپنی اپنی زبان میں ہر وقت اللہ کو یاد کرتی اور اس کے نام کی تسبیح پڑھتی ہیں ‘ بعض مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ جنات اور انسان کے سوائے اور مخلوقات کی تسبیح زبان حال سے ہے ‘ زبان قال سے نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ سوائے جنات اور انسان کے اور مخلوقات کی تسبیح میں کسی طرح کی گویائی نہیں ہے بلکہ یہ مخلوقات اللہ تعالیٰ کے حکم کی جو تابع ہے اس مخلوقات کی یہی حالت اس کی تسبیح ہے ‘ ان مفسروں کا یہ قول بعض صحیح روایتوں کے برخلاف ہے چناچہ مثلا صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے 2 ؎ روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز اللہ کے رسول ﷺ کا گزر دو قبروں پر ہوا اور آپ نے فرمایا کہ ان دونوں قبروں میں جو مردے دفن ہیں ان پر عذاب قبر ہو رہا ہے یہ فرما کر آپ نے ایک ہری ٹہنی درخت کی لی اور اس کی دو شاخیں کیں اور یہ دونوں ان دونوں قبروں پر لگا کر فرمایا کہ جب تک یہ شاخیں ہری رہیں گی ‘ شاید ان مردوں کے عذاب قبر میں کچھ تخفیف ہوجاوے گی اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ ہرے درخت کی ٹہنی جب تک ہری رہتی ہے تو وہ اپنی زبان کی ایک طرح کی خاص گویائی سے اللہ کی یاد کرتی ہے اور ان دونوں شاخوں کی تسبیح تھی جس کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف ہوئی اگر زبان حال کی تسبیح شریعت میں مقصود ہوتی ‘ تو ان دونوں شاخوں کے سوکھ جانے کے بعد بھی ان کی تسبیح اور عذاب قبر کی تخفیف باقی رہ سکتی تھی ‘ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود سے روایت 1 ؎ ہے کہ کھانا کھاتے وقت ہم صحابہ لوگ کھانے کی چیزوں کی تسبیح کی آواز سنا کرتے تھے ‘ اس روایت سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ ان کھانے کی چیزوں کی تسبیح زبان حال سے نہیں تھی بلکہ اتنی گویائی کی آواز سے تھی جو آواز صحابہ ؓ کے کانوں میں آیا کرتی تھی ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ آسمان و زمین میں اکیلے اللہ کی حکومت ہے اس کی حکومت میں کوئی اس کا شریک نہیں ‘ اس لیے آسمان پر فرشتے زمین پر جنات اور انسان اور آسمان و زمین کے درمیان اڑتے ہوئے جانور اپنی زبان میں اللہ کی یاد میں ہر وقت لگے ہوئے ہیں ‘ سورة النحل میں گزر چکا ہے کہ جو لوگ خوشی سے خالص اللہ کی یاد اور اس کی بندگی نہیں کرتے ‘ دوپہر سے پہلے سیدھے ہاتھ کی طرف اور دوپہر کے بعد الٹے ہاتھ کی طرف ان کا سایہ جو آجاتا ہے ‘ سایہ کے ذریعے سے ایسے لوگوں کے پیچھے بھی اللہ کی بندگی لگی ہوئی ہے وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِمَا یَفْعَلُوْنَ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہاڑ اور درخت جب سب ناسمجھ چیزیں اپنے پیدا کرنے والے کی تعظیم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کو ان کے سب کام معلوم ہیں ‘ وقت مقررہ پر ایسے لوگوں کو اپنے عملوں کی پوری سزا بھگتنی پڑے گی ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ لوگوں کے رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے ہر روز اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوتے رہتے ہیں ‘ اسی طرح صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث 2 ؎ بھی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا ‘ اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ان حدیثوں کو وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِمَا یَفْعَلُوْنَ کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے ‘ اگرچہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے بھی وہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے باہر نہیں تھا ‘ لیکن بنظر انصاف جزا وسزا کے فیصلہ کا مدار اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب پر نہیں رکھا بلکہ علم کے ظہور پر رکھا ہے اور اس ظہور کے ہر وقت ملاحظہ فرمانے کا یہ انتظام قرار دیا کہ صبح وشام لوگوں کے اعمال نامے ملاحظہ فرمائے جاتے ہیں وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے ظہور کے موافق ہر روز صبح وشام لوگوں کے اعمال نامے جو اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوتے ہیں ‘ ان کے موافق ہر ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو جوابدہی کرنی پڑے گی اور پھر جزا وسزا کا فیصلہ ہوگا۔ (2 ؎ مشکوٰۃ باب آداب الخلاء ) (1 ؎ مشکوٰۃ ص 538 باب المعجزات ) (2 ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر۔ )
Ayahs 24:43–44

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی بادلوں کو چلاتا ہے پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے اور ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ بادل میں سے مینہ نکل (کر برس) رہا ہے اور آسمان میں جو (اولوں کے) پہاڑ ہیں ان سے اولے نازل کرتا ہے تو جس پر چاہتا ہے اسکو برسا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ہٹا دیتا ہے اور بادل میں جو بجلی ہوتی ہے اسکی چمک آنکھوں کو (خیرہ کر کے بینائی کو) اچکے لئے جاتی ہے

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اور خدا ہی رات اور دن کو بدلتا رہتا ہے اہل بصارت کے لئے اس میں بڑی عبرت ہے

43۔ 44:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آسمان و زمین میں اکیلے اللہ کی حکومت ہے ‘ اس کی حکومت میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے ‘ ان آیتوں میں اس حکومت کی یہ مثال بیان فرمائی ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ تمام دنیا کی زندگی کا دارو مدار زمین کی پیداوار پر اور زمین کی پیداوار کا دارومدار مینہ کے برسنے پر ہے۔ ان مشرکوں کا یہ جو اعتقاد ہے کہ تاروں کی گردش سے مینہ برستا ہے مکہ کے قحط کے وقت ان کو اپنے ان اعتقاد کی غلطی اچھی طرح معلوم ہوگئی کہ اللہ کے رسول کی دعا پر جب اللہ کا حکم ہوا تو مینہ برسا بغیر اللہ کے حکم کے نہ تاروں کی گردش کچھ کام آئی نہ ان مشرکوں کے بت کچھ کام آئے مشرکین مکہ کا یہ جو اعتقاد تھا کہ تاروں کی گردش سے مینہ برستا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کی زید بن خالد جہنی کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر ایک 1 ؎ جگہ گزر چکا ہے مکہ کے قحط کا قصہ بھی عبداللہ بن مسعود کا صحیح بخاری کی روایت کے حوالہ سے کئی جگہ 2 ؎ بیان کردیا گیا ہے۔ حاصل مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ ہی کی حکومت کا یہ اثر سب کی آنکھوں کے سامنے ہے کہ دنیا بھر میں جہاں اس کو مینہ برسانا منظور ہوتا ہے ‘ ہوا اس کے حکم سے بادل کے ٹکڑوں کو وہاں لے جاتی ہے اور پھر ٹکڑوں کو جوڑا کر اور تہ بتہ کیا جا کر جتنی دور تک حکم ہوتا ہے اتنی دور تک گہرا بادل چھا جاتا ہے اور اس بادل میں سے مینہ برستا ہے جس سے ہر طرح کی پیداوار اناج اور میووں کی سال بسال ہوجایا کرتی ہے ‘ ایک سال بھی وقت پر مینہ نہیں برستا ‘ تو کھیتیاں ‘ باغ سب خشک ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو اولوں کی بلا کا بھیجنا منظور ہوتا ہے تو آسمان سے وہ برف کی سلیں کی سلیں بادلوں میں بھیج دیتا ہے جس سے اولے پڑ کر وہ کھیت اور باغ اجڑ جاتے ہیں اور سوائے اللہ کے اس بلا کو کوئی نہیں ٹال سکتا ‘ پھر فرمایا اس اولے والے بادل میں بجلی کی چمک اس غضب کی ہوتی ہے کہ جس سے آدمی کی آنکھیں بند ہوجاتی ہے ‘ جس طرح اب فارسی اردو کے شاعر اپنے شعروں میں گردش زمانہ کی شکایت باندھتے ہیں ‘ عرب کے شاعروں کی بھی یہی عادت تھی ‘ اسی کو فرمایا گردش زمانہ رات دن کی الٹ پلٹ کا ہم ہے اور رات دن کی یہ الٹ پلٹ کہ کبھی رات ہے اور کبھی دن اللہ کے حکم سے ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 3 ؎ سے حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ جو لوگ گردش زمانہ کو برا کہتے ہیں وہ گویا مجھ کو برا کہتے ہیں کیونکہ گردش زمانہ میری قدرت کی نشانیوں کا نام ہے۔ اس حدیث سے یُقَلِّبُ اللّٰہُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رات دن کا ہیر پھیر اور اس ہیر پھیر میں رات دن جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہے اور رات دن کی ہیر پھیر کا نام ہی گردش زمانہ ہے تو کفر کی رسم کے موافق کسی ایماندار آدمی کو جائز نہیں ہے کہ وہ گردش زمانہ کو برا کہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی روایت کئی جگہ گزر چکی 4 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قرآن شریف کی نصیحت کی مثال مینہ کے پانی کی اور اچھے برے لوگوں کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے اس حدیث سے اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لْاَوُلیِ الْاَ بْصَارِ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں جو بیان کی جاتی ہیں ‘ اگرچہ وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہیں لیکن ان نشانیوں کی عبرت کی نظر سے وہی لوگ دیکھتے ہیں جن کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ نہیں ہے ورنہ جن لوگوں کی آنکھوں پر غفلت کا پردہ پڑا ہوا ہے ان کے حق میں وہ قدرت کی نشانیاں ایسی ہی رائیگاں ہیں جس طرح بری زمین میں مینہ کا پانی رائیگاں جاتا ہے ‘ سورة الرعد میں بجلی کا حال گزر چکا ہے۔ (1 ؎ ص 22 ج 3 تفسیر بذا ) (2 ؎ مثلا دیکھئے ص 314 ج 3 تفسیر ہذا ) (3 ؎ مشکوٰۃ ص 13 کتاب الا یمان ) (4 ؎ مثلا ص 30 ج 3 تفسیر ہذا۔ )
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور خدا ہی نے ہر چلنے پھرنے والے جاندار کو پانی سے پیدا کیا تو ان میں سے بعضے ایسے ہیں کہ پیٹ کے بل چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو دو پاؤں پر چلتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو چار پاؤں پر چلتے ہیں خدا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے

45۔ مسند احمد اور ترمذی میں ابو رزین العقیلی سے صحیح روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ عرش کی پیدائش ‘ عرش کے مابعد کی سب مخلوقات کی پیدائش سے مقدم ہے لیکن پانی کی پیدائش عرش کی پیدائش سے بھی پہلے ہے ‘ تفسیر سدی میں چند روایتیں اسی مضمون کی اور بھی ہیں ‘ ان روایتوں سے علماء نے یہ مطلب نکالا ہے کہ نطفہ سے جو پیدائش کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس سلسلہ سے پہلے ہی ہر چیز کی پیدائش میں پانی کا دخل ضرور ہے جیسے مثلا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش نطفہ کی پیدائش سے مقدم ہے لیکن ان کے پتلے کا گارا پانی اور مٹی سے بنایا گیا ہے چناچہ ترمذی ‘ نسائی ‘ صحیح ابن حبان اور مسند بزار میں ابوہریرہ ؓ کی صحیح روایت 2 ؎ میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے ‘ پیٹ کے بل چلنے والوں میں سانپ اور مچھلی اور دو پیروں پر چلنے والوں میں انسان اور پرند اور چار پیروں پر چلنے والوں میں چوپائے ‘ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ بناتا ہے جو چاہتا ہے مثلا مکڑی کو اس نے چار پیروں سے زیادہ کا جانور بنایا ‘ آخر کو فرمایا اللہ ہر چیز کرسکتا ہے ‘ کسی طرح کی مخلوق کا پیدا کرنا اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک سے روایت 3 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة الفرقان کی آیت اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْ ھِھِمْ اِلٰی جَھَنَّمَ جب نازل ہوئی اور پڑھی گئی جس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن نافرمان لوگوں کو میدان محشر میں منہ کے بل چلایا جاکر دوزخ تک پہنچایا جاوے گا تو ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ منہ کے بل کیونکر چلیں گے ‘ آپ نے فرمایا جس صاحب قدرت نے دنیا میں دو پیروں پر چلایا وہ منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت 4 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جو لوگ قیامت کے دن اپنے گناہوں کا انکار کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر خاموشی کی مہر لگا کر ان کے ہاتھ پیروں سے زبان کا کام لے گا جس سے آدمی کے ہاتھ پیروں میں زبان کی سی گویائی پیدا ہوجاوے گی اور وہ آدمی کے گناہوں کی پوری گواہی ادا کریں گے۔ ان حدیثوں سے اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو صاحب قدرت انسان کو منہ کے بل چلانے پر اور ہاتھ پیروں سے زبان کا کام لینے پر قادر ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 509 و تفسیر ابن کثیر ص 437 ج 2 ) (2 ؎ فتح الباری ص 219 ج 3 کتاب الانبیاء ) (3 ؎ مشکوٰۃ ص 483 باب الحشر ) (4 ؎ مشکوٰۃ ص 485 باب الحساب والقصاص والمیزان۔ )
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم ہی نے روشن آیتیں نازل کی ہیں اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے

46:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث 1 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کتنے آدمی جنت میں جانے کے قابل کام کریں گے اور کتنے آدمی دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ‘ اب جس قابل جو پیدا ہوا ہے ویسے ہی وہ کام کرتا ہے ‘ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اگرچہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کی کھلی کھلی نصیحت ہے لیکن اس نصیحت سے راہ راست پر آنے کا وہی لوگ قصد کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں نیک ٹھہر چکے ہیں اور ان ہی لوگوں کو اللہ تعالیٰ راہ راست پر آنے اور اس پر قائم رہنے کی توفیق بھی دیتا ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد اور دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پاچکے ہیں وہ خود تو راہ راست پر آنے کا قصد نہیں کرتے اور زبردستی کسی کو راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے علم غیب کے ظہور کے طور پر نیک وبد کے امتحان کے لیے دنیا کو پیدا کیا ہے ‘ مجبور کر کے کسی کو راہ راست پر لانا انتظام الٰہی کے برخلاف ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر )
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور (بعض لوگ) کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور رسول پر ایمان لائے اور (ان کا) حکم مان لیا پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں

47:۔ اوپر ذکر تھا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں بد اور دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پاچکے ہیں ‘ وہ خود تو راہ راست پر آنے کا قصد نہیں کرتے اور کسی کو زبردستی راہ راست پر لانا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے ‘ طبرانی کبیر اور مسند بزار میں معتبر سند سے عمران بن حصین کی حدیث 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ منافق لوگ ظاہر میں مسلمانوں کے سے عمل کرتے ہیں اور ان کے دل میں دغا بازی بسی ہوتی ہے اس لیے بہ نسبت کھلے کھلے کافروں کے زبان دراز منافق کی باتوں سے دھوکے میں آجانے کا بڑا خوف ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر یہ بدلوگوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں منافقوں کا ذکر جو شروع فرمایا اب اس کا سبب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ منافقوں کے دل میں کھوٹ ہوتی ہے اور دل کا حال سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کو معلوم نہیں ‘ اسی واسطے بغیر اللہ تعالیٰ کی مدد کے منافقوں کی شرارت سے بچنا دشوار ہے ‘ چناچہ حضرت عائشہ ؓ پر جو طوفان اٹھایا گیا وہ منافقوں کی شرارت کا نتیجہ تھا ‘ آخر اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ طوفان مٹا ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ کھلے کھلے منکر شریعت لوگوں کے علاوہ بعضے دھوکے باز لوگ ایسے بھی ہیں جو زبان سے اللہ اور رسول کے فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں ‘ لیکن ان کے دل میں دغا بازی بسی ہوتی ہے اس لیے یہ انکا زبانی اقرار جھوٹا ہے اور اس اوپرے دل کی فرمانبرداری کے اقرار سے یہ لوگ مسلمان نہیں ٹھہر سکتے ہیں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث 3 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ کی نظر آدمی کی ظاہری حالت پر نہیں ہے بلکہ اس کی نظر آدمی کے دل پر ہمیشہ لگی رہتی ہے ‘ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر آدمی کے دل پر لگی رہتی ہے اور منافقوں کی فرمانبرداری کا اثر ان کے دل میں کچھ نہیں ہوتا اس واسطے اللہ تعالیٰ کے نزدیک منافقوں کا شمار مسلمانوں میں نہیں ہے۔ (2 ؎ مجمع الزوائدص 187 جلد اول ) (3 ؎ مشکوٰۃ باب الریاء والسمعۃ )
Ayahs 24:48–52

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ (رسول خدا) ان کا قضیہ چکا دیں تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر (معاملہ) حق (ہو اور) ان کو (پہنچتا) ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا (یہ) شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے ؟ (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے (حکم) سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص خدا اور اسکے رسول کی فرمانبرداری کرے گا اور اس سے ڈرے گا تو ایسے ہی لوگ مراد کو پہنچنے والے ہیں

48۔ 52:۔ تفسیر ابن المنذر ‘ عبداللہ حمید اور ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری کی روایت 1 ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے منافقوں کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت ﷺ جو فیصلہ کرتے اور حکم دیتے ہیں بغیر کسی رو رعایت کے وہ فیصلہ اور حکم ہوتا ہے ‘ اس لیے جس معاملے میں وہ منافق لوگ حق پر ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری ہوتی ‘ تو ایسے معاملے کو اپنا حق پانے کی خوشی میں دوڑ کر آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آتے تھے اور جس معاملے میں یہ لوگ حق پر نہ ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری نہ ہوتی اور اس قرینہ سے جان لیتے کہ آنحضرت ﷺ کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق نہ ہوگا ‘ تو آنحضرت ﷺ کے پاس معاملہ لانے پر راضی نہ ہوتے ‘ ان کی مرضی کے موافق اور سردار لوگ منافق جو مدینہ میں تھے ان کے پاس معاملہ پیش کرنے کی آرزو ظاہر کرتے ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ یہ لوگ فقط منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور اللہ کے رسول کی اطاعت ہم کو قبول ومنظور ہے لیکن حقیقت میں یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ‘ پھر فرمایا کیا ان لوگوں کے دل میں یہ شک کا روگ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے رسول کو سچا رسول نہیں جانتے ‘ یا اپنی حق تلفی کا ان کو خوف ہے ‘ پھر فرمایا ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم غیب میں یہ لوگ قابل سزا گنہگار ٹھہر چکے ہیں اس لیے ان کو برے کام اچھے نظر آتے ہیں ‘ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی حدیث 2 ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں ‘ ان کو دنیا میں برے کام اچھے نظر آتے ہیں ‘ یہ حدیث بَلْ اُولٰیِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسی دغا بازی کی باتوں سے یہ منافق لوگ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ ایسی دغا بازی کی باتوں سے یہ لوگ اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں جس کا نتیجہ ان کو مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا ‘ آگے عقبیٰ میں مراد کو پہنچنے والے پکے مسلمانوں کی نشانی کا ذکر فرمایا ‘ کہ اللہ اور رسول کا حکم ان کی مرضی کے موافق ہو یا نہ ہو ‘ وہ کسی طرح اللہ اور رسول کی دلی اور زبانی فرمانبرداری میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ ان کے دل میں اللہ کا خوف ہے اور ان کی عادت پرہیزگاری کی ہے ‘ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر تھے ‘ ہجرت کے بعد جب اہل اسلام کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ مسلمانوں کی قوت اور شوکت دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اوپرے دل سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے اور اپنے ساتھیوں سے ملتے تو اہل اسلام کی مذمت کرتے ‘ یہ لوگ کبھی ادھر مل جاتے اور کبھی ادھر ‘ اسی واسطے عبداللہ بن عمر ؓ کی صحیح مسلم کی روایت 1 ؎ میں ان لوگوں کی مثال اللہ کے رسول ﷺ نے ریوڑ سے بہکی ہوئی بکری کی بیان فرمائی ہے ‘ جس مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح ریوڑ میں جاتی ہے کبھی اس ریوڑ میں ‘ یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ کبھی ادھر کبھی ادھر ‘ ان آیتوں میں اور اکثر آیتوں میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس شخص کو ایک خوبصورت اور مالدار عورت بدکاری کے لیے بلائے اور وہ شخص اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس عورت کا کہنا نہ مانے تو ایسے شخص کو حشر کے دن کی دھوپ میں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا ‘ پکے مسلمانوں کے ذکر میں یہ جو فرمایا تھا کہ ان لوگوں کے دل میں اللہ کا خوف ہے اور ان کی عادت پرہیزگاری کی ہے ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا اور اس کی عادت پرہیزگاری کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے شخص کی بڑی قدر اور منزلت ہے ‘ حسن بصری کی روایت سے جو شان نزول اوپر بیان کی گئی ‘ اس کی سند معتبر ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 298 ج 3 والدر المنثور ص 54 ج 5 ) (2 ؎ مثلا پچھلے صفحہ میں ) (1 ؎ مشکوٰۃ ص 7 ا باب الکبائر و علامات النفاق ) (2 ؎ الترغیب والترہیب 228 ج 4 )
Ayahs 24:53–54

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور (یہ) خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں کہہ دو کہ قسمیں مت کھاؤ پسندیدہ فرمانبرداری (درکار ہے) بیشک خدا تمہارے اعمال سے خبردار ہے

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا کی فرمانبرداری کرو اور رسول خدا کے حکم پر چلو اگر منہ موڑو گے تو رسول پر (اس چیز کا ادا کرنا) جو ان کے ذمے ہے اور تم پر (اس چیز کا ادا کرنا) ہے جو تمہارے ذمے ہے اور اگر تم ان کے فرمان پر چلو گے تو سیدھا راستہ پالو گے اور رسول کے ذمہ تو صاف صاف (احکام خدا کا) پہنچا دینا ہے

53۔ 54:۔ منافقوں کے ذکر میں پکے مسلمانوں کا تذکرہ فرما کر اس آیت میں منافقوں کی ایک اور عادت کا ذکر فرمایا ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جو منافق لوگ اللہ کے رسول کے فیصلہ سے گھبراتے تھے وہ پھر مسلمانوں میں اپنا اعتبار جمانے کے لیے سخت سخت اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ معاملات کے فیصلے تو درکنار ہم کو لڑائی پر جانے اور جان دے دینے کا حکم ہو تو بھی ہم حاضر ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان سے کہہ دو قسمیں نہ کھاؤ ‘ تمہاری حکم برداری اور تمہارے عملوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے ‘ پھر فرمایا اے رسول اللہ کے ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دو کہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی حکم برداری کرو کیونکہ اللہ کے رسول کا کام اللہ کے پیغام کا پہنچا دینا ہے اور امت کے لوگوں کا کام اس کے موافق عمل کرنا جب اللہ کے رسول اپنا کام کر رہے ہیں تو امت کے لوگ اگر ان کی پیروی کریں گے ‘ تو عقبیٰ کی بہبودی کا راستہ پاویں گے اور اگر نافرمانی کریں گے تو عقبیٰ میں اس کا خمیازہ بھگتیں گے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے دنیا کے پیدا ہونے کے بعد جو کچھ دنیا میں ہونے والا تھا اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ‘ یہ حدیث اَنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ان منافقوں کی دغا بازی کی باتیں دنیا کے پیدا ہونے سے بچ اس ہزار برس پہلے لوح محفوظ میں لکھی جا چکی ہیں اللہ کے علم غیب سے ان کا کوئی کام باہر نہیں ‘ وقت مقررہ پر ان کے عملوں کا بدلہ ان کی آنکھوں کہ سامنے آجاوے گا ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘’ میں لوگوں کو کو لیاں بھر بھر کے دوزخ کی آگ سے بچانا چاہتا ہوں ‘ مگر لوگ اس طرح دوزخ کی آگ میں گرنے کے کام کرتے ہیں جس طرح کیڑے پتنگے دنیا کی آگ میں گرنے کے کام کرتے ہیں۔ اس حدیث کو آیت آخری ٹکڑے کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جو کام اللہ کے رسول کے ذمہ تھا وہ انہوں نے بڑی کوشش سے پورا کیا لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر جو لوگ لوح محفوط میں دوزخی لکھے جاچکے ہیں انہوں نے کیڑے پتنگوں کی طرح آگ میں گرنے کے کام کیے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 28 باب الا عتصام بالکتاب والسنۃ )
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے (اور) میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بد کردار ہیں

55:۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم ‘ اوسط طبرانی وغیرہ میں براء بن العازب اور ابی بن کعب کی روایت 2 ؎ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بعد نبوت کے جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں رہے وہ زمانہ ایسے خوف اور ایذا کا تھا کہ دین کا کوئی کام کھلم کھلا نہیں ہوسکتا تھا ‘ یہاں تک مشرکوں نے ایذا پر کمر باندھی کہ آخر ہجرت کا حکم ہوا ‘ ہجرت کے بعد فتح مکہ تک مدینہ میں بھی خوف ہی رہا ‘ مہاجر اور انصار رات دن کمر بستہ اور ہتھیار باندھے رہتے تھے اور اندیشہ کرتے رہتے تھے کہ نہیں معلوم کس طرف سے کون دشمن چڑہائی کر کے آجاتا ہے ‘ اسی زمانہ میں بعض صحابہ نے اکتا کر آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت کبھی یہ خوف رفع ہو کر امن سے بھی بیٹھیں گے ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مسلمانوں کی تسکین کی کہ اگر وہ اسلام پر قائم رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو بنی اسرائیل کی طرح حکومت اور امن دے گا اللہ کا وعدہ سچا ہے اللہ کے وعدہ پر جب تک صحابہ ؓ قائم رہے آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے حضرت عثمان ؓ کی خلافت تک نئے نئے ملک فتح ہوتے رہے جب حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں حضرت عثمان ؓ کی شہادت کا واقعہ ہوا ‘ اور آپس کی خونزیزیاں شروع ہوگئیں 3 ؎ پھر وہی پہلے جیسی بےامنی مسلمانوں میں پھیل گئی جو آج تک پھیلی ہوئی ہے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خوشحالی کے وعدہ میں یہ بھی فرما دیا تھا ‘ کہ خوشحالی کے زمانہ میں نعمت کی ناشکری سے پرہیز کرنا چاہیے ‘ ترمذی وغیرہ میں چند 1 ؎ روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب لوگوں نے حضرت عثمان ؓ کا گھر گھیر لیا اور حضرت عثمان ؓ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن سلام صحابی حضرت عثمان ؓ کے پاس آئے ‘ حضرت عثمان ؓ نے پوچھا کہ عبداللہ ؓ تم کیونکر آئے ‘ عبداللہ بن سلام نے کہا ‘ میں بلوہ سن کر آپ کی مدد کو آیا ہوں ‘ حضرت عثمان ؓ کے پاس آئے ‘ حضرت عثمان ؓ نے جواب دیا کہ بہ نسبت میری مدد کے یہ بات بہتر ہے کہ تم ان بلوائی لوگوں کو سمجھا کر ٹال دو ‘ عبداللہ بن سلام نکلے اور بلوہ کے لوگوں کو سمجھایا کہ خلیفہ وقت پر تم لوگ اگر ہاتھ اٹھاؤ گے تو پھر اللہ کے غضب کی تلوار قیامت تک میان میں نہ آوے گی ‘ ان لوگوں نے حضرت عبداللہ بن سلام کا کہا نہ مانا اور عبداللہ بن سلام اور حضرت عثمان ؓ دونوں کو برا کہنا شروع کیا اور آخر حضرت عثمان ؓ کو شہید کر ڈالا ‘ غرض جب سے مسلمانوں میں اس طرح کی نافرمانی پھیلی کہ خدا کی خفگی ہوگئی جس کا اثر آج تک موجود ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے 2 ؎ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مجھ کو اپنی امت کی تنگدستی کا خوف نہیں ہے خوف تو یہ ہے کہ پچھلی امتوں کی طرح جب ان میں خوشحالی آجاوے گی تو یہ لوگ طرح طرح کی خرابی میں پڑجاویں گے۔ اس حدیث اور آیت کو ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں کے وعدہ کے موافق مسلمانوں کو جب طرح طرح کی خوشحالی دی ‘ تو حدیث میں کی گئی پیش گوئی کے موافق مسلمانوں میں رفتہ رفتہ طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوگئیں ‘ کفر کے معنی یہاں نعمت کی ناشکری کے ہیں ‘ حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول کے سچے ہونے کا پورا یقین ہے اور اس یقین کے ظاہر کرنے کے لیے وہ نیک عمل بھی کرتے ہیں ان کو دشمنوں کے خوف سے گھبرانا نہیں چاہیے جس طرح ملک شام کے بڑے بڑے جابر اور صاحب قوت دشمنوں کو مٹا کر ایک مدت تک اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں بنی اترائیل کا حاکم بنایا ‘ یہی انجام امت محمدیہ کے ایماندار نیک عمل لوگوں کا ہوگا اللہ تعالیٰ ان کو حکومت اور ہر طرح کا امن دے گا اور اس آخری زمانہ میں جو دین اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ان حاکموں کے ہاتھ سے وہ دین خوب قائم ہوگا۔ دنیا کے بڑے حصہ سے شرک اٹھ کر خالص اللہ کی عبادت جاری ہوجاوے گی۔ پھر فرمایا اس شکر گزاری کی حالت کے بعد رفتہ رفتہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری کریں گے وہ نافرمان ہو کر طرح طرح کی خرابی میں پڑجاویں گے۔ (2 ؎ تفسیر الدر المنثورص 55 ج 5 ) (3 ؎ اس بارے میں تفسیر ابن کثیر کا یہ مقام قابل مطالعہ ہے۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الاحقاف ومناقب عبداللہ بن سلام ؓ (2 ؎ مشکوٰۃ ص 440 بروایت عمرو ؓ بن عوف )
Ayahs 24:56–57

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور پیغمبر خدا کے فرمان پر چلتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور ایسا خیال نہ کرنا کہ کافر لوگ غالب آجائیں گے (وہ جا ہی کہاں سکتے ہیں) ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

56۔ 57:۔ اوپر حکومت اور امن کے عطا فرمانے کی خوشخبری کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ اس خوشخبری کا وقت آنے تک ایماندار لوگوں کو چاہیے کہ اللہ کے رسول کی نصیحت کے موافق بدنی اور مالی عبادت میں لگے رہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس خوشخبری کے ظہور کا وقت جلدی دکھادے ‘ اوپر کی خوشخبری کے سننے کہ بعد یہ خیال گزر سکتا تھا کہ اب تک تو دشمنوں کا غلبہ چلا آتا ہے پھر ایک دفعہ ہی یہ سب دشمن کیونکر مغلوب ہوجاویں گے اور مسلمانوں کو حکومت کس طرح مل جاوے گی اس واسطے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر لوگوں کو سمجھایا کہ ان دشمنوں پر اللہ تعالیٰ کوئی دنیوی عذاب بھیجے تو ان کو دنیا بھر میں کہیں بھاگنے کو جگہ نہ ملے گی اور پھر عقبیٰ میں ایسے دشمن دین لوگوں کا برا ٹھکانا دوزخ ہے حاصل یہ کہ وعدہ کے ظہور پر جو خوشخبری ان لوگوں کو سنائی گئی ہے اللہ کی قدرت کے آگے اس کا ظہور کچھ مشکل نہیں ہے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ پر چڑھائی 8 ہجری میں ہوئی یہ اوپر گزر چکا ہے ‘ کہ بنی مصطلق کی لڑائی سے واپسی کے وقت حضرت عائشہ ؓ پر بہتان لگایا گیا اور اسی وقت سورة النور نازل ہوئی ‘ اگرچہ مغازی ابن اسحاق میں ہے کہ بنی مصطلق کی لڑائی 2 ؎ ہے کیونکہ اس لڑائی سے واپسی کے وقت حضرت عائشہ ؓ کے بہتان کی بات چیت میں سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کا جھگڑا جو ہوا ہے اس کا ذکر صحیح بخاری وغیرہ کی صحیح روایتوں میں ہے اور یہ بھی صحیح روایتوں میں ہے کہ بنی قریظہ کے واقعہ کے وقت 5 سنہ ہجری میں سعد بن معاذ کا انتقال ہوگیا ‘ اس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ سعد بن معاذ کے انتقال سے پہلے بنی مصطلق کی لڑائی ہوئی اور اسی لڑائی سے واپسی کے وقت حضرت عائشہ ؓ کے بہتان کا قصہ پیش آیا اور اسی قصہ کی بات چیت میں سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ کا جھگڑا ہوا ‘ ورنہ مغازی ابن اسحاق کی روایت کے موافق اگر 6 ہجری میں بنی مصطلق کی لڑائی ہوتی اور اسی لڑائی کے وقت حضرت عائشہ ؓ کے بہتان کا قصہ پیش آتا تو وفات کے بعد سعد بن معاذ کا جھگڑا سعد بن عبادہ سے کیونکر ہوسکتا تھا ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ 5 ہجری میں سورة النور نازل ہوئی اور اسی سورت کی آیتوں میں وعدہ کے طور پر مسلمانوں کو حکومت کی خوشخبری جو سنائی گئی تھی ‘ اس خوشخبری کے تین سال بعد مکہ پر چڑھائی ہو کر مکہ فتح ہوگیا اور مکہ میں مسلمان حاکم رہنے لگا ‘ اس کے بعد رفتہ رفتہ اس خوشخبری کا ظہور ہوا ‘ تاریخ الخلفاء کے دیکھنے سے ان کا حال اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے۔ (1 ؎ صحیح بخاری ص ) (2 ؎ باب غزوۃ الفتح فی رمضان )
Ayahs 24:58–59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

مومنو ! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ (یعنی تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو اور (تیسرے) عشاء کی نماز کے بعد (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے نہ ان پر کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور حکمت والا ہے

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

58۔ 59:۔ شروع سورت میں ہر وقت گھر والوں سے اجازت لے کر پرائے گھر میں جانے کا حکم تھا ‘ ان آیتوں میں غلاموں اور نابالغ لڑکوں کو یہ حکم ہے کہ فجر کی نماز سے پہلے ‘ دوپہر ‘ اور عشاء کی نماز کے بعد غلام اپنے آقا کے اور نابالغ لڑکے اپنے رشتہ داروں کے گھر میں بغیر اجازت کے نہ جاویں ‘ یہ تینوں وقت لوگوں کے آرام کرنے اور ننگے کھلے رہنے کے ہیں ‘ اس واسطے ان وقتوں کے لیے یہ خاص حکم نازل فرمایا اگرچہ سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ اَلَّذِیْنَ مَلَکَتْ اَیْمَا نُکُمْ میں غلام لونڈی دونوں داخل ہیں یا یہ حکم فقط غلاموں کے لیے ہے مگر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا صحیح قول یہی ہے کہ اس حکم میں لونڈی داخل نہیں ہے ‘ حاصل مطلب آیتوں کا یہ ہے کہ اے ایمان والو ! تم اپنے غلاموں اور نابالغ لڑکوں سے کہہ دو کہ جن تین وقتوں کا ذکر آیتوں میں ہے ان تین وقتوں میں تمہارے یہ غلام اور نابالغ لڑکے پروانگی مانگ کر تمہارے پاس آیا کریں کیونکہ یہ تینوں وقت تمہارے اور تمہاری عورتوں کے ننگے کھلے رہنے کے ہیں اور یہ لوگ ہر وقت تمہارے پاس آیا جایا کرتے ہیں ‘ ہر گھڑی ان کا پروانگی مانگنا مشکل ہے اس لیے ان تینوں وقتوں کے علاوہ اور وقتوں میں یہ لوگ بغیر پروانگی بھی تمہارے پاس آجاویں تو کچھ مناہی نہیں ہے ‘ پھر فرمایا ‘ جب یہ نابالغ لڑکے بالغ ہوجاویں تو جس طرح ان کے بالغ ہوجانے سے پہلے کے لوگوں پر ہر وقت پروانگی مانگ کر گھر میں آنے کا حکم ہے وہی حکم ان کے حق میں بھی ہوگا پھر تین وقتوں کی خصوصیت باقی نہ رہے گی ‘ ہاں بالغ نابالغ سب غلاموں کے لیے تین وقتوں کی خصوصیت ہے ‘ غلام اور نابالغ لڑکے علیحدہ مکان میں سوتے بیٹھتے ہوں تو حسن بصری کے قول کے موافق 1 ؎ پروانگی کا حکم ہے ‘ نہیں تو نہیں ‘ دونوں آیتوں کے آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ہر طرح کی ضرورتوں کو خوب جانتا ہے ‘ اس لیے اس نے یہ پروانگی مانگنے کا حکم حکمت اور تدبیر سے دیا ہے ‘ جو علماء اس بات کے قائل ہیں کہ غلام سے پردہ نہیں ہے ان آیتوں میں ان کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ ان آیتوں میں سوائے تین وقتوں کے اور سب وقتوں میں غلام کو بغیر پروانگی آقا کے گھر میں جانے کی اجازت ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے سہل بن سعد کی حدیث اس سورة میں گزر چکی 2 ؎ ہے کہ بغیر پروانگی کے مانگنے کے کسی شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کے ایک زنانہ حجرہ میں جھانکنے کی جرأت کی ‘ جب اللہ کے رسول ﷺ نے اس شخص کی جرأت کا حال سنا تو فرمایا کسی کے گھر میں جانے سے پہلے پروانگی کے مانگنے کا حکم اسی واسطے نازل ہوا ہے کہ بیخبر کسی کے گھر کے اندر گھس جانے سے ننگی کھلی عورتوں پر نظر نہ پڑے اس واسطے اگر میں اس شخص کو حجرہ میں جھانکتے ہوئے دیکھ لیتا تو اس کی آنکھ پھوڑ ڈالتا ‘ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جس طرح اجنبی لوگوں کو ہر وقت بغیر پروانگی کے پرائے گھر میں جانے کی سخت مناہی ہے ‘ خاص تین وقتوں میں وہی سخت مناہی غلام اور نابالغ لڑکوں کے حق میں ہے کہ ان تینوں وقتوں میں بلا پروانگی کے غلام اپنے آقا کے اور نابالغ لڑکا اپنے رشتہ داروں کے گھر میں ہرگز نہ جاوے۔ (1 ؎ یعنی اجازت حاصل کرنا ) (2 ؎ یعنی ص 249 پر )
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی اور وہ دوپٹے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں اور اگر اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے اور خدا سنتا جانتا ہے

60۔ صحیح 3 ؎ بخاری میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ پردہ کی آیت کے نازل ہونے کی بعد حضرت سودہ ؓ ایک رات چادر اوڑھ کر نکلیں اور حضرت عمر ؓ نے ان کو دھمکایا اور آنحضرت ﷺ کو یہ مشورہ دیا کہ پردہ کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیا جائے کہ چادر اوڑھ کر بھی عورتیں گھر سے باہر نہ نکلا کریں ‘ اللہ تعالیٰ نے سورة الاحزاب کی آیتیں نازل فرما کر اس پر یہ حکم دیا کہ عورتوں کے لیے پردہ کا جو حکم نازل ہوا ہے وہ کافی ہے ‘ جماعت کی نماز یا کسی اور ضرورت سے دوپٹہ کے اوپر چادر یا برقعہ اوڑھ کر اور اس میں منہ چھپا کر عورتوں کے باہر نکلنے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ یہ حکم جوان بوڑھی سب عورتوں کے لیے تھا ‘ اس آیت میں فرمایا ‘ وہ بوڑھی عورتیں جن کو نکاح کی خواہش نہیں ہے ‘ ان پر جوان عورتوں کی سی پردہ کی تاکید نہیں ہے اگر وہ کسی موقع پر دوپٹہ کے اوپر کی چادر اتار ڈالیں تو جائز ہے لیکن اس میں سے کوئی عزت غیر مرد کو اپنا کچھ بناؤ دکھانے کے لیے دوپٹہ کے اوپر کی چادر نہ اتارے ‘ پھر فرمایا یہ بوڑھی عورتیں بھی اگر دوپٹہ کے اوپر چادر کے اوڑھنے کی عادت کو جاری رکھیں تو ان کے حق میں بہتر ہے کیونکہ اس میں احتیاط زیادہ ہے ‘ وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی زبانی باتوں کو خوب سنتا اور ان کے دل میں کے بھیدوں کو خوب جانتا ہے اس لیے ان میں کی کوئی عورت اگر اپنے آپ کو زبانی تو بوڑھی بتلادے گی اور اس کے دل میں کچھ اور بھید ہوگا تو اس کی زبانی باتیں اور دل کا بھید سب کچھ اللہ کو معلوم ہے ‘ عورت اپنے کسی چھپے ہوئے بناؤ سنگھار کو جتلادے تو اس کو تبرج کہتے ہیں ‘ مسند امام احمد اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 1 ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول نے ایسی عورتوں کو دوزخی فرمایا ہے جو ایسا کپڑا پہنتی ہیں جس سے ان کا کچھ بدن ڈھکتا ہے اور کچھ کھلا رہتا ہے ‘ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ حال کے رواج کے مطابق جو عمر رسیدہ عورتیں ایسے مہین کپڑے کا دوپٹہ اوڑھتی اور کرتہ پہنتی ہیں جس سے ان کا کچھ بدن ڈھکتا اور کچھ کھلا رہتا ہے تو ایسی عورتوں کو اجنبی مرد کے سامنے دوپٹہ کے اوپر موٹے کپڑے کی چادر کا اوڑھنا ضروری ہے۔ (3 ؎ صحیح بخاری مع فتح الباری ص 304 ج 4 تفسیر سورة الاجزاب ) (1 ؎ الترغیب و الرہیب ص 95 ج 3 ومشکوٰۃ باب مالایضمن من الجنایات )