Ayahs 18:71–8271۔ 82:۔ جب خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تم میرے ساتھ رہو گے تو تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا اسی کا یہ جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں تمہاری باتوں پر صبر کروں گا اور تمہاری کوئی بات نہ ٹالوں گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی حدیث صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ 1 ؎، سے جو قصہ کے شروع میں گزری اس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اس وعدہ کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) اگر خضر (علیہ السلام) کی باتوں پر صبر کرکے کچھ اور خضر (علیہ السلام) کے ساتھ رہتے تو خوب ہوتا کیونکہ اس صورت میں اور نئی باتیں اللہ تعالیٰ اس قصہ میں ذکر فرماتا اسی سورة میں مسند امام احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے عبداللہ بن عمر کی صحیح روایت گزر چکی ہے جس میں یہ ہے کہ قسم کے ساتھ ہی اگر کوئی شخص انشاء اللہ کہہ لیوے تو قسم کے ٹوٹ جانے پر کفارہ نہیں آتا 2 ؎ وعدے کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے انشاء اللہ جو کہا اس کا فائدہ اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے حضرت موسٰی (علیہ السلام) کے اس وعدے کے بعد حضرت خضر (علیہ السلام) نے یہ شرط کی کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہئے ہو تو کسی بات کو جب تک میں نہ بتاؤں اس وقت تک اس کی تفصیل تم خود مجھ سے نہ پوچھنا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اوپر کی روایت میں ہے کہ کشتی والوں نے مفت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر (علیہ السلام) کو کشتی میں بٹھا لیا تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو کشتی کا تختہ توڑ ڈالنے پر بڑا تعجب ہوا کہ بھلائی کرنے والوں کے ساتھ خضر (علیہ السلام) نے یہ برائی کیوں کی اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ کشتی کی منڈیر پر ایک چڑیا آن کر بیٹھی اور ایک بوند پانی دریا میں سے پی کر اڑ گئی اس پر حضرت خضر (علیہ السلام) نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا میرا اور تمہارا علم اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں ایسا ہے جیسے دریا کے مقابلہ میں چڑیا کا پیا ہوا وہ ایک قطرہ پانی کا حدیث کا یہ ٹکڑا موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ اوپر گزر چکا ہے کہ اسرائیل میں کے ایک شخص نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ پوچھا تھا کہ بڑا صاحب علم کون ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سوال کے جواب کو اللہ تعالیٰ کے علم پر نہیں سونپا تھا۔ اسی خرابی کے جتلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سفر کرنے اور خضر (علیہ السلام) سے ملنے کا حکم دیا تھا حدیث کے اس ٹکڑے میں خضر (علیہ السلام) کی جس نصیحت کا ذکر ہے اس سے وہی خرابی جتلائی گئی ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اوپر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ خضر ( علیہ السلام) نے جس لڑکے کو قتل کیا اللہ کے علم غیب میں وہ لڑکا کافر ٹھہر چکا تھا اگر وہ جیتا رہتا تو ماں باپ کو بھی اپنے جیسا کرلیتا۔ حدیث کے اس ٹکڑے سے اس لڑکے کے قتل کرنے کی مصلحت سمجھ میں آسکتی ہے اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اس گاؤں کے لوگ جبکہ ایسے بےرحم تھے مسافروں کو کھانا نہیں دیتے تھے تو ایسے لوگوں کی دیوار کو بےمزدوری کے درست کردینا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک تعجب کی بات معلوم ہوئی کشتی کی حالت پر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اعتراض کیا تو خضر علیہ اسلام الم اقل کہہ کر ٹال گئے جس کا مطلب یہ ہے کیا میں نے یہ پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ تم سے میری باتوں پر صبر نہ ہو سکے گا لڑکے کی قتل کی حالت پر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر اعتراض کیا تو خضر (علیہ السلام) نے الم اقل کے آگے لام کاف بڑھا کر تاکید کے طور پر کہا کہ تم میری باتوں پر صبر نہ کرسکو گے اس تاکید سے مطلب یہ ہے کہ جب تم میری باتوں پر صبر نہیں کرسکتے تو پھر میرے ساتھ کیوں رہتے ہو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی اوپر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا اعتراض بھولے سے تھا اور دوسرا جدائی کی شرط کے طور پر اور تیسرا جان بوجھ کر جدائی کے قصد سے اس سفر کا نتیجہ تو موسیٰ (علیہ السلام) سمجھ چکے تھے اس واسطے انہوں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ اب زیادہ رہنا ضروری نہیں خیال کیا اور دوسرے اعتراض کے وقت جدائی کی شرط کو ظاہر کردیا۔
کشتی کا تختہ توڑنے کا سبب خضر (علیہ السلام) نے یہ بیان کیا کہ وہ کشتی ایسے محتاجوں کی تھی جن کی گزر اسی کشتی کے کرایہ کی آمدنی پر تھی اور دریا کے پرلے کنارہ پر ایک ظالم بادشاہ تھا جس کے حکم سے بادشاہی لوگ اچھی اچھی ثابت کشتیاں مفت بیکار میں پکڑ لیتے تھے اس واسطے میں نے اس کشتی کا ایک تختہ توڑ کر اس کو عیب دار کردیا تھا کہ بادشاہ کے لوگ اس کشتی کو نہ پکڑیں اور ان محتاجوں کی آمدنی میں خلل نہ پڑے صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ جو کوئی اس بادشاہ کی طرح کسی کا کچھ مال زبردستی چھین لے گا قیامت کے دن اس کی اسی قدر نیکیاں چھین کر مالک مال کو دے دی جائیں گی 3 ؎۔ حدیث کے اسی ٹکڑے کو پہلی آیت کے ساتھ ملانے سے ایسے ظالم لوگوں کی آخرت کی سزا کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے جس طرح کے ظالم بادشاہ کا ذکر آیت میں ہے لڑکے کے مار ڈالنے کا سبب یہ بیان کیا کہ اس کے ماں باپ ایماندار تھے اور وہ لڑکا اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں منکر ایمان ٹھہر چکا تھا اس لیے اس کے زندہ رہنے سے اس کے ماں باپ بھی اس کی محبت میں اپنی حالت پر نہ رہتے۔ دین کی حفاظت کی نظر سے یہ قتل ایسا ہی ہے جیسے مثلا کعب بن اشرف کا قتل کا قصہ صحیح بخاری میں جابر بن عبداللہ ؓ کی روایت سے ہے۔
دونوں قتلوں میں فرق اتنا ہے کہ کعب بن اشرف کا دین میں خلل ڈالنا ظاہر ہوچکا تھا اور اس لڑکے کا یہ خلیل اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق آئندہ ظاہر ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے وہ غیب کا حال خضر (علیہ السلام) کو جتلا دیا اور انہوں نے اللہ کے حکم سے اس کو مار ڈالا حاصل کلام یہ ہے کہ شریعت اللہ کے حکم کا نام ہے خضر (علیہ السلام) کے حق میں اللہ کا وہی حکم شریعت کا حکم تھا جس کے موافق انہوں نے عمل کیا شریعت موسوی کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر (علیہ السلام) کے وہ کام شرعی ہوگئے ناقابل اعتراض سند سے نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اس لڑکے کے مرجانے پر اس کی ماں کے پیٹ سے ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کو اللہ تعالیٰ نے ایک نبی کی ماں کردیا۔
حدیث فَاَرَدْنَآ اَنْ يُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِّنْهُ کی گویا تفسیر ہے۔ دیوار کے سیدھا کردینے کا سبب یہ بیان کیا کہ اس دیوار کے نیچے کا گڑا ہوا مال ان دونوں یتمیوں کو پہنچ جانا اللہ کو منظور تھا صحیح بخاری میں سہل ؓ بن سعد سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو ذرا فرق کر کے کھڑا کر کے فرمایا میں اور یتیم کے ساتھ شفقت سے پیش آنے والا شخص جنت میں ایسے قریب ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں ہیں 4 ؎۔ اس حدیث کو آخری آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ یتیموں کے حال پر اللہ تعالیٰ کی ایک خاص نظر رحمت ہے جس کے سبب سے ان یتیموں کے ساتھ شفقت سے پیش آنے والے شخص کی یتیم اولاد کے مال کی حفاظت فرمائی۔ جس کا ذکر آیت میں ہے۔
1 ؎ صحیح بخاری ص 687 ج 2 کتاب التفسیر۔
2 ؎ ابن ماجہ ص 153 باب الاستثناء فی الیمین۔
3 ؎ مشکوٰۃ ص 435 باب الظلم۔
4 ؎ مشکوٰۃ ص 422 باب الشفقتہ والرحمۃ علی الخلق۔
Ayahs 18:83–8683۔ 86:۔ شروع سورة ایک تفسیر میں گزر چکا ہے کہ یہود کے سکھانے سے مشرکین مکہ نے روح اصحاب کہف اور سکندر القرنین مصری اور سکندر رومی کا ایک ہونا پایا جاتا ہے 1 ؎ اور اسی روایت کی بنا پر تفسیر ابن جریر کے علاوہ بعض اور تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ قرآن شریف میں جس شخص کا قصہ ہے وہ سکندر رومی ہے لیکن حافظ ابن کثیر (رح) نے عقبہ بن عامر ؓ کی اسی روایت کو ضعیف ٹھہرا کر معتبر اہل تاریخ مثلا سہیلی ارزقی کے قول کے موافق اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ سکندر دو شخص گزرے ہیں پہلا سکندر ذوالقرنین جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے اس سکندر اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا زمانہ ایک ہی ہے یہ سکندر ملت ابراہیمی کا پابند شخص تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اس شخص نے حج ادا کیا ہے اس سکندر کے وزیر خضر (علیہ السلام) تھے دوسرا سکندر رومی ہے جس کا وزیر ارسطو تھا یہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے تین سو برس پہلے ہوا ہے یہ سکندر ثانی اور اس کا وزیر ارسطو بت پرست لوگ تھے 2 ؎۔ تاریخی قصے لکھے گئے ہیں بنی اسرئیلی رواتیں نہیں لی گئی ہیں اسی طرح سہیلی قدیمی تاریخوں کے حافظ علماء اندلس میں مشہور ہیں اس واسطے قرآن شریف کی تفسیر میں ایسے ہی لوگوں کا قول معتبر قرار پاسکتا ہے کیونکہ قرآن شریف میں جس شخص کا قصہ ہے اس میں یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ایک مشرک قوم کو اس کے قابو میں کردیا تو اس نے اس قوم کو یہ حکم سنایا کہ اس قوم میں کے جو لوگ شرک پر قائم رہیں گے ان کو دنیا میں طرح طرح کے عذاب سے قتل کیا جائے گا اور عقبیٰ میں ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ جدا سخت عذاب کرے گا اور اس قوم کے جو لوگ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کے قائل ہو کر عقبیٰ کی بہبودی کے لیے نیک عمل کریں گے دنیا میں ہم لوگ بھی ان سے اچھی طرح پیش آئیں گے اور عقبیٰ میں ایسے لوگوں کو بڑا اجر ملے گا قرآن شریف کی ان آیتوں سے یقینی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کا قصہ قرآن شریف میں ہے وہ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت قیامت ملت ابرہیمی کے نیک عمل ان سب باتوں کا قائل تھا اس لیے اس سکندر اول اور بت پرست سکندر ثانی کو ایک ٹھہرانا قرآن شریف کی آیتوں اور معتبر علمائے اسلام کے قول کے برخلاف ہے۔ تفسیر عبدالرزاق تفسیر ابن منذر اور مستدرک حاکم میں ابوہریرہ ؓ سے صحیح روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مجھ کو معلوم نہیں کہ تبع اور ذوالقرنین نبی تھے یا نہیں 3 ؎ اس حدیث سے بھی سہیلی ارزقی اور حافظ ابن کثیر کے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ قرآن شریف میں سکندر رومی کا قصہ نہیں ہے کس لیے قرآن شریف میں ذوالقرنین کے نام سے قصہ آیا ہے اگر ذوالقرنین اور بت پرست سکندر رومی ایک ہوتے تو بت پرست سکندر ثانی کی نبوت کا شبہ اللہ کے رسول ﷺ کو ہرگز نہ ہوتا فتح الباری میں کئی سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں ذوالقرنین کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات کرنے اور اسی زمانہ میں حج کرنے کا ذکر ہے 4 ؎۔ سیرہ ابن اسحاق میں ہے ذوالقرنین کا نام سکندر ہے ان روایتوں سے بھی پہلی ارزقی اور حافظ ابن کثیر کے قول کی پوری تائید ہوتی ہے کہ سکندر دو شحص گزرے ہیں کیونکہ سکندر رومی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں دو ہزار برس سے زیادہ کی مدت کا فرق ہے پھر یہ سکندر ثانی حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں کہاں سے آسکتا ہے محمد بن مسلم ابن شہاب زہری کا قول ہے کہ اس سکندر اول نے سورج کی غربی اور شرقی دونوں شعاعوں کے نیچے بہت دور تک کا سفر کیا اس لیے اس کا نام ذوالقرنین ہوگیا۔ یہ ابن شہاب زہری بڑے ثقہ اور مشہور تابعی ہیں اور حدیث کی سب کتابوں میں ان سے روایت ہے قرآن کے معنے سینگ کے ہیں یہاں سورج کی غربی اور شرقی دونوں شعاعوں کو سورج کے سینگ قرار دیا گیا ہے۔ ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ مشرکین مکہ تم سے ذوالقرنین کا حال جو پوچھتے ہیں تو تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں تم لوگوں کو اس کا قصہ سناتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو روئے زمین کی بادشاہت دی تھی اور ہر طرح بادشاہت کا سامان اس کو عنایت کیا تھا جس سامان کو کام میں لاکر اس نے زمین کی غربی جانب کا سفر کیا اور اس کو یہ معلوم ہوا کہ ایک دلدل کے چشمہ میں سورج غروب ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح کشتی کے بیٹھنے والے شخص کو غروب کے وقت یہ دنیا ہے کہ دریا کے کنارے پر سورج غروب ہوجاتا ہے۔
یا ایک قلعہ کے رہنے والے شخص کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ قلعہ کی دیوار کے پیچھے سورج غروب ہوجاتا ہے اسی طرح سکندر کو یہ دکھائی دیا کہ اس دلدل کے چشمہ میں سورج غروب ہوتا ہے ورنہ سورج تو ساری زمین سے کئی حصہ بڑا ہے زمین کے اتنے ٹکڑے میں جس میں کہ دلدل کا چشمہ ہے اس قدر گنجائش کہاں ہے کہ اس میں سورج چھپ جائے علاوہ اس کے سورج آسمان پر ہے اور یہ دلدل کا چشمہ زمین پر پھر سورج کا آسمان سے اتر کر زمین کے اس دلدل کے چشمہ میں غروب ہونا کیوں کر اس کے موافق ہے اللہ کے رسول ﷺ نے سورج کی چال کی تفسیر یوں فرمائی ہے سورج لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہوجانے کے بعد عرش معلی کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور دوسرے دن مشرق سے نکلنے کی اس کو اجازت ہوجاتی ہے ہاں قیامت کے قریب اس کو مغرب سے نکلنے کا حکم ہوگا یہ حدیث صحیح بخاری مسلم نسائی وغیرہ میں ابوذر ؓ کی روایت سے آئی ہے 5 ؎۔ اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے وہی مطلب ہوا جو اوپر بیان کیا گیا کہ دلدل کے چشمے کے پاس جاکر سورج سکندر کی نگاہ سے اوجھل ہوگیا اور پھر اللہ تعالیٰ کی ٹھہرائی ہوئی چال کے موافق وہاں سے جو اوپر بیان کیا گیا کہ اس دلدل کے چشمہ کے پاس اللہ تعالیٰ نے ایک مشرک قوم کو سکندر کے قابو میں کردیا تو سکندر نے اس قوم کو یہ حکم سنایا کہ اس قوم میں کے جو لوگ شرک پر جمے رہیں گے ان کو دنیا میں طرح طرح کے عذاب سے قتل کیا جائے گا الور عقبیٰ میں ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ جدا سخت عذاب کرے گا اور اس قوم میں کے جو لوگ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کے قائل ہو کر عقبیٰ کی بہبودی کی نیت سے نیک عمل کریں گے دنیا میں ہم لوگ بھی ان سے اچھی طرح پیش آئیں گے اور عقبیٰ میں بھی ان کو بڑا اجر ملے گا۔ مجاہد اور سفیان ثوری کا قول ہے کہ تمام روئے زمین کی بادشاہت چار شخصوں کو ملی ہے جس میں سلیمان (علیہ السلام) اور ذوالقرنین ایماندار تھے اور نمرود اور بخت نصر کافر۔
1 ؎ تفسیر ابن جریرص 8 ص ج 16
2 ؎ تفسیر ابن کثیرص 100 ج 3۔
3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 240 ج 4
4 ؎ ص 228 ج 3 باب قصہ یا جوج ما جوج۔
5 ؎ مشکوٰۃ ص 472 باب العلامات بین یدی الساعۃ وذکر الدجال۔
Ayahs 18:87–8987۔ 89:۔ مغرب کی طرف کے سفر سے فارغ ہو کر ذوالقرنین نے مشرق کی طرف کا جو سفر کیا ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کی بادشاہت کا سامان جو ذوالقرنین کو دیا تھا اس سامان کو کام میں لاکر مغرب کی طرف کے سفر کے بعد اس نے مشرق کی طرف کا سفر کیا اور ایسی سر زمین پر پہنچا جہاں پہلے پہلے سورج نکلتا ہے اور وہاں اس نے ایک ایسی قوم کو دیکھا کہ جن کے لیے سورج کی دھوپ سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی آڑ نہیں بنائی مطلب یہ ہے کہ اس سرزمین پر نہ قدرتی کچھ پہاڑو درخت ایسے ہیں کہ ان کی آڑ میں وہ لوگ دھوپ سے بچ سکیں نہ وحشی پن کے سبب سے اتنی عقل ان لوگوں میں ہے کہ وہ مکان بنادیں زمین میں سرنگیں کھود رکھی ہیں دھوپ کے وقت ان میں گھس جاتے ہیں اور ٹھنڈے وقت ان سرنگوں سے نکل کر دنیا کا کچھ کام دھندہ کرلیتے ہیں قتادہ کا قول ہے کہ یہ سرزمین جشیوں کی آخری سرحد پر ہے کذالک اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اور ملکوں میں اللہ تعالیٰ نے پہاڑ اور دھوپ سے بچنے کی آڑ کے لیے پیدا کیے ہیں اس زمین پر نہیں ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اتنی عقل دی ہے کہ مکان بنا کر دھوپ سے بچ جائیں بعضے مفسروں نے کذالک کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ذوالقرنین نے جو حکم مغرب کی طرف کے سفر میں مشرک قوم کو سنایا تھا وہی حکم اس مشرقی قوم کو سنایا کہ اس قوم میں کے جو لوگ شرک پر اڑے رہیں گے ان کو دنیا میں طرح طرح کے عذاب سے قتل کیا جائے گا اور عقبیٰ میں بھی ایسے بہبودی کی نیت سے نیک عمل کریں گے دنیا میں ہم لوگ بھی ان سے اچھی طرح پیش آئیں گے اور عقبیٰ میں بھی ان کو بڑا اجر ملے گا۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے 1 ؎۔ کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے ‘ اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے یہ حدیث وقد احطنا بما لدیہ خبرا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ذوالقرنین کے پاس جو کچھ اتنے بڑے سفر کا سامان تھا اور جو کچھ اس سفر میں اس نے عجائبات دیکھے تھے ان میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں ہے کیونکہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر یہ سب باتیں اور تمام دنیا کی باتیں اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لی ہیں۔
1 ؎ مثلا تفسیر ہذاص 20 ج 3۔
Ayahs 18:90–9590۔ 93:۔ مغرب کی طرف اور مشرق کی طرف سے فارغ ہو کر ذوالقرنین نے شمال کی طرف کا جو سفر کیا ان آیتوں میں اس کا ذکر ہے کہ اس سفر میں وہ دو پہاڑوں کی گھاٹی میں پہنچا ان پہاڑوں کی پرلی طرف ایک جنگلی قوم رہتی تھی جس کے لوگ نہ دوسری کسی قوم کی بات سمجھ سکتے تھے نہ ان کی بات کوئی دوسری قوم سمجھ سکتی تھی مگر ذوالقرنین کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کی سمجھ دی ان لوگوں نے ذوالقرنین سے یہ کہا کہ ان پہاڑوں کے پرلی طرف یاجوج ماجوج کی قوم رہتی ہے اس قوم کے لوگ پہاڑوں کی گھاٹی میں سے ورلی طرف آن کر ہماری کھیتی اور جانوروں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ہم لوگ چندہ کرکے روپیہ دیتے ہیں اس روپے کے خرچ سے ہمارے اور یاجوج ماجوج کے مابین ایک دیوار بنائی جاکر اس گھاٹی کو بند کردیا جائے تو پھر یاجوج ماجوج ہم کو کچھ تکلیف نہ دے سکیں گے تفسیر عبدالرزاق میں قتادہ کا قول ہے کہ یاجوج ماجوج نوح (علیہ السلام) کے بیٹے یافت کی اولاد میں سے ہیں۔ قتادہ کے اس قول سے وہ مشہور قصہ بےاصل قرار پاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دفعہ سوتے میں نہانے کی حاجت ہو کر آدم (علیہ السلام) کا نطفہ زمین پر گر پڑا تھا زمین کی اس مٹی سے یاجوج ماجوج کی پیدائش ہوئی ہے نسائی میں عمرو بن اوس کی اپنے باپ کے حوالہ سے صحیح ابن حبان میں عبداللہ بن مسعود سے اور تفسیر عبد بن حمید میں عبداللہ بن سلام ؓ سے معتبر روایتیں ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ یاجوج ماجوج میں کا ہر شخص جب مرتا ہے کہ اس کی اولاد کی گنتی ایک ہزار پہنچ جاتی ہے 1 ؎۔
صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ دوزخیوں کی ہزار آدمویں کی جماعت کا حاصل کلام یہ ہے کہ جب اس جنگلی قوم کے لوگوں نے دیوار بنانے کے خرچ کے لیے چندہ کا ذکر کیا تو ذوالقرنین نے ان کو جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھ کو مقدور دیا ہے وہ بغیر چندہ کے دیوار کے بنانے کے لیے کافی ہے تم لوگ فقط اس لوہے کو خوب تپا کر ان تختوں کی درزوں میں پگھلا ہوا تانبا ڈال دو ۔ ناقابل اعتراض سند سے طبرانی میں ابی بکرہ ؓ سے روایت ہے جس میں یہ ہے کہ ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ کے روبرو بیان کیا کہ میں نے سد سکندری کو دیکھا ہے یہ حدیث مسند بزار میں بھی ہے 2 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ اس دیوار میں لوہے کے تختوں کی درزوں کو پگھلے ہوئے تانبے سے بھرا گیا ہے اس لیے اس کی صورت سیاہ سرخ دھاریوں کے چار خانہ کی ہوگئی ہے۔ قتادہ کا قول بھی ابی بکرہ ؓ کی اس روایت کے موافق ہے خلفائے عباسیہ میں سے خلیفہ واثق باللہ نے کچھ لوگ اس دیوار کے دیکھنے کے لیے بھیجے تھے دو برس کے سفر کے بعد ان لوگوں نے واپس آن کر یہی بیان کیا کہ یہ دیوار لوہے اور تانبے سے بنائی گئی ہے 3 ؎۔ شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت ﷺ کے وقت میں روپیہ برابر سوراخ دیوار میں پڑگیا تھا یہ حدیث صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ کی روایت سے ہے 4 ؎۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب دجال کو قتل کر چکیں گے اس وقت یہ دیوار گر پڑے گی جس کے سبب سے یاجوج ماجوج گھاٹی کی درلی کی طرح آسمان کی طرف تیر چلادیں گے جو ان کو زیادہ گمراہ کرنے کے لیے خون میں بھرے ہوئے پلٹیں گے اس وقت عیسیٰ ( علیہ السلام) (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے اپنے ساتھ کے مسلمانوں کے لیے کو طور پر چڑھ جائیں گے اور جب وہاں کو کھانے پینے کی بہت تکلیف ہوگی تو عیسیٰ (علیہ السلام) یاجوج ماجوج کے حق میں بدعا کریں گے جس کے اثر سے ان کی ناکوں میں ایک طرح کیڑا پیدا ہوجائے گا۔ اور اسی مرض سے سب ہلاک ہوجائیں گے۔ مسند ابی یعلی مستدرک حکم وغیرہ میں ابوہریرہ ؓ اور حذیفہ ؓ سے جو روایتیں ہیں 5 ؎ ان میں یہ ذکر تفصیل سے ہے حاکم نے ان روایتوں کو صحیح قرار دیا ہے 6 ؎۔ شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں ان ہی روایتوں کا خلاصہ بیان کیا ہے یہ روایت نواس بن سمعان ؓ سے صحیح مسلم میں بھی مختصر طور پر آئی ہے 6 ؎۔ یاجوج ماجوج کے نکلنے کی زیادہ تفصیل سورة انبیاء میں آئے گی۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیرص 102 ج 3 بحوالہ سنن نسائی
2 ؎ فتح الباری ص 230 ج 3
3 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 104 ج 3
4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 5 10 ج 3
5 ؎ صتح الباری ص 576 ج 6 کتاب الفتن
6 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 195۔ 196 ج 3۔
Ayahs 18:96–9896۔ 98۔ یہ قصہ کے بیچ میں اللہ تعالیٰ نے ایک غیب کی بات فرمائی کہ قیامت کے قریب تک نہ یاجوج ماجوج اس دیوار پر چڑھ کر گھاٹی کی ورلی طرف آسکیں گے صحیح بخاری ومسلم کی ابوہریرہ ؓ کی روایت کے حوالہ سے اوپر یہ جو گزرا کہ اللہ کے رسول ﷺ کے وقت میں روپیہ برابر سوراخ اس دیوار میں ہوگیا تھا 1 ؎ آیت کے اس ٹکڑے اور اس حدیث میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ حدیث میں جس سوراخ کا ذکر ہے وہ یاجوج ماجوج کے نقب لگانے سے نہیں پڑا اور نہ وہ سوراخ ایسا ہے جس میں سے آیت کے مضمون کے برخلاف وقت مقررہ سے پہلے یاجوج ماجوج گھاٹی کی ورلی طرف آسکتے ہیں بلکہ یہ سوراخ تو اللہ کے حکم سے اس لیے پڑا ہے کہ وقت مقررہ تک رفتہ رفتہ یہ سوراخ بڑھ کر دیوار کو کم زور کر دیوے جس سے وقت مقررہ پر دیوار گر پڑے اور یاجوج ماجوج تمام زمین پر پھیل جائیں اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) (علیہ السلام) جب دجال کو قتل کر چکیں گے تو یہ وقت مقرہ آجائے گا سورة انبیاء میں بھی اس وقت مقررہ کا ذکر آئے گا اب آگے ذوالقرنین کا قول پھر شروع ہوا ‘ کہ ذوالقرنین نے اس دیوار کے بن جانے کو اللہ کی رحمت کہا کیونکہ اس دیوار کے بن جانے سے ذوالقرنین کا ایک نیک کام دنیا میں باقی رہا اور اس جنگی قوم کا نقصان بچ گیا اور ساتھ ہی اس کے اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو زبان سے یہ سچی بات بھی کہلوادی کہ جب اللہ تعالیٰ کا ٹھہرایا ہوا وقت مقررہ آجائے گا تو اس دیوار کی مضبوطی کچھ کام نہ آئیگی بلکہ وقت مقررہ پر یہ دیوار گر کر بالکل ڈھیر ہوجائے گی ملت ابرہیمی کے موافق ذوالقرنین کو یہ بات معلوم تھی کہ دنیا کی کسی چیز کو ہمیش نہیں اس واسطے ذوالقرنین نے اس دیوار کے گر جانے کا ذکر کیا۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 105 ج 3
Ayahs 18:99–10299۔ 102 یہ ہر ایک ایماندار آدمی کا اعتقاد ہے کہ دنیا کی کوئی چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں اسی اعتقاد کے موافق ذوالقرنین نے وقت مقررہ پر اس دیوار کے گر جانے کا ذکر کیا اب اس دیوار کے گرجانے کے بعد جو کچھ ہوگا وہ ایک غیب کی بات تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ اس دیوار کے گرتے ہی یاجوج ماجوج اپنی کثرت کے سبب سے دریا کہ موج کی طرح تمام زمین پر پھیل جائیں گے صحیح مسلم کی نواس بن سمعان کی جس روایت 1 ؎ کا تذکرہ اوپر گزرا اس میں یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے لے کر پہلے صور تک کا حال یوں ہے۔
کہ یاجوج ماجوج کے زمین پر پھیل جانے سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا کہ تم اپنے ساتھ کے ایمان دار لوگوں کو لے کر کوہ طور پر چڑھ جاؤ کیونکہ زمین پر اب اللہ کی ایک ایسی مخلوق پھیلنے والی ہیں جس کے مقابلہ کی تمہیں طاقت نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے موافق عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ساتھیوں کو لے کر کوہ طور پر چڑھ جائیں گے اور یاجوج ماجوج زمین پر پھیل کر طرح طرح کی دھوم مچادیں گے جس کا ذکر اوپر کی آیتوں کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔
کوہ طور پر عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کھانے کی چیزوں کی اس قدر تکلیف ہوگی کہ ایک گائے کی سری کی قدر اشرفیوں سے بھی زیادہ ہوجائے گی اس تکلیف سے تنگ آن کر عیسیٰ (علیہ السلام) یاجوج ماجوج کے حق میں بددعا کریں گے اور اللہ کے رسول کی بددعا سے جس طرح یاجوج ماجوج ہلاک ہوجائیں گے اس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد اللہ تعالیٰ ایک طرح کے جانور پیدا کرے گا جو جانور یاجوج ماجوج کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا وہاں پھینک دیں گے اور اللہ کے حکم سے پھر خوب مینہ برسے گا جس سے زمین پر ان لاشوں کے سبب سے بدبو جو پھیل گئی تھی وہ سب جاتی رہے گی اس کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی زمین پر رہیں گے اگرچہ نواس بن سمعان ؓ کی روایت میں ان سات کا ذکر نہیں ہے لیکن صحیح مسلم کی اور روایتوں میں یہ ذکر صاف آیا ہے 2 ؎۔ اس نواس بن سمعان ؓ کی وایت کے موافق اس کے بعد ایک ٹھنڈی ہوا ایسی چلے جس کے اثر سے سب لوگ مرجائیں گے جن کے دل میں کچھ بھی ایمان ہے۔ صحیح مسلم کی انس بن مالک کی روایت کے مطابق تمام دنیا فنا ہوجائے گی اس کے چالس برس کے بعد دوسرا صور پھونکا جائے گا اور سب لوگ قبروں سے اٹھ کر حساب و کتاب کے لیے میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے 3 ؎۔ اسی دوسرے صور کا اور سب لوگوں کے میدان محشر میں جمع ہوجانے کا ذکر اس آیت میں ہے۔
دوسرے صور کے بعد جو کچھ ہونے والا ہے اس کے مشرکین مکہ منکر تھے اسی واسطے خاص طور پر اسی کا ذکر فرمایا یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد سے دوسرے صور تک جن باتوں کا ذکر اوپر گزرا ان باتوں کا کچھ ذکر آیت میں نہیں فرمایا اس تفسیر میں کئی جگہ اس بات کا ذکر آیا ہے کہ ہجرت سے پہلے مسلمانوں کی کمزوری کے زمانہ میں درگزر کا جو حکم تھا ہجرت کے بعد مسلمانوں میں قوت آجانے اور جہاد کا حکم نازل ہوجانے سے وہ درگزر کا حکم منسوخ نہیں ہے کیونکہ شریعت میں جو احکام کسی سبب کے موجودگی پر منحصر ہیں ان کا مطلب یہ ہے کہ جب سبب پایا جائے گا تو حکم بھی پایا جائے گا نہیں تو نہیں۔ مثلا مالداری زکوٰۃ کے واجب نہ ہونے کا سبب ہے اب فرض کیا جائے کہ ایک شخص کچھ عرصہ تک تنگدست تھا پھر مالدار ہوگیا اور کچھ مدت کے بعد پھر پہلے کی طرح اس کو تنگدستی نے آن گھیرا تو جس طرح پہلے تنگدستی کے زمانہ میں شریعت کا حکم ہے کہ ایسے تنگدست شخص پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے کیونکہ زکوٰۃ کے واجب ہونے کا سبب اس شخص میں اب نہیں پایا جاتا یہی حکم ہے کہ ہجرت سے پہلے مسلمانوں کی کمزوری کے سبب سے درگزر کا حکم تھا جہاد کا حکم نہیں تھا ہجرت کے بعد مسلمانوں میں قوت آگئی اس لیے جہاد کا حکم ہوا اب ضعف اسلام کے وقت مسلمان کی وہی حالت ہوجائے گی جو مالدار شخص کی پچھلی تنگدستی کی حالت تھی اس واسطے جس طرح ایسے تنگدست شخص کے حق میں شریعت کا یہ حکم ہے کہ ایسے شخص پر زکوٰۃ واجب نہیں اسی طرح مسلمانوں کی کمزوری کے میں یہی قول صحیح قرار دیا گیا ہے کہ جہاد کے حکم سے درگزر کا حکم منسوخ نہیں ہے وہاں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابو سعید خدری ؓ کی وہ حدیث بھی ذکر کی گئی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ایماندار شخص جب کوئی خلاف شریعت بات دیکھے تو قوت کے وقت ہاتھ پاؤں کی کوشش سے درگزر کرنے اور زبانی نصیحت یا دلی نفرت کے کافی ہوجانے کا حکم اللہ کے رسول ہرگز نہ دیتے جو مطلب ابوسعید خدری ؓ کی حدیث سے کئی جگہ ثابت کیا گیا ہے وہی مطلب تو اوس بن سمعان ؓ کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کیونکہ شرعی روایتوں سے جس طرح یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ آخری زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے زمین پر آئیں گے اور چالیس برس کے قریب زمین پر رہیں گے اسی طرح شرعی روایتوں سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اس زمانہ میں عیسیٰ (علیہ السلام) ہر کام شریعت محمدی کے موافق کریں گے اب اگر شرع محمدی میں درگزر کا حکم منسوخ ٹھہرایا جاوے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم کیوں کر ہوسکتا ہے کہ تم میں یاجوج ماجوج کے مقابلہ کی طاقت نہیں ہے اس لیے تم ان کے مقابلہ سے درگزر کرو اور اپنے ساتھیوں کو لے کر کوہ طور پر چڑھ جاؤ۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ ستر ہزار نکیلیں لگا کر دوزخ کو محشر کے میدان میں لایاجائے گا 4 ؎۔ آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ دوزخ میں جھونکے جانے سے پہلے نافرمان لوگوں کو دوزخ کے عذاب کا حال دکھایا جاوے گا یہ حدیث گویا اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس دوزخ کے یہ لوگ دنیا میں منکر تھے ان کو قائل کرنے کے لیے پہلے میدان محشر میں اس دوزخ کو انہیں دکھایا جائے گا، حساب و کتاب کے بعد اس اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص جنت میں داخل ہونے کے قابل کام کرے گا اور کون دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل اب دنیا میں پیدا ہونے کے بعد ہر شخص اسی انجام کے قابل کام کرتا ہے اور ویسے ہی کام اس کو اچھے اور آسان معلوم ہوتے ہیں اس حدیث کو آیت کے ساتھ ملانے سے آیت کے آخری ٹکڑے کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے علم غیب میں دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل قرار پاچکے ہیں وہ برے کاموں میں ایسے مصروف ہیں۔ اوپر ان مشرکوں کا ذکر تھا جن کی آنکھوں پر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیوں کے دیکھنے سے پردہ پڑا ہوا تھا اور ان کے کان قرآن کی نصیحت کے سننے سے بہرے تھے اس آیت میں فرمایا کیا ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شیطان کے بہکانے سے جن نیک لوگوں کی مورتوں کی پوجا یہ بت پرست دنیا میں کرتے ہیں عقبیٰ میں وہ نیک لوگ ان بت پرستوں کے کچھ کام نہ آئے گے پھر فرمایا یہ سمجھ ان لوگوں کی بڑی نادانی کی سمجھ ہے عقبیٰ میں وہ نیک لوگ ان بت پرستوں کی بت پرستی پر اللہ تعالیٰ کو گواہی سے بیزاری ظاہر کریں گے اور اللہ تعالیٰ کو جو گواہ قرار دیں گے اس کا ذکر سورة یونس میں گزر چکا ہے اور مشرک کی بخشش نہ ہونے کا جو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اس کا ذکر سورة النساء میں گزر چکا ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس قوم میں پہلے پہل بت پرستی پھیلی اس قوم میں کے کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا رنج قوم کے لوگوں کو بہت تھا شیطان نے قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی صورت کی مورتیں بنا کر رکھ لی جائیں تو ان نیک لوگوں کے آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا کچھ رنج کم ہوجائے گا قوم کے لوگوں نے اس وسوسہ شیطانی کے موافق عمل کیا اور ایک عرصہ تک تو وہ بت یوں ہی رہے پھر رفتہ رفتہ ان کی پوجا ہونے لگی اسی قوم کی ہدایت کے لیے نوح (علیہ السلام) نبی ہو کر آئے مگر بت پرستی دنیا سے نہ اٹھی 5 ؎۔ اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے کہ بغیر مرضی اور بلا اجازت نیک لوگوں کے نیک لوگوں کی مورتیں بنائی گئیں اور ان ہی مورتوں کی پوجا سے دنیا میں بت پرستی شروع ہوئی جس کی ان نیک لوگوں کو خبر تک نہیں، اسی واسطے قیامت کے دن وہ نیک لوگ اس سے اپنی بیخبر ی اور بیزاری ظاہر کر کے اللہ تعالیٰ کو اس پر گواہ ٹھہرا دیں گے۔
1 ؎ تفسیر ابن کثیرص 195۔ 192۔ ج 3
2 ؎ فتح الباری ص 576 ج 2
3 ؎ مشکوٰۃ ص 480 باب لاتقوم الساعۃ الا علی شرار الناس
4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 102 ج 3
5 ؎ صحیح بخاری 732 ج 2
Ayahs 18:103–107103۔ 107 حضرت علی ؓ سے مستدرک حاکم اور تفسیر ابن مردویہ وغیرہ میں یہ جو روایت ہے کہ یہ آیت خارجی لوگوں کی شان میں ہے یا حضرت سعد بن ابی وقاص سے صحیح بخاری اور نسائی میں یہ جو روایت ہے کہ یہ آیت یہود و نصاری کی شان میں ہے ان روایتوں کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خارجیوں یا یہودو نصاری کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کیونکہ یہ آیت مکی ہے اور جب تک آنحضرت ﷺ مکہ میں تھے تو نہ یہود و نصاری سے آپ کو کچھ واسطہ تھا نہ قرآن شریف یہود و نصاری کی شان میں نازل ہوتا تھا یہودو نصاری سے جو کچھ واسطہ آپ کو پیدا ہوا ہے وہ آپ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد پیدا ہوا ہے اور خارجی لوگ تو آنحضرت کے بعد حضرت علی ؓ کی خلافت کے زمانہ میں ظاہر ہوئے ہیں اس لیے حضرت علی ؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ یہ آیت مکی ہے اور کفار مکہ کی شان میں نازل ہوئی ہے لیکن مضمون آیت کا ایسا عام ہے کہ توراۃ اور انجیل کی مخالفت کے سبب سے یہود اور نصاری پر اور قرآن شریف کی مخالفت کر کے صاحب کبیرہ گناہ کو کافر بتلانے سے خارجیوں پر سب پر آیت کا مضمون صادق آتا ہے۔ حضرت علی ؓ اور سعد بن ابی وقاص کے اس قول کی تائید میں حضرت ثوبان ؓ کی وہ صحیح حدیث ہے جس کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے 1 ؎۔ حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا بعضے لوگ میری امت کے قیامت کے روز پہاڑ کے برابر نیک عمل رکھتے ہوں گے مگر ان کے سب عمل اللہ تعالیٰ ایسے اکارت کر دے گا جیسے ہوا میں ریت اڑ جاتی ہے حضرت ثوبان ؓ نے عرض کیا کہ ایسے لوگوں کی کچھ نشانی تو فرمائیے ایسا نہ ہو کہ انجانی میں ہم لوگوں میں بھی ان کی سی عادتیں پیدا ہوجاویں آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ بھی تمہارے بھائی مسلمان ہوں گے مگر گناہوں سے بچنے کی ان کو پرواہ نہ ہوگی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت میں نیک عمل کا اکارت ہونے کا جو ذکر ہے وہ نہ مشرکین کے ساتھ مخصوص ہے نہ یہود و نصاری وخارجیوں کے ساتھ بلکہ جو عمل اللہ کی مرضی کے مخالف ہوں گے خواہ کسی فرقہ کے ہوں ان کو اللہ تعالیٰ اکارت کرے گا اور عمل کے مرضی الٰہی کے موافق نہ ہونے کی یہی صورتیں ہیں کہ خرابی عقیدہ کے سبب سے یا تو عمل اصول شرعیہ کے موافق نہ ہوں جس طرح اہل کفر اہل نفاق اہل بدعت کے عمل یا وہ عمل اصول شرع کے موافق تو ہوں لیکن خاص اللہ کے واسطے نہ ہوں جس طرح ریا کاروں کے عمل یہ سب عمل آیت کے حکم میں داخل ہیں۔ چناچہ اور حدیثوں میں بھی اہل بدعت اور ریا کاروں کے عمل نیک کے اکارت ہونے کی صراحت صاف لفظوں میں آئی ہے۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد بن حنبل (رح) میں محمود بن لبید سے اور صحیح ابن حبان میں سعید بن فضالہ سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب قیامت کے روز سب لوگ جمع ہوں گے تو حساب کتاب سے پہلے ہی ایک فرشتہ پکارے گا کہ جس کسی نے دنیا کے دکھاوے کے لیے کوئی نیک کام کیا ہے اس کے ثواب کی امید خدا کی درگاہ سے بےسود ہے۔ ایسے نیک کام کا اجر اس سے مانگنا چاہیے جس کے دکھانے کو وہ نیک کام کیا گیا ہے 2 ؎۔ صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے جو کچھ فرمایا اس کا حاصل یہ چاہئے کہ جو نیک عمل شرعی حکم کے موافق نہ ہوگا وہ اکارت ہے 3 ؎۔ ان روایتوں سے ثوبان ؓ کی روایت کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ ثوبان ؓ کی روایت میں ان لوگوں کے نیک عملوں کے رائیگاں ہوجانے کا ذکر ہے جو لوگ گناہوں سے بچنے کی پرواہ نہیں کرتے اب یہ تو ظاہر بات ہے کہ جو لوگ عام گناہوں سے بچنے کی پروانہ کریں گے وہ ریا کاری اور بدعت سے بچنے کی کیا پروا کرسکتے ہیں۔ حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ یہ مشرکین مکہ اٹکل کے طور پر اپنے طریقہ کو اچھا جان کر اے رسول اللہ کے تم سے طرح طرح کی جھگڑے کی باتیں جو نکالتے ہیں اور یہود سے پوچھ پوچھ کر تم سے طرح طرح کی باتوں کے سوالات کرتے ہیں اور عقبیٰ کی جزا و سزا کے انکار کے سبب سے ان نیک عملوں کو رائیگاں گنتے ہیں جو عمل عقبیٰ کے اجر کی نیت سے کیے جاتے ہیں تو اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ جن لوگوں کے نیک عمل اکارت ہیں وہ ایسے لوگ ہیں جن کے سارے کاموں کا دارو مدار دنیا کی زندگی پر ہے اور اسی کو وہ اچھا جان کر عقبیٰ کی سزا و جزا کی قرآن کی آیتوں کو مسخراپن میں اڑاتے ہیں اور قرآن کی آیتوں اور اللہ کے رسول ﷺ کی نصیحت کے نہ ماننے پر ہر وقت کمر باندھے رہتے ہیں ایسے عقبیٰ کی جزا کے منکر لوگ اگر کوئی نیک کام کرتے بھی ہیں تو دنیا کی نمود کے طور پر کرتے ہی اس واسطے ایسے لوگوں کے نیک عملوں کا جو بدلہ ہے وہ ان کو دنیا ہی میں مل جاتا ہے کہ ان کی دنیا اچھی کٹتی ہے اور آخرت کے اجر حساب سے ان کے عمل رائیگاں ہیں اس لیے قیامت کے دن ان کے عملوں کے تولنے کے لیے ترازو بھی نہ کھڑی کی جائے گی کیونکہ ترازو تو ایسے لوگوں کے عملوں کے تولنے کے لیے کھڑی کی جائے گی جن کی نیکی کے پلہ میں چڑہانے کے لیے کچھ نیک عمل بھی ہوں گے جن کے نیک عملوں کا بدلہ دنیا کی زندگی میں مل گیا اور قیامت کے دن کے لیے ان کا کوئی نیک عمل باقی نہیں رہا ان کے عملوں کے لیے ترازو کیا کھڑی کی جاسکتی ہے اگر ہوگا تو بعضے سلف کے قول کے موافق اتنا ہی ہوگا کہ ایسے لوگوں کے قائل کرنے کے لیے ہڈی کے پلڑے میں ان کے بداعمال رکھے جاکر نیکی کا خالی پلڑا ان کو دکھا دیا جائے گا غرض کہ ایسے لوگوں کے نیک عمل عقبیٰ کے اجر کے حساب سے اکارت ہو کر فقط بدعمل باقی رہ جائیں گے جن کی سزا بھگتنے کے لیے ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ صحیح مسلم میں انس بن مالک سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا حشر کے منکر لوگ جو دنیا میں کچھ نیک عمل کرتے ہیں تو اس کا بدلہ ان کو یہیں دنیا میں مل جاتا ہے عقبیٰ کے اجر کے لیے ان کا نیک عمل نہیں رکھا جاتا۔ سورة الاعراف میں گزر چکا ہے کہ عملوں کے تولے جانے کے بعد جن کے نیک عملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ جنتی قرار پائیں گے اور جن کا بدعملوں کا پلڑا بھاری ہوگا وہ دوزخ میں جاویں گے اور جن کے نیک عمل اور بدعمل برابر ہوں گے ان کو جنتیوں اور دوزخیوں کے فیصلہ آخر تک جنت اور دوزخ کے درمیان کی دیوار پر کھڑا کردیا جائے گا پھر آخر کو یہ لوگ بھی جنت میں چلے جائیں گے حاصل کلام یہ ہے کہ جن لوگوں کا یہاں ذکر ہے۔ انس بن مالک کی حدیث کے موافق ان کا کوئی نیک عمل عقبیٰ کے اجر کے لیے باقی نہ رہے گا اس لیے سورة الاعراف کی آیتوں کے موافق یہ لوگ دوزخی قرار پائیں گے۔
1 ؎ سنن ابن ماجہ باب ذکر الذنوب (کتاب الزہد)
2 ؎ تفسیر ہذاص 82 ج 3 و تفسیر ابن کثیرص 109 ج 3
3 ؎ مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب السنتہ
Ayah 18:108108۔ اوپر ذکر تھا کہ عقبیٰ کے اجر کے حساب سے منکرین حشر کے سارے نیک عمل اس واسطے اکارت ہیں کہ یہ لوگ حشر اور اس دن کی سزا و جزا کے قائل نہیں ریا کاروں اور بددعا کے اس قدر نیک عمل اکارت ہیں جن میں ریا کاری اور بدعت کا دخل ہے کیونکہ ریا کاری کے نیک عمل دنیا کے دکھاوے کے لیے کیے ہیں اور بدعت کے دخل کے عمل شریعت کے حکم کے موافق نہیں ہیں ان آیتوں میں فرمایا جن لوگوں کے نیک عملوں کے بدلہ میں جنت الفردوس دی جائے گی وہ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی وحدانیت کا اور اللہ کے رسول کے سچے ہونے کے یقین دل میں رکھتے ہیں اور زبان سے اس کا اقرار اور اس یقین اور اقرار کے موافق ہاتھ پیروں سے نیک عمل بھی کرتے ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا فردوس اعلی درجہ کی جنت ہے 1 ؎ اس میں سے جنت کی نہریں نکلی ہیں اور اسی کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے جب تم جنت کے ملنے کی دعا اللہ تعالیٰ سے کیا کرو تو اسی جنت کی دعا مانگا کرو جنت کی نہریں دودھ شہد شراب اور پانی کی ہیں جن کا ذکر سورة محمد میں آئے گا۔ ترمذی میں معاذ بن جبل ؓ کی صحیح روایت ہے کہ جنت کے سو درجہ ہیں جن میں فردوس اعلیٰ درجہ کی جنت ہے 2 ؎۔ ان روایتوں سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ فردوس اعلیٰ درجہ کی جنت ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے۔
جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیک لوگوں کے لیے میں نے جنت میں وہ نعمتیں پیدا کی ہیں جو کسی نے نہ آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنین نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے 3 ؎۔ ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ جنتی لوگ جنت میں ہمیشہ اس طرح رہیں گے کہ وہاں کے رہنے سے اکتا کر کسی دوسری جگہ چلے جانے کو ان کا دل نہ چاہے گا اس کا مطلب اس حدیث قدسی سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کے سبب سے کسی کا دل اس کو چھوڑنے کو نہ چاہے گا۔
1 ؎ تفسیر الدر المنثورص 254 ج 4
2 ؎ جامع ترمذی ص 76 باب جاء فی درجات الجنۃ
3 ؎ تفسر ہذاص 12 ج 3
Ayah 18:109109۔ ناقابل اعتراض سند سے مستدرک حاکم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب روح کی آیت نازل ہوئی کہ روح اللہ کا ایک حکم ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے روح کیا چیز ہے بہت سے بھید اللہ کے لوگوں کو معلوم نہیں اس آیت کو سن کر یہود کے علماء نے یہ کہا کہ ہمارا علم تھوڑا نہیں ہے ہمارے پاس توریت ہے جس میں دین ودنیا کا علم موجود ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنے آیت کے وہی ہیں جو الہام الٰہی سے حضرت خضر (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ کے روبرو اس وقت بیان کیے جب کہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے اور چڑیا نے ایک قطرہ پانی کا دریا میں سے پیا اور حضرت خضر نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت خضر کے علم کو ملا کر اللہ کے علم کے مقابلہ میں قطرہ اور دریا کی نسبت ہے تو فقط توریت کے علم کو اللہ کے علم سے جو نسبت ہے وہ ظاہر ہے غرض نظر عبارت سے اس قصہ کو یہود دیکھنے بہ نسبت اللہ کے علم کے توریت کے علم کو تھوڑا کہنے کو ضرور کلام الہی جانتے یہ چڑیا کے پانی پینے کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کے حوالہ سے اسی سورة میں اوپر گزر چکا ہے۔ 1 ؎
1 ؎ صحیح بخاری ص 687 ج 2 کتاب التفسیر
Ayah 18:110110۔ اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ بیان کرنے کے بعد مشرکین مکہ کے قائل کرنے کے لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ بشر ہونے میں تم اور میں برابر ہیں پھر تم لوگوں کو کیا اتنی سمجھ نہیں کہ بغیر پڑھے لکھے یہ غیب کے قصے میں اس طرح سے کیونکر بیان کرسکتا ہوں جو پچھلی آسمانی کتابوں کے موافق ہیں اور جو بات میں تم لوگوں کو آسمانی وحی کے موافق سمجھتا ہوں وہ بھی ہر شخص کی سمجھ میں آجانے کی بات ہے کہ جب اللہ نے تم کو تمہاری سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح سے پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک تم ثابت نہیں کرسکتے تو پھر اس وحدہ لاشریک کا تعظیم میں شریک ٹھہرانا بڑے وبال کی بات ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا شرک سے بڑھ کر دنیا میں کوئی گناہ نہیں 1 ؎۔ اس حدیث کو آیت کے اس ٹکڑے کے ساتھ ملانے سے وہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس طرح سے پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر یہ بات ہر شخص کی سمجھ میں آجانے کے قابل ہے کہ اس وحدہ لاشریک کی تعظیم میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا اتنا بڑا گناہ ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی دوسرا گناہ نہیں۔
صحیح سند سے مستدرک حاکم اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص ثواب آخرت کے خیال سے تو نماز روزہ اور نیک کام کرے لیکن کسی قدر اس کے دل میں یہ بھی خواہش ہو کہ لوگ اس کے نیک کام کی تعریف کریں اور اس کو بڑا نیک گمان کریں ایسے شحص کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ جس شخص کو مرنے کے بعد پھر جینے اور اللہ تعالیٰ کے روبرو حساب کتاب اور سزاو جزا کے لیے کھڑے ہونے کا پورا یقین ہے اور اس یقین کے سبب سے اس امید پر وہ نیک کام کرتا ہے کہ ایک دن اللہ کی درگاہ سے اس نیک کام کی جزا پائے گا۔ تو ایسے شخص کو چاہیے کہ اس طرح خالص نیت سے نیک عمل کرے کہ اس عمل میں سوا خدا کے کسی دوسرے کے دکھاوے کی کسی طرح کی شراکت نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے شرک سے بیزار ہے غرض بہت سی آیات قرآنی اور احادیث سے نیک عمل کے مقبول ہونے کی دو شرطیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ عمل قواعد شرعیہ کی بنا پر صحیح ہو عقیدہ کی خرابی سے بلا اجازت شرع کے بدعت کے طور پر ایجاد کیا ہوا نہ ہو کیوں کہ اس طرح کا ایجادی عمل شرعی عمل ہی جب نہیں ہے تو شارع سے اس کے اجر کی توقع بےسود ہے۔ دوسرے دنیا کے دکھاوے یا نیک کہلانے کی شہرت کا اس میں کچھ دخل نہ ہو ہاں یہ بات اور ہے کہ عمل کرنے والے کی نیت خالص ثواب آخرت کے ہے کسی طرح کی دنیا کے دکھاوے یا نیک کہلانے کی شہرت کا اس کی نیت میں لگاؤ یا دخل نہیں ہے۔ لیکن اپنے طور پر لوگ اس کی نیکی کے سبب سے اس کو عزیز رکھتے ہیں تو یہ اللہ کی ایک نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو دنیا میں دی ہے۔ صحیح مسلم میں ابوذر ؓ سے روایت ہے۔ کہ آنحضرت ﷺ سے کسی نے پوچھا حضرت ایک شخص بغیر خیال شہرت دنیا کے نیک نیتی سے نیک عمل کرتا ہے اور لوگ اپنے طور پر اس کی تعریف کرتے ہیں یا اس کو عزیز رکھتے ہیں تو ایسے شخص کے باب میں آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا اس طرح کے مومن کے حق میں یہ اللہ کی دنیا میں پیشگی خوش خبری ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں اس شخص سے راضی رہے گا۔ یہ فیصلہ آدمی اپنے دل سے پوچھ کر کرسکتا ہے کہ اس کی نیت کیا تھی اس کی خواہش کو کچھ دخل تھا یا نہیں۔ اگر دخل تھا تو جس عمل پر شہرت ہوئی ہے وہ بالکل اکارت ہے اور اگر نیت خالص تھی تو صحیح حدیث کی رو سے وہ شہرت بلاشک اللہ کی ایک نعمت ہے علاوہ اس نعمت کے دنیا میں اور یہی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے خالص نیت کے عمل کرنے والوں کے لیے رکھی ہیں جن کا ذکر صحیحین کی صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ نیک عمل کا ثواب اور اجر دس سے سات سو تک اور کبھی سات سو سے بھی بڑھ کر لکھا جاتا ہے 3 ؎۔ اور اللہ کے فرشتوں کا جان کنی کے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور جنت کے عیش و آرام کی اس طرح کی خوشخبری منانا کہ اس کی اس طرح پوری تصویر کا آنکھوں کے سامنے آجانا جس سے جان کنی کی تکلیف دنیا کے چھوٹنے بال بچوں سے جدا ہونے کا رنج سب رفع ہوجائے حاصل کلام یہ کہ اگر آدمی کا نیک عمل قواعد شرع کی رو سے صحیح ہے اور خالص اللہ کے واسطے ہے تو سب کچھ ہیں، نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت شدار بن اوس سے صحیح روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سب سے زیادہ درماندہ اور عاجز اور مصیبت زدہ قیامت کے دن وہ شخص ہے جو بغیر اجازت شرع کے اپنی مرضی کے موافق دنیا میں عمل کرے اور خواہ مخواہ اللہ تعالیٰ سے اجر اور ثواب کی توقع رکھے 4 ؎۔
سورة کہف ختم ہوئی۔
1 ؎ مشکوٰۃ ص 16 باب الکبائر الخ
2 ؎ تفسیر الدرا لمنثورص 655 ج 4
3 ؎ صحیح بخاری۔ 96 ج بہاب من ہم بحتہ اوسئیتہ۔
4 ؎ تفسیر ہذاص 51 ج 3