Ayahs 21:36–4136۔ 41:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم 4 ؎ میں چند روایتوں سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے ‘ اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف میں مشرکوں کے بتوں کی مذمت کی آیتیں جو نازل ہوتی تھیں اور آنحضرت ﷺ وہ آیتیں مشرکوں کو پڑھ کر سناتے تھے تو مشرک لوگ اپنے بتوں کی مذمت سن کر دل میں تو بہت چڑتے اور برا مانتے تھے اور ظاہر میں آنحضرت ﷺ کو مسخراپن میں اڑاتے تھے ‘ چلتے پھرتے جہاں کہیں آنحضرت ﷺ کو دیکھتے تو ابوجہل وغیرہ آپس میں آنحضرت ﷺ کو چھیڑنے کو کہتے تھے ‘ کیا قریش کی ہدایت کو یہی نبی آئے ہیں جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ جو عذاب ان مشرکوں کے لیے آخرت میں تیار کیا گیا ہے ‘ اگر اس کو یہ لوگ جان لیویں تو یہ مسخراپن کی سب باتیں بھول جاویں اور یہ بھی فرما دیا کہ دنیا چند روزہ ہے ‘ آنکھوں کے سامنے ان کے بڑے مرگئے ان کو بھی اسی طرح آخر مرنا ہے مرتے ہی اس طرح کے ناگہانی عذاب میں یہ لوگ پھنس جاویں گے کہ پھر ان کا کچھ بس نہ چلے گا۔ قرآن کی آیتوں اور صحیح حدیثوں سے یہ ذکر اللہ تعالیٰ نے اس واسطے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کے منہ اور پشت پر قبض روح کے وقت فرشتے دنیا میں ہی کوڑے مارتے ہیں ‘ جس کا ذکر سورة محمد میں آوے گا۔ اس لیے سب سے پہلے جو عذاب شروع ہوگا ‘ اس کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا گیا ہے حاصل مطلب ان پوری آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے فرماتا ہے ‘ اے رسول اللہ کہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ یہ مشرک لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو مسخراپن کے طور پر آپس میں چرچا کرتے ہیں کہ ہمارے ٹھاکروں کی مذمت کرنے والے یہ جارہے ہیں ‘ عربی زبان میں ذکر کا لفظ مذمت اور تعریف دونوں موقعوں پر بولا جاتا ہے ‘ اگر یہ لفظ دوست کے منہ سے نکلے تو تعریف کا موقعہ ہوتا ہے ‘ نہیں تو مذمت کا ‘ پھر فرمایا یہ لوگ پتھر کے بتوں کا نام تو تعریف سے لینے کی خواہش دل میں رکھتے ہیں اور اللہ کی رحمت کی صفت کے سبب سے اس کا نام رحمن جو قرار پایا ہے ‘ ان کی سراپا نادانی ہے کیونکہ یہ بت جن نیک لوگوں کی شکلوں کی یہ مورتیں ہیں ‘ وہ لوگ تو ان مشرکوں کی صورتوں سے بیزار ہیں اور بت تو پھر آخر پتھر کی مورتیں ہیں جن میں نہ کسی کو نفع پہنچانے کی قدرت ہے نہ ضرر پہنچانے کی ‘ پھر ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا قابل مذمت کام نہیں ‘ تو اس کے قابل تعریف ہونے کی کیا سند ان لوگوں کے پاس ہے ‘ صحیح بخاری کے حوالہ سے عبداللہ ؓ بن مسعود کی ‘ اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایتیں کئی جگہ گزر چکی ہیں ‘ جن کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے ہاتھ کی لکڑی مار مار مکہ کے سب بتوں کو زمین میں گرا دیا ‘ ان روایتوں کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جن کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ اپنے جن بتوں کی عزت بڑھانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ سے وہ مسخراپن کرتے تھے جن کا ذکر آیتوں میں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں اپنے رسول کے ہاتھ سے ان بتوں کو خوب ذلت دلوائی ‘ مشرکین مکہ مسیلمہ کذاب کو رحمن کہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے اس نام کے منکر تھے ‘ صحیح بخاری 1 ؎ وغیرہ میں صلح حدیبیہ کے قصہ میں چند روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے صلح نامہ کے شروع میں حضرت علی ؓ سے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کو کہا تو مشرکین مکہ نے صلح نامہ کے لکھے جانے سے انکار کیا اور کہنے لگے کہ رحمن کو ہم نہیں جانتے صلح نامہ کے شروع میں قدیم کے مطابق باسمک اللھم لکھا جائے آخر مشرکین کی ضد کے سبب سے باسمک اللھم صلح نامہ کے شروع میں لکھا گیا ‘ اس حدیث سے وھم بذ کر الرحمن ھم کفرون کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ اللہ تعالیٰ کا نام رحمن ہونے کے سخت منکر تھے ‘ معتبر سند سے مسند سعید بن منصور ‘ تفسیر ابن المنذر ‘ تفسیر سدی وغیرہ 2 ؎ میں سعید بن جبیر اور عکرمہ کا قول ہے کہ جب آدم (علیہ السلام) کے پتلے میں روح پھونکی گئی تو پیروں میں جان پڑجانے سے پہلے آدم (علیہ السلام) نے کھڑے ہونے کا قصد کیا اور گر پڑے اس قول سے خلق الانسان من عجل کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر کام میں جلدی اور شتابی کرنا انسان کے خمیر میں پڑا ہوا ہے ‘ آگے فرمایا ‘ انسان کے خمیر میں ہر ایک کام میں جلدی کا کرنا جو پڑا ہوا ہے اس کے موافق یہ لوگ عذاب کی جلدی جو کرتے ہیں اور گھڑی گھڑی جو کہتے ہیں کہ جس عذاب سے ڈرایا جاتا ہے آخر وہ عذاب کب آوے گا ‘ اے رسول اللہ کے ان جلد بازوں سے کہہ دیا جائے کہ عذاب کی جلدی کیوں کرتے ہو ‘ بہت جلد اللہ تعالیٰ عذاب کی گھڑی بھی تم کو دکھادے گا ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ مشرکین مکہ میں سے بڑے بڑے عذاب کی جلدی کرنے والے بدر کی لڑائی کے وقت دنیا میں بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا۔ اب تو تم لوگوں نے اللہ کے وعدہ کو سچا پالیا ‘ عذاب کے جلدی کرنے والوں کو عذاب کی گھڑی کے دکھانے کا جو وعدہ آیتوں میں تھا اس وعدہ کا ظہور اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے آگے فرمایا اگر ان لوگوں کو اس دن کا حال کھل جائے جس دن یہ لوگ اپنے منہ اور اپنی پیٹھ کو آگ کے صدمہ سے نہ خود بچا سکیں گے ‘ نہ کوئی دوسرا ان کی مدد کرکے ان کو اس آگ سے بچا سکے گا اور نہ کہیں بھاگ کر یہ لوگ اس عذاب کو ٹال سکیں گے کیونکہ وہ عذاب ایسی بیخبر ی میں آوے گا کہ ان کو بھاگنے کی مہلت بھی نہ مل سکے گی ‘ سورة محمد میں آوے گا کہ اللہ کے فرشتے نافرمان لوگوں کی روح قبض کرنے کے وقت ایسے لوگوں کے منہ اور ان کی پیٹھ پر لوہے کی گرم موگریاں مارتے ہیں ‘ مسند امام احمد اور ابو داؤد میں براء بن العازب کی صحیح روایت ہے ‘ اس میں بھی نافرمان لوگوں کی روح قبض کرنے کے وقت سختی کرنے کا ذکر ہے اس سختی کا مطلب بھی وہی ہے جو سورة محمد کی آیتوں کا اوپر بیان کیا گیا کہ نافرمان لوگوں کی روح قبض کرنے کے وقت فرشتے ایسے لوگوں کے منہ اور ان کی پیٹھ پر طرح طرح کی مار دھاڑ کرتے ہیں ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں فضل منہ اور پیٹھ پر عذاب کے ہونے کا جو ذکر ہے ‘ سورة محمد کی آیتوں اور براء بن العازب کی حدیث سے اس کا مطلب سمجھ میں آجاتا ہے کہ یہ عذاب نافرمان لوگوں کی قبض روح کے وقت کا ہے۔ موت اور قیامت کے وقت کی کسی کو خبر نہیں ‘ اسی واسطے موت اور قیامت کے عذاب کو بیخبر ی کے وقت کا عذاب فرمایا ‘ آخر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی یہ تسکین فرمائی ہے کہ منکر شریعت لوگ اسی طرح قدیم سے اللہ کے رسولوں سے مسخراپن کرتے رہے ہیں تمہارے ساتھ ہی کچھ یہ بات نہیں ہے اور یہ بھی فرمایا کہ انجام ان کے مسخراپن کا یہ ہوا کہ دنیا میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اور آخرت کے عذاب میں جدا پکڑے جاویں گے مطلب یہ ہے کہ مشرکین مکہ میں سے جو لوگ ان پچھلے لوگوں کے قدم بقدم چلیں گے۔ یہی انجام ان کا بھی ہوگا ‘ اللہ سچا ہے ‘ اللہ کا کلام سچا ہے اس انجام کا ذکر انس بن مالک کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت سے ابھی اوپر گزر چکا ہے۔
(4 ؎ تفسیر الدر المنثورص 319 ج 4 )
(1 ؎ صحیح بخاری ص 389 جلد اول کتاب الشروط )
(2 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 319 )
Ayahs 21:42–4642۔ 46:۔ اوپر ذکر تھا کہ منکرین قیامت عذاب کی جلدی کرتے تھے ان آیتوں میں فرمایا کہ جب تک وقت نہیں آتا ‘ ہر بلا سے اللہ ہی ان کی نگہبانی کر رہا ہے ‘ ورنہ آدمی کے پیچھے تو رات دن اتنی بلائیں لگی ہوئی ہیں کہ دم بھر بھی اس کا جینا مشکل ہے کیونکہ قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو تجربہ ہوگیا کہ ان کے بت ایسے عاجز ہیں کہ اللہ کی مدد کے بغیر کسی مصیبت کو ٹال نہیں سکتے، یہ لوگ قرآن کی نصیحت کو ٹال دیتے ہیں ‘ ورنہ اس تجربہ کے بعد یہ لوگ قرآن کی نصیحت کے پابند ہوجاتے اور عذاب کی جلدی نہ کرتے ‘ پھر فرمایا کہ ان کو اور ان کے بڑوں کو وقت مقررہ تک اللہ نے چھوڑ رکھا ہے نہیں تو ان کے کرتوت تو ایسے تھے کہ ان کا نشان بھی زمین پر باقی نہ رہتا پھر فرمایا کہ کیا اس سے بھی ان کو دین اسلام کا حق ہونا ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام کو دن بدن ترقی ہوتی جاتی ہے اور کفر زمین سے اٹھتا جاتا ہے ‘ پھر آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میں تم کو اللہ کا حکم ہر طرح کی نصیحت کا سناتا ہوں اگر بہرے بن کر اللہ کا حکم نہیں سنتے تو عذاب الٰہی میں گرفتار ہوجاؤ گے پھر عذاب کی سختی کا ذکر فرمایا کہ اگر عذاب کی ذرا بو بھی ان کے ناک میں آجاوے تو سب عیش و آرام ابھی بھول جائیں اور اپنی زیادتی اور گنہگاری کا اقرار کرنے لگ جاویں ‘ صحیح بخاری و مسلم میں انس بن مالک 1 ؎ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کم سے کم عذاب آخرت میں جس گنہگار پر ہوگا اس سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ دنیا بھر کا عیش و آرام اور دنیا بھر کی دولت آج تیرے قبضے میں ہوتی اس عذاب کے چھٹکارہ کے بدلہ میں تجھ کو وہ عیش دولت دینی منظور ہے ‘ وہ شخص کہے گا ہاں ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جب تو پیدا بھی نہیں ہوا تھا اس وقت اللہ تعالیٰ نے تجھ سے یہ ایک ادنیٰ سی بات چاہی تھی کہ اللہ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ کی جیو ‘ جب تجھ سے یہ بات نہ ہوسکی تو آج کیونکہ تیرا چھٹکارہ اس عذاب سے ہوسکتا ہے ‘ صحیح مسلم 2 ؎ میں ان ہی انس بن مالک سے دوسری روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ بڑے سے بڑے عیش طلب گنہگار سے دوزخ میں ڈالتے ہی پوچھا جائے گا کہ تو نے دنیا میں اپنی عمر بھر میں کبھی کچھ آرام پایا تھا تو اس عذاب کے آگے وہ دنیا کے آرام کو بالکل بھول جائے گا اور کہے گا میں نے ہرگز کبھی کوئی آرام نہیں پایا اسی طرح دنیا کے بڑے سے بڑے مصیبت زدہ شخص سے جنت میں داخل ہوتے ہی پوچھا جائے گا کہ دنیا میں اپنی عمر بھر میں تو نے کوئی مصیبت بھگتی تھی تو اس آخرت کے عیش کے آگے وہ دنیا کی سب مصیبتیں بھول جائے گا اور کہے گا میں نے ہرگز کوئی مصیبت نہیں بھگتی۔ سورة العنکبوت میں آوے گا جب یہ مشرک لوگ کشتی میں سوار ہوتے اور کشتی کے ڈوب جانے کا خوف ہوتا تو اس خوف کے وقت اپنے بتوں کو بالکل بھول جاتے تھے اور خالص اللہ تعالیٰ سے کشتی کے ڈوبنے کی مصیبت کے ٹل جانے کی التجا کرتے تھے ‘ صحیح بخاری وغیرہ کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جب ان مشرکوں نے سرکشی پر کمر باندھی تو اللہ کے رسول ﷺ کی بددعا سے مکہ میں ایسا سخت قحط پڑا کر مکہ کے لوگ نہ کھانے تک کی چیزیں بھی کھا گئے اور اس قحط کے زمانہ میں اگرچہ ان لوگوں نے اپنے بتوں سے مینہ برسنے کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ کی دعا سے مینہ برسا ‘ سورة العنکبوت کی آیتوں اور اوپر کی انس بن مالک کی روایتوں اور عبداللہ بن مسعود کی روایت کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اے رسول اللہ کے اگر تم عذاب کی جلدی کرنے والوں سے پوچھو گے کہ اللہ کے حکم سے کوئی آفت تم پر آگئی تو جو اللہ کشتی کے ڈوب جانے کے خوف کے وقت ڈوبنے کی آفت سے اور رات دن میں اسی طرح کی ہزاروں آفتوں سے تم کو بچاتا ہے ‘ اس نئی آفت سے بھی وہی تم کو بچاوے گا۔ قرآن کی نصیحت ٹال دینے کے جرم کی سزا میں کوئی عذاب نازل ہوگیا ‘ تو تمہارے بتوں کی یہ طاقت ہے کہ سوائے اللہ کے حکم اور اس کی مدد کے وہ بت اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے عذاب کو ٹال دیں گے ‘ اے رسول اللہ کے کشتی کے ڈوبنے کے اور مکہ کے قحط کے حال یاد کرکے یہ تو ان لوگوں کا منہ نہیں کہ سوائے اللہ کی مدد کے اس کے بھیجے ہوئے عذاب سے بچ جانے کا ذکر یہ لوگ زبان پر لاویں ‘ بلکہ بات فقط اتنی ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آزمائش کے طور پر ان کو اور ان کے بڑوں کو دنیا کی خوشحالی جو دی اس کے نشہ میں نہ یہ لوگ اسلام کی دن بدن کی ترقی کو دیکھ کر چونکتے ہیں نہ بہروں کی طرح قرآن کی نصیحت کو سنتے ہیں اور نہ عذاب کی جلدی کرنے کے انجام کو سمجھتے ہیں لیکن اللہ کے کچھ عذاب کا حصہ اگر ان کو دنیا میں مل گیا تو اپنی گنہگاری کا اقرار کرنے لگیں گے مگر وہ بےوقت کا اقرار ان کے کچھ کام نہ آوے گا اور دنیا کے عذاب کے علاوہ جب آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوں گے تو دوزخ کے پہلے ہی جھونکے میں دنیا کی یہ خوشحالی بھول جاویں گے۔
(1 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صنقہ النا رواہلہا۔ )
(2 ؎ ایضا )
Ayah 21:4747:۔ معتبر مفسروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قیامت کے دن اعمال کے تولنے کے لیے ایک ہی ترازو قائم کی جائے گی لیکن اس ایک ترازو میں ہر ایک جنس کے عمل مثلا نفلی نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ فرضی نماز ‘ روزہ ‘ حج علیحدہ یہ سب کچھ تولا جائے گا اس واسطے وہ ایک ترازو گویا کئی ترازوؤں کا کام دے گی اس لیے اس آیت میں ترازو نہیں فرمایا ‘ ترازوئیں لفظ جمع کا فرمایا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ ہر ایک شخص کی کئی کئی تولیں قائم ہوں گی ‘ اس ترازو میں کیا چیز تلے گی نیک و بدعمل والے لوگ تلیں گے یا عمل کے کا غذ تلیں گے یا خود عملوں کو ایک جسم خدا بخشے گا وہ جسم تولا جائے گا ‘ اگرچہ مفسرین کے اس باب میں چند قول ہیں مگر امور آخرت میں جہاں عقل کا کچھ دخل نہیں بدوں صحیح حدیث صاحب وحی ﷺ کے کسی مفسر کا قول قابل بھروسہ نہیں قرار پاسکتا ‘ خود صاحب وحی ﷺ سے جو بات صحیح قرار پائی ہے وہ یہی ہے کہ خود اعمال تولے جاویں گے صحیح بخاری ومسلم 1 ؎ میں ابوہریرہ ؓ کی جو روایت ہے اس میں آپ نے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم کو فرمایا ہے کہ یہ دو کلمے ایسے ہیں کہ زبان پر ہلکے ہیں اور قیامت کے دن میزان میں بھاری ہیں اور یہ دو کلمے اللہ کو بہت پیارے ہیں جس کاغذ کے پر چے پر یہ دونوں کلمے لکھے جاویں گے اس کا ہلکا پن تو خود معلوم ہے ‘ اس لیے ظاہر ہے کہ خود ان کلموں کا بوجھ آنحضرت ﷺ کا مطلب ہے مسند امام احمد بن حنبل ‘ ترمذی ‘ ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں عبداللہ ؓ بن عمرو ؓ بن العاص 2 ؎ سے جو روایتیں ہیں ‘ ان کا حاصل یہ ہے کہ ایک کم سو دفتر ایک شخص کے گناہوں کے قیامت کے دن اتنی دور تک پھیلنے کے قابل نکلیں گے جتنی دور آدمی کی نگاہ کام کرسکتی ہے جب وہ شخص دوزخ میں بھیجا جانے لگے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کا ایک عمل تولنے سے رہ گیا ہے اس پر ایک چھوٹا سا پر چہ کاغذ کا لایا جائے گا جس میں کلمہ توحید کا ثواب لکھا ہوگا تولنے میں وہ کاغذ کا پر چہ ایک کم سو دفتروں سے بھاری نکلے گا اب یہ بات تو ظاہر ہے کہ کاغذ کے پر چہ میں اس قدر بوجھ کہاں سے آسکتا ہے یہ عمل کا بوجھ ہے ‘ ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے شرط مسلم پر صحیح کہا 3 ؎ ہے ‘ غرض صحیح حدیثوں سے خود عملوں کا تولا جانا ثابت ہوچکا ہے سوائے ان روایتوں کے فقط مسند امام احمد میں جو لوگوں کے تلنے کی روایت 4 ؎ ہے اس کی سند ایسی قوی نہیں ہے اور بلا کسی روایت کی سند کے بعضے مفسروں نے کچھ قول جو اس باب میں نقل کیے ہیں وہ صحیح حدیث کے روبرو کسی گنتی میں نہیں ہیں ‘ تین موقع قیامت کے دن بڑے سخت ہیں ایک یہی اعمال تلنے کا کہ کسی کا نیکی کا پلڑا بھاری نکلتا ہے اور کسی کا بدی کا دوسرے نامہ اعمال کے بٹنے کا موقع کہ کس کے سیدھے ہاتھ میں وہ کاغذ آتا ہے اور کس کے الٹے ہاتھ میں تیسرا پل صراط کے گزرنے کا موقعہ کہ کون صحیح سالم گزرتا ہے اور کون کٹ کر دوزخ میں گر پڑتا ہے ‘ ابوداؤد میں حضرت عائشہ 1 ؎ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز دوزخ کے عذاب کی شدت یاد کر کے میں رونے لگی ‘ آنحضرت ﷺ نے مجھ سے پوچھا کیوں روتی ہو ؟ میں نے کہا دوزخ کا عذاب یاد کر کے روتی ہوں ‘ پھر میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کے دن آپ اپنے اہل و عیال کو بھی یاد رکھیں گے آپ نے فرمایا تین موقعے تو ایسے ہیں کہ کوئی کسی کو یاد نہیں رکھے گا ‘ پھر آپ نے اعمال کے تولے جانے اور نامہ اعمال کے بٹنے اور پل صراط کے گزرنے کے تین موقع کا نام لیا ‘ یہ حدیث صحیح ہے چناچہ اس کی صحت کا حال سورة اعراف میں گزر چکا ہے اور معنی اس حدیث کے یہ ہیں کہ ان تینوں سخت موقعوں پر آپ کو امت کی شفاعت اور تینوں موقعوں سے نجات کا خیال زیادہ ہوگا اور آپ کے دل پر اس وقت ایک پریشانی سی ہوگی کیونکہ بعضے لوگ تو پل صراط پر ہوں گے اور بعضے جو پل صراط سے گزر چکے ہوں گے ادھر ان کے اعمال تلنے شروع ہوجاویں گے اس لیے پل صراط والے لوگوں کی سلامتی سے گزر جانے کی شفاعت فرمانے کے لیے گھڑی آپ پل صراط پر تشریف لاویں گے اور گھڑی میزان والے لوگوں کی شفاعت کے لیے میزان کے پاس تشریف لے جاویں گے۔ غرض یہ معنی اس حدیث کے نہیں ہیں کہ ان تینوں موقعوں پر آپ امت کے حال سے بیخبر ہوجاویں گے جنانچہ ترمذی میں حضر انس ؓ کی جو حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ‘ میں نے آنحضرت ﷺ سے قیامت کے دن خاص طور پر اپنی شفاعت کی التجا کی تو آپ ﷺ نے میری التجا کو قبول فرمایا۔ پھر میں نے آپ سے پوچھا کہ میں آپ کو شفاعت کے لیے کہاں ڈھونڈوں۔ آپ نے فرمایا کہ پہلے مجھ کو پل صراط پر ڈھونڈنا ‘ پھر میزان کے پاس ‘ پھر حوض کوثر پر ‘ ان تینوں مقاموں میں سے کسی مقام پر میں ضرور ہوں گا ‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پل صراط اور میزان کے پاس بھی آنحضرت ﷺ شفاعت فرماویں گے کیونکہ حضرت انس ؓ سے تو شفاعت ہی کا وعدہ تھا پھر اس وعدہ کے پورا کرنے کے لیے جو مقامات آپ نے بتلائے بلاشک وہ مقامات شفاعت کے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان مقاموں پر عام امت کی نجات کے خیال میں مصروف ہونے کے سبب سے جس طرح خود یاد رکھنے کا وعدہ آنحضرت ﷺ نے حضرت انس ؓ سے نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ خود حضرت انس ؓ آنحضرت کو ڈھونڈ لیویں ‘ اسی طرح حضرت عائشہ ؓ سے ان مقاموں پر اہل و عیال کے یاد رکھنے کا وعدہ آپ نے نہیں فرمایا۔ انس بن مالک کی اس حدیث کو ترمذی نے حسن کہا 2 ؎ ہے ‘ مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن نہایت انصاف سے لوگوں کے عمل تولے جاویں گے اور عملوں کے تولے جانے کے بعد جن کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنتی قرار پاویں گے اور جن کا بدعملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ دوزخ میں جاویں گے اور دوزخ میں جانے کے بعد جس شخص کے دل میں ذرے برابر بھی ایمان ہوگا اس کی شفاعت ہوگی اور آخر ایسا ہر ایک شخص دوزخ سے نکل کر جنت میں جائے گا۔ چناچہ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں شفاعت کا ذکر تفصیل سے ہے ‘ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس حدیث سے فلا تظلم نفس شیئا کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ظلم ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس واسطے قیامت کے دن کی جزا و سزا میں کسی پر یہ ظلم نہ ہوگا کہ نیکی کی جزا گھٹا یا بدی کی سزا بڑھا دی جائے۔ عبداللہ ؓ بن عمرو بن العاص سے روایت جو ابھی گزری ہے اس سے وان کان مثقال حبۃ من خردل اتینا بھا کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ فقط کلمہ توحید کا ثواب بھی بغیر وزن کے نہیں چھوڑا گا ‘ معتبر سند کی انس بن مالک ؓ کی روایت مسند بزار کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکی ہے کہ بعضے لوگوں کے اعمال ناموں میں سے کچھ نیک عملوں کے نکال ڈالنے کا جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حکم دے گا تو نامہ اعمال لکھنے والے فرشتے عرض کریں گے یا اللہ ظاہری طور پر تو ان عملوں میں کوئی خرابی نہیں معلوم ہوتی اللہ تعالیٰ فرماوے گا تم کو انسان کی نیت کا حال معلوم نہیں ‘ مجھ کو معلوم ہے کہ یہ عمل نیک نیتی سے نہیں 1 ؎ کیے گئے اس سے وکفی بنا حاسبین کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسان کے دل کے ارادہ اور نیت تک کا حال معلوم ہے اس لیے اس سے بڑھ کر کوئی حساب کا لینے والا نہیں ہے۔
(1 ؎ صحیح بخاری کی آخری حدیث )
(2 ؎ تفسیر ابن کثیرص 180 ج 3 )
(3 ؎ فتح الباری ص 802 ج 6 )
(4 ؎ تفسیر ابن کثیر حوالہ بالا )
(1 ؎ الترعیب والترہیب 424 ج 4 )
(2 ؎ ایضا الترغیب ص 425 ج 4 )
(1 ؎ الترغیب والترہہیب الترصیب من الریاء حدیث 57 )
Ayahs 21:48–5048۔ 50:۔ سورة قصص میں آوے گا ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی بصائر للناس جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم نوح سے لے کر فرعون تک پچھلے نافرمان لوگوں کے قصے ملا کر توراۃ کی ترتیب ایسی ہے جس سے لوگوں کے دلوں پر پورا اثر پڑے گا اب قرآن شریف میں توراۃ کی باتیں بھی ہیں اور انجیل کی بھی ‘ اور موسیٰ (علیہ السلام) عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تورات اور انجبیل میں جو خرابیاں پڑگئی تھیں ‘ ان کا بھی ذکر ہے ‘ اسی واسطے قرآن شریف میں اکثر جگہ توراۃ اور قرآن کا ذکر ساتھ آیا ہے جس سے یہ جتلایا گیا ہے کہ توراۃ میں لوگوں کے دل پر اثر پڑنے کی جو باتیں تھیں قرآن میں ان سے بڑھ کر ہیں اس پر بھی قرآن کی نصیحت جو لوگ نہیں مانتے وہ اللہ کے علم غیب میں بدنصیب ٹھہر چکے ہیں ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے تمام دنیا کی نبوت کو ایک خوشنما محل کی مثال سے سمجھا کر پھر یہ فرمایا ہے کہ اس خوشنما محل کے پورے ہوجانے میں ایک روہ کی کسر تھی ‘ میرے رسول ہوجانے کے بعد وہ روہ پورا ہو کر اس خوش نما محل کی تعمیر پوری 2 ؎ ہوگئی ‘ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اگرچہ تورات کی ترتیب ایسی تھی جس سے لوگوں کے دل پر بڑا اثر پڑتا تھا لیکن پھر بھی نبوت کے محل کے پورا ہونے میں ایک روہ کی کسر تھی ‘ خاتم الانبیاء ﷺ کے رسول ہوجانے اور قرآن کے نازل ہونے کے بعد وہ روہ پورا ہو کر نبوت کے محل کی تعمیر کامل ہوگئی اسی واسطے مسند امام احمد اور صحیح ابن حبان میں جابر بن عبداللہ سے اور مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو صحیح روایتیں 3 ؎ ہیں ‘ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ‘ میرے زمانہ میں اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے تو سوائے میری پیروی کے اور کچھ بن نہ آتا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نازل ہوجانے کے بعد انہیں تورات کی پیروی کافی ہوتی ‘ سورة الکہف میں گزر چکا ہے کہ قریش نے یہود کو اہل کتاب اور تورات کو کتاب آسمانی جان کر یہود کے پاس خاص طور پر اس غرض سے چند آدمی بھیجے تھے کہ یہود تورات میں سے کچھ مشکل باتیں قریش کو بتلا دیں تاکہ قریش ان باتوں کو اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھ کر آپ ﷺ کی نبوت کی صداقت کو آزمائیں اس پر یہود نے روح کا خضر (علیہ السلام) ‘ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا حال پوچھنے کا مشورہ قریش کو دیا اور یہ باتیں قریش نے یہود کے مشورہ کے مطابق اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھیں اور سورة بنی اسرائیل وسورۃ الکہف میں ان باتوں کے جواب کی آیتیں نازل ہوئی ‘ اسی واسطے ان آیتوں میں قرآن اور تورات کا ذکر ساتھ فرما کر قریش کو یوں قائل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی جس سے قیامت کے دن اللہ کے روبرو کھڑے ہونے سے ڈرنے والوں کے ہاتھ میں گویا روشن مشعل آگئی کہ اس سے وہ سب عقبیٰ کی بہبودی کی باتوں کو اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں ‘ دنیا میں عقبیٰ کی باتیں بن دیکھی ہیں اس لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ ان باتوں کو غیب کی باتیں فرمایا ‘ چکوتی سے مطلب فیصلہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مثلا جادوگروں نے اپنی لکڑیوں اور رسیوں کے جھوٹے سانپ زمین پر چھوڑے تھے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ سے ایک لکڑی کا سانپ ان سب جھوٹے سانپوں کو نگل گیا جس سے اس وقت کے سب لوگوں کے سامنے پورا پورا فیصلہ ہوگیا اگرچہ فرقان کی تفسیر میں سلف کے اور بھی قول ہیں لیکن حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں عبدالرحمن بن زید کے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ فرقان سے مقصود موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے ہیں اور ضیاء سے مقصود تورات ہے اس واسطے اردو کے دونوں ترجموں میں یہی قول لیا ہے یہ عبدالرحمن بن زید بن اسلم ‘ سفیان بن عیینہ کے مرتبہ کے تبع تابعین میں ہیں اگرچہ حدیث کی روایت میں ان عبدالرحمن کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن تفسیر کے باب میں ان کے قول کا اعتبار ہے ‘ اسی واسطے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے ان کا قول لیا ہے ‘ آگے فرمایا ‘ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی اسی طرح خاتم الانبیاء ﷺ پر قرآن نازل فرمایا یہ ان لوگوں کی نادانی ہے کہ تورات کو کتاب آسمانی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو انسان رسول مان کر قرآن کے کتاب آسمانی ہونے میں یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہیے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن قرآن کی پیروی کرنے والوں کی تعداد اور آسمانی کتابوں کی پیروی کرنے والوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی ‘ قرآن کی نصیحت کو برکت کی نصیحت جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی نصیحت کی برکت سے اس کے پیرو قیامت کے دن زیادہ ہوں گے اور دوسری آسمانی کتابوں کے پیرو کم۔
(2 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین )
(3 ؎ مشکوٰۃ مع تنیقح الرواۃ ص 42 ج 1 )
Ayahs 21:51–5651۔ 56:۔ سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش نمرود بن کنعان عراق کے بادشاہ کے زمانہ میں ہوئی ہے مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر بتلاتے تھے اس واسطے ان لوگوں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ سے قائل کرنے کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرما کر انہیں یوں قائل کیا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بچپنے ہی میں بت پرستی سے بیزار تھے پھر یہ مکہ کے بت پرست اپنے آپ کو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ پر کیوں کر کہہ سکتے ہیں ‘ نمردو اور اس کے ساتھی ستارہ پرست لوگ تھے ستاروں کی پرستش کی نیت سے ان لوگوں نے ستاروں کی مورتیں بنار کھی تھیں جن کو ابرہیم (علیہ السلام) نے تماثیل کہا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے وہ آخر کو دوزخ سے نکل کر جنت میں جائے گا ‘ معتبر سند سے ابن ماجہ اور صحیح ابن خزیمہ میں ابوہریرہ ؓ کی روایت 1 ؎ سے حدیث قدسی ہے کہ مشرک کا کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ‘ اللہ کی وحدانیت کے اعتقاد کو نیک راہ اور شرک کے اعتقاد کو صریح غلطی جو فرمایا ‘ اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے ‘ حاصل مطلب یہ ہے کہ موسیٰ اور ہارون کو نیک راہ کی توفیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے چھوٹی سی عمر میں ابراہیم (علیہ السلام) کو نیک راہ کی توفیق دی کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ آزر بت پرست کے گھرانہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ایسے نیک راہ اور اللہ کے رسول ہوں گے ‘ ان کے بعد ان کے گھرانہ میں قیامت تک نبوت چلے گی ‘ آگے ابراہیم (علیہ السلام) کے نیک راہ پر ہونے کی یہ تفصیل بیان فرمائی کہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو بت پرستی کی حالت پر نہ دیکھ سکے اس لیے انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے پوچھا کہ تم ان مورتیوں کی پوجا میں ہر وقت کیوں لگے رہتے ہو ‘ ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ اور قوم کے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقہ پر ہیں ‘ وہ بھی یہی کیا کرتے تھے جو ہم کرتے ہیں ‘ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی مورتوں کی اس قدر تعظیم کرنے میں تم بھی بڑی غلطی میں پڑے ہوئے ہو اور تمہارے باپ دادا بھی غلطی پر تھے ‘ ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ بات سن کر ان کے باپ اور ان کی قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا کہ جب تم ہم کو اور ہمارے بڑوں کو غلطی پر بتاتے ہو تو تم ہمارے طریقہ سے بڑھ کر کوئی ٹھیک طریقہ بتلا سکتے ہو یا بچوں کی طرح جو منہ میں آتا ہے کہہ رہے ہو ‘ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا جو منہ میں آوے وہ میں نہیں کہتا بلکہ میں تو تم کو ٹھیک طریقہ بتلا سکتا ہوں کہ جس اللہ نے آسمان زمین سب کچھ پیدا کیا ‘ انسان پر اس کی تعظیم واجب ہے ان مورتوں نے تعظیم کے قابل کونسا کام کیا ہے جو تم ان کی تعظیم میں ہر وقت لگے رہتے ہو اس کے پیدا کیے ہوئے آسمان و زمین اور میں سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تعظیم کے قابل وہی ایک ذات ہے جس نے سب کچھ پیدا کیا۔
(1 ؎ الترغیب والترہیب ص 69 ج 1 باب الترہیب من الریاء )
Ayahs 21:57–6357۔ 63:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی حاتم میں زید بن اسلم وغیرہ کی روایتوں سے ان آیتوں کی تفسیر کے طور پر جو قصہ ہے سورة والصافات کے قصے کے ملانے سے اس سب قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب ابرہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے ان کے باپ آزر اور قوم کے لوگوں نے بت پرستی نہیں چھوڑی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں یہ بات سمائی کہ کبھی موقع پاکر ان بتوں کا پورا علاج کرنا چاہئے ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں میں ہر سال ایک میلہ بستی کے باہر ہوا کرتا تھا جس میں بستی کے سب لوگ جایا کرتے تھے ‘ بتوں کے توڑنے کے سال میں جب وہ میلہ کا وقت آیا تو ابراہیم (علیہ السلام) بیماری کا عذر ظاہر کرکے اس میلہ میں نہیں گئے اور دبی ہوئی آواز سے بتوں کو صدمہ پہنچانے کی یہ قسم کھائی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے قوم کے لوگوں کے بستی کے باہر چلے جانے کے بعد بت خانہ کو اکیلا پا کر ابراہیم (علیہ السلام) بت خانہ میں گئے قوم کے لوگ میلہ میں جاتے وقت کچھ کھانا پکا کر بتوں کے آگے رکھ جاتے تھے اور میلہ میں سے جب پلٹ کر آتے تو وہ کھانا تبرک کے طور پر سب قوم کے لوگ مل کر کھالیا کرتے تھے اس لیے بت خانہ میں جانے کے بعد بتوں کے سامنے وہ کھانا دھرا ہوا دیکھ کر پہلے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے دل لگی کے طور پر ان بتوں سے یہ کہا کہ تم یہ کھانا کیوں نہیں کھاتے جب بتوں نے اس بات کا جواب نہیں دیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ‘ تم بولتے کیوں نہیں اس کے بعد سب سے بڑے بت کو تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ثابت چھوڑ دیا اور باقی کے سب چھوٹے بتوں کو توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بڑے بت کو جس غرض سے ثابت چھوڑ دیا اس کا ذکر خود ان آیتوں میں ہے کہ قوم کے لوگوں نے جب ابراہیم (علیہ السلام) سے پوچھا کہ ابراہیم کیا تم نے ہمارے بتوں کو توڑا ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا یہ بڑا بت ثابت نظر آتا ہے اسی نے چھوٹے بتوں کو اس غصہ سے توڑ ڈالا ہوگا کہ اس بڑے بت کے ساتھ چھوٹے بتوں کی پوجا کیوں کی جاتی ہے ‘ یہی مطلب لَعَلَّھُمْ اِلَیْہِ یَرْجِعُوْنَ کا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قوم کے لوگ میلہ سے پلٹ کر شاید بڑے بت کے پاس آویں اور اس کو ثابت اور چھوٹے بتوں کو ٹوٹا ہوا پاکر یہ خیال کریں کہ بڑے بت نے ہی چھوٹے بتوں کی پوجا سے چڑ کر ان کو توڑ ڈالا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جب دبی ہوئی آواز سے بتوں کو صدمہ پہنچانے کی قسم کھائی تھی تو قوم میں کے کچھ لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آواز سن لی تھی اس واسطے ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کا نام لیا اور قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر بتوں کے توڑنے کا الزام لگا کر نمرود کے روبرو اپنی فریاد پیش کی اور سب کی صلاح سے جب ابراہیم (علیہ السلام) نمرود کے سامنے بلائے گئے انہوں نے یہ کہا کہ تم لوگ بڑے بت کے ساتھ چھوٹے بتوں کی پوجا کرتے تھے اس واسطے اس کو غصہ آیا اور اس نے چھوٹے بتوں کو توڑ ڈالا اگر تمہارے ان بتوں میں بولنے کی طاقت ہے تو ان ہی سے اس حال کو دریافت کرلیا جاوے ‘ قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر بتوں کے توڑنے کا الزام لگا کر اپنے بادشاہ نمرود کے روبرو اپنی فریاد اس لیے پیش کی کہ وہ بت پرست بادشاہ اس فریاد کو سن کر ابراہیم (علیہ السلام) کے حق میں کوئی سخت سزا تجویز کرے اور تمام اہل دربار اور قوم کے لوگ بادشاہی سزا کی شہرت کے سبب سے سزا کے موقع پر آن کر اس سزا کو آنکھوں سے دیکھ لیں ‘ ان لوگوں کے اسی مطلب کو فَاْتُوْابِہٖ عَلٰـی اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَشْھَدُوْنَ کے لفظوں سے ادا فرمایا گیا ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ 1 ؎ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دین الٰہی کی حفاظت میں ایسی تین باتیں منہ سے نکالی ہیں جن کی ظاہری صورت جھوٹ کی سی ہے ان میں سے یہ بات نکلتی ہے کہ بتوں کو خود توڑا اور بڑے بت کا نام لیا اور کہہ دیا اگر تمہارے ان بتوں میں بولنے کی طاقت ہو تو ان سے یہ حال دریافت کرلیا جاوے ‘ حاصل یہ ہے کہ بڑے بت کا نام لینے میں ظاہر صورت تو جھوٹ کی تھی اور حقیقت میں بَلْ فَعَلَہْ کَبِیْرُھُمْ سے ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ مطلب تھا کہ یہ کام ایسے بڑے نے کیا ہے ‘ جو ان بتوں کو صدمہ پہنچانے کی ایسی طاقت رکھتا ہے جس کے آگے یہ بت بالکل عاجز ہیں ‘ دوسری بات وہی ہے کہ بیماری کا عذر کر کے ابرہیم (علیہ السلام) میلہ میں نہیں گئے جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح بیمار شخص کہیں نہیں جاسکتا اسی طرح میں بھی اس میلہ میں نہیں جاسکتا ‘ تیسری بات یہ ہے کہ ملک عراق سے ملک شام کے سفر کے وقت جب مصر کے ایک ظالم بادشاہ نے خوبصورتی کے سبب سے حضرت سارہ کو بدکاری کے اردہ سے پکڑ لیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ سے کہہ دیا تھا کہ وہ بادشاہ میرا حال پوچھے تو کہہ دینا وہ میرے بھائی ہیں جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ حضر سارہ ان کی دینی بہن ہیں ‘ وہ بدکار ظالم بادشاہ ہر ایک خوبصورت عورت کو بدکاری کے لیے زبردستی پکڑوا لیتا تھا ‘ اور اگر یہ سن لیتا تھا کہ عورت کے ساتھ اس کا خاوند بھی ہے تو اس مرد کو قتل کرا دیتا تھا ‘ اسی آفت سے بچنے کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت سارہ سے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ ظالم بادشاہ میرا حال پوچھے تو کہہ دینا وہ میرے بھائی ہیں۔ ابوہریرہ ؓ کی اسی روایت میں حضرت سارہ کا باقی کا قصہ یوں ہے کہ اس ظالم بادشاہ نے کئی دفعہ بدکاری کا ارادہ کیا لیکن اس برے ارادے کے ساتھ ہی وہ مدہوش ہوجاتا آخر عاجز آن کر اس نے حضرت سارہ کو رخصت کیا اور حضرت ہاجرہ کو حضرت سارہ کی خدمت کے لیے دیا اچھے لوگوں کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف زیادہ ہوجاتا ہے اس لیے ظاہری صورت کے جھوٹ سے بھی حشر کے دن ابراہیم (علیہ السلام) ڈر جاویں گے چناچہ صحیح بخاری کو ابوہریرہ ؓ کی شفاعت کی روایت 1 ؎ میں اس کا ذکر تفصیل سے ہے۔
(1 ؎ تفسیر ابن کثیرص 183 ج 3۔ )
(1 ؎ جیسا کہ پچھلے صفحہ پر گزرا )
Ayahs 21:64–6764۔ 67:۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا کہ ان چھوٹے بتوں سے تو یہ پوچھا جائے کہ ان کو کس نے توڑا ہے اور بڑے بت سے یہ پوچھ لیا جائے کہ اس نے چھوٹے بتوں کو کیوں توڑا ہے تو قوم کے لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اس بات کو اپنے دل میں سوچا اور آپس میں ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا کہ بغیر دیکھے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتوں کے توڑنے کا الزام لگانا حقیقت میں ایک زیادتی اور بےانصافی کی بات ہے پھر گردن جھکا کر شرمندگی سے کہنے لگے ابراہیم تم کو کیا معلوم نہیں کہ یہ پتھر کے بت منہ سے نہیں بولتے ‘ قوم کے لوگوں سے یہ بات سن کر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تمہارے بت جب ایسے عاجز اور بےبس ہیں کہ جس نے ان کو صدمہ پہنچایا اس کا مقابلہ نہ کرسکے اور تمہارے پوچھنے پر یہ بھی نہیں بتلا سکتے کہ کس شخص نے ان کو صدمہ پہنچایا تو پھر تم کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ تم اور تمہارے بت دونوں بیزاری کے قابل ہیں کیونکہ یہ بت اپنی پوجا کرنے والوں کے ساتھ نہ کچھ بھلائی کرسکتے ہیں نہ پوجا کے چھوڑ دینے والوں کے ساتھ کچھ برائی ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق جو لوگ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے دوزحی قرار پاچکے ہیں ان کو دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ویسے ہی کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں ‘ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت سے قوم کے لوگ اگرچہ بت پرستی کی برائی کو سمجھ گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں وہ لوگ دوزخی ٹھہر چکے تھے اس لیے بجائے اس کے کہ وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کی نصیحت کی کچھ قدر کرتے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ وہ بدسلوکی کی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayahs 21:68–7068۔ 70:۔ جب عقلی حجت میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے باپ نمردو اور نمرود کے ساتھ کے لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر غالب نہ آسکے تو اس وقت ان سب لوگوں نے صلاح کر کے یہ بات نکالی کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیں۔ اس قصہ کے وقت حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی عمر سولہ برس 2 ؎ تھی۔ تفسیر سدی 3 ؎ میں ہے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کو ایسا اچھا سمجھتے تھے کہ ایک عورت بھی ان لوگوں میں بیمار ہوتی تھی تو یہ نذر مانتی تھی کہ اگر وہ اچھی ہوجائے گی تو ایک گٹھا لکڑیوں کا اس انبار میں ڈلوا دے گی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 1 ؎ ہے کہ جب یہ لوگ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا قصد کر رہے تھے تو جو فرشتہ مینہ برسانے پر تعینات ہے اس کو گمان تھا کہ اللہ کا حکم اسی فرشتہ کو اس آگ کو بجھانے کا ہوگا لیکن اللہ کا حکم کسی ذریعہ کا محتاج نہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے حکم سے خود آگ نے پانی کا کام دیا کیونکہ جس طرح پانی سے باغ سرسبز ہوتا ہے اسی طرح آگ سے گلزار قائم ہوگیا اور تمام روئے زمین کی آگ اس روز بجھ گئی اور اگر اللہ تعالیٰ اس طرح آگ کے ٹھنڈے ہونے کا حکم دیتا ‘ جس میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی صحت وسلامتی کے باقی رہنے کا ذکر نہ ہوتا تو بلاشک اس روز حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ کی ٹھنڈک سے تکلیف اٹھانی پڑتی ‘ تفسیر ابن ابی حاتم میں روایت 2 ؎ ہے کہ چالیس روز تک حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اس آگ میں رہے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے کہ ان دنوں سے زیادہ آرام کے دن میں نے اپنی عمر میں نہیں دیکھے ‘ نمرود نے ایک اونچا محل اس آگ کا تماشہ دیکھنے کو بنایا تھا۔ جب نمرود نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) صحیح وسالم اس آگ میں بیٹھے ہیں تو اس نے چلا کر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے کہا کہ ابراہیم ( علیہ السلام) بیشک تمہارا خدا بڑا قدرت والا ہے جس نے تم کو آگ میں جلنے نہیں دیا ‘ میں بھی تمہارے خدا کے نام کی قربانی کروں گا۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے جواب دیا کہ جب تو بت پرستی چھوڑے گا ‘ اس وقت تیری قربانی قبول ہوگی ‘ نمرود نے کہا یہ تو مجھ سے نہ ہو سکے گا ‘ اسی طرح آزر اور اور لوگ بھی یہ حال دیکھ کر خدا کی قدرت کے قائل ہوئے مگر ایمان نہ لائے۔ اوپر بیان ہوچکا ہے ‘ کہ اس قصہ کے بعد حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) ملک شام کو چلے گئے ‘ بخاری ومسلم میں ام شریک ؓ سے روایت 3 ؎ ہے کہ روئے زمین پر جس قدر جانور ہیں سب نے اپنے مقدور کے موافق حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی آگ بجھانے کی کوشش کی مگر گرگٹ اس ارادہ سے پھونکیں مارتا تھا کہ وہ آگ اور بھڑک جاوے ‘ اس واسطے آنحضرت ﷺ نے گرگٹ کے مارنے کا حکم دیا۔ حضرت عائشہ ؓ نے ایک برچھی اپنے گھر میں اس غرض سے رکھی تھی کہ اس برچھی سے وہ گرگٹ کو مارا کرتی تھیں ‘ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بخاری میں یہ بھی روایت 4 ؎ ہے کہ جس وقت حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ پڑھ رہے تھے اور جنگ احد سے واپس ہونے اور پھر دوبارہ لڑائی کے ارادہ سے مدینہ منورہ سے نکلنے کے وقت اللہ کے رسول ﷺ کو لوگوں نے جب مشرکین کی بڑی بھاری فوج کے اکٹھے ہونے کی خبر دی تو آپ نے بھی یہی کلمے پڑھے تھے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ نمرود اور اس کے ساتھیوں نے مشورہ کر کے یہ بات قراردی کہ اگر اپنے ٹھاکروں کا بدلہ لینا منظور ہے تو ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا دیا جائے یہاں اس قصہ کو مختصر طور پر فرمایا ہے۔ سورة والصافات میں ذکر ہے کہ ان لوگوں نے ایک چنار دیواری کے اندر آگ جلائی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں ڈالا ‘ آگے فرمایا اللہ کے حکم سے وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی ‘ اور اللہ کے رسول ابراہیم (علیہ السلام) کو اس آگ سے کچھ نقصان نہیں پہنچا ‘ بلکہ ان لوگوں کا ایندھن کا خرچ آگ جلانے کی محنت سب کچھ رائیگاں گیا جس سے یہ لوگ نقصان میں رہے علاوہ اس نقصان کے پہلے پانچ ہزار گز کی اونچی عمارت کے گر پڑنے سے اور پھر مچھروں کے عذاب سے نمرود اور اس کا لشکر جو ہلاک ہوا ‘ یہ نقصان بھی ان لوگوں کو پہنچا ‘ تفسیر مقاتل تفسیر عبدالرزاق اور تفسیر ابن ابی حاتم کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور زید بن اسلم کی روایتوں کے حوالہ سے یہ قصہ سورة الخل میں گزرچکا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے نافرمان لوگوں کو مہلت دیتا ہے اور جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ان کو کسی سخت عذاب میں پکڑ لیتا ہے ‘ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ چار سو برس تک اللہ تعالیٰ نے نمرود کو مہلت دی لیکن جب وہ اتنی مہلت میں اپنی سرکشی سے باز نہ آیا تو مع اپنے لشکر کے بڑی ذلت سے ہلاک ہوگیا۔ اس قصہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی مخالفت کا انجام قریش کو سمجھایا تھا لیکن بارہ تیرہ برس کی مہلت میں جب ان میں کے سرکش لوگ اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت سے باز نہ آئے تو یہی انجام ان کا ہوا کہ بدر کی لڑائی میں یہ لوگ بڑی ذلت سے مارے گئے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوئے جس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت سے کئی جگہ گزر چکا ہے۔
(2 ؎ الدرالمنثور ص 323 ج 2 )
(3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 183 ج 3۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 184 ج 3 )
(2 ؎ ایضا )
(3 ؎ مشکوٰۃ ص 361 باب مایحل 2 کلہ وما یحرم و تفسیر ابن کثیرص 184 ج 3۔ )
(4 ؎ صحیح بخاری ص 655 ج 2 کتاب التفسیر۔ )
Ayahs 21:71–7571۔ 75:۔ اوپر ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ کے صدمہ سے بچایا ‘ ان آیتوں میں فرمایا کہ علاوہ آگ کے صدمہ سے بچانے کے ایسی دشمن قوم کی بستی میں رہنے کی آفت سے بھی نجات اس طرح دی کہ ابراہیم ( علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کو ملک شام کی سرسبز اور برکت والی زمین میں پہنچا دیا اور ابراہیم (علیہ السلام) نے فقط بیٹے کی دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو بیٹا بھی دیا اور پوتا بھی دیا اور ان میں سے ہر ایک کو اللہ کی فرمانبرداری کی توفیق دی اور ایسا پیشوا مقرر کیا کہ جن کے سبب سے بہت لوگوں کو نیک راہ کی سمجھ آگئی۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے سب نبی حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں پیدا ہوئے ‘ اسی واسطے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو پیشوا فرمایا ‘ اسی طرح ان میں سے ہر ایک کو نماز ‘ زکوٰۃ ‘ ہر ایک طرح کے نیک کاموں کے بجا لانے کا حکم دیا اور اپنی ذات سے بھی اس حکم کی انہوں نے پوری تعمیل کی ‘ ملک عراق سے ملک شام کی طرف جب ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کی تو ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے لوط (علیہ السلام) بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے ‘ ابراہیم (علیہ السلام) جب ملک شام میں پہنچ کر رہنے لگے تو ملک شام کی ایک بستی سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لیے لوط (علیہ السلام) نبی ہوئے قوم لوط ( علیہ السلام) کے لوگوں کو لڑکوں سے بدفعلی کرنے کی عادت تھی ‘ اسی کو گندے کام فرمایا مدت تک لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو اس گندے کام سے باز آنے کی نصیحت کی ‘ مگر ان میں سے ایک شخص بھی راہ راست پر نہ آیا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) اور اسرائیل (علیہ السلام) کو انسان کی صورت میں قوم لوط ( علیہ السلام) کے عذاب کے لیے بھیجا ‘ پہلے یہ انسان کی شکل کے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان کو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی اور پھر پتھروں کے مینہ اور بستی کے الٹ دینے کے عذاب سے تمام قوم لوط کو غارت کردیا ‘ لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹیوں کو اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے بچا لیا ‘ اسی کا ذکر آخری آیت میں ہے ‘ یہ سورة ہود میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ سورة ہود کی آیتوں کو ان آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ جن فرشتوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی تھی ‘ وہی فرشتے قوم لوط کے عذاب کا حکم بھی لے کر آئے تھے ‘ اسی واسطے ایک ہی جگہ دونوں باتوں کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت اور انس ؓ بن مالک کی روایت جو اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں گزر چکی ہیں وہی روایتیں ان آیتوں کی تفسیر ہیں جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں بیان کیا گیا ملک شام بڑا سرسبز ملک ہے اور ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیا گزرے ہیں اس واسطے وہاں کی زمین کو برکت والی زمین فرمایا جب تک لوط (علیہ السلام) قوم لوط میں تھے تو اپنے علم نبوت کے موافق قوم کے لوگوں کے ہر طرح کے جھگڑوں کا فیصلہ کرتے تھے اسی واسطے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو صاحب علم اور صاحب فہم ہونے کی نعمت دی تھی۔