Ayahs 19:41–5041۔ 50:۔ تفسیر سدی اور سیرۃ ابن اسحاق میں حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی پیدائش کا قصہ جو لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے نمرود نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک بڑا روشن ستارہ آسمان پر نکلا ہے اس وقت کے نجومیوں سے اس نے اپنا یہ خواب بیان کیا انہوں نے جواب دیا کہ اس سال ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا کہ اسکے سبب سے تیری سلطنت غارت ہوجائے گی اس خواب کی تعبیر کے خوف سے بستی کے سب مردوں کو اپنے ساتھ لے کر نمرود بستی کے باہر چلا گیا اور سب عورتوں کو بستی کے اند چھوڑ دیا تاکہ اس سال مرد و عورت میں مباشرت اور کوئی اولاد پیدا نہ ہو، مگر جب آزر بستی میں آئے تو ان سے نہ رہا گیا انہوں نے اپنی بی بی سے مباشرت کی اور حضرت ابراہیم کا حمل رہا نجومیوں نے پھر نمرود کو خبر دی کہ اس لڑکے کا حمل قرار پاچکا ہے لیکن حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) کی ماں کو دیکھنے میں حمل نہیں معلوم ہوتا تھا آخر حضرت ابرہیم پیدا ہوئے اور نمرود کے خواب سے سات برس کی عمر تک ان کی ماں نے ان کو ایک تہ خانہ میں پالا پہلے تو حضرت ابرہیم کی ماں نے اپنے خاوند آزر سے بھی حضرت ابراہم کا حال چھپایا اور یوں کہہ دیا کہ ایک مرا ہوا بچہ پیدا ہوا تھا کیوں کہ جب نجومویں نے نمرود کو اس بچہ کے حمل قرار پاجانے کی خبر دی تھی تو نمرود نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال جو بچہ پیدا ہو وہ مار ڈالا جائے اس خوف سے حضرت ابرہیم کی ماں نے اپنے خاوند سے بھی حضرت ابراہیم کے حال کو چھپایا کہ نمرود کی خوشامد سے کہیں آزر اس بچہ کا حال ظاہر کر کے اس بچہ کو قتل نہ کرا دے اس تہ خانہ کے رہنے کے زمانہ میں ان کی ماں نے ایک رات ان کو تہ خانہ سے باہر نکالا تھا اور جب ہی انہوں نے چاند ستاروں کو غروب اور طلوع کے وقت دیکھ کر ھذاربی کہا تھا جس کا ذکر سورة انعام میں ہے غرض جب نمرود کے خواب کو سات برس گزر گئے اور بچوں کو مار ڈالنے کا حکم بھی نمرود نے موقوف کردیا اور حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) خوب باتیں کرنے لگے تو ایک روز حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی ماں نے آزر سے محبت دلانے کیلئے حضرت ابراہیم کی باتوں کا اور حضرت ابرہیم کی پیدائش کا حال کہا آزر نے حضرت ابراہیم کو تہ خانہ میں جا کر دیکھا اور جتلایا کہ میں تمہارا باپ ہوں حضرت ابرہیم نے کہا اے میرے باپ تمہارا پیدا کرنے والا کون ہے آزر نے کہا نمرود حضرت ابرہیم نے کہا نمرود کو کس نے پیدا کیا۔ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کی پھر اسی طرح سولہ برس کی عمر تک حضرت ابراہیم اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے بحث کرتے رہے اور طرح طرح سے بت پرستی کی برائی ان کو سمجھاتے رہے ان ہی بحثوں میں کی ایک بحث کا ان آیتوں میں ذکر ہے جب ان بحثوں سے وہ لوگ نہ مانے تو سولہ برس کی عمر میں حضرت ابراہیم نے ان کے بت توڑ ڈالے اور اسی الزام میں نمرود نے پہلے تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو چند روز قید میں رکھا پھر قید سے ایک روز ان کو اپنے روبرو بلایا اور بحث ہوئی جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزرا جس میں حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) نے نمرود سے کہا کہ میرا خدا تو ہر روز مشرق سے سورج نکالتا ہے تجھ میں کچھ قدرت ہے تو سورج کو مغرب سے نکال اس بحث میں لاجواب ہو کر پھر نمردو نے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا یہ قصہ سورة انبیاء میں آئے گا اولو العزم رسولوں میں پہلے رسول حضرت نوح ہیں دوسرے حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) بغیر الوالعزم دو رسول حضرت ہود ( علیہ السلام) اور حضرت صالح ( علیہ السلام) حضرت نوح ( علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیچ کے زمانہ میں گزرے ہیں۔ جامع الاصول میں ہے کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) اور حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) کے بیچ کے زمانہ میں مدت بارہ سو چالیس برس کی ہے اللہ کے حکم کی فرمانبرداری حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) میں بہت تھی حکم آتے ہی اسی برس کی عمر میں اپنے ہاتھ سے اپنا ختنہ کیا جس کا ذکر صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہے 1 ؎۔ اپنے بیٹے حضرت اسمعیل ( علیہ السلام) کی ذبح کرنے کو جھٹ مستعد ہوگئے جس کا ذکر والصافات میں آئے گا مہمان نوازی حضرت ابراہیم کی مشہور ہے مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں ان کو بت پرستی کے وبال سے ڈرا کر ان آیتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ابراہیم (علیہ السلام) بت پرستی سے کس قدر بیزار تھے پھر یہ لوگ بت پرستی میں گرفتار ہو کر اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کیوں کر بتلا سکتے ہیں غرض باپ کی بت پرستی سے بیزار ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا کہ جن بتوں کو تم پوجتے ہو نہ ان کے کان ہیں جو تمہارا کوئی مقصد وہ سنیں نہ ان کی آنکھیں ہیں جو تمہاری پوجا کی حالت کو وہ دیکھیں پھر کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ بت تمہارا کون سا مقصد پورا کرسکتے ہیں اگر تم میرا کہنا مانو تو میں تم کو عبادت کا سیدھا راستہ بتا سکتا ہوں جن نیک لوگوں کی مورتوں کو تم پوجتے ہو ان نیک لوگوں کو تو تمہاری اس پوجا کی خبر تک بھی نہیں یہ تو شیطان کا کام ہے کہ جیسا وہ خود گمراہ ہے اوروں کو بھی ویسا کرنا اور اپنا گروہ بڑھانا چاہتا ہے اے میرے باپ میں ڈرتا ہوں کہ شیطان کے کہنے پر چلنے اور شیطان کا ساتھی قرار پا جانے سے تم پر اللہ کی طرف سے کوئی آفت نہ آجائے ابرہیم (علیہ السلام) کے باپ آزر نے براہیم (علیہ السلام) کی یہ باتیں سن کر کہا معلوم ہوتا ہے ابرہیم تم ہمارے ٹھاکروں سے پھرے ہوئے ہو اگر تم اپنی اس حالت کو نہ چھوڑو گے تو میں تم کو پتھروں سے کچل ڈالوں گا جاؤ کچھ دنوں تک تم مجھ کو اپنی صورت نہ دکھاؤ باپ کی یہ باتیں سن کر ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کو رخصتی کا سلام کیا اور یہ کہا کہ اے باپ میں تم سے اور تمہارے بتوں سے کنارے ہوجاتا ہوں مگر میں جہاں رہوں گا تمہارے حق میں دعا خیر کرتا رہوں گا اور مجھ کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ میری دعا رائیگاں نہ جائے گی آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے واسطے اپنے ماں باپ اور قوم کو چھوڑا تو ان کو اولاد اور اولاد کی اولاد والا کیا اور ان سب کو نبی کر کے ان کا ذکر خیر دنیا میں باقی رکھا۔ صحیح بخاری وغیرہ میں معراج کی جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ابرہیم (علیہ السلام) کا رتبہ اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 473 ج 1 کتاب الانبیا۔
Ayahs 19:51–5351۔ 53:۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت موسیٰ کی پیدائش کا قصہ جو ذکر کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے فرعون نے خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ نکلی اور سوا بنی اسرائیل کے محلہ کے تمام مصر کو اس آگ نے جلا دیا فرعون نے اپنا یہ خواب اس وقت کے نجومیوں سے بیان کیا انہوں نے کہا ایک لڑکا بنی اسرائیل میں کا جس کا اصل وطن ملک شام بیت المقدس کی سر زمین ہے پیدا ہونے والا ہے اس کے ہاتھ سے مصر خواب اور برباد ہوگا۔ فرعون نے بنی اسرائیل میں جو لڑکے پیدا ہوتے تھے ان کے مار ڈالنے کا حکم دیا۔ ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل کیے گئے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ماں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ان کی ماں نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ایک صندوق میں بند کر کے اور ایک رسی سے اس صندوق کو باندھ کر وہ صندوق دریا میں ڈال دیا۔ جب دودھ پلانا ہوتا وہ صندوق کی رسی کھینچ کر صندوق میں سے حضرت موسیٰ کو نکال کر دودھ پلا دیا کرتیں اور پھر وہ صندوق دریا میں ڈال دیا کرتیں ایک روز خدا کی قدرت کہ وہ رسی کھل گئی اور صندوق دریا میں بہہ گیا حضرت موسیٰ کی ماں نے گھبرا کر حضرت موسیٰ کی بہن مریم کو اس صندوق کی خبر کو بھیجا مریم نے آن کر خبر دی کہ دریائے نیل سے ایک نہر فرعون نے جو اپنے رہنے کے مکان تک کاٹ لی تھی اس کے راستہ سے بہہ کر وہ صندوق فرعون کے دروازے پر پہنچ گیا اور اتفاق سے وہ صندوق حضرت آسیہ فرعون کی بی بی کو نظر پڑا اور انہوں نے نکلوایا اور کھولا اور فرعون سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے پالنے کی اجازت بھی حاصل کرلی اور حضرت موسیٰ کسی انا کا دودھ نہیں پیتے اس واسطے ایسی انا کی تلاش ہو رہی ہے جس کا دودھ حضرت موسیٰ پئیں سورة طہ و سورة شعرا اور قصص میں یہ قصہ پورا آوے گا کہ خدا کی قدرت سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی ماں کے ہی دودھ سے اپنے دشمن فرعون کے گھر میں پرورش پائی اور پھر مدین گئے اور وہاں حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی بیٹی سے نکاح ہوا اور دس 10 برس مدین رہے جب حضرت موسیٰ گھٹنوں چلنے لگے تو ایک دن آسیہ نے ان کو فرعون کی گود میں دیا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کی داڑھی نوچ لی فرعون کو غصہ آگیا اس نے جلاد کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے مار ڈالنے کے لیے بلوایا آسیہ نے کہا کہ ناسمجھ بچہ ہے اس کی بات پر تم کیا غصہ کرتے ہو ناحق لوگ ہنسیں گے میں ایک طرف آگ کا انگارا رکھتی ہوں اور ایک طرف یاقوت رکھتی ہوں اگر اس بچہ نے آگ کا انگارہ اٹھا لیا تو جان لینا ناسمجھ بچہ ہے اور اگر یاقوت اٹھایا تو جاننا سمجھ دار ہے پھر تم کو مار ڈالنے کا احتیار ہے یہ دونوں چیزیں آسیہ نے رکھیں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑ کر آگ میں ڈال دیا اور وہ آگ کا انگارہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ہاتھ میں دے کر پھر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ہاتھ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے منہ میں دے دیا جس سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان جل کر توتلی ہوگئی پھر نبی بننے کے بعد جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو وہ توتلا پن گیا جس کا ذکر سورة طہ میں آئے گا ایک سو بیس برس کی عمر میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے وفات پائی۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ملک الموت جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی جان قبض کرنے کے لیے آئے تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ملک الموت کی آنکھ میں ایک گھونسا مار کر ملک الموت کی آنکھ پھوڑ ڈالی ملک الموت نے جاکر خدا تعالیٰ سے فریاد کی اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی آنکھ اچھی کردی اور فرمایا پھرجا کر موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہو کہ اگر ان کو دنیا کی زیست درکار ہے تو ایک بیل کی پیٹھ پر وہ ہاتھ رکھ دیں بیل کے جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے دبیں گے ہر ایک بال کو ایک سال قرار دیا جاکر ان کی عمر بڑھا دی جائے گی جب ملک الموت نے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو پہنچایا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا کہ اپنی عمر بڑھانے کے بعد پھر آخر انجام کیا ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا آخر موت ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا تو ابھی سہی 1 ؎۔ بعضے لوگوں نے اس حدیث کے مطلب پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ملک الموت کو پہچان لیا تھا اور پھر آنکھ پھوڑی تو اللہ کے فرشتے کی توہین کی اور اگر نہیں پہچانا تو ایک اجنبی شخص کو جان کر گھونسا مارا تو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے قصاص لینا چاہیے تھا جواب اس اعتراض کا وہی ہے جو حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں دیا ہے کہ شریعت موسوی ( علیہ السلام) اور شریعت محمدی ﷺ انسانوں پر ناقد اور جاری ہے یہ قصہ ایک اللہ کے رسول اور ایک فرشتہ کے فی مابین کا ہے اس قصہ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کردیا اب اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے بعد کسی انسان کی کیا بساط ہے جو اس فیصلہ پر اعتراض کرسکے حاصل یہ ہے کہ یہ اعتراض حد شریعت سے بڑھا ہوا ہے اس لیے علماء کی توجہ کے قابل نہیں ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دس 10 برس مدین میں رہنے کے بعد شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ماں اور بھائی ہارون سے ملنے کا قصد کیا اور مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی بی بی بھی تھیں جاڑے کا موسم اور رات کا سفر تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) رات کے اندھیرے کے سبب سے راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں ان کو دور سے آگ کی روشنی نظر آئی یہ آگ کی روشنی دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بی بی سے کہا تم یہیں ٹھہرو میں آگ میں سے ایک انگارہ لے آؤں اور آگ کے پاس کوئی آدمی مل گیا تو اس سے راستہ بھی پوچھ لوں گا علماء کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جو پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ آگ کا بھی ہے وہی آگ موسیٰ (علیہ السلام) کو نظر آئی تھی۔ صحیح مسلم میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے جو روایت ہے اس میں بھی اس آگ کے پردہ کا ذکر ہے 2 ؎۔ اس حدیث سے ان علماء کے قول کی تائید ہوتی ہے غرض اس روشنی میں سے موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی آواز آئی اور اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کے لیے نبی ٹھہرا کر موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سی باتیں کیں جن کا ذکر سورة طٰہٰ میں آئے گا۔ اسی وقت عصا اور یدبیضاء کا معجزہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خواہش پر ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبی قرار دیا یہ سب ذکر بھی سورة طٰہٰ میں تفصیل سے آئے گا ان آیتوں میں بھی وہی ذکر مختصر طور پر فرمایا گیا ہے صحیح بخاری وغیرہ میں معراج کے بیان میں جو روایتیں ہیں ان کے موافق خاتم الانبیاء ﷺ اور ہارون (علیہ السلام) کی ملاقات پانچویں آسمان پر ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی چھٹے آسمان 3 ؎ پر ان روایتوں سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے مرتبہ میں فرق ہے مشرکین مکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو صاحب توریت نبی اور یہود کو اہل کتاب جانتے تھے اسی واسطے انہوں نے یہود کے مشورہ کے موافق روح اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا حال اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا تھا لیکن اللہ کے رسول ﷺ کی نبوت پر ان کا یہ اعتراض تھا کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے اس اعتراض کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے یوں غلط ٹھہرایا کہ آخر موسیٰ (علیہ السلام) بھی انسان تھے وہ کیوں کر اللہ کے رسول قرار پائے۔
(1 ؎ صحیح مسلم ص 623 ج 2 باب من فضائل موسیٰ علیہ السلام۔ )
(2 ؎ صحیح مسلم ص 99 ج 1 باب معنی قول اللہ عزوجل ولقدراہ نزلہ اخری الخ )
(3 ؎ مشکوٰۃ باب المعراج۔ )
Ayahs 19:54–5554۔ 55:۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں معتبر سند سے ابن شہاب زہری کا قول ہے کہ اسمعیل (علیہ السلام) نے ایک شخص سے کچھ وعدہ کیا تھا پھر وہ شخص وعدہ پر نہیں آیا تو اسماعیل (علیہ السلام) ایک برس تک اس کا انتظار کرتے رہے 1 ؎ ان آیتوں میں اسماعیل (علیہ السلام) کو وعدہ کا سچا جو فرمایا اس کی تفسیر اس قصہ سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے یہ محمد بن مسلم ابن شہاب سبا میں آئے گا کہ پانی کا بند ٹوٹ جانے کی آفت سے جب قوم سبا کے یمنی عرب تباہ ہوگئے تو ان میں کے کچھ قبیلے یمن سے اٹھ کر مدینہ منورہ میں آن بسے یہ وہی لوگ ہیں جن کا لقب خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ میں انصار قرار پایا۔ صحیح بخاری میں سلمۃ بن الاکوع سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے ان لوگوں کو بنی اسماعیل (علیہ السلام) کے ذکر سے اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا ہے کہ تمام عرب کے باپ اسماعیل (علیہ السلام) کو تو یہ حال تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ نماز کے وقت یہ لوگ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے اور زکوٰۃ کو جرمانہ جانتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو اولاد اسماعیل کہتے ہیں۔ اسماعیل (علیہ السلام) نے اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کے حکم کے موافق اپنی بی بی کو طلاق دے دی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے صحیح بخاری میں ہے 2 ؎۔ کعبہ کے بنانے کے وقت پتھر ڈھو ڈھو کر لائے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بری مدد دی یہ ذکر بھی صحیح بخاری کی اسی روایت میں ہے میں آئے گا اسی واسطے ان آیتوں میں فرمایا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کی عادتیں اللہ کو پسند تھیں۔
1 ؎ فتح الباری ص 573 ج 2 باب من امربانجاز الوعد الخ۔
2 ؎ صحیح بخاری ص 475 ج 1 کتاب الانبیاء۔
Ayahs 19:56–5756۔ 57:۔ حضرت ادریس ( علیہ السلام) کے نسب میں علماء کا بڑا اختلاف ہے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول جو بغیر سند کے معلق طور پر بیان کیا گیا ہے 1 ؎۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادریس ( علیہ السلام) اور الیاس ایک ہی پیغمبر کے نام ہیں اس صورت میں حضرت ادریس گویا بنی اسرائیل میں کے ایک پیغمبر ہیں کیونکہ حضرت الیاس تو حضرت ہارون کے پڑپوتے ہیں بعضے مفسر کہتے ہیں کہ حضرت ادریس حضرت آدم ( علیہ السلام) کے پوتے ہیں اس آخری قول کو اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے کیونکہ اس معلق قول کی سند قوی نہیں ہے اسی طرح حضرت ادریس کے زندہ آسمان پر جانے میں اور اب ان کے زندہ ہونے میں اور اس میں کہ سورج پر جو فرشتہ متعین ہے اس سے ان کی دوستی ہو کر اس کے ذریعہ آسمان پر گئے۔ علماء کے مختلف قول ہیں حاصل کلام یہ ہے کر مرفوع حدیث تو اس باب میں کوئی نہیں ہے مگر اس اختلاف کے رفع کرنے میں مجاہد بن جبیر کا یہ قول قوی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ادریس زندہ آسمان پر اٹھا لیے گئے 2 ؎۔ لیکن اس اسرائیلی روایت کے متعلق حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے۔ کیونکہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ مجاہد نے تین دفعہ سارا قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے تفسیر سیکھنے کی غرض سے پڑھا ہے اور یہ بھی اوپر گزر چکا ہے کہ متقدمین مفسرین میں سے سفیان ثوری نے یہ فیصلہ کردیا ہے تفسیر کے باب میں مجاہد کا قول سب پر فوقیت رکھتا ہے۔ رہا مجاہد کے قول میں یہ احتمال کہ مجاہد کی تفسیر کے باب میں جو کچھ روایت ہے وہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے اور تفسیر ابن ابی حاتم میں خود حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو اس بات میں روایت ہے وہ کعب احبار کا قول ہے اور اہل کتاب سے روایت کا لینا بخاری وغیرہ میں جو روایت ہے 3 ؎۔ اس سے منع ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حرام حلال کے باب میں اہل کتاب سے روایت کا لینا منع ہے جہاں یہ منع کی روایت حدیث بخاری میں ہے وہیں ابن بطال وغیرہ شارحین بخاری نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ اس طرح کے تاریخی واقعات اس منع میں داخل نہیں ہے 4 ؎۔ خود اللہ تعالیٰ نے فاسئلوا اھل الذکر فرما کر اسی طرح کی تاریخی روایت کا اہل کتاب سے لینا جائز فرمادیا ہے کس لیے کہ اصلی شان نزول آیت فاسئلوا ھل الذکر کی یہی ہے کہ جس کو شبہ ہو وہ اہل کتاب سے پوچھ لے کہ رسول ہمیشہ سے آدمی ہی آتے رہے ہیں فرشتے کبھی نہیں آئے ادریس (علیہ السلام) کے ذکر سے اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کو یوں قائل کیا ہے کہ یہود کو یہ لوگ اہل کتاب مانتے ہیں اور یہود کی کتاب توریت میں ادریس (علیہ السلام) کے انسان اور نبی ہونے کا ذکر موجود ہے پھر یہ لوگ کس سند سے یہ اعتراض پیش کرتے ہیں کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا فرشتہ ہونا چاہیے۔
1 ؎ صحیح بخاری 470 ج کتاب النبیاء۔
2 ؎ تفسیر ابن کثیرص 162 ج 3۔
3 ؎ صحیح بخاری ص 194 ج 2۔
4 ؎ فتح الباری ص 697 ج 6۔
Ayah 19:5858:۔ یوں تو سب اولاد آدم (علیہ السلام) ہیں مگر شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے دس پیغمبروں کا ذکر جو فرمایا ہے نوح کے سلسلہ میں ہیں جیسے حضرت ابراہیم بعضے پھر حضرت ابراہیم کے سلسلہ میں ہیں جیسے حضرت موسیٰ اور ہارون اور زکریا و یحییٰ عیسیٰ اس سلسلہ کا ذکر اس آیت میں ہے اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ صحیح بخاری میں معلق اور پھر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کی پوری سند تفسیر جو یلبہ میں ضحاک کے سلسلہ سے ہے جو بالکل ضعیف ہے 1 ؎۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کے قول کی پوری سند تفسیر ابن ابی حاتم اور مسند عبد بن حمید میں ہے یہ سند بھی قوی نہیں ہے 2 ؎۔ اس واسطے جس طرح اکثر مفسرین نے حضرت ادریس ( علیہ السلام) کی حضرت آدم ( علیہ السلام) کے سلسلہ میں رکھ کر ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) کا دادا بتلایا ہے یہی قول قوی معلوم ہوتا ہے اسی واسطے امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کو معلق طور پر بیان کیا ہے یعنی طور پر بیان نہیں کیا حاصل مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ جن انبیاء کا ذکر اس سورة میں کیا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نائب بنانے کے لیے پسند کیا ہے اور ان کو نبوت کی نعمت دی ہے مکہ کے مشرک یہ جو کہتے ہیں کہ اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا یہ ان کی نادانی ہے کیونکہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے صحیفوں اور کتابوں میں جب یہ لوگ عذاب کی آیتیں سنتے ہیں تو عذاب سے ڈر کر سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور رونے لگتے ہیں یہ سب سن کر اس کان سے اڑا دیتے ہیں جس کا خمیازہ ایک دن ان کو بھگتنا پڑے گا۔ مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں تین سو تیرہ اور بعضی روایتوں کے موافق تین سو پندرہ رسول ہیں 3 ؎۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 4 ؎۔ سورة الانعام میں یہ بھی گزر چکا نبی کتنے اور ان میں رسول کتنے ہیں اور قرآن شریف میں کتنے نبیوں کا ذکر آیا ہے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پہلا رسول کہتے ہیں چناچہ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوسعید خدری ؓ کی روایت اس باب میں کئی جگہ گزر چکی ہے 5 ؎۔ (وممن ھدینا واجتبینا) میں انبیاء کی امتوں کے وہ لوگ بھی داخل ہیں جنہوں نے انبیاء کی نصیحت کو مان کر ہدایت پائی اور اللہ تعالیٰ کی پسند کے موافق کام کیے چناچہ سورة النساء کی آیت ومن یطع اللہ والرسول سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
1 ؎ فتح الباری ص 224 باب وان الیاس لمن المرسلین (کتاب الانبیاء)
2 ؎ فتح الباری ص 224 ج 3 میں اس کی سند کو حسن بتایا ہے۔ (ع ‘ ح )
3 ؎ تفسیر ہذاص 397 اور 159 ج 2۔
4 ؎ فتح البیان ص 661 ج 1۔
5 ؎ مثلا جلد 2 ص 269 میں بروایت حضرت انس ؓ ۔
Ayahs 19:59–6059۔ 60:۔ اوپر انبیاء اور نیک لوگوں کا ذکر تھا اس آیت میں فرمایا کہ ان نیک لوگوں کی جگہ ایسے ناخلف آئے کہ نماز جیسی چیز کو جس کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے انہوں نے یا تو بالکل چھوڑ دیا یا بعضوں نے ان کو ادا بھی کیا تو شریعت کے حکم کے موافق ادا نہیں کیا اور دنیا کے عیش و آرام کے پیچھے ایسے سرگرداں ہوئے کہ نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی کچھ پروا نہ کی پھر فرمایا ایسے لوگ عقبیٰ میں بڑا نقصان اٹھائیں گے کیونکہ علم الٰہی میں ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ قرار پاچکا ہے۔ ہاں ان میں سے جو لوگ عقبیٰ کی باتوں کا پورا یقین کرکے اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ اور آگے کو نیک عمل کریں تو وہ لوگ بہشت میں جائیں گے اور ان کے نیک عملوں کی جزا میں کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ مسند امام احمد صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے ﷺ نے فرمایا جن ناخلف لوگوں کا ذکر آیت میں ہے وہ اس امت میں 20 ھ کے بعد ہوں گے 1 ؎۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 2 ؎۔ اس حدیث میں بڑی پیشین گوئی ہے کیونکہ 60 ھ کے بعد کا زمانہ یزید بن معاویہ کا خلافت کا زمانہ ہے جس میں حضرت حسین ؓ کی شہادت کا معاملہ اہل مدینہ پر چڑھائی کے قوت اہل مدینہ اور مدینہ کی بےحرمتی کا معاملہ ابن زبیر پر چڑھائی کے وقت کعبہ کی بےحرمتی کا معاملہ یزید کے شراب پینے اور نماز چھوڑ دینے کا معاملہ 3 ؎۔ یہ سب معاملے ایسے ہی ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں خلاد بن راع کا قصہ ابوہریرہ ؓ کی وایت سے ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خلاد بن رافع ؓ نے نماز میں رکوع سجدہ اچھی طرح نہیں کیا تھا اللہ کے رسول ﷺ نے خلاد ؓ سے کہا تو پھر نماز پڑھ کیونکہ تو نے نماز نہیں پڑھی 4 ؎۔ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے بےوقت کی نماز کو مردہ نماز فرمایا ہے 5 ؎۔ ان حدیثوں کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ رکوع سجدہ اچھی طرح نہ کرنے کی نماز اور بےوقت کی نماز اضاعوا الصلوٰۃ کے حکم میں داخل ہے جس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ناخلف لوگوں سے بعضے لوگوں نے نماز کو بالکل چھوڑ دیا اور بعضوں نے اس کو شریعت کے حکم کے موافق ادا نہیں کیا۔
1 ؎ الدر المنثورص 277 ج 4۔
2 ؎ مستدرک حاکم ص 374 ج 2 کتاب التفسیر۔
3 ؎ یزید کے متعلق ایسی باتیں شہرت ضرور پاگئی ہیں اور شاید خاص مقاصد کے تحت خود یزید کے زمانے میں بھی کرنے والوں نے ایسا مشہور کردیا تھا لیکن اس کی تردید حضرت علی ؓ کے صاحمزادے محمد بن حنفیہ نے ہی کردی تھی جنہوں نے شہادت دی کہ یزید نماز کا پابند ہے اور یراب نوش نہیں۔ ملاخطہ ہو البدایہ والہنایہ ص 233 ج 8 (محمد عطاء اللہ حنیف) ۔
4 ؎ صحیح بخاری ص 109 ج 1 باب امرالنبی ﷺ الذی لایتم رکوعہ بالا عادۃ۔
5 ؎ صحیح مسلم ص 231 ج 1 باب کر اہتیہ تاخیر الصلوٰۃ الخ۔
Ayahs 19:61–6361۔ 63:۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جنت میں نیک لوگوں کے لیے جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ان آیتوں میں جنت کو بن دیکھیں نہ جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں بعض بن دیکھی چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگرچہ آدمی ان کو آنکھوں سے نہیں دیکھتا لیکن ان کا حال کانوں سے سنا ہوا ہوتا ہے یا کبھی دل میں ان کا خیال آجاتا ہے جنت ایسی انوکھی چیز ہے جو دیکھی نہ سنی نہ کبھی اس کا خیال کسی کے دل میں گزارا 2 ؎۔ ابن ماجہ کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی صحیح روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر ایک شخص کا ایک ٹھکانا جنت میں اور ایک دوزخ میں پیدا کیا ہے جو لوگ ہمیشہ کے لیے دوزخی قرار پائیں گے ان کے جنت میں کے لاوارث خالی مکانوں کا وارث جنتیوں کو بنا دیا جائے گا۔ جنت کو میراث کی چیز جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ نیک لوگوں سے بن دیکھی جنت کے دینے کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ایک دن اس وعدہ کا ظہور بلاشک ہونے والا ہے پھر فرمایا یہ جنت وہ ہے جہاں سوائے سلام علیک کی آواز کے اور کوئی ایسی آواز جنتیوں کے کان میں نہ آئے گی جو ان کے کانوں کو بری لگے پھر فرمایا وہاں صبح وشام ان کو طرح طرح کی نعمتیں کھانے کو ملیں گے جنت میں اگرچہ صبح شام نہیں ہے صبح صادق سے لے کر سورج کے نکلنے تک کا جیسا ٹھنڈا وقت ہوتا ہے وہاں ہمیشہ ایسا وقت رہے گا لیکن دنیا میں لوگوں کا صبح وشام کھانا کھانے کا معمول ہے اس واسطے صبح وشام کا ذکر کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ وہاں بھی اندازہ سے یہی معمول قائم رہے گا پھر فرمایا یہ جنت ان لوگوں کی میراث ہے جو دنیا میں نیک کاموں کے کرنے اور برے کاموں سے بچنے کی عادت رکھتے ہیں جنتیوں کی سلام علیک کا ذکر سورة یسین میں اور سورة الواقعہ میں آئے گا مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ جنت میں رات دن نہ ہوگا ہمیشہ صبح کا سا نورانی وقت ہے گا۔
1 ؎ تفسیر ہذاص 12 ج 3۔
2 ؎ سنن ابن ماجہ ص 332 باب صنقہ الجنۃ۔
Ayahs 19:64–6564۔ 65:۔ صحیح بخاری میں 1 ؎ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دفعہ وحی لے کر آنے میں جبرئیل (علیہ السلام) کو کچھ دیر لگی اس کے بعد جب وحی لے کر جبرئیل (علیہ السلام) آئے تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان سے دیر کی شکایت کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر اس شکایت کا یہ جواب جبرئیل (علیہ السلام) کو بتایا کہ اللہ کے فرشتے آسمان پر سے زمین پر اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نہیں اتر سکتے جبرئیل کی طرف کا یہ کلام قرآن شریف میں اس طرح داخل ہے جس طرح ایاک نعبد وایاک نستعین بنی آدم کی طرف کا کلام قرآن شریف میں داخل ہے پھر فرمایا آسمان و زمین میں جب کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے تو وحی میں جو کبھی دیر ہوجاتی ہے وہ کسی بھول چوک کے سبب سے نہیں ہوتی بلکہ کسی مصلحت سے ہوتی ہے مثلا جیسے روح اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے قصہ کی وحی میں وعدہ کے وقت انشاء اللہ کا لفظ یاد رکھنے کی مصلحت سے دیر ہوئی پھر فرمایا جب اللہ تعالیٰ ایسا بےنظیر بادشاہ ہے کہ نہ آسمان و زمین میں کوئی ہم نام ہے نہ اس کی سی صفتیں اور کسی میں پائی جاتی ہیں اور آسمان و زمین میں کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں تو خالص اسی کی عبادت زیبا ہے اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑے وبال کی بات ہے پھر فرمایا جاڑے کے وضو روزہ کی پیاس کی تکلیف یا اسی طرح کی اور کوئی تکلیف عبادت الٰہی میں پیش آوے تو اس پر صبر کرنا چاہیے کیونکہ صبر کا اجر بہت بڑا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ دینی عبادت میں آدمی کو طرح طرح کی تکلیفیں پیش آتی رہتی ہیں ! اسی واسطے عبادت کے ساتھ ان تکلیفوں پر صبر کرنے کا ذکر فرمایا صحیح مسلم کے حوالہ سے صہیب رومی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 2 ؎ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے صبر کو ایمان کی نشانی فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دین کے کاموں میں جو تکلیفیں پیش آتی ہیں ان پر صبر کرنا ایمان دار آدمی کا کام ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 691 ج 6۔
2 ؎ مثلا ص 452 ج 2۔
Ayahs 19:66–6766۔ 67:۔ منکرین حشر میں سے جس کسی کو صاحب عقل ہونے کا دعویٰ ہو اس سے مثال کے طور پر پوچھا جائے کہ جب دنیا میں مثلا ریل نہیں تھی تو پہلے پہل جس نے ریل نکالی اس کو یہ سوچنا پڑا ہوگا کہ انجن کس طرح بنایا جائے پانی کا اندازہ اتنا ہو اور آگ کا صحیح تجربہ میں آگیا اور ایک مدت سے ریل چلتی ہے اب اگر فرض کیا جائے کہ دنیا بھر کی ریل ناپید ہوجائے تو جن لوگوں کے اندازہ میں ریل کی باتیں ہیں ان کو پھر ریل کے بنا دینے میں کیا ایسی مشکل پیش آئے گی جیسے نئے سرے سے ریل کے بنانے میں پیش آئی تھی کوئی صاحب عقل یہ نہیں کہہ سکتا کہ صحیح اندازہ سے ایک کام ہو کر مدت تک اس کام کی شد بد رہ چکی ہو اور کام کرنے والوں کو پورا اور صحیح تجربہ حاصل ہوچکا ہو اب دوبارہ وہ کام وہی کام کرنے والے کریں گے تو ان کو پہلے تجربہ کی مدد سے اس کام کے کرنے میں کچھ آسانی نہ ہوگی اگر آسانی ہوگی تو اللہ تعالیٰ نے اس حالت میں دنیا کو پیدا کردیا کہ سوائے اس کی ذات کے کچھ بھی نہ تھا اور مدت تک اس نے اپنی قدرت سے دنیا کی ریل گاڑی کو چلایا اب بعد اس حالت کے نابود کردینے کے اس کو پھر اس حالت کا پیدا کردینا مشکل ہے۔ نہیں نہیں۔ کچھ مشکل نہیں بلکہ جس کو کچھ تجربہ ہے اس کے نزدیک نہایت سہل ہے دنیا کی پہلی حالت سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ایک کام ایک دفعہ کیا جا کر تجربہ میں آجائے تو دوبارہ اس کام کا کرنا سہل ہوجاتا ہے اس واسطے ثبوت حشر میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر فرمایا ہے کہ جس نے پہلے دنیا کو پیدا کیا ہے وہی پھر پیدا کرے گا اور اس کو دوسری دفعہ کا پیدا کرنا آسان ہے (وھو الذی یبدء الخلق ثم یعیدہ وھو اھون علیہ) غرض جو سورة الروم میں فرمایا وہ گویا ان آیتوں کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس صاحب قدرت نے پانی جیسی پتلی چیز سے ماں کے پیٹ میں انسان کا پتلہ بنا کر اس پتلہ میں روح پھونک دی اس کو آدم (علیہ السلام) کے پتلہ کی طرح انسان کے دوبارہ پیدا کرنے کے وقت مٹی کا پتلا بنانا اور اس پتلہ میں روح پھونک دینا کیا مشکل ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ پیدا کرنے کی خبر اپنے کلام پاک میں انسان کو سنا دی لیکن انسان نے میرے کلام پاک کو جھٹلایا حالانکہ پہلی دفعہ کی پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر دوسری دفعہ کی پیدائش کو جھٹلانا انسان کو زیبا نہیں تھا اس حدیث سے منکرین حشر کی جرأت کا حال اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے اور یہ بھی سمجھ میں آسکتا ہے کہ عقبیٰ میں کلام الٰہی کے جھٹلانے کی سزا ایسے لوگوں کو بھگتنی پڑے گی۔ جسمانی حشر کے منکروں کو یہ جو شبہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی خاک رواں دواں ہوجائے گی پھر وہ خاک دوبارہ کیونکر جمع ہوجائے گی اس کا جواب سورة ق میں آئے گا کہ ان منکرین حشر کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے موافق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ پتہ لکھ لیا ہے کہ ان لوگوں کی خاک ہوا سے اڑ کر یا پانی میں بہہ کر کہاں کہاں جائے گی۔ اسی پتہ سے ہر ایک کی خاک جمع کرلی جائے گی۔ زیادہ تفصیل اس کی سورة ق میں آئے گی۔
Ayahs 19:68–7068۔ 70:۔ اوپر منکرین حشر کو عقلی طور پریوں قائل کیا گیا تھا کہ ان کے انکار سے اللہ تعالیٰ کا انتظام بدل نہیں سکتا جس نے اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ ضرور سزا وجزا کے لیے ایک دن سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے لگے اور جن جن شیاطینوں کے بہکانے سے یہ منکر حشر دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں ان کے ساتھ ان کو بھی زندہ کیا جائے ان میں سے بڑے بڑے سرکشوں کو چھانٹا جا کر دوزخ میں پہلے جھونکا جائے گا اور جو سرکش لوگ دوزخ کے پہلے جھونکے کے قابل ہیں ان کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ جو شخص خود بھی گمراہی کے کام کرے گا اور دوسروں کو بھی بہکائے گا اس کو دوہرا عذاب بھگتنا پڑے گا 1 ؎۔ جو لوگ زیادہ عذاب کے مستحق ٹھہر کر چھانٹے جانے اور دوزخ کے پہلے جھونکے کے قابل آیتوں میں ذکر کیے گئے ہیں۔ تفسیری طور پر ان کی مثال اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 341 ج 2 من سن سنتہ حسنتہ الخ۔
Ayahs 19:71–7271۔ 72:۔ فرقہ معتزلہ نے اس آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ کبیرہ گناہوں کے گناہ گار ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں سب آدمیوں کا پل صراط پر سے گزرنے کا ذکر فرما کر فقط متقیوں کی نجات پانے کا ذکر فرمایا ہے اور کبیرہ گناہ کے گناہ گار کو متقی کوئی نہیں کہہ سکتا اس لیے پل صراط پر سے جب وہ کٹ کٹ کر دوزخ میں گریں گے تو ان کی نجات کا ذکر قرآن شریف میں نہیں ہے اہل سنت نے جواب دیا ہے کہ صحیح حدیثوں سے گناہ گار کلمہ گو لوگوں کا ملائکہ انبیاء صالحین کی شفاعت کے سبب سے دوزخ سے نکل کر جنت میں جانا ثابت ہوچکا ہے 1 ؎۔ اس لیے آیت میں لفظ متقی کی تفسیر شرک سے بچنے کی ہے گناہ کے بچنے کی تفسیر جو فرقہ معتزلہ نے کی ہے وہ صحیح حدیثوں کے مخالف ہے اور خود صاحب وحی ﷺ کے مخالف کسی کی تفسیر صحیح نہیں قرار پاسکتی اس لیے فرقہ معتزلہ کی تفسیر غلط ہے اور صحیح تفسیر وہی ہے جس کا ذکر صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے وہ ضرور دوزخ سے نکل کر جنت میں جائے گا۔ کبیرہ گناہ کے سبب سے کوئی کلمہ گو ہمیشہ دوزخ میں ہرگز نہ رہے گا۔ چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں انس بن مالک سے اور صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں صاف یہ ذکر آیا ہے کہ کوئی کلمہ گو ہمیشہ دوزخ میں نہ رہے گا 2 ؎۔ اگرچہ وان منکم الا واردھا کی تفسیر میں سلف کے کئی قول ہیں لیکن معتبر سند سے ترمذی امام احمد اور مستدرک حاکم میں عبداللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے واردھا کی تفسیر پل صراط پر گزرنے کی فرمائی ہے 3 ؎۔ صاحب وحی ﷺ کی اس تفسیر کے بعد سلف کا اختلاف خود بخود رفع ہوجاتا ہے اس واسطے حافظ ابو جعفر ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس تفسیر کو معتبر ٹھہرایا ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے پل صراط پر سب لوگوں کا گزرنا اللہ تعالیٰ کے انتظام میں قطعی طور پر ٹھہر چکا ہے اب اس میں پرہیز گار لوگ تو صحیح سالم پل صراط سے گزر کر جنت میں چلے جائیں گے اور گناہ گار اوندھے منہ دوزخ میں جا پڑیں اور مشرک لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے کیونکہ سورة النساء میں گزر چکا ہے کہ مشرک کی بخشش نہ ہوگی صحیح مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے دوسری روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوزخ میں اگر کوئی پتھر پھینکا جائے تو ستر برس میں اس کی تہ تک پہنچے گا 4 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ گہرائی کے سبب سے دوزخ کی شکل تنور کی سی ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے دوسری روایت ہے کہ دوزخ کے منہ پر جو پل ہوگا اسی سے گزر کر سب جنت میں جائیں گے سب سے پہلے خاتم الانبیاء ﷺ اور آپ کی امت کو اس پل پر سے گزرنے کا حکم ہوگا۔ اس پل کو پل صراط کہتے ہیں ابوسعید خدری روایت کے طور پر یہ کہا کرتے تھے کہ پل صراط بال سے باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے 5 ؎۔ شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں ان ہی روایتوں کا خلاصہ بیان کیا ہے پل صراط کے تلوار سے تیز ہونے کی روایت طبرانی میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی ہے اور اس کی سند بھی معتبر ہے اسی مضمون کی ایک روایت سلمان فارسی سے مستدرک حاکم میں بھی ہے جس کی سند 6 ؎ معتبر اور اللہ کے رسول ﷺ تک پوری ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 1107 ج 2 باب قول اللہ وجوہ یومئذ ناضرۃ الخ۔
2 ؎ صحیح مسلم ص 109 ج 1 باب ائبات الشفاعۃ الخ۔
3 ؎ تفسیر ابن کیثرص 132 ج 3۔
4 ؎ صحیح مسلم ص ا 38 ج 1 باب جہنم اعاذنا اللہ عنہا۔
5 ؎ فتح الباری ص 206 ج 2 بحوالہ صحیح مسلم باب الصراط جسر علیٰ جہنم۔
6 ؎ الترغیب ص 266 ج 2 فصل فی الحشر۔
Ayahs 19:73–7473۔ 74:۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ لوگ دنیا کا پیدا کیا جانا بلا نتیجہ گنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے انتظام میں دنیا کے فنا ہونے کے بعد نیک وبد کی جزاو سزا کا فیصلہ جو ضروری ٹھہرا ہے اس کو یہ لوگ جھٹلاتے ہیں اسی واسطے جزا وسزا کی قرآن کی آیتیں جب ان کو سنائی جاتی ہیں تو تنگ دست ایماندار لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم حق پر ہوتے اور ہم ناحق پر ہوتے تو تم دنیا میں ایسے تنگدست اور ہم اس طرح کے خوشحال نہ ہوتے کیونکہ دنیا کی خوشحالی اللہ تعالیٰ کی مہربانی کی نشانی ہے اللہ نے اس کا جواب یہ دیا کہ ان سے پہلے بڑے بڑے خوشحال منکر حشر لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیے جا چکے ہیں جس سے ہر ایک سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ اگر حشر کا انکار قابل سزا جرم نہ ہوتا اور دنیا کی خوشحالی اللہ کی مہربانی کی نشانی ہوتی تو بلا جرم ایسے قابل مہربانی لوگوں کو اللہ تعالیٰ طرح طرح کے عذابوں سے کبھی ہلاک نہ کرتا کس لیے کہ اس طرح کا ہلاک کرنا ظلم میں داخل ہے اور ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ منکر شریعت لوگ عقبیٰ کے اجر کو نہیں مانتے اس لیے لوگوں کی نیکی کے بدلہ میں دنیا کی کچھ خوش حالی دنیا میں ہی ان کو مل جاتی ہے 1 ؎۔ منکر شریعت لوگوں کی دنیا کی خوشحالی کا سبب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔
1 ؎ صحیح مسلم ص 374 ج 2 باب جزاء المؤمن بحسناتہ فن الدنیا الخ۔
Ayah 19:7575:۔ منکرین حشر اپنی دنیا کی خوشحالی کو اپنے حق میں بہتر جو سمجھتے تھے اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ یہ دنیا کی خوشحالی ان لوگوں کے حق میں کچھ بھلائی کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ان کی حق میں ایک وبال کی چیز ہے کیونکہ اس خوشحالی کی حالت میں جس قدر ان کی عمر بڑھے گی اپنی خوشحالی کے نشہ میں اسی قدر یہ لوگ گمراہی کے کام زیادہ کریں گے جس کے وبال میں یا تو دنیا کا کوئی عذاب ان پر آجائے گا یا اگر ایسے حال میں یہ لوگ مرگئے تو قیامت کے دن ان کو معلوم ہوجائے گا کہ جن تنگ دست ایمانداروں سے اپنے آپ کو یہ لوگ اچھا جانتے تھے ان کا کیا انجام ہوا صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎ کہ قیامت کے دن بڑے بڑے مالدار منکر شریعت لوگوں کو جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کی جس خوشحالی کے نشہ میں تم اس عذاب کو جھٹلاتے تھے اس عذاب کے آگے وہ خوشحالی کچھ تم کو یاد ہے تو وہ لوگ قسمیں کھا کر جواب دیں گے کہ اس عذاب کے آگے ہم کو وہ دنیا کی خوشحالی کچھ بھی یاد نہیں اسی طرح بڑے بڑے تنگ دست جنتیوں سے پوچھیں گے کہ جنت کی ان نعمتوں کے آگے تم کو دنیا کی تنگدستی کچھ یاد ہے جس پر تم نے صبر کیا اور اس صبر کے اجر میں تم کو جنت کی یہ نعمتیں ملیں تو یہ بھی قسمیں کھا کر جواب دیں گے کہ نہیں۔ اس حدیث سے مالدار نافرمانوں اور تنگ دست ایمانداروں کا عقبیٰ کے انجام کا حال اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے مشرکین مکہ کے بڑے بڑے مالدار نافرمانوں پر دنیا اور آخرت میں جو عذاب بدر کی لڑائی کے وقت آیا انس بن مالک کی صحیح بخاری ومسلم کی روایت سے اس کا حال کئی جگہ گزر چکا ہے 2 ؎۔
1 ؎ دیکھئے ص 193 ج 2۔
2 ؎ مثلا ص 23 ج 3۔
Ayah 19:7676:۔ اوپر ان لوگوں کا ذکر تھا جن کی گمراہی قرآن شریف کی آیتیں سن کر دن بدن اور بڑھتی جاتی تھی اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے قرآن کی نصیحت سے دن بدن زیادہ نیک ہدایت پائی جیسے مثلا ہجرت سے پہلے مکہ میں فقط نماز فرض تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اچھی طرح ادا کرنے کی انہیں توفیق دی تھی ہجرت کے بعد جس زکوٰۃ روزوں اور حج کی آیتیں نازل ہوئیں تو ان لوگوں کے نیک عمل توفیق الٰہی کے سبب سے اور بڑھ گئے پھر فرمایا یہی نیک عمل ایسی چیز ہیں جن کا بدلہ بارگاہ الٰہی سے بڑھ جائیں گے اور عقبیٰ میں ایسے لوگوں کو بہت مذامت ہوگی اور بےوقت کی ندامت ان کے کچھ کام نہ آئے گی۔ معتبر سند سے مسند بزار میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مال اور اولاد دنیا میں چھوڑ جانے کی چیزیں ہیں ہاں جو عمل آدمی نے عمر بھر کیے ہیں وہ مرنے کے بعد اس کے ساتھ جانے کی چیز ہے 1 ؎۔ مسند امام احمد اور ابوداؤد میں براء بن عازب ؓ سے صحیح روایت ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ نیک عمل اچھی صورت اور بد عمل بری صورت بن کر قبر میں ایک مردہ کے پاس آتے ہیں 2 ؎۔ مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو لوگ دنیا میں عمر بھر نیک عمل کرتے رہیں گے وہ بھی قیامت کے دن یوں پچھتائیں گے کہ انہوں نے نیک عمل اور زیادہ کیوں نہیں کیے جو آج کے روز زیادہ اجر ملتا اس حدیث سے لوگوں کے پچھتانے کا حال جو عمر بھر برے کاموں میں لگے رہے اور اوپر کی حدیثوں سے مال واولاد کا دنیا میں چھوڑ جانے اور نیک عمل کا مرنے کے بعد کام آنے کا حال اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔
1 ؎ الترغیب دالترہیب ص 237 ج 2 باب الزہدالخ۔
2 ؎ مشکوٰۃ ص 142 باب مایقال عند من حضرہ الموت فصل ثالث۔