18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsاحسن التفاسیر

Ayahs 18:1–5

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

سب تعریف خدا ہی کو ہے جس نے اپنے بندے (محمد ﷺ پر (یہ) کتاب نازل کی اور اس میں کسی طرح کی کجی اور پیچیدگی نہ رکھی۔

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

(بلکہ) سیدھی (اور سلیس اتاری) تاکہ (لوگوں کو) عذاب سخت سے جو اسکی طرف سے (آنے والا) ہے ڈرائے اور مومنوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں خوشخبری سنائے کہ ان کے لیے (ان کے کاموں کا) نیک بدلہ (یعنی بہشت) ہے

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں وہ ابد الآباد رہیں گے۔

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو بھی ڈرائے جو کہتے ہیں کہ خدا نے (کسی کو) بیٹا بنا لیا ہے۔

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

ان کو اس بات کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ ان کے باپ دادا ہی کو تھا (یہ) بڑی سخت بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے (اور کچھ شک نہیں کہ) یہ جو کچھ کہتے ہیں محض جھوٹ ہے۔

1۔ 5:۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے سمرہ بن جندب کی حدیث سورة بنی اسرائیل کی تفسیر میں گزر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ الحمد للہ کا کلمہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے 1 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی بعض سورتوں کے اول میں اور بعض کے آخر میں یہ کلمہ اس لیے فرمایا ہے کہ یہ اللہ کا پیارا کلمہ اس کے نیک بندوں کے منہ سے نکلے اور ان کا عقبے کا بھلا ہوجائے مشرکین مکہ یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ نے خود بنا لیا ہے انزل علی عبدہ الکتب سے اللہ تعالیٰ نے ان کو چھٹلایا اور فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو اس نے اپنے بندے اور رسول محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے جس میں کسی طرح کی کچھ کجی نہیں عبارت اس کی ایسی ہے جس کو منکر لوگ بھی جادو کے اثر کی ایک چیز بتلاتے ہیں غیب کی خبریں اور میں کئی ایسی سچی ہیں جو پہلی آسمانی کتابوں میں ہیں پہلی کتابوں کی صداقت اس میں ایسی ہے جو اس کے کلام الٰہی ہونے کی پوری گواہی دیتی ہے۔ معتبر سند سے مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی آیتیں سن کر جب ولید بن مغیرہ کے دل پر اثر ہوا تو اس نے کہا اس کلام میں داود کا سا اثر معلوم ہوتا ہے 2 ؎۔ یہ ولید بن مغیرہ مشرکین مکہ میں بڑا لسان مشہور تھا زیادہ حال اس کا سورة المدثر میں آوے گا۔ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ جس طرح توریت میں تھا اسی طرح قرآن کے آگے کی آیتوں میں ہے منکر قرآن لوگ قرآن کی عبادت میں جادو کا اثر جو بتلاتے تھے اس کا مطلب حضرت عبداللہ بن عباس کی اوپر کی روایت سے اور قرآن میں پہلی آسمانی کتابوں کی صداقت جو ہے ان قصوں سے اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے سب انبیاء کی نبوت کی مثال ایک عالیشان خوبصورت مکان کی بیان کر کے یہ فرمایا ہے کہ اس مکان میں ایک آخری اینٹ کی کسر تھی جو کسر میرے نبی ہونے کے بعد پوری ہوگئی 3 ؎۔ قرآن کو قیما جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف ایسا ٹھیک اتارا جس سے نبوت کا عالیشان محل ٹھیک ہوگیا اب آگے قرآن شریف کے نازل فرمانے کا مقصد بیان فرمایا کہ یہ قرآن نافرمان لوگوں کو دوزخ کے سخت عذاب کا ڈر اور فرمانبر دار لوگوں کو جنت کی خوشخبری سنا دینے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے کئی جگہ روایتیں گزر چکی ہیں کہ نیک عمل کا اجر دس گنے سے لے کر سات سو تک اور بعض نیکیوں کا اجر اس سے بھی زیادہ ہے 4 ؎۔ وہی حدیثیں اجرا حسنا کی گویا تفسیر ہیں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید خدری ؓ کی روایتیں کئی جگہ گزر چکی ہیں کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد اللہ کے فرشتے جنتیوں کو ہمیشہ صحت و تندرستی سے جنت میں رہنے کی خوشخبری سنائیں گے 5 ؎۔ یہ روایتیں ماکثین فیہ ابدا کی گویا تفسیر ہیں پھر فرمایا جو لوگ اتنی بڑی جھوٹی بات منہ سے نکالتے ہیں کہ اللہ کو صاحب اولاد ٹھہراتے ہیں ان کے اور ان کے بڑوں کے پاس ان بےٹھکانے باتوں کی کچھ سند نہیں ہے اس لیے ان کو دوزخ کے سخت عذاب کا ڈر سنا دیا جائے۔ صحیح بخاری دوزخ کے عذاب کا جو حال معلوم ہے اگر وہ میں پورا لوگوں کے روبرو بیان کر دوں تو سوائے رونے کے لوگوں سے دنیا کا اور کام نہ ہو سکے 6 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ قرآن شریف میں جہاں کہیں دوزخ کے سخت عذاب کا آیا ہے اس کی پوری تفسیر علمائے امت کی طاقت سے باہر ہے کیونکہ دنیا کا انتظام قائم رہنے کے لیے اس کا پورا حال اللہ کے رسول نے اللہ کے حکم سے امت کے لوگوں سے بیان نہیں کیا۔ 1 ؎ الترغیب ص 28 ج 1۔ 2 ؎ تفسیر ابن کثیرص 443 ج 4۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 511 باب فضائل سیدالمرسلین۔ 4 ؎ صحیح بخاری ص 920 ج 2 باب من ہم بحسنتہ اوسیتہ۔ 5 ؎ مشکوٰۃ ص 492 باب صفحتہ الجنتہ واہلہا۔ 6 ؎ مشکوٰۃ ص 456 باب قول النبی ﷺ لوتعلمون ماعلم لضحکتم قلیلا الخ۔
Ayahs 18:6–7

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اگر یہ اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو شاید تم ان کے پیچھے رنج کر کر کے اپنے تئیں ہلاک کردو گے۔

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔

6۔ 7:۔ تفسیر ابن جریر اور سیرۃ محمد ابن اسحاق میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس سورة کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے چند آدمیوں کو یہود کے پاس اس غرض سے بھیجا تھا کہ یہود کچھ مشکل باتیں قریش کو ایسی بتلا دیں جن کو قریش آنحضرت سے امتحان کے طور پر پوچھیں یہود نے تین باتیں بتلا کر یہ کہا کہ اگر ان باتوں کا جواب محمد ﷺ دے دیں تو جان لینا کہ وہ بلاشک سچے نبی ہیں ایک تو روح کا سوال تھا کہ روح کیا چیز ہے اور دوسرا یہ سوال تھا کہ وہ کون سے چند شخص ہیں جو دنیا میں جیتے جی غائب ہوگئے ہیں تیسرا یہ سوال تھا کہ وہ کون شخص ہے جس نے دنیا بھر کا سفر کیا ہے جب یہود کے سکھلانے سے قریش نے آنحضرت ﷺ سے یہ باتیں پوچھیں تو آپ نے وحی کے بھروسہ پر یہ وعدہ کیا کہ کل تک ان باتوں کا جواب دے دوں گا انشاء اللہ کہنا آپ کو اس وعدہ کے وقت یاد نہ رہا اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ کا بغیر انشاء اللہ کہنے کا وعدہ پسند نہیں آیا اس لیے پندرہ روز تک وحی نازل نہیں ہوئی وحی کے نازل نہ ہونے سے آپ ﷺ کو بہت رنج ہوا آخر سولہ دن سورة بنی اسرائیل میں کی وہ آیت جس میں روح کا حال ہے اور یہ سورة جس میں اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا حال ہے یہ دونوں باتیں نازل ہوئیں 1 ؎۔ ان باتوں کو سن کر بھی جب قریش اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اللہ کے رسول ﷺ کو بڑا رنج ہوا جس کا ذکر اس آیت میں ہے اس رنج کے دور کرنے کے لیے آخری آیت میں فرمایا کہ دنیا کے عیش و آرام کو اللہ تعالیٰ نے اسی امتحان کے لیے پیدا کیا ہے کہ بہت لوگ دنیا کی راحت کو اپنے پیدا ہونے کا مدار قرار دے کر آخرت سے مرتے دم تک بیخبر رہیں گے اور کچھ لوگ دنیا کے عیش و آرام کو ناپائیدار سمجھ کر عقبیٰ کی بہبودی کے کاموں میں لگے رہیں گے پھر اے رسول اللہ کے تمہارے رنج کے کرنے سے اللہ کے انتظام کے برخلاف تمام اہل مکہ کو کیونکر ہدایت ہوسکتی ہے صحیح بخاری ومسلم میں عمر وبن عوف ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا میں اپنی امت کی تنگدستی سے نہیں ڈرتا بلکہ اس سے ڈرتا ہوں کہ میرے بعد ان کو دنیا کی راحت ملے اور وہ دنیا کی راحت میں پھنس کر پچھلی امتوں کی طرح ہلاک نہ ہو 2 ؎۔ آخری آیت میں دنیا کی راحت کو جانچ کی چیز جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی جو حدیث ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی ایک دفعہ انشاء اللہ نہ کہنے سے رنج پہنچا تھا جنانچہ ایک روز کسی ذکر میں حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ اپنی نوے عورتوں سے مباشرت کروں گا تو نوے لڑکے خدا کی راہ میں لڑنے والے پیدا ہوں گے حضرت سیمان ( علیہ السلام) انشاء اللہ کہنا بھول گئے اس لیے ایک ہی عورت کو حمل رہا وہ بھی کچا ہی ساقط ہوگیا آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر سلیمان ( علیہ السلام) انشاء اللہ کہتے تو ضرور نوے لڑکے پیدا ہوتے 3 ؎۔ غرض آئندہ کی بات پر آدمی کو انشاء اللہ تعالیٰ کہنا ضرور ہے تاکہ اللہ کی مدد سے وہ بات پوری ہوجائے۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 71 ج 3۔ 2 ؎ تفسیر ہذاص 368 ج 2۔ 3 ؎ تفسیر ابن کثیرص 78 ج 3۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

اور جو چیز زمین پر ہے ہم اس کو (نابود کر کے) بنجر میدان کردیں گے۔

8:۔ اوپر دنیا کی زیب وزینت کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ ہم اس کو زینت ورونق کے بعد ایسا تباہ اور برباد کریں گے کہ ساری زمین ایک چٹیل میدان رہ جائے گی قتادہ کا قول ہے کہ صعید اس زمین کو کہتے ہیں جس میں کسی طرح کی روئیدگی نہ ہو صحیح مسلم میں جابر ؓ بن عبداللہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے حق میں فرمایا سو برس کے اندر ان میں سے شاذونادر کوئی زندہ رہے 1 ؎۔ صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ کی اور صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کی روایت سے جو حدیثیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بازاروں میں کپڑوں کے تھان ‘ جنگل میں کھیتیاں ‘ باغ غرض نہریں سب کچھ یوں ہی پڑا رہے گا کہ یکایک پہلے صور کی آواز سے سب مخلوقات بالکل فنا ہوجائے 2 ؎۔ صحیح بخاری میں سہل بن سعد ؓ اور صحیح سند سے شعب الایمان بیہقی میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کی جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جس زمین پر لوگوں کا حشر قائم ہوگا اس پر کھیتی باغ پہاڑ مکان دنیا کی زمین کی چیزوں میں سے کوئی چیز نہ ہوگی نہ اس زمین پر کسی گنہگار شخص نے کوئی گناہ کیا ہوگا 3 ؎۔ مطلب یہ ہے کہ یہ زمین فنا ہو کر حشر کے لیے دوسری نئی زمین پیدا ہوگی ‘ ان حدیثوں کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سو برس کے اندر مکہ کے ان لوگوں میں سے کوئی شخص باقی نہ رہے گا جو مکہ کے پہاڑوں کے دور ہٹ جانے اور ان کی جگہ کھیتی کے لیے زمین کے نکل آنے کی اور مکہ میں نہروں کے جاری ہوجانے کی تمنا رکھتے ہیں اور پھر ان کی نسل میں سے جو لوگ پہلے صور کے زمانہ میں ہوں گے کھیتیاں باغ نہریں سب کچھ چھوڑ کر مرجائیں گے اور پھر آخر یہ زمین ہی نہ رہے گی جس پر کھیتی کی جاتی ہے باغ لگائے جاتے ہیں نہریں جاری کی جاتی ہیں یہ ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے کہ ان کو ہمیشہ سرسبز رہنے والے باغوں ہمیشہ جاری رہنے والی نہروں کے قبضہ میں لانے کی تدبیر بتلائی جاتی ہے اور یہ لوگ اس سے غافل اور جھوڑ جانے کی چیزوں کی تمنا میں لگے ہوئے ہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس کی معتبر روایت کئی جگہ گزر چکی ہے 4 ؎۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا عقلمند وہ شخص ہے جو مرنے سے پہلے مرنے کے لیے کچھ سامان کر لیوے اور نادان وہ شخص ہے جو اس سامان سے عمر بھر غافل رہے اور مرنے کے بعد بہبودی کی توقع رکھے اہل مکہ میں کے جن لوگوں کی نادانی کا ذکر اوپر گزرا ان کی حالت اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے۔ 1 ؎ مشکوٰۃ ص 480 باب قرب الساعتہ۔ 2 ؎ الترغیب ص 293 کتاب البعث واہوال یوم القیامتہ۔ 3 ؎ الترغیب صر 294 ج 2 صفل فی الحشر وغیرہ۔ 4 ؎ مثلا تفسیر ہذا جلد دوم ص 169۔
Ayahs 18:9–12

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ہماری نشانیوں میں سے عجیب تھے ؟

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ جوان غار میں جا رہے تو کہنے لگے کہ اے ہمارے پروردگار ہم پر اپنے ہاں سے رحمت نازل فرما اور ہمارے کام میں درستی (کے سامان) مہیا کر۔

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے غار میں کئی سال تک ان کے کانوں پر (نیند کا) کا پردہ ڈالے (یعنی ان کو سلائے) رکھا۔

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ان کو جگا اٹھایا تاکہ معلوم کریں کہ جتنی مدت وہ (غار میں) رہے دونوں جماعتوں میں سے اس کی مقدار کس کو خوب یاد ہے۔

9۔ 12:۔ ان آیتوں میں اصحاب کہف کے قصہ کی بابت پیغمبر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کھوہ والوں کا قصہ ہماری قدرت کے روبرو عجیب بات نہیں ہے کس لیے کہ آسمان و زمین کی پیدائش رات دن کا بدلنا چاند سورج اور اس کے سوا بڑی بڑی نشانیاں ہماری قدرت کی ہیں جو اصحاب کہف کے قصہ سے بھی عجیب ہیں سیرۃ محمد بن اسحاق تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں ان آیتوں کی تفسیر کے متعلق جس قدر قصہ مجاہد سے ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کہف کے معنے غار کے ہیں اور جو لوگ غار میں پہنچے عیسائی تھے روم کے بت پرست دقیانوس بادشاہ نے ان لوگوں کو عیسائی مذہب کی حفاظت کے لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا مانگی جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور وہ باوجود تلاشی کے دقیانوس کے سپاہیوں کو نظر نہ آئے اور اللہ کے حکم سے ان اصحاب کہف کو اس غار میں ایسی نیند آئی کہ تین سو برس تک ان کی آنکھ نہ کھلی جب یہ اصحاب کہف اس وقت کے لوگوں کو نظر نہ آئے تو ان لوگوں نے اصحاب کہف کے نام اور ان کے غائب ہوجانے کی تاریخ یہ سب حال ایک پتھر پر کندہ کرا کے اس غار میں وہ پتھر رکھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق اسی پتھر کے کندہ کو رقیم فرمایا ہے کیونکہ جس طرح قتیل مقتول کی جگہ بولا جاتا ہے اسی طرح رقیم مرقوم کی جگہ بولا جاتا ہے ان کے غائب ہوجانے کے زمانہ کا تو کوئی شخص اس تین سو برس کے عرصہ میں زندہ نہیں رہا کہ ان کے غائب ہوجانے کی صحیح تاریخ اس کو یاد ہوتی اس لیے اصحاب کہف کی قوم کے نئے لوگوں میں دو گروہ ہوگئے ایک گروہ ان کے غائب ہوجانے کی مدت کچھ بتلاتا تھا اور دوسرا کچھ اختلاف کے رفع ہوجانے کے لیے اللہ کے حکم سے اتنے عرصہ میں ان کی آنکھ کھلی باقی کا قصہ آگے کی آیتوں میں آتا ہے لنعلم ای الحزبین اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق دنیا میں اس گروہ کا حال ظاہر ہوجائے جس نے اس پتھر کے کندے کے موافق اس قصہ کی صحیح تاریخ یاد رکھی ورنہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ‘ چناچہ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمروبن العاص ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ 1 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 30 ج 3۔
Ayahs 18:13–16

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کے حالات تم کو صحیح صحیح بیان کرتے ہیں وہ کئی جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کو اور زیادہ ہدایت دی تھی۔

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا جب وہ (اٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی۔

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سواء اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے پر) کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے۔

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سواء عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کر دے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا۔

13۔ 16:۔ اوپر مختصر طور پر قصہ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اس کی تفصیل بیان فرمائی۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے یہود کے سکھانے سے قریش نے تم سے ان چند جوان شخصوں کا قصہ جو پوچھا ہے جو جیتے جی غائب ہوگئے وہ صحیح قصہ یوں ہے کہ ان چند جوانوں کی ساری قوم تو بت پرست تھی مگر یہ چند جوان اللہ کی وحدانیت اور عیسائی دین پر قائم تھے پھر فرمایا جب کہ بت پرست بادشاہ دقیانوس نے بت پرستی اختیار کرنے کے لیے ان جوانوں کو بلا کر اپنے سامنے کھڑا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ثابت قدمی بڑھا دی اور ان کے دلوں کو خوب مضبوط کردیا جس سے انہوں نے دقیانوس کو یہی جواب دیا کہ ہم سوا اللہ تعالیٰ کے بتوں کے معبود ہونے کا خلاف عقل اقرار ہرگز زبان پر نہیں لاسکتے کیونکہ یہ بات تو ہر ایک کی سمجھ میں آتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا تو اس کے شکریہ میں انسان پر اکیلے اللہ کی تعظیم واجب ہے ہماری قوم کے لوگ اللہ کی تعظیم میں اوروں کو جو شریک کرتے ہیں ان کے پاس اس کی کوئی ایسی سند نہیں جو ہر ایک کی سمجھ میں آئے پھر بےسند بات کو دین ٹھہرانا اللہ پر یہ جھوٹ باندھنا ہے کہ یہ بےسند دین اللہ تعالیٰ کا ٹھہرایا ہوا ہے دنیا کے حاکموں پر کوئی جھوٹ باندھے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں فرق ڈالے اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ گار نہیں 1 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ بےسند شرک میں پھنسنا اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں۔ مجاہد کے قول کے موافق اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ ان جوانوں کی یہاں تک کی باتیں سن کر دقیانوس نے ان جوانوں کی یہاں تک کی باتیں سن کر دقیانوس نے ان جوانوں سے کہا کہ تمہاری جوانی پر مجھ کو ترس آتا ہے اس واسطے میں تمہارے قتل کرانے میں جلدی نہیں کرتا لیکن تم کو مہلت دیتا ہوں اگر اب مہلت کے بعد تم نے قوم کا مذہب اختیار نہیں کیا تو تم ضرور قتل کردیئے جاؤ گے یہ کہہ کر دقیانوس نے ان جوانوں کو اپنے دربار سے نکلوا دیا اس مہلت کے زمانہ میں ان جوانوں نے اپنے دین پر قائم رہنے اور غار میں چھپ جانے کا مشورہ کیا اور اس ارادہ کے پورا ہوجانے میں اللہ کی رحمت پر بھروسہ کیا اسی کا ذکر آخری آیت میں ہے غار میں چھپ جانے کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے وہ دعا کی جس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں ہے وہ یہی لفظ تھے جن کا ذکر انہوں نے اس مشورہ میں کیا تھا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے ایسے لوگوں کی تعریف کی ہے جو بستی کے رہنے میں دین کا خلل دیکھ کر پہاڑ پر یا جنگل میں جار ہیں 2 ؎۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دین کے خلل کے وقت ایماندار آدمی کو یہی کرنا چاہیے اس قصہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ مہلت کے بعد جب یہ جوان دقیانوس کے دربار میں حاضر نہیں ہوئے تو دقیانوس ان کے رشتہ دار لوگوں پر بہت خفا ہوا اور ان جوانوں کے حاضر کرنے کا حکم دیا جوانوں کے رشتہ داروں نے جواب دیا کہ گھروں سے تو وہ جوان چلے گئے مگر سنتے ہیں کہ بستی کے پاس جو پہاڑ ہے اس کے غار میں چھپ گئے ہیں یہ سن کر دقیانوس نے غار کے منہ پر ایک دیوار چنوا دی تاکہ وہ جوان بھوکے پیاسے اس غار کے اندر مرجائیں مگر تقدیر الٰہی کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چلتی اللہ تعالیٰ نے اس دیوار کو ان جوانوں کی حفاظت کا ایک ذریعہ ٹھہرا دیا تاکہ باہر سے کوئی اس غار میں جاکر ان جوانوں کی نیند میں خلل نہ ڈالے معتبر سند سے ترمذی ابوداؤد اور ابن ماجہ میں ابوسعید خدری ؓ سے اور صحیح سند سے طارق بن شہاب سے جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص ظالم بادشاہ کے روبرو حق بات منہ سے نکالنے میں کچھ خوف نہ کرے گا اس کو قیامت کے دن بڑا اجر ملے گا 3 ؎۔ ان حدیثوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ ان جوانوں نے دقیانوس کے روبرو حق بات جو منہ سے نکالی وہ بڑے اجر کا کام ہے۔ 1 ؎ تفسیر ہذاص 249 ج 3۔ 2 ؎ مشکوٰۃ ص 462 کتاب الفتن۔ 3 ؎ مشکوٰۃ ص 322 کتاب الامارۃ والقضائ۔
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے۔ جس کو خدا ہدایت دے وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کردے تو تم اسکے لیے کوئی دوست راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔

17: اس قصہ میں اللہ کی قدرت کی جس طرح اور نشانیاں ہیں یہ بھی ایک نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان جوانوں کے جسموں کو دھوپ مینہ اور برف کے صدمہ سے بچا دیا ہے مینہ اور برف ہر روز کے صدمہ کی چیزیں نہیں ہیں موسمی چیزیں ہیں اس واسطے فقط دھوپ کا ذکر فرمایا کہ بارہ مہینے کے صدمہ کی چیز ہے بعضے علماء نے غار کے دیواروں کی بلندی کو دھوپ کے غار میں نہ آنے کا سبب قرار دیا ہے لیکن یہ ظاہر ہے کہ دیواروں کی بلندی مینہ اور برف کو نہیں روک سکتی اس واسطے یہی قول صحیح ہے کہ جس صاحب قدرت نے اس غار سے مینہ اور برف کو روکا اس نے دھوپ کو غار کے دائیں بائیں کر کے غار کو دھوپ سے بچا دیا علاوہ اس کے ان جوانوں کا سونا غار کے میدان میں بیان کر کے دھوپ کے دائیں بائیں کے جانب کردینے کا اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے یاد دلانے کا ذکر جو آیت میں اس سے بھی اس قول کا صحیح ہونا معلوم ہوتا ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اور جو لوگ جس انجام کے قابل پیدا ہوئے ہیں ان کو ویسے ہی کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں اس حدیث کو آیت کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت اور دوسری آیتوں میں قدرت کی نشانیوں کا جو ذکر ہے ان قدرت کی نشانیوں سے وہی لوگ راہ راست پر آتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں اور جو لوگ دوزخ کے قابل ٹھہر چکے ہیں ان کو گمراہی کے کام اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں اس لیے کوئی قدرت کی نشانی ان کو راہ پر نہیں لاسکتی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے کی توفیق نہیں دی جاتی کیونکہ دنیا نیک وبد کے امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہے کسی کو مجبور کر کے راہ راست پر لانے کے لیے نہیں پیدا کی گئی کس لیے کہ مجبوری کی حالت میں وہ امتحان اور آزمائش کا موقع باقی نہیں رہتا۔
Ayah 18:18

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

اور تم ان کو خیال کرو کہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ تو سوتے ہیں۔ اور ہم ان کو دائیں بائیں کروٹ بدلاتے تھے اور ان کا کتا چوکھٹ پر دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے تھا۔ اگر تم ان کو جھانک کر دیکھتے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے اور ان سے دہشت میں آجاتے۔

18:۔ یہ اور ایک قدرت کی نشانی بیان فرمائی کہ اے رسول اللہ کے اگر تم غار میں جاکر ان جوانوں کو دیکھو تو یہ جانو کہ وہ جاگتے ہیں کیونکہ اللہ کی قدرت سے وہ اس طرح آنکھیں کھولے ہوئے سوتے ہیں کہ دیکھنے والا شخص ان کو جاگتے ہوئے آدمی خیال کرے گا لیکن حقیقت میں وہ سوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی دائیں بائیں طرف کی کروٹیں بدلواتا رہتا ہے۔ پھر فرمایا ان کے ساتھ ایک کتا جو چلا گیا تھا وہ بھی غار کے منہ پر اپنے پنجے پھیلائے ہوئے سو رہا ہے پھر فرمایا ان جوانوں کے آرام میں خلل نہ پڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس غار میں ایسی ہیبت پیدا کردی ہے کہ اے رسول اللہ کے اگر تم غار کے اندر جھانک کر ان جوانوں کو دیکھنا چاہو تو دہشت کے مارے وہاں ٹھہر نہ سکو۔ یہ رعب ایسا ہی ہے جس طرح کا رعب اللہ تعالیٰ نے غار ثور میں اپنے رسول کی ہجرت کے وقت پیدا کردیا تھا جس کا ذکر سورة التوبہ میں گزرا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان جوانوں کی کروٹیں اس لیے بدلوائی جاتی ہیں کہ ایک حالت پر رہنے سے ان کا جسم نہ بگڑے۔ مسند امام احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں ابودرداء اور اوس بن اوس ؓ سے صحیح روایتیں ہیں جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا انبیاء کے جسموں کو بگاڑنا اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام ٹھہرا دیا ہے 1 ؎۔ آیت اور ان حدیثوں اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کو ملا کر یہ مطلب ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو عزت انبیاء کے جسموں کی ہے کروٹیں بدلوا کر اس کے قریب قریب ان اولیاء اللہ کے جسموں کی عزت بھی اللہ تعالیٰ کو منظور ہے۔ 1 ؎ الترغیب ص 129 ج 2 کتاب الجمعہ۔
Ayahs 18:19–20

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا تاکہ آپس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں۔ ایک کہنے والے نے کہا کہ تم (یہاں) کتنی مدت رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ انہوں نے کہا کہ جتنی مدت تم رہے ہو تمہارا پروردگار ہی اس کو خوب جانتا ہے۔ تم اپنے میں سے کسی کو یہ روپیہ دے کر شہر کو بھیجو وہ دیکھے کہ نفیس کھانا کونسا ہے تو اس میں سے کھانا لے آئے اور آہستہ آہستہ آئے جائے اور تمہارا حال کسی کو نہ بتائے۔

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر وہ تم پر دسترس پالیں گے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا پھر اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔

19۔ 20:۔ ان آیتوں میں تین سو برس کے بعد ان جوانوں کے جاگنے کا ذکر ہے ان کے جاگنے سے پہلے انتظام الٰہی کے موافق ایک بکریاں چرانے والے شخص نے اپنی بکریوں کو اس غار میں رکھنے کا ارادہ کر کے غار کے منہ پر کی دیوار کو ڈھا ڈالا مگر اس غار میں اللہ تعالیٰ نے دہشت جو پیدا کردی تھی اس کے سبب سے وہ بکریاں چرانے والا شخص غار کے اندر نہیں گیا اور اپنی بکریاں اس نے وہاں نہیں رکھیں۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تین سو نو برس تک ان جوانوں کو سلایا اب ان کو اسی طرح اس صاحب قدرت نے اٹھا بٹھایا تاکہ ان کو اللہ کی قدرت معلوم ہوجائے کہ بےآب و دانہ کتنی مدت تک وہ کیوں کر سوئے اور اٹھنے کے ساتھ ہی بھوک ان کو کیوں کر لگ آئی۔ اتنی مدت تک ان کے جسم اور کپڑوں کو زمین نے کیوں کر نہیں کھایا سوتے سے اٹھتے ہی ان میں سے ایک نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ہم کتنی دیر سوئے ہوں گے اس کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ دن بھر یا پھر دوپہر سوئے ہوں گے مگر جب انہوں نے اپنے بال اور ناخن بڑھے ہوئے دیکھے تو کہنے لگے اللہ ہی کو خوب معلوم ہے کہ کتنی دیر سوئے اب تو بھوک لگ رہی ہے ہم میں سے ایک شخص کو ایک روپیہ لے کر بستی کو جانا اور کچھ اچھا سا کھانا لانا چاہے مگر جو کوئی جائے ذرا ہوشیاری سے جائے تاکہ دقیانوس کے سپاہیوں یا شہر کے لوگوں کو ہماری کچھ خبر معلوم ہوجائے گی تو وہ ہم کو پکڑ لیویں گے اور بغیر جان سے مار ڈالنے کے بت پرست بنانے کے نہ چھوڑیں گے اور اگر ہم نے جان کے خوف سے بت پرستی اختیار کرلی اور اسی حالت میں مرگئے تو پھر عقبیٰ کی بہبودی بالکل ہاتھ سے جاتی رہے گی۔ یہ تین سو برس کا عرصہ اس طرح ان جوانوں کو اللہ کی قدرت سے تھوڑا معلوم ہوا جس طرح عزیر (علیہ السلام) کو سو برس کا عرصہ تھوڑا معلوم ہوا تھا جس کا قصہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ مسند امام احمد صحیح ابن حبان اور مسند ابی یعلی میں ابوہریرہ ؓ اور ابوسعید خدری (رح) سے جو صحیح روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے یہ فرمایا کہ قیامت کا ایک دن پچاس ہزار برس کا ہوگا تو صحابہ کو اس دن کا بڑا ہونا شاق گزرا یہ حال دیکھ کر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ایماندار لوگوں کو وہ اتنا بڑا دن ایسا معلوم ہوگا جیسے قریب غروب سے مغرب تک میں یا ایک وقت کی فرض نماز کے پڑھنے میں دیر لگتی ہے 1 ؎۔ تین سو نو برس کا عرصہ ان جوانوں کو یا سو برس کا عرصہ عزیر (علیہ السلام) کو تھوڑا معلوم ہوا اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا جس کا حاصل یہ ہے کہ جو ایماندار لوگ اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا پورا یقین کرتے ہیں کہ وہ صاحب قدرت جب چاہتا ہے لوگوں کی نگاہ میں بڑی مدت کو چھوٹا کر کے دکھا دیتا ہے قیامت کے دن اللہ کی اس قدرت کو وہ ایمان دار خود دیکھ لیں گے کہ پچاس ہزار برس کی مدت ان کو گھڑی کی مدت نظر آئے گی۔ 1 ؎ الترغیب ص 206 ج 2 فصل فی الحشر۔
Ayah 18:21

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان (کے حال) سے خبردار کردیا تاکہ وہ جانیں کہ خدا کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت (جس کا وعدہ کیا جاتا ہے) اس میں کچھ بھی شک نہیں۔ اس وقت لوگ انکے بارے میں باہم جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان (کے غار) پر عمارت بنادو ان کا پروردگار ان (کے حال) سے خوب واقف ہے، جو لوگ ان کے معاملے میں غلبہ رکھتے تھے وہ کہنے لگے کہ ہم ان (کے غار) پر مسجد بنائیں گے۔

21۔ شروع سورة سے اصحاب کہف کا قصہ جو یہاں تک گزرا کہ یہ لوگ تین سو برس تک پہاڑ کی کھوہ میں بےآب و دانہ سوتے اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تین سو برس تک جسم کو اس نے زمین میں رکھ کر پھر اٹھا بٹھایا تو قیامت کے آنے اور مر کر پھر جینے میں کون شک کرسکتا ہے مر کر جینا تو ایسا ہی ہے جس طرح ماؤں کے پیٹوں میں بچوں کے پتلے تیار ہوتے ہیں اور ان میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح حشر کے دن پتلے تیار کیے جائیں گے اور ان میں روح پھونک دی جائے گی تین سو برس بےآب و دانہ روح کا جسم میں اور جسم کا مٹی میں رہنا اور جسم کو مٹی کا نہ کھانا اس سے زیادہ مشکل ہے جو کچھ حشر کے دن ہوگا جس کی قدرت کے آگے ایسے مشکل کام آسان ہیں اس کو آسان ہیں اس کو آسان کاموں کے کرنے میں کیا مشکل پیش آسکتی ہے شمسی سوبرسوں کے ایک سو تین سال قمری ہوتے ہیں اصحاب کہف کی قوم میں شمسی سال کا حساب تھا اس قوم کے حساب سے تین سو برس اصحاب کہف کو غائب ہو کر ہوگئے تھے اور عرب میں قمری سال کا حساب ہے جس کے حساب سے شمسی تین سو برس کے قمری تین سو نو برس ہوتے تھے کیونکہ شمسی سو برس کے قمری ایک سو تین برس ہوجاتے ہیں اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے تین سو برس علیحدہ اور نو برس علیحدہ آیت میں ذکر فرمائے تاکہ دونوں حساب صحیح بیٹھ جائیں۔ عکرمہ کے قوم کے موافق اس آیت کی تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ اس تین سو نو برس کی مدت میں دقیانوس اور اس کے بعد کئی بادشاہ ہو کر مرگئے تھے اور جوانوں کے جاگنے کے زمانہ میں ایک عیسائی دین کا پابند اس شہر کا بادشاہ تھا لیکن اس کی رعیت میں کچھ لوگ حشر کے پورے قائل نہیں تھے ان کے قائل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تین سو نو برس کے بعد ان جوانوں کو جگایا اور اوپر کی آیتوں کے موافق جب ان جوانوں میں کا ایک دقیانوس کے سکہ کا روپیہ لے کر شہر میں گیا تو شہر کے دکاندار لوگ وہ اتنی مدت کا سکہ دیکھ کر یہ خیال کرنے لگے کہ اس جوان کو کہیں گڑا ہوا خزانہ ملا ہے یہ پرانے سکہ کا روپیہ اس خزانہ میں کا ہے آخر یہ قصہ اس وقت کے بادشاہ تک گیا بادشاہ نے جوان سے اس روپیہ کا حال پوچھا تو اس نے سارا اپنا اور اپنے ساتھیوں کا قصہ بادشاہ کے روبرو بیان کیا۔ بادشاہ اس بات کی تلاش میں تھا کہ اپنی رعیت میں کے منکر حشر لوگوں کو کسی طرح قائل کر کے راہ راست پر لائے اس لیے بادشاہ اپنی رعیت کو ساتھ لے کر اس غار پر گیا مجاہد کے قول کے مواقفق بادشاہ اور اس کی رعیت نے ان جوانوں کو دیکھا اور بادشاہ نے سارا قصہ ان جوانوں سے پوچھا اور انہوں نے بادشاہ کے روبرو اپنا سارا قصہ بیان کیا اس کے بعد وہ جوان تو پہلے کی طرح سوگئے اور بادشاہ اپنی رعیت سمیت شہر کو واپس چلا آیا غرض اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے لوگوں پر اس واسطے ان جوانوں کی حالت ظاہر کردی کہ منکرین حشر اس حشر کے نمونہ سے یہ جان لیں کہ حشر اور قیامت کا وعدہ برحق ہے اس وعدہ کے ظہور میں کسی طرح کا شک وشبہ نہیں کیونکہ انسان پہلے نیست و نابود تھا اللہ تعالیٰ نے جس طرح اس کو پہلی دفعہ پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کرے گا جو لوگ پہلی دفعہ کی پیدائش کو آنکھوں سے دیکھ کر دوسری دفعہ کی پیدائش کے منکر ہیں ان کو اپنی سمجھ نہیں کہ دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد دوسرا جہاں قائم ہو کر نیک وبد کی جزا وسزا کا فیصلہ نہ ہو تو دنیا کا پیدا کرنا بےفائدہ ٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے اس مطلب کو کئی جگہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے وہی آیتیں اس آیت کی گویا تفسیر ہیں آگے فرمایا جو لوگ اس قصہ سے پہلے حشر کے منکر تھے ان جوانوں کا حال دیکھ کر اتنے تو قائل ہوئے کہ اس غار پر عمارت بنانے کو تیار ہوگئے اور جب حشر کے ماننے والے لوگوں نے وہاں عبادت خانہ بنانے کا قصد کیا تو ان سے جھگڑنے لگے آخر بادشاہ کے حکم سے وہاں عبادت خانہ بنایا گیا۔ ربھم اعلم بھم۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس عبادت خانے کے بنانے سے اصحاب کہف خوش ہوئے یا ناخوش۔ اس کا حال اللہ کو معلوم ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے روبرو نصاری کے عبادت خانوں کا ذکر آیا آپ نے مذمت کے طور پر فرمایا ان لوگوں میں دستور ہے کہ جب کوئی نیک آدمی ان میں کا مرجاتا ہے تو اس کی قبر کے پاس عبادت خانہ بنا کر اس میں اس نیک آدمی کی تصویر بھی بنا دیتے ہیں 1 ؎۔ اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جس دستور کے موافق اس غار کے پاس عبادت خانہ بنایا گیا ہے اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس سے اصحاب کہف ناخوش ہیں کیونکہ اس طرح کے عبادت خانہ کی بنیاد بت پرستی کی بنیاد ہے اور اصحاب کہف بت پرستی سے ہی بیزار ہو کر اس غار میں آن کر چھپے ہیں۔ 1 ؎ صحیح بخاری ص 771 ج 1 باب مایکرہ من اتخاذ المسجد الخ۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

(بعض لوگ) لوگ بظاہر کچھ کہیں گے کہ وہ تین تھے (اور) چوتھا ان کا کتا تھا اور (بعض) کہیں گے کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا (اور بعض) کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ کہہ دو کہ میرا پروردگار ہی ان کے شمار سے خوب واقف ہے ان کو جانتے بھی ہیں تو تھوڑے ہی لوگ (جانتے ہیں) تو تم ان (کے معاملہ) میں گفتگو نہ کرنا مگر سرسری سی گفتگو اور نہ ان کے بارے میں ان میں سے کسی سے کچھ دریافت ہی کرنا۔

22:۔ اس کی تفسیر میں یہ بات ایک جگہ بیان کردی گئی ہے کہ نصاری میں کئی فرقے ہیں اور ایک فرقہ دوسرے فرقے کی بات نہیں سنتا اسی واسط فرمایا یہ قصہ سن کر آپس کے اختلاف کے سبب سے بعضے ان میں سے یہ کہیں گے کہ وہ غار میں چھپنے وال تین ہیں اور چوتھا ان کا کتا ہے اور بعضے یہ کہیں گے کہ وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے پھر فرمایا ان لوگوں کی یہ باتیں ایسی بےٹھکانے ہیں جس طرح کوئی شخص ایک نشانہ پتھر مارنا چاہے مگر پتھر ایسا بےٹھکانے پھینکے کہ کوئی پتھر نشانہ کے ادھر جائے اور کوئی ادھر غرض نشانہ پر ایک بھی نہ لگے۔ پھر فرمایا کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے کہ وہ سات ہیں اور آٹھواں کتا ہے لیکن اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ ان کی صحیح گنتی اللہ کو ہی معلوم ہے دنیا میں ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جن کو ان کی صحیح گنتی کی خبر ہے پھر فرمایا ان کی گنتی کے جان لینے پر کوئی دین کا معاملہ منحصر نہیں ہے اس لیے اے رسول اللہ کے نہ تم اس بات میں ان لوگوں سے جھگڑا کرو نہ کسی سے ان کی گنتی کا حال پوچھو۔ تفسیر عبدالرزاق اوسط طبرانی وغیرہ میں صحیح سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ وہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے 1 ؎۔ آیت میں اس قول کو ” نشانہ “ سے بہکا ہوا پھر نہیں فرمایا اس سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کی پوری تائید ہوتی ہے۔ مسند امام احمد ترمذی ابن ماجہ مستدرک حاکم وغیرہ میں ابو امامہ ؓ سے صحیح روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے بےفائدہ باتوں میں جھگڑا کرنے سے امت کے لوگوں کو اسی طرح روکا ہے 2 ؎۔ جس طرح آیت میں اصحاب کہف کی گنتی کے جھگڑے سے روکا گیا ہے اس لیے یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آیت اگرچہ اہل کتاب کے جھگڑے کی شان میں ہے لیکن صحیح حدیث کے موافق آیت کے حکم میں یہ امت بھی داخل ہے فلا تمار فیھم الا مراء ظاھرا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق آیت کے اس ٹکڑے کی تفسیر یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے قرآن میں جس قدر یہ قصہ نازل ہوا ہے وہ اہل کتاب کو سنا دیا جائے اس سے زیادہ جھگڑے کی ضرورت نہیں۔ (1 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 217 ج 4 ) (2 ؎ ابن ماجہ ص 6 باب اجتناب البدع والجدل )
Ayahs 18:23–26

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا۔

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

مگر (انشاء اللہ کہہ کر یعنی اگر) خدا چاہے تو (کردوں گا) اور جب خدا کا نام لینا بھول جاؤ تو یاد آنے پر لے لو اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے۔

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور اصحاب کہف اپنے غار میں نو اوپر تین سو سال رہے

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

کہہ دو کہ چتنی مدت وہ رہے اسے خدا ہی خوب جانتا ہے اسی کو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں معلوم ہیں وہ کیا خوب دیکھنے والا اور کیا خوب سننے والا ہے اس کے سوا انکا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے

23۔ 26:۔ شروع سورة میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے قیس نے تین باتیں اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھیں تو آپ نے وحی کے بھروسہ پر یہ وعدہ کیا کہ کل تک میں ان باتوں کا جواب دے دوں گا مگر اس وعدہ کے وقت انشاء اللہ کا کہنا آپ ﷺ کو یاد نہ رہا اس لیے پندرہ روز تک وحی نہیں آئی۔ مجاہد کے قول کے موافق اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان آیتوں کے ذریعہ حکم دیا کہ آئندہ ہر ایک وعدہ کے ساتھ لفظ انشاء اللہ کہنا چاہیے واذکر ربک اذا نسیت سے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہ بات نکالی ہے کہ اگر قسم کھا کر کوئی شخص ایک بات کہے اور انشاء اللہ بھول جائے اور پھر جب وہ بات یاد آئے اور انشاء اللہ کہہ لیوے تو ایسی قسم کا کفارہ نہیں ہے 1 ؎۔ لیکن جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قسم کے ساتھ ہی انشاء اللہ کہہ لیوے تو قسم کے ٹوٹ جانے پر کفارہ نہیں ہے ورنہ کفارہ ہے۔ مسند امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں عبداللہ بن عمر ؓ سے صحیح روایت ہے 2 ؎۔ جس سے جمہور کے مذہب کی تائید ہوتی ہے کیونکہ جو جمہور کے قول کا مطلب ہے وہی اس صحیح روایت کا مطلب ہے علاوہ اس کے صحیح بخاری ومسلم میں عبدالرحمن ؓ بن سمرہ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس بات پر قسم کھائی جائے اگر اس سے کوئی اچھی بات نظر آوے تو آدمی کو چاہئے کہ قسم کا کفارہ دے کر اس اچھی بات کو کرلیوے 3 ؎۔ اس حدیث سے بھی جمہور کے مذہب کی تائید ہوئی ہے کیونکہ قسم کے بعد بھی اگر انشاء اللہ کہنا جائز ہوتا تو آپ کفارہ کا ذکر نہ فرماتے بلکہ یہ فرماتے کہ جس بات پر قسم کھائی جائے اگر اس سے اچھی کوئی بات نظر آئے تو آدمی انشاء اللہ کہہ کر قسم کے کفارہ سے بچ جائے اور اچھی بات کو کر لیوے۔ اس کے بعد فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ میری نبوت کا ثبوت کچھ اس پر منحصر نہیں ہے کہ مثلا تم لوگوں نے یہود کے سکھانے سے اصحاب کہف کا قصہ پوچھا اور میں نے باوجود ان پڑھ ہونے کے صحیح صحیح وہ قصہ بیان کردیا بلکہ مجھ کو تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ اس سے بڑھ کر مجھ کو نبوت کا ثبوت عنایت کرے گا۔ صحیح بخاری میں خباب بن الارت سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز خباب نے اللہ کے رسول ﷺ سے شکایت کی کہ اب تو مشرکین مکہ بہت تکلیفیں دیتے ہیں آپ نے فرمایا ذرا صبر کرو اللہ تعالیٰ اسلام کے غلبہ کا وعدہ ایسا پورا کرے گا کہ کسی دشمن کا خوف باقی نہ رہے گا 4 ؎۔ اصحاب کہف کے قصہ سے بڑھ کر نبوت کا ثبوت عنایت کرنے کی امید جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان آیتوں میں دلائی تھی اس قسم کی امید کی آیتوں پر بھروسہ کر کے اللہ کے رسول ﷺ ہجرت سے پہلے اس طرح کی تسلی صحابہ کو فرمایا کرتے تھے جس کا ذکر خباب ؓ بن الارت کی روایت میں گزرا آخر اللہ کا وعدہ اور اللہ کے رسول کا اس وعدہ پر بھروسا کرنا یہ باتیں کہیں خالی جانے والی تھیں اللہ اکبر اسلام کے اس غلبہ کا اور اللہ کے رسول ﷺ کی امید کے پورے ہونے کا کچھ ٹھکانہ ہے کہ جن بتوں کی حمایت میں مشرکین مکہ مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے تھے فتح مکہ کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے ان بتوں کو اپنے ہاتھ سے لکڑی مار مار کر زمین پر گرا دیا اور کسی مشرک کو اتنی جرأت نہیں ہوئی کہ ان بتوں کی کچھ حمایت کرتا۔ یہ بتوں کے زمین پر گرا دینے کا قصہ صحیح بخاری کی عبداللہ بن مسعود ؓ کی اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایتوں کے حوالہ سے کئی جگہ گزر چکا ہے 5 ؎۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اصحاب کہف کے قصہ سے بڑھ کر نبوت کا ثبوت عنایت کرنے کی امید جو اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنے رسول کو دلائی تھی غلبہ اسلام کے اس طرح کے قصے اس امید کے پورا ہونے کی تفسیر ہیں۔ آگے فرمایا اصحاب کہف غار میں سو کر پھر جو جاگے یہ مدت تو شمسی سال کے حساب سے تین سو اور قمری کے حساب سے تین سو نو برس کی ہے اور ان کے دوبارہ سو جانے اور اس قصہ کے قرآن میں نازل ہونے تک کی مدت اللہ خوب جانتا ہے کیونکہ آسمان و زمین کے دیکھنے اور سننے کی سب غیب کی باتیں اسی کو اچھی طرح معلوم ہیں سوا اس کے اور کسی کا اس میں کچھ دخل نہیں ولا یشرک فی حکمہ احدا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلا جس طرح دقیانوس نے اصحاب کہف کو بت پرست بنانا چاہا اور اللہ کا حکم ان کے حق میں یہ تھا جس کا ذکر اس قصہ میں ہے کہ وہ ایک مدت تک سوئے اور پھر جاگے اور منکرین حشر کو ان کا حال دیکھ کر عبرت ہوئی غرض جو اللہ کا حکم تھا وہ ہو کر رہا یا مثلا موسیٰ (علیہ السلام) کے مار ڈالنے کے قصد سے فرعون نے بنی اسرائیل کے ہزارہا لڑکے قتل کرائے مگر جو اللہ کا حکم تھا وہ آخر ہو کر رہا غرض بادشاہ ہو یا وزیر اللہ کے حکم میں کوئی شریک نہیں اس لیے اس کے حکم کو اس طرح کوئی ٹال نہیں سکتا جس طرح ایک شریک دوسرے شریک کے حکم کو کبھی ٹال دیتا ہے مسند امام احمد اور ترمذی کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی معتبر روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا تمام دنیا کے لوگ اکھٹے ہو کر کسی شخص کو نفع یا نقصان پہنچانا چاہیں تو بغیر اللہ کے حکم کے کچھ نہیں ہوسکتا 6 ؎۔ اس حدیث سے ولا یشرک فی حکمہ احدا کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ اللہ کے حکم میں کوئی شریک نہیں اس لیے اس کا حکم کوئی ٹال نہیں سکتا۔ 1 ؎ تفسیر بان کثیرص 796 ج 3۔ 2 ؎ ابن ماجہ ص 153 باب الاستثناء فی الیمین 3 ؎ صحیح بخاری ص 980 ج 2 کتاب الایمان والنذور 4 ؎ تفسیر ہذاص 276 ج 3 5 ؎ صحیح بخاری ص 614 ج 2 باب این رکز النبی ﷺ الرأیتہ یوم الفتح۔ 6 ؎ مشکوٰۃ ص 453 باب التو کل والصبر
Ayahs 18:27–28

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی کتاب کو جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو اسکی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اسکی خوشنودی کے طالب ہیں ان کے ساتھ صبر کرتے رہو اور تمہاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف) نہ دوڑیں کہ تم آرائش زندگانی دنیا کے خواستگار ہوجاؤ اور جس شخص کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ گیا ہے اس کا کہا نہ ماننا

27۔ 28:۔ صحیح مسلم میں سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بعضے مالدار مکہ مشرکوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے یہ خواہش کی تھی کہ ہمارے آپ کے پاس آنے کے وقت غریب مسلمان آپ کی مجلس میں نہ بیٹھیں گے تو ہم آپ کی مجلس میں آن کر قرآن کی آیتیں سنا کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ اور فرمایا اللہ کا حکم نہیں بدل سکتا اس کا حکم یہی ہے کہ غریب امیر سب کو یکساں ایک ہی مجلس میں قرآن کی آیتیں نصیحت کے طور پر سنائی جائیں اور اے رسول اللہ کے تم کو اللہ کی پناہ نہیں ہے اس واسطے اللہ کی مرضی کے موافق تم اپنا کام کیے جاؤ پھر فرمایا غریبوں کی مجلس میں اگر یہ مالدار مشرک نہ آئیں تو اس کی کچھ پروا نہ کرو کیونکہ ان کے آنے سے فقط دنیا کی زیب وزینت ہے جو اللہ کو پسند نہیں بلکہ اللہ کو تو یہ پسند ہے کہ خالص اللہ کے واسطے جو غریب مسلمان قرآن کی آیتوں کی نصیحت سننے کو تمہارے پاس آتے ہیں اور پھر اس نصیحت کے موافق خالص عقبیٰ کی بہبودی کی نیت سے صبح شام اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں ایسے لوگوں سے تم کام رکھو اور جن لوگوں کے دل اللہ کی یاد سے غافل اور شرک میں گرفتار ہیں ان کی کوئی بات نہ مانو کس لیے کہ ایسے لوگ اپنی مالداری کے غرور میں انسانیت کی حد سے بڑھ گئے ہیں کہ غریب مسلمانوں کو انسان نہیں گنتے اس لیے ان کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھنے سے گھبراتے ہیں ایسے لوگوں سے کہہ دیا جائے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کا جی چاہے اس کو مانے جس کا جی نہ چاہے وہ نہ مانے اب آگے کی آیتوں میں قرآن کی نصیحت کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کا نتیجہ بیان فرمایا۔ 1 ؎ تفسیر ابن کثیرص 80 ج 3
Ayahs 18:29–30

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انکو گھیر رہی ہوں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے انکی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) من ہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

29۔ 30:۔ جامع ترمذی میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے جو روایت ہے اس میں دوزخ کے ان پردوں کی تفسیر ہے جن کا ذکر اس آیت میں یوں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مکان کے پردہ کی دیواروں کی طرح دوزخ کے چاروں طرف چار دیواری ہے جس کا اثر چالس برس کے راستہ کا ہے ترمذی کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے جس کو بعضے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن امام احمد نے اس رشدین بن سعد کو ناقابل اعتراض قرار دیا ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے 1 ؎۔ کیونکہ حاکم کی سند میں بجائے رشدین ابن سعد کے ایک عبد اللہ ابن وہب راوی ہے جس کا شمار ضعیف راویوں میں نہیں ہے اور دوزخ کے اس گرم پانی کی تفسیر جس کا ذکر اس آیت میں ہے ترمذی اور بیہقی میں ابودرداء ؓ کی معتبر روایت سے یوں آئی ہے کہ دوزخ میں جب بھوک لگے گی تو ایک کانٹوں دار گھاس ان کو کھلائی جائے گی جو ان کے حلق میں پھنس جائے گی جب وہ اس کو حلق سے اتارنے کے لیے پانی مانگیں گے تو ایسا گرم پانی پگلے ہوئے تانبے کی طرح کھولتا ہوا دیا جائے گا جس کو منہ سے لگاتے ہی چہرے کی تمام کھال اتر کر اس پانی میں گر پڑے گی اور جب زبردستی وہ پانی ان کو پلایا جائے گا تو سب انتڑیاں کٹ کر باہر گر پڑیں گی۔ ان تکلیفوں سے تنگ آکر اہل دوزخ اپنے مرنے کی دعا مانگیں گے ہزار برس تک تو ان کی دعا کا کچھ جواب نہ ملے گا ہزار برس کے بعد دوزخ کے فرشتے ان سے یہ کہیں گے کیا دنیا میں تمہارے پاس اللہ کے رسول نہیں آئے اور اس عذاب سے تم کو نہیں ڈرایا وہ جواب دیں گے کہ ہاں آئے تو تھے وہ فرشتے کہیں گے جب تم نے اللہ کے رسولوں کا کہنا نہ مانا اور دنیا میں اس عذاب کا حال سن کر بھی اللہ کی نافرمانی کو نہ چھوڑا تو پھر آج تم کو موت کہاں ہے اب تو تم کو ہمیشہ یہی عذاب بھگتنا پڑے گا 2 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوزخ کے عذاب کا جو حال مجھ کو معلوم ہے اگر وہ پورا حال لوگوں کے سامنے میں بیان کردوں تو لوگ سوائے رونے کے دنیا کے سب کام چھوڑ دیں 3 ؎ اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ دنیا کا انتظام قائم رہنے کے لیے اللہ کے حکم سے آنحضرت ﷺ دوزخ کے عذاب کا پورا حال امت کے لوگوں کے روبرو بیان نہیں فرمایا اس لیے دوزخ کے عذاب کا جو ذکر اوپر گزرا وہ گویا مختصر ہے۔ 1 ؎ الترغیب ص 316 ج 2 صفل فی اود یہتاو جہالہا۔ 2 ؎ الترغیب ص 320 ج 2 فصل فی طعام اہل النار 3 ؎ صحیح بخاری ص 960 ج 2 باب قول النبی ﷺ لوتعلیمون ما اعلم لضحکتم قلیلا۔
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی انکو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیے لگا کر بیٹھا کریں گے (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے

31:۔ اوپر کی آیت میں اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس دوسری آیت میں اہل جنت کا ذکر فرمایا ہے تمام قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے یہی طریقہ برتا ہے کہ جہاں دوزخ اور اہل دوزخ کا ذکر فرمایا ہے اس کے مقابلہ میں جنت اور اہل جنت کے عیش و آرام کا ذکر ضرور فرمایا ہے تاکہ کچھ لوگ دوزخ کے خوف سے اور کچھ لوگ جنت کے شوق سے ہدایت پائیں غرض ہدایت کا کوئی خفیہ یا شوقیہ طریقہ اس معبود مطلق نے اٹھا نہیں رکھا ہے اس پر بھی جو کوئی دنیا سے گمراہ اٹھے سوا اس کے کم نصیبی کے اس کا سبب اور کیا کہا جاسکتا ہے غریب آدمیوں کو بعضے بیش قیمت کھانے کپڑے میسر تو نہیں مگر اوروں کے کھاتے پہنتے انہوں نے آنکھوں سے دیکھا ہے اس واسطے ان کھانے اور کپڑوں کا حال ان غریب آدمیوں سے کوئی پوچھے تو جو کچھ انہوں نے آنکھوں سے دیکھا ہے اس کو وہ بیان کرسکتے ہیں بعضے غریب آدمی ایسے ہیں کہ ان کو اچھا کھانا اچھا کپڑا آنکھوں سے دیکھنا تو نصیب نہیں ہوا لیکن انہوں نے کانوں سے سن لیا ہے کہ مثلا پلاؤ ایسا ہوتا ہے اور کمخواب کا تھان ایسا ہوتا ہے وہ بھی پلاؤ اور کمخواب کی سنی سنائی حالت بیان کرسکتے ہیں بعضے غریب لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے جو چیزیں کبھی عمر بھر نہ آنکھ سے دیکھیں نہ کانوں سے سنیں لیکن وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے دلی منصوبے کرلیتے ہیں کہ خدا دے تو ایسے کھانے پکائیں ایسے کپڑے بنائیں ایسے باغ لگا دیں۔ رہے بادشاہ وزیر امیر یہ تو اپنے اپنے مقدور کے موافق ہر روز دنیا کی سب عیش و آرام کی چیزیں آنکھوں سے دیکھتے برتتے ہیں لیکن جنت کے عیش و آرام کے سامان ایسے ہوں گے کہ دنیا میں آج تک بادشاہ سے فقیر تک نہ وہ سامان کسی کو آنکھ سے دیکھنے نصیب ہوئے نہ کسی نے ان کو کانوں سے سنا نہ کسی کے جی میں ان کا منصوبہ جم سکتا ہے کہ وہ کیا کیا اور کس کس طرح کے سامان ہوں گے چناچہ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے جو حدیث قدسی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنتی لوگوں کے لیے جنت میں وہ وہ عیش کے سامان مہیا کیے گئے ہیں کہ وہ نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کان نے سنے نہ کسی جی میں ان کا تصور گزر سکتا ہے 1 ؎۔ حاصل کلام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل اور اپنے حبیب ﷺ کے طفیل سے جن نیک بندوں کو بہشت نصیب کرے گا وہ بہشت میں داخل ہونے کے بعد جانیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا سامان ان کے لیے مہیا کیا ہے قرآن شریف اور حدیث میں نمونہ کے طور پر بہشت کی نعمتوں کا کسی قدر جو ذکر آیا ہے اور اس ذکر کو نیک لوگوں نے کانوں سے سنا ہے جنت کی نعمتیں اس صحیح حدیث کی شہادت سے ہزاروں لاکھوں کروڑوں ابھی ایسی باقی اور ہر مسلمان کو ایسے عملوں کی توفیق دیوے جن سے ان کو وہ نعمتیں برتنی نصیب ہوں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جنت کی وہ چیزیں دنیا کی چیزوں کے ہم نام سمجھانے کے لیے قرآن شریف یا حدیث میں بتلائی گئی ہیں اور ان کو دنیا کی چیزوں سے کچھ مناسبت نہیں ہے مثلا اس آیت میں ذکر ہے کہ جنتیوں کو سونے کے کڑے پہنائے جائیں گے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے ترمذی میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ کڑا اگر دنیا میں ہو تو اس کی روشنی کی جھلک سے سورج کی روشنی مدھم ہوجائے 2 ؎۔ اب خیال کرلینا چاہئے کہ کیا کسی ہفت اقلیم کے بادشاہ کے پاس ایسا کوئی زیور ہے جس کی جھلک آفتاب کو ماند کر دیوے اسی طرح جنت کی ان اور چیزوں کو سمجھنا چاہیے جن کا ذکر قرآن شریف یا حدیث میں دنیا کی چیزوں کے نام سے آیا ہے اگرچہ سعد بن ابی وقاص کی حدیث کی سند میں عبداللہ بن لہیع ہے اور ابن لہیعہ کی کتابیں جل جانے کے بعد ان کو علماء نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ترمذی میں یہی حدیث مرسل طور پر عمر بن سعد کی روایت سے ہے جس کی سند میں ابن لہیعہ نہیں ہے اس لیے ایک سند کو دوسری سند سے تقویت ہوجاتی ہے۔ عمر بن سعد تابعی نے اس حدیث کو آنحضرت ﷺ سے جو روایت کیا ہے اس طرح کی روایت کو مرسل کہتے ہیں کسی دوسری روایت سے مرسل روایت کو جو تقویت ہوجائے تو پھر مرسل روایت معتبر ٹھہر جاتی ہے۔ (1 ؎ تفسیر ہذاص 12 ج 3 ) (2 ؎ مشکوٰۃ ص 497 باب ضقہ الجنۃ واہلہا۔ )