19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 19:1–4

كٓهٰیٰعٓصٓ۫ۚ Open ayah 19:1 in the Quran reader

کھیعص

ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّاۖۚ Open ayah 19:2 in the Quran reader

(یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)

اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ نِدَآءً خَفِیًّا Open ayah 19:3 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَكُنْۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِیًّا Open ayah 19:4 in the Quran reader

(اور) کہا کہ اے میرے پروردگار میری ہڈیاں بڑھاپے کے سبب کمزور ہوگئی ہیں اور سر (ہے کہ بڑھاپے کی وجہ) سے شعلہ مارنے لگا ہے اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا

1۔ 4۔ اس سورت میں مریم (علیہا السلام) کا قصہ ہے اس واسطے اس سورة کا نام مریم ہے حروف مقطعات کی تفسیر کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے سورة آل عمران کی آیتوں کے مضمون کے موافق حضرت مریم کی ماں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا ہوگا تو اس کو دنیا کے کاموں سے باز رکھ کر بیت المقدس کا خادم بنا دیا جائے گا۔ اتفاق سے لڑکی پیدا ہوئی تو لڑکی کو بیت المقدس کی خادمہ بنانے کا دستور نہ تھا اس واسطے حضرت مریم کی ان کو نذر کے پورا نہ ہونے کا بڑا رنج ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کا رنج رفع کرنے کے لیے اپنی رحمت سے حضرت مریم کی خادمی جائز فرمائی اور حضرت مریم کی پرورش ان کے خالو زکریا (علیہ السلام) کے ذمہ ٹھہری جب حضرت مریم سیانی ہوگئیں تو زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے لیے ایک عبادت خانہ بنوا دیا اس عبادت خانہ میں زکریا (علیہ السلام) جب حضرت مریم سے ملنے آتے تو حضرت مریم کے پاس ان کو بےفصل کا میوہ رکھا ہوا نظر آیا کرتا تھا جب حضرت زکریا نے ایک دن پوچھا مریم یہ میوہ کہاں سے آیا تو حضرت مریم ( علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہ میوہ اللہ تعالیٰ نے دیا ہے حاصل کلام یہ کہ جب زکریا (علیہ السلام) نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بےفصل کا میوہ حضرت مریم کو عنایت کیا تو زکریا علیہ السلا کے دل میں یہ خیال گزرا کہ وہ صاحب قدرت میرے بڑھاپے اور میری بی بی کے بانجھ پنے میں مجھے اولاد عطا فرمادے تو اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ہے اسی خیال سے زکریا (علیہ السلام) نے یہ دعا کی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے اس وقت کی اللہ کی رحمت کا حال سنو جب کہ ذکریا (علیہ السلام) نے اس خیال سے کہ بڑھاپے میں بیٹے کا مانگنا ایک ایسی خلاف عادت بات ہے کہ جس کو سن کر لوگ تعجب کریں گے اس لیے تنہائی میں زکریا (علیہ السلام) نے اپنی دعا کو یوں شروع کیا کہ یا اللہ بڑھاپے کے سبب سے اگرچہ میرے بدن کے سب جوڑ کمزور ہوگئے اور سارا سر سفید ہوگیا لیکن اس سے پہلے میری کوئی دعا رائیگاں نہیں گئی اس لیے تیری رحمت کے بھروسہ پر ایک دعا کر کے اس کی قبولیت کا امیدوار ہوں۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر شخص جیسا گمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بھی اس شخص کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتا ہوں 1 ؎۔ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ زکریا (علیہ السلام) نے قبولیت کے گمان سے بڑھاپے میں اولاد کی دعا کی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کو پورا کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ساتھ زکریا (علیہ السلام) کو جو نیک گمان تھا اس کو انہوں نے اس طرح ظاہر کیا کہ یا اللہ اس دعا سے پہلے میری کوئی دعا رائیگاں نہیں گئی ہے اس لیے میرا حسن ظن یہی ہے کہ میری یہ دعا بھی بلا اثر نہ جائے گی ” وَاشْتَعَلَ “ کے معنے آگ کے شعلہ کے ہیں مطلب ہے کہ جس طرح کہ لکڑیوں میں آگ کا شعلہ پھیل جاتا ہے اسی طرح سارے سر کے بالوں میں سپیدی پھیل گئی۔ 1 ؎ صحیح مسلم ص 3141 ج 2 کتاب الذکر والدعا۔
Ayahs 19:5–6

وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ Open ayah 19:5 in the Quran reader

اور میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے پاس سے ایک وارث عطا فرما

یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖۗ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا Open ayah 19:6 in the Quran reader

جو میری اولاد اور اولاد یعقوب کی میراث کا مالک ہو اور (اے) میرے پروردگار اس کو خوش اطوار بنائیو

5۔ 6 حضرت زکریا ( علیہ السلام) حضرت مریم کے خالو تھے چناچہ معراج کی صحیح بخاری کی مالک بن صعصعہ کی 1 ؎ حدیث میں یہ بات آچکی ہے کہ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) خالہ زاد بھائی ہیں اگرچہ حضرت زکریا بیت المقدس کے متولیوں میں تھے لیکن صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ہے کہ بڑھئی کا کام کرکے اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنی گزر کیا کرتے تھے 2 ؎۔ اس لیے ان کے پاس کچھ ایسا مال متاع تو نہیں تھا صرف نبوت کے اپنے خاندان میں چلنے کے لیے لڑکے کی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور حضرت یحییٰ پیدا ہوئے یہ نام صرف حضرت یحییٰ دنیا میں زیادہ نہیں جلے لیکن بنی اسرائیل کے ہاتھ شہید ہوئے اس واسطے گویا ہمیشہ اپنے نام کے موافق زندہ ہیں بنی اسرائیل کا اس وقت کا بادشاہ ایک عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا اور توریت کے حکم سے وہ نکاح جائز نہ تھا اس لیے حضرت یحییٰ نے اس بادشاہ کو اس نکاح سے منع کیا اس بادشاہ نے ضد کر کے حضرت یحییٰ کو شہید کر ڈالا۔ مستدرک حاکم میں عبداللہ بن زبیر ؓ کی معتبر روایت سے حضرت یحییٰ کے شہید ہونے کا پورا قصہ ہے اس قصہ میں حضرت عبداللہ بن زبیر کی روایت سے یہ بھی ہے کہ حضرت یحییٰ جس جگہ شہید ہوئے تھے اس جگہ زمین میں سے خود بخود خون ابلتا تھا اسی عرصہ میں بخت نصر بنی اسرائیل پر چڑھائی کرکے آیا اور ستر ہزار آدمی بنی اسرائیل میں کے قتل کیے جاچکے تب وہ خون کا ابلنا بند ہوا۔ یہ قصہ مستدرک حاکم میں عبداللہ ابن عباس ؓ کی رویت سے بھی ہے 3 ؎ اور اس کی سند ناقابل اعتراض ہے حاصل یہ کہ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) کے عوض میں اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار آدمی کا قصاص لیا 4 ؎۔ حضرت زکریا ( علیہ السلام) سے بھی بنی اسرائیل منحرف ہوگئے حضرت زکریا ( علیہ السلام) بنی اسرائیل بھی ان کی تلاش میں اس پیڑ کے پاس پہنچ گئے شیطان ملعون بھی وہاں آن موجود ہوا اور آرے کی صورت بنی اسرائیل کو سمجھائی بنی اسرائیل نے لوہے کا آرا بنایا اور مع پیڑ کے حضرت زکریا کو بیچ میں سے چیر کر دو ٹکڑے کر ڈالا۔ معتبر سند سے بروایت عبداللہ بن زبیر ؓ سیرت ابن اسحاق وغیرہ میں یہ قصہ تفصیل سے لکھا ہے 5 ؎۔ حضرت یحییٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدائش ایک ہی سال کی ہے حضرت یحییٰ پر خالص توریت کی شریعت کا زمانہ ختم ہوگیا اب اس سے آگے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) (علیہ السلام) کو نبوت اور توریت اور انجیل کی ملی ہوئی نبوت کا زمانہ ہے حاصل کلام یہ ہے کہ زکریا ( علیہ السلام) کو جو اندیشہ تھا کہ ان کے پیچھے ان کے بھائی بند دین کو بگاڑ دیں گے اس کا ظہور زکریا (علیہ السلام) کی زندگی میں ہی ہوگیا کہ بےدینی کے سبب سے اپنے اور غیر سب نے مل کر دو نبیوں کو شہید کر ڈالا۔ سورة والذاریات میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی بی بی حضرت سارا کے بانجھ ہونے اور حضرت اسحاق علیہ السلا کے پیدا ہونے کی خوش خبری کا ذکر آئے گا اس سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی اس روایت میں کسی راوی کا سہو پایا جاتا ہے جس روایت میں یہ ہے کہ سوائے زکریا (علیہ السلام) کی بانجھ بی بی کے اور کسی بانجھ عورت کے پیٹ سے اولاد نہیں ہوئی (واجعلہ رب رضیا) اس کا مطلب یہ ہے کہ یا اللہ وہ لڑکا ایسا ہو جو عمر بھر تیری مرضی کے موافق کام کرے۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جس شخص سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے تو جبرئیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کی خبر پکار کر فرشتوں کو سنا دیتے ہیں جس سے آسمان و زمین میں اس نیک شخص کی محبت ہر کسی کو ہوجاتی ہے 6 ؎۔ اس حدیث سے واجعلہ رب رضیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یا اللہ وہ لڑکا ایسا ہو جو عمر بھر تیری مرضی کے موافق کام کرے جس سے تو اس سے خوش ہو اور تیری خوش نودی کے سبب سے آسمان و زمین میں اس کی محبت پھیل جائے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 549 ج اباب المعراج 2 ؎ صحیح مسلم ص 268 باب ہن فضائل زکریا ﷺ 12 3 ؎ مستدرک حاکم ص 592 ج 2 قصۃ قتل یحییٰ (علیہ السلام) 4 ؎ تفسیر الدر المنثورص 264 ج 4 5 ؎ تفسیر الدر المنثورص 264 ج 4 6 ؎ صحیح بخاری شریف ص 892 ج 3 بات المقت عن اللہ
Ayahs 19:7–11

یٰزَكَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمِ اِ۟سْمُهٗ یَحْیٰى١ۙ لَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا Open ayah 19:7 in the Quran reader

اے زکریا ! ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحیٰی ہے اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ كَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا وَّ قَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِیًّا Open ayah 19:8 in the Quran reader

انہوں نے کہا پروردگار میرے ہاں کس طرح لڑکا (پیدا) ہوگا جس حال میں کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ گیا ہوں

قَالَ كَذٰلِكَ١ۚ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ وَّ قَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ تَكُ شَیْئًا Open ayah 19:9 in the Quran reader

حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا Open ayah 19:10 in the Quran reader

کہا کہ پروردگار میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم صحیح وسالم ہو کر تین (رات دن) لوگوں سے بات نہ کرسکو گے

فَخَرَجَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:11 in the Quran reader

پھر وہ (عبادت کے) حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام (خدا کو) یاد کرتے رہو

7۔ 11۔ اتنی عبارت یہاں گویا اور ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی اور حکم ہوا کہ ہم تم کو لڑکے ہونے کی خوشی سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے اب آگے حضرت زکریا (علیہ السلام) کے تعجب کا بیان ہے کہ جب ان کی دعا قبول ہوئی اور لڑکے ہونے کی ان کو خبر سنائی گئی تو اس سے وہ بہت خوش ہوئے اور لڑکے کے ہونے کی کیفیت کا سوال کیا یہ تعجب زکریا ( علیہ السلام) کو اس سبب سے ہوا کہ بیوی بانجھ اور بوڑھی تھی اور آپ بھی اس قدر بوڑھے ہوگئے کہ ہاتھ پیر اکڑ گئے تھے کیونکہ اب تو بوڑھے باپ اور بانجھ ماں موجود ہیں اس صاحب قدرت نے تو انسان کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ جب انسان کچھ بھی نہیں تھا ترمذی ابوداؤد اور صحیح ابن حبان کے حوالہ سے ابو موسیٰ ؓ اشعری کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎ کہ آدم ( علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی میں اللہ نے تمام اولاد آدم کے پتلوں کی مٹی جگہ جگہ سے لی ہے جس سے سلسلہ بسلسلہ اولاد آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اس طرح ہوچکی آتی ہے کہ کوئی گورا ہے اور کوئی کالا اس حدیث سے (وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئا) کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے انسان کی پیدائش کی ابتدا ایسی حالت سے کی ہے کہ جب انسان کچھ بھی نہیں تھا اس صاحب قدرت کے آگے بوڑھے باپ اور بانجھ ماں سے لڑکے کا پیدا کردینا کچھ مشکل نہیں ہے اور عرب لوگ العود العاقی سوکھی لکڑی کو کہتے ہیں اس لیے (وقد بلغت من الکبر عتیا) کا مطلب یہ ہے کہ بڑھاپے کے سبب سے سارا بدن سوجھ کر بالکل ڈھانچ ہوگیا ہڈی سے چمڑا الگ ہوگیا۔ شاہ صاحب نے اکڑنے کے لفظ سے اسی مطلب کو ادا کیا ہے ان آیتوں میں یحییٰ (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوش خبری کا جو ذکر ہے اس سے زکریا ( علیہ السلام) کو یہ تو معلوم ہوگیا تھا کہ ان کی دعا قبول ہوگئی مگر یہ نہیں معلوم ہوا تھا کہ اس قبولیت کا ظہور کب تک ہوگا اس لیے زکریا (علیہ السلام) نے قبولیت کے ظہور کی نشانی اللہ تعالیٰ سے پوچھی اور اللہ تعالیٰ نے جو نشانی اس کی بتلائی اسی کا ذکر آگے کی دونوں آیتوں میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اپنی بی بی کے حاملہ ہونے کے وقت اے زکریا باوجود تندرست ہونے کے تین راتوں تک تم سوائے تسبیح و تہلیل کے کس سے اور کچھ بات نہ کرسکو گے وقت مقررہ پر زکریا ( علیہ السلام) اپنے حجرہ سے جو نکلے تو قوم کے لوگوں سے بات نہ کرسکے اس لیے انہوں نے صبح وشام یاد الٰہی کا حکم قوم کے لوگوں کو اشارہ سے سمجھایا اب مدت حمل کے بعد یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔ 1 ؎ دیکھیے ج 3 ص 291
Ayahs 19:12–14

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ١ؕ وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّاۙ Open ayah 19:12 in the Quran reader

اے یحییٰ (ہماری) کتاب کو زور سے پکڑو رہو اور ہم نے ان کو لڑکپن میں دانائی عطا فرمائی تھی

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةً١ؕ وَ كَانَ تَقِیًّاۙ Open ayah 19:13 in the Quran reader

اور اپنے پاس دے شفقت اور پاکیزگی دی تھی اور وہ پرہیزگار تھے

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَیْهِ وَ لَمْ یَكُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا Open ayah 19:14 in the Quran reader

اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمان نہیں تھے

12۔ 14۔ مطلب کو مختصر کرنے کے لیے یہاں اتنی عبادت کو حذف کردیا گیا ہے کہ زکریا ( علیہ السلام) کو یحییٰ (علیہ السلام) کے پیدا ہونے کی خوشخبری جو دی گئی تھی اس کے موافق یحییٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت عبداللہ بن ؓ عباس کے قول کے موافق جب سات برس کی عمر کو پہنچ گئے تو ان کو یہ حکم ہوا کہ اے یحییٰ توریت کے احکام کے موافق تم خود بھی مستعدی سے عمل کرو اور بنی اسرائیل کو بھی ان احکام کا پابند رکھو اگرچہ اس میں اختلاف ہے کہ کتنی عمر میں یحییٰ (علیہ السلام) کو احکام توریت کے موافق عمل کرنے کا حکم ہوا لیکن ترمذی میں سبرہ بن معبد جہینی کی صحیح حدیث ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جب لڑکا سات برس کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کو نماز کی تاکید کرو 1 ؎ اس صحیح حدیث سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سات برس کی عمر میں لڑکا اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس کو احکام شرع کا پابند کیا جاسکتا ہے۔ حنانا کے معنے اکثر سلف نے رحمتہ کے لیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے زکریا (علیہ السلام) کو صاحب اولاد کیا اور پھر یحییٰ (علیہ السلام) کو چھوٹی عمر میں نبوت دی بعضے سلف نے حنانا کے معنے شوق کے لیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ (علیہ السلام) کو نیک کام کا شوق دیا تھا ترجمہ میں بھی یہی قول لیا گیا ہے۔ زکوٰۃ کے معنے یہاں پاکیزگی کے ہیں قتادہ کے قول کے موافق جس کا مطلب یہ ہے کہ یحییٰ (علیہ السلام) عمر بھر ہر طرح کے گناہوں سے پاک رہے آگے اللہ تعالیٰ نے یحییٰ (علیہ السلام) کی یہ تعریف فرمائی کہ وہ پرہیزگار اور ماں باپ کے فرمانبردار تھے کسی طرح کی جبرو زیادتی یا بےحکمی ان کی عادت میں نہ تھی سفیان بن عیینہ کا قول ہے کہ پیدا ہونے والے دن عالم ارواح سے دنیا میں آنے اور مرنے والے دن قبر کی تنہائی کی اور حشر کے دن اس دن کی سختیوں کی انسان کو پریشانی ہوتی ہے اس لیے فرمایا کہ یحییٰ (علیہ السلام) ان تینوں دن کی پریشانی سے امن میں ہیں نبی بن کر پیدا ہوئے شہید ہو کر مرے اور اسی حال میں حشر کے دن اٹھیں گے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنی فرما نبرداری کے ساتھ کئی جگ ماں باپ سے اچھی طرح پیش آنے کا ذکر فرمایا ہے جس سے ماں باپ کا رتبہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے اسی واسطے صحیح مسلم کو ابوہریرہ ؓ کی روایت میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے بوڑھے ماں باپ یا ان دونوں میں سے ایک کو زندہ پاوے اور پھر ان کی خدمت کر کے اس کے اجر میں جنت نہ حاصل کرے تو ایسا شخص بڑا بدنصیب ہے 2 ؎۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے دوسری رویت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا برتاؤ کرے گا اس کی نیکیاں چھین کر قیامت کے دن مظلوموں کو دے دی جائیں گی 3 ؎۔ ان آیتوں میں تعریف کے طور پر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ یحییٰ (علیہ السلام) کی کسی پر ظلم و زیادتی کرنے کی عادت نہ تھی اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو لوگوں اس عادت کے پابند نہیں وہ قیامت کے دن اپنی نیکیاں ہاتھ سے کھو بیٹھیں گے۔ 1 ؎ جامع ترمذی ص 54 ج اباب ماجاء متی یومر الصبی بالصلوٰۃ۔ 2 ؎ صحیح مسلم ص 314 ج 2 باب تقدیم برالو الدین الخ۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 435 باب الظلم۔
Ayahs 19:15–21

وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا۠ Open ayah 19:15 in the Quran reader

اور جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن وفات پائیں گے اور جس دن زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ان پر سلامتی اور رحمت (ہے)

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مَرْیَمَ١ۘ اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِیًّاۙ Open ayah 19:16 in the Quran reader

اور کتاب (قرآن) میں مریم کا بھی مذکور کرو جب وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر مشرق کی طرف چلی گئیں

فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِهِمْ حِجَابًا١۪۫ فَاَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِیًّا Open ayah 19:17 in the Quran reader

تو انہوں نے ان کی طرف سے پردہ کرلیا (اس وقت) ہم نے ان کی طرف فرشتہ بھیجا تو وہ ان کے سامنے ٹھیک آدمی (کی شکل) بن گیا

قَالَتْ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا Open ayah 19:18 in the Quran reader

مریم بولیں کہ اگر تم پرہیزگار ہو تو میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں

قَالَ اِنَّمَاۤ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ١ۖۗ لِاَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِیًّا Open ayah 19:19 in the Quran reader

انہوں نے کہا میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں) کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں

قَالَتْ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ وَّ لَمْ اَكُ بَغِیًّا Open ayah 19:20 in the Quran reader

مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں

قَالَ كَذٰلِكِ١ۚ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَیَّ هَیِّنٌ١ۚ وَ لِنَجْعَلَهٗۤ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَةً مِّنَّا١ۚ وَ كَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا Open ayah 19:21 in the Quran reader

(فرشتے نے) کہا یوں ہی (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور (میں اسے اسی طریقہ پر پیدا کروں گا) تاکہ اس کو لوگوں کے لئے اپنی طرف سے نشانی اور (ذریعہ) رحمت اور (مہربانی) بناؤں اور یہ کام مقرر ہوچکا ہے

15۔ 21:۔ اوپر بنی اسرائیل کے اس دستور کا ذکر گزر چکا ہے وہ اپنے لڑکوں کو بیت المقدس کا خادم بنایا کرتے تھے حضرت مریم ( علیہ السلام) کی ماں حنہ نے اس دستور کے موافق نذر مانی کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کے پیدا ہونے کے بعد اس کو وہ بیت المقدس کا خادم بنا دیویں گی جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو لڑکی کے پیدا ہونے سے ان کو بڑا رنج ہوا کس لیے کہ لڑکیوں کو بیت المقدس کا خادم بنانے کا حکم نہیں تھا مگر یہ قصہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر باوجود لڑکی ہونے کے ان کا خادم ہونا قبول فرما لیا حضرت مریم کے باپ عمران حضرت مریم کے پیدا ہونے سے پہلے وفات پاگئے تھے اس لیے اپنے خالو حضرت زکریا ( علیہ السلام) کے پاس حضرت مریم پرورش پاکر بیت المقدس کی خدمت کیا کرتی تھیں اس واسطے ان کا نام مریم ہے سریانی زبان میں مریم کے معنے خادم کے ہیں چھوٹی سی عمر میں حضرت مریم کی اس کرامت کا ذکر سورة آل عمران میں ہے کہ اکثر بےفصل کے میوے حضرت زکریا ( علیہ السلام) ان کے پاس دیکھ کر پوچھا کرتے تھے کہ مریم یہ میوے کہاں سے آئے تو جواب دیا کرتی تھیں کہ یہ میوے اللہ نے دیئے ہیں حضرت مریم کے نبی ہونے میں علماء کا اختلاف ہے اکثر علماء کا قول یہی ہے کہ حضرت مریم صدیقہ ہیں نبی نہیں تھیں غرض جب اللہ کو منظور ہوا کہ اپنی قدرت کا ایک نمونہ دنیا میں پیدا کرے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے جسم میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی روح پھونک دی اور ان کو حمل رہ گیا حضرت مریم کے چچا کا بیٹا یوسف نجار بھی بیت المقدس کا خادم تھا جب اس کو حضرت مریم کے حمل کا حال معلوم ہوا تو اس کو بہت حیرت ہوئی کہ حضرت مریم اس کا سوال سمجھ گئیں اور یوسف کو یہی جواب دیا کہ اللہ ہر بات پر قادر ہے علماء نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی پیدائش دنیا میں ظاہر کردی تاکہ انسان کو اس کی ہر طرح کی قدرت پر پورا ایمان ہو۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو عورت حضرت مریم کے جسم سے پیدا کیا اور مرد و عورت سے تو اولاد کا پیدا ہونا ایک عادتی بات ہے حاصل یہ ہے کہ دنیا میں جو اسباب اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں ان اسباب قدرت منحصر نہیں ہے جس طرح جو چاہے وہ کرسکتا ہے عادتی سبب یہ ہے کہ بانجھ عورت کے اولاد دی بعضے وقت ظاہری سبب دنیا کے سب موجود ہوتے ہیں لیکن اس کا حکم نہیں ہوتا تو کوئی سبب کام نہیں آتا میاں بی بی اکثر جگہ جوان ہوتے ہیں اور اولاد کی تمنا بھی حد سے بڑھ کر ہوتی ہے مگر بچہ نہیں ہوتا موسم برسات کا ہوتا ہے اور بادل بھی گھر کر آتا ہے مگر ایک بوند نہیں پڑتی اس طرح اور اسباب کا حال ہے غرض جس طرح بغیر سبب کے ہر کام پر وہ قادر ہے اسی طرح اسباب میں تاثیر کا دینا بھی اس کا کام ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت مریم کے خالو زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم کو پالا تھا اس مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران میں اور یہاں زکریا (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت مریم کا ذکر فرمایا حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت مریم نہانے کا ارادہ کرکے اپنے عبادت خانہ سے مشرق کی طرف کے ایک مکان میں گئیں اور لوگوں سے آڑ کرلینے کے لیے وہاں انہوں نے ایک پردہ ڈالا تو اللہ کے حکم سے جبرئیل (علیہ السلام) وہاں ایک آدمی کی صورت بن کر آگئے حضرت مریم نے خالی مکان اور پردہ کی آڑ میں جب غیر مرد کو دیکھا تو یہ کہا کہ اے شخص اگر تو پرہیزگار ہے تو میں تیرے بد ارادہ سے اللہ کی پناہ میں آنا چاہتی ہوں۔ حضرت مریم کی اس بات سے ان کی کمال درجہ کی پارسائی ثابت ہوتی ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے سورة التحریم میں ان کی پارسائی کی تعریف فرمائی ہے صحیح بخاری اور ابن ماجہ میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے ایک قصہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک عورت جو نیہ سے اللہ کے رسول ﷺ نے نکاح کیا اور جب آپ ﷺ نے اس عورت کے پاس جانے کا قصد کیا تو اس عورت نے یہ کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ میں آنا چاہتی ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تو نے بہت بڑی پناہ چاہی یہ فرما کر آپ نے اس عورت کو طلاق دے دی 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوا کہ لڑائی جھگڑے کے وقت کسی عورت کو اپنے خاوند سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں کیونکہ یہ ایسا کلمہ ہے کہ جو نیہ کے منہ سے جب یہ کلمہ نکلا تو پھر اللہ کے رسول ﷺ نے اس کو اپنے نکاح میں رکھنا پسند نہیں کیا اور اللہ کی پناہ کی عظمت اس میں خیال کیا کہ اس عورت کو طلاق دے دی 2 ؎۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ اکیلے مکان میں غیر مرد کو دیکھ کر مریم (علیہا السلام) کی تسکین کی اور یہ کہا کہ میں تو اللہ کا قاصد ہوں تم کو لڑکے کے پیدا ہونے کا پیغام پہنچانے آیا ہوں جبرئیل (علیہ السلام) کا یہ پیغام سن کر مریم (علیہا السلام) کو بڑا تعجب ہوا اور انہوں نے تعجب سے کہا کہ نہ کسی مرد سے میرا نکاح ہوا اور نہ میں بدکار تھی پھر بغیر مرد سے واقف ہونے کے میرے ہاں لڑکا کیوں کر پیدا ہوگا۔ مریم (علیہا السلام) کی یہ بات سن کر جبیرئیل (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ کسی مرد سے واقف نہ ہونے کی تمہاری بات تو سچ ہے مگر اللہ کا حکم یہی ہے جس کا میں نے پغام پہنچایا اور جس صاحب قدرت نے بنی آدم کے باپ آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوگا کہ لوگوں نظروں میں اللہ کی قدرت کی ایک نشانی ہو اور یہود نے توریت کے احکام میں طرح طرح کے اختلافات جو ڈال رکھے ہیں ان اختلافوں کے رفع ہوجانے کے لیے عیسیٰ علیہ السلا کا پیدا ہونا بہت سے لوگوں کے حق میں گویا اللہ کی ایک رحمت ہے اور یہ باتیں جو اوپر بیان کی گئیں یہ ایسی باتیں ہیں کہ اللہ کے علم غیب کے موافق یہ باتیں ٹھہر چکی اور لوح محفوظ میں لکھی جاچکی ہیں اس واسطے ان میں سے کوئی بات اب ٹل نہیں سکتی۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 3 ؎۔ کہ دنیا میں جو کچھ ہونے والا تھا اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ یہ حدیث ان آیتوں کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کا آدمی کی صورت میں مریم (علیہا السلام) کے پاس آنا اور ان کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے بغیر باپ کے پیدا ہونے کا پیغام الٰہی پہنچانا اور پھر اس پیغام کے موافق عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیدا ہونا اور بہت سے لوگوں کے حق میں اس پیدائش کا قدرت الہی کا نشانی کا ٹھہرنا ایسی باتیں تھیں جو دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے لوح محفوظ میں لکھی جا چکی تھیں اس واسطے ان باتوں میں سے کوئی بات ٹل نہیں سکتی اس تفسیر سے وکان امرا مقضیا کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ (1 ؎ سنن ابن ماجہ ص 148 باب مایقع بہ الطلاق ) (2 ؎ صحیح بخاری ص 790 ج 2 باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرئتہ بالطلاق ) (3 ؎ مثلاج 3 ص 034 )
Ayahs 19:22–26

فَحَمَلَتْهُ فَانْتَبَذَتْ بِهٖ مَكَانًا قَصِیًّا Open ayah 19:22 in the Quran reader

تو وہ اس (بچے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لیکر ایک دور جگہ چلی گئیں

فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ١ۚ قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا وَ كُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا Open ayah 19:23 in the Quran reader

پھر درد زہ ان کو کھجور کے تنے کی طرف لے آیا کہنے لگیں کہ کاش میں اس سے پہلے مر چکتی اور بھولی بسری ہوگئی ہوتی

فَنَادٰىهَا مِنْ تَحْتِهَاۤ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِیًّا Open ayah 19:24 in the Quran reader

اس وقت ان کے نیچے کی جانب سے فرشتے نے ان کو آواز دی کہ غمناک نہ ہو تمہارے پروردگار نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے

وَ هُزِّیْۤ اِلَیْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسٰقِطْ عَلَیْكِ رُطَبًا جَنِیًّا٘ Open ayah 19:25 in the Quran reader

اور کجھور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ تم پر تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی

فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ Open ayah 19:26 in the Quran reader

تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لیے روزے کی منت مانی ہے تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہ کروں گی

22۔ 26:۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : مرد اور عورت کا نطفہ چالیس روز تک عورت کے رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور اس گوشت سے ہڈیاں بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھ جاتا ہے اس طرح ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر بچہ کا پتلا تیار ہوجاتا ہے اور پھر اس پتلہ میں روح پھونک دی جاتی ہے 1 ؎۔ یہ تو سب عورتوں کے حمل کی حالت ہوئی حضرت مریم کے حمل میں یہ بات نہیں ہوئی کہ بجائے مرد اور عورت کے نطفہ کے فقط عورت کے نطفہ سے کلمہ کن کے موافق پتلہ تیار ہوا اور پتلہ سے اس روح کا تعلق ہوگیا جو روح جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے جسم میں پھونک دی تھی۔ چناچہ سورة نساء کی آیت (انما المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ وکلمتہ القاھا الیٰ مریم) سے اس بات کو جتلایا گیا ہے غرض کہ جس صاحب قدرت نے مرد اور عورت کے نطفہ سے خلاف عقل پتلہ کی تیاری کا کام لیا یا بغیر مرد اور عورت کے نطفہ کے آدم (علیہ السلام) اور حوا کو پیدا کیا فقط عورت کے رحم کی رطوبت سے ایک بچہ کا پتلا بنا دینا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے ان آیتوں میں حضرت مریم کے حمل کا ذکر تھا یہ ذکر نہیں تھا کہ وہ حمل بغیر مرد کے نطفہ کے کیونکر رہ گیا سورة نساء کی اوپر کی آیت کو ان آیتوں کے ساتھ ملایا جائے تو یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ خلاف عادت اس حمل کا ظہور کیوں کر ہوا بغیر مرد کے نطفہ کے حمل کا رہنا خلاف عادت تھا جس سے مریم (علیہا السلام) کو یہ اندیشہ ہوا کہ اس خلاف عادت حمل کو دیکھ کر قوم کے لوگ طرح طرح کی باتیں بنا دیں گے اس اندیشہ سے مریم (علیہا السلام) اپنے عبادت خانہ سے دور ایک مکان میں چلی گئیں اور بچہ کی پیدائش کے وقت تک وہیں رہیں اور بچہ کی پیدائش کا درد جب شروع ہوا تو وہاں سے بھی الگ ایک کھجور کے درخت کے نیچے جا بیٹھیں پھر درد زہ کی تکلیف اور خلاف عادت بچہ کی پیدائش کی شرم سے اپنے آپ کو یوں کو سنے لگیں کہ کسی طرح اس حالت سے پہلے ہی مرجاتی اور اب تک لوگوں کے دل سے بھولی بسری ہوجاتی تو خوب ہوتا۔ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل میں کے ستر آدمی جب بجلی گر کر مرگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی موت کی تمنا ظاہر کی تھی اسی واسطے مریم (علیہا السلام) نے اس طرح کی تمنا کو جائز رکھا لیکن شریعت محمدی میں تکلیف کے وقت موت کی تمنا جائز نہیں ہے۔ چناچہ صحیح مسلم کی انس بن مالک کی روایت میں اس طرح کی تمنا کی مناہی آئی ہے 2 ؎۔ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت موسوی میں اس طرح کی تمنا جائز تھی۔ آگے یہ جو ذکر ہے کہ اس گھبراہٹ کے وقت مریم (علیہا السلام) کو یہ آواز آئی کہ گھبراؤ نہیں ‘ تمہارے پیروں کے نیچے اللہ تعالیٰ نے پانی کی نہر جاری کردی ہے اور اس کھجور کے درخت کو ہلاؤ گی تو اس میں سے پکی کھجوریں جھڑیں گی وہ کھجوریں کھاؤ نہر کا پانی پیو اپنے لڑکے کو دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی کرو اور قوم میں کا کوئی شخص نظر آوے اور تم سے بات چیت کرنی چاہے تو اس سے کہہ دو کہ میرا آج خاموشی کا روزہ ہے اس لیے میں بات چیت نہیں کرسکتی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مریم (علیہا السلام) کے پیروں کے نیچے سے پیدا ہوتے ہی یہ آواز جبرئیل (علیہ السلام) کی تھی اور مجاہد کا قول ہے کہ یہ آواز عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی حافظ ابو جعفر ابن جریر نے مجاہد کے قول کو ترجیح دی ہے 3 ؎۔ اور اس ترجیح کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ اس آواز کے دینے سے مریم (علیہا السلام) کو عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف عادت بولنے کا تجربہ ہوچکا تھا اسی واسطے انہوں نے آگے کی آیت میں قوم کے لوگوں کو اشارہ سے جتلایا کہ تم اس لڑکے سے بات چیت کرو لیکن اکثر سلف کا قول وہی ہے جس کی روایت حضرت عبداللہ بن عباس سے ہے اس واسطے شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں یہی قول لیا ہے شریعت موسوی میں خاموشی کا روزہ ہوا کرتا تھا شریعت محمدی میں اس طرح کا روزہ جائز نہیں ہے چناچہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ایک شخص کو اس طرح کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر منع کیا 4 ؎۔ اس طرح کی ممانعت عبداللہ بن مسعود نے ضرور اللہ کے رسول ﷺ سے سن کر کی ہوگی کیونکہ اپنی طرف سے صحابہ کوئی ایسا حکم نہیں دیتے تھے۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 469 ج 1 باب خلق آدم وزرتیہ۔ 2 ؎ صحیح 342 ج 2 باب کر اہتہ تمنی الموت۔ 3 ؎ تمام اقوال کے لیے دیکھئے تفسیر ابن کثیرص 115 ج 3۔
Ayahs 19:27–33

فَاَتَتْ بِهٖ قَوْمَهَا تَحْمِلُهٗ١ؕ قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْئًا فَرِیًّا Open ayah 19:27 in the Quran reader

پھر وہ اس (بچے) کو اٹھا کر اپنی قوم کے لوگوں کے پاس لے آئیں وہ کہنے لگے کہ مریم یہ تو تو نے برا کام کیا

یٰۤاُخْتَ هٰرُوْنَ مَا كَانَ اَبُوْكِ امْرَاَ سَوْءٍ وَّ مَا كَانَتْ اُمُّكِ بَغِیًّاۖۚ Open ayah 19:28 in the Quran reader

اے ہارون کی بہن نہ تو تیرا باپ ہی بد اطوار آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی

فَاَشَارَتْ اِلَیْهِ١ؕ قَالُوْا كَیْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِی الْمَهْدِ صَبِیًّا Open ayah 19:29 in the Quran reader

تو مریم نے اس لڑکے کی طرف اشارہ کیا وہ بولے کہ ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکر بات کریں ؟

قَالَ اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِیَ الْكِتٰبَ وَ جَعَلَنِیْ نَبِیًّاۙ Open ayah 19:30 in the Quran reader

(بچے نے کہا) میں خدا کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے

وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا اَیْنَ مَا كُنْتُ١۪ وَ اَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا٢۪ۖ Open ayah 19:31 in the Quran reader

اور میں جہاں ہوں (اور جس حال میں ہوں) مجھے صاحب برکت کیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھ کو نماز اور زکوٰۃ کا ارشاد فرمایا ہے

وَّ بَرًّۢا بِوَالِدَتِیْ١٘ وَ لَمْ یَجْعَلْنِیْ جَبَّارًا شَقِیًّا Open ayah 19:32 in the Quran reader

اور (مجھے) اپنی ماں کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور سرکش و بدبخت نہیں بنایا

وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا Open ayah 19:33 in the Quran reader

اور جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جاؤں گا مجھ پر سلام و رحمت ہے

27۔ 33:۔ تفسیر سدی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے بعد شیطان نے مریم (علیہا السلام) کی قوم میں یہ خبر پھیلا دی کہ مریم کے ہاں بن باپ کا بچہ پیدا ہوا اس خبر کو سن کر قوم کے لوگ بڑے جوش میں آئے اور مریم (علیہا السلام) کو اس الگ مکان میں سے بستی میں بلایا اس پر مریم (علیہا السلام) چلہ نہانے کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کو لے کر قوم کے لوگوں کے پاس گئیں یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق ہے کہ گھبراہٹ کے وقت مریم (علیہ السلام) کو جو آواز آئی تھی وہ جبرئیل (علیہ السلام) کی آواز نہیں تھی۔ اوپر گذر چکا ہے کہ مجاہد کے قول کو ترجیح دی ہے اس واسطے تفسیر ابن جریر میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بولنے سے جب مریم (علیہا السلام) کو یہ اطمینان ہوگیا کہ قوم کے لوگوں سے عیسیٰ (علیہ السلام) خود جوابدہی کرلیں گے تو اسی اطمینان کے بھروسہ پر وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو گود میں لے کر قوم کے لوگوں کے پاس آئیں غرض جب مریم (علیہا السلام) گود میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو قوم کے لوگوں نے دیکھا تو کہنے لگے مریم تم نے یہ انوکھا کام کیا اور یہ بھی کہنے لگے کہ نیک نامی کی شہرت میں ہارون کی بہن مریم تمہارے ماں باپ تو ایسے بد رویہ نہ پھر تم کس پر ہوئیں جو تم نے ایسا انوکھا کام کیا قوم کے لوگوں کی یہ باتیں سن کر مریم (علیہا السلام) نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کیا جس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ میرا تو خاموشی کا روزہ ہے مگر جس لڑکے کی پیدائش کو انوکھا کہا جاتا ہے اس کی جواب دہی خود وہ لڑکا ہی کرلے گا۔ حضرت مریم کے اس اشارہ کے مطلب کو سمجھ کر قوم کے لوگوں کو بہت غصہ آیا اور غصہ سے یہ کہنے لگے کہ چالیس دن کے بچہ نے دنیا میں کہیں باتیں کی ہیں جو ہم اس لڑکے سے بات چیت کریں قوم کے لوگوں کی سب باتیں سن کر عیسیٰ (علیہ السلام) نے وہ جواب دیا جس کا ذکر آگے آتا ہے اگرچہ تفسیر سدی میں ہے کہ مریم (علیہا السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کے خاندان میں سے تھیں اس واسطے قوم کے لوگوں نے مریم (علیہا السلام) کو ہارون کی بہن کہا کیونکہ عرب کا یہ محاورہ ہے مثلا تمیمی قبیلہ کے مردوں کو تمیم کا بھائی اور عورتوں کو تمیم کی بہن کہتے ہیں۔ یہی قول شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں لیا ہے لیکن قتادہ کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک نیک شخص مریم (علیہا السلام) کے زمانہ کا تھا اسی تشبیہ سے قوم کے لوگوں نے مریم (علیہا السلام) کو ہارون کی بہن کہا ہے 1 ؎۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مریم تم تو بنی اسرائیل میں کے زمانہ حال سے ہارون کی طرح نیک مشہور تھیں ‘ پھر تم نے انوکھا کام کیوں کیا۔ صحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ قرآن میں مریم (علیہا السلام) کو جس ہارون کی بہن کہا گیا ہے وہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے بھائی کے علاوہ دوسرا شخص تھا 2 ؎۔ اس حدیث سے قتادہ کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے اس واسطے حافظ ابو جعفر، ابن جریر نے قتادہ کے قول کی پوری تائید کی ہے عیسیٰ علیہ اسلام نے قوم کے لوگوں کو جو جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اے لوگوں میں اللہ کا بندہ اور نبی ہوں اس طرح خلاف عادت میرا پیدا ہونا ایسا ہی میرا ایک معجزہ ہے جس طرح خلاف عادت میرا بولنا معجزہ ہے قرآن شریف کے ان آیتوں میں جس طرح یہ ذکر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو اللہ کا بندہ کہا اس طرح کا ذکر یوحنا کی انجیل کے باب میں بھی ہے قرآن کا جھٹلانا تو عیسائیوں کے نزدیک سہل ہے مگر معلوم نہیں انجیل کے باب 17 کو یہ لوگ کس طرح جھٹلاتے ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) نے چالیس دن کی عمر میں اپنے آپ کو نبی صاحب کتاب جو جتلایا اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت مقررہ پر اللہ تعالیٰ ان کو صاحب کتاب نبی کرے گا۔ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے عالم ارواح میں جو عہد لیا گیا ہے اس کا ذکر سورة آل عمران میں گزر چکا ہے جس سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ ہر نبی کو اپنے پیدا ہونے سے پہلے اپنی نبوت کا حال معلوم ہے اسی واسطے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ کی صحیح روایت ہے جس میں خاتم الانبیاء ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کے پیدا ہونے سے پہلے میں نبی تھا 3 ؎۔ اپنی نبوت کے ذکر کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ نبی ہو کر ہر وقت میں اللہ کی رضامندی کے کاموں کی نصیحت لوگوں کو کرتا رہوں گا اس لیے میں جہاں رہوں گا وہاں خیرو برکت رہے گی پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ کو زندگی نماز و زکوۃ کا حکم فرمایا عی سے (علیہ السلام) کے حال میں علماء نے لکھا ہے کہ زکوٰۃ کے قابل نقد روپیہ کا جمع کرنا تو درکنار عیسیٰ (علیہ السلام) دور سے ان کے لیے کوئی کھانے کی چیز نہیں رکھتے تھے اسی واسطے زکوٰۃ کے معنی گناہوں سے پاک رہنے کے ہیں پھر فرمایا مجھ کو یہ بھی حکم ہے کہ میں ماں کے ساتھ سلوک سے رہوں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایتیں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کے انجام 4 ؎ اور لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے کے انجام میں اوپر گزر چکی ہیں وہی روایتیں (وبرا بوالدتی ولم بجعلنی جبارا شقیا) کی گویا تفسیر ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ماں باپ سے بدسلو کی کرنے والا جنت کے اور ظلم و زیادتی کرنے والا دنیا کے ہاتھ سے کھو دینے کے سبب سے بڑا بدنصیب ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہر ایک بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس بچے کی پسلی میں اپنی انگلی چبھو کر اس بچہ پر تسلط جماتا ہے لیکن عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے اس تسلط سے امن وامان میں رکھا ہے 5 ؎۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے نواس بن سمعان کی روایت سورة الکہف میں گزر چکی ہے کر قیامت کے قریب عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے اتر کر آئیں گے اور دجال کو قتل کریں گے 6 ؎۔ سورة الانبیاء میں آئے گا کہ مشرکین مکہ نے جب اپنے بتوں کا دوزخ کا ایندھن بنائے جانے کا حال سنا تو مشرک یوں کہنے لگے کہ نصرانی لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں تو عیسیٰ ( علیہ السلام) بھی کیا ہمارے بتوں کے ساتھ ہوں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ کے ایسے خاص بندے قیامت کے دن کی ہر ایک آفت سے بےفکر اور ہر طرح امن وامان میں رہیں گے عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ جو فرمایا کہ پیدا ہونے کے دن مرنے کے دن اور حشر کے دن کی پریشانی سے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو امن وامان میں رکھا ہے اس کا مطلب سورة الانبیاء کی آیتوں اور اوپر کی حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونے کے دن مرنے کے دن ان کو شیطان کے تسلط سے امن میں رکھا اور غازی نبی ہونے کا مرتبہ دے کر دنیا سے اٹھایا اور حشر کے دن کی ہر ایک آیت سے امن میں رکھنے کا وعدہ اپنے کلام پاک میں فرمایا۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 118 ج 3۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 119 ج 3۔ 3 ؎ جامع ترمذی ص 201 ج 2 باب ماجاء فی فضل انبی ﷺ ۔ 4 ؎ صحیح مسلم ص 312 ج 2 کتاب البروالصلہ۔ 5 ؎ مشکوٰۃ ص 18 باب فی الوسوسہ۔ 6 ؎ صحیح مسلم ص 400 ج 2 باب ذکر الدجال۔
Ayah 19:34

ذٰلِكَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ١ۚ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِیْ فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ Open ayah 19:34 in the Quran reader

یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ٰ ہیں (اور یہ) سچ بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں

34:۔ یہود اور نصارٰی دونوں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ کے باب میں طرح طرح کے شک میں پڑے ہوئے ہیں شہود کا شک حضرت مریم کے باب میں یہ ہے کہ حضرت مریم کو وہ یوسف نجار کے ساتھ زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے باب میں ان کا شک یہ ہے کہ نہ وہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو حلال کی اولاد جانتے ہیں نہ نبی جانتے ہیں جب کہ حضرت عیسیٰ نبی ہوئے اور طرح طرح کے معجزے ان سے ظاہر ہوئے اسی شک سے کہ وہ نبی نہیں ہیں یہود ان کے دشمن ہوگئے اور اس وقت کے یونان کے ستارہ پرست بادشاہ سے انہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی چغلیاں کھا کر سولی کا حکم حاصل کیا آخر اللہ تعالیٰ نے ایک شخص پر حضرت عیسیٰ کی شباہت ڈال دی اور اس شخص کو مخالفوں نے سولی پر چڑھا دیا یہ قصہ سورة نساء میں ہے اور نسائی تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں اس قصہ کی تفصیل سے روایت ہے 1 ؎۔ نصارٰی کا شک حضرت عیسیٰ کے باب میں یہ ہے کہ ایک فرقہ تو نعوذ باللہ من ذلک حضرت عیسیٰ کو خدا کہتے ہیں اور ایک فرقہ حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور ایک فرقہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر تین خدا ہونے کے قائل ہیں اگرچہ خدا تعالیٰ نے ان آیتوں میں حضرت مریم کی برائت کا اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا اللہ کا بندہ اور رسول ہونے کا ذکر فرما کر یہودو نصاری دونوں کے شک کو رفع فرما دیا ہے لیکن ہر کام کا وقت اللہ کی جناب میں مقرر ہے قیامت کے قریب جس حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) دجال کو قتل کرنے کے لیے آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے اس وقت ان دونوں کا شک جائے گا اور دونوں حضرت عیسیٰ کو رسول جان کر ایمان لائیں گے سورة نساء میں اس کا ذکر گزرا ہے 2 ؎ اور صحیح حدیثوں میں اس کی تفصیل آئی ہے نصاری میں کا جو فرقہ حضرت عیسیٰ و مریم (علیہما السلام) اور اللہ تعالیٰ کو ملا کر خدا کہتا ہے اس کو تثلیث کا فرقہ کہتے ہیں اس فرقہ کو تو ان میں کے فرقہ پر ونسٹنٹ نے یوں جھٹلا دیا ہے کہ یہ تثلیث کا مسئلہ انجیل میں نہیں ہے یہ پر ونسٹنٹ فرقہ انجیلی کہلاتا ہے یہ لوگ تثلیث کے مسئلہ کو انجیل کے مابعد کا مسئلہ خیال کر کے اپنی کتابوں میں اس کا ذکر نہیں کرتے علاوہ اس کے تین خدا کو ماننا کھلم کھلا شرک ہے اور انجیل یوحنا کے سترھویں باب میں لکھا ہے کہ مشرک کا ٹھکانا دوزخ ہے اس سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اس طرح شرک کا پھیلانے والا مسئلہ کسی طرح انجیل کے حکم کے موافق نہیں ہوسکتا انجیل متی کا تیسرا اور چوتھا باب دیکھنے کے قابل ہے جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک اور اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ٹھہرایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ نصارٰی میں جو فرقے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں ان کا اعتقاد عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بعضے لوگوں کے ” الہاموں “ کی بنا پر پیدا ہوئے ہیں اور یہ بھی گزر چکا ہے کہ یوحنا حواری نے اپنے رسالہ کے چوتھے باب میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کے الہاموں کو بےاعتبار ٹھہرا دیا ہے سورة المائدہ اور سورة التوبہ میں بھی عیسائیوں کا حال گزر چکا ہے صحیح بخاری ومسلم میں عبادہ ؓ بن الصامت سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بندے اور رسول ہونے کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے 3 ؎۔ اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہود اور نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصلی حال میں طرح طرح کی غلط باتیں تراش لی تھیں اس واسطے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بندے اور رسول ہونے کو قول الحق فرمایا اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ نے بھی خاص طور پر اس حق بات کو جتلا دیا۔ (1 ؎ دیکھئے ج 1 ص 240 تفسیر ہذا ) (2 ؎ تفسیر ہذاج 1 ص 94 ) (3 ؎ صحیح بخاری ص 488 ج 1 باب قولہ یا اہل الکتاب لا تغلوافی دینکم الخ )
Ayah 19:35

مَا كَانَ لِلّٰهِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍ١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُؕ Open ayah 19:35 in the Quran reader

خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے

35:۔ اوپر گزرا کہ نصاری میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے باب میں طرح طرح کا جھگڑا ہے اسی واسطے اس آیت میں فرمایا یہ جھگڑا ڈالنے والے لوگ اللہ کی قدرت کو بھول گئے ہیں اس واسطے ایسی باتیں کرتے ہیں اس کی قدرت تو وہ ہے کہ جس کام کے کرنے کا اس کا ارادہ ٹھہرتا ہے کلمہ کن کے فرما دینے سے وہ کام فورا ہوجاتا ہے اسی کلمہ کن کے فرما دینے سے اس نے بغیر ماں باپ کے آدم (علیہ السلام) اور بغیر باپ کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا غرض عیسیٰ (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی طرح اللہ کی مخلوق میں سے ہیں نہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے نہ خدا کے شریک اللہ کی شان ان لوگوں کی تراشی ہوئی باتوں سے بہت دور ہے اسی واسطے کسی آسمانی کتاب سے یہ لوگ اپنی ان تراشی ہوئی باتوں کی سند نہیں پیش کرسکتے صحیح بخاری اور مسلم کے حوالہ سے عبادہ بن الصامت ؓ کی حدیث جو اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزری وہ اور متی کی انجیل کا تیسرا اور چوتھا باب گویا اس آیت کی تفسیر ہیں جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر کی آیت کی تفسیر میں بیان کیا گیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) انجیل اور قرآن کی تعلیم کے موافق اللہ کے بندے رسول ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بعضے الہاموں کی بنا پر جو باتیں تراشی گئی ہیں وہ الہام بالکل غلط ہیں کیونکہ کوئی صحیح الہام کتاب آسمانی کے برخلاف نہیں ہوسکتا کس لیے کہ اللہ کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ وحی کے ذریعہ سے نبی کو ایک حکم دے اسی نبی کی امت میں کے بعضے لوگوں کو الہام کے ذریعہ سے دوسرا حکم دے اور الہام کے ذریعہ سے وحی آسمانی کو جھٹلادے چالیس دن کی عمر میں معجزے کے طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں سے جو باتیں کیں ان باتوں کے سلسلہ میں اس آیت اور اس سے اوپر کی آیت کا مضمون اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے طور پر بڑھا دیا تھا اب آگے کی آیت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کے سلسلہ کا خاتمہ ہے۔
Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور بیشک خدا ہی میرا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے

36:۔ شروع تقریر میں عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ کہا تھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں رسول ہوں اسی سلسلہ میں اب یہ فرمایا کہ اے لوگو ! جب میں اور تم سب للہ کے بندے ہیں اور وہ ہم سب کا معبود اور رب ہے تو خالص اسی کی عبادت کرنا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرنا ایک یہی سیدھا راستہ ہے مطلب یہ ہے کہ سوائے اس ایک راستہ کے اور سب راستے ٹیڑھے ہیں اس لیے کہ خالص اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر جو کوئی دوسرا راستہ چلا وہ دوزخ میں جانے کا شرکیہ راستہ ہے۔ مسند امام احمد نسائی مستدرک حاکم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے 1 ؎ اور ترمذی وغیرہ میں عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ سے معتبر روایتیں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک روز بہت سی لکیریں زمین پر کھینچ کر یہ فرمایا کہ ان میں سوائے ایک راستہ کے اور سب راستے دوزخ کے ہیں اور وہ ایک راستہ دوزخ سے بچا ہوا وہی ہے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں 2 ؎۔ ان روایتوں سے اور انجیل یوحنا کے باب سے عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس نصیحت کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ جو کوئی خالص اللہ کی عبادت کا راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ چلا وہ دوزخ میں جانے کا شرک کا راستہ ہے۔ (1 ؎ مشکوٰۃ ص 3 باب الاعتصام بالکتاب والسنہ فصل دوسری ) (2 ؎ ایضا )
Ayahs 19:37–38

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا سو جو لوگ کافر ہوئے ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

اور وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں

37۔ 38:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ جو لوگ اپنے آپ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیرو کہتے ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت کو بالکل رائیگاں کردیا اور بجائے خالص اللہ کی عبادت کے ان میں کے کچھ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کہنے لگے کچھ خدا کا بیٹا اور کچھ خدا کا شریک اور ان میں کے جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی نصیحت پر قائم تھے ان سے لڑے اور ان کو مارا اس لڑائی کا ذکر اس وقت کی تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے ہے پھر فرمایا ایسے منکر شریعت لوگوں کو قیامت کے دن بڑی خرابی پیش آنے والی ہے اب دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کے رسول کی نصیحت کو رائیگاں کر رہے ہیں لیکن قیامت کے دن اس نصیحت کے سننے کو ان کے کان اور نصیحت کے رائگاں کرنے کے عذاب کو دیکھنے کے لیے ان کی آنکھیں کھل جائیں گی مگر وہ بےوقت کا سننا دیکھنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ کم سے کم عذاب والا دوزخی شخص تمام دنیا کے مال ومتاع کو جرمانہ میں دے کر دوزخ کے عذاب سے نجات چاہے گا تو نجات نہ ہو سکے گی 1 ؎ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ کے رسولوں کی نصیحت کو رائگاں کرنا اتنا بڑا جرم ہے جو تمام دنیا کے مال ومتاع کے جرمانہ سے بھی معاف نہیں ہوسکتا۔ (1 ؎ صحیح مسلم ص 374 ج 2 باب فی الکفار۔ )
Ayahs 19:39–40

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور ان کو حسرت و افسوس کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کردی جائے گی اور (ہیہات) وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا

39۔ 40:۔ اوپر عیسائیوں کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں مشرکین مکہ کا ذکر فرمایا جس سے یہ بات جتلائی گئی ہے کہ جس طرح عیسائی لوگ اپنے آپ کو عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیرو کہتے ہیں اور حقیقت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہیں یہی حال ان مشرکین مکہ کا ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پابند کہتے ہیں اور حقیقت میں ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہیں کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے ایسے بیزار تھے کہ اسی پر ان کا اور ان کے باپ کا جھگڑا ہوا جس کا ذکر آگے آتا ہے اور ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ رات دن بت پرستی میں لگے ہوئے ہیں قیامت کے دن اس بت پرستی کی جو سزا ان کو بھگتنی پڑے گی اس سے بالکل غافل ہیں اور باوجود ہر وقت کی نصیحت کے اس شرک سے باز نہیں آئے اس لیے اے رسول اللہ کے تم اپنا کام کیے جاؤ کہ ان لوگوں کو اس دن کے پچھتاوے سے ڈراتے رہو اس پر جو لوگ شرک سے باز نہ آویں تو اس کا کچھ رنج نہ کرو ایک دن دنیا فنا ہونے والی ہے اور دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد پھر دوبارہ زندہ ہو کر جب تمام دنیا کے لوگ سزا وجزا کے لیے ہمارے روبرو حاضر ہوں گے تو اس وقت یہ لوگ اپنے اس شرک کی سزا بھگت کر بہت پچھتاویں گے اس پچھتاوے کا ذکر سورة الانعام میں گزر چکا ہے کہ اس طرح کے لوگ اپنی دنیا کی غفلت کی گندگی پر پچھتا کر پھر دوبارہ دنیا میں آنے اور نیک عمل کرنے کی خواہش کریں گے مگر اس بےوقت کے بچھتانے اور بےموقع خواہش سے ان کو کچھ فائدہ نہیں صحیح بخاری مسلم اور ترمذی میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب جنت میں ہمیشہ رہنے والے جنتیوں اور دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے دوزخیوں کو یہ حکم سنا دیا جائے گا کہ اب جو جہاں وہیں رہے گا کبھی وہاں سے نہ نکلے گا اس وقت دوزخی لوگ اپنی دنیا کی غفلت کی زندگی پر بہت پچھتائیں گے 1 ؎۔ یہ حدیث فرما کر اللہ کے رسول ﷺ نے ان دونوں آیتوں میں کی پہلی آیت پڑھی اس حدیث سے ایسے لوگوں کے پچھتاوے کے وقت کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ (1 ؎ تفسیر ابن کثیرص 122 ج 2۔ )