Ayahs 19:77–8277۔ 82:۔ صحیح بخاری ومسلم میں خباب بن ارت ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس میں خباب ؓ کہتے ہیں کہ مشرکین مکہ میں کے ایک شخص عاص بن وائل پر میرا کچھ قرضہ آتا تھا میں جب اپنا قرضہ مانگنے کو اس کے پاس گیا تو اس نے کہا ادا کردوں گا، عاص بن دائل نے یہ سن کر کہا کہ اگر مر کر پھر جان سچ ہے تو تم مسلمانوں کے عقیدہ کے موافق وہاں جنت میں میرے پاس مال و اولاد سب کچھ ہوگا پھر وہیں میں تمہارا قرضہ ادا کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎ اور فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے ان منکرین قرآن کا حال دیکھا اور ان کی باتیں سنیں کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں اور پھر اس امید میں ہیں کہ عقبیٰ میں ان کو مال واولاد سب کچھ مل جائے۔ ایسی باتیں مسخراپن کے طور پر یہ لوگ اسی واسطے کرتے ہیں کہ عقبیٰ کی باتیں ان کی آنکھوں کے سامنے نہیں آئیں جب مرنے کے ساتھ ہی دوزخ میں کا اپنا ٹھکانا دیکھ لیں گے تو انہیں ان باتوں کی قدر کھل جائے گی۔ پھر فرمایا عقبیٰ کی باتیں تو انسان کی نگاہ سے غائب ہیں پھر کیا عاص بن وائل غیب کا حال دیکھ آیا ہے یا اللہ تعالیٰ نے اس سے کوئی وعدہ کرلیا ہے جو یہ عقبیٰ میں مال واولاد سب کچھ مل جانے کی امید رکھتا ہے پھر فرمایا نہ یہ غیب کی باتیں دیکھ آیا ہے نہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کی اس کے پاس کوئی سند ہے مسخراپن کے طور پر یہ جھوٹی باتیں کرتا ہے جس سے علاوہ کفر کے اس جھوٹ کی سزا اس نے اپنے ذمہ اور بڑھالی کیونکہ اس کی یہ سب جھوٹی باتیں اللہ کے حکم سے فرشتے لکھ رہے ہیں پھر فرمایا مرنے کے بعد تمام دنیا کا مال اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں آجائے گا اس کے پاس وہاں عقبیٰ میں کیا ہوگا جو یہ قرضہ ادا کرے گا پھر فرمایا ان لوگوں نے بتوں کو اپنا سفارشی جو ٹھہرایا ہے یہ بھی ان لوگوں کا ایک جھوٹا خیال ہے کیونکہ جن نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں قیامت کے دن وہ نیک لوگ اپنے پوجا کرنے والوں کے دشمن بن جائیں گے اس دشمنی کا ذکر سورة یونس میں گزر چکا ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس کی معتبر روایت کئی جگہ گزر چکی ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کے بعد کا کچھ سامان کرلے اور عقل سے بےبہرہ وہ ہے جو عمر بھر برے کاموں میں لگا رہے اور مرنے کے بعد بہبودی کی امید رکھے۔ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ عاص بن وائل کی طرح جو شخص برے کاموں میں لگا رہے اور عقبیٰ کی بہبودی کی امید رکھے وہ عقل سے بالکل بےبہرہ ہے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 135 ج 3۔
Ayahs 19:83–8683۔ 86:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منکرین حشر کا ذکر فرمایا تھا اس آیت میں ان کے انکار کا سبب فرمایا ہے کہ ان کے کفر کے سبب سے شیطان ان پر ایسا مسلط ہوگیا ہے کہ ان کی عقل بالکل جاتی رہی ہے کیسی ہی موٹی اور ظاہر بات کیوں نہ ہو شیطان ان کو کسی بات کے سمجھنے کا موقع نہیں دیتا دنیا میں چھوٹی سے چھوٹی عقل کا آدمی کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام کرتا ہے تو کوئی فائدہ اس کام کا ضرور سوچ لیتا ہے مکان کوئی بناتا ہے تو رہنے کے خیال سے کنواں کوئی کھدواتا ہے تو پانی پینے کے خیال سے اتنا بڑا، جہاں اللہ تعالیٰ جیسے صاحب حکمت نے کیا بےفائدہ پیدا کیا ہے کہ عمر بھر جو اللہ کی فرمانبرداری کرے اور دنیا بھی اس کی کچھ خوشحالی سے نہ گزرتی ہو اس کی مٹی بھی یونہی اکارت جائے نہ حشر ہو نہ قیامت نہ کبھی اس کی نیکی کی جزا کا موقع اس کو ملے اور جس شخص نے عمر بھر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو اور دنیا میں بھی مال سے اولاد سے وہ خوش رہا ہو اس کی مٹی بھی یونہی اکارت کبھی کوئی پرستش کا موقع ہی نہیں۔ خدا کی خدائی تو دنیا کے شروع سے اب تک قائم ہے دنیا کی چار دن کی سلطنت میں بھی کوئی اندھا دھن کرے کہ نیک وبد کو ایک ہی لکڑی سے ہانکے تو چار دن بھی سلطنت نہ چل سکے غرض ایسی ایسی موٹی باتیں شیطان ان منکرین حشر کو سمجھنے نہیں دیتا لیکن اے رسول اللہ کے ایسے لوگوں پر عذاب کی جلدی نہ کرو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے حال سے غافل نہیں ہے دن دن گھڑی گھڑی ان کی عمر کی اس کے روبرو ہے جس دوزخ کا ان کو اب انکار ہے آنکھ بند ہوتے ہی جب اس دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے اور فرشتے ان کو قائل کریں گے کہیں گے (ھذہ النار التی کنتم بھا تکذبون) جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہی دوزخ ہے جس کو تم لوگ دنیا میں جھٹلاتے تھے تو پھر قائل ہوجانے کے بعد ان کا یہ سب انکار نکل جائے گا اور یہی پکاریں گے کہ کاش ہم پھر دوبارہ دنیا میں بھیجے جائیں تاکہ نیک عمل کریں یہ بھی ذرا یاد رہے کہ دنیا میں ایسے مسلمان بھی ہیں کہ رات دن شیطان ان پر ایسا مسلط ہے کہ اگرچہ وہ کافروں کی طرح حشر و قیامت کا زبان سے صاف انکار تو نہیں کرتے مگر رات دن کے عمل ان کے ایسے ہیں کہ گویا آخرت کی سزا وجزا ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں ہے ان کو بھی ذرا اس آیت کے مضمون سے عبرت پکڑنی چاہیے اور شیطان کو اپنا دشمن جانی گننا چاہیے دوست جانی گن کر رات دن اس کے کہنے میں نہ رہنا چاہیے کوئی گھڑی تو اپنے پیدا کرنے والے کا کہنا بھی مان لینا چاہیے یہ تو معلوم ہے کہ شیطان نے ان کو پیدا نہیں کیا پیدا کرنے والا تو اور ہی ہے اس سے بھی ذرا معاملہ اچھا رکھنا چاہیے جس حشر کے یہ لوگ منکر تھے آگے کی آیت میں اس کا ذکر فرمایا کہ اس دن شریعت کے پابند پرہیزگار لوگ قبروں سے اٹھ کر مہمانوں کی طرح سواریوں پر میدان محشر تک جائیں گے اور منکر شریعت لوگوں کو قیدیوں کی طرح دوزخ کی آگ گھیر کر میدان محشر تک لیجائے گی۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایت ہے اس میں ان دونوں گروہوں کا ذکر تفصیل سے ہے 1 ؎۔ سورج کے پاس آجانے اور دوزخ کے میدان محشر میں لائے جانے سے میدان حشر میں بہت گرمی ہوگی جس کے سبب سے پیاس تو سب کو لگے گی مگر اللہ کے رسول ﷺ پرہیز گار لوگوں کو حوض کوثر کا پانی پلاویں گے اس واسطے جنت میں جانے سے پہلے ان لوگوں کی پیاس تو بجھ جائے گی اور منکر شریعت لوگوں کو اسی پیاس کی حالت میں دوزخ کا جھونکا نصیب ہوگا اسی کا ذکر آیت کے آخر میں ہے میدان حشر کی گرمی کا اور سورج کے پاس آجانے کا ذکر مسند امام احمد صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم کی عقبہ بن عامر کی معتبر روایت میں ہے 2 ؎۔ اسی طرح دوزخ کے میدان محشر میں لائے جانے کا ذکر صحیح مسلم کی عبد اللہ بن مسعود کی روایت میں ہے 3 ؎۔ اور نیک لوگوں کو حوض کوثر کا پانی پلانے کا ذکر عبداللہ بن عمر ؓ کی صحیح روایت سے مسند امام احمد میں ہے 4 ؎۔ سورة الکرثر میں آئے گا کہ یہ حوض کوثر اللہ کے رسول ﷺ کو ملی ہے جس کو معراج کی رات میں آپ نے دیکھا ہے حشر کے دن اس نہر میں سے اس حوض میں پانی آئے گا اس لیے اس کو حوض کوثر کہتے ہیں۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 384 ج 2 باب فناء الدنیا وبیان الحشر۔
2 ؎ الترغیب ص 295 ج 2 فصل فی الحشر۔
3 ؎ مشکوٰۃ ص 502 باب صفۃ النار واہلہا 12۔
4 ؎ الترغیب ص 304 فصل فی الحوض الخ۔
Ayahs 19:87–9587۔ 94:۔ مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اول تو قیامت قائم ہی نہ ہوگی اور ہم کسی عذاب میں پکڑے گئے تو جن نیک لوگوں کی مورتوں کی ہم پوجا کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ہم کو اس عذاب سے چھڑا لیں گے۔ مشرکین مکہ کی اس بات کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کی سفارش کا ہر کسی کو مالک اور مختار نہیں بنایا ہے جو یہ مشرک جس سے چاہیں گے اپنی سفارش کرلیں گے یہ شفاعت تو اللہ کے فرشتے اس کے رسول اور نیک لوگ ایسے لوگوں کے حق میں کریں گے جو اللہ کی وحدانیت اس کے رسولوں کو سچا جاننے کے عہد پر قائم ہوں گے لیکن سوائے شرک کے اور گناہوں میں عمر بھر گرفتار رہ کر بغیر توبہ کے مرجائیں گے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری کی روایت سے شفاعت کی ایک بہت بڑی حدیث ہے 1 ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ شفاعت کرنے والے اللہ کے فرشتے اس کے رسول اور نیک لوگ ہوں گے اور یہ شفاعت ایسے لوگوں کے حق میں ہوگی جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا اس حدیث سے شفاعت کرنے والوں کا اور جن کے حق میں شفاعت کی جائے گی ان کا حال اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ صحیح بخاری اور مستدرک حاکم میں ابوہریرہ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ آزر کی شفاعت کرنی چاہیں گے مگر منظور نہ ہوگی اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ مشرک کے حق میں کسی کی شفاعت منظور نہ ہوگی جس عہد کا ذکر ان آیتوں میں ہے یہ شرک سے بچنے کا وہی عہد ہے جو تمام اولاد آدم سے عالم ارواح میں لیا گیا ہے۔ پھر جو لوگ اس عہد کے یاد دلانے والے قرآن اور رسول کو جھٹلاتے ہیں رات دن بت پرستی کے شرک میں گرفتار ہیں فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہہ کر اس کو صاحب اولاد ٹھہراتے ہیں اور نظام الٰہی کے برخلاف قیامت کے دن شفاعت کی امید رکھتے ہیں یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے کیونکہ یہ ان کو جتلا دیا گیا ہے کہ جن نیک لوگوں کی مورتوں کو یہ مشرک پوجتے ہیں وہ نیک لوگ قیامت کے دن ان پوجا کرنے والوں کی صورت سے بیزار ہوجائیں گے اور یہ پتھر کی مورتیں دوزخ کا ایندھن بنادی جائیں گی پھر وہ کونسا شفاعت کرنے والا ہے جس کی شفاعت کے بھروسہ پر یہ لوگ شرک سے باز نہیں آتے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد ٹھہرانے کا کلمہ جو یہ لوگ زبان پر لاتے ہیں یہ ایسے غضب کا کلمہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو اپنی بردباری سے وقت مقررہ تک دنیا کا چلانا منظور نہ ہوتا تو اللہ کے حکم سے ابھی اس غضب کے کلمہ کے وبال میں ان لوگوں پر آسمان پھٹ پڑے یا زمین پاش پاش ہوجائے ‘ یا پہاڑ گر پڑتے فرمایا اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور عظمت کے آگے سب اس کے حقیر بندے ہیں یہ لوگ اپنے غلاموں سے تو رشتہ ناتا جوڑنا نہیں چاہتے پھر اللہ کی شان میں ایسا گستاخی کا کلمہ کیوں زبان سے نکالتے ہیں کہ اس کے حقیر بندوں کے ساتھ اس کا رشتہ ناتا ہے۔ پھر فرمایا اچھے برے سب کی گنتی اللہ تعالیٰ کو معلوم اور لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اس گنتی کے موافق جب ہر ایک شخص قیامت کے دن بےیارو بےمددگار اپنے عملوں کی جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے روبرو اکیلا کھڑا ہوگا تو اس وقت اس غضب کے کلمہ کی سزا ان لوگوں کو سنا دی جائے گی۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر بردبار کون ہوسکتا ہے کیوں کہ لوگ اس کو صاحب اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ ان کے ہر طرح کے آرام اور راحت کے انتظام میں خلل نہیں ڈالتا 2 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ وقت مقررہ تک دنیا کا انتظام اللہ تعالیٰ کی بردباری کے سبب سے چل رہا ہے ورنہ شرک ایسے غضب کی چیز ہے جس سے آسمان زمین اور پہاڑ سب کانپتے ہیں اور آسمان پھٹ جانے کو اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہونے کو اور پہاڑ گر پڑنے کو تیار اور حکم کے منتظر ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 1107 ج 2 باب قول اللہ وجوہ یومئذ ناضرۃ الخ۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 1097 ج 2 باب قول اللہ انما نا اللہ آلایہ و صحیح مسلم ص 674 ج 2 باب الکفار بر وایت ابوموسیٰ اشعری ؓ ۔
Ayah 19:9696:۔ اوپر کی آیت میں متقی لوگوں کے ساتھ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جو محبت کرے گا اس کا ذکر گزر چکا ہے کہ قبروں سے ان کو اللہ تعالیٰ مہمانوں کی سی خاطر داری سے اٹھائے گا اس کے علاوہ نیک لوگوں سے جب اللہ محبت کرنے لگتا ہے تو ایسے نیک لوگوں کی طرف تمام مخلوق الٰہی کے دل مائل ہوجاتے ہیں اور دنیا بھر ایسے لوگوں کو عزیز رکھنے لگتی ہے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص سے اللہ تعالیٰ کو محبت ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ جبرئیل (علیہ السلام) کو جتلا دیتا ہے کہ مجھ کو فلاں بندہ سے محبت ہے جبرئیل اس بات کی تمام آسمانوں میں شہرت کردیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں بندہ سے محبت رکھتا ہے اس سے تمام آسمان کے فرشتے اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں اور زمین پر بھی لوگوں کے دلوں میں ایک توقیر اور محبت اس شخص کی طرف سے پیدا ہوجاتی ہے 1 ؎۔ یہ تو ایماندار نیک عمل لوگوں کی دنیا کی عزت اور قبروں سے اٹھنے کے وقت کی عزت کا حال ہوا اس کے بعد قیامت کے دن ان کی یہ عزت ہوگی کہ اللہ کے فرشتوں اور رسولوں کی طرح یہ متقی لوگ بھی گناہ گار کلمہ گو لوگوں کی شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت منظور ہو کر بہت سے کلمہ گو گناہ گار جنت میں داخل ہوں گے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری کی جس شفاعت کی حدیث کا ذکر اوپر گزرا اس میں نیک لوگوں کی شفاعت کا ذکر تفصیل سے ہے 2 ؎۔
1 ؎ تفسیر ابن کیثرص 139 ج 3۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 1107 ج 2 باب قول اللہ وجوہ یومئذ ناضرۃ الخ۔
Ayahs 19:97–9897۔ 98:۔ اوپر ذکر تھا کہ قریش میں کے بعضے لوگ قرآن کی آیتیں سن کر طرح طرح کے جھگڑے نکالتے ہیں اور بعضوں کی ہدایت قرآن کی نئی نئی آیتوں سے دن بدن بڑھتی جاتی ہے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن عربی زبان میں اس آسانی کے لیے نازل کیا گیا ہے کہ تم عقبیٰ کی خرابی سے ڈرا کر نیک کام کرنے والوں کو عذاب آخرت سے نجات اور جنت میں داخل ہونے کی خوشی اور جھگڑالو لوگوں کو عذاب آخرت کا ڈر سنا دو اس پر بھی ان میں کے جو لوگ سرکشی اور بےجا جھگڑوں سے ہو کر آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوچکے ہیں کہ دنیا میں کہیں ان کا نشان تک باقی نہیں رہا اگر یہ لوگ بھی ان پچھلی قوموں کے قدم بقدم چلیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے قریش کے بڑے بڑے سرکش جھگڑالو لوگوں کا جو انجام بدر کی لڑائی کے وقت ہوا۔ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک کی روایت کے حوالہ سے اس کا ذکر کئی جگہ گزر چکا ہے 1 ؎۔ کہ دنیا میں بڑی ذلت سے یہ لوگ مارے گئے اور مرنے کے ساتھ ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتانے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر یہ فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو سچا پالیا۔
1 ؎ مثلاص 23 ج 3۔