Ayahs 18:32–4432۔ 44:۔ اوپر ان مالدار مشرکین مکہ کا ذکر تھا جو غریب مسکین مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے سے گھبراتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کہاوت بیان کی کہ دو مرد تھے ایک کے دو باغ تھے انگور اور کھجور کے جن کے درمیان میں کھیتی بھی ہوتی تھی۔ ہر طرح کے درخت اور پھل پھول اور میوے پیدا ہوتے تھے ولم تظلم منہ شیئا سے اسی مطلب کو ادا فرمایا ہے۔ پھر فرمایا ان باغوں میں نہریں جاری تھیں پھر فرمایا اس باغ والے نے اپنے دوسرے بھائی سے بطور فخر کے کہا کہ میں تجھ سے مال واولاد اور خدمت گاروں میں زیادہ عزت والا ہوں اور وہ اپنی باغ میں اپنے بھائی کا بھی ہاتھ پکڑ کر میں قیامت کے قائم ہونے کا خیال نہیں رکھتا اور اگر بالفرض قیامت ہوے تو بھی میں وہاں بہتر باغ پاؤں گا کیونکہ بقول تیرے اے بھائی یہ دنیا مقام فانی ہے اور آخرت باقی ہے تو جس طرح میں یہاں مالدار ہوں اسی طرح آخرت میں بھی غنی ہوں گا یہ نہ سمجھا کہ دنیا کی آسودگی خدا کی طرف سے ایک ڈھیل ہے اب آگے اللہ تعالیٰ اس دوسرے شخص ایمان والے کے حال سے خبر دیتا ہے کہ اس نے بات چیت کے وقت اس سے کہا کیا تو کافر ہوگیا اس خدا سے کہ جس نے تجھ کو اور تیرے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر ان کی نسل کو نطفہ سے پیدا کیا۔ ترمذی ابوداؤد اور صحیح ابن حبان میں ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا آدم (علیہ السلام) کے پتلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ساری زمین کی مٹی لی ہے اس طرح کی مٹی کی خاصیت کے سبب سے اولاد آدم میں کوئی گورا ہے کوئی کالا 1 ؎۔ خلقک من تراب کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے بعد اگرچہ اولاد آدم کی پیدائش نطفہ سے ہے لیکن سب اولاد آدم کی پیدائش میں آدم (علیہ السلام) کے پتلے کی مٹی کا اثر ضرور ہے اس ایماندار شخص نے یہ بھی کہا کہ میں تو اللہ ہی کو اپنا معبود جانتا ہوں اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا اور یہ بھی کہا کہ بجائے اس فخر اور ناشکری کے لفظوں کے تو یہ کہتا کہ انسان کی کیا قدرت تھی کہ وہ ایسا باغ لگاتا اور اتنا مال کماتا تو خوب ہوتا کیونکہ انسان کو جو کچھ فارغ البالی ہوتی ہے وہ اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتی ہے اگرچہ مال و اولاد نہ ہونے کے سبب سے تو مجھ کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے مگر مجھ کو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ آخرت میں تیرے اس باغ سے بہتر کوئی باغ دیوے اور تیری اس ناشکری اور نافرمانی کے سبب سے اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ دور نہیں کہ وہ تیرے اس باغ پر کوئی آسمانی آفت بھیج دیوے۔ آخر کو اس ایماندار شخص کی زبان سے جو نکلا تھا وہی ہوا کہ جس باغ پر وہ قیامت کا منکر اتراتا تھا آسمانی آفت سے وہ باغ کھیتی سب کچھ برباد ہوگیا اور وہ اترانے والا شخص اپنے اترانے پر پچھتاتا اور نقصان پر افسوس سے ہاتھ ملتا ہوا رہ گیا اور اللہ کے عذاب کے آگے اس اترانے والے کی کوئی کچھ مدد نہ کرسکا۔ آخر قصہ پر اللہ تعالیٰ نے اس ایماندار شخص کے قول کی تائید فرمائی کہ قیامت کے دن ایمانداروں کو اچھا بدلا ملنے والا ہے۔ مسند امام احمد میں جابر بن عبداللہ ؓ کی صحیح روایت ہے جس میں اللہ کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ بدری صحابہ میں سے کوئی شخص دوزخ میں نہیں جائے گا 2 ؎۔ جس میں یہ ذکر ہے کہ مالدار مشرکین مکہ غریب مسلمانوں کو طرح طرح سے ستاتے تھے جن علماء نے بدری صحابہ کے نام تفصیل سے اپنی کتابوں میں لکھے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ خباب بن الارت بدری صحابہ میں ہیں اور ان کو غریب جان کر ہجرت سے پہلے مالدار مشرکین مکہ بہت ستاتے تھے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 3 ؎ کہ مشرکین مکہ میں کے بڑے بڑے سردار بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوگئے جس عذاب کے جتلانے کے لیے اللہ کے رسول نے ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب تو تم لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے وعدہ کو سچا پالیا۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے وہ حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 4 ؎۔ جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیک بندوں کے لیے جنت میں جو نعمتیں پیدا کی گئی ہیں وہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں نے سنیں نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے ان رواتیوں کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ جن مالدار مشرکوں کے دھمکانے اور غریب مسلمانوں کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ کہاوت بیان فرمائی ان دونوں کا انجام یہ ہوا کہ مغرور مالدار مشرکوں نے دنیا میں جان اور مال کا نقصان جدا اٹھایا اور مرتے ہی آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور جن غریب مسلمانوں کو یہ لوگ حقیر جانتے تھے دنیا میں ان کا انجام یہ ہوا کہ ان جاننے والوں کا مال ان غریبوں کے ہاتھ آیا اور عقبیٰ میں وہ قطعی جنتی ٹھہرے جس جنت کی نعمتوں کی پوری تفصیل اللہ تعالیٰ ہی کو خوب معلوم ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے جنت کو نیک عملوں کا اچھا بدلہ فرمایا۔
1 ؎ مشکوٰۃ باب الایمان بالقدر۔
2 ؎ تفسیر ہذاص 276 ج 3
3 ؎ تفسیر ہذاص 23 ج 3۔
4 ؎ تفسیر ہذاص 12 ج 3
Ayahs 18:45–4645۔ 46:۔ ان آیتوں میں پروردگار نے اپنے رسول مقبول سے فرمایا کہ تم لوگوں کے روبرو دنیائے فانی کی گندگی کی کہاوت بیان کرو کہ جیسے آسمان سے پانی نازل ہوتا ہے اور اس کے سبب سے کھیتیاں سر سبز ہوجاتی ہیں اور ایک بہار ہوتی ہے پھر بعد میں یہ سب بہار خشک ہو کر جاتی رہتی ہے ہوا اس کو اڑا لے جاتی رہتی ہے بہار کا موسم خزاں سے بدل جاتا ہے اور وہ کھیتی کے درخت کٹ کر میدان نکل آتا ہے غرض جس طرح کھیتی کے درخت کا حال ہے کہ وہ بیچ سے پیدا ہوتا ہے اور جوانی کے زمانہ میں سرسبز ہو کر پھر بوڑھا ہوجاتا اور مرجاتا ہے اس واسطے انسان کی زندگی کی مثال کھیتی کی فرمائی اور آخری آیت میں فرمایا اللہ کو ہر چیز پر قدرت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح مینہ برسا کر سوکھے ہوئے مردہ بیج سے وہ صاحب قدرت ہر سال کھیتی کے درخت پیدا کرتا ہے اسی طرح حشر کے دن انسان کی ریڑھ کی ہڈی کے ایک ٹکڑے سے بیج کا کام لیا جائے گا اور دوسرے صور سے پہلے ایک مینہ برسے گا جس کی تاثیر یہ ہوگی کہ اس ہڈی کے ٹکڑے سے ہر ایک مردہ جسم تیار ہوجائے گا اور پھر جس طرح ماں کے پیٹ میں بچہ کا پتلا تیار ہوجانے کے بعد اس پتلا میں روح پھونک دی جاتی ہے اسی طرح اس جسم میں روح پھونک دی جائے گی۔
صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں ریڑھ کی ہڈی کے ٹکڑے کا اور دوسرے صور سے پہلے کے مینہ کا اور اس سے ہر ایک مردہ کے جسم کے تیار ہوجانے کا ذکر تفصیل سے ہے 1 ؎۔ معتبر سند سے طبرانی کبیر میں نعمان بن بشیر ؓ سے اور مسند بزار میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ مال اور اولاد فقط جیتے جی کے ساتھی ہیں آدمی کے ساتھ ان میں سے قبر میں کوئی نہ جائے گا ہاں عمل ایسی چیز ہے جو قبر میں آدمی کے ساتھ جائے گا اور قیامت تک باقی رہے گا۔ آخر اسی کے موافق جزاو سزا کا فیصلہ ہوگا 2 ؎۔ صحیح مسلم اور معتبر سند سے ابن ماجہ بیہقی اور صحیح ابن خزیمہ میں ابوہریرہ ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کا نیک عمل بند ہوجاتا ہے ہاں جو شخص علم دین کا چرچہ یا مسجد سرائے یا اسی طرح کی اور کوئی ثواب کے جاری رہنے کی چیز چھوڑ کر مرے گا تو اس کا نیک عمل مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا 3 ؎۔ ان حدیثوں کو آخر کی آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ مال اور اولاد فقط جیتے جی کی رونق کی چیزیں ہیں ہاں نیک عمل مرنے کے بعد ایسی باقی رہنے والی چیز ہے کہ اس سے عقبیٰ کی بہبودی کی توقع ہوسکتی ہے۔ وہ نیک عمل جیتے جی آدمی نے خود کیا ہو یا کسی نیک عمل کا سلسلہ اپنے مرنے کے بعد دنیا میں چھوڑا ہو۔
(1 ؎ تفسیر ہذاص 41 ج 3 )
(2 ؎ مجمع الزوایدص 250 ج 10 )
(3 ؎ مشکوٰۃ ص 23 کتاب العلم )
Ayahs 18:47–4947۔ 49:۔ ان آیتوں میں قیامت کا ذکر ہے کہ اس دن پہاڑ جاتے رہیں گے زمین صاف نکل آئے گی اور اکٹھا کریں گے ہم ان کو اس طرح کہ نہ چھوڑیں ان میں سے ایک کو بھی جس زمین کے ساتھ حشر کا ذکر ہے یہ وہ نئی زمین ہے جس پر حشر قائم ہوگا۔ یہ زمین دنیا کی زمین سے بالکل الگ اور نئی ہوگی کیونکہ شعب الایمان بیہقی تفسیر عبد الرزاق وغیرہ میں صحیح سند سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت ہے 1 ؎ کہ اس زمین پر کسی گنہگار نے کوئی گناہ نہیں کیا اب یہ تو ظاہر ہے کہ دنیا کی زمین پر روز گناہ کیے جاتے ہیں اس لیے یہ زمین بالکل نئی ہوگی مطلب یہ ہے کہ پہلے صور کے وقت دنیا کی زمین پر کے پہاڑ جو اڑا دیئے جائیں گے وہ پہاڑ یا کوئی ٹیلہ یا عمارت یا اور کوئی چھپ جانے کی جگہ اس نئی زمین پر نہ ہوگی پھر فرمایا اس نئی زمین پر سب حساب کے لیے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے اس وقت منکرین حشر کو یوں قائل کیا جائے گا کہ تم لوگ تو اس دن کے منکر تھے اب دیکھو تو یہ دن تمہارے سامنے آیا نہیں۔ پھر فرمایا اچھے لوگوں کے دائیں ہاتھ میں اور برے لوگوں کے بائیں ہاتھ میں جب نامہ اعمال دیئے جائیں گے تو برے لوگ اپنے اعمالنامے میں عمر بھر کے بداعمال دیکھ کر بہت گھبرائیں گے اور سزا کے خوف سے بہت ڈریں گے مگر بےوقت کا گھبرانا اور ڈرنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا پھر فرمایا اس دن اللہ تعالیٰ کسی پر کچھ ظلم نہ کرے گا بلکہ ہر شخص کے عملوں کے موافق جزا وسزا کا فیصلہ کیا جائے گا یہاں مختصر طور پر فقط برے لوگوں کے اعمال نامہ کا ذکر ہے سورة الحاقہ میں آئے گا کہ اچھے لوگ اپنے اعمالنامہ کو خوش ہو کر پڑھیں گے اور اپنے رشتہ داروں اور جان پہچان کے لوگوں سے کہیں گے لو تم بھی ہمارا اعمالنامہ پڑھ کر دیکھو۔ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص کو پہلے اس کے صغیرہ گناہوں کا نامہ اعمال دکھایا جائے گا اور کبیرہ گناہ اس کے اعمال نامہ میں سے الگ کردیے جائیں گے جس سے وہ شخص ان چھوٹے گناہوں کا ارادہ کرلے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے اپنی رحمت سے تیرے ان چھوٹے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا یہ سن کر وہ شخص کہے گا یا اللہ میں نے تو دنیا میں اور بڑے بڑے گناہ بھی کیے تھے ان کے بدلہ کی نیکیاں کہاں ہیں۔ اس قصہ کو بیان کرتے وقت اللہ کے رسول ﷺ کو بہت ہنسی آیا کرتی تھی 2 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا حشر کے دن سب لوگ قبروں سے ننگے بدن ننگے پاؤں بغیر ختنہ کیے ہوئے اٹھیں گے 3 ؎۔ اس حدیث سے لقد جئتمونا کما خلقناکم اول مرۃ کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ماں کے پیٹ سے جس حالت میں بچہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح ننگے بدن ننگے پاؤں بغیر ختنہ کیے ہوئے سب لوگ قبروں سے اٹھیں گے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام ٹھہرا لیا ہے اس لیے قیامت کے دن جزا و سزا کا فیصلہ نہایت انصاف سے ہوگا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی آیتوں میں کھیتی کی مثال سے دنیا کی ناپائیداری کا حال بیان فرما کر ان آیتوں میں حشر اور قیامت کا ذکر فرمایا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد حشر اور قیامت کا قائم ہونا ضروری ہے کیونکہ بغیر نیک وبد کی جزا و سزا کے دنیا کا پیدا کرنا بےفائدہ ٹھہرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان سے بہت بعید ہے۔
1 ؎ الترغیب ص 294 ج 2 فصل فی الحشر
2 ؎ مشکوٰۃ ص 492 باب الحوض والشفاعۃ
3 ؎ الترغیب ص 294 ج 3 فصل فی الحشر
Ayahs 18:50–5350۔ 53:۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد آدم (علیہ السلام) کو ابلیس کی دشمنی پر آگاہ فرمایا کہ یہ تمہارا اور تمہارے باپ کا دشمن ہے جو لوگ ابلیس کے تابع اور خدا کے مخالف ہیں ان کو ڈرایا ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اور پالا اور پھر وہ شیطان کا دوست اور ہمارا دشمن بن گیا ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہ کیا کیونکہ اصل اس کی اچھی نہ تھی آگ کے شعلہ سے اس کی پیدائش ہے اور فرشتوں کی اصل نور سے ہے جس طرح صحیح مسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے آیا ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے ہیں اور شیطان آگ کے شعلہ سے 1 ؎۔ سلف میں سے جس جماعت نے یہ کہا ہے کہ فرشتوں کی طرح شیطان نوری جسم نہیں ہے اس لیے وہ فرشتہ نہیں ہے بلکہ وہ جنات کی طرح آتشی جسم کا ہے اس حدیث سے ان کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے معتبر سند سے ترمذی نسائی صحیح ابن حبان صحیح ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم میں حارث اشعری سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا سوائے ذکر الٰہی کے شیطان کی دشمنی سے انسان نہیں بچ سکتا 2 ؎۔ جس طرح کا سجدہ فرشتوں نے اللہ کے حکم سے آدم (علیہ السلام) کو کیا پہلی شریعتوں میں تو وہ سجدہ کرنا جائز ہوتا تو میں بیبیوں کو اجازت دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کیا کریں 3 ؎۔ افتتخذونہ وذریتہ سے ان علمائے سلف کے قول کی بڑی تائید ہوتی ہے جو شیطان اور شیاطین کی نسل اور اولاد کے قائل ہیں صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک شیطان رہتا ہے فرشتہ نیک کاموں کی رغبت دلاتا رہتا ہے اور شیاطین برے کاموں کی 4 ؎۔ اس حدیث سے شیاطین کی نسل کی کثرت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس حدیث کے موافق جہاں بنی آدم میں کا کوئی شخص موجود ہے ‘ وہاں نسل شیطان میں سے ایک شیطان موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان کی ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اسی واسطے فرمایا جن لوگوں نے اللہ کی فرما نبرداری کو چھوڑ کر اس کے معاوضہ میں شیطان کی فرمانبرداری اپنے ذمہ لی انہوں نے بہت برا گناہ کیا۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے کہ پہلے پہل قوم نوح ( علیہ السلام) میں بت پرستی شیطان کے بہکانے سے شروع ہوئی پھر وہی رسم دنیا میں پھیل گئی۔ بت پرستی کو شیطان اور شیاطین کی رفاقت جو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے آگے فرمایا شیطان کے بہکانے سے جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کے پیدا کرنے میں ان بتوں سے کچھ مدد لی نہ قیامت کے دن اپنی پوجا کرنے والوں کو وہ کچھ مدد دیں گے بلکہ یہ پوجا کرنے والے مدد کے لیے جب ان بتوں کو پکاریں گے تو وہ جو اب تک بھی نہ دیں گے پھر ان لوگوں کی نادانی ہے جو یہ ایسے عاجزوں کی پوجا کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے صحیح قول کے موافق و جعلنا بینھم موبقا کی تفسیر یہ ہے کہ شیاطین اور ان کے رفیق بت پرست اپنے اپنے عذاب کی ہلاکت میں ایسے پھنس جائیں گے کہ ایک کو دوسرے کے حال کی خبر نہ رہے گی۔ شاہ صاحب نے ہلاکت کے اسباب کے لفظوں سے ترجمہ میں یہی مطلب ادا کیا ہے اور فائدہ میں موبقا کا مطلب آگ کی بھری خندق جو بتلایا ہے یہ قول مجاہد کا ہے مطلب دونوں قولوں کا ایک ہی ہے کہ ان دونوں میں ایک کو دوسرے کے حال سے ایسی بیخبر ی ہوگی جیسے ان میں کوئی چیز حائل ہے پھر فرمایا قیامت کے دن جب یہ نافرمان دوزخ کو دیکھیں گے اور یہ جان لیں گے کہ اس میں ان کو رہنا پڑے گل تو بہت گھبرائیں گے لیکن اس بےوقت کے گھبرانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ اس آگ سے بچ کر یہ کہیں جا نہ سکیں گے۔ دوزخ کو دیکھ کر یہ نافرمان لوگ دنیا میں دوبارہ آنے اور احکام الٰہی کے جھٹلانے سے پچھتانے کی گھبرائی ہوئی باتیں جو کریں گے اس کا ذکر سورة الانعام میں گزر چکا ہے سورة الانعام کی وہ آیتیں گویا آخری آیت کی تفسیر ہیں۔ مسند امام احمد کے حوالہ سے حضرت عائشہ ؓ کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 5 ؎ کہ قبر میں رکھنے کے ساتھ اچھے لوگوں کو جنت کا اور برے لوگوں کو دوزخ کا ٹھکانہ دکھا کر فرشتے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانہ میں رہنے کے لیے تم کو حشر کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ یہ حدیث فظنوا انھم مواقعوھا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ پہلے سے فرشتوں نے ان کا دوزخ کا ٹھکانہ جو انہیں دکھا دیا تھا اس لیے دوزخ کو دیکھتے ہی یہ لوگ جان لیں گے کہ اب اس میں ان کو رہنا پڑے گا۔
1 ؎ تفیرس ابن کثیرص 88 ج 3
2 ؎ تفسیر ہذاص 369 ج 3
3 ؎ ابن ماجہ ص 134 باب حق الزوج عل المرأۃ
4 ؎ مشکوٰۃ ص 18 باب فی الوسوستہ۔
5 ؎ الترغیب والترہیب کتاب الجنائز فضل فی عذاب القبر۔
Ayah 18:5454:۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے باغ والے شخص کی مثال بیان فرمائی جو خدا کو بھول کر اپنے مال متاع پر مغرور ہوگیا تھا آخر ایک دم میں اس کا باغ جل گیا پھر دنیا کی زیست کی مثال بیان فرمائی کہ جس طرح پیڑوں کا حال ہے کہ زمین میں بیج پڑتا ہے اور اس میں قدرت الٰہی کے طرح طرح کے تصرفات ہو کر وہ پھوٹتا ہے اور پورا ہوجاتا ہے اور روز بروز پودے کو شادابی ہوتی جاتی ہے لیکن اس شادابی کو ہمیشگی نہیں کھیتی کا پیڑ ہے تو تھوڑے دنوں میں وہ کھیتی پک کر کٹ جاتی ہے اور باغ کا پیڑ ہے تو آخر وہ بھی ایک دن سوکھ کر لکڑی ہوجاتا ہے جلنے کے کام میں مکانات بنانے کے کام میں تخت چوکی بنانے کے کام میں اور لکڑی کی چیزوں کے کام میں ہر روز جو لکڑیاں صرف ہوتی ہیں ایک دن یہ سب شاداب پودے تھے ہرے پیڑ تھے آدمی کی پیدائش کا اور زیست کا بھی یہ حال ہے ایک دن ماں کے پیٹ میں نطفہ کا بیج پڑتا ہے قدرت الٰہی کے اس میں طرح طرح کے تصرفات ہو کر پھر بچہ پیدا ہوتا ہے اور پیٹر کے پودا کی طرح دن بدن وہ بچہ بڑھتا جاتا ہے پھر کھیتی کے پیڑ کی طرح کوئی بچہ تھوڑے دنوں میں مر کر نیست ونابود ہوجاتا ہے کوئی باغ کے پیڑ کی طرح کچھ دنوں رہتا ہے پھر فرمایا کہ اس تھوڑے دنوں کی زیست میں جس کسی نے کچھ نیک کام کرلیے تو اچھا ہے نہیں تو سوکھی لکڑی کی طرح ایک دن دوزخ کی آگ ہے اور وہ ہے پھر شیطان کا حال فرمایا کہ وہ تو نافرمانی کر کے مردود بن چکا ہے جو اس کا کہنا مانے گا وہ اسی جیسا ہوجائے گا یہ سب مثالیں فرما کر اس آیت میں فرمایا کہ ہم تو طرح طرح کی مثالیں دے کر انسان کو سمجھا چکے مگر انسان اپنے جھگڑالو پن سے باز نہیں آتا کبھی اللہ کے کلام کو پچھلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتا ہے کبھی اللہ کے رسول کو جادوگر کہتا ہے ایسی باتوں سے ہر شخص اپنے حق میں کانٹے بوتا ہے آخر کو خراب ہوگا پچھلی امتوں کی طرح کوئی عذاب آن کر سب ہلاک ہوجاویں گے اور آخرت کا مواخذہ جدا باقی رہے گا پھر آگے فرمایا کہ ہم رسولوں کو نجات کی خوشخبری اور عذاب کا ڈر سنانے کو زمین پر بھیجتے ہیں اگر لوگ وہ ڈر کی باتیں سن کر نہ ڈرے اور کافروں نے اپنے کفر سے اور گناہگاروں نے اپنے گناہوں سے توبہ نہ کی اور نافرمانی کی حد کو پہنچ کر کوئی عذاب اللہ کا آگیا تو پھر پچھتانے سے کچھ نہ ہوگا حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اپنا کلام پاک نازل فرما کر اسی کلام پاک کے ذریعہ سے اور اپنے رسولوں کے دل میں الہام ڈال کر رسول کی حدیث کے ذریعہ سے جو سمجھانے تک اثر پیدا ہوا ہے اس اثر کی ایک نشانی اللہ کے پیغمبر نے بتلائی ہے آدمی کو چاہیے کہ اس نشانی کے پتے سے اپنے دل کا حال کبھی کبھی ٹٹولا کرے وہ نشانی یہ ہے کہ معتبر سند سے صحیح ابن حبان اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت ابی امامہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت آدمی اپنے آپ کو کب خیال کرے کہ میں ایماندار ہوں آپ نے فرمایا کہ جب نیک کام کرنے سے تیرے دل میں ایک طرح کو خوشی اور بدکام کرنے سے ایک طرح کی ندامت پیدا ہو تو جان لیجیو کہ تیرے دل میں ایمان کا اثر ہے اور اس نشانی کے قریب وہ نشانی ہے جو صحیح میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے آئی ہے 1 ؎۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص میں نور ایمانی ہوتا ہے اس سے اگر کوئی گناہ ہوجائے تو وہ اپنے آپ کو ایک گر پڑنے والے پہاڑ کے نیچے کھڑا ہوا سمجھتا ہے اور ہر وقت ڈرتا رہتا ہے کہ خدا جانے کس وقت یہ پہاڑ میرے اوپر ٹوٹ پڑے اور جو شخص گناہوں کی بالکل خو پکڑ لیتا ہے اس کو گناہ کرنا ایسا ہے جس طرح ناک پر ایک مکھی بیٹھ گئی۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 16 کتاب الایمان۔
Ayahs 18:55–5955۔ 59۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ قرآن کی آیتوں میں طرح طرح کی مثالیں دے کر ان مشرکین مکہ کو سمجھایا جاتا ہے مگر یہ لوگ اپنے جھوٹے جھگڑوں سے باز نہیں آتے کبھی کہتے ہیں اللہ کا رسول انسان نہیں ہوسکتا کوئی فرشتہ ہونا چاہیے کبھی کہتے ہیں اگر تم اللہ کے رسول ہو تو مکہ کے گردو نواح کے پہاڑ ہٹا کر ان کی جگہ کھیتی کی زمین نکال دو ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کے قرآن کی نصیحت نہ ماننے اور شرک سے باز نہ آنے کا یہی سبب ہے کہ اللہ کے علم غیب کے موافق ان میں سے کچھ لوگوں پر پچھلی امتوں کی طرح دنیا کا کچھ عذاب وقت مقررہ سے پہلے ان میں کے جو لوگ شرک کی حالت پر مرجائیں گے ان کے سر پر آخرت کا عذاب ناگہاں آن کھڑا ہوگا۔ پھر فرمایا اللہ نے رسول اس لیے بھیجے ہیں کہ وہ نافرمان لوگوں کو آخرت کے عذاب سے ڈراویں اور فرمانبردار لوگوں کو عقبیٰ کی بہبودی کی خوشی سنائیں۔ اللہ کے رسول اس واسطے نہیں بھیجے گئے کہ ان سے اصحاب کہف یا ذوالقرنین کے قصے پوچھے جائیں یا مکہ کے گردو نواح کے پہاڑوں کو ہٹا دینے یا صفاو مروہ کے سونا ہوجانے کی خواہش پیش کی جائے یا قرآن کے احکام کو ہنسی میں اڑا دیا جائے ایسی باتوں سے مطلب ان لوگوں کا یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے جھوٹے جھگڑوں سے قرآن کی نصیحت کا اثر اوروں کے دلوں پر بھی جمنا نہیں چاہتے لیکن ان کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوسکتا جو اللہ چاہے گا وہ ہوگا اور اللہ کے ارادہ کے موافق جو کچھ ہوگا وہ ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔ سورة حشر میں آئے گا کہ مشرکین مکہ تو اپنے ان جھوٹے جھگڑوں سے یہ چاہتے ہی رہے کہ قرآن نصیحت کا اثر لوگوں کے دلوں پر جمنے نہ پائے مگر اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے موافق قبیلہ خزرج کے کچھ لوگ اسلام سے پہلے کی رسم کے موافق مدینہ سے مکہ میں حج کو آئے اور قرآن کی آیتیں سن کر قرآن کی نصیحت کا اثر ان کے دل میں اچھی طرح جم گیا اور منیٰ کی پہاڑ کی گھاٹی میں انہوں نے اسلام کی بیعت کی جس بیعت میں اللہ کے رسول ﷺ نے بارہ شخص نقیب اسلام پھیلانے والے اس قبیلہ میں سے مقرر کیے اور اس بیعت کے بعد اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے مددگار ہیں۔ صحیح بخاری وغیرہ میں عبادہ ؓ بن صامت سے جو روایتیں ہیں ان میں یہ بیعت کا قصہ تفصیل سے ہے اصل کلام یہ ہے کہ ان آیتوں میں قریش کے جھوٹے جھگڑوں کا اور ان جھگڑوں سے قرآن کی نصیحت کا اثر لوگوں کے دل پر نہ جمنے دینے کا ذکر مختصر طور پر ہے اس بیعت کے قصے سے اس کی تفسیر اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ یہ اہل مکہ اپنے جھوٹے جھگڑوں سے جو کچھ چاہتے ہیں وہ ہرگز نہ ہوگا بلکہ اللہ جو چاہے گا وہی ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے موافق جو کچھ ہوگا وہ ان اہل مکہ کی آنکھوں کے سامنے آجائے گا کہ قرآن کی نصیحت انصار کے دل پر ایسی جم جائے گی کہ ان انصار کی مدد سے آخر کو مکہ فتح ہوجائے گا اور مشرکین مکہ کی یہاں تک ذلت ہوگی کہ اللہ کے رسول ان مشرکوں کے جھوٹے معبودوں کو اپنے ہاتھ کی لکڑی سے مار مار کر زمین پر گرادیں گے اور کسی مشرک کو اتنی جرأت نہ ہوگی کہ وہ اپنے جھوٹے معبودوں کی کچھ حمایت کرسکے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی اور صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی وہ حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ جس میں بتوں کو زمین پر گرا دینے کا قصہ ہے اسی طرح صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی وہ حدیث بھی کئی جگہ گزر چکی ہے 2 ؎ جس میں بدر کی لڑائی کے وقت ان مشرکین میں کے بڑے بڑے سرکش سرداروں کے نہایت ذلت سے مارے جانے اور مرتے ہی عذاب آخرت میں گرفتار ہوجانے کا قصہ ہے ان آیتوں میں دنیا اور آخرت کے عذاب کا جو وعدہ ہے اس کا ظہور اوپر کی روایتوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے پھر فرمایا قرآن کی نصیحت کا تو وہ اثر ہے کہ قبیلہ خزرج کے لوگ چند روز کے لیے مکہ میں آئے اور قرآن کی نصیحت کا اثر ان کے دل پر ہوگیا اس صورت میں ان مکہ کے مشرکوں سے بڑھ کر اپنی جان پر ظلم کرنے والا دنیا میں کون ہوسکتا ہے۔ تیرہ برس تک ان کو قرآن کی آیتوں سے طرح طرح کی نصیحت کی گئی مگر ان لوگوں نے اس نصیحت کی طرف کچھ رخ نہیں کیا اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے پھر فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے علم غیب میں گمراہ ٹھہر چکے ہیں اس لیے قرآن کی نصیحت کے سمجھنے سے ان کے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور اس کے سننے سے ان کے کان بہرے ہیں جس کے سبب سے اے رسول اللہ کے قرآن کی تیرہ برس کی نصیحت نے ان کو کچھ فائدہ نہیں پہنچایا اور نہ آگے ایسے لوگوں کو قرآن کی نصیحت سے کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے پہلے ایسے لوگوں کو مہلت دیتا ہے عذاب کے بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا پھر جب مہلت کے زمانہ میں وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہیں آتے تو ان کو کسی عذاب میں پکڑ لیتا ہے۔ چناچہ جس طرح پچھلی امتیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئی ہیں ان سب کے عذاب میں یہی عادت الٰہی جاری رہی ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 3 ؎ کہ نافرمان لوگوں کو اللہ تعالیٰ پہلے مہلت دیتا ہے اس مہلت کے زمانہ میں اگر وہ لوگ اپنی نافرمانی سے باز نہیں آتے تو پھر کسی طرح کے عذاب سے ان کو بالکل ہلاک کردیتا ہے عادت الٰہی جو اوپر بیان کی گئی ہے یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی حدیث بھی گزر چکی ہے 4 ؎۔ کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں جانے کے قابل کام کرے گا اور کون شخص دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب جس قابل جو شخص پیدا ہوا ہے ویسے کام اس کو اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں۔ آیتوں میں جن لوگوں کا یہ حال بیان کیا گیا کہ قرآن کی نصیحت کے سمجھنے سے ان کے دل پر پردہ پڑا ہوا ہے اور اس کے سننے سے ان کے کان بہرے ہیں یہ حدیث ان کے حال کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے علم میں دوزخی ٹھہر چکے ہیں اس لیے ان کے کام بھی ویسے ہی ہیں۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 614 ج 6 باب این رکز البنی ﷺ الخ
2 ؎ تفسیر ہذاص 23 ج 3۔
3 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 53 ج 3
4 ؎ تفسیر ہذاص 90 ج 3
Ayahs 18:60–6660۔ 66:۔ ان آیتوں میں مختصر طور پر قصہ شروع بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھا کہ اس زمانہ میں اے موسیٰ بڑا صاحب علم کون ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں ہوں اللہ تعالیٰ کو موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ جواب پسند نہیں آیا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا اس واسطے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا اس حکم کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خاص رفیق یوشع بن نون کو ساتھ لیکر خضر (علیہ السلام) کے ملنے کی غرض سے سفر کا ارادہ کیا 1 ؎۔ اب آگے وہی قصہ ہے جو ان آیتوں میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یوشع بن نون سے کہا کہ اس سفر میں خواہ کتنی ہی مدت لگ جائے لیکن جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ تک نہ پہنچ جاؤں گا تو اس وقت تک اس سفر کا سلسلہ منقطع نہ کروں گا۔ اوپر کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسٰی (علیہ السلام) کو خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا یا اللہ ! مجھ کو خضر (علیہ السلام) کہاں ملیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ ملیں گے۔ آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ تک کے سفر کا ارادہ یوشع بن نون سے ظاہر کیا حدیث کا یہ ٹکڑا آیتوں کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ تک کا سفر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قرار دیا تھا۔ تفسیر عبدالرزاق میں قتادہ کا قول ہے کہ وہ دریائے فارس اور دریائے روم کے ملنے کی جگہ تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی اوپر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یوشع بن نون سے مچھلی کا یہ حال سنا تو کہا ہم تو اس جگہ کی تلاش میں تھے۔ حدیث کا یہ ٹکڑا گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مچھلی کا جاتا رہنا مجمع البحرین کی نشانی تھی جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بتلائی تھی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ مجمع البحرین تک پہنچنے میں موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ تکان نہیں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس سفر کی جو حد ٹہرائی اس سے بڑھنے کے بعد تکان کا غلبہ شروع ہوگیا تاکہ تکان میں ناشتہ یاد آوے اور ناشتہ کے ذکر میں مچھلی کے کھوئے جانے کا حال سن کر موسیٰ (علیہ السلام) الٹے پھریں۔ اب آگے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ یوشع بن نون سے مچھلی کا حال سن کر موسیٰ (علیہ السلام) الٹے بھرے اور خضر (علیہ السلام) سے ملاقات کے وقت انہوں نے یہ خواہش کی کہ میں تمہارے ساتھ چند روز اس ارادہ سے رہنا چاہتا ہوں کہ جو علم اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے اس میں سے تم کچھ مجھ کو بھی سکھادو۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 687 ج 2 کتاب التفسیر۔
Ayahs 18:67–7067۔ 70:۔ اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث جو گزری اس حدیث میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جو علم تم کو دیا ہے میں بھی اس میں سے کچھ سیکھوں اس وقت اس کی مصلحت تم کو معلوم نہیں ہے اس واسطے تم میرے ساتھ رہ کر جو باتیں میں کروں گا۔ ان پر صبر نہ کرسکو گے کیونکہ ان باتوں کی پوری مصلحت تم کو معلوم نہیں ہے اس واسطے تم میرے ساتھ رہ کر جو باتیں میں کروں گا ان پر صبر نہ کرسکو گے کیونکہ ان خضر (علیہ السلام) کو کشتی کے توڑ ڈالنے اور لڑکے کے مار ڈالنے کا الہام ہوا اور باوجود اس کے وہ الہام ظاہرا شریف موسوی کے بر خلاف تھا مگر حضرت خضر نے اپنے الہام کے موافق عمل کیا اسی طرح اس امت میں بھی اگر بعضے اولیاء اللہ ایسے ہوں جن کو کچھ الہام ایسا ہو جو ظاہرا شریعت محمدی کے موافق نہ ہو تو بلحاظ شریعت ان اولیاء اللہ کے الہام پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا علمائے شریعت نے اس بات کا جواب یہ دیا ہے کہ اور انبیاء کی شریعت پر قیاس کر کے شریعت محمدی کے زمانہ میں کسی ولی کے واسطے آیا کرتے تھے آنحضرت ﷺ کی نبوت ایسی عام ہے کہ اولیاء تو درکنار آپ کے زمانہ میں حضرت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک جتنے نبی صاحب شریعت ہیں اگر وہ زندہ اور موجود ہوتے تو سوا آپ کی پیروی کے دوسرا کوئی طریقہ اختیار نہیں کرسکتے تھے۔ چناچہ سورة آل عمران میں جہاں خدا تعالیٰ کا انبیاء سے عہد لینے کا ذکر ہے وہاں حضرت علی ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی صحیح بخاری وغیرہ کی روایت سے یہ بات ثابت ہوچکی کہ ہر نبی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی پیروی کا عہد لیا ہے اسی واسط صحیح حدیث میں آپ نے فرمایا ہے اگر میرے زمانہ میں حضرت موسیٰ زندہ ہوتے تو ضرور میری پیروی کرتے یہ حدیث صحیح سند سے مسند امام احمد اور صحیح ابن حبان میں جابر بن عبد اللہ ؓ کی روایت سے اور مسند امام احمد اور ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے آئی ہے 1 ؎۔ غرض اولیاء اللہ کے الہام میں صحیح مذہب وہی ہے جو مشائخ صوفیہ کرام مثلا فضیل بن عیاض ابراہیم بن ادہم ابو سلیمان درانی معروف کرخی جنید بغدادی کے حوالہ سے سورة یونس میں گزر چکا ہے کہ ولی کا جو الہام شریعت کے موافق ہے وہ مقبول ہے نہیں تو نہیں اور صحیح روایتوں سے آنحضرت ﷺ کا جناب کی ہدایت کے لیے بھی مامور ہونا نصیبی کے جنات کا آپ پر اسلام لانا اور آپ کا سورة الرحمن ان کو پڑھ کر سنانا اور ہڈی اور لید سے آدمیوں کو استنجا کرنے سے آپ کا منع کرنا اور یہ فرمانا کہ یہ دونوں چیزیں تمہارے مسلمان بھائی جنات کی خوراک ہے یہ سب کچھ اس تفسیر میں بیان کردیا گیا ہے واسطے انسان تو کیا جنات میں بھی کوئی ولی ایسا نہیں قرار دیا جاسکتا جس کو خلاف شریعت محمد الہام ہوا اور وہ الہام مقبول ہو سکے اس بات میں کہ حضرت خضر (علیہ السلام) کس زمانے میں پیدا ہوئے اور اب زندہ ہیں یا نہیں اور وہ نبی تھے یا ولی علماء کا اختلاف ہے صحیح قول یہ ہے کہ ان کی پیدائش کا زمانہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) سے پہلے ہے اور وہ حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) کے دادا کے چچا کے بیٹے ہیں صحیح مسلم کی جابر ؓ بن عبد اللہ کی اس حدیث کے موافق جو آنحضرت ﷺ نے اپنی آخری عمر میں فرمائی ہے کہ سو برس کے بعد جتنے جاندار روئے زمین پر آج موجود ہیں ان میں سے کوئی باقی نہ رہے گا 2 ؎۔ امام بخاری (رح) ابن العربی اور کچھ اور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ خضر (علیہ السلام) اب زندہ نہیں ہیں لیکن علماء کی بڑی جماعت اسی طرف ہے کہ حضرت خضر زندہ ہیں اور آنحضرت ﷺ کی حدیث کے فرمانے کے وقت وہ دریا میں تھے اس لیے جس طرح ابلیس پر اس حدیث کا مطلب صادق نہیں آتا اسی طرح ان پر بھی نہیں آتا اور اکثر علماء کے نزدیک وہ بھی نبی ہیں لیکن رسول صاحب شریعت نہیں ہیں آنحضرت ﷺ اور کسی صحابی سے ان کا ملاقات کرنا سند صحیح سے ثابت نہیں ہوتا ہاں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز سے ان کا خلافت سے پہلے آن کر ملنا اور خلافت کی خوشخبری دینا تاریخ ابی عروبہ وغیرہ میں سند صحیح سے ثابت ہے 3 ؎۔ اس کہانی کو قدرے ثابت مانا ہے لیکن حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن جوزی وغیرہ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی سند کسی کام کی نہیں (البدایہ والنہایہ ص 334 جلداول) اور دل لگتی بات بھی یہی ہے (ع۔ ح) ابن عساکر نے صحیح سند سے روایت کی ہے جس میں ابوزرعہ کہتے ہیں کہ جب میں جوان تھا تو میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ انہوں نے مجھ کو امیر لوگوں کی صحبت سے اور امیروں کے دروازہ پر جانے سے منع کیا جب میں بوڑھا ہوگیا تو اس شخص کو اسی صورت میں پھر میں نے دیکھا اور اسی شخص نے پھر مجھ کو وہی نصیحت کی جو پہلی کی تھی جب میں نے اس شخص سے بات کرنی چاہی تو وہ شخص غائب ہوگیا میرا جی گواہی دیتا ہے کہ وہ خضر تھے۔ لیکن ایسی خیالی کہانیوں کی حیثیت کیا ہے ؟ (ع۔ ح) مگر یہ ابوزرعہ کے دل کی فقط ایک گواہی ہے کوئی روایت نہیں ہے تاریخ طبری وغیرہ میں ہے کہ حضرت خضر ( علیہ السلام) نے ذوالقرنین کے ساتھ سفر کیا ہے ان کو چشمہ حیات کا پانی خدا نے دکھلا دیا اور انہوں نے وہ پانی پی لیا ذوالقرنین اسی پانی سے محروم رہ گیا اس لیے حضرت خضر اس وقت تک زندہ رہیں گے جب تک قرآن شریف دنیا سے نہ اٹھے گا۔ مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی صحیح روایت سورة بنی اسرائیل میں گزر چکی ہے 4 ؎۔ کہ قیامت کے قریب قرآن شریف دنیا پر سے اٹھ جائے گا۔ حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب الاصابہ فی معرقہ الصحابہ میں خضر (علیہ السلام) کی قیامت کے قرب تک زندہ رہنے کی روایتیں جو جمع کی ہیں اور ان میں اکثر روایتیں ضعیف ہیں۔ بلکہ ان میں کوئی بھی کام کی نہیں دیکھئے البدایہ ص 299‘ 325 تا 337 ج 1 میں اس پر تفصیلی بحث ہے ‘ لہٰذا صحیح حضرت خضر ( علیہ السلام) کی عذم حیات کا مسلک ہے جیسا کہ فتح البیان میں فرمایا ص 884 ج 2 (محمد عطاء اللہ حنیف )
1 ؎ اس پر مفصل بحث کے لیے دیکھئے حاشیہ تفسیر ہذا جلد اول ص 248 (ع ‘ ح)
2 ؎ مشکوٰۃ 280 باب قرب الساعۃ الخ
3 ؎ حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری (ص 254 ج 3۔
4 ؎ جلد ہذاص 65 دیکھئے۔